Ayah 57:1سورة الحدید
مدنی ہے اور اس کی انتیس 29 آیات ہیں
Ayahs 57:2–4تفسیر : آیات 1-3 یعنی وہی ہر چیز سے پہلے ہے بغیر ابتداء کے ہے بلکہ وہ تھا اور کوئی چیز موجود نہ تھی وہ ہر چیز کے فناء ہونے کے بعد وہی آخر ہے انتہاء کے بغیر۔ تمام اشیاء فنا ہوجائیں گی اور وہ باقی رہے گا اور ظاہر رہے گا اور الظاہر وہ غالب ہے ہر چیز پر بلند ہے اور الباطن باطن ہے ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ یہ ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے اور یمان (رح) فرماتے ہیں ” ھوالاول “ قدیم ہے ” والآخر “ رحیم ہے ” والظاھر “ حلیم ہے اور ” والباطن “ علیم ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں ” ھوالاول “ اپنے احسان کے ساتھ آپ کو۔۔۔ توحید کی معرفت دی۔” والآخر “ اپنی سخاوت کے ساتھ جب آپ کو توبہ کی معرفت دی اس پر جو تونے ارتکاب کیا۔ ” والظاھر “ اپنی توفیق کے ساتھ جب تجھے اس کے لئے سجدہ کرنے کی توفیق دی۔ ” والباطن “ اپنے ڈھانپنے کے ساتھ جب تو اس کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ تجھ پر پردہ ڈالتا ہے۔
اور جنید (رح) فرماتے ہیں ” ھوالاول “ دلوں کو کھولنے کے ساتھ۔ ” والآخر “ گناہوں کو بخشنے کے ساتھ ” والظاھر “ مصائب کو دور کرنے کے ساتھ۔ ” والباطن “ غیب کے علم کے ساتھ اور حضرت عمر ؓ نے کعب سے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا اس کا معنی ہے بیشک اس کا علم اول میں اس کے آخر میں علم کی طرح ہے اور اس کا ظاہرکا باطن کے علم کی طرح ہے۔ ” وھو بکل شی علیم “ سہیل سے روایت ہے فرماتے ہیں ابوصالح ہمیں حکم دیتے تھے جب ہم میں سے کوئی سونے کا ارادہ کرتا کہ وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹے۔ پھر کہے ” اللھم رب السموات ورب الارض ورب کل شیء خالق الحب والنوی منزل التوراۃ والانجیل والقرآن اعوذبک من شر کل ذی شرانت آخذ بناصیتہ انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الآخر فلیس بعدک شیء وانت الظاھر فلیس فوقک شیء وانت الباطن فلیس دولک شیء اقض عنی الدین واغنی من الفقر “۔ اور یہ ابوہریرہ ؓ نے بھی نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
Ayah 57:54 ۔” ھوالذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استویٰ علی العرش یعلم مایلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا وھو معکم “ علم کے ساتھ۔ ” اینما کنتم واللہ بما تعملون بصیر “۔
Ayah 57:65 ۔” لہ ملک السموات والارض والی اللہ ترجع الامور “…
Ayah 57:76 ۔” یولج اللیل فی النھار ویولج النھار فی اللیل وھو علیم بذات الصدور۔
Ayah 57:87 ۔ آمنوا باللہ ورسولہ “ کفار مکہ کو خطاب کیا ہے۔ ” وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ “ جس میں مالک بنائے گئے ہو یعنی وہ مال جو ان کے غیر قبضہ میں تھا پھر ان کو ہلاک کردیا اور وہ قریش کو دے دیا تو یہ اس مال میں ان لوگوں کے خلیفہ ہوگئے جو پہلے گزر چکے ہیں۔” فالذین امنوا منکم وانفقوا لھم اجر کبیر “۔
Ayah 57:98 ۔” ومالکم لا تومنون باللہ والرسول یدعوکم لتومنوا بربکم وقد اخذ میثاقکم “ ابوعمرو نے ” اخذ “ ہمزہ کے پیش اور خاء کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔” میثاقکم “ قاف کے پیش کے ساتھ نائب فاعل اور دیگر حضرات نے ہمزہ اور خاہ کے زبر اور قاف کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارا میثاق لیا جب تمہیں آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا کہ اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے تمہارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کو مجاہد (رح) نے کہا ہے اور کہا گیا ہے کہ تم سے میثاق (پختہ وعدہ) لیا ان دلائل کو قائم کرنے کے ساتھ جو رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی طرف بلاتے ہیں۔ ” ان کنتم مومنین “ ان پر۔ پس اب بہت مناسب وقت ہے کہ تم ایمان لے آئو محمد ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن پر دلائل قائم ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 57:109 ۔” ھوالذی ینزل علی عبدہ “ محمد ﷺ پر۔ ” آیات بینات “ یعنی قرآن ” لیخرجکم “ اللہ قرآن کے ذریعے۔ ” من الظلمات الی النور “ اور کہا گیا ہے تاکہ تم کو رسول دعوت کے ذریعے تاریکیوں سے نور کی طرف نکال دیں۔ یعنی شرک کی تاریکیوں سے ایمان کے نور کی طرف۔ ” وان اللہ بکم لرئوف رحیم “
