Ayah 59:1سورة الحشر
یہ سورة مدنی ہے، اس میں 24 آیات اور 3 رکوع ہیں
سعید بن جبیر کا بیان ہے، میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا سورة الحشر، فرمایا : سورة العضیرکہو
Ayahs 59:2–3تفسیر : (صحیحین) بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ سورة انفال بدر کے بیان میں نازل ہوئی اور سورت حشر بنی نضیر کے بیان میں۔ ” سبح للہ مافی السموات ومافی الارض وھوالعزیز الحکیم ۔ ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم لاول الحشر “ (اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں وہ سب چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور وہی غالب (اور بڑی) حکمت والا ہے۔ وہی ہے جس نے ان کفار اہل کتاب (یعنی بنی نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی بار اکٹھا کرکے نکال دیا) ۔
” من اھل الکتب “ یعنی خاندان بنی نضیر جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھا۔ ” من دیارھم “ ان کے گھروں میں جو مدینہ میں تھے۔ ابن اسحق نے بیان کیا کہ بنی نضیر کی جلاوطنی کا واقعہ اس وقت ہوا جب رسول اللہ ﷺ احد سے واپس آئے تھے اور بنی قریظہ کا واقعہ جنگ احزاب سے واپسی کے وقت ہوا۔ ان دونوں واقعات کے درمیان دو سال کی مدت ہوئی۔ بنی نضیر کو جلاوطن کرنے کا سبب یہ ہوا کہ (ہجرت کے بعد) جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو بنی نضیر سے یہ معاہدہ ہوگیا کہ فریقین میں سے کوئی کسی سے جنگ نہیں کرے گا اور بنی نضیر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوکر رسول اللہ ﷺ کے مخالفوں سے بھی نہیں لڑیں گے (اور نہ مسلمانوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کے ہمراہ ہوکر لڑیں گے) ۔
جب رسول اللہ ﷺ کو بدر کی لڑائی میں مشرکوں پر غلبہ حاصل ہوگیا تو بنی نضیر نے کہا : خدا کی قسم ! یہ وہی نبی ہیں جن کے اوصاف توریت میں ہم کو ملتے ہیں۔ ان کا جھنڈا (کبھی) نہیں لوٹایا جاسکتا۔ اس کے بعد جب جنگ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو بنی نضیر رسول اللہ ﷺ کی صداقت میں شک کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی دشمنی پر علی الاعلان اتر آئے اور رسول اللہ ﷺ سے جو ان کا معاہدہ تھا اس کو توڑ دیا۔ چناچہ بنی نضیر کا ایک شخص کعب ابن اشرف چالیس یہودیوں کو لے کر پہنچا اور قریش سے ملا اور فریقین نے باہم مل کر ایک معاہدہ کیا کہ سب (قریش اور بنی نضیر) رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر متحد رہیں گے۔ ابوسفیان چالیس قریشیوں کو اور کعب بن اشرف چالیس یہودیوں کو لے کر کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور ایک معاہدہ کعبہ کے پردوں کے اندر آپس میں کرلیا۔ توثیق معاہدہ کے بعد جب کعب اپنے ساتھیوں کو لے کر مدینہ واپس آگیا اور حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے فوراً رسول اللہ ﷺ کو اس معاہدہ کی اطلاع دی اور رسول اللہ ﷺ نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے جاکر کعب کو قتل کردیا۔ کعب کو قتل کرنے کی تفصیل سورة آل عمران کی آیت ” لتبلون فی اموالکم وانفسکم ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا اذی کثیرا “ کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے کردی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو بنی نضیر کی بدعہدی کی متعدد اطلاعیں ملی تھیں۔
بنی نضیر نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پیام بھیجا کہ ہم آپ ﷺ کا کلام سننا اور آپ (ﷺ ) کا پیام سمجھنا چاہتے ہیں (اس لئے) آپ ﷺ اپنے تیس ساتھیوں کے ساتھ اور ہم اپنے تیس عالموں کے ساتھ نکل کر آجائیں اور درمیانی مقام پر سب جمع ہوجائیں اور ہمارے علماء آپ ﷺ کی باتیں سنیں، اگر وہ آپ ﷺ کی تصدیق کردیں گے اور آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے تو ہم سب ایمان لے آئیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس گزارش کو مان لیا اور دوسرے روز تیس صحابہ کو ساتھ لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ ادھر سے تیس یہودی عالم نکل آئے۔ جب دونوں فریق کھلے میدان میں پہنچ گئے تو بنی نضیر نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا محمد ( ﷺ ) تک تمہاری رسائی کیسے ہوگی ؟ ان کے ساتھ تو ان کے تیس رفیق جانثار موجود ہیں۔ جب ان کی تدبیر کامیاب نہیں ہوئی تو پیام بھیجا ہم (سب) ساٹھ آدمی ہیں (اس گڑ بڑ میں) آپ ﷺ کی بات کیسے سمجھ پائیں گے، اس لئے آپ ﷺ اپنے تین ساتھیوں کو لے کر آئیں، ہمارے بھی تین عالم آجائیں گے اور آپ ﷺ کی بات سنیں گے، اگر انہوں نے تصدیق کردی اور آپ ﷺ پر ایمان لے آئے تو ہم بھی مسلمان ہوجائیں گے۔
چنانچہ حضور ﷺ تین صحابہ ؓ کے ساتھ برآمد ہوئے اور ادھر سے تین یہودی بھی آگئے جن کے پاس خنجر تھے اور رسول اللہ ﷺ کو اچانک شہید کردینے کا ارادہ تھا لیکن بنی نضیر کی ہی ایک عورت تھی جس کا بھائی مسلمان ہوگیا تھا اور انصاری تھا۔ اس عورت نے بطور خیر خواہی اپنے بھائی کو کہلا بھیجا اور بنی نضیر کے ارادہ کی اطلاع دے دی۔ اس کا بھائی فوراً دوڑا اور قبل اس کے کہ رسول اللہ ﷺ یہودیوں تک پہنچتے، آپ ﷺ کو یہ مخفی طور پر اطلاع دے دی۔ آپ ﷺ فوراً مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ ابودائود، بیہقی، عبدبن حمید اور عبدالرزاق نے صحیح سند کے ساتھ یہ قصہ بیان کیا ہے اور ایک طویل حدیث کے ذیل میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ بنی نضیر نے یہ غداری اس وقت کی، جب واقعہ بدر کے بعد قریش نے ان کو لکھا تھا کہ تم لوگ مسلح زرہ پوش اور حفاظتی قلعوں والے ہو، تم کو چاہیے کہ ہمارے دشمن سے لڑائی لڑیں یا ایسا ایسا کریں۔ اس تحریر کو پانے کے بعد بنی نضیر نے مذکورہ بالا غداری کی۔ بغوی نے اس قصہ کو ذکر کرنے کے بعد بیان کیا ہے۔ جب دوسرا دن ہوا تو صبح ہی رسول اللہ ﷺ جنگی دستے لے کر ان کی طرف چل پڑے اور اکیس روز تک ان کا محاصرہ جاری رکھا۔
ھوالذی اخرج الذین کفروامن اھل الکتاب اس سے مراد بنی نضیر ہیں (من دیارھم) جو یثرب میں تھے۔ ان اسحاق کا بیان ہے کہ بنی نضیر کی جلاوطنی کا واقعہ جنگ احزاب سے واپسی کے وقت ہوا ان دونوں واقعات کے درمیان دو سال کی مدت ہوئی۔
اول حشر سے کیا مراد ہے
