Ayah 54:1سورة القمر
مکی ہے اور اس کی پچپن 55 آیات ہیں
Ayah 54:21 ۔” اقتربت الساعۃ “ قیامت قریب ہوگئی۔” وانشق القمر “ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان کو کوئی نشانی دکھائیں تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھایا حتیٰ کہ ان دونوں کے درمیان انہوں نے حراء کو دیکھا۔ شیبان نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان کو چاند کے ٹکڑے کرنا دو مرتبہ دکھایا۔ ابو معمر کی ابن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں چاند کے دوٹکڑے ہوگئے، ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور ایک ٹکڑا اس سے نیچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم گواہ ہوجائو۔ مسروق نے عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ چاند مکہ میں دو ٹکڑے ہوا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں دو ٹکڑے ہوا پھر اس کے بعد جڑ گیا۔ مسروق نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تو قریش نے کہا تم پر ابن ابی کبشہ نے جادو کردیا ہے۔ پس تم سفر سے آنے والوں سے پوچھوں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ہاں ہم نے بھی اس کو دیکھا ہے تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” اقتربت الساعۃ وانشق القمر “۔
Ayah 54:32 ۔” وان یروا آیۃ یعرضوا یقولوا سحر مستمر “ یعنی جانے والا عنقریب چلا جائے گا اور باطل ہوجائے گا۔ یہ ان کے قول ” مر الشیء واستمر “ سے مشتق ہے یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ شے چلی جائے۔ ان کے قول ” فرواستقر “ کی طرح۔ یہ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور ابوالعالیہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں مستمر یعنی قوی سخت جوہر جادو پر غالب آجائے یہ ان کے قول ” مرالحیبل “ سے مشتق ہے جب رسی سخت اور مضبوط ہو تو یہ کہا جاتا ہے اور ” امررتہ انا “ جب تو اس کی بٹائی مضبوط کرے اور ” استمرالشیئ “ جب مضبوط اور پکی ہو۔
Ayah 54:43 ۔” وکذبوا واتبعوا اھواء ھم “ یعنی نبی کریم ﷺ کی تکذیب کی اور جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا معائنہ کیا اس کی بھی اور اس کی اتباع کی جو شیطان نے ان کے لئے مزین کیا۔ ” وکل امر مستقر “ کلبی (رح) فرماتے ہیں ہر امر کی حقیقت جو دنیا کا ہے تو عنقریب ظاہرہوجائے گا اور جو آخرت کا ہے وہ عنقریب معلوم ہوجائے گا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہر امر مستقر ہے۔ پس خیر اہل خیر کے ساتھ ثابت اور شر اہل شر کے ساتھ ثابت ہے۔
اورکہا گیا ہے کہ ہر امر خیر ہو یا شر اس کا ٹھکانہ ثابت ہے۔ پس خیر اہل خیر کے ساتھ جنت میں ثابت ہے اور شر اہل شر کے ساتھ جہنم میں ثابت ہے اور کہا گیا ہے کہ تصدیق کرنے والوں کا قول اور تکذیب کرنے والوں کا قول ثابت ہے حتیٰ کہ وہ اس کی حقیقت پہچان لیں گے ثواب اور عقاب کے ذریعے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہر بات کی انتہا ہے اور کہا گیا ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں لکھی وہ یقینی طور پر واقع ہونے والی ہے اور ابو جعفر (رح) نے ” مستقر “ راء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
