Ayah 60:1سورة الممتحنۃ
یہ سورة مکی ہے اس میں 13 آیات اور 2 رکوع ہیں
Ayah 60:2حاطب بن ابی بلتعہ کا واقعہ
آیات 1
1 ۔” یایھا الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیائ “
ضرت عبداللہ بن ابی رافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے مجھے اور حضرت عمار، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت مقداد بن اسود اور حضرت ابو مرثد (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کو (سارہ کے تعاقب میں) روانہ کردیا۔ یہ حضرات گھوڑوں پر سوار ہوکر چل دیئے۔ حضور ﷺ نے ان کو حکم دیا، روانہ ہوجائو۔ جب نخلستان خاخ پر پہنچنا تو وہاں تم کو ایک عورت ملے گی جو اونٹ پر سوار ہوگی، اس کے پاس مشرکوں کے نام حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہوگا۔ وہ خط اس سے لے لینا اور پھر اس کو جانے دینا، اگر وہ خط نہ دے تو اس کی گردن ماردینا۔ یہ حضرات اس مقام پر پہنچے جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا تو وہاں واقعی وہ عورت ملی۔ ان حضرات نے کہا وہ خط کہاں ہے ؟ وہ قسم کھا کر بولی، میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ ان صاحبان نے ہرچند تلاش کیا اور اس کے سامان کی تفتیش کی لیکن خط نہیں ملا۔ آخر (بےنیل ومرام) واپسی کا ارادہ کرلیا۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا : خدا کی قسم ! نہ ہم جھوٹے ہیں، نہ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ فرمایا (خط ضرور اس کے پاس ہے) یہ کہہ کر آپ نے تلوار نیام سے کھینچ لی اور فرمایا : خط نکال ورنہ میں تجھے ننگا کرکے تیری گردن اڑادوں گا۔ جب عورت نے دیکھا کہ واقعی یہ لوگ ایسا کریں گے تو اپنے چونڈے سے خط نکال کردے دیا۔ چوٹی کے بالوں میں اس نے وہ خط چھپارکھا تھا، ان بزرگوں نے وہ خط لے کر اس کا راستہ چھوڑ دیا، نہ اس سے کوئی تعرض کیا، نہ اس کے سامان سے اور خط لاکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ حضور ﷺ نے حاطب کو طلب کیا اور ان سے فرمایا کیا تم اس خط کو پہچانتے ہو ؟ حاطب نے عرض کیا : جی ہاں ! فرمایا : تم نے ایسی حرکت کیوں کی ؟ حاطب نے کہا : واللہ ! میں جب سے مسلمان ہوا ہوں، میں نے کفر نہیں کیا اور جب سے آپ کا خیر خواہ ہوں، کبھی آپ ﷺ سے کھوٹ نہیں کی اور جب سے کافروں کو چھوڑا کبھی ان سے محبت نہیں کی۔
لیکن بات یہ ہے کہ ہر مہاجر کا کوئی نہ کوئی (عزیز، دوست) مکہ میں موجود ہے جو اس کے گھر والوں کا محافظ ہے اور میں وہاں اجنبی تھا اور میرے بیوی، بچے وہاں ان کے پاس موجود تھے، مجھے اپنے گھر والوں کی فکر ہوئی اور میں نے ارادہ کیا کہ کوئی احسان ان پر کردوں (تاکہ وہ میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں) اور مجھے یہ یقین بھی تھا کہ اللہ مکہ والوں پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا اور اللہ کے عذاب کے مقابلے میں میری یہ تحریر ان کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے حاطب کے قول کی تصدیق کی اور ان کے عذر کو قبول فرمالیا۔ حضرت عمر ؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا، یارسول اللہ ! (ﷺ ) مجھے اجازت دیجئے، میں اس منافق کی گردن ماردوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : عمر ! ؓ تم کو کیا معلوم ، شاید اللہ نے اہل بدر کے (اچھے برے) تمام احوال دیکھنے کے بعد ہی فرمایا ہے : ” اعملوا ماشئتم قد غفرت لکم “ جو چاہو کرو، میں نے تم کو معاف کردیا۔
ابو عمروبن صفی بن ہاشم بن عبدمناف کی باندی سارہ مکہ سے مدینہ آئیں۔ رسول اللہ ﷺ اس زمانہ میں فتح مکہ کی تیاری کررہے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکر آئی ہے ؟ کہنے لگی، نہیں۔ فرمایا : تو پھر کس وجہ سے آئی ہے ؟ بولی آپ ہی لوگ میرے گھر والے، کنبہ والے اور آقا تھے، اپنے آقائوں کے چلے آنے کے بعد میں سخت محتاج ہوگئی، اس لئے آپ لوگوں کے پاس آئی ہوں کہ آپ لوگ مجھے کھانے (پینے) کو دیں، کپڑے دیں اور سواری کے لئے اونٹ دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مکہ کے جوان کیا ہوئے وہ تیری خبر گیری نہیں کرتے ؟ سارہ مغنیہ بھی تھی اور نوحہ خواں بھی، کہنے لگی بدر کے واقعہ کے بعد کسی کام کی (نہ مرثیہ خوانی کی نہ گانے کی) کوئی فرمائش نہیں آئی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنی عبدالمطلب کو اس کی مدد کے لئے ترغیب دی۔ بنی عبدالمطلب نے اس کو خرچ بھی دیا، کپڑے بھی دیئے اور سواری بھی دی۔