(لاول الحشر) زہری کا بیان ہے کہ بنو نضیر اس سبط میں سے تھے جن کو کبھی جلاوطن نہیں کیا گیا۔ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جلاوطنی لکھ دی ہے اگر ان کو جلاوطن نہ کیا جاتا تو دنیا میں ہی ان پر عذاب آجاتا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میدان حشر ملک شام میں ہوگا جس شخص کو اس آیت میں شکر ہو۔ وہ یہ آیت پڑھے ملک شام کی طرف یہ پہلا حشر ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا تم لوگ نکل جائو۔ انہوں نے پوچھا کہاں جائیں فرمایا ارض محشر کی طرف قیامت کے دن سب مخلوق وجمع کرکے ارض شام کی طرف لایا جائے گا۔
اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ” الاول الحشر “ کہا ہے اس لئے کہ وہ پہلے لوگ تھے جو اہل کتاب میں سے جزیرہ عرب سے جلاوطن کیے گئے، پھر ان کے آخری کو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جلاوطن کیا۔ مرہ ہمدانی (رح) فرماتے ہیں اول محشر مدینہ سے تھا اور حشر ثانی خیبر سے اور تمام جزیرہ عرب اذرعات تک اور اریحاء شام سے حضرت عمر ؓ کے دور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ پہلا حشر تھا اور حشر ثانی آگ ہے جو ان کو مشر ق سے مغرب کی طرف جمع کرے گی، ان کے ساتھ رات گزارے گی جہاں وہ رات زاریں گے اور ان کے ساتھ دوپہر کا آرام کرے گی جہاں وہ آرام کریں گے۔۔۔۔۔ اے مومنو ! ”۔۔ ۔۔۔۔۔ “ مدینہ سے ان کے غلبہ اور قوت کی وجہ سے کیونکہ قلعوں، زمینوں اور کثیر باغات والے تھے۔ ” وظنوا انھم ما فجتھم حصونھم من اللہ “ یعنی اور بنونضیر نے گمان کیا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ کی سلطنت سے روک لیں گے۔ ” فاقانعم اللہ “ یعنی اللہ کا امر اور اس کا عذاب “ من حیث لم یحتسبوا “ اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا ان سے قتال اور ان کو جلاوطن کرنے کا اور ان کو اس کا گمان نہ تھا۔ ” وقذف فی قلوبھم الرعب “ ان کے سردار کعب بن اشرف کو قتل کرکے۔ ” یوھوبون “ ابو عمرو نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ اور ان دونوں کا معنی ایک ہے۔ ” بیوتھم بایدیھم وایدی المومنین “۔
زہری (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جب ان سے صلح کی کہ ان کے لئے وہ ہے جتنا اونٹ بوجھ اٹھالیں تو وہ اپنے گھروں میں لکڑیوں کو دیکھتے تو ان کو گرادیتے اور جو اچھی چیز ہوتی اس کو اتارلیتے اور اس کو اونٹوں پر لاد لیتے اور مومنین باقی کو خراب کردیتے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں انہوں نے ستونوں کو اکھاڑ دیا اور چھتوں کو توڑ دیا اور دیواروں میں سوراخ کردیا اور لکڑیاں (کڑیاں) اکھاڑ دیں حتیٰ کہ میخیں نکال لیں۔ اس کو برباد کررہے تھے تاکہ اس میں مومن نہ رہ سکیں، مومنوں سے حسد اور بغض کی وجہ سے۔
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مسلمان ان کے ظاہر کو خراب کررہے تھے اور یہود اندر سے خراب کررہے تھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جب بھی مسلمان ان کے گھروں پر غالب ہوتے وہ ان کو گرادیتے تاکہ ان کے لئے لڑائی کی جگہ وسیع ہوجائے اور اللہ کے دشمن اپنے گھروں میں پیچھے سے نقب لگاتے اور اس سے پچھلے گھر میں نکل جاتے، پھر اس کو جائے پناہ لیتے اور جوان سے ملا ہوا ہے اس کو توڑ دیتے اور جس سے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ نکلتے اس پر تیراندازی کرتے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” یخربون بیوتھم بایدیھم وایدی المومنین فاعتبروا “ پس تم نصیحت حاصل کرو اور اس میں غورکرو جوان پر اتری ہے۔ ” فاعتبروا یا اولی الابصار “ اے عقل و سمجھ والو۔
Ayah 59:43 ۔” ولولا ان کتب اللہ علیھم الجلائ “ وطن سے نکلنا۔ ” لعذبھم فی الدنین “ قتل اور قید کے ۔۔۔۔ جیسا کہ بنو قریظہ کے ساتھ کیا گیا۔ ” ولھم فی الآخرۃ عذاب النار۔
Ayah 59:54 ۔” ذلک “ جوان کو لاحق ہوا۔ ” بانھم شاقوا اللہ ورسولہ ومن یشاق اللہ فان اللہ شدید العقاب “۔
Ayah 59:65 ۔” ماقطعتم من لینۃ “ جب رسول اللہ ﷺ بنو نضیر پر اترے اور انہوں نے اپنے قلعوں میں پناہ لے لی تو آپ (علیہ السلام) نے ان کے درخت کاٹنے اور ان کو جلانے کا حکم دیا تو اللہ کے دشمنوں نے اس وقت واویلا کیا اور کہنے لگے۔ اے محمد ( ﷺ ) آپ نے گمان کیا کہ آپ صلاح و خیرخواہی کا ارادہ کرتے ہیں۔ کیا صلاح میں سے درختوں کا اکھاڑنا اور کھجوروں کو کافی ہے ؟ پس کیا تونے پایا ہے اس میں جو تجھ پر اتارا گیا ہے زمین میں فساد مچانا۔ پس مسلمانوں نے ان کے قول کی وجہ سے اپنے دل میں کچھ پایا اور ڈرے کہ یہ فساد نہ ہوا اور اس میں اختلاف کیا تو بعض نے کہا تم نہ کاٹو کیونکہ یہ اس میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ ہمارے لئے ۔۔۔ بنائیں گے اور ان میں سے بعض نے کہا بلکہ ہم ان کو کاٹ کر ان لوگوں کو غصہ دلا رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ ن یاس آیت کو اتاا، ان کی تصدیق کے لئے جنہوں نے ان کو کاٹنے سے روکا اور جنہوں نے اس کو کاٹا ان کو گناہ سے حلال کرنے کے لئے۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کے کھجور کے درخت جلادیئے اور کٹوادیئے اور وہ تباہ ہوگئے تو آیت نازل ہوئی۔ ” اوترکتموھا قائمۃ علی اصولھا فباذن اللہ “ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ جو تم نے کاٹ دیئے اور جو چھوڑ دیئے تو وہ اللہ کے اذن کے ساتھ تھے۔ ” والیخزی الفاسقین “ اور مفسرین رحمہم اللہ کا ” لینۃ “ میں اختلاف ہوا ہے، ایک قوم نے کہا ہے کھجور کے تمام درخت ” لینۃ “ ہیں عجوہ کے علاوہ اور یہ عکرمہ اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور اسی کو زاذان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ ان کے کھجور کے درخت کٹواتے تھے سوائے عجوہ کے اور اہل مدینہ عجوہ کے علاوہ کھجوروں کا نام الوان رکھتے ہیں اور اس کا واحد ” لون “ اور ” لینۃ “ ہے زہری (رح) فرماتے ہیں یہ تمام کھجوروں کے درخت ہیں سوائے عجو وہ اور برنیہ کے اور مجاہد اور عطیہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ تمام کھجور کے درخت ہیں بغیر کسی استثناء کے اور عوفی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا یہ کھجور کی ایک قسم ہے۔