Ayah 57:1110 ۔” ومالکم الاتنفقوا فی سبیل اللہ وللہ میراث السموات والارض “ فرماتے ہیں تمہارے لئے ۔۔ چھوڑنے میں کیا چیز ہے، ان میں سے جو اللہ کے قریب کردیں اور تم مرنے والے ہو اپنے اموال کو چھوڑنے والے۔۔۔ کے فضل کو بیان کیا جنہوں نے اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے اور جہاد میں سبقت کی۔ پھر فرمایا ” لایسعوی منکم ۔۔۔۔ فرماتے ہیں فضل میں اس شخص کے برابر نہیں ہوسکتا جس نے اپنے مال کو خرچ کیا اور رسول اللہ ﷺ کے ۔۔۔ سے قتال کیا فتح مکہ سے پہلے۔ وہ شخص جس نے خرچ کیا اور فتح مکہ کے بعد قتال کیا۔
” اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا “ کلبی (رح) سے روایت ہے کہ یہ آیت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ وہ پہلے شخص جو اسلام لائے اور پہلے شخص جنہوں نے اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا۔
اور عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں پہلے شخص جنہوں نے اپنی تلوار کے ذریعے اسلام کو ظاہر کیا۔ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر ہیں۔ ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا ان کے پاس ابوبکر صدیق ؓ تھے اور ان پر ایک چغہ تھا انہوں نے اپنے سینہ پر اس کو کھلا چھوڑا ہوا تھا تو جبرئیل (علیہ السلام) اترے اور کہا مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں ابوبکر ؓ پرچغہ دیکھتا ہوں اس کا سینہ کھلا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا انہوں نے فتح سے پہلے اپنا سارا مال مجھ پر خرچ کردیا۔ فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس پر سلام پڑھیں اور ان سے کہیں گے آپ ؓ اپنے فقر میں مجھ سے راضی ہیں یا ناراض ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ تجھ پر سلام پڑھ رہے ہیں اور تجھے کہہ رہے ہیں کیا تو اپنے فقر میں مجھ سے راضی ہے یا ناراض ہے ؟ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا، کیا میں اپنے رب پر ناراض ہوں گا ؟ بیشک میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ بیشک میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ ” وکلا وعداللہ الحسنیٰ “ یعنی دونوں فریقوں سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ عطائؒ فرماتے ہیں جنت کے درجات اوپر نیچے ہوں گے۔ پس جن لوگوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا وہ افضل درجات میں ہوں گے اور ابن عامر نے ” وکل “ رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” واللہ بما تعملون خبیر “۔
Ayah 57:1211 ۔” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضاعفہ لہ ولہ اجرکریم۔
Ayah 57:1312 ۔ یوم تری المومنین والمومنات یسعیٰ نورھم “ یعنی صراط پر۔ ” بین ایدیھم وبایمانھم “ یعنی ان کے دائیں جانب اور ان میں سے بعض نے کہا ہے تمام جانبیں مراد ہیں۔ بعض کو کل سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ان کی جنت کی طرف رہنمائی ہوگی اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہمیں یہ ذکر کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومنین میں سے وہ ہوں گے جن کا نور چمک رہا ہوگا۔ یعنی صراط پر مدینہ سے عدن ” ابین او صنعائ “ اور اس کے دور تک۔ حتیٰ کہ مومنین میں سے وہ ہوں گے کہ جن کا نور نہیں چمکے گا مگر ان کے قدموں کی جگہ تک اور عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں وہ نور اپنے اعمال کے مطابق دیئے جائیں گے۔ پس ان میں سے بعض کو نور کھجور کی طرح دیا جائے گا اور ان میں سے بعض کو نور کھڑا آدمی کی طرح اور ان میں سے ادنیٰ نور والا وہ ہوگا جس کا نور اس کے انگوٹھوں پر ہوگا کبھی بجھ جائے گا کبھی روشن ہوجائے گا اور ضحاک اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” یسعیٰ نورھم بین ایدیھم وبایمانھم “ ان کے اعمال نامے مراد ہیں کہ جو اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے ان کا نور ان کے سامنے ہوگا اور ان کو فرشتے کہیں گے ” بشراکم الیوم جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ذلک ھوالفوز العظیم “۔