حاطب بن ابی بلتعہ ایک شخص تھے (جو بدری تھے، مترجم) جو بنی اسد بنی عبدالعزیٰ کے حلیف (معاہد) تھے۔ حاطب نے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا اور سارہ کے پاس گئے۔ اس کو ایک چادر اور د س دینار اس شرط پر دئیے کہ وہ حاطب کا خط مکہ والوں کو پہنچا دے۔ حاطب نے لکھا تھا از حاطب بن ابی بلتعہ بنام اہل مکہ ! رسول اللہ (ﷺ ) تم پر حملہ کرنے کا ارادہ کررہے ہیں، اپنی احتیاط کرلو، سارہ خط لے کر روانہ ہوگئی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے آکر رسول اللہ ﷺ کو حاطب کے خط کی اطلاع دے دی۔ اس کے بعد وہی واقعہ بیان کیا جو ماقبل ابتداء سورة میں گزر چکا ہے۔
” تلقون الیھم بالمودۃ “ بعض اہل تفسیر کے نزدیک باء زائدہ ہے۔ یعنی ان کی طرف محبت سے ہاتھ نہ بڑھائو۔ زجاج کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خبریں مشرکوں کی دوستی کے سبب تم ان کو پیش کرتے ہو۔ ” وقد کفروا “ وائو حال کے لئے ہے کہ حال یہ ہے کہ وہ کافر ہیں۔ ” بما جاء کم من الحق “ اس سے مراد قرآن ہے۔ ” یخرجون الرسول وایاکم “ اس سے مراد مکہ ہے۔ ” ان تومنوا “ کہ تم ایمان لائو ۔ گویا کہ انہوں نے یوں کہا کہ تم نے اپنے ایمان کے باعث ایسا کیا۔ ” باللہ ربکم ان کنتم خرجتم “ یہ شرط ہے اس کا جواب پہلے ہے۔ ” لا تتخذوا عدوی وعدوکم “…” جھادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی تسرون الیھم بالمودۃ “ مقاتل کا بیان ہے کہ اس مراد نصیحت ہے۔ ” وانا اعلم بما اخفیتم “ کفار سے دوستی کو تم چھپاتے ہو۔ ” وما اعلنتم “ اور جو تم اپنی زبانوں سے ظاہر کرتے ہو ومن یفعلہ منکم اور تم میں سے جو کوئی ایسا کام کرتا ہے۔ ” فقد ضل سواء السبیل “ ہدایت کے راستے سے بھٹک گیا۔
Ayah 60:32 ۔” ان یثقفوکم “ تم پر کامیاب ہوجائیں اور تمہیں دیکھیں۔ ” یکونوا لکم اعداء ویبسطوا الیکم ایدیھم “ مارنے اور قتل کے ساتھ ” والسنتھم بالسوئ “ گالیوں کے ساتھ۔ ” وودوا لو تکفرون “ جیسا کہ وہ خود کافر ہیں۔ فرماتے ہیں تم ان کی خیر خواہی نہ کرو کیونکہ وہ بھی تمہاری خیرخواہی نہیں کرتے اور نہ تم سے محبت کرتے ہیں۔
Ayah 60:43 ۔” لن تنفعکم ارحامکم “ ان کا معنی ہے نہ پکارے تم کو اور نہ ابھارے تم کو تمہاری رشتہ داریاں اور قریبی تعلقات اور تمہاری اولاد جو مکہ میں ہے رسول اللہ ﷺ اور مومنین کی خیانت پر اور ان کی خیر خواہی چھوڑنے پر اور ان کے دشمنوں سے دوستی کرنے پر کیونکہ یہ رشتہ داریاں تمہیں ہرگز کوئی نفع نہ دیں گی۔ ” ولا اولادکم “ جن کی وجہ سے تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ ” یوم القیامۃ یفصل بینکم “ پس اس کی اطاعت کرنے والے جنت میں اور اس کی نافرمانی کرنے والے جہنم میں داخل ہوں گے۔ عاصم اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” یفصل “ یاء کے زبر اور صاد کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے تخفیف کے ساتھ اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے یاء کے پیش اور صاد کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے تشدید کے ساتھ اور ابن عاصم (رح) نے یاء کی پیش اور صاد کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے تشدید کے ساتھ اور دیگر حضرات نے یاء کے پیش اور صاد کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے تخفیف کے ساتھ۔ ” واللہ بما تعملون بصیر “۔