اور سفیان (رح) فرماتے ہیں یہ عمدہ کھجور ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ کھجور کی ایک قسم ہے اس کے پھل کو لون کہا جاتا ہے اور یہ سخت زرد ہوتی ہے اس کی گٹھلی باہر سے دیکھی جاتی ہے۔ اس میں داڑھ چھپ جاتی ہے اور یہ عمدہ کھجور اور ان کے ہاں پسندیدہ ہے اور اس کے ایک درخت کی قیمت وصیف (کھجور کی قسم) کی قیمت ہے اور وہ ان کے ہاں وصیف سے زیادہ پسندیدہ تھی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ صحابہ کرام ؓ اس کو کاٹ رہے ہیں تو یہ ان پر بڑا بھاری ہوا اور مومنین کو کہتے لگے تم تو زمین میں فساد مچانے کو ناپسند کرتے ہو اور اب خود فساد مچا رہے ہو۔ ان درختوں کو چھوڑ دو یہ ان کے ہوں گے جو غالب آگئے تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ یہ اس کی اجازت سے ہے۔
Ayah 59:76 ۔” وما افاء اللہ علی رسولہ “ یعنی جس کو اپنے رسول پر لوٹا دے۔ کہاجاتا ہے ” فاء یفتی “ یعنی وہ لوٹ آیا ” منھم “ بنو نضیر کے یہود سے۔ ” فما اوجفتم “ تم نے رکھا۔ ” علیہ من خیل والرکاب “ کہا جاتا ہے ” وجف الفرس والیعیر یحف وجیفا “ اور وہ تیز دوڑتا ہے۔ ” واو جفہ صاحبہ “ جب اس کو دوڑنے پر ابھارے اور رکاب سے وہ اونٹ مراد ہیں جو قوم کو اٹھاتے ہیں کیونکہ جب بنو نضیر نے اپنے جانور اور سامان چھوڑ دیا تو مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے درمیان تقسیم کردیا جائے جیسا کہ خیبر کے مال غنیمت کے ساتھ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا کہ یہ فئی ہے مسلمانوں نے اس پر اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے اور نہ اس کی طرف کوئی سفر کیا ہے اور نہ کوئی مشقت اٹھائی ہے اور نہ جنگ کی ہے۔
بنونضیر کا مال کہاں خرچ کیا
” ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء واللہ علی کل شیء قدیر “ پس بنو نضیر کے اموال کو خالص رسول اللہ ﷺ کے لئے بنادیا کہ آپ (علیہ السلام) جہاں چاہیں خرچ کریں تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیا اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا سوائے تین افراد کے کہ ان کو حاجت تھی اور وہ ابورجانہ، سماک بن خرشہ اور سہل بن حنیف اور حارث بن صمہ ہیں۔ مالک بن اوس بن حدثان نضری نے خبر دی ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے ان کو لایا جب ان کا دربان یرخا آیا اور کہا عثمان، عبدالرحمن، زبیر اور سعد ؓ اجازت طلب کررہے ہیں کیا آپ کے لئے ان میں ہے ؟ آپ ؓ نے فرمایا ہاں۔ پھر ان کو داخل کردیا، پھر یرخا تھوڑی دیر رکا، پھر آیا اور کہا عباس اور علی ؓ اجازت طلب کررہے ہیں، کیا آپ ؓ کے لئے ان میں ہے ؟ آپ ؓ نے کہا ہاں۔ پس جب وہ دونوں داخل ہوئے تو عباس ؓ نے کہا اے امیر المومنین ! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کردیں۔
اور ان دونوں کا مقدمہ اس مال فئی میں تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر سے اپنے رسول اللہ ﷺ پر لوٹایا تھا تو ایک جماعت نے کہا اے امیر المومنین ! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کردیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے راحت دے دیں۔ آپ ؓ نے فرمایا میں تمہیں اسی اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کی اجازت کے ساتھ آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ہم وارث نہیں بناتے جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ، مراد رسول اللہ ﷺ کی اپنی ذات تھی۔ انہوں نے عرض کیا تحقیق آپ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا ہے تو عمر ؓ ، حضرت علی وعباس ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا میں نے دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ کہا ہے ؟ ان دونوں حضرات نے فرمایا جی ہاں۔ آپ ؓ نے فرمایا میں تمہیں اس معاملہ کے بارے میں بتاتا ہوں، بیشک اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کو اس فئی کے ساتھ خاص کردیا تھا۔ آپ (علیہ السلام) کے علاوہ کسی کو کچھ نہیں دیا۔
پھر کہا ” وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم عنیہ من خیل ولارکاب “ سے اللہ تعالیٰ کے قول ۔۔۔۔ تک اور یہ خالص رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا نہ تمہارے علاوہ کے لئے اس کو جمع کیا اور نہ اس کو تم پر ترجیح دی۔۔۔۔۔ تمہیں اس سے دیا اور تم میں تقسیم کیا حتیٰ کہ اس سے یہ مال باقی رہ گیا ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے سال کا خرچہ اس مال سے خرچ کرتے تھے پھر باقی کو لیتے اور اللہ کے مال کی جگہ میں بنادیتے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے اس کے مطابق اپنی زندگی میں عمل کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ کی وفات ہوء تو ابوبکر صدیق ؓ نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کا ولی ہوں تو اس کو ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے قبضہ میں لیا اور اس میں وہی عمل کیا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور تم دونوں اس وقت تھے اور حضرت علی اور عباس ؓ کی طرف متوجہ ہوئے تم یاد کرو کہ ابوبکر ؓ نے اس میں وہ کیا جو تم دونوں کہہ رہے ہو اور اللہ جانتا ہے کہ وہ اس سچے نیک سیدھی راہ پر چلنے والے حق کے تابع تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر صدیق ؓ کو وفات دی تو میں نے کہا میں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ نے کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس میں سچا نیک راشد حق کا تابع ہوں۔ پھر تم دونوں میرے پاس آئے ہو اور تم دونوں کی ایک ہی بات ہے اور تمہارا معاملہ اکٹھا ہے تو میں نے تمہیں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم وارث نہیں بناتے جو ہم چھوڑ تے ہیں وہ صدقہ ہے۔ پھر جب میرے لئے ظاہر ہوا کہ میں تم دونوں کو یہ دے دوں تو میں نے کہا اگر تم دونوں چاہو تو میں اس کو تمہیں دے دوں۔ اس بناء پر کہ تم دونوں پر اللہ کا معاہدہ ومیثاق ہے کہ تم اس میں وہ عمل کرو گے جو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ نے کہا تھا اور جو میں نے اپنی ولایت سے اب تک کیا ورنہ تم دونوں مجھ سے اس بارے میں بات نہ کرو۔ تو تم نے کہا آپ ؓ اس کو ہمیں اس عہد کے ساتھ دے دیں تو میں نے تم دونوں کو دے دیا، کیا اب تم مجھ سے اس کے علاوہ فیصلہ طلب کرتے ہو ؟ پس اللہ کی قسم ! جس کی اجازت سے آسمان و زمین قائم ہیں میں اس میں اس کے علاوہ فیصلہ نہ کروں گا حتیٰ کہ قیامت قائم ہوجائے۔ پس اگر تم دونوں اس سے عاجز ہوگئے ہو تو اس کو مجھے دے دو کیونکہ میں اس کو تم دونوں سے کافی ہوں۔
