53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة النجم مکی ہے اور اس کی باسٹھ 62 آیتیں ہیں
Ayah 53:2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے

نجم کی تفسیر 1 ۔” والنجم اذاھویٰ “ ابن عباس ؓ نے والبی اور عوفی رحمہما اللہ کی روایت میں فرمایا ہے کہ یعنی ثریا جب گرجائے اور غائب ہوجائے اور اس کا ھویٰ اس کا چھپ جانا ہے اور عرب ثریا کا نام نجم رکھتے ہیں اور ابوہریرہ ؓ سے حدیث مرفوع میں آیا ہے نہیں طلوع ہوا نجم کبھی اور زمین میں کوئی آفت ہو مگر وہ اٹھالی جاتی ہے اور نجم سے ثریا مراد لیا ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں آسماں کے تمام ستارے مراد ہیں جب غروب ہوجائیں۔ اس کا لفظ واحد ہے اور معنی جمع کا ہے ۔ کوکب کا نام نجم رکھا گیا ہے اس کے طلوع ہونے کی وجہ سے اور ہر طلوع ہونے والا نجم ہے۔ کہا جاتا ہے ” نجم السن والقرن والنبت “ جیسے دانت، سینگ اور نباتات طلوع ہوجائیں۔ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ ستاروں کی مار ہے یعنی شیطانوں کی بات چوری کرتے وقت جن ستاروں کے ذریعے ان کو مارا جاتا ہے اور ابوحمزہ ثمانی (رح) فرماتے ہیں وہ ستارے ہیں جب قیامت کے دن ٹوٹ جائیں گے اور کہا گیا ہے کہ نجم سے مراد قرآن ہے اس کا نام نجم رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ متفرق حصوں (قسطوں) میں بیس سال میں نازل ہوا ہے اور کسی چیز کے جدا کرنے کو تنجیم کا نام اور جدا کی ہوئی چیز کو منجم کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ عطائؒ کی روایت میں اور کلبی (رح) کا قول ہے اور الھویٰ اوپر سے نیچے اترنا۔ اخفش (رح) فرماتے ہیں نجم وہ پودہ جس کا تنا نہ ہو اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا قول ” والنجم والشجر یسجدان “ ہے اور اس کا ھویٰ اس کا زمین پر گرا ہونا ہے اور جعفر صادق (رح) فرماتے ہیں یعنی محمد ﷺ جب آسمان سے زمین کی طرف اترے معراج کی رات۔ اور ” الھوی “ اترنا ۔ کہاجاتا ہے ” ھویٰ یھویٰ ھویا “ جب وہ اتر آئے جیسے مفیٰ ” یمضی مضیا “۔
Ayah 53:3

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

کہ تمہارے رفیق (محمد ﷺ نہ راستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں

2 ۔ اور جواب قسم اللہ تعالیٰ کا قول ” ماضل صاحبکم “ ہے۔ یعنی محمد ﷺ ہدایت کے طریقہ سے گمراہ نہیں ہوئے۔ ” وماعویٰ ۔
Ayah 53:4

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں

3 ۔” وما ینطق عن الھویٰ “ یعنی بالھویٰ مراد یہ ہے کہ وہ باطل کلام نہیں کرتے۔ یہ اس وجہ سے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ قرآن اپنی طرف سے کہتے ہیں۔
Ayah 53:5

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے

4 ۔” ان ھو “ جو آپ (علیہ السلام) نے دین کے بارے میں بیان کیا اور کہا گیا ہے قرآن ” الا وحی یوحی “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی جو آپ (علیہ السلام) کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
Ayah 53:6

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا

5 ۔” علمہ شدید القویٰ “ اور وہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں اور قویٰ قوت کی جمع ہے۔
Ayah 53:7

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

(یعنی جبرئیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

6 ۔” ذومرۃ “ قوت اور شدت والا ہے اپنی خلقت میں یعنی جبرائیل علیہ السلام۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” ذومرۃ “ یعنی اچھے منظر والا ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں لمبی اچھی خلقت والا ہے۔ ” فاستوی “ یعنی جبرئیل علیہ السلام۔
Ayah 53:8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے

7 ۔” وھو “ یعنی محمد ﷺ اور اکثر کلام عرب میں جب اس کی مثل میں عطف ڈالنا ہو تو وہ معطوف علیہ میں ضمیر کو ظاہر کرتے ہیں۔ پس وہ کہتے ہیں ” استویٰ ھو وفلان “ اور بہت کم وہ ایسے کہیں گے ” استویٰ وفلان “ اور اس کی نظیر اس کا قول ” ائذا کا ترابا وآبائونا “ ہے۔ آباء کا عطف کنا کی ضمیر پر ہے نحن کو ظاہر کرنے کے بغیر اور آیت کا معنی استویٰ جبرئیل ومحمد (علیہما السلام) لیلۃ المعراج ہے۔” بالافق الاعلی “ اور وہ دنیا کی انتہا سورج کے طلوع ہونے کی جگہ۔ اور کہا گیا ہے ” فاستویٰ “ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) اور جبرائیل (علیہ السلام) سے بھی کنایہ ہے یعنی وہ اپنی صورت میں کھڑے ہوئے جس پر ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ ” وھوبالافق الاعلیٰ “ جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس آدمیوں کی صورت میں آتے تھے۔ جیسا کہ پہلے انبیاء (علیہم السلام) کے پاس آتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے سوال کیا کہ ان کو اپنی وہ صورت دکھائیں جس پر وہ پیدا کیے گئے ہیں تو انہوں نے اپنی صورت دو مرتبہ دکھائی۔ ایک مرتبہ زمین میں اور ایک مرتبہ آسمان میں۔ بہرحال زمین میں تو افق اعلیٰ میں اور مراد اعلیٰ سے مشرق کی جانب ہے کیونکہ محمد ﷺ حراء میں تھے تو جبرئیل (علیہ السلام) آپ (علیہ السلام) کے لئے مشرق سے طلوع ہوئے تو مغرب تک افق کو بند کردیا تو رسول اللہ ﷺ غشی کھا کر گرگئے تو جبرئیل (علیہ السلام) آدمیوں کی صورت میں اترے اور آپ (علیہ السلام) کو خود سے ملایا اور آپ (علیہ السلام) کے رخ انور سے غبار صاف کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ثم دانا فتدلی “ اور بہرحال آسمان میں تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور جبرئیل (علیہ السلام) کو اس صورت میں انبیاء (علیہم السلام) میں سے صرف ہمارے نبی محمد ﷺ نے دیکھا ہے۔
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے

فکان قاب قوسین کی تفسیر 8 ۔” ثم دانا فتدلی۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

تو وہ کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم

9 ۔” فکان قاب قوسین او ادنیٰ “ اس کے معنی میں مفسرین رحمہم اللہ نے اختلاف کیا ہے۔ مسروق (رح) سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو کہا، کہاں ہے اللہ تعالیٰ کا قول ” ثم دنا فتدلی، فکان قاب قوسین اوادنیٰ “ انہوں نے فرمایا یہ جبرئیل آپ (علیہ السلام) کے پاس آدمی کی صورت میں آتے تھے اور بیشک وہ اس مرتبہ اپنی اصلی صورت میں آئے اور افق کو بند کردیا۔ شیبانی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے زر ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” فکان قاب قوسین اوادنیٰ “ کے بارے میں پوچھا : انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ یعنی ابن مسعود ؓ نے خبر دی کہ محمد ