Ayah 58:1سورة المجادلہ
یہ سورة مدنی ہے اس میں 22 آیات اور 3 رکوع ہیں
Ayah 58:2خولہ بنت ثعلبہ کے حق میں آیت بالا کا نزول
تفسیر : یہ آیت حضرت اوس بن صامت کی بی بی حضرت خولہ بنت ثعلبہ کے حق میں نازل ہوئی۔ خولہ حسین تھیں اور اوس کے مزاج میں غصہ بہت تھا۔ ایک روز اوس نے خولہ سے قربت کرنی چاہی، خولہ نے انکار کردیا۔ اوس نے کہا تو میرے لئے ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت (کہنے کو غصہ میں کہہ دیا) پھر پشیمان ہوئے کیونکہ دور اسلامی سے پہلے ظہار اور ایلاء (عورت سے محدود ایام میں کنارہ کش رہنے کی قسم) کو طلاق سمجھا جاتا تھا اس لئے اوس بن صامت نے خولہ سے کہا میرے خیال میں تو میرے لئے حرام ہوگئی۔ خولہ نے کہا : واللہ ! یہ طلاق نہیں ہے یہ کہہ کر خولہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے سرکا ایک طرف کا حصہ دھورہی تھیں۔ خولہ نے آکر کہا یا رسول اللہ ! ( ﷺ ) میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھے نکاح اس وقت کیا تھا، جب میں جوان تھی، مال دار تھی اور کنبہ والی تھی۔ جب وہ میرا مال کھاچکا اور میری جوانی ختم کردی اور میرا کنبہ بھی بچھڑ گیا اور میں بوڑھی ہوگئی تو اب مجھ سے اس نے ظہار کرلیا لیکن ظہار کرنے کے بعد پشیمان ہوگیا، کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ میں اور وہ پھر یکجا ہوسکیں ؟
حضور ﷺ نے فرمایا : تو اس کے لئے حرام ہوگئی۔ خولہ نے کہا : میں اپنی محتاج اور تنہائی کا شکوہ اللہ سے کرتی ہوں، میرا اس کا ساتھ مدت دراز تک رہا اور میں نے اس کے لئے اپنا پیٹ جھاڑ دیا (یعنی اپنے پیٹ سے اس کے بہت بچے جنے) حضور ﷺ نے فرمایا : میرے خیال میں تو تو اس کے لئے حرام ہوگئی اور تیرے لئے کوئی خاص حاکم میرے پاس نہیں آیا۔ خولہ بار بار کلام کو لوٹتی پلٹتی رہی۔ آخر جب حضور ﷺ نے فرمایا کہ تو اس کے لئے حرام ہوگئی تو گفتگو سے رکی اور کہنے لگی میں اللہ ہی سے اپنی محتاجی اور بدحالی کا شکوہ کرتی ہوں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ اگر میں ان کو اپنے ساتھ رکھوں گی تو بھوکے رہیں گے اور اس کے پاس چھوڑوں گی تو تباہ ہوجائیں گے، پھر اوپر (آسمان کی طرف) سر اٹھا کر کہنے لگی : اے اللہ ! میں تجھ سے ہی شکوہ کرتی ہوں، اے اللہ ! (میرے لئے) اپنے نبی ﷺ کی زبان پر حکم نازل فرمادے۔ اسلام میں یہ پہلا ظہار تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جب رسول اللہ ﷺ کے سر کا دوسرا حصہ دھونے لگیں تو خولہ بولی اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ ) میں آپ ﷺ پر قربان، میرے معاملہ میں غور فرمائیے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : اپنی بات ختم کر اور جھگڑنا چھوڑ کیا تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو نہیں دیکھ رہی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی اترتی تھی تو اس وقت آپ ﷺ پر ایک اونگھ طاری ہوجاتی تھی۔ جب وحی (کی حالت) ختم ہوگئی تو حضور ﷺ نے فرمایا : اپنے شوہر کو بلالے۔ اوس ؓ آگئے تو آپ (علیہ السلام) نے آیات ” قد سمع اللہ قول التی…“ ان کو پڑھ کر سنائیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : بڑی خیر والا ہے وہ اللہ جس کی شنوائی تمام آوازوں کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں۔ میں گھر کے گوشے میں موجود تھی ۔ اس عورت کی کچھ گفتگو سن رہی تھی اور کچھ نہیں سن پائی تھی (مگر اللہ نے اس کی ساری گفتگو سن لی) اور آیت ” قد سمع اللہ “ نازل فرمادی۔
قول التی تجادلک۔ اس کا معنی ہے سخت لڑائی جھگڑا تحاور کما کا معنی ہے باہم کلام میں لوٹ پوٹ کرنا۔
(وتشتکی الی اللہ واللہ یسمع تحاور کما) اپنے کلام سے رجوع کرنے والا (ان اللہ سمیع بصیر) سمیع کا معنی ہے دوسرے کی مناجات کو سننے والا اور اس کی خشوع و خضوع و عاجزی کو سننے والے کو بصیر کہتے ہیں جو اس کی طرف شکایت کرے اس کے حالات کو دیکھنے والا پھر ظہار کی مذمت بیان کی۔
Ayah 58:3تفسیر : الذین یظاھرون منکم من نسائھم عاصم نے یظاہرون یاء کے ضمہ اور ظاء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس کے بعد الف ابن عامر، جعفر، حمزہ، کسائی وغیرہ نے یاء کے فتحہ اور ھا کے فتحہ کے ساتھ اور ظاء کی تشدید کے ساتھ۔ دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ ظاء اور ھاء کی تشدید بغیر الف کے (ماھن امھاتھم) جن کو انہوں نے جن کو اپنے لئے بیویاں مقرر کردی ہیں وہ حقیقت میں ان کی مائیں نہیں ہیں کہ مائوں کی طرح وہ حرام ہوں۔ (ان امھاتھم) نہیں ہیں ان کی مائیں مگر (الا الالی ولدنھم وانھم لیقولون منکرا من القول) جنہوں نے ان کو جنا۔ (وزورا) بمعنی جھوٹ۔ منکر۔ وان اللہ لعفو غفور اللہ تعالیٰ ان کے اس گناہ کو معاف کردیں گے جب وہ اس گناہ کا کفارہ ادا کردیں گے۔