Ayah 60:54 ۔” قد کانت لکم اسوۃ “ پیشوا ” حسنۃ فی الراھیم والذین معہ “ اہل ایمان میں سے۔ ” اذقالوا لقومھم “ مشرکین سے۔ ” انا برء وامنکم “ بری کی جمع ہے۔ ” ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم “ ہم نے تمہارے دین کے انکار کیا۔ ” وبدا بیننا وبینکم العداوۃ ہوالبغضاء ابدا حتی تومنوا باللہ وحدہ “ حضرت حاطب ؓ اور دیگر مومنوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اقتداء کرنے کا حکم دیا ہے اور ان لوگوں کا جو ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے مشرکین سے برات ظاہر کرنے میں۔ ” الاقول ابراھیم لابیہ لا ستغفرن لک “ یعنی تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے امور میں اچھا طریقہ ہے مگر ان کے اپنے مشرک باپ کے لئے استغفار کرنے میں کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو کہا تھا ” لا ستغفرن لک “ میں آپ کے لئے ضرور استغفار کروں گا۔ پھر ان سے برات ظاہر کی جو ہم نے سورة توبہ میں ذکر کردی ہے۔ ” وما لک “ میں آپ کے لئے ضرور استغفار کروں گا۔ پھر ان سے برات ظاہر کی جو ہم نے سور ۃ توبہ میں ذکر کردی ہے۔ ” واملک لک من اللہ من شیء “ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو کہا کہ میں آپ کو کچھ نفع نہ دوں گا اور نہ آپ سے اللہ کے عذاب کو دور کرسکتا ہوں اگر آپ نے اس کی نافرمانی کی اور اس کے ساتھ شرک کیا۔ ” ربنا علیک توکلنا “ اس کو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والے مومنوں نے کہا۔ ” والیک انبنا والیک المصیر “
Ayah 60:65 ۔” ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا “ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو ہم پر غلبہ نہ دے۔ پس وہ گمان کرنے لگیں گے کہ وہ حق پر ہیں تو وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔
اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں تو ہمیں ان کے ہاتھوں سے عذاب نہ دے اور نہ اپنی طرف سے عذاب دے۔ پس وہ کہیں گے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو ان کو یہ چیز نہ پہنچتی۔ ” واغفرلنا ربنا انک انت العزیز الحکیم “۔
Ayah 60:76 ۔” لقد کان لکم فیھم “ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) اور ان لوگوں میں جوان کے ساتھ ایمان لائے۔ ” امرا حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الآخر “ یہ بدل ہے اللہ تعالیٰ کے قول لکم سے اور یہ بیان ہے کہ یہ اسوہ اس کے لئے ہے جو اللہ سے ڈرے اور آخرت کے عذاب سے۔ ” ومن یتول “ ایمان سے اعراض کرے اور کفار سے دوستی کرے۔ ” ان اللہ ھوالغنی “ اپنی مخلوق سے الحمید “ پس اپنے اولاء اور اہل طاعت کا دوست ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو کفار سے دشمنی کا حکم دیا تو مومنین نے اپنے مشرک رشتہ داروں سے دشمنی کی اور ان کے لئے دشمنی اور براۃ کو ظاہر کیا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے تھے مومنین کی سخت مشقت کو تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔
Ayah 60:87 ۔” عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منھم “ یعنی کفار مکہ سے۔ ” مودۃ “ پس اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ ان میں سے اکثر اسلام لے آئے۔ پس ان کے دوست اور بھائی بن گئے اور آپس میں مل جل گئے اور ان سے نکاح کیے۔ ” واللہ قدیرو اللہ غفور رحیم “ پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے بارے میں رخصت بیان کی جنہوں نے مومنین سے دشمنی نہیں کی اور ان سے لڑائی نہیں کی تو فرمایا :
Ayah 60:98 ۔” لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلو کم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں پر احسان نیکی کرنے سے نہیں روکتے جنہوں نے تم سے لڑائی نہیں کی۔ ” وتقسطوا الیھم “ تم ان کے بارے میں احسان کرکے انصاف کرو۔ ” ان اللہ یحب المقسطین “۔
آیات کا شان نزول