Ayah 57:1413 ۔” یوم یقول المنافقون والمنافقات للذین امنوا انظرونا “ اعمش اور حمزہ رحمہما اللہ نے ” انظرونا “ ہمزہ کے زبر اور ظاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہمیں مہلت دو اور کہا گیا ہے تم ہمارا انتظار کرو اور دیگر حضرات نے الف کو حذف کیا ہے وصل میں اور اس کو پیش دیتے ہیں ابتداء میں اور ظاء کو پیش دیتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں ” انظرنی وانظرنی “ یعنی تو میرا انتظار کر۔
” نقتبس من نور کم “ تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ مومنین کو نور ان کے اعمال کے مطابق دیں گے جس کے ذریعے وہ پل صراط پر چلیں گے اور منافقین کو بھی نور دیں گے ان کو فریب دینے کے لئے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وھوخادعھم “ ہے۔ پس وہ چل رہے ہوں گے جب اللہ تعالیٰ ان پر ہوا اور تاریکی کو بھیجیں گے تو وہ منافقین کے نور کو بجھا دے گی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” یوم لا یخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ نورھم یسعیٰ بین ایدیھم وبایمانھم یقولون ربنا اتمم لنانورنا “ اس خوف سے کہ ان کا نور چین لیا جائے جیسا کہ منافقین کا نور سلب کیا گیا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں بلکہ منافقین مومنین کے نور سے روشنی طلب کریں گے اور نور نہیں دیئے جائیں گے۔ پس جب مومنین ان سے آگے بڑھ جائیں گے اور وہ تاریکی میں باقی رہ جائیں گے تو مومنین کو کہیں گے تم ہمارے انتظار کرو ہم تمہارے نور سے روشنی حاصل کرلیں۔ ” قیل ارجعوا وراء کم “۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کو مومنین کہیں گے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کو فرشتے کہیں گے تم اپنے پیچھے لوٹ جائو جہاں سے تم آئے ہو۔ ” فالتمسوا نورا “ پس تم وہاں سے اپنے لئے نور تلاش کرو کیونکہ تمہارے لئے ہمارے نور سے سلگانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ پس وہ نور کی تلاش میں لوٹیں گے تو کچھ نہ پائیں گے۔ پھر ان کی طرف پلٹیں گے تاکہ ان کو ملیں تو ان کے درمیان اور مومنین کے درمیان جدائی کردی جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” فضرب بینھم بسور “ یعنی سور اور باء صلہ ہے یعنی مومنین و منافقین کے درمیان اور وہ دیوار ہے جنت وجہنم کے درمیان۔ ” لہ “ یعنی اس دیوار کا ” باب باطنہ فیہ الرحمۃ “ یعنی اس دیوار کے اندر رحمت یعنی جنت ہے۔ ” وظاھرہ “ یعنی اس دیوار کا باہر والا حصہ ” من قبلہ “ یعنی اس ظاہر کی جانب سے ۔ ” العذاب “ اور وہ آگ ہے۔
Ayah 57:1514 ۔” ینادونھم “ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا گیا انہوں نے فرمایا کہ وہ سور جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت ” فضرب بینھم بسور لہ باب “ میں ذکر کیا ہے یہ بیت المقدس کی مشرقی جانب کی دیوار ہے اس کے باطن میں رحمت اور اس کا ظاہر کی جانب عذاب ہے جہنم کی وادی۔ ابن شریح (رح) فرماتے ہیں کعب (رح) فرماتے تھے اس دروازہ کے بارے میں جو بیت المقدس میں ہے جس کا نام باب رحمت رکھا گیا ہے کہ یہ وہ دروازہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” فضرب بینھم بسورلہ باب “ الآیہ۔
” ینادونھم “ یعنی منافقین مومنین کو دیوار کے پیچھے سے پکاریں گے جب ان کے درمیان رکاوٹ کردی جائے گی اور وہ تاریکی میں رہ جائیں گے۔ ” الم لکن معکم “ دنیا میں نماز پڑھتے اور روزے رکھتے تھے ؟ قالوا بلی ولکنکم فتنتم انفسکم “ تم نے اس کو نفاق اور کفر سے ہلاک کردیا اور اس کو معاصی اور شہوات میں لگایا اور یہ تمام فتنہ ہیں۔ ” وتربصتم “ ایمان اور توبہ کا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اور تم نے محمد ﷺ کا انتظار کیا اور تم نے کہا کہ قریب ہے کہ یہ وفات پاجائیں گے۔ پس ہم ان سے راحت پاجائیں گے۔” وارتبتم “ تم نے ان کو نبوت میں شک کیا اور اس میں جو تم سے وعدے کیے گئے تھے۔ ” وغرتکم الامانی “ باطل اور جو تم تمنا کرتے تھے مومنین پر مصیبتیں اترنے کی۔ ” حتی جاء امر اللہ “ یعنی موت۔
” وغرتکم باللہ الغرور “ یعنی شیطان نے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ شیطان کے دھوکہ میں رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم میں پھینک دیا۔
Ayah 57:1615 ۔ فالیوم لایوخذمنکم فدیۃ “ ابوجعفر اور ابن عامر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” توخذ “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ۔