Ayah 59:87 ۔” ماافاء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ “ یعنی بستیوں والے کفار کے اموال سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ قریظہ، نضیر، فدک ، خیبر اور عرینہ کی بستیاں ہیں۔ ” فللہ وللرسول ولذی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین وابن السبیل “ اور تحقیق ہم نے سورة الانفال میں غنیمت کے حکم کو ذکر کردیا ہے اور فئی کا حکم بیشک فئی کا مال آپ (علیہ السلام) کی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کے لئے ہوگا جہاں چاہیں اس کو خرچ کریں اور آپ (علیہ السلام) اس میں سے اپنے اہل کو ان کا سالانہ خرچ دیتے تھے اور جو باقی بچتا اس کو اللہ تعالیٰ کے مال کی جگہ رکھتے اور اہل علم کا رسول اللہ ﷺ کے بعد فئی کے مصرف میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قوم نے کہا ہے وہ آپ (علیہ السلام) کے بعد امام وقت کے لئے ہوگا اور امام شافعی (رح) کے اس میں دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ مال فئی مجاہدین کو ملے گا اور دوسرا قول یہ ہے کہ مسلمانوں کی ضروریات کے لئے ہوگا اور ابتداء لڑنے والوں کی جائے گی۔ پھر اس کے بعد جو اہم ضروریات ہوں اور علماء کا مال فئی کا خمس دینے میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ان میں سے بعض اسی طرح گئے ہیں کہ مال فئی کا خمس نکالا جائے گا۔ پس اس کا خمس (پانچواں حصہ) غنیمت کے پانچویں حصہ کے مستحقین کے لئے ہوگا اور چار خمس لڑنے والوں کے لئے اور مسلمانوں کی ضروریات کے لئے۔
اور اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ اس کا خمس نہیں نکالا جائے گا بلکہ اس تمام کا مصرف ایک ہے اور تمام مسلمانوں کا اس میں حق ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے پڑھا ” ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ “ یہاں تک کہ ” للفقراء المھاجرین…والذین جاء وامن بعدھم “ پر پہنچ گئے۔ پھر فرمایا اس نے تمام مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے اور فرمایا زمین پر کوئی مسلمان نہیں مگر اس کا اس فئی میں حق ہے مگر جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں۔
” کیلا یکون دولۃ “ اکثر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” دولۃ “ نصب کے ساتھ یعنی تاکہ یہ فئی نہ ہو ۔” لکیلا یکون الفئی دولۃ “ اور ابو جعفر (رح) نے ” تکون “ تاء کے ساتھ ” دولۃ “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” کان “ کے اسم کی بناء پر۔ یعنی ” کیلا یکون الامرالی دولۃ “ اور ” کینونۃ “ کو وقوع (واقع ہونے) کے معنی میں کیا ہے اور اس وقت اس کی کوئی خبر نہ ہوگی اور ” دولۃ “ اس چیز کا نام ہے جس کو لوگ آپس میں ہاتھوں ہاتھ لیں۔ ” بین الاغنیاء منکم “ یعنی مال داروں اور طاقتوروں کے درمیان۔ اس کا معنی تاکہ مال فئی مال داروں اور طاقت وروں کے ہاتھوں میں چکر نہ لگاتا رہے۔ پس وہ اس پر فقراء اور ضعفا پر غالب ہوجائیں کیونکہ اہل جاہلیت جب غنیمت حاصل کرتے تھے تو سردار لوگ اس کا چوتھا حصہ اپنے لئے رکھ لیتے تھے اور یہ مرباع ہے۔ پھر اس مرباع کے بعد جو چاہتے مال غنیمت سے چن لیتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے رسول ﷺ کے لئے بنادیا کہ جہاں اللہ نے حکم دیا ہے وہاں تقسیم کریں۔ پھر فرمایا ” ومکا آتاکم “ تم کو عطا کردیں ” الرسول “ فئی اور غنیمت میں سے۔ ” فخذوہ ومانھا کم عنہ “ مال غنیمت میں خیانت وغیرہ سے۔” فانتھوا “ اور ۔۔ اموال فئی کے بارے میں اترا ہے اور یہ عام ہے جس چیز کا بھی آپ (علیہ السلام) حکم دیں اور جس چیز سے بھی روک دیں۔ حضرت عبداللہ سے روایت ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے ہاتھ میں گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بالوں کو اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں میں خلا پیدا کرنے والیوں پر جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کرنے والیاں ہیں۔
تو یہ بات بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی اس کو ام یعقوب کہا جاتا تھا تو وہ آئی اور کہنے لگی مجھے آپ ؓ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ؓ نے ایسی ایسی عورت کو لعنت کی ہے تو آپ ؓ نے فرمایا اور مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں اس عورت کو لعنت نہ کروں جس کو رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے تو اس عورت نے کہا تحقیق میں نے دو تختیوں کے درمیان جو کچھ ہے اسے پڑھا ہے پس میں نے اس میں وہ نہیں پایا جو آپ ؓ کہہ رہے ہیں۔ آپ ؓ نے فرمایا البتہ اگر تم اس کو پڑھتی تو اس میں ضرور پاتی کیا تونے نہیں پڑھا ؟ ” وما آتاکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ فانتھوا “ اس نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ؓ نے فرمایا کہ تحقیق آپ ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ ” واتقواللہ ان اللہ شدید العقاب “ پھر ان کو بیان کیا جن کا فئی میں حق ہے۔
Ayah 59:98 ۔ پس فرمایا ” للفقراء المھاجرین الذین اخرجوا من دیارھم واموالھم یبتغون فضلا “ رزق ” من اللہ ورضوانا “ یعنی وہ دار ہجرت کی طرف نکالے گئے اللہ تعالیٰ کی رضا کو طلب کرنے کے لئے۔ ” وینصرون اللہ ورسولہ اولئک ۔۔۔۔۔ “ اپنے ایمان قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ مہاجرین لوگ جنہوں نے گھروں، اموال اور خاندانوں کو چھوڑا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں نکلے اور اسلام کو اختیار کیا ان سختیوں کے باوجود جن پر وہ تھے حتیٰ کہ ہمیں ذکر کیا گیا ہے ۔۔۔۔ اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا تاکہ بھوک سے اپنی پیٹھ کو سیدھا کرے اور آدمی سردیوں میں حفیرہ لے لیتا تھا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی لبادہ نہ ہوتا تھا۔ امیہ بن خالد بن عبداللہ بن اسید سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فقراء مہاجرین کے ذریعے فتح مانگا کیا کرتے تھے۔ ابوعبیدہ کہتے ہیں اسی طرح عبد الرحمن نے کہا ہے اور وہ میرے نزدیک امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے ابو سعید خدری ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :
اے فقراء مہاجرین ! خوش ہوجائو قیامت کے دن مکمل نور کے ساتھ تم مال دار لوگوں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور اس کی مقدار پانچ سو سال ہے۔
Ayah 59:109 ۔” والذین تبوالدار والایمان “ اور وہ انصار ہیں، ان کے اقامت کی، گھر کی اور وطن بنایا گھر کو یعنی مدینہ دار ہجرت ہو ایمان بنایا۔ ” من قبلھم “ یعنی وہ اپنے گھروں میں اسلام لائے اور ایمان کی ترجیح دی اور نبی کریم ﷺ کے آنے سے دو سال پہلے مسجدیں بنائیں اور آیت کی ترتیب ” والذین تبو وا الدار والایمان من قبلھم “ یعنی مہاجرین ان کے پاس آنے سے پہلے اور وہ ایمان لے آئے اس لئے کہ ایمان اقامت کی جگہ نہیں ہے۔ ” یحبون من ھاجر الیھم ولا یجدون فی صغوزھم حاجۃ “ گھٹن، غصہ اور حسد ۔ ” مما اوتوا “ یعنی جو مہاجرین ان کے بغیر مال فئی دیئے گئے اور یہ بیشک رسول اللہ ﷺ کے بنو نضیر کے اموال کو مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا اور انصار کو نہیں دیا تو انصار کے دل اس پر خوش ہوئے۔ ” ویرثرون علی انفسھم “ یعنی وہ اپنے مہاجر بھائیوں پر اپنے اموال اور رہائش گاہ کا ایثار کرتے ہیں۔ ” ولو کان بھم عصاصۃ “ فاقہ اور حاجب اس چیز کی جس کا وہ ایثار کررہے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے اموال اور گھر مہاجرین کو تقسیم کردیئے تھے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ (علیہ السلام) سے ضیافت طلب کی تو آپ (علیہ السلام) نے اپنی ازواج کے پاس پیغام بھیجا، کیا تمہارے پاس کچھ چیز ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہمارے پاس تو صرف پانی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون پلاتا ہے یا اس کی مہمانی کرتا ہے ؟ تو انصار میں ایک شخص نے کہا میں یارسول اللہ ! (ﷺ ) تو اس کو اپنی بیوی کے پاس لے گئے اور کہا تو رسول اللہ ﷺ کے مہمان کا اکرام کر، اس نے کہا ہمارے پاس تو صرف بچوں کے بقدر غذا ہے تو انصاری ؓ نے کہا تو کھانا تیار کر اور چراغ روشن کر اور بچوں کو سلا دینا جب ان کا رات کا کھانا کھانے کا ارادہ ہو تو اس نے کھانا تیار کیا اور چراغ روشن کردیا اور بچوں کو سلادیا، پھر کھڑی ہوئی چراغ کی روشنی کو ٹھیک کرنے اور اس کو بجھا دیا۔ پس وہ دونوں میاں بیوی اس کو یہ دکھاتے رہے کہ وہ بھی ساتھ کھا رہے ہیں تو وہ دونوں بھوکے سوگئے۔ پس جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا رات کو اللہ تعالیٰ کو ہنسی آگئی یا فرمایا تم دونوں کا فعل اس کو اچھا لگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انصار نے کہا تمہارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان کھجور کے درختوں کو تقسیم کردیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں تو انہوں نے کہا آپ ہمیں کار گزاری سے مستغنی کردیں اور ہم تمہیں پھل میں شریک کرلیں۔ انہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی۔ یحییٰ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک ؓ سے سنا جب ان کے ساتھ ولید کی طرف نکلے۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کو بلایا کہ ان کو بحرین دے دیا جائے تو انہوں نے کہا نہیں۔ مگر یہ کہ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اس کی مثل دیا جائے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا سن لو ! پس تم صبر کرو حتیٰ کہ تم مجھے حوض پر آکر ملو کیونکہ عنقریب تمہیں میرے بعد ترجیح پہنچے گی۔
اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نفیر کے دن انصار کو کہا اگر تم چاہو تو اپنے اموال اور گھر مہاجرین میں تقسیم کر دو اور ان کے ساتھ ان غنیمت میں شریک ہوجائو اور اگر تم چاہو تو تمہارے لئے تمہارے گھر اور تمہارے اموال ہوں۔ اور تمہارے لئے غنیمت سے کچھ تقسیم نہ کیا جائے تو انصار ؓ نے کہا بلکہ ہم ان کے لئے اپنے مال اور گھر تقسیم کردیتے ہیں اور ہم ان کو غنیمت میں ترجیح دیتے ہیں اور ان کے ساتھ شریک نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ویوثرون علی انفسھم وکان بھم خصاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “ اور الشح کلام عرب بخل کرنا اور فضل کو روکنا ہے۔
اور علماء رحمہم اللہ نے شح اور بخل میں فرق کیا ہے۔ روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو کیا کہ مجھے خوف ہوا کہ میں ہلاک ہوگیا ہوں تو آپ ؓ نے فرمایا اور یہ کہا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا قول سنا۔” ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “ اور میں بخیل آدمی ہوں، میرے ہاتھ سے کوئی چیز نہیں نکلتی تو عبداللہ ؓ نے فرمایا، یہ وہ شح نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے اور لیکن شح یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کے مال کو ظلماً کھاجائے اور لیکن یہ بخل ہے اور بخل بری چیز ہے۔
اور ابن عمر ؓ فرماتے ہیں ” شح “ یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنا مال روک لے۔ ” شح “ تو ہ ہے کہ آدمی کی آنکھ اس چیز کا لالچ کرے جو اس کی نہیں ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ” شح “ حرام کو لینا اور زکوٰۃ نہ دینا ہے اور کہا گیا ہے ” شح “ وہ شدید حرص (لالچ) ہے جو انسان کو حرام کاموں کے ارتکاب پر ابھارے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں جو شخص ایسی چیز نہ لے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو روکا ہے اور شح نے اس کو اس طرف نہ بلایا ہو کہ وہ اس چیز سے روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو اس نے اپنے آپ کو نفس کے شح سے بچا لیا۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ظلم سے ڈرو کیونکہ قیامت کے دن تاریکیاں ہوں گی اور شح (بخل) سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا، ان کو اس پر ابھارا کہ وہ اپنے خونوں اور حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کردیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک بندے کے پیٹ میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے اور شح اور ایمان ایک بندے کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔
Ayah 59:1110 ۔” والذین جاء وامن بعدھم “ یعنی تابعین اور وہ لوگ جو مہاجرین اور انصار کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ پھر ذکر کیا کہ وہ اپنے لیے اور جوان سے ایمان میں سبقت لے گئے ان کے لئے دعا کرتے ہیں۔ پس فرمایا ” یقولون ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا “ کینہ، حسد، بغض، ” للذین امنوا ربنا انک رئوف رحیم “ پس ہر وہ شخص جس کے دل میں صحابہ کرام ؓ میں سے کسی کے بارے میں کینہ ہو اور ان تمام پر رحمت نہ کرتا ہو تو وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مراد لیا ہے۔
اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو تین مرتبوں پر ترتیب دیا ہے مہاجرین، انصار اور تابعین جو مذکور صفات کے ساتھ موصوف ہوں پس جو تابعین (پیچھے آنے والوں) میں سے اس صفت پر نہ ہو تو وہ مومنین کی اقسام سے خارج ہوگا۔ ابن ابی لیلیٰ (رح) فرماتے ہیں لوگ تین مرتبوں پر ہیں مہاجرین اور ” والذین تبو وا الدار والایمان “ اور ” الذین جاء وامن بعدھم “ پس تو کوشش کر کہ تو ان مرتبوں سے نہ نکلے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں تمہیں اصحاب محمد ﷺ کے لئے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس تم نے ان کو برا بھلا کہا، میں نے تمہارے نبی ﷺ سے سنا وہ فرماتے تھے یہ امت نہیں جائے گی حتیٰ کہ اس کے آخری لوگ اس کے پہلے لوگوں پر لعنت کریں گے۔ مالک بن مغول کہتے ہیں عامر بن شرجیل شعبی (رح) نے فرمایا اے مالک ! یہود و نصاریٰ روافض پر ایک خصلت کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں۔ یہود سے سوال کیا گیا تمہارے دین کے بہتر لوگ کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب اور نصاریٰ سے سوال کیا گیا کہ تمہارے دین کے بہترین لوگ کون ہیں تو انہوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری اور روافض سے پوچھا گیا تمہارے دین کے بدترین لوگ کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا اصحاب محمد ( ﷺ )…(نعوذ باللہ) ۔ ان کو ان کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے ان کو برا بھلا کہا۔ پس تلوار ان پر قیامت کے دن تک تنی ہوئی ہے ان کا کوئی جھنڈا نہ اٹھے گا اور ان کے قدم نہ اٹھائیں گے اور ان کی قوت جمع نہ ہوگی جب بھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے خون بہا کر اور ان کی قوت بکھیر دیں گے اور ان کی محبت کو باطل کرکے مٹا دیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں ان گمراہ کرنے والی خواہشات سے بچائیں۔
مالک بن انس ؓ فرماتے ہیں جو شخص رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کسی سے بغض رکھتا ہے یا اس کے دل میں ان پر کوئی کینہ ہے تو اس کا مسلمانوں کے فئی میں کوئی حق نہیں ہے۔ پھر تلاوت کی ” ما افاء اللہ علی رسول من اھل القریٰ “ حتیٰ کہ اس آیت پر آگے۔ ” للفقراء المھاجرین والذین تبو و ا الدار والایمان واللذین ۔۔۔۔۔ من بعدھم “ اللہ تعالیٰ کے قول ” رئوف رحیم “ تک۔
Ayah 59:1211 ۔” الم ترالی الذین نافقوا “ یعنی انہوں نے اس کے خلاف ظاہر کیا جو چھپا رکھا ہے۔ یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی۔ ” یقولون لاخوانھم الذین کفروا من اھل الکتاب “ اور وہ بنور قریظہ اور نضیر کے یہود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو ان کا دین میں بھائی قرار دیا ہے۔ اس لئے کہ وہ ان جیسے کفار ہیں۔ ” لئن اخرجتم “ مدینہ سے۔ ” لنخرجن معکم ولا نطیع فیکم احدا “ جو ہم نے تمہارے رسوائی اور مخالفت کا سوال کرے۔ ” ابدا وان قوتلتم لننصرنکم واللہ یشھدانھم “ یعنی منافقین ” لکاذبون “
Ayah 59:1312 ۔” لئن اخرجوا لا یخرجون معھم ولئن قوتلوا لا ینصرونھم “ اور معاملہ اسی طرح ہوا ہے کیونکہ وہ اپنے گھروں سے نکالے گئے تو منافقین ان کے ساتھ نہیں نکلے اور ان سے لڑائی کی گئی تو منافقین نے ان کی مدد نہ کی۔ اللہ تعالیٰ کا وقول ” ولئن نصروھم لیولن الادبار “ یعنی اگر وہ ان کی مدد پر قادر ہوئے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے اگر انہوں نے یہود کی مدد کا ارادہ کیا تو شکست خوردہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ ” ثم لا ینصرون “ یعنی بنو نضیر مدد نہ کیے جائیں گے جب ان کے مددگار شکست کھا کر بھاگ جائیں گے۔
Ayah 59:1413 ۔” لاانتم “ اے مسلمانوں کی جماعت ! ” اشد رھبۃ فی صدورھم من اللہ “ ان کا رہب تمہارے لئے اتنا سخت نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کا رعب ان کے لئے۔ ” ذلک “ یہ خوف ” بانھم قوم لایفقھون “ اللہ کی عظمت کو نہیں جانتے۔
Ayah 59:1514” لا یقاتلونکم “ کفار اور منافق تم سے نہیں لڑیں گے۔ ” جمعیاً الا فی قری محصنۃ “ یعنی تمہارے مقابلے میں آکر تم سے نہیں لڑیں گے کیونکہ وہ تم سے سخت خوفزدہ ہیں۔ ” اومن وراء جدر “ بعض حضرات نے اس کو (جدار) پڑھا ہے۔ ” باسھم بینھم شدید “ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خوب لڑتے ہیں ان کی آپس میں دشمنی ہے۔ ” باسھم بینھم شدید “ کا بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ جب یہ اپنے قلعوں میں موجود ہوتے ہیں تو مضبوط ہوتے ہیں اور جب اپنے قلعوں سے نکل آتے ہیں تو اللہ کے دلوں میں بزدلی ڈال دیتا ہے۔ ” تحسبھم جمیعا وقلوبھم شتی “ ان کے دل جدا جدا ہیں۔ قتادہ (رح) کا بیان ہے کہ اہل باطل کی مختلف رائے اور مختلف گواہی ہوتی ہیں۔ اعمال ان کے مختلف ہوتے ہیں لیکن وہ سب اہل حق کے مقابلے میں ایک ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ منافقین کا دین یہود کے دین کے مخالف ہے۔ ” ذلک بانھم قوم لا یعقلون “۔
Ayah 59:1615 ۔” کمثل الذین من قبلھم “ یعنی یہود کی مثال ایسی ہے جو ان سے پہلے ہے۔ ” قریباً “ مشرکین مکہ کے قریب ” ذاقو اوباامرھم “ اس سے مراد بدر کے دن کا قتال ہے اور اس سے پہلے غزوہ بنی نضیر ہے۔ مجاہد (رح) اور ابن عباس (رح) کا قول ہے کہ ” کمثل الذین من قبلھم “ سے مراد بنی قینقاع ہے اور بعض نے کہا کہ بنو قریظہ کی مثال ایسی ہے جیسے بنی نضیر ” ولھم عذاب الیم “ پھر منافقین اور یہود سب کی مثال بیان کی ہے ان کو دھوکہ دینے میں۔
Ayah 59:1716 ۔” کمثل الشیطان “ منافقین کے غرور کی مثال اور بنو نضیر کی مثال شیطان کے رسواہونے کی طرح ہے۔ ” اذقال للانسان اکفر فلما کفر قال انی بری منک “۔
ایک راہب کا قصہ اور کفر پر اس کا انجام
ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ ایام فطرت (انقطاع نبوت کا زمانہ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک تھا) میں ایک راہب (تارک الدنیا درویش) تھا جس کو برصیصا کہا جاتا ہے۔ ستر برس تک یہ راہب اپنے عبادت خانہ میں اللہ کی عبادت کرتارہا، کبھی ایک لمحہ کے لئے اللہ کی نافرمانی نہیں کی اس کے سلسلہ میں ابلیس اپنی ساری تدبیریں کرکے عاجز آگیا مگر اس کو نہیں بہکا سکا۔ آخر ایک دن اس نے تمام خبیث شیطانوں کو جمع کیا اور کہنے لگا مجھے کوئی بھی اب تک ایسا نہ ملا جو برصیحا کے معاملہ میں میرا کام پورا کردیتا۔ حاضرین میں ایک شیطان ابیض (گورا شیطان) بھی تھا۔ یہ شیطان وہی تھا جو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ لگارہتا تھا اور جبرئیل (علیہ السلام) کی شکل میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے بھی آیا تاکہ برطریق وحی حضور ﷺ کے دل میں وسوسہ پیدا کرسکے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اس کو دھکے دے کر ہندوستان کے آخری حصہ تک بھگا دیا تھا۔
اس گورے شیطان نے ابلیس سے کہا میں آپ کا کام پورا کردوں گا۔ چناچہ وہ اس مجلس سے چلا اور راہبوں جیسا لباس پہنا اور وسط سر کے بال مونڈ کر برصیصا کے عبادت خانہ تک جا پہنچا اور (نیچے سے) برصیصا کو آواز دی، برصیصا نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ برصیصا دس دن میں صرف ایک دن نماز سے فارغ اور دس ہی دن میں صرف ایک دن روزناغہ کرتا تھا۔ گورے شیطان نے جب دیکھا کہ برصیصا نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا تو برصیصا کی خانقاہ کے نیچے ہی عبادت میں مشغول ہوگیا۔ عبادت سے (مقررہ وقت پر) فارغ ہوکر جب برصیصا نے اپنے عبادت خانے سے جھانک کر دیکھا تو گورے شیطان کو بہترین راہبانہ ہیئت میں نماز میں کھڑا ہوا پایا۔ یہ صورت دیکھ کر اس کا جواب نہ دینے پر اپنے دل میں پشیمانی ہوئی اور کہنے لگے آپ نے مجھے پکارا تھا مگر میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوا، آپ کو مجھ سے کیا کام ہے ؟ گورے شیطان نے کہا : میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے ساتھ مل کر عبادت کروں اور آپ کے علم و عمل سے بہرہ اندوزہوں اور ہم دونوں عبادت میں لگ جائیں۔ آپ میرے لئے دعا کریں اور میں آپ کے لئے دعا کروں اور میں آپ کے لئے دعا کروں۔ راہب نے کہا میں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوسکتا اگر تم مومن ہو تو میں عام مومنوں کے لئے جو دعا کرتا ہوں اگر وہ دعا خدا قبول فرمائے گا تو تم کو بھی ان میں شامل کردے گا۔ یہ کہہ کر برصیصا پھر نماز میں متوجہ ہوگیا اور گورے شیطان کو چھوڑدیا۔ گورا شیطان بھی نماز میں مشغول ہوگیا۔
برصیصا نے چلیس روز تک اس کی طرف کوئی التفات نہیں کیا (نماز میں مشغول رہا) چالیس روز کے بعد جب نماز سے فارغ ہوا تو گورے شیطان کو نماز میں کھڑا پایا۔ آخر شیطان کی اتنی سخت کوشش دیکھ کر برصیصا نے پوچھا تمہارا کیا مطلب ہے ؟ گورے شیطان نے کہا، میرا مقصد یہ ہے کہ آپ مجھے اجازت دے دیں۔ میں بھی اوپر آپ کے پاس آجائوں۔ برصیصا نے اجازت دے دی۔ گورا شیطان اوپر برصیصا کے پاس خانقاہ میں آگیا اور اس کے ساتھ ایک سال تک عبادت میں مشغول رہا۔ پورا چلہ ختم ہونے سے پہلے روزہ افطار (ناغہ) نہیں کرتا تھا اور نہ چالیس روز پورے ہونے سے پہلے نماز ختم کرتا تھا اور اکثر دو چلے بھی یونہی گزر جاتے تھے۔ برصیصا نے جب (عبادت میں) اس کی یہ محنت دیکھی تو خود اپنی ذات اس کو حقیر معلوم ہونے لگی اور شیطان کی حالت پر اس کو تعجب ہوا ۔ سال پورا ہوگیا تو گورے شیطان نے برصیصا سے کہا : اب میں جارہا ہوں کیونکہ آپ کے علاوہ میرا ایک ساتھی ہے تو میں اس کے پاس جائوں گا میرا خیال تو یہ تھا کہ آپ اس سے زیادہ عبادت گزار ہوں گے لیکن آپ کے متعلق جو کچھ میں نے سنا تھا آپ کی حالت اس سے غیر پائی۔ یہ بات سن کر برصیصا کو (اپنی محنت کے کم ہونے کی) شدید تکلیف ہوئی اور چونکہ شیطان امراض کی شدید ریاضت دیکھ چکا تھا اس لئے اسکی جدائی راہب پر شاق گزری۔ رخصت ہوتے وقت گورے شیطان نے برصیصا سے کہا مجھے کچھ دعائیں آتی ہیں، میں آپ کو وہ سکھاتا ہوں جس مشغلہ میں آپ ہیں وہ دعائیں اس سے بہتر ہیں۔ آپ ان کو پڑھ کر اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ بیمار کو شفا عطا کرے گا۔ دکھی کو سکھی کردے گا اور آسیب زدہ کو ٹھیک کردے گا۔
رصیصا نے کہا : مجھے یہ مرتبہ پسند نہیں، میرے لئے اپنا ہی مشغلہ (بہت کافی) ہے، مجھے ڈر ہے کہ جب لوگ اس کی خبر پائیں گے تو میری عبادت میں خلل انداز ہوجائیں گے، گورا شیطان برابر اصرار کرتا رہا۔ آخر راہب کو وہ دعائیں سکھا کے چھوڑا۔ اس کے بعد چلا گیا اور ابلیس سے جاکر کہا واللہ ! میں نے اس شخص کو تباہ کردیا، پھر یہاں سے واپس چلا گیا، راستہ میں ایک آدمی ملا۔ اس شیطان نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور طبیب کی ہیئت میں اس شخص کے گھر والوں سے جاکر کہا تمہارے ساتھی کو آسیب (یاجنون کا دورہ) ہے، کیا میں کا علاج کردوں ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! جاکر مریض کو دیکھا اور بولا اس پرچڑیل (جنات کی عورت) کا اثر ہے میں اس پر قابو نہیں پاسکتا، البتہ تم کو ایک ایسے آدمی کا پتہ بتاتا ہوں جو اللہ سے دعا کرکے اس کو اچھا کرسکتا ہے۔
غرض اس نے برصیصا کا پتہ بتادیا اور کہا تم اس کے پاس جائو۔ اس کے پاس اسم اعظم ہے جب وہ اسم اعظم لے کر دعا کرتا ہے تو اللہ قبول کرلیتا ہے۔ لوگ برصیصا کے پاس گئے اور اس سے دعا کرنے کی درخواست کی، اس نے انہی الفاظ سے دعا کردی جو گورے شیطان نے اس کو سکھائے تھے، فوراً مریض پر جس شیطان کا تسلط تھا وہ شیطان بھاگ گیا۔ گورے شیطان نے بہت سے لوگوں سے ایسی ہی حرکت کی اور برصیصا کا پتہ بتاتا رہا اور لوگ اچھے ہوتے رہے۔ ایک بار شیطان ابیض بنی اسرائیل کی کسی شہزادی پر اثر انداز ہوا۔ اس لڑکی کے تین بھائی تھے اور باپ بادشاہ تھا۔ بادشاہ مرگیا اور اپنے بھائی کو اپنا جانشین بنا گیا، لڑکوں کا چچا بادشاہ ہوگیا تو گورا شیطان اس شہزادی کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کو سخت اذیت دی اور گلا گھونٹ دیا، پھر اس کے بھائیوں کے پاس طبیب کی شکل میں آیا اور بولا : کیا تم چاہتے ہو کہ میں اس کا علاج کردوں ؟ ان لوگوں نے کہا : ہاں ! کہنے لگا ایک بڑا خبیث اس کے درپئے آزار ہے اور مجھ میں اس کو دور کرنے کی طاقت نہیں۔ البتہ ایک شخص کا میں پتہ بتاتا ہوں جس پر تم اعتماد رکھتے ہو، لڑکی کو اس کے پاس لے جائو، جب اس پر وہ خبیث آئے گا اور وہ شخص اس کے لئے دعا کرے گا تو لڑکی اچھی ہوجائے گی۔ تم کو یہ بات معلوم ہوجائے گی اور لڑکی کو بعافیت واپس لے آئو گے۔ لوگوں نے کہا : وہ کون شخص ہے ؟ گورے شیطان نے کہا برصیصا زاہد۔ شہزادوں نے کہا وہ ہماری بات کیسے مانیں گے ان کا مقام تو بہت بلند ہے، شیطان نے کہا اس کی خانقاہ کے برابر ایک اور عبادت خانہ تعمیر کرو ، اتنا اونچا کہ وہاں سے اس کی خانقاہ کے اندر جھانک سکو۔ پھر وہاں سے اپنا مقصد اس سے کہو۔ اگر مان لے تو خیر، نہ مانے تو اپنے تعمیر کردہ عبادت خانہ میں لڑکی کو چھوڑ آئو اور برصیصا سے کہہ دو ، یہ (تمہاری نگرانی میں) ہماری امانت ہے۔ بغرض ثواب اس کی نگرانی رکھنا۔