Ayah 54:54 ۔” ولقدجاء ھم “ یعنی اہل مکہ ” من الانبائ “ جھٹلانے والی امتوں کی خبریں قرآن میں۔ ” مافیہ مزدجر “ اس کی انتہاء نہیں مصدر ہے ” ازدجار “ کے معنی میں۔ یعنی نہی اور نصیحت ۔ کہا جاتا ہے ” زجرتہ وازدجرتہ “ جب تو اس کی برائی سے روک دے اور اس کی اصل مزتجر ہے تاء کو دال سے تبدیل کیا گیا ہے۔
Ayah 54:65 ۔” حکمۃ بالغۃ “ یعنی قرآن مکمل حکمت ہے روکنے میں انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ ” فما تغن النذر “ یہ بھی جائز ہے کہ ” ما “ نفی ہو اس معنی پر کہ پس ان کو ڈرانے والوں نے نفع نہ دیا اور یہ بھی جائز ہے کہ استفہام ہو اور معنی پس کون سی چیز ڈرانے والوں کو نفع دے گی جب انہوں نے ان کی مخالفت کی اور ان کو جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” وماتغنی الآیات والنذر عن قوم لا یومنون “ کی طرح اور نذر ونذیر کی جمع ہے۔
Ayah 54:76 ۔” فتول عنھم “ یعنی ان سے اعراض کریں۔ اس کو قتال کی آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ کہا گیا ہے یہاں وقف تام ہے اور کہا گیا ہے۔ ” فتول عنھم یوم یدع الداع “ یعنی بلانے والے کے دن کی طرف۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ اسرافیل ہیں وہ بیت المقدس کے صخرہ پر کھڑے ہوکر پھونک ماریں گے۔ ” الی شیء نکر “ اوپر سے ہیبت ناک جس کی مثل انہوں نے نہ دیکھا ہوگا۔ پس وہ اس کی عظمت کی وجہ سے اس کا انکار کریں گے۔ ابن کثیر (رح) نے ” نکر “ کاف کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر نے اس کے پیش کے ساتھ۔
Ayah 54:87 ۔” خشعا ابصارھم “ ابو عمرو اور یعقوب اور حمزہ وکسائی رحمہم اللہ نے ” خاشعا “ پڑھا ہے واحد کا صیغہ اور دیگر حضرات نے ” خشعا “ خاء کے پیش اور شین کی شد کے ساتھ پڑھا ہے جمع کا صیغہ اور اسم فاعل جب اس کو جماعت پر مقدم کیا جائے تو واحد اور جمع اور مذکر ومونث سب جائز ہیں تو کہے گا۔ ” مررت برجال حسن اوجھھم وحسنۃ او جھھم وحسان اوجھھم “ شاعر کہتا ہے :
اور مرد حسین چہروں والے
ایاد بن نزار بن معد سے ہیں
اور عبداللہ کی قرات میں ” خاشعۃ ابصارھم “ یعنی ذلیل جھکی ہوئی عذاب دیکھنے کے وقت۔ ” یخرجون من الاجداث “ قبروں سے۔ ” کانھم جراد منتشر “ اور منتشر کو لفظ جراد پر ذکر کیا گیا ہے اس کی نظیر ” کالفراش المبثوث “ ہے اور مراد یہ ہے کہ وہ گھبرائے ہوئے نکلیں گے کوئی خاص جہت کسی کے لئے نہ ہوگی جس کی طرف وہ متوجہ ہوں ٹڈیوں کی طرح کہ ان کی کوئی جہت نہیں ہوتی آپس میں ایک دوسرے میں ملی ہوتی ہیں۔
Ayah 54:98 ۔” مھطعین “ جلدی سے متوجہ ہوں گے۔ ” الی الداع “ اسرافیل کی آواز کی طرف ” یقول الکافرون ھذا یوم عسر “ سخت دن ہے۔
Ayah 54:109 ۔” کذبت قبلھم “ یعنی اہل مکہ سے پہلے ” قوم نوح فکذبوا عبدنا “ نوح (علیہ السلام) ” وقالوا مجنون وازدجر “ یعنی انہوں نے نوح (علیہ السلام) کو دعوت اور گفتگو سے روکا گالم گلوچ اور وعید کے ذریعے اور انہوں نے کہا ” لئن لم تنتہ یا نوح لتکونن من المرجومین “ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” ازدجر “ کا معنی ان پر جنون کا بہتان لگایا گیا۔
