Ayah 56:1سورة الواقعہ
مکی ہے اور اس کی چھیانوے 96 آیات ہیں
Ayah 56:21 ۔” اذاوقعت الواقعۃ “ جب قیامت قائم ہوگی اور کہا گیا ہے جب قیامت کی چیخ نازل ہوگی اور وہ نفخہ اخیرہ ہے۔
Ayah 56:32 ۔” لیس لوقعتھا “ اس کے آنے کے لئے ” کاذبۃ “ جھوٹ ۔ جیسا کہ اس کا قول ہے ” لا تسمع فیھا لا غیۃ “ یعنی لغو۔ یعنی وہ حق وسچ واقع ہوگی اور ” کاذبۃ “ اسم ہے ” عافیۃ “ اور ” نازلۃ “ کی طرح۔
Ayah 56:43 ۔” خافضۃ رافعۃ “ کچھ قوموں کو جہنم کی طرف پست کرے گی اور دوسری قوموں کو جنت کی طرف بلند کرے گی ۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ان قوموں کو پست کرے گی جو دنیا میں بلند ہوتی تھیں اور ان قوموں کو بلند کرے گی جو دنیا میں کمزور ضعیف سمجھی جاتی تھیں۔
Ayah 56:54 ۔” اذارجت الارض رجا “ حرکت دی جائے گی اور جھٹکے دی جائے گی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ جب اس کی طرف وحی کریں گے تو وہ مضطرب ہوکر کئی ٹکڑے ہوجائے گی۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں حرکت دی جائے گی جیسا کہ بچہ کو جھولے میں حرکت دی جاتی ہے حتیٰ کہ اس پر موجود ہر تعمیر گرجائے گی اور اس پر موجود پہاڑ وغیرہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور الرج کی اصل حرکت دینا کہا جاتا ہے ” رججتہ فارتج “
Ayah 56:65 ۔” وبست الجبال بسا “ عطائ، مقاتل اور مجاہد رحمہم اللہ فرماتے ہیں ٹکڑے کیے جائیں گے۔ پس وہ ترکیے ہوئے آٹے کی طرح ہوجائیں گے۔ سعید بن مسیب اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں توڑے جائیں گے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں زمین کے اوپر چلائے جائیں گے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اپنی جڑ سے اکھاڑے جائیں گے تو ختم ہوجائیں گے۔ اس کی نظیر ” فقل ینسفھا ربی نسفا “ ہے۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں وہ ریت کے بچھے ہوئے ٹیلے کردیئے گئے، بعد اس کے وہ لمبے بلند تھے۔
Ayah 56:76 ۔” فکانت ھباء منبثا “ غبار متفرق اس کی طرح جب سوراخ سے سورج کی روشنی اندر داخل ہو تو اس روشنی میں دیکھا جاتا ہے وہ ھباء ہے۔
Ayah 56:87 ۔” وکنتم ازواجا “ اقسام ” ثلاثۃ “۔
Ayah 56:9اصحاب الیمین کون لوگ ہوں گے
8 ۔ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ” فاصحاب المیمنۃ “ وہ لوگ ہیں جن کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جنت کے لئے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو آدم (علیہ السلام) کی دائیں جانب تھے جب ان کے اولاد ان کی پشت سے نکالی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا یہ لوگ جنت میں ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔
ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ حسن اور ربیع رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ صاحب برکت تھے اور ان کی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزریں اور تابعین باحسان ہیں پھر اپنے نبی کریم ﷺ پر تعجب کیا اور فرمایا ” ما اصحاب المیمنۃ “ اور یہ ایسے ہے جیسے کہا جاتا ہے زیدمازید مراد ہوتا ہے زید سخت ہے۔
Ayah 56:109 ۔” واصحاب المشئمۃ ما اصحاب المشئمۃ “ یعنی بائیں جانب والے اور عرب بائیں ہاتھ کا نام الشوری رکھتے ہیں اور اسی سے شام اور یمن کا نام رکھا گیا۔ اس لئے کہ یمن کعبہ کی دائیں جانب اور شام اس کی بائیں جانب ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن لیا جائے گا بائیں جانب جہنم کی طرف اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو آدم (علیہ السلام) کی بائیں جانب تھے، ان کی اولاد کے نکالنے کے وقت اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا یہ لوگ جہنم میں ہوں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور حسن (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو خود پر منحوس بےبرکت ہیں اور ان کی عمریں نافرمانیوں میں گزریں۔
Ayah 56:1110 ۔” والسابقون السابقون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہجرت کی طرف سبقت کرنے والے وہی آخرت میں سبقت کرنے والے ہیں اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں اسلام کی طرف سبقت کرنے والے۔ ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار “ ہے۔ ربیع بن انس ؓ فرماتے ہیں دنیا میں رسول اللہ ﷺ کی بات کو قبول کرنے میں سبقت کرنے والے یہی لوگ ہیں۔ آخرت میں جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) کی بات کو ایمان لانے کے ساتھ قبول کرنے والے اور علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں پانچ نمازوں کیطرف ضحاک (رح) فرماتے ہیں جہاد کی طرف ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو توبہ اور نیکی کے اعمال کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سابقوا الی مغفرۃ من ربکم “ پھر ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ” اولئک یسارعون فی الخیرات وھم لھا سابقون “ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں ، ہر اس چیز کی طرف سبقت کرنے والے ہیں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے بلایا ہے اور کعب (رح) سے روایت کیا گیا ہے فرمایا یہ اہل قرآن ہیں اور کہا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مسجد کی طرف جانے میں پہل کرتے ہیں اور اللہ کے راستے میں نکلنے میں بھی اور قرظی (رح) فرماتے ہیں ہر خیر کی طرف۔
Ayah 56:1211 ۔” اولئک المقربون “ اللہ سے۔
Ayah 56:1312 ۔” فی جناب النعیم
Ayah 56:1413 ۔ ثلۃ من الاولین “ گزشتہ امتوں میں سے آدم (علیہ السلام) کے وقت سے ہمارے نبی (علیہ السلام) کے زمانہ تک اور ” ثلۃ “ وہ جماعت جن کی تعداد شمار میں نہ آسکے۔
Ayah 56:1514 ۔” وقلیل من الآخرین “ یعنی اس امت میں سے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں جن لوگوں نے آدم (علیہ السلام) کے وقت سے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا معائنہ کیا اور ان کی تصدیق کی۔ یہ ان سے زیادہ ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا معائنہ کیا۔
Ayah 56:1615 ۔” علی سرر موضونۃ “ بنے ہوئے۔ جیسا کہ چٹائی بنی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے میں داخل ہوتے ہیں۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ وہ ہے جو سونے اور جواہرات کے ساتھ بنی جائے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں ” موضونۃ مصفوفۃ “ کے معنی میں ہے یعنی صف در صف بچھے ہوئے۔
Ayah 56:1716 ۔” متکئین علیھا متقابلین “ وہ ایک دوسرے کی پیٹھ کو نہ دیکھیں گے۔
Ayah 56:1817 ۔” یطوف علیھم “ خدمت کے لئے ۔ ” ولدان “ لڑکے ” مخلدون “ نہ مریں گے اور نہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ان کی حالت تبدیل ہوگی۔ فراء کہتے ہیں جو شخص بوڑھا ہوجائے اور سر کے بال دورنگے جیسے ہوجائیں تو عرب اس کو مخلد کہتے ہیں مقرطون یعنی بالیاں پہنائے ہوئے ہوں گے۔ کہاجاتا ہے ” خلد جاریۃ “ جب اس کو خلد کے ذریعے مزین کرے اور خلد قرط (بالی) ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں یہ اہل دنیا کی وہ اولاد ہوگی جن کی نہ نیکیاں ہوں گی کہ ان پر ثواب دیا جائے اور نہ گناہ ہوں گے جن پر سزا دی جائے اس لئے کہ جنت میں اولاد نہ ہوگی تو یہ اہل جنت کے خادم ہوں گے۔
Ayah 56:1918 ۔” باکواب واباریق “ اکواب کو ب کی جمع ہے اور یہ گول منہ والے پیالے ان کے کڑے نہ ہوں اور ” اباریق وھی ذوات الخر اطیم “ سمیت ” اباریق لبریق لونھا من الصفاء وک اس من معین “ چھلکتی ہوئی شراب کے۔
Ayah 56:2019 ۔” لا یصدعون عنھا “ اس کے پینے سے ان کے سروں میں درد نہ ہوگا۔ ” ولا ینزفون “ یعنی نشہ نہ ہوگا۔ یہ اس وقت جب زاء کے زبر کے ساتھ پڑھا جائے اور جس کی زیر دی تو اس کا معنی ان کی شراب ختم نہ ہوگی۔
Ayah 56:2120 ۔” وفاکھۃ مما یتخیرون “ جو چاہیں گے لیں گے، کہا جاتا ہے ” تخیرت الشیء “ جب تو اس کا بہترین حصہ لے۔
Ayah 56:2221 ۔” ولحم طیر مما یشتھون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے دل میں پرندے کے گوشت کا خیال آئے گ تو جو وہ چاہے گا اس کے سامنے بن کر آجائے گا اور کہا گیا ہے کہ آدمی کے برتن میں سچ کر آجائے گا، پھر وہ اس کو کھائے جتنا چاہے گا پھر وہ اڑکر چلا جائے گا۔
Ayah 56:23حورعین کی تفسیر
22 ۔” وحورعین “ ابوجعفر، حمزہ، کسائی نے راء اور نون کے کسر ہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی و بحورعین اس کو اللہ تعالیٰ کے قول باکواب واباریق وفاکھۃ ولحم طیر “ کے اعراب میں تابع کردیا ہے۔ اگرچہ معنی میں مختلف ہیں۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے ” جب گانے والیاں ایک دن ظاہر ہوئیں، انہوں نے اپنی آبرو اور آنکھوں کو لمبا اور باریک کیا “۔
حالانکہ آنکھ کو لمبا اور باریک نہیں کیا جاتا آنکھ میں تو سرمہ ڈالا جاتا ہے اور اس مثل کلام میں بہت زیادہ ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کا میوئوں اور پرندوں کے گوشت اور حورعین کے ذریعے اکرام کیا جائے گا اور باقی حضرات نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ان پر حورعین چکر لگائیں گی اور اخفش فرماتے ہیں اور اس کو رفع دیا گیا ہے اس معنی پر کہ ” لھم “ حورعین اور حورعین کی تفسیر میں آیا ہے کہ سفید موتی آنکھوں والی ہوں گی۔
Ayah 56:2423 ۔” کا مثال الولو المکنون “ جو سیپیوں میں چھپی ہوئی ہیں ان کے ہاتھوں نے نہیں چھوا اور روایت کیا گیا ہے کہ جنت میں نور بلند ہوگا تو وہ کہیں گے یہ کیا ہے تو ان کو کہا جائے گا حور کے دانتوں کی چمک ہے جو اپنے خاوند کے سامنے ہنسی ہے اور روایت کیا گیا ہے کہ حور جب چلے گی تو پازیبوں کی تقدیس اس کی پنڈلیوں سے سنی جائے گی اور کنگنوں کی تمجید اس کی کلائیوں سے اور یاقوت کا ہار اس کی گردن سے ہنسے گا اور اس کے دونوں پائوں میں سونے کے دو جوتے ہوں گے ان کے تسمے موتی کے ہوں گے وہ تسبیح گنگنائیں گے۔
Ayah 56:2524 ۔” جزآء بما کانو یعملون “
Ayah 56:2625 ۔” لا یسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما۔
Ayah 56:2726 ۔” الا قیلا “ یعنی قول ” سلاما سلاما “ ان دونوں پر نصب اللہ تعالیٰ کے قول قیلا کے اتباع کی وجہ سے ہے۔ یعنی وہ سنیں گے قول ” سلاما سلاما “ کا۔ عطائؒ فرماتے ہیں وہ ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔ پھر اصحاب الیمین کو ذکر کیا اور ان کی شان سے تعجب کیا۔ پس فرمایا :
Ayah 56:2827 ۔” واصحاب الیمین ما اصحاب الیمین۔
Ayah 56:2928 ۔” فی سدر مخضود “ اس میں کوئی کانٹا نہ ہوگا گویا کہ اس کے کانٹے کاٹ دیئے گئے۔ یہ ابن عباس ؓ اور عکرمہ (رح) کا قول ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ہاتھوں کونہ کاٹے گا۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں وہ ایسا جس میں کوئی تکلیف نہ ہو۔ فرمایا جنت کے پھلوں میں سے کوئی غلاف اور چھلکے میں نہ ہو جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے لوبیا وغیرہ بلکہ وہ سارے کھائے پئے جائیں گے اور سونگھے جائیں گے اور دیکھے جائیں گے۔ ضحاک اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ جو بوجھ سے جھکے ہوئے ہوں۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اس کے پھل مٹکوں سے بڑے ہوں گے ۔ ابوالعالیہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں اور مسلمان نے وج کی طرف دیکھا، یہ طائف میں سرسبز وادی ہے تو ان کے بیران کو بڑے اچھے لگے تو انہوں نے کہا کاش ہمارے لئے اس کی مثل ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔
Ayah 56:3029 ۔” وطلح “ کیلے کا درخت ۔ اس کا واحد ” طلحۃ “ ہے اکثر مفسرین رحمہم اللہ سے یہی منقول ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں یہ کیلے کا درخت نہیں لیکن یہ ایسا درخت ہے جس کا ٹھنڈا عمدہ سایہ ہوتا ہے۔ فراء اور ابوعبیدہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” الطلح “ عرب کے نزدیک بڑا درخت اس کے کانٹے ہوں اور مجاہد نے حسن بن سعید سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی ؓ کے پاس پڑھا ” وطلح منضود “ تو فرمایا ” الطلح “ کی کیا شان ہے ؟ یہ تو طلع معضود ہے پھر پڑھا ” طلعھا ھضیھم “ میں نے کہا اے امیر المومنین یہ مصاحف میں حاء کے ساتھ ہے تو آپ اس کو تبدیل کیوں نہیں کردیتے ؟ تو فرمایا بیشک آج کے دن اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی اور المنضود تہہ بہ تہہ جو پک چکا ہوا اپنے تمام بوجھ کے ساتھ یہ ظاہر ٹہنی نہیں ہے۔ مسروق (رح) فرماتے ہیں جنت کے درخت ان کے شگوفوں ، تنوں سمیت سارا پھل ہے۔
Ayah 56:3130 ۔” وظل ممدود “ ہمیشہ کا اس کو سورج ختم نہ کرے گا اور عرب اس چیز کو ممدود کہتے ہیں جو ختم نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے سوار اس کے سائے میں سو سال چلے گا اس کا سایہ طے نہ کرسکے گا۔ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” وظل ممدود “ کے بارے میں نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں جنت میں درخت ہے عرش کے پائے پر اس کی طرف اہل جنت نکلیں گے۔ اس کے نیچے بیٹھ کر گپ شف کریں گے اور ان میں سے بعض دنیا کے لہو کی چاہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ جنت سے ایک ہوا بھیجیں گے تو یہ درخت دنیا کے ہر لہو (گانے وغیرہ) کے ساتھ حرکت کرے گا۔
Ayah 56:3231 ۔” ومآء مسکوب “ بہایا ہوا جو ہمیشہ چلے گا کبھی ختم نہ ہوگا۔
Ayah 56:3332 ۔” وفاکھۃ کثیرۃ۔
Ayah 56:3433 ۔” لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جب ان کو توڑا جائے گا تو ختم نہ ہوں گے اور جو ان کو لینے لگے گا اس کو روکا نہ جائے گا اور ان میں سے بعض نے کہا ہے زمانوں کی وجہ سے ختم نہ ہوں گے اور قیمت کی وجہ سے روکانہ جائے گا۔ جیسا کہ دنیا کے اکثر پھل جب سردی آجائے تو ان تک قیمت کے بغیر نہیں پہنچا جاسکتا اور قتیمی (رح) فرماتے ہیں یعنی ان پر باڑ نہ لگائی جائے گی جیسا کہ دنیا کے پھلوں پر لگائی جاتی ہے اور حدیث میں آیا ہے جنت کے پھلوں میں سے کوئی نہیں توڑا جاتا مگر اللہ اس کی جگہ دوگنا کردیتے ہیں۔
Ayah 56:3534 ۔” وفرش مرفوعۃ “ حضرت علی ؓ نے فرمایا ” وفرش مرفوعۃ “ تختوں پر اور مفسرین رحمہم اللہ کی ایک جماعت نے کہا ہے ایک دوسرے کے اوپر پس وہ بلند رکھے ہوئے ہوں گے۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول ” وفرش مرفوعۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کا بلند ہونا آسمان اور زمین کے درمیان کی طرح ہے اور بیشک آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اور کہا گیا ہے کہ فرش سے عورتیں مراد ہیں اور عرب عورت کا نام فراش اور لباس رکھتے ہیں استعارہ کی بناء پر۔ ” مرفوعۃ “ خوبصورتی اور مرتبہ میں دنیا کی عورتوں پر بلند ہوں گی۔ اس تاویل کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو اس کے بعد ہے۔
Ayah 56:3635 ۔” انا انشانا ھن انشائ “ ہم نے ان کو نئی پیدائش دی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی بوڑھی کھچڑی بالوں والی عورتوں کو۔ فرماتے ہیں ہم نے ان کو بڑھاپے کے بعد دوسری پیدائش دی۔
Ayah 56:3736 ۔” فجعلناھن ابکارا “ کنواریاں۔ حضرت حسن (رح) سے روایت ہے کہ ایک بوڑھی نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی اے اللہ کے رسول ! ﷺ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کردیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے فلاں کی ماں، بیشک جنت میں بوڑھیاں داخل نہ ہوں گی تو وہ رونے لگی۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اس کو خبردو کہ وہ بوڑھے ہونے کی حالت میں داخل نہ ہوگی بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” انا انشانا ھن انشاء فجعلنا ھن ابکارا “ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” انا انشاناھن انشائ “ کے بارے میں آپ (علیہ السلام) نے فرمایا دنیا میں بالکل بوڑھیاں تھیں ” فجعلنا ھن ابکار “ اور مسیب بن شریک فرماتے ہیں وہ دنیا کی بوڑھیاں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو نئی خلقت دی جب بھی ان کے پاس ان کے خاوند آئیں گے ان کو کنواری پائیں گے اور مسیب نے اپنے غیر سے ذکر کیا ہے کہ ان کو حورعین پر ان کے دنیا میں نماز پڑھنے کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے ۔ مقاتل (رح) اور ان کے علاوہ فرماتے ہیں وہ حورعین ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، ان پر کوئی ولادت وضع نہ ہوگی ۔ پس ان کو کنواریاں بنایا اور وہاں کوئی تکلیف نہ ہے۔
Ayah 56:3837 ۔” عربا “ حمزہ اور اسماعیل نے نفع اور ابوبکر رحمہما اللہ سے پڑھا ہے ” عربا “ راء کے سکون کے ساتھ باقی حضرات نے اس کو پیش کے ساتھ پڑھا اور وہ عروب کی جمع ہے۔ یعنی عشق کرنے والیاں اپنے خاوندوں کی محبوب، حسن اور مجاہد اور قتادہ اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ نے فرمایا ہے اور والبی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور عکرمہ نے ان سے روایت کیا ہے ” ملقۃ “ دل لبھانے والیاں اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ناز کرنے والیاں۔ اسامہ نے اپنے والد سے کہا ہے عربا عمدہ کلام والیاں ” اترابا “ عمر میں برابر ایک عمر پر۔
آیت عرباً اتراباً کی تفسیر
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے، بےریش ، سفید گھنگھریالے بالوں والے، سرمگیں آنکھوں والے ، تینتیس 33 سال کے آدم (علیہ السلام) کی خلقت پر اس کی لمبائی 60 ساٹھ گز میں ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ادنیٰ جنتی کے اسی 80 ہزار خادم اور بہتر 72 بیویاں ہوں گی اور اس کے لئے موتیوں، زمرد اور یاقوت کا گنبد بنایا جائے گا۔ جیسا کہ جابیہ سے صنعاء تک کا فاصلہ ہے اور اس سند سے نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے چہرے کی طرف اس کے رخساروں میں دیکھا جائے گا وہ شیشہ سے زیادہ صاف ہوگا اور بیشک ادنیٰ موتی اس پر مشرق و مغرب کے درمیان کو روشن کردے گا اور بیشک اس پر ستر کپڑے ہوں گے اس سے نگاہ پار ہوجائے گی حتیٰ کہ اس کی پنڈلی کا گودہ ان کے نیچے سے دیکھا جائے گا اور اسی سند سے نبی کریم ﷺ سے ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جو شخص چھوٹا یا بڑا اہل جنت میں سے مرجائے وہ تیس سال کے جنت میں اٹھائے جائیں گے اس پر کبھی زیادہ نہ ہوں گے اور اسی طرح اہل جہنم ہیں اور اسی سند سے نبی کریم ﷺ سے ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک ان پر تیجان ہوں گی۔ بیشک اس میں ادنیٰ موتی مشرق ومغرب کے درمیان کو روشن کردے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ادنیٰ مرتبہ کا جنتی اور ان سے کم کوئی نہ ہوگا اس پر صبح وشام دس ہزار خادم آئے جائیں گے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ عمدہ بات ہوگی جو اس کے ساتھی کے پاس نہ ہوگی۔
Ayah 56:3938 ۔” لا صحاب الیمین “ مراد یہ ہے کہ ہم نے ان کو پیدا کیا اور اصحاب یمین کے لئے۔
Ayah 56:4039 ۔” ثلۃ من الاولین “ ان مومنین میں سے جو اس امت سے پہلے تھے۔