الحاصل شہزادے برصیصا کی طرف گئے اور اس سے درخواست کی لیکن اس نے انکار کردیا۔ شیطان کے مشورے کے مطابق شہزادوں نے راہب کی خانقاہ کے برابر ایک عبادت خانہ تعمیر کرادیا اور لڑکی کو اس میں رکھ دیا اور راہب سے کہا : یہ ہماری امانت ہے بغرض ثواب اس کی نگرانی رکھنا۔ یہ کہہ کہ واپس آگئے۔ جب (مقررہ ایام گزرنے کے بعد) برصیصا نے نماز ختم کی تو ایک حسین لڑکی پر نظر پڑی اور ایسی نظر پڑی کہ وہ لڑکی اس کے دل نشین ہوگئی اور اس پر بڑی مصیبت آگئی اس کے بعد شیطان نے آکر اس لڑکی کا گلا گھونٹ دیا۔ برصیصا نے اس کے لئے گورے شیطان کی بتائی ہوئی دعائیں کیں، شیطان اتر گیا۔ برصیصا نماز میں مشغول ہوگیا، شیطان نے آکر پھر اس کا گلا گھونٹ دیا۔ اس مرتبہ بیہوشی میں وہ اپنا ستر بھی کھولنے لگی، گورے شیطان نے آکر برصیصا سے کہا، اب تو اس پر جاپڑ، پھر توبہ کرلینا، اللہ گناہ معاف کرنے والا ہے، معاف کردے گا اور تیر ا مقصد پورا ہوجائے گا۔ ردوکد کے بعد برصیصا لڑکی پر جاپڑا اور اس کے بعد مسلسل لڑکی کے پاس جاتا رہا، آخر لڑکی حاملہ ہوگئی اور اس کا حمل نمایاں ہوگیا تو شیطان اس کے پاس آیا اور کہنے لگا : ارے برصیصا تو رسوا ہوگیا، اب مناسب یہ ہے کہ تو لڑکی کو قتل کردے، پھر توبہ کرلینا، اگر وہ لوگ پوچھیں تو کہنا اس کا جن اس کو لے گیا، مجھ میں بچانے کی قدرت نہیں تھی، برصیصا نے لڑکی کو قتل کردیا۔ پھر (رات کو) لے جاکر پہاڑی کے کنارے دفن کردیا۔
دفن کرتے وقت شیطان نے آکر لڑکی کی چادر کا ایک کونہ پکڑلیا۔ اس طرح چادر ایک گوشہ قبر کی مٹی سے باہر رہ گیا۔ برصیصا اپنی خانقاہ میں لوٹ آیا اور نماز میں مشغول ہوگیا، لڑکی کے بھائی اپنی بہن کی خبر گیری کے لئے آئے اور وہ دریافت حال کے لئے آتے رہتے تھے۔ انہوں نے آکر دریافت کیا، برصیصا ہماری بہن کیا ہوئی ؟ برصیصا نے جواب : شیطان آکر اس کو اڑا لے گیا اور مجھ میں بچانے کی قدرت نہیں تھی۔ ان لوگوں نے برصیصا کی بات پر یقین کرلیا، سب لوٹ آئے ۔ شام ہوئی تو بھائی غم زدہ تو تھے ہی سوتے میں شیطان نے بڑے بھائی سے خواب میں کہا کہ برصیصا نے تمہاری بہن کے ساتھ یہ حرکتیں کیں، پھر اس کو فلاں جگہ دفن کردیا۔ اس بھائی نے اپنے دل میں کہا یہ خواب ہے اور شیطانی خیال ہے برصیصا تو بہت بزرگ آدمی ہے وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ تین رات برابر شیطان اس کو یہی خواب دکھاتا رہا لیکن اس نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ آخر شیطان خواب میں منجھلے بھائی کے پاس گیا اور اسے بھی یہی بات کہی مگر اس نے بھی وہی خیال کیا جو بڑے بھائی نے کیا تھا اور کسی سے کچھ بیان نہیں کیا۔
آخر میں تیسرے بھائی کے پاس خواب میں جاکر شیطان نے یہی بات کہی اس نے اپنے دونوں بھائیوں سے یہ خواب بیان کردیا۔ منجھلے اور بڑے نے بھی اپنے خواب ظاہر کردیئے۔ پھر تینوں برصیصا کے پاس گئے اور کہا برصیصا ! ہماری بہن کیا ہوئی ؟ برصیصا نے کہا میں تو تم کو پہلے ہی بتاچکا ہوں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم مجھے تہمت زدہ کرنا چاہتے ہو۔ یہ بات سن کر شہزادوں کو اس سے شرم آئی اور کہنے لگے : ہم آپ کو تہمت نہیں دھرتے، یہ کہہ کر لوٹ آئے ، شیطان نے پھر (خواب میں آکر) ان سے کہا : ارے تمہاری بہن تو فلاں مقام پر دفن ہے اور اس کی چادر کا ایک گوشہ قبر کی مٹی سے اوپر نظر آرہا ہے، ان لوگوں نے جاکر دیکھا تو جیسا خواب میں دیکھا تھا ویسا ہی پایا، پھر تو مزدوروں اور غلاموں کو لے کر کسیوں اور کدالوں سے ان لوگوں نے برصیصا کی عبادت خانہ ڈھادیا اور اس کو عبادت خانہ سے اتار کر مشکیں کس کر بادشاہ کے پاس لے گئے۔ ادھر گورے شیطان نے برصیصا سے کہا (تو انکار نہ کرنا) اگر تو نے انکار کیا تو تجھ پر دو جرم عائد ہوجائیں گے ، قتل کا اور پھر انکار قتل کا، برصیصا نے اقرار کرلیا تو بادشاہ نے اس کو قتل کرنے اور سولی چڑھانے کا حکم دے دیا۔ سولی پر چڑھاتے وقت وہی گورا شیطان آیا اور برصیصا سے کہا : کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ برصیصا نے کہا نہیں، بولا میں وہی ہوں جس نے تجھے دعائیں سکھائی تھیں اور تیری دعائیں قبول ہوئیں، امانت میں خیانت کرتے تجھے خدا سے ڈر نہیں لگا۔ تیرا تو دعویٰ تھا کہ میں تمام بنی اسرائیل سے بڑھ کر عبادت گزار ہوں مگر تجھے شرم نہیں آئی۔ اسی طرح برابر شرم دلاتا رہا۔ پھر آخر میں کہنے لگا کیا جو کچھ تونے کیا وہی کافی نہ تھا کہ تونے اقرار جرم کرلیا اور خود اپنے کو بھی رسوا کیا اور اپنے جیسے دوسرے (عبادت گزار) لوگوں کو بھی رسوا کیا، اگر تو اسی حالت پر مرگیا تو تیری مثال دوسرے (عابد، زاہد) لوگ کبھی فلاح یاب نہیں ہوں گے (ہر ایک عابد کو لوگ مکار، دھوکہ باز کہیں گے) برصیصا نے پوچھا : تو اب میں کیا کروں ؟ کہنے لگا میری ایک بات مان لے اگر وہ بات مان لے گا تو میں تجھے موجودہ حالات سے بچا کرلے جائوں گا۔ میں لوگوں کی نظر بندی کردوں گا اور تجھے اس جگہ سے نکال لے جائوں گا۔ برصیصا نے پوچھا وہ کیا بات ہے ؟ کہنے لگا : بس مجھے سجدہ کرلے۔ برصیصا نے کہا : میں ایسا کرتا ہوں۔ شیطان نے کہا : برصیصا میرا مقصد پورا ہوا میں یہی چاہتا تھا، تیرا انجام یہی ہوا کہ تو کافر ہوگیا، اب میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔
” انی اخاف اللہ رب العلمین “ میں اللہ سے جو رب العالمین ہے ڈرتا ہوں، شیطان نے یہ بات محض دکھاوے کے لئے کہی (سچے دل سے نہیں کہی) کیونکہ خدا کا خوف شیطانوں کی سرشت میں ہی نہیں رکھا گیا ہے۔ اہل تفسیر کے بعض اقوال میں آیا ہے کہ الانسان سے جنس انسان مراد ہے اور جس طرح آمر اپنے مامور کو حکم دے کر کسی کام پر آمادہ کرتا ہے اسی طرح شیطان انسان کو کفر پر برانگیختہ کرتا ہے اور اس اندیشہ سے کہ انسان کے ساتھ (اغوا کرنے کا) اس پر عذاب نہ ہو قیامت کے دن یہ بات کہے گا۔