” فدیۃ “ بدل اور عوض اس بات کا کہ تم اپنے آپ کو عذاب سے بچالو۔ ” ولامن الذین کفروا “ یعنی مشرکین۔ ” ماواکم النارھی مولاکم “ تمہارا ساتھی اور تمہارے زیادہ لائق اس کی وجہ سے جو تم نے پہلے گناہ کیے۔ ” وبئس المصیر “
Ayah 57:1716 ۔” الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ “ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہجرت کے ایک سال بعد کیونکہ انہوں نے سلمان فارسی ؓ سے ایک دن سوال کیا کہنے لگے ہمیں توریت سے کچھ باتیں بتائیں کیونکہ اس میں عجیب باتیں ہیں تو آیت نازل ہوئی۔ ” نحن نقص علیک احسن القصص “ تو ان کو خبر دی کہ قرآن میں اچھے قصے ہیں اس کے غیر سے تو وہ سلمان ؓ سے کچھ عرصہ جتنا اللہ نے چاہا سوال کرنے سے باز آگئے۔ پھر لوٹے اور سلمان ؓ سے اسی کی مثل سوال کیا تو نازل ہوا۔ ” اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا “ تو وہ جتنا عرصہ اللہ نے چاہا سوال کرنے سے باز آگئے۔ پھر لوٹے اور کہنے لگے ہمیں توریت سے کچھ بیان کریں کیونکہ اس میں عجائب ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ پس اس تاویل پر اللہ تعالیٰ کا قول ” الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ “ یعنی اعلانیہ اور زبان کے ساتھ اور دیگر حضرات نے فرمایا ہے کہ مومنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے اسلام اور اس آیت ” الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ “ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ہمیں عتاب کرنے کے درمیان صرف چار سال کا فرق تھا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں کو سست پایا تو قرآن نازل ہونے کے تیرہ سال بعد ان کو عتاب کیا اور فرمایا ” الم یان “ نہیں وقت آیا ان لوگوں کا جو ایمان لائے کہ ” تخشع “ نرم وپتلے ہوجائیں اور جھک جائیں ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے۔ ” ومانزل “ نافع اور حفص نے عاصم سے زاء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے زاء کی تشدید کے ساتھ ” من الحق “ اور وہ قرآن ہے۔ ” ولا یکونوا کالذین اوتوا الکتاب من قبل “ اور وہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ ” فطال علیھم الامد “ زمانہ ان کے درمیان اور ان کے انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان اور ان کے انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان ” فقست قلوبھم “
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ دنیا کی طرف مائل ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے اعراض کیا اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو روکا ہے کہ وہ قرآن کے صحیح ہونے میں ان یہود کی طرح ہوجائیں جن کے دل سخت ہوگئے۔ اس وجہ سے کہ ان پر زمانہ لمبا ہوگیا۔ روایت کیا گیا کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے اہل بصرہ کے قراء کی طرف پیغام بھیجا تو ان پر تین سو آدمی داخل ہوئے جنہوں نے قرآن پڑھا ہوا تھا تو ان کو فرمایا تم لوگ اہل بصرہ کے بہترین لوگ اور ان کے قاری ہو۔ پس تم اس کی تلاوت کرو اور تم پر امیدیں لمبی نہ ہوں۔ پس تمہارے دل سخت ہوجائیں گے جیسا کہ ان لوگوں کے دل سخت ہوگئے جو تم سے پہلے تھے۔ ” وکثیر منھم فاسقون “ یعنی جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ پر ایمان کو چھوڑ دیا۔
Ayah 57:1817 ۔” اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قدبینالکم الایات لعلکم تعقلون۔
Ayah 57:1918 ۔ ان المصدقین والم صدقات “ ابن کثیر اور ابوبکر رحمہما اللہ نے عاصم سے صاد کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، ان دونوں میں تصدیق سے یعنی مومنین اور مومنات۔
اور دیگر حضرات نے ان دونوں کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ” المتصدقین والمت صدقات “ تاء کا صاد میں اوغام کیا گیا ہے۔ ” واقرضوا اللہ قرضا حسنا “ صدقہ اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کے ساتھ۔ ” یضاعف لھم “ یہ قرض۔ ” ولھم اجر کریم “ اچھا ثواب ہے اور وہ جنت ہے۔
Ayah 57:20اولئک ھم الصدیقون کی تفسیر
19 ۔” والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون “ اور صدیق کثرت سے سچ بولنے والا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ہر شخص جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا وہ صدیق ہے اور یہ آیت تلاوت کی۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ اس امت کے آٹھ افراد ہیں جنہوں نے اہل ارض سے اپنے زمانہ میں اسلام کی طرف سبقت کی۔ ابوبکر، علی ، زید، عثمان، طلحہ، زبیر، سعد، حمزہ اور نویں عمر بن خطاب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کو بھی ان کے ساتھ ملادیا، ان کی صدق نیت کو پہچاننے کی وجہ سے۔
