Ayah 55:1سورة الرحمن
مدنیہ ہے اور اس کی اٹھہتر 78 آیات ہیں
Ayah 55:21 ۔” الرحمن “ نازل ہوئی جب انہوں نے کہا ” وما الرحمن “ (رحمان کون ہے ) اور کہا گیا ہے وہ اہل مکہ کا جواب ہے جب انہوں نے کہا کہ ان کو کوئی انسان سکھاتا ہے۔
Ayah 55:32 ۔” علم القرآن “ کلبی (رح) فرماتے ہیں قرآن محمد ﷺ کو سکھایا اور کہا گیا ہے ” علم القرآن “ اس کو نصیحت کے لئے آسان کیا۔
Ayah 55:43 ۔” خلق الانسان “ یعنی آدم (علیہ السلام) اس کو ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) نے کہا ہے ۔
Ayah 55:54 ۔” علمہ البیان “ ہر چیز کے نام اور کہا گیا ہے کہ تمام لغات سکھائیں اور آدم (علیہ السلام) سات زبانوں میں کلام کرسکتے تھے۔ ان میں افضل عربی ہے اور دیگر حضرات نے کا ہے کہ الانسان اسم جنس ہے اور اس سے تمام انسان مراد ہیں۔ ” علمہ البیان “ بولنا، لکھنا اور سمجھنا اور سمجھانا۔ حتیٰ کہ جو وہ کہے دوسرے کو سمجھ آئے اور جو اس کو کہا جائے وہ جان لیں۔
یہ ابوالعالیہ، ابن زید اور حسن رحمہم اللہ کا قول ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں ہر قوم کو ان کی زبان سکھائی جس کے ذریعے وہ کلام کریں گے اور ابن کیسان (رح) نے کہا ہے ” خلق الانسان “ یعنی محمد ﷺ کو۔ ” وعلمہ البیان “ جو ہوچکا اور جو آئندہ ہونے والا ہے اس کا بیان۔ اس لئے کہ وہ اولین وآخرین اور قیامت کے دن کی باتیں بیان کرتے تھے۔
Ayah 55:65 ۔” الشمس والقمر بحسبان “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں چکی کے دو پاٹوں کی طرح قطب رحا کی مثل میں چکر لگاتے ہیں۔ اس کے غیر نے کہا ہے اس کا معنی ہے یعنی وہ چلتے ہیں، حساب اور منازل کے ساتھ اس سے آگے نہیں بڑھتے۔ اس کو ابن عباس ؓ ، قتادہ (رح) نے کہا ہے اور ابن زید اور ابن کیسان رحمہما اللہ نے کہا ہے یعنی ان دونوں کے ذریعے اوقات اور مدتوں کا حساب کیا جاتا ہے اور اگر رات ودن سورج و چاند نہ ہوتے تو ان میں سے کچھ معلوم نہ ہوتا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں وہ دونوں اندازے کے ساتھ چلنے اور ” حسبان “ کبھی مصدر ہوتا ہے ” حسبت “ حساب وحسبانا کا جیسے غفران، تفران، رجحان، نقصان اور کبھی حساب کی جمع جیسے شبھان اور رکبان۔
Ayah 55:76 ۔” والنجم والشجر یسجدان “ النجم جس پودے کا تنہ نہ ہو اور الشجر جس کا تنہ ہو سردیوں میں باقی رہے اور ان دونوں کا سجدہ ان کے سایہ کا سجدہ ہے۔ جیسا کہ فرمایا ” یتفیئو اظلالہ عن الیمین والشمائل سجد اللہ “ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں النجم وہ ستارہ ہے اور اس کا سجود اس کا طلوع ہونا ہے۔
Ayah 55:87 ۔” والسمآء رفعھا “ زمین کے اوپر ” ووضع المیزان “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں میزان سے انصاف مراد ہے۔ معنی یہ ہے کہ انصاف کا حکم دیا اس پر اللہ تعالیٰ کا قول۔
Ayah 55:98 ۔” الا تطغوا فی المیزان “ دلالت کرتا ہے یعنی تم انصاف سے تجاوز نہ کرو اور حسن اور قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس سے وہ مراد ہے جس کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے انصاف اور برابری تک پہنچا جائے اور وزن کی اصل التقدیر ہے۔ ” الاتطغوا “ یعنی تاکہ تم مائل نہ ہوجائو اور ظلم کر بیٹھو اور تولنے میں حق سے تجاوز کر جائو۔
Ayah 55:109 ۔” واقیموا الوزن بالقسط “ انصاف کے ساتھ اور ابوالدردائ ؓ اور عطائؒ فرماتے ہیں اس کا معنی تم ترازو کی زبان کو انصاف کے ساتھ قائم کرو۔ ابن عینیہ (رح) فرماتے ہیں ہاتھ سے قائم کرنا اور دل سے انصاف کرنا۔ ” ولا تخسروا “ اور تم کم نہ کرو ۔ ” المیزان “ ماپنے اور تولنے میں کمی نہ کرو۔