ظہار کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے انت علی کظھرامی کہ تو میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے یا تو مجھ سے ہے وغیرہ اور اسی طرح کوئی کہے کہ تو میری ماں کے پیٹ کی طرح یا میری ماں کے سر کی طرح یا میری ماں کے ہاتھ کی طرح یا یہ کہے کہ تیرا پیٹ، سر، ہاتھ مجھ پر ایسے ہیں جیسا کہ مجھ پر میری ماں کے ہیں یا اپنی ماں کے اعضاء میں سے کسی عضو کے ساتھ تشبیہ دے تو ظہار ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اگر بیوی کو ماں کے پیٹ، ننگ، یاران کے ساتھ تشبیہ دے تو ظہار ہوگا اور اگر دوسرے کسی عضو سے تشبیہ تو ظہار نہیں ہوگا ۔ جیسے اگر کسی نے کہا کہ تو میری ماں کی طرح ہے یا امی کی روح کی طرح ہے اس سے مراد اعزاز و اکرام لے تو ظہار نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر وہ اپنی دادی کے ساتھ تشبیہ دے جیسے کہ وہ کہے کہ تو میری دادی کی پیٹھ کی طرح ہے تو یہ ظہار ہوگا اور اگر اس ایسی عورت کے ساتھ تشبیہ دینا جو شوہر کے لئے حرمت ابدیہ ہو تو بھی ظھار ہوگا۔ جیسے وہ یہ کہے انت علی کظھر اختی کہ تو میری بہن کی پیٹھ کی طرح ہے یا میری پھوپھی یا خالہ کی پیٹھ کی طرح ہے۔
Ayah 58:43 ۔” والذین یظاھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالواتحریر رقبۃ “ پھر ظہار کا حکم یہ ہے کہ خاوند پر اسی سے وطی کرنا حرام ہوجاتا ہے ظہار کے بعد جب تک کفار ہ نہ دے اور کفارہ ظہار کے بعد لوٹنے (جماع) کی وجہ سے واجب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ثم یعودون لما قالواتحریر رقبۃ “ کی وجہ سے۔ اور اہل علم کا العود کی تفسیر میں اختلاف ہوا ہے۔ پس اہل ظاہر کہتے ہیں یہ حفظ ظہار کو لوٹانا ہے اور یہی ابوالعالیہ (رح) کا قول ہے۔
ثم یعودون لما قالوا کی تفسیر
اور فرمایا ” ثم یعودون لما قالوا “ یعنی ” الی ماقالوا “ یعنی دوسری مرتبہ اس بات کا اعادہ کریں۔ پس اگر لفظ کا تکرار نہ کریں تو کوئی کفارہ نہیں ہے اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ کفارہ نفس ظہار کی وجہ سے واجب ہوجائے گا اور آیت میں عود سے مراد اس کی طرف لوٹنا ہے جس پر وہ جاہلیت میں ظہار کے معاملہ میں تھے اور یہ مجاہد اور ثوری رحمہما اللہ کا قول ہے اور ایک قوم نے کہا ہے عود سے مراد وطی کرنا ہے اور یہ حسن، قتادہ، طائوس اور زہری رحمہم اللہ کا قول ہے اور ان حضرات نے کہا ہے اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے جب تک اس سے وطی نہ کرے۔
اور ایک قوم نے کہا ہے وطی (ہمبستری) کا پختہ ارادہ کرنا ہے اور یہی امام مالک (رح) اور اصحاب رائے کا قول ہے اور امام شافعی (رح) اس طرف گئے ہیں کہ عودیہ ہے کہ ظہار کے بعد ایک مدت اس کو روکے رکھے اس کی قدرت ہو کہ اس سے جدا ہوجائے لیکن ایسا نہ کرے۔ پس اگر اس کو ظہار کے بعد اس حال میں طلاق دے دی۔ ان دونوںں میں سے کوئی اسی وقت میں مرگیا تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ قول کی طرف عود مخالفت کرنا ہے اور ابن عباس ؓ نے عود کی تفسیر ندامت سے کی ہے۔ پس فرماتے ہیں وہ شرمندہ ہوں پھر محبت کی طرف لوٹیں اور اس کا معنی یہ ہے۔
فرائؒ فرماتے ہیں کہا جاتا ہے عاد ” فلان لما قال “ یعنی ” فیما قال وفی نقض ماقال “ یعنی جو کہا ہے اس سے رجوع کرے اور یہ وہی بیان کرتا ہے جو امام شافعی (رح) نے کہا ہے اور وہ یہ کہ اس کا ظہار کا ارادہ کرنا اس کو حرام کرنا ہے۔ پس جب اس کو نکاح پر روک لیا تو اس نے اپنے قول کی مخالفت کی اور جو کہا تھا اس سے رجوع کرلیا تو اس کو کفارہ لازم ہوگا حتیٰ کہ فرمایا اگر اپنی اس بیوی سے ظہار کیا جس کو طلاق رجعی دی ہے تو اس کا ظہار منعقد ہوجائے گا اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے حتیٰ کہ اس سے رجوع کرلے۔ پس اگر اس سے رجوع کرلیا تو یہ عود کرنے والا ہوگا اور اس کو کفارہ لازم ہوگا۔
ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کرنے سے دہرا کفارہ آئے گا