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ وہ آپ (علیہ السلام) سے لڑائی نہ کریں گے، آپ (علیہ السلام) کے خلاف اور لڑائی پر کسی کی مدد بھی نہ کریں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان کرنے میں رخصت دی اور عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ اسماء بنت ابی بکر کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ ان کی امہات قنیلہ بنت عبدالعزیٰ مدینہ آئی پنیر، گھی وغیرہ کے ہدایہ لے کر اور یہ عورت مشرکہ تھی تو اسماء ؓ نے کہا میں تجھ سے ہدیہ قبول نہ کروں گی اور تو میرے گھر داخل نہ ہو۔ حتیٰ کہ میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لوں تو اسماء ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کردی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ اس کو اپنے گھر داخل کرلیں اور اس کے ہدایہ قبول کرلیں اور اس کا اکرام کریں اور حسن سلوک کریں۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ مشرکہ تھیں قریش کے معاہدہ کے زمانہ میں۔ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو میں نے کہا یارسول اللہ ! جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو میں نے کہا یارسول اللہ ! (ﷺ ) میری ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ رغبت رکھتی ہے کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اس سے صلہ رحمی کر۔ ابن عیینہ (رح) سے روایت کیا گیا ہے فرماتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اسماء کے بارے میں نازل کیا ” لاینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلو کم فی الدین “ پھر ان کا ذکر کیا جن کی صلہ رحمی سے منع کیا ہے۔ پس فرمایا :
Ayah 60:109 ۔” انما ینھا کم اللہ عن الذین قاتلو کم فی الدین واخرجوکم من دیارکم وظاھروا علی اخراجکم “ اور وہ مشرکین مکہ ہیں۔ ” ان تولوھم ومن یتولھم فاولئک ھم الظالمون “۔
Ayah 60:11آیت مبارکہ کا شان نزول
10 ۔ یایھا الذین امنوا اذا جاء کم المومنات مھاجرات فامتحنوھن “ مروان اور مسور بن مخرمہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے خبر دیتے ہیں کہ جب اس دن سہیل بن عمر نے لکھا تو جو شرائط سہیل بن عمرو نے نبی کریم ﷺ پر لگائی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ہماری طرف سے اگر کوئی شخص آپ (علیہ السلام) کے پاس آئے گا، اگرچہ وہ آپ (علیہ السلام) کے دین پر ہو تو آپ (علیہ السلام) اس کو ہمارے پاس واپس بھیج دیں گے تو مومنین نے اس شرط کو ناپسند سمجھا اور سہیل نے اس پر اصرار کیا تو نبی کریم ﷺ نے اس شرط پر لکھوادیا تو اس دن نبی کریم ﷺ نے ابوجندل کو ان کے والد سہیل بن عمرو کو واپس کردیا اور اس مدت میں آپ (علیہ السلام) کے پاس جو مرد بھی آتا، آپ (علیہ السلام) اس کو واپس کردیتے۔ اگرچہ وہ مسلمان ہوتا اور مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں اور ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی ان عورتوں میں تھی جو رسول اللہ ﷺ کی طرف نکلیں تھیں اس دن ہجرت کرکے۔ تو ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کرنے لگے کہ ان عورتوں کو واپس کردیں تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو عورتوں کو واپس نہیں کیا کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” اذاجاء کم المومنات مھاجرات فامتحنوھن اللہ اعلم بایمانھن “ سے ” ولا تھم یخلون لھن “ ہے۔ عروہ فرماتے ہیں مجھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت کے ذریعے ان کا امتحان لیتے تھے۔ ” یایھا النبی اذا جاء ک المومنات “ سے ” غفور رحیم “ تک۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں پس جو ان میں سے اس شرط کا اقرار کرتی تو رسول اللہ ﷺ اس کو فرماتے تحقیق میں نے تجھے بیعت کرلیا۔ یہ کلام کے ذریعے ہوتا تھا۔ اللہ کی قسم ! آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا بیعت میں۔ آپ (علیہ السلام) ان سے اپنے قول کے ذریعے بیعت کرتے تھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ عمرہ کی نیت سے متوجہ ہوئے حتیٰ کہ جب حدیبیہ پہنچے تو آپ (علیہ السلام) سے مشرکین مکہ نے صلح کی اس شرط پر کہ اہل مکہ میں سے جو آپ (علیہ السلام) کے پاس آئے گا اس کو ان کی طرف واپس کردیں گے اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے جو اہل مکہ کے پاس آیا وہ اس کو واپس نہ کریں گے اور انہوں نے اس کی ایک تحریر لکھ کر اس پر مہر لگادی۔ توسبیعہ بنت حار ث اسلمیہ اس تحریر سے فارغ ہونے کے بعد مسلمان ہوکر آئی تو اس کے پیچھے ان کا خاوند بنو مخزومہ سے سفر کرتا آیا اور مقاتل (رح) نے کہا ہے صیفی بن راہب اس کی تلاش میں اور یہ کافر تھا تو کہنے لگا اے محمد ! (ﷺ ) میری بیوی مجھے واپس کردیں کیونکہ آپ (علیہ السلام) نے شرط لگائی ہے کہ ہم سے جو آپ (علیہ السلام) کے پاس آئے گا آپ اس کو واپس کردیں گے اور یہ تحریر کی سیاہی ابھی تک خشک نہیں ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” یایھا الذین امنوا اذا جاء کم المومنات مھاجرات “ دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف۔ ” فامتحنوھن “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا امتحان یہ ہے کہ اس سے قسم اٹھوائی جائے کہ وہ اپنے خاوند سے بغض کی وجہ سے نہیں نکلی اور نہ مسلمانوں میں سے کسی شخص کے عشق میں آئی ہے اور نہ اس کو اس زمین کی طرف رغبت ہے اور نہ کوئی ضرورت اس کو پیش آئی ہے۔
اور نہ دنیا کو طلب کرنے آئی ہے اور وہ تو صرف اسلام میں رغبت کی وجہ سے نکلی ہے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں۔ فرماتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے حلف لیا پر اس نے حلف اٹھا لیا تو آپ (علیہ السلام) نے اس کو واپس نہیں کیا اور ان کے خاوند کو اس کا مہر اور جوان پر خرچ کیا تھا وہ دے دیا ۔ پھر ان سے عمر بن خطاب ؓ نے نکاح کرلیا اور آپ (علیہ السلام) جو مردوں میں سے آتا اس کو واپس کردیتے اور جو عورتیں آتیں امتحان کے بعد ان کو روک لیتے اور ان کے خاوندوں کو ان کے مہر دے دیتے۔ ” اللہ اعلم بایمانھن “ یعنی یہ امتحان تمہارے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو خوب جانتے ہیں۔
” فان علمتموھن مومنات فلاترجعوھن الی الکفار لاھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن “ اللہ تعالیٰ نے کسی مومن عورت کو کافر کے لئے حلال نہیں کیا۔ ” وآتوھم “ یعنی ان کے کفار خاوندوں کو۔ ” ماانفقوا “ ان عورتوں پر یعنی مہر جو انہوں نے ان عورتوں کو دیا ہے۔ ” ولا جناح علیکم ان تنکحوھن اذا اتیتموھن اجورھن “ یعنی ان کے مہر۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں کے لئے مباح کردیا۔ اگرچہ دارالکفر میں ان کے خاوند موجود ہوں اس لئے کہ اسلام نے ان عورتوں اور ان کے کافر خاوندوں کے درمیان تفریق کردی ہے۔
” ولا تمسکوا “ ابوعمرو اور یعقوب رحمہما اللہ نے شد کے ساتھ اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے امساک سے ۔ ” بعصم الکوافر “ العصم عصمۃ کی جمع ہے اور وہ جس کو عقد اور نسب کے ذریعے باندھا گیا ہو اور کو افر کافرہ کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو مشرک عورتوں کے نکاح سے روکا ہے۔ فرماتے ہیں جس کی مکہ میں کافر بیوی ہو تو اس کا اعتبار نہ کرے۔ تحقیق ان کے درمیان نکاح کا تعلق ختم ہوگیا۔ زہری حمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے دو بیویوں کو طلاق دے دی جو مکہ کی تھیں اور مشرکہ تھیں۔ قریبہ بنت ابو امیہ بن مغیرہ اس سے حضرت عمر ؓ کے بعد معاویہ بن ابی سفیان نے نکاح کیا۔ مکہ میں یہ دونوں اس وقت مشرک تھے اور دوسری ام کلثوم بنت عمرو بن جرول نزاعیہ آپ ؓ کے بیٹے عبداللہ بن عمر ؓ کی والدہ۔ پس ان سے ابوجہم بن حذافہ بن غانم نے نکاح کیا، یہ دونوں بھی مشرک تھے اور ارویٰ بنت ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب، طلحہ بن عبیداللہ کے نکاح میں تھی تو طلحہ نے ہجرت کی اور یہ بیوی مکہ میں اپنی قوم کے دین پر تھی تو اسلام نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی تو اسلام میں اس سے خالد بن سعید بن عاص بن امیہ نے نکاح کیا۔