Ayah 55:1110 ۔” والارض وضعھا للانام “ ان مخلوقات کے لئے جن کو اس میں بکھیرا ہے۔
Ayah 55:1211 ۔” فیھا فاکھۃ “ یعنی میوئوں کی اقسام۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں جن نعمتوں سے وہ لطف اندوز ہوتے ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔ ” والنخل ذات الاکمام “ وہ خوشے جن میں کھجور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ کھجور غلاف میں ہوتی ہے جب تک وہ پھٹے نہ۔ اس کا واحد کم ہے اور جو کسی چیز کو ڈھانپ لے وہ ” کم “ اور ” کمۃ “ ہے اور اسی سے قمیص کی آستین ہے اور ٹوپی کو ” کمشہ “ کہا جاتا ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں ذات الاکمام یعنی غلافوں والی اور حسن (رح) فرماتے ہیں اس کے ” اکمم “ اس کے پتے ہیں اور ابن زید (رح) فرماتی ہیں وہ شگوفہ ہے پھٹنے سے پہلے۔
Ayah 55:1312 ۔” والحب ذوالعصف “ حب سے وہ تمام دانے مراد ہیں جن کو کاٹا جائے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ کھیتی کے پتے ہیں۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں ” العصف “ زمین میں کاشت کیے جاتے ہیں اور ” العصف “ ہر چیز کے پتے جس سے دانے نکلیں۔ ابتداء میں پتے ظاہر ہوتے ہیں اور وہ العصف ہے پھر ٹہنی ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس میں خوشے پیدا کرتے ہیں پھر ان خوشوں میں دانے پیدا کرتے ہیں۔ والبی کی روایت میں ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ وہ بھوسہ ہے اور یہی ضحاک اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور عطیہ (رح) نے ان سے روایت کیا ہے کہ وہ سبز کھیتی کے پتے ہیں جب ان کے سرے کاٹے جائیں اور وہ خشک ہوجائیں۔
اس کی نظیر ” کعصف ماکول “ ہے۔ ” والریحان “ یہ رزق ہے۔ اکثر حضرات کے قول میں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے قرآن میں جہاں بھی الریحان کا لفظ ہے تو وہ رزق ہے۔ حسن اور ابن زیدرحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ تمہارا گلاب کا پھول جو سونگھا جاتا ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں ” العصف “ انجیر ہے اور ریحان اس کا پھل ہے۔ اور اکثر کی قرات ” والحب ذوالعصف والریحان “ سارے مرفوع ہیں فاکھہ پر عطف کرتے ہوئے اور ابن عامر (رح) نے ” والحب ذوالعصف والریحان “ باء اور نون کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور ذوالف کے ساتھ ذا پڑھا ہے۔ اس معنی پر کہ انسانوں کو پیدا کیا ہے اور ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” والریحان “ زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” العصف “ پر پیدا کیا ہے اور ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” والریحان “ زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” العصف “ پر لطف کرتے ہوئے پس لوگوں اور چوپایوں کی روزی کو ذکر کیا پھر جنوں اور انسانوں کو مخاطب کیا۔
Ayah 55:1413 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبان “ مراد جن وانس ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ان مذکورہ اشیاء میں سے اور اس آیت کا اس سورت میں تکرار کیا ہے نعمت کو پختہ کرنے اور اس کے ذریعے نصیحت کی تاکید کے لئے عرب کی عادت کے مطابق کہ وہ ابلاغ واشباع میں ایسا کرتے ہیں۔ مخلوق پر اپنی نعمتوں کو گنوایا ہے اور ہر دو نعمتوں کے درمیان وہ بات ذکر کی ہے جو ان کو اس پر تنبیہ کردے۔