اللہ تعالیٰ کا قول ”تحریر رقبۃ من قبل ان یتماسا “ اور لماس سے جماع کرنا مراد ہے۔ پس ظہار کرنے والے کے لئے اپنی اس بیوی سے وطی کرنا حلال نہیں ہے جس سے ظہار کیا ہو جب تک کفارہ نہ دے۔ علاوہ ازیں کہ کفارہ دینے کا ارادہ اعتاق کے ذریعے ہو یاروزوں یا کھانا کھلانے کے ذریعے اور امام مالک (رح) کے نزدیک اگر کھانا کھلانے کے ذریعے کفارہ دینے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے اس سے پہلے وطی کرنا جائز ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آزادی اور روزے میں جماع سے پہلے کی قید لگائی ہے اور کھانا کھلانے کے بارے میں فرمایا ہے ” فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا “ اور یہ نہیں فرمایا ” من قبل ان یتماسا “ اور دیگر حضرات کے نزدیک اطعام (کھانا کھلانے میں) آیت کا مطلق ہونا عتق اور روزے میں مقید حکم پر محمول کیا جائے گا اور وطی کے علاوہ بوسہ اور لذت حاصل کرنے وغیرہ کے بارے میں اختلاف ہوا ہے کہ کفارہ سے پہلے یہ حرام ہیں یا نہیں۔ پس اکثر حضرات اس طرف گئے ہیں کہ وطی کے علاوہ افعال حرام نہیں ہیں اور یہی حسن اور سفیان ثوری رحمہما اللہ اور امام شافعی (رح) کا زیادہ ظاہر قول ہے جیسا کہ حیض وطی کو حرام کرتا ہے نہ کہ سارے منافع کو۔
اور ان میں سے بعض اس طرف گئے ہیں کہ یہ بھی حرام ہیں اس لئے کہ لمس کا اسم سب کو شامل ہے اور اگر ظہار کرنے والے نے کفارہ سے پہلے جماع کرلیا تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا اور کفارہ اس کے ذمہ میں ہوگا اور اس کے لئے دوبارہ جماع کرنا جائز نہ ہوگا جب تک کفار نہ دے اور جماع کی وجہ سے دوسرا کفارہ واجب نہ ہوگا اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب کفارہ دینے سے پہلے بیوی سے جماع کرلے تو اس پر دو کفارے ہیں اور ظہار کا کفارہ ترتیب وار ہے۔ اس پر واجب ہے مومن گردن کو آزاد کرنا۔ پس اگر یہ نہ پائے تو اس پر دو مہینے لگاتار روزے رکھنا لازم ہے۔ پس ایک دن جان بوجھ کر یا نیت بھولنے کی وجہ سے روزہ چھوڑ دے تو اس پر نئے سرے سے دو مہینے کے روزے لازم ہوں گے۔ پس اگر روزے رکھنے سے عاجز ہوجائے تو اس پر واجب ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور تحقیق ہم نے سورة المائدہ میں وہ مقدار ذکر کردی ہے جو مسکین کو کھلائے گا۔ ” ذلکم توعظون بہ “ اس کا حکم دیئے جاتے ہو۔ ” واللہ بما تعملون خبیر “
Ayah 58:5کفارہ ظہار میں روزوں کا حکم
4 ۔” فمن لم یجد “ یعنی گردن کو۔ ” فصیام شھرین متتابعین من قبل ان یتماسا “ پس اگر اس کے پاس غلام ہو لیکن وہ اس کی خدمت کا محتاج ہو یا اس کے پاس غلام کی قیمت ہو لیکن وہ ان کا محتاج ہو اپنے اور گھر والوں کے خرچ کے لئے تو اس کے لئے جائز ہے کہ روزے کی طرف منتقل ہوجائے اور امام مالک (رح) اور اوزاعی (رح) فرماتے ہیں اس کو غلام آزاد کرنا ہی لازم ہوگا جب اس کے پاس غلام ہو یا اس کی قیمت ہو۔ اگرچہ اس کا محتاج ہی کیوں نہ ہو اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں اگر اس کے پاس غلام موجود ہے تو اس پر اس کو آزاد کرنا واجب ہے۔ اگرچہ وہ اس کا محتاج ہی کیوں نہ ہو اور اگر اس کے پاس غلام کی قیمت ہے اور وہ اس کا محتاج بھی ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ روزہ رکھے۔ پس اگر مظاہر دو مہینے کے روزے رکھنا شروع ہوگیا، پھر مہینے کے درمیان میں جماع کرلیا، رات کو تو اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جماع کو کفارہ پر مقدم کرنے کی وجہ سے لیکن اس پر دو مہینوں کے روزے ازسرنو رکھنے لازم نہ ہوں گے اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس پر دو مہینوں کے روزے از سر نو واجب ہوں گے۔
کفارہ ظہار میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم
” فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا “ یعنی ظہار کرنے والا جب کسی مرض یا بڑھاپے یا ایسی شدت شہوت جس کی وجہ سے جماع سے نہ رک سکے ان وجوہ سے روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر واجب ہے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ خولہ بنت ثعلبہ اوس بن صامت کے نکاح میں تھیں تو انہوں نے اس سے ظہار کرلیا اور اوس ؓ کو تھوڑی سی دیوانگی تھی تو خولہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا اوس نے مجھ سے ظہار کیا ہے اور ذکر کیا کہ ان کو تھوڑی سی دیوانگی ہے اور کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ (علیہ السلام) کے پاس صرف اس پر شفقت کی وجہ سے آئی ہوں کیونکہ ان کے مجھ میں کئی منافع ہیں تو قرآن ان دونوں کے بارے میں نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو اس کو حکم دے کہ وہ غلام آزاد کرے۔ انہوں نے کہا جس ذات نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کی قسم ! نہ اوس کے پاس غلام ہے اور نہ اس کی قیمت۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اس کو حکم دے کہ وہ دو مہینے لگاتار روزے رکھے۔ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ (علیہ السلام) ان کو تین دن کے روزوں کا حکم دیں تو وہ اس پر بھی قادر نہیں ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اس کو حکم دے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے وہ اس پر بھی قادر نہیں ہے۔
آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اس کو حکم دے کہ وہ فلاں بن فلاں کے پاس جائے اس نے مجھے خبر دی ہے کہ اس کے پاس صدقہ کی کھجوروں کا حصہ ہے پس اوس وہ کھجوریں اپنے اوپر صدقہ کے لئے قبول کرے اور پھر ان کے ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کردے۔ سلمہ بن صخر سے روایت ہے فرماتے ہیں میں ایسا شخص تھا عورتوں سے وہ پہنچنا تھا جو میرے علاوہ کوئی نہ پہنچتا تھا۔ پس جب رمضان کا مہینہ داخل ہوا تو مجھے خوف ہوا کہ میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھوں گا تو میں نے اس سے ظہار کرلیا حتیٰ کہ رمضان کا مہینہ ختم ہوگیا۔ پس اسی اثناء میں وہ ایک رات مجھ سے بات کررہی تھی جب میرے لئے اس سے کچھ کھل گیا تو میں صبر نہیں کرسکا اور جماع کرلیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ (علیہ السلام) کو خبر دی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو نے یہ کیا ؟ میں نے کہا جی میں نے یہ کیا یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، میں نے کہا جی میں نے ایسا کیا، اب میں حاضر ہوں، میرے بارے میں اللہ کا فیصلہ جاری کریں، میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔
آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو گردن آزاد کر تو میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مارا اور کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس کے علاوہ کسی کا مالک نہیں ہوں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا پھر تو دو مہینے لگاتارروزے رکھ ، پس میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے یہ جو معاملہ پیش آیا ہے صرف روزوں کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ میں نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے رات بھوکے گزاری ہے ، ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو بنوزریق کے صاحب صدقہ کے پاس چلا جا اس کو کہہ وہ تجھے دے پھر تو اس میں سے ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو اپنی طرف سے کھلا، پھر باقی سے اپنے اور اپنے گھر والوں پر مدد طلب کر۔ فرماتے ہیں پھر میں اپنی قوم کی طرف لوٹا اور میں نے کہا میں نے تمہارے پاس تنگی اور برے مشورے پائے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس وسعت اور برکت پائی۔ حضور ﷺ نے میرے صدقات کا حکم دیا ہے۔ پس تم وہ مجھے دیدو۔ فرماتے ہیں انہوں نے وہ ان کو دے دیئے۔ ” ذلک لتومنوا باللہ ورسولہ “ تاکہ جو رسول اللہ ﷺ سے لائے ہیں تم اس کی تصدیق کرو۔ ” وتلک حدود اللہ “ یعنی جو ظہار کے کفارے بیان کیے۔ ” وللکافرین عذاب الیم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے لئے جو اس کا انکار کرے اور تکذیب کرے۔
Ayah 58:65 ۔” ان الذین یحادون اللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دشمنی کرتے اور ان کے امر کی مخالفت کرتے ہیں۔ ” کیتوا “ ذلیل ورسوا کیے گئے اور ہلاک کیے گئے ” کما کبت الذین من قبلھم وقد انزلنا “ آپ (علیہ السلام) کی طرف۔ ” آیات بینات وللکافرین عذاب مھین “
Ayah 58:76 ۔” یوم یبعثھم اللہ جمیعا فینبتھم بما عملوا احصاہ اللہ “ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو یاد کیا ہے۔ ” ونسوہ واللہ علی کل شیء شھید۔
Ayah 58:87 ۔” الم تران اللہ یعلم مافی السموات ومافی الارض مایکون “ ابوجعفر (رح) نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے النجوی کے مونث ہونے کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے درمیان میں فاصلہ ہونے کی وجہ سے۔” من نجویٰ ثلاثۃ “ یعنی تین کی سرگوشی یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جس کی آدمی اپنے ساتھیوں سے سرگوشی کرے۔ ” الاھورا بعھم ، علم کے ذریعے۔ اور کہا گیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ تین سرگوشی کرنے والے نہیں ہوتے جو آپس میں سرگوشی کریں مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے علم کے ساتھ ان کی سرگوشی کو جانتا ہے ولا خمسۃ الاھود سادسھم اور نہ ہی پانچ مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے۔ ” ولا ادنیٰ من ذلک ولا اکثر الاھو معھم اینما کانوا “ یعقوب (رح) نے اکثر کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے من کے داخل ہونے سے پہلے کلام کے محل پر۔ ” ثم ینبئھم بما عملوا یوم القیامۃ ان اللہ بکل شیء علیم “۔