Ayah 54:1110 ۔” فدعا “ نوح (علیہ السلام) نے ” ربہ “ اور کہا ” انی مغلوب فانتصر “ تو میرے لئے ان سے انتقام لے۔
Ayah 54:1211 ۔” ففتحنا ابواب السماء بما منھمر “ تیزی سے بہایا جانے والا جو چالیس دن نہیں رکا اور ایمان (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان کو بند کردیا۔
Ayah 54:1312 ۔” وفجرنا الارض عیونا فالتقی المآئ “ یعنی آسمان اور زمین کا پانی اور ” التقی المائ “ کہا ہے اور ” التقائ “ ایک سے نہیں ہوتا دو یا زائد سے ہوتا ہے اس لئے کہ الماء جمع اور واحد ہوتا ہے اور عاصم الجحدری (رح) نے ” فالتقی الما آن “ پڑھا ہے۔ ” علی امر قد قدر “ یعنی ان پر فیصلہ کیا گیا ام الکتاب میں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا کہ دونوں پانی برابر ہوجائیں تو وہ دونوں اس تقدیر پر ہوئے۔
Ayah 54:1413 ۔” وحملناہ “ یعنی نوح (علیہ السلام) کو ” علی ذات الواح ودسر “ یعنی تختوں والی کشتی پر صفت کو ذکر کیا گیا ہے اور نام کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔ الواح سے کشتی کے چوڑے پھٹے مراد ہیں۔ ” ودسر “ میخیں جن کے ذریعے تختے جوڑے جاتے ہیں۔ اس کا واحد دسار اور دسیر ہے۔ کہا جاتا ہے ” دسرت السفینۃ “ جب تو اس کو میخوں سے مضبوط جوڑ دے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” الدسر “ کشتی کا سینہ، اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ اپنے سینہ (اگلے حصہ) سے پانی کو ہٹاتی ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں یہ کشتی کی چوڑائیاں ہیں اور کہا گیا ہے اس کی پسلیاں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں الواح اس کی دونوں جانب ہیں اور الدسر اس کی جڑ اور اس کے دونوں طرف۔
Ayah 54:1514 ۔” تجری باعیننا “ یعنی ہماری نگاہ میں۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں ہماری حفاظت میں اور اسی سے ان کا قول ہے الوداع کہنے والے کو ” عین اللہ علیک “ اللہ تیری حفاظت کریں اور سفیان (رح) فرماتے ہیں ہمارے حکم سے۔ ” جزآء لمن کان کفر “ یعنی ہم نے کشتی اور ان کے ساتھ جو کیا نوح (علیہ السلام) کو نجات دینے اور ان کی قوم کو غرق کرنے کے ساتھ یہ ثواب ہے اس کا جس کا کفر کیا گیا اور اس کے امر کا انکار کیا گیا اور وہ نوح (علیہ السلام) ہیں اور کہا گیا من ماء کے معنی میں ہے یعنی اس کی جزاء ہے جو اس نے اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا ان پر جن کو اس نے غرق کیا یا اسکی جزاء ہے جو انہوں نے نوع (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کے ساتھ کیا اور مجاہد (رح) نے ” جزاء لمن کان کفر “ کاف اور فاء کے زبر کے ساتھ پڑھا یعنی یہ غرق بدلہ ہے اس کا جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا۔