شعبی (رح) فرماتے ہیں زینب بنت رسول اللہ ﷺ ابوالعاص بن ربیع کی بیوی تھیں۔ وہ اسلام لے آئیں اور رسول اللہ ﷺ کو آملیں اور ابوالعاص مکہ میں شرک کی حالت میں رہے۔ پھر وہ مدینہ آئے اور اسلام قبول کیا تو رسول اللہ ﷺ نے زینب کو واپس ان کو دے دیا۔ ” واسئلوا “ اے مومنو !” ماانفقتم “ یعنی اگر تمہاری کوئی عورت مرتد ہوکر مشرکین سے جاملے تو جو تم نے مہر خرچ کیا ہے اس کا سوال کرو جب وہ اس عورت کو روک لیں اس سے مطالبہ کرو، جس نے نکاح کیا ہے اس عورت سے ۔” ولیسئلوا “ یعنی مشرکین جن کی بیویاں تمہارے پاس آگئی ہیں۔ ” ماانفقوا “ مہر کا تم میں سے اس شخص سے جس نے اس عورت سے نکاح کیا ہے۔ ” ذلکم حکم اللہ یحکم بینکم واللہ علیم حکیم “ زہری (رح) فرماتے ہیں اگر رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح اور معاہدہ نہ ہوا ہوتا حدیبیہ کے دن تو ان عورتوں کو روک لیتے اور ان کا مہر بھی نہ دیتے اور اسی طرح آپ (علیہ السلام) ان عورتوں کے بارے میں کرتے تھے جو اسلام قبول کرکے آتی تھیں معاہدہ سے پہلے۔ پس جب یہ آیت نازل ہوئی تو مومنین نے اللہ تعالیٰ کے حکم کا اقرار کیا اور انہوں نے وہ کیا جو ان کو حکم دیا گیا مشرکین کی خرچ کردہ چیزیں واپس کرنے کا اور مشرکین نے اللہ کے فیصلہ کا اقرار کرنے سے انکار کردیا اور ان کو حکم دیا گیا جو مومنوں نے اپنی بیویوں پر خرچ کیا ہے اس کو لوٹانے کا۔
Ayah 60:1211 ۔” وان فاتکم “ اے اہل ایمان۔ ” شیء من ازواجکم الی الکفار “ پس وہ ان کو جاملیں مرتد ہوکر۔
فعاقبتم کے معنی میں مفسرین کے اقوال
” فعا قبتم “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کا معنی ہے تم غنیمت حاصل کرو یعنی تم جہاد کرو پھر تم کفار سے عقبیٰ یعنی غنیمت حاصل کرو۔ اور کہا گیا ہے تم غالب ہوجائو اور انجام تمہارے لئے ہو اور کہا گیا ہے تم ان کو قتال میں سزا پہنچائو حتیٰ کہ تم غنیمت حاصل کرلو۔ حمیدا عرج نے فعقبتم “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور زہری (رح) نے ” فعقبتم “ تخفیف کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور مجاہد (رح) نے ” فاعقبھم “ پڑھا ہے یعنی تم ان کے ساتھ ویسا کرو جیسا انہوں نے تمہارے ساتھ کیا اور یہ تمام لغات ایک معنی دیتی ہیں۔ کہا جاتا ہے ” عاقب، عقب وعقب، واعقب وتعقب، وتعاقب واعتقب “ جب وہ غنیمت حاصل کرے اور کہا گیا ہے ” التعقیب “ لڑائی کے بعد لڑائی کرنا۔
” فاتوا الذین ذھبت ازواجھم “ کفار کی تمہاری طرف۔ ” مثل ماانفقوا “ ان پر ان غنیمتوں میں سے جو تمہارے ہاتھوں میں کفار کے اموال میں سے آئی ہیں اور کہا گیا ہے ” فعاقبتم “ پس تم سزا دو مرتدہ کو قتل کے ذریعے۔ اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے ، فرماتے ہیں مومن مہاجر عورتوں میں سے مشرکین کے پاس چھ عورتیں گئی ہیں ام الحکم بنت ابوسفیان، یہ عیاض بن شداد قہری کے نکاح میں تھی اور فاطمہ بنت ابو امیہ بن مغیرہ ام سلمہ ؓ کی بہن جو عمر بن خطاب ؓ کے نکاح میں تھیں۔ پس جس عمر ؓ نے ہجرت کا ارادہ کیا تو اس نے انکار کردیا اور مرتد ہوگئی اور یروع بنت عقبہ یہ شماس بن عثمان کے نکاح میں تھی اور عزہ بنت عبدالعزیز بن نضلہ اس سے عمر بن عبدود نے نکاح کیا اور ہند بنت ابی جہل بن ہشام، یہ ہشام بن عاص بن وائل کے نکاح میں تھی اور ام کلثوم بنت جرول یہ عمر بن خطاب ؓ کے نکاح میں تھیں۔ پس یہ تمام اسلام سے پھر گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے خاوندوں کو غنیمت سے ان کا مہر ادا کیا۔ ” واتقواللہ الذی انتم بہ مومنون “۔
اور اس بات میں اختلاف ہوا ہے کہ جو عورت اسلام لے آئے اس کے خاوند کو اس کا مہر دیناواجب ہے یا مستحب ؟ اور اس کی اصل یہ ہے کہ صلح عورتوں کو واپس کرنے پر واقع ہوئی تھی ؟ اس میں دوقول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ صلح مردوں اور عورتوں سب کو واپس کرنے پر ہوئی تھی۔ اس روایت کی وجہ سے جو ہم تک پہنچی کہ آپ کے پاس ہم میں سے کوئی نہیں آئے گا اگرچہ وہ آپ ﷺ کے دین پر ہو مگر آپ (علیہ السلام) اس کو ہمیں واپس کردیں گے۔ پھر عورتوں کو لوٹانے کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فلاترجعوھن الی الکفار “ کی وجہ سے۔