Ayah 58:98 ۔” الم ترالی الذین نھوا عن النجویٰ “ یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ وہ آپس میں سر گوشیاں کرتے تھے اور مومنین کی طرف دیکھتے تھے اور آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے مسلمانوں کو یہ وہم دلاتے تھے کہ وہ آپس میں ایسی سرگوشی کررہے ہیں جو ان کو تکلیف پہنچائے گا۔
پس وہ اس وجہ سے غمگین ہوتے تھے اور کہتے تھے ہمارا خیال ہے کہ ان کو ہمارے ان بھائیوں کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے جو جہاد میں زخمی ہوگئے کہ یا تو وہ قتل کردیئے گئے ہیں یا مرگئے ہیں یا شکست کھاگئے ہیں تو یہ بات مسلمانوں کے دلوں میں بیٹھ گئی اور ان کو غمگین کردیا۔ جب یہ بات کافی عرصہ رہی اور اکثر ہونے لگی تو مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کو شکایت کی تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کے بغیر سر گوشیاں نہ کیا کریں لیکن وہ اس سے باز نہ آئے اور اپنی سرگوشیوں کی طرف لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” الم ترالی الذین نھوا عن النجویٰ “ یعنی باہم سر گوشیوں سے۔ ” ثم یعودون لما نھوا عنہ “ یعنی باہم سر گرشیوں کی طرف لوٹتے ہیں جن سے روکے گئے ہیں ” ویتناجون “ اعمش اور حمزہ رحمہما اللہ ” ینتجون “…” یفتعلون “ کے وزن پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” ویتناجون “ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” اذا لنا جیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول “ کی وجہ سے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ان کو سرگوشی سے منع کیا تھا تو انہوں نے آپ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی۔
” واذا جائوک حیوک بمالم یحیک بہ اللہ “ یہ اس وجہ سے کہا کہ یہود نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آتے تھے اور ” ویقولون “ السام علیک اور السام بمعنی موت ہے اور وہ ہم یہ دلاتے تھے کہ وہ السلام علیکم کہہ رہے ہیں اور نبی کریم ﷺ ان کو جواب دیتے ہوئے فرماتے تھے علیکم، پھر جب وہ مجلس سے نکلتے تو کہتے ” فی انفسھم لو لا یعذبنا اللہ بما تقول “ ان کی مراد یہ تھی کہ اگر یہ نبی برحق ہوتے تو ہمارے اس قول کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دے دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” حسبھم جھنم یصلونھا فبئس المصیر “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ۔۔۔۔۔ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے السام علیک آپ ﷺ نے فرمایا وعلیکم تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا ” السام علیکم ولعنکم اللہ و غضب علیکم “ تم پر موت ہو اور تم پر اللہ کی لعنت و غضب ہو تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹھہر جائو۔ اے عائشہ ! ؓ تجھ پر لازم ہے نرمی اور تو بچ سختی اور فحش گوئی سے۔ عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا کیا آپ ﷺ نے نہیں سنا جو انہوں نے کہا ؟
آپ ﷺ نے فرمایا کیا تونے نہیں سنا جو میں نے کہا میں نے ان کی بددعا ان پر لوٹا دی۔ پس میری دعا ان کے لئے قبول کی گئی اور ان کی بددعا میرے بارے میں قبول نہیں کی گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنین کو آپس میں سر گوشیاں کرنے سے ۔۔ منافقین اور یہود کے فعل کی طرح۔
Ayah 58:109 ۔” یایھا الذین امنوا اذا تنا جیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول “ یعنی منافقین اور یہود کے فعل کی طرح اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے قول ” امنوا “ سے منافقین مراد ہیں یعنی وہ اپنی زبانوں سے ایمان لائے۔ عطائؒ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اپنے گمان کے مطابق۔ ان کو کہا تم گناہ اور سرکشی اور رسول اللہ ﷺ کی معصیت کی سرگوشی نہ کرو۔ ” وتناجوا بالبر والتقویٰ واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون “۔
Ayah 58:1110 ۔” انما النجویٰ من الشیطان “ یعنی شیطان کے مزین کرنے سے۔ ” لیحزن الذین امنوا “ یعنی شیطان ان کے لئے یہ مزین کرتا ہے تاکہ وہ مومنین کو غمگین کریں۔