Ayah 54:1615 ۔” ولقد ترکناھا “ یعنی جو ہم ن یان کے ساتھ کیا۔ ” آیۃ “ جس کے ذریعے عبرت حاصل کی جائے اور کہا گیا ہے کہ کشتی مراد ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو جزیرہ کی زمین باقر دی پر باقی رکھا ہے۔ عبرت اور نشانی بنا کر حتیٰ کہ اس کو اس امت کے ابتدائی لوگوں نے دیکھا ہے۔ ” فھل من مدکر “ یعنی نصیحت حاصل کرنے والا عبرت لینے والا ڈرانے والا ان کی سزا کی مثل سے۔ ابواسحاق (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو سنا کہ اس نے اسود سے اللہ تعالیٰ کے قول ” فھل من مدکر “ کے بارے میں پوچھا کہ مذکر ہے یا مدکر ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے نا کہ وہ اس کو ” فھل من مدکر “ پڑھتے تھے اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ اس کو ” فھل من مدکر “ پڑھ رہے تھے دال کے ساتھ۔
Ayah 54:1716 ۔” فکیف کان عذابی ونذر “ یعنی ڈرانا۔ فراء فرماتے ہیں انذار اور نذر دونوں مصدر ہیں عرب کہتے ہیں اندرت انذار او نذرا۔ ان کے قول ” انفقت انفاقا ونفقۃ “ کی طرح اور ” ایقنت ایقانا ویقینا “ کی طرح ۔ اسم کو مصدر کے قائم مقام کیا گیا ہے۔
Ayah 54:1817 ۔” ولقد یسرانا “ ہم نے آسان کیا۔ ” القرآن للذکر “ تاکہ اس کے ذریعے نصیحت و عبرت حاصل کی جائے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ہم نے اس کو حفظ قرات کے لئے آسان کیا اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے قرآن کے سوا کوئی ایسی نہیں ہے جو ساری حفظا پڑھی جائے۔ ” فھل من مدکر “ اس کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرنے والا۔
Ayah 54:1918 ۔” کذبت عاد فکیف کان عذابی ونذر۔
Ayah 54:2019 ۔” انا ارسلنا علیھم ریحا صرصرا “ سخت، گردوغبار اڑانے والی۔ ” فی یوم نحس مستمر “ سخت دائمی نحوست والا۔ ان پر تقریباً ایک سال جاری رہا۔ ان میں سے کوئی ایسا نہ بچا جو ہلاک نہ ہوا ہو۔ کہا گیا کہ یہ بدھ کا دن تھا مہینہ کے آخر میں۔
Ayah 54:2120 ۔” تنزع الناس “ ان کو اکھاڑ دیا، پھر ان کے سروں کے بل ان کو پھینک دیا۔ پس ان کی گردنیں کاٹی گئیں اور روایت کیا گیا ہے کہ لوگوں کو قبروں سے نکال دے گی۔ ” کانھم اعجاز نخل “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے تنے ہیں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کھجور کی جڑیں (چوترا) ہیں۔ ” منقعر “ اپنی جگہ سے اکھڑنے والے زمین پر گرے ہوئے اور اعجاز کا واحد عجز ہے جیسے عضد اور اعضاء اور ” اعجاز نخل “ کہا ہے اور وہ اس کے تنے جن کی جڑیں کاٹی گئی ہوں اس لئے کہ ہوا نے ان کے سروں کو جسموں سے جدا کردیا۔ پس ان کے جسم بغیر سروں کے رہ گئے۔
Ayah 54:2221 ۔” فکیف کان عذابی ونذر۔
Ayah 54:2322 ۔” ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر۔
Ayah 54:2423 ۔” کذب ثمود بالنذر “ اس ڈرانے کو جوان کے پاس صالح (علیہ السلام) لائے تھے۔
Ayah 54:2524 ۔” فقالوا ابشرا “ آدمی۔ ” منا واحدا نتبعہ “ اور ہم بڑی جماعت ہیں اور وہ اکیلے ہیں۔ ” انا اذا نفی ضلال غلطی میں۔ ” وسعر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عذاب میں اور حسن (رح) فرماتے ہیں سخت عذاب میں۔
اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ذلت میں۔ وہ کہنے لگے بیشک تب تو ہم ذلت اور عذاب میں ہوں گے کہ ہمیں اس کی اطاعت لازم ہوگی۔ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں یہ سعیر کی جمع ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں جنون۔ کہا جاتا ہے ” نافۃ مسعورۃ “ جب اس کا سر ہلکا ہوا اپنے چہرے کے بل گرنے والی ہو اور وہب (رح) فرماتے ہیں ” وسعر “ یعنی حق سے دور ہوگیا۔
Ayah 54:2625 ۔” ء القی الذکر “ کیا ذکر یعنی وحی نازل کی گئی ہے۔ ” علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر “ متکبر۔ اس کا ارادہ یہ ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرکے ہم پر بڑا ہوجائے اور اشرا کڑنا، تکبر کرنا۔
Ayah 54:2726 ۔” سیعلمون “ ابن عامر اور حمزہ نے ” ستعلمون “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس معنی پر کہ صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” سیعلمون غدا “ جس وقت ان پر عذاب نازل ہوگا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت کے دن اور غد کو قریب کرنے کے لئے ذکر کیا ہے لوگوں کی عادت پر ۔ وہ کہتے ہیں بیشک آج کے ساتھ آئندہ کل ہے۔ ” من الکذاب الاشر “۔
Ayah 54:2827 ۔” انا مرسلوا الناقۃ “ یعنی اس کو اٹھانے والے اور نکالنے والے ہیں اس پہاڑی سے جس کا انہوں نے سوال کیا تھا کہ وہ اس سے نکلے کیونکہ انہوں نے صالح (علیہ السلام) پر ضد کی اور سوال کیا کہ ان کے لئے چٹان سے سرخ اونٹنی دس ماہ کی گابھن نکالیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انا مرسلوا الناقۃ فتنۃ لھم “ امتحان اور ان کی آزمائش کے لئے ۔ ” فارتقبھم “ پس آپ (علیہ السلام) انتظار کریں جو وہ کرنے والے ہیں۔ ” واصطبر “ ان کے انتظار پر اور کہا گیا ہے اس پر جو آپ (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچے۔
Ayah 54:2928 ۔” ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم “ اور اونٹنی کے درمیان ایک دن اس کا اور ایک دن ان کا اور یہاں ” بینھم “ فرمایا ہے اس لئے کہ عرب جب بنی آدم اور جانوروں کے بارے میں خبر دیتے ہیں تو بنی آدم کو بہائم پر غلبہ دیا جائے گا۔” کل شرب “ پانی کا حصہ ” محتضر “ اس پر حاضر ہوگا جس کی باری ہوگی۔ پس جب اونٹنی کا دن ہوگا تو وہ پانی پینے آئے گی اور جب ان کا دن ہوگا تو وہ اپنے پانی کی باری پر حاضر ہوں گے اور ” احضر “ اور ” حضر “ ایک معنی میں ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ پانی پر حاضر ہوں گے جب اونٹنی غائب ہوگی۔ پس جس دن اونٹنی آئے گی وہ لوگ دودھ پئیں گے۔
Ayah 54:3029 ۔” فنادوا صاحبھم “ اور وہ قدار بن سالف ہے۔ ” فتعاطی “ پس اس نے اپنی تلوار سے اوٹنی پر حملہ کیا۔ ” فعقر “ پس اس کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔
Ayah 54:3130 ۔” فکیف کان عذابی ونذر “ پھر ان کے عذاب کو بیان کیا۔
Ayah 54:3231 ۔” انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ “ عطائؒ فرماتے ہیں جبرئیل (علیہ السلام) کی چیخ مراد ہے۔ ” فکانوا کھشیم المحتضر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ آدمی اپنی بکریوں کے لئے درختوں اور کانٹوں کے خشک حصے بناتا ہے نہ کہ درندوں کے لئے۔ پس جو اس سے گرجائے اور اس کو بکریاں روند ڈالیں۔ پس وہ ” ھشیم “ ہے اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں وہ خشک درخت جو خشک ہو کر ٹوٹ جائے حتیٰ کہ اس کو ہوائیں اڑائیں اور معنی یہ ہے کہ وہ لوگ خشک درخت کی طرح ہوجائیں گے جب وہ ٹوٹ جائے اور عرب ہر اس چیز کا نام ” ھشیم “ رکھتے ہیں جو تر ہو پھر خشک ہوجائے اور قتادہ فرماتے ہیں جلی ہوئی ریزہ ریزہ ہڈیاں اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں وہ مٹی جو دیوار سے گرتی ہے۔
Ayah 54:3332 ۔” ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر۔
Ayah 54:3433 ۔” کذبت قوم لوط بالنذر۔
Ayah 54:3534 ۔” انا ارسلنا علیھم حاصبا “ ہوا جو ان پر کنکریاں پھینکے۔ ضحاک (رح) یعنی چھوٹی کنکریاں ۔ اور کہا گیا ہے حصباء وہ پتھر جو مٹھی پھر مقدار سے کم ہو اور کبھی حاصب پھینکنے والے کے معنی میں ہوتا ہے۔ پس اس صورت میں معنی ہوگا ہم نے ان پر عذاب بھیجا جو ان پر پتھر پھینکے۔ پھر استثناء کرتے ہوئے فرمایا ” الا آل لوط “ یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹیاں۔ ” نجینا ھم “ عذاب سے ۔ ” بسحر “
Ayah 54:3635 ۔” نعمۃ من عندنا “ یعنی ہم نے اس پر اپنی طرف سے نعمت دی کہ ہم نے ان کو نجات۔ ” کذلک “ یعنی جیسے ہم نے آل لوط (علیہ السلام) پر انعام کیا۔ ” نجزی من شکر “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں جس نے اللہ کی توحید بیان کی اللہ تعالیٰ اس کو مشرکین کے ساتھ عذاب نہ دیں گے۔
Ayah 54:3736 ۔” ولقد انذرھم “ لوط (علیہ السلام) ” بطشتنا “ ہم نے ان کو سزا میں پکڑا۔ ” فتماروا بالنذر “ انہوں نے انذار میں شک کیا اور جھٹلایا اور تصدیق نہیں کی۔
Ayah 54:3837 ۔” ولقد راودوہ عن ضیفہ “ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپنے مہمان ان کے حوالے کردیں۔ ” فطمسنا اعینھم “ جب انہوں نے لوط (علیہ السلام) کے گھر کا ارادہ کیا اور دروازہ پھلانگا تاکہ داخل ہوجائیں تو رسولوں نے لوط (علیہ السلام) کو کہا کہ ان کا راستہ چھوڑ دیں کیوں کہ ہم آپ (علیہ السلام) کی طرف قاصد ہیں وہ آپ (علیہ السلام) تک نہ پہنچ سکیں گے پس وہ گھر میں داخل ہوئے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے ان پر اپنا پر مارا اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ۔ پس ان کو نابینا کردیا، وہ حیران سرگرداں پھرتے تھے، دروازہ کا نہ پتہ چلتا تھا تو لوط (علیہ السلام) نے ان کو اندھے ہونے کی حالت میں باہر نکال دیا کہ وہ کچھ نہ دیکھتے تھے۔ ” فطمسنا اعینھم “ یعنی ہم نے ان کو سارے چہرے کی طرح بنادیا۔ یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں مٹا دیں۔ پس انہوں نے رسولوں کو نہیں دیکھا تو وہ کہنے لگے جب گھر میں داخل ہوئے تھے تو ان کو دیکھا تھا اب وہ کہاں گئے ؟ پھر جب ان کو نہیں دیکھا تو واپس لوٹ گئے۔ ” فذوقوا عذابی ونذر “ یعنی جو لوط (علیہ السلام) نے تمہیں عذاب سے ڈرایا تھا۔
Ayah 54:3938 ۔” ولقد صبحھم بکرۃ “ ان کے پاس صبح کے وقت آیا۔ ” عذاب مستقر “ دائمی ٹھہرنے والا حتیٰ کہ ان کو عذاب آخرت تک پہنچا دیا اور کہا گیا ہے عذاب حق۔
Ayah 54:4039 ۔” فذوقوا عذابی ونذر۔