پس اس تفصیل پر مہر کا لوٹانا واجب ہوگا اور دوسرا قول یہ ہے کہ صلح عورتوں کو واپس کرنے پر نہیں ہوئی تھی اس لئے کہ علی ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے پاس ہم میں سے جو مرد آئے گا، اگرچہ وہ آپ ﷺ کے دین پر ہو، آپ (علیہ السلام) اس کو ہم پر لوٹائیں گے۔ اس لئے کہ مرد کو لوٹانے میں اتنا فتنہ کا خوف نہیں ہے جتنا عورت کے لوٹانے پر خوف ہے مشرک کے اس عورت کو پہنچنے سے اور اس پر ارتداد کا بھی ڈر ہے جب وہ اس کو ڈرایا گیا اور اس پر مجبور کی گئی اس کے دل کمزور ہونے کی وجہ اور عقل کم ہونے کی وجہ سی اور ان کو اس مصیبت سے نکلنے کا راستہ معلوم نہیں ہے کلمہ کفر کو ظاہر کرکے تردید کرکے ایمان کو چھپا کر۔ اور آدمی پر اس کا خوف نہیں ہوتا اس کی طاقت اور تقیہ کے راستے معلوم ہونے کی وجہ سے تو اس تفصیل ۔۔۔ کا لوٹانا مستحب ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ کیا آج کے دن مال کا واپس کرنا واجب ہے جب کفار کے معاہدے میں شرط لگائی گی ہو ؟ تو ایک قوم نے کہا واجب نہیں ہے اور انہوں نے گمان کیا ہے کہ آیت منسوخ ہے اور یہ عطائ، اور قتادہ رحمہم اللہ کا قول ہے۔ اور ایک قوم نے کہا ہے یہ منسوخ نہیں ہے اور جو انہوں نے خرچ کیا ہے وہ ان کو لوٹایا جائے گا۔
Ayah 60:13عورتوں کی بیعت کرنے کا ذکر
آیات 12
12 ۔” یایھا النبی اذاجاء ک المومنات یبایعنک “ اور یہ فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ ﷺ مردوں کی بیعت سے فارغ ہوئے اور آپ (علیہ السلام) صفا پر تھے اور عمر بن خطاب ؓ آپ (علیہ السلام) سے نیچے تھے اور وہ عورتوں کی بیعت کررہے تھے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اور آپ (علیہ السلام) سے ان کو باتیں پہنچا رہے تھے اور ہند بنت عتبہ ابوسفیان کی بیوی پردہ کرتے ہوئے چھپتی چھپاتی آئی عورتوں کے ساتھ اس خوف سے کہ رسول اللہ ﷺ اس کو پہچان لیں گے۔
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ان سے بیعت کرتا ہوں ” علی ان لا یشرکن باللہ شیئا “ تو ہند نے اپنا سر اٹھایا اور کہا اللہ کی قسم ! آپ (علیہ السلام) ہم پر ایسا امر لے رہے ہیں جو ہم نے آپ (علیہ السلام) کو مردوں سے لیتے نہیں دیکھا اور اس دن آپ (علیہ السلام) نے مروں سے صرف اسلام اور جہاد پر بیعت کی تھی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” ولا یسرقن “ تو ہند نے کہا بیشک ابو سفیان بخیل آدمی ہیں تو میں اس کے مال سے تھوڑا سا اٹھا لیتی ہوں، میں نہیں جانتی کہ کیا مرے لئے یہ حلال ہے یا نہیں ؟ تو ابوسفیان نے کہا جو پہلے میرا مال لیا اور جو آئندہ لے گی وہ تیرے لئے حلال ہے تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور اس کو پہچان لیا تو اس کو فرمایا تو ہند بنت عتبہ ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں لیں آپ (علیہ السلام) معاف کردیں جو پہلے ہوچکا اللہ تعالیٰ آپ سے معاف کریں۔ ” ولا یزنین “ تو ہند نے کہا کیا آزاد عورت زنا کرے گی ؟ پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : ” ولا یقتلن اولادھن “ تو ہند نے کہا ہم نے ان کی بچپن میں پرورش کی اور تم نے ان کو بڑے ہونے کی حالت میں قتل کردیا پس تم اور وہ خوب جانتے ہو اور ان کا بیٹا حنظلہ بن ابی سفیان بدر کے دن قتل کیا گیا تھا تو حضرت عمر ؓ ہنستے ہنستے لیٹ گئے اور رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرمایا۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا :
” ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن “ اور وہ یہ کہ اپنے خاوندوں پر ایسا بچہ منسوب کریں جو ان سے نہیں ہے تو ہند نے کہا اللہ کی قسم بہتان تو بہت برا ہے اور آپ ﷺ تو ہمیں سیدھے راستے اور عمدہ اخلاق کا حکم دے رہے ہیں۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ” ولایعینک فی معروف “ تو ہند نے کہا ہم اس جگہ اس لئے نہیں بیٹھے کہ ہمارے دلوں میں آپ (علیہ السلام) کی نافرمانی کا خیال ہو تو جو عہد عورتوں سے لیا گیا ان سب نے اس کا اقرار کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” ولا یقتلن اولادھن “ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا مراد ہے جو اہل جاہلیت کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا قول ” ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن “ اس سے مراد ان کو زنا سے روکنا نہیں ہے کیونکہ زنا سے نہی تو اس سے بہت پہلے ہوچکی تھی بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کوئی بچہ ہے مجھ سے۔ پس یہ بہتان ہے جو ان کے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان گھڑا گیا ہے۔ اس لئے کہ بچہ جب ماں اس کو جنتی ہے تو وہ اس کے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان گرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” ولا یعصینک فی معروف “ یعنی ہر اس امر میں جو اللہ تعالیٰ کی طاعت کے موافق ہو۔ بکر بن عبداللہ مزنی (رح) فرماتے ہیں ہر اس کام میں جس میں ان کے رشدوصلاح ہو اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ عورت مردوں کے ساتھ خلوت نہ اختیار کرے اور سعید بن مسیب اور کلبی اور عبدالرحمن بن زید (رح) فرماتے ہیں یہ نوحہ (میت پر بین کرنے) سے نہی ہے اور ہلاکت کی دعا کرنے اور کپڑے پھاڑنے اور بال منڈانے اور اکھیڑنے اور چہروں کو نوچنے سے نہیں ہے اور عورت مردوں سے بات نہ کرے مگر محرم سے اور غیر محرم مرد کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے اور صرف محرم مرد کے ساتھ سفر کرے۔
ام عطیہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بیعت کیا تو ہم پر پڑھا ” ان لا یشرکن باللہ شیئا “ اور ہمیں نوحہ سے روکا تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ بند کرلیا اور کہا فلانی عورت نے میری نوحہ میں مدد کی تھی۔ میرا ارادہ ہے کہ میں اس کو بدلہ دوں۔ پس اس کو نبی کریم ﷺ نے کچھ نہ کہا تو وہ چلی گئی اور لوٹی اور آپ (علیہ السلام) سے بیعت کی۔ ابومالک اشعری ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار چیزیں میری امت میں جاہلیت کی ایسی ہیں جن کو وہ نہیں چھوڑیں گے حسب پر فخر کرنا اور نسب پر اعتراض کرنا اور ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا۔ اور فرمایا نوحہ کرنے والی جب نوحہ سے توبہ نہ کرے اپنی موت سے پہلے تو قیامت کے دن کھڑی ہوگی اور اس پر تار کول کی ایک شلوار اور جرب کی قمیص ہوگی۔ حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ہم میں سے نہیں ہے وہ شخص جو رخساروں کو مارے اور گریبان پھاڑ ڈالے اور جاہلیت کے پکارنے کی طرح پکارے۔ ” فبایعھن “ یعنی جب وہ عورتیں آپ (علیہ السلام) سے بیعت کرنے آئیں تو آپ (علیہ السلام) سے بیعت کرلیں۔ ” واستغفرلھن اللہ ان اللہ غفور رحیم۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عورتوں کو کلام کے ذریعے بیعت کرتے تھے۔ اس آیت کے ذریعے ” لا یشرکن باللہ شیئا “ فرماتی ہیں آپ کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا مگر اس عورت کو جس کے آپ (علیہ السلام) مالک ہیں۔ امیمہ بنت رقیہ ؓ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے چند عورتوں کی جماعت میں بیعت کی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ بیعت ان کاموں میں ہے جن کی تم استطاعت و طاقت رکھتی ہو تو میں نے کہا یارسول اللہ ہمارے نفس پر ہم سے زیادہ شفیق ورحم کرنے والے ہیں۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہمیں بیعت کرلیں۔ سفیان کہتے ہیں یعنی ہم سے مصافحہ کرلیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا اور میری بات ایک عورت کے لئے میری سو عورتوں کے لئے بات کی طرح ہے۔