” والشھداء عند ربھم “ اس آیت کی ترتیب میں اختلاف ہوا ہے، ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ یہ اپنے ماقبل کے ساتھ متصل ہے اور وائو واونسق ہے اور شہداء سے مومنین مخلصین مراد ہیں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا ہم نے نام کا ذکر کیا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ہر مومن صدیق وشہید ہے اور یہ آیت تلاوت کی اور ایک قوم نے کہا ہے کہ کلام اللہ تعالیٰ کے قول ” ھم الصدیقون “ کے پاس مکمل ہوگئی تھی۔ پھر ابتداء کی اور فرمایا ” والشھداء عندربھم “ اور وائو واواستثناف ہے اور جو امتوں پر قیامت کے دن گواہی دیں گے۔ یہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے اور یہی مقاتل بن حیان کا قول ہے اور مقاتل بن سلیمان (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں شہید کیے گئے۔ ” لھم اجرھم “ ان کے نیک اعمال کے بدلے ” ونورھم “ صراط پر۔” والذین کفروا وکذبو بآیاتنا اولائک اصحاب الجحیم “۔
Ayah 57:2120 ۔” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا “ یعنی بیشک دنیا کی زندگی اور ” ما “ صلہ ہے یعنی بیشک اس گھر میں میں ” لعب “ باطل ہے اس کا کوئی حاصل نہیں۔ ” ولھو “ خوشی ہے پھر ختم ہوجائے گی۔ ” وزینۃ “ منظر جس کے ذریعے تم زینت حاصل کرتے ہو۔ ” وتفاجر بینکم “ اس کے ذریعے وہ آپس میں فخر کرتے ہیں۔ ” وتکاثر فی الاموال والاولاد “ یعنی مال اور اولاد کی کثرت پر فخر کرنا۔ پھر اس کے لئے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا ” کمثل غیث اعجب الکفار “ یعنی کاشتکاروں کو ” نباتہ “ جو اس بارش سے اگا۔ ” ثم بھیج “ خشک ہوجائے۔ ” فتراہ مصفرا “ اس کے سرسبز ہونے اور پک جانے کے بعد ” ثم یکون حطاما “ خشک ہونے کے بعد کاٹا جائے، توڑا جائے اور فنا ہوجائے۔ ” وفی الآخرۃ عذاب شدید “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اللہ کے دشمنوں کے لئے۔ ” ومغفرۃ من اللہ ورضوان “ اس کے اولیاء اور اہل طاعت کے لئے۔ ” وما الحیاۃ الدنیا الامتاع الغرور “ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں دھوکے کا سامان اس کے لئے جو اس میں مشغول ہو آخرت کی طلب سے اعراض کرکے اور جو اس میں مشغول آخرت کی طلب کے ساتھ تو اس کے لئے ایسا نفع ہے جو اسے خیر تک پہنچادے گا۔
Ayah 57:2221 ۔” سابقوا “ تم دوڑو۔ ” الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضھا کعرض السماء والارض “ اگر اس میں سے بعض کو بعض کے ساتھ ملا دیا جائے۔ ” اعدت للذین امنوا باللہ ورسولہ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم “ پس بیان کیا کہ کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوگا مگر اللہ کے فضل کے ساتھ۔
Ayah 57:2322 ۔” مااصاب من مصیبۃ فی الارض “ یعنی بارش کا قحط اور پودوں کا کم ہوجانا اور پھلوں کا کم ہوجانا۔ ” ولافی انفسکم “ یعنی امراض اور اولاد کا فقدان۔ ” الافی کتاب “ یعنی لوح محفوظ ” من قبل ان نبراھا “ اس سے پہلے کہ ہم زمین اور ان کے نفسوں کو پیدا کریں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مصیبت سے بری ہونے سے پہلے اور ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں یعنی جان۔ ” ان ذلک علی اللہ یسیر “ یعنی اس کی کثرت کے باوجود اس کی ثابت کرنا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔
Ayah 57:2423 ۔” لکیلا تاسوا “ غم نہ کرو۔ ” علی مافاتکم “ دنیا سے۔ ” ولا تفرحوا بھا آتاکم “ ابوعمرو نے الف کے قصر کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فاتکم “ کی وجہ سے۔ پس فعل اس کے لئے بنادیا ہے اور دیگر حضرات نے ” اتاکم “ الف کی مد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم کو عطاء کیا۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ہر شخص کو خوشی وغمی آتی ہے لیکن تم اپنی خوشی کو شکر اور غم کو صبر بنائو۔” واللہ لا یحب کل مختال “ متکبر اس پر جو دنیا میں دیا گیا۔