” ولیس “ باہم سر گوشی کرنا۔ ” بضارھم شیئا “ اور کہا گیا ہے شیطان ان کو نقصان دینے والا نہیں ہے۔ ” الا باذن اللہ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون “ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم تین ہو تو دو شخص تیسرے کے بغیر سرگوشی نہ کریں مگر اس کی اجازت کے ساتھ کیونکہ یہ بات اس کو غمزدہ کرے گی۔
Ayah 58:12تفسحوا فی المجلس فافسحوا کی تفسیر
11 ۔” یایھا الذین امنوا اذاقلیل لکم تفسحوا فی المجالس فافسحوا “ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ مہاجرین و انصار میں سے اہل بدر کا اکرام کرتے تھے۔ پس ان میں سے کچھ لوگ آئے ایک دن اور وہ مجلس میں سبقت کیے گئے تھے تو وہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور آپ (علیہ السلام) پر سلام کیا۔ آپ (علیہ السلام) نے ان کو جواب دیا پھر انہوں نے جماعت پر سلام کیا، انہوں نے بھی جواب دیا پھر وہ اپنے پائوں پر کھڑے رہ گئے، اس کا انتظار کرتے رہے کہ ان کے لئے مجلس میں وسعت کی جائے گی لیکن ان کی جگہ نہ بنائی گئی حتیٰ کہ یہ بات نبی کریم ﷺ پر گراں ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے اردگرد والے کو کہا اے فلاں ! تو اور اے فلاں تو کھڑے ہوجائو تو مجلس سے اتنے لوگ اٹھادیئے جتنے آپ ﷺ کے سامنے اہل بدر میں سے کھڑے تھے۔ تو یہ بات ان لوگوں پر گراں گزری جو مجلس سے کھڑے کیے گئے اور نبی کریم ﷺ نے ان کے چہروں سے ناگواری کو پہچان لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
اور کلبی (رح) فرماتے ہیں یہ ثابت بن قیس بن شماس ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور تحقیق ہم نے ان کا قصہ سورة الحجرات میں ذکر کردیا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ لوگ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں خوب رغبت کرتے تھے اور جب کسی کو دیکھتے کہ وہ ان کے پاس آیا ہے تو اپنی جگہ پر بخل کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک دوسرے کے لئے مجلس میں کشادگی کردیا کریں اور کہا گیا ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” یایھا الذین امنوا اذا قیل لکم تفسحوا “۔ یعنی مجلس میں کشادگی کرو۔
حسن اور عاصم رحمہما اللہ نے فی المجالس پڑھا ہے اس لئے کہ ہر ایک مجلس (بیٹھنے کی جگہ) پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا معنی ہے چاہیے ہر شخص اپنی جگہ میں گنجائش بنائے اور دیگر حضرات نے ” فی المجلس “ پڑھا ہے۔ واحد کا صیغہ اس لئے کہ اس سے مراد نبی کریم ﷺ کی مجلس ہے۔ ” فافسحوا “ یعنی تم وسعت دو ۔ کہا جاتا ہے ” فسبح یفسح فسحا “ جب مجلس میں وسعت دے۔ ” یفسح اللہ لکم “ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت کو وسعت دیں گے اور اس میں مجالس کو۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنی مجلس سے نہ اٹھے گا وہ اس کا اس میں نائب بن جائے لیکن تم کشادگی کرو اور وسعت دو ۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن کھڑا نہ کرے لیکن چاہیے کہ وہ کہے کشادگی کرو اور ابو العالیہ قرظی اور حسن عنہم اللہ فرماتے ہیں یہ جنگ کی مجالس اور قتال کی نشتوں کے بارے میں ہے۔ آدمی قوم کے پاس آتا تھا صف میں پھر کہتا تھا کشادگی کرو وہ انکار کردیتے تھے ان کے قتال پر حریص ہونے اور شہادت میں رغبت رکھنے کی وجہ سے۔ ” واذاقیل انشزوافانشزوا “
اہل مدینہ اور اہل شام اور عاصم رحمہم اللہ نے شین کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ان دونوں کی زبر کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ یعنی تم اٹھ جائو۔ کہا گیا ہے تم اپنی جگہوں سے اٹھ جائو حتیٰ کہ اپنے بھائیوں کے لئے وسعت کرو۔ عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں لوگ نماز سے بوجھل ہوتے تھے جب نماز کے لئے پکارے جاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ اس کا معنی جب نماز کے لئے پکارا جائے تو اس کے لئے کھڑے ہوجائو اور مجاہد اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کا معنی جب تمہیں کہا جائے تم نماز اور جہاد کے لئے کھڑے ہوجائو اور ہر خیر و حق کی مجالس کی طرف تو ان کے لئے کھڑے ہوجائو اور کوتاہی نہ کرو۔ ” یرفع اللہ الذین امنوا منکم “ ان کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے کی وجہ سے اور اپنی مجالس سے کھڑا ہونے اور اپنے بھائیوں کے لئے وسعت دینے کی وجہ سے۔