جیسے آدمی کا قول اس کو جو اس کی طرف احسان کرے اور اس پر لگاتار انعامات کرے اور وہ اس کا انکاروکفر کرے۔ ” الم تکن فقیرا فاغنیتک افتنکر ھذا ؟ “ کیا تو فقیر نہیں تھا میں نے تجھے مال دار کیا، کیا تو اس کا انکار کرتا ہے ؟ کیا تو ننگا نہیں تھا تو میں نے تجھے کپڑے پہنائے، کیا تو اس کا انکار کرتا ہے ؟ کیا تو رسوا نہیں تھا تو میں نے تجھے عزت دی کیا تو اس کا انکار کرتا ہے ؟ اور اس تکرار کی مثل کلام میں عرب شائع ذائع (کثیر) ہے اور تثنیہ کے لفظ سے خطاب کیا ہے۔ عرب کی عادت کے مطابق کہ وہ واحد کو تثنیہ کے لفظ سے خطاب کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” القیافی جھنم “ ہے۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم پر سورة الرحمن پڑھی حتیٰ کہ اس کو ختم کیا، پھر فرمایا مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں خاموش دیکھتا ہوں ؟ ” رقبۃ “ جن تم سے زیادہ اچھا جواب دینے والے تھے جب بھی میں ان پر یہ آیت ایک مرتبہ پڑھتا۔ ” فبای آلاء ربکما تکذبن “ تو وہ کہتے اے ہمارے رب ! تیری نعمتوں میں سے کسی کو ہم نہیں جھٹلاتے۔ پس تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں۔
Ayah 55:1514 ۔” خلق الانسان من صلصال کالفخار “
Ayah 55:1615 ۔” وخلق الجان “ اور یہ ابوالجن ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ ابلیس ہے۔ ” من مارج من نار “ یہ آ گ کے شعلوں میں سے خالص شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ شعلہ جس میں سرخ زرد اور سبز شعلہ مل جل گئے ہوں، جب آگ جلائی جائے تو یہ اس کے اوپر ہوتا ہے۔ یہ ان کے قول مرج المرالقوم سے مشتق جب معاملہ خلط ملط ہوجائے تو بولا جاتا ہے۔
Ayah 55:1716 ۔” فبای الاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:1817 ۔” رب المشرقین “ سردیوں کی مشرق اور گرمیوں کی مشرق کا۔ ” ورب المغربین “ گرمیوں کی مغرب اور سردیوں کی مغرب کا۔
Ayah 55:1918 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “
Ayah 55:2019 ۔” مرج البحرین “ میٹھا اور کھار ان کو بھیجا اور ملادیا۔ ” یلتقیان “۔
Ayah 55:2120 ۔” بینھما برزخ “ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے رکاوٹ ہے۔ ” لا یبغیان “ نہ ملتے ہیں اور نہ متغیر ہوتے ہیں اور نہ ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں لوگوں پر غرق کرنے کے ذریعے سرکشی نہیں کرتے اور حسن (رح) فرماتے ہیں مرج البحرین یعنی بحرروم اور بحر ہند اور تم ان دونوں کے درمیان رکاوٹ ہو اور قتادہ (رح) سے ہے کہ بحر فارس اور بحرروم ان دونوں کے درمیان جزیرے رکاوٹ ہیں اور مجاہد اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں آسمان کا بحر اور زمین کا بحر (سمندر) ہر سال ملتے ہیں۔
Ayah 55:2221 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “
Ayah 55:2322 ۔” یخرج منھما “ اہل مدینہ اور اہل بصرہ نے ” یخرج “ یاء کے پیش اور راء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے باء کے زبر اور راء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” اللئولئو والمرجان “ یہ کھارے سمندر سے نکلتے ہیں نہ کہ میٹھے سے۔ اور یہ کلام عرب میں جائز ہے کہ دو چیزوں کو ذکر کیا جائے، پھر ان میں سے کسی ایک کو کسی فعل کے ساتھ خاص کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم “ حالانکہ رسول تو انسانوں میں سے ہوئے ہیں نہ کہ جنوں میں سے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ آسمان کے پانی اور سمندر کے پانی سے نکلتا ہے۔ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ جب آسمان سے بارش ہوتی ہے تو سپیاں اپنا منہ کھول دیتی ہیں۔ پس جب ایک قطرہ بھی ان میں گر جاتا ہے تو ” لئو لئو “ پیدا ہوتے ہیں اور بڑے موتی کو ” لئو لئو “ اور چھوٹے کو مرجان کہتے ہیں اور مقاتل اور مجاہد رحمہما اللہ نے اس کا الٹ کہا ہے اور کہا گیا ہے مرجان سبزرنگ۔
Ayah 55:2423 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:2524 ۔” ولہ الجوار “ بڑی کشتیاں ” المنشئات “ حمزہ اور ابوبکر رحمہما اللہ نے ” المنشئات “ شین کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” المنشئات السیر “ یعنی جنہوں نے چلنے کی ابتداء کی اور دیگر حضرات شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اٹھائی ہوئیں جن کی لکڑیاں ایک دوسرے کے اوپر اٹھائی گئی ہوں اور کہا گیا وہ کشتی جس کا بادبان بلند کیا گیا ہو اور جس کا بادبان بلند نہ کیا گیا ہو وہ ” منشئات “ میں سے نہیں ہے اور کہا گیا ہے جو تابع کی گئی ہیں۔ ” فی البحر کالاعلام “ پہاڑوں کی طرح علم کی جمع ہے اور وہ لمبا پہاڑ۔ کشتی کو سمندر میں خشکی کے پہاثوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
Ayah 55:2625 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “
Ayah 55:2726 ۔” کل من علیھا “ یعنی زمین پر جو حیوان ہے۔ پس بیشک وہ ” فان “ ہلاک ہونے والا ہے۔
Ayah 55:2827 ۔” ویبقی وجہ ربک ذوالجلال “ عظمت و بڑائی والا۔ ” والاکرام “ یعنی اپنے انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کا اپنے لطف و جلال و عظمت کے ساتھ اکرام کرنے والا ہے۔
Ayah 55:2928 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:3029 ۔” یسالہ من فی السموات والارض “ فرشتے اور جن وانس میں سے ۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اس سے زمین و آسمان والے مستغنی نہیں ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں پس آسمان والے اس سے مغفرت کا سوال کرتے ہیں اور زمین والے اس سے رزق، توبہ اور مغفرت کا سوال کرتے ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس سے زمین والے رزق اور مغفرت کا سوال کرتے ہیں اور فرشتے بھی ان کے لئے رزق اور مغفرت کا سوال کرتے ہیں۔ ” کل یوم ھو فی شان “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب انہوں نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ ہفتہ کے دن کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کی شان یہ ہے کہ وہ زندگی دیتا اور موت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے اور ایک قوم کو عزت دیتا ہے اور ایک قوم کو ذلیل کرتا ہے اور مریض کو شفا دیتا ہے اور قیدی کو چھڑاتا ہے اور مصیبت زدہ کی مصیبت دور کرتا ہے اور پکارنے والے کو جواب دیتا ہے اور مانگنے والے کو دیتا ہے اور گناہ معاف کرتا اور مخلوق کے بارے میں اس کے افعال واحداث احاطہ شمار سے باہر ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ان چیزوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں ایک تختی ہے جو سفید موتی کی بنی ہے اس کے گتے سبز یا قوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اور نور کی لکھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ نظر کرتے ہیں، پیدا کرتے اور رزق دیتے ہیں اور زندہ کرتے اور موت دیتے ہیں اور عزت وذلت دیتے ہیں اور جو چاہے کرتے ہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” کل یوم ھو فی شان “ ہے۔ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں سارا ادھر اللہ تعالیٰ کے ہاں دو دن ہیں، ان میں سے ایک دنیا کے ایام کی مدت اور دوسرا قیامت کا دن۔ پس وہ شان جس میں وہ ہے وہ دن ہے جو دنیا کی مدت میں ہے امرونہی کے ذریعے آزمائش کرنا، زندہ کرنا، موت دینا اور عطاء کرنا اور روکنا اور قیامت کے دن کی شان جزاء اور حساب اور ثواب و عقاب ہے اور کہا گیا ہے۔ حق تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ ہر دن ورات میں تین لشکر نکالتا ہے ایک لشکرآباء کی پشتوں سے مائوں کے رحموں کی طرف اور ایک لشکر رحموں سے دنیا کی طرف اور ایک لشکر دنیا سے قبروں کی طرف۔ پھر وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف کوچ کریں گے اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں وہ تقدیر کو اس کو وقت پر جاری کرنا ہے۔
Ayah 55:3130 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:3231 ۔” سنفرغ لکم “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے سیفرغ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” یسالہ من فی السموات والارض “ اور ” ویبقی وجہ ربک “ اور ” ولہ الجوار “ کی وجہ سے۔ پس خبر کا اتباع کیا اور دیگر حضرات نون کے ساتھ پڑھا ہے اور اس مراد مشغولیت سے فارغ ہونا نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک شان دوسری سے مشغول نہیں فارغ ہوتا ہوں حالانکہ اس کو کوئی مصروفیت نہیں ہوتی اور یہ ابن عباس ؓ اور ضحاک (رح) کا قول ہے اور یہ فراغ اس وجہ سیاچھا ہے کہ پہلے شان کا ذکر گزر چکا ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے اس کا معنی عنقریب ہم تمہارا ارادہ کریں گے مہلت دینے کے بعد اور ہم تمہارے معاملہ میں شروع ہوں گے جیسے اس شخص کا قول جس کو کوئی مصروفیت نہیں ہوتی لیکن کہتا ہے ” قد تفرغت لک “ میں آپ کے لئے فارغ ہوگیا ہوں۔
اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ سے وعدہ کیا ہے اور اہل فجور کو دھمکی دی ہے۔ پھر فرمایا ” سنفرغ لکم “ اس سے جو تم سے وعدہ کیا ہے اور ہم نے تمہیں خبر دی ہے۔ پس ہم تمہارا محاسبہ کریں گے اور تمہیں بدلہ دیں گے اور جو تم سے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کریں گے۔ پس ہم اس کو مکمل کریں گے اور اس سے فارغ ہوں گے اور اسی طرف حسن اور مقاتل رحمہما اللہ گئے ہیں۔ ” ایھا الثقلان “ یعنی جب وانس ان کا نام ثقلین رکھا گیا ہے۔ اس لئے کہ زندگی اور موت دونوں میں زمین پر بوجھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” واخرجت الارض اثقالھا “ اور اہل معانی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ہر چیز جس کی قدر اور وزن ہو اور گراں قیمت ہو اس میں ثقل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تم میں ثقلین چھوڑ کر جانے والا ہوں کتاب اللہ اور میری آل۔ پس ان دونوں کو ثقل قرار دیا ان کے قدرومرتبہ کو بڑھانے کے لئے اور جعفر بن محمد صادق ؓ فرماتے ہیں جن و انسان کا نام ثقلین رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ دونوں گناہوں سے بوجھل ہیں۔
Ayah 55:3332 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:3433 ۔” یامعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا “ یعنی تم تجاوز کر جائو اور نکل جائو۔ ” من اقطار السموات والارض “ یعنی ان دونوں کے اطراف و جوانب سے۔ ” فانفذوا “ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ موت سے بھاگ جائو زمین و آسمان کے اطراف سے نکل کر تو بھاگ جائو اور اس سے نکل جائو اور مطلب یہ ہے کہ تم جہاں بھی ہوگے موت تمہیں پالے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اینما تکونوا یدرککم الموت “ اور کہا گیا ہے کہ ان کو یہ قیامت کے دن کہا جائے گا کہ اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمان و زمین سے تجاوز کر جائو اور اپنے رب کو عاجز کردو تاکہ وہ تم پر قادر نہ ہوسکے تو تجاوز کرجائو۔ ” لا تنفذون الا بسلطان “ یعنی ملک کے ذریعے اور کہا گیا ہے حجت کے ذریعے اور سلطان وہ قوت جس کے ذریعے کسی کام پر مسلط ہوجائے (چھا جائے) پس ملک وقدرت وحجت سب سلطان ہیں۔ مراد یہ ہے کہ تم جہاں بھی متوجہ ہوجائو تم میرے ملک اور میری سلطنت میں ہو۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ اگر تم طاقت رکھو کہ تم جان لو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے تو خوب جان لو اور تم ہرگز اس کو نہ جانو گے مگر سلطان کے ساتھ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل کے ساتھ اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ” الا بسلطان “ یعنی الی سلطان ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وقد احسن ہی “ یعنی ” الی “ ہے۔
Ayah 55:3534 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “ اور حدیث میں ہے کہ مخلوق کا فرشتوں اور آگ کی زبان کے ذریعے احاطہ کیا جائے گا ، پھر آواز دی جائے گی۔ ” یا معشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا “
Ayah 55:3635 ۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” یرسل علیکما شواظ من نار “ ابن کثیر (رح) نے شین کی زیر کے ساتھ اور دیگر حضرات نے اس کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں جیسے ” صوار من البقر “ اور ” صوار۔ شواظ “ آگ کا وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور مجاہد (رح) اللہ فرماتے ہیں یہ سبز شعلہ جو آگ سے جدا ہوتا ہے ۔ ” ونحاس “ ابن کثیر (رح) اور ابو عمر نے نحاس سین کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے نار پر عطف کرتے ہوئے۔
اور باقی حضرات نے اس کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے شواظ پر عطف کرتے ہوئے۔ سعید بن جبیر اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں النحاس دھواں اور یہی عطاء کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور معنی یہ ہے کہ ” یرسل علیکما شواظ ویرسل نحاس ھذا مرۃ وھذہ مرۃ “ یعنی تم دونوں پر شعلہ بھیجا جائے گا اور دھواں بھیجا جائے گا۔ یہ ایک مرتبہ اور یہ ایک مرتبہ۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دونوں اکٹھے بھیجے جائیں ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملے اور جس نے ” النار “ پر عطف کی وجہ سے جردی ہے تو وہ ضعیف ہے اس لئے کہ ہوگی ” شواظ من نحاس “ پس ممکن ہے کہ اصل عبارت ” شواظ من نار “ (آگ کا شعلہ)” وشیء من نحاس “ (تھوڑا سا دھواں) ہو (ضعیف) اس بنا پر کہ حکایت کیا گیا ہے کہ شواظ (شعلہ) آگ اور دھوئیں سے نہیں ہوتا۔ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں النحاس پگھلا ہوا پیتل جوان کے سروں پر انڈیلا جائے گا اور یہی عوفی (رح) کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” النحاس مھل “ (پگھلا ہوا تار کول یا پگھلی ہوئی معدنیات لوہا وغیرہ) ہے۔ ” فلا تنتصران “ یعنی پس یہ دونوں اللہ کے عذاب سے نہ روکیں گے اور نہ تمہارے لئے کوئی مددگار ہوگا۔
Ayah 55:3736 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:3837 ۔” فاذا انشقت “ پھٹ جائے گا۔ ” السماء “ پس دروازہ ہوجائے گا فرشتوں کے اترنے کے لئے ” فکالت وردۃ “ یعنی ورد گھوڑے کے رنگ کی طرح اور وردایسا سفید رنگ جو سرخی اور زردی کی طرف مائل ہو۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ آج کے دن سبز ہے اور اس دن اس کا دوسرا رنگ ہوگا جو سرخی کی طرف مائل ہوگا اور کہا گیا ہے کہ اس کے اس دن مختلف رنگ ہوں گے جیسے ورد گھوڑے کے رنگ کی طرح ۔ بہار میں زرد ہوتا ہے اور سردیوں کی ابتداء میں سرخ اور جب سخت سردی ہو تو غبار آلود ہوتا ہے تو آسمان کے پھٹنے کے وقت رنگ بدلنے کو اس گھوڑے کے رنگ بدلنے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ ” کالدھان “ دھن کی جمع، آسمان کے رنگ بدلنے کو گھوڑے کے رنگ بدلنے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور وردۃ کو اس کے رنگوں کے مختلف ہونے میں دھن اور اس کے مختلف رنگوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
اور یہی ضحاک ، مجاہد اور قتادہ اور ربیع رحمہم اللہ کا قول ہے اور عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں کہ ” کالدھان “ تل کے تیل کی طرح جو ایک گھڑی میں کئی رنگ بدلتا ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کلاب کے خالص تیل کی طرح۔ ابن جریج فرماتے ہیں کہ آسمان پگھلے ہوئے تیل کی طرح ہوجائے گا۔ جب اس کہ جہنم کی گرمی پہنچے گی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ” کالدھان “ یعنی سرخ چمڑے کی طرح اس کی ” ادھنۃ “ اور دھن ہے۔
Ayah 55:3938 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Ayah 55:4039 ۔” فیومئذ لا یسئل عن ذنبہ انس ولاجان “ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ اپنے گناہوں کے بارے میں سوال نہ کیے جائیں گے تاکہ ان کی طرف سے معلوم کیا جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتے ہیں اور فرشتوں نے ان پر لکھ بھی لیا ہے۔ یہ عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ فرشتے مجرمین کے بارے میں سوال نہ کیے جائیں گے تاکہ ان کی طرف سے معلوم کیا جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتے ہیں اور فرشتوں نے ان پر لکھ بھی لیا ہے۔ یہ عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ فرشتے مجرمین کے بارے میں سوال نہ کریں گے۔ اس لئے کہ وہ ان کو ان کی علامتوں سے پہچان لیں گے۔ اس کی دلیل کے بعد والی آیت ہے اور یہ مجاہد (رح) کا قول ہے اور ابن عباس ؓ سے اس آیت اور اللہ تعالیٰ کے قول ” فوربک لنسئلنھم اجمعین ‘ ‘ میں تطبیق کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے یہ نہ پوچھیں گے کہ تم نے یہ یہ عمل کیا ہے ؟ اس لئے کہ وہ اس کو خوب جانتے ہیں لیکن ان سے یہ پوچھیں گے تم نے یہ یہ عمل کیوں کیا ؟ اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں وہ کوئی جگہیں ہیں۔ بعض میں ان سے پوچھا جائے گا اور بعض میں نہیں پوچھا جائے گا اور ابن عباس ؓ سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ وہ شفقت ورحمت سے نہ پوچھے جائیں گے وہ تو ڈانٹ کے ذریعے پوچھے جائیں گے۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ غیر مجرم سے مجرم کے گناہوں کا سوال نہ کیا جائے گا۔