” فخور “ اس کے ذریعے لوگوں پر فخر کرتا ہے۔ جعفر بن محمد صادق (رح) فرماتے ہیں اے ابن آدم ! تجھے کیا ہوگیا ہے تو مفقود چیز پر افسوس کرتا ہے اس کو تیرا فوت ہوجانا واپس نہیں کرسکتا اور تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تو موجود چیز پر خوش ہوجاتا ہے اس کو تیرے ہاتھ میں موت نہیں چھوڑے گی۔
Ayah 57:2524 ۔” الذین یبخلون “ کہا گیا ہے یہ محل جر میں ہے۔ ” المختال “ کی صفت ہونے کی وجہ سے اور کہا گیا ہے یہ ۔۔۔ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس اس کی خبر اس کا مابعد ہے۔ ” ویامرون الناس بالبخل ومن یتول “ یعنی ایمان سے اعراض کرے۔ ” فان اللہ ھوالغنی الحمید “ اہل مدینہ اور شام نے ” فان اللہ الغنی “ پڑھا ہے ھوکو ساقط کرنے کے ساتھ اور اسی طرح یہ ان کے مصاحف میں ہے۔
Ayah 57:2625 ۔” لقد ارسلنارسلنا بالبینات “ نشانیوں اور دلائل کے ساتھ۔ ” وانزلنا معھم الکتاب والمیزان “ یعنی انصاف اور مقاتل بن سلیمان (رح) فرماتے ہیں جس کے ذریعے وزن کیا جائے یعنی اور ہم نے میزان (ترازو) کو رکھنا۔ جیسا کہ فرمایا ” والسماء رفعھا “ بایں طور کہ ” ووضع المیزان “…” لیقوم الناس بالقسط “ تاکہ وہ آپس میں انصاف کے ساتھ معاملہ کریں۔ ” وانزلنا الحدید “ ابن عمر ؓ سے روایت کیا گیا ہے مرفوع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے زمین کی طرف چار برکتیں اتاریں، لوہا، آگ، پانی اور نمک۔
اور اہل معانی رحمہم اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے قول ” انزلنا الحدید “ کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اس کو پیدا کیا۔ یعنی ان کے لئے لوہے کو معاون سے نکالا اور ان کو اس کی کاریگری سکھائی، اپنی وحی کے ذریعے اور قطرب (رح) فرماتے ہیں یہ نزل سے ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ” انزل الامیر علی فلان نزلا حسنا “ تو آیت کا معنی یہ ہے کہ اس کو ان کے لئے مہمانی بنایا اور اسکی مثل اللہ تعالیٰ کا قول ” وانزل لکم من الانعام ثمانیۃ ازواج “ ہے۔ ” فیہ باس شدید “ سخت قوت ہے۔ یعنی جنگ کے لئے ہتھیار۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ڈھال اور ہتھیار ہیں یعنی آلہ اور آلہ ضرب۔ ” و منافع للناس “ جن سے وہ اپنی ضروریات میں نفع اٹھاتے ہیں ۔ جیسے چھری، کلہاڑا، سوئی اور اس کی مثل، اس لئے کہ یہ ہر صنعت کا آلہ ہے۔
” ولیعلم اللہ “ یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور ان کے ساتھ یہ اشیاء اتاریں تاکہ لوگ حق اور انصاف کا معاملہ کریں اور تاکہ اللہ تعالیٰ جان لیں اور دیکھ لیں۔ ” من ینصرہ “ یعنی اس کے دین کی۔ ” ورسلہ بالغیب “ یعنی دین کی مدد کے لئے کھڑا ہوا اور اللہ اور آخرت کو نہیں دیکھا اور تعریف کیا جاتا ہے اور ثواب دیا جاتا ہے جو شخص اللہ کی بن دیکھے اطاعت کرے۔ ” ان اللہ قوی عزیز “ اپنے امر میں قوی اپنے ملک میں غالب ہے۔
Ayahs 57:27–2826 ۔” ولقد ارسلنا نوحا وابراھیم وجعلنا فی ذریتھما النبوۃ والکتاب فمنھم مھتدو کثیر منھم یسقون، ثم قفینا علی آثارھم برسلنا وقفینا بعیسی ابن مریم وآتیناہ الانجیل وجعلنا فی قلوب الذین تبعوۃ “ اس کے دین پر۔ ” رافۃ “ اور وہ سخت نرم دلی۔ ” ورحمۃ “ وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے اصحاب کا وصف بیان کیا۔” رحماء بینھم “…” ورھبانیۃ ابتدعوھا “ اپنی طرف سے اور یہ ماقبل پر عطف نہیں ہے اور اس کا منصوب ہونا پوشیدہ فعل کی وجہ سے ہے۔ گویا کہ کہا ” وابتدعوارھبانیۃ “ یعنی اس کو اپنی طرف سے لائے۔ ” ماکتبناھا “ یعنی ہم نے اس کو فرض نہیں کیا۔ ” علیھم الا ابتغاء رضوان اللہ “ یعنی لیکن انہوں نے اللہ کی رضامندی کو تلاش کیا۔ اس رہبانیت کے ذریعے اور اس رہبانیت نے ان کو کھانے، پینے اور پہننے اور نکاح سے رکنے کی مشقتوں اور پہاڑوں میں عبادت کرنے پر مجبور کردیا۔ ” فمارعوھا حق رعایتھا “ یعنی انہوں نے رہبانیت کی ویسے رعایت نہیں کی جیسے اس کا حق تھا بلکہ انہوں نے اس کو ضائع کردیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کا انکار کیا۔ پس یہودی اور نصرانی بن گئے اور اپنے بادشاہوں کے دین میں داخل ہوگئے اور ترہیب کو چھوڑ دیا اور ان میں سے کچھ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر قائم رہے حتیٰ کہ انہوں نے محمد ﷺ کا زمانہ پایا اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” فاتینا الذین امنوا منھم اجرھم “ یہ وہ لوگ جو اس پر ثابت قدم رہے اور یہ نرمی اور شفقت والے لوگ ہیں۔ ” وکثیر منھم فاسقون “ یہ وہ لوگ جنہوں نے رہبانیت کو چھوڑ دیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین سے کفر کیا۔
ورھبانیۃ ن ابتدعوھا کی تفسیر
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے ابن مسعود ! ؓ تم سے پہلے لوگ بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے ان بھی سے تین نے نجات پائی۔
اور باقی سارے ہلاک ہوگئے۔ ایک فرقہ بادشاہوں کے مقابل آیا اور ان سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر قتال کیا تو انہوں نے ان کو پکڑ کر قتل کردیا اور ایک فرقہ ان کے پاس بادشاہوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی اور نہ یہ کہ وہ ان کے مدمقابل کھڑے ہوسکیں ان کو اللہ تعالیٰ کے دین اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کی طرف بلائیں۔ پس یہ لوگ شہروں میں سیاحت کرنے کے راہب بن گئے۔ یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ورھبانیۃ ابتدعوھا ما کتبنا ھا علیھم “ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی اور میری اتباع کی۔ پس تحقیق اس نے اس کی ۔۔۔۔ جیسا کہ اس کا حق ہے اور جو مجھ پر ایمان نہیں لایا پس یہی لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔
اور ابن مسعود ؓ سے روایت کیا گیا ہے۔ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کا ردیف۔۔۔ پیچھے بیٹھنے والا) تھا دراز گوش پر تو آپ (علیہ السلام) نے مجھے فرمایا اے ام عبد کے بیٹے ! کیا تو جانتا ہے بنو اسرائیل نے کہاں سے رہبانیت کو لیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان پر جبابرہ (ایک قوم ہے) غالب ہوگئے، وہ گناہوں کے کام کرتے تھے تو اہل ایمان ان پر غصہ ہوئے تو انہوں نے اہل ایمان سے قتال کیا۔ تو اہل ایمان شکست کھاگئے تین مرتبہ تو ان میں سے تھوڑے سے لوگ باقی بچے تو انہوں نے کہا اگر ہم ان لوگوں کے سامنے ظاہر ہوئے تو یہ ہمیں فنا کردیں گے اور اس دین کا کوئی فرد باقی نہ رہے گا جو اس دین کی طرف دعوت دے تو انہوں نے کہا آئو ہم زمین میں بکھرجاتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس نبی کو بھیج دیں جس کا ہم سے عیسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ کیا ہے ان کی مراد محمد ﷺ تھے۔ تو وہ پہاڑوں کی وادیوں میں بکھر گئے اور رہبانیت کو گھڑ لیا۔ پس ان میں سے بعض نے انپے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور ان میں سے بعض نے کفر کیا۔ پھر یہ آیت تلاوت کی ” ورھبانیۃ ابتدعوھا “ …” فآتینا الذین امنوا منھم “ یعنی جو اس پر ثابت قدم رہے ان کا اجر دیا۔
پھرنبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ام عبد کے بیٹے ! کیا تو جانتا ہے میری امت کی رہبانیت کیا ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا ہجرت، جہاد، نماز، روزہ، عمرہ اور بلند جگہ پر تکبیر کہنا۔ حضرت انس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک ہر امت کے لئے رہبانیت ہے اور اس امت کی رہبانیت اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے بادشاہوں نے توریت اور انجیل کو بدل دیا اور ان میں مومن تھے جو تورات و انجیل پڑھتے تھے اور ان کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے تھے تو ان کے بادشاہوں کو کہا گیا اگر تم ان لوگوں کو جمع کرلو جو تم پر بوجھ بن گئے ہیں اور ان کو قتل کردو یا یہ اس دین میں داخل ہوجائیں جس میں ہم ہیں تو ان کے بادشاہ نے ان کو جمع کیا اور ان پر قتل پیش کیا یا وہ توریت و انجیل کی قرات چھوڑ دیں صرف وہی پڑھیں جو انہوں نے تبدیل کی ہے۔ پس انہوں نے کہا ہم تمہیں اپنے نفس سے کافی ہیں۔
تو ایک جماعت نے کہا تم ہمارے لئے ایک ستون بنائو، پھر ہمیں اس پر بلند کرو، پھر ہمیں کوئی چیز دو جس کے ذریعے ہم اپنا کھانا، پینا اٹھالیں اور تم پر واپس نہ آئیں اور ایک جماعت نے کہا ہمیں چھوڑ دو ، ہم زمین میں سیاحت کرتے ہیں اور درندوں کی طرح گھوم پھر کر کھائیں پئیں۔ پس اگر تم ہم پر قادر ہوجائو کسی زمین میں تو ہمیں قتل کردینا اور ایک جماعت نے کہا تم ہمارے گھر بنادو دیہاتوں میں ہم کنویں کھودے اور سبزیاں کاشت کریں۔ پس ہم تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ تم پر گزریں گے تو انہوں نے یہ کہا تو یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ پر جاری رہ گئے اور ان کے بعد ایک قوم پیچھے رہ گئی جنہوں نے کتاب کو تبدیل کیا تھا تو آدمی کہنے لگا ہم فلاں جگہ میں ہوجاتے ہیں پس ہم عبادت کرتے ہیں جیسا کہ فلاں نے عبادت کی اور ہم سیاحت کرتے ہیں جیسا کہ فلاں نے سیاحت کی اور ہم گھر بناتے ہیں جیسا کہ فلاں نے بنایا ہے اور وہ اپنے شرک پر قائم تھے ان کو ان کے ایمان کا کوئی علم نہ تھا جن کی انہوں نے اقتداء کی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ورھبانیۃ ابتدعوھا “ ہے یعنی اس رہبانیت کو ان نیک لوگوں نے گھڑ لیا۔ پھر اس کی رعایت نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا۔ یعنی ان لوگوں نے جو ان کے بعد آئے۔ فائینا الذین امنوا منھم اجرھم “ یعنی جن لوگوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرنے لئے گھڑا ” وکثیر منھم فاسقون “ جو ان کے بعد آئے۔ فرمایا جب نبی کریم ﷺ مبعوث کیے گئے اور ان لوگوں میں سے تھوڑے سے بچے تو ایک آدمی اپنے عبادت خانے سے اتر آیا اور سیاح اپنی سیاحت سے آگیا اور صاحب دیر (راہبوں کی عبادت کی جگہ والے) اپنے عبادت خانہ سے نکل آئے اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔
Ayah 57:2928 ۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ “ خطاب یہود و نصاریٰ کے اہل کتاب کو ہے۔ اے وہ لوگو ! جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہا السلام) پر ایمان لائے تم اللہ تعالیٰ سے محمد ﷺ کے بارے میں ڈرو۔ ” وامنوا برسولہ “ محمد ﷺ پر ” یوتکم کفلین “ دو حصے۔ ” من رحمتہ “ یعنی تمہیں دو اجر دے گا تمہارے عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل پر ایمان لانے اور محمد ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے کی وجہ سے۔ اور ایک قوم نے کا ہے کہ کلام اللہ تعالیٰ کے قول ” ورحمۃ “ کے پاس ختم ہوگئی ہے۔ پھر فرمایا ” ورھبانیۃ ابتدعوھا “ کیونکہ انہوں نے حق کو چھوڑ دیا اور ۔۔۔۔۔ پئیں اور جنابت سے وضو وغسل کرنے کو چھوڑ دیا اور ختنہ کو چھوڑ دیا۔ ” فمارعوھا “ یعنی اطاعت اور دین حق کی ”۔۔۔۔۔ ضمیر غیر مذکور کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ” فآتینا الذین امنوا منھم اجرھم “ اور وہ نرمی و محبت والے ہیں ”۔۔۔۔ رضوان اللہ “ کا معنی اس تاویل پر یہ ہے کہ ہم نے نہ اس کو ان کا حکم دیا اور نہ ان پر فرض کیا مگر اللہ تعالیٰ کی رضاء کو تلاش کر پھر ہم نے ان کی رہبانیت کا حکم نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ “ یعنی اے وہ لوگ جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) پر ایمان لائے تم اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئو تمہیں اپنی رحمت سے دو حصے دے گا۔
ہم تک حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین شخص ان کو ان کا اجر دو مرتبہ دیا جائے گا۔ ایک وہ شخص جس کی باندی تھی، اس نے اس کو ادب سکھایا، پس اچھا ادب سکھایا، پھر اس کو آزاد کردیا اور اس سے نکاح کرلیا اور ایک وہ آدمی جو اہل کتاب ہو جو اپنی کتاب پر ایمان لایا اور محمد ﷺ کی کتاب پر ایمان لایا اور ایک غلام جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اپنے آقا کی خیر خواہی کی۔ ” ویجعل لکم نورا تمشون بہ “ ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی صراط پر۔ جیسا کہ فرمایا ” نورھم یسعیٰ بین ایدیھم “ اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ نور وہ قرآن ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ ہدایت اور بیان ہے یعنی تمہارے لئے دین میں واضح راستہ بنادے گا جس کے ذریعے تم ہدایت حاصل کرو گے۔ ” یغفرلکم واللہ غفور رحیم “ اور کہا گیا ہے کہ جب ان اہل کتاب نے جو ابھی تک ایمان نہ لائے تھے اللہ تعالیٰ کا قول ” اولئک یوتون اجرھم مرتین “ سنا تو مسلمانوں کو کہنے لگے جو ہم میں سے تمہاری کتاب پر ایمان لایا تو اس کے لئے اس کا اجر دو مرتبہ ہے تمہاری کتاب اور ہماری کتاب پر ایمان لانے کی وجہ سے اور جو ہم میں سے ایمان نہیں لایا تو اس کے لئے تمہاری طرح ایک اجر ہوگا تو تمہاری ہم پر کیا فضیلت ہوئی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی۔ ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وآمنوا برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ “ پس ان کے لئے دو اجر بنادیں گے جب وہ اپنے رسول محمد ﷺ پر ایمان لے آئے اور ان کو نور اور مغفرت زیادہ دے گا۔