” والذین اوتوا العلم “ مومنین میں سے اپنے علم کے فضل اور مسابقت کی وجہ سے۔ ” درجات “ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اس کے رسول ﷺ نے جو حکم دیا ہے وہ درست ہے اور ان مومنین کو ثواب دیا جائے جنہوں نے اس امر پر عمل کیا اور اہل بدر کی جماعت اس اکرام کے مستحق تھے جو ان کے ساتھ کیا گیا۔ ” واللہ بما تعملون خبیر “ حسن (رح) فرماتے ہیں ابن مسعود ؓ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا اے لوگو ! اس آیت کو سمجھ لو اور ہم تمہیں علم میں ترغیب دیتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے…
” یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات “ مومن عالم غیر عالم سے کئی درجات اوپر ہوگا۔ کثیر بن قیس کہتے ہیں میں حضرت ابوالدرداء ؓ کے پاس بیٹھا تھا دمشق کی مسجد میں، پس ایک شخص آیا اور کہا اے ابوالدرداء میں آپ ؓ کے پاس رسول اللہ ﷺ کے مدینہ سے آیا ہوں۔ ایک حدیث کی وجہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ اس کو رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ ابوالدرداء ؓ نے کہا تجھے اس کے علاوہ کوئی اور حاجت نہ تھی ؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ ؓ نے کہا اور نہ تو تجارت کے لئے آیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ ؓ نے کہا اور تو صرف اسی میں رغبت کی وجہ سے آیا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں۔
فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا جو شخص ایسا راستہ چلے جس میں علم کو تلاش کرتا ہو، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستوں میں سے ایک پر چلائیں گے اور بیشک فرشتے اپنے پر رکھتے ہیں طالب علم کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور بیشک تمام آسمان اور زمینیں اور مچھلیاں پانی میں اس کے لئے دعا کرتی ہیں اور بیشک عالم کی عابد پر فضیلت ایسے ہے جیسے چودھویں رات کے چان کی تمام ستاروں پر اور بیشک علماء انبیاء (علیہم السلام) کے وارث ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) دینار اور درہم کے وارث نہیں بناتے وہ تو علم کا وارث بناتے ہیں۔ پس جس نے اس کو لیا پس تحقیق اس نے وافر حصہ کو لیا۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر دو مجلسوں پر ہوا آپ ﷺ کی مسجد میں۔ دو مجلسوں میں سے ایک اللہ تعالیٰ کو پکار رہے تھے اور اس کی طرف رغبت کررہے تھے اور دوسرے فقہ سیکھ رہے تھے اور سکھا رہے تھے۔ فرمایا دونوں مجلسیں خیر پر ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے افضل ہے۔ بہرحال یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں اور اس کی طرف رغبت کررہے ہیں۔ پس اگر تو چاہے تو ان کو دے اور اگر چاہے تو منع کردے اور بہرحال یہ لوگ پس فقہ سیکھ رہے ہیں اور جاہل کو سکھا رہے ہیں۔ پس یہ لوگ افضل ہیں اور میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں پھر ان میں بیٹھ گئے۔
Ayah 58:13تین اشخاص ہوں تو ان میں سے دو کو سر گوشی کرنے کا کیا حکم ہے
12” یایھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم “ اپنی سرگوشی کے آگے ” صدقہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اس وجہ سے کہا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کثرت کردی تھی کہ آپ (علیہ السلام) پر گراں گزرا تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ اپنے نبی (علیہ السلام) پر تخفیف کردیں اور ان کو اس سے روک دیں۔ پھر ان کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیں اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں یہ مال داروں کے کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آتے تھے تو کثرت سے سرگوشی کرتے تھے اور فقراء پر مجلس میں غالب آجاتے تھے۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی طول مجلس اور سرگوشیوں کو ناپسند سمجھا۔ پس جب انہوں نے یہ دیکھا تو اپنی سرگوشی سے باز آگئے۔ بہرحال تنگدست لوگ کہ انہوں نے کچھ نہ پایا اور مال دار لوگ تو وہ بخیل ہوگئے اور یہ بات نبی کریم ﷺ کے اصحاب پر سخت گراں ہوئی تو رخصت نازل ہوئ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ان کو سرگوشی سے روکا گیا حتیٰ کہ وہ صدقہ کریں۔ پس آپ (علیہ السلام) سے صرف حضرت علی ؓ نے سرگوشی کی۔ پہلے ایک دینار کا صدقہ کیا اور آکر سرگوشی کی۔ پھر رخصت نازل ہوگئی تو حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے ایک آیت اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس پر روایت کیا گیا ہے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے بلایا، پھر فرمایا کیا تو دینار کو نہیں دیکھتا ؟
میں نے کہا وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر کتنا ؟ میں نے کہا ایک ” حبۃ “ (دانا) یا ایک آیت نازل ہوئی ” ء اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواکم صدقات “ حضرت علی ؓ نے فرمایا پس میری وجہ سے تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کی ہے۔ ” ذلک خیرلکم “ یعنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دینا۔ ” واطھر فان لم تجدوا فان اللہ غفوررحیم “ یعنی وہ فقراء جن کے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ان سے معاف ہے۔
Ayah 58:1413 ۔” ا اشفقتم ان تقدموا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کیا تم بخیل ہوگئے ؟ اور معنی یہ ہے کہ کیا تم فقر اور فاقہ سے ڈر گئے، اگر تم پہلے صدقہ دو تو ؟” بین یدی نجواکم صدقات فاذلم تفعلوا “ جو تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ” وتاب اللہ علیکم “ تم سے درگزر کیا اور تم پر صدقہ چھوڑنے کا عقاب نہیں کیا اور کہا گیا ہے وائو صلہ ہے اس کا مجاز ” فان لم تفعلوا اوتاب اللہ علیکم “ تم سے تجاوز کیا اور تم سے تخفیف کی اور صدقہ کو منسوخ کردیا۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں یہ حکم دس راتیں رہا، پھر منسوخ ہوگیا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں یہ حکم صرف دن کی ایک گھڑی رہا۔ ” فاقیموا الصلوٰۃ “ فرض کی ہوئی۔ ” وآلوالزکاۃ “ واجب۔ ” واطیعوا اللہ ورسولہ واللہ خبیر بما تعملون “۔
Ayah 58:1514 ۔” الم ترالی الذین تو لوا قوما غضب اللہ علیھم “ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے یہود سے دوستی کی اور ان کی خیر خواہی کی اور مومنین کے راز ان کی طرف منتقل کرتے اور ” غضب اللہ علیھم “ سے مراد یہود ہیں۔ ” ماھم منکم ولا منھم “ یعنی منافقین جو دین اور دوستی میں مومنین میں سے نہیں تھے اور یہود و کفار میں سے تھے۔ جیسا کہ فرمایا : ” مذبذبین بن ذلک، لاالی ھوالیٰ ھولائ “…” ویحلفون علی الکذب وھم یعلمون “ سدی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ عبداللہ بن نبتل منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھتا تھا، پھر آپ (علیہ السلام) کی باتیں یہود کی طرف نقل کرتا۔ پس اسی اثناء رسول اللہ ﷺ اپنے حجرات میں سے کسی حجرہ میں تھے۔
جب فرمایا کہ ابھی تم پر ایک شخص داخل ہوگا اس کا دل متکبر کا دل ہے اور شیطان کی دوآنکھوں سے دیکھتا ہے۔ پس عبداللہ بن ختل داخل ہوا اور یہ نیلگوں آنکھوں والا تھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کس وجہ پر تو اور تیرے ساتھی مجھے برا بھلا کہتے ہو ؟ تو اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ اس نے ایسا نہیں کیا اور اپنے ساتھیوں کو لایا، انہوں نے بھی قسمیں کھائیں کہ انہوں نے برا بھلا نہیں کہا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں۔ پس فرمایا ” ویحلفون عل الکذب وھم یعلمون “ کہ وہ جھوٹے ہیں۔
Ayah 58:1615 ۔” اعداللہ لھم عذابا شدیدا انھم سآء ماکانوا یعملون۔
Ayah 58:1716 ۔” اتخذوا ایمانھم “ جھوٹی ۔ ” جنۃ “ اس کے ذریعے قتل سے بچتے ہیں اور اپنے جان اور مال کا دفاع کرتے ہیں۔ ” قصدوا عن سبیل اللہ “ مومنین کو ان کے جہاد بالقتل اور ان کے مال لینے سے روک دیا ہے۔ ” فلھم عذاب مھین “
Ayah 58:1817 ۔” لن تغنی عنھم “ قیامت کے دن۔” اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون۔
Ayah 58:1918 ۔” یوم یبعثھم اللہ جمیعا فیحلفون لہ “ جھوٹی کہ وہ مشرک نہ تھے۔ ” کما یحلفون لکم “ دنیامیں۔ ” ویحسبون انھم علی شیئ “ اپنی جھوٹی قسموں سے۔ ” الاانھم ھم الکاذبون “۔
Ayah 58:2019 ۔” استحوذ “ غالب ومسلط ہوگیا۔ ” علیھم الشیطان فانساھم ذکر اللہ اولئک حزب الشیطان الا ان حزب الشیطان ھم الخاسرون۔
Ayah 58:2120 ۔” ان الذین یحادون اللہ ورسولہ اولئک فی الاذلین “ نچلے درجوں میں یعنی وہ ان لوگوں میں ہیں جن کو وہ دنیا وآخرت میں ذلت کے لئے لاحق ہوا ہے۔
Ayah 58:2221 ۔” کتب اللہ “ اللہ تعالیٰ ثابت قضاء کی۔ ” لا غلبن انا ورسلی ان اللہ قوی عزیز “ اس کی نظیر اللہ کا قول ” ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین انھم لھم المنصورون “ زجاج (رح) فرماتے ہیں رسولوں کا غلبہ دو قسم پر ہے جو ان میں سے جنگ کے ساتھ مبعوث کیے گئے۔ پس وہ جنگ کے ذریعے غالب ہیں اور جو جنگ کا حکم نہیں دیئے گئے پس وہ دلیل کے ذریعے غالب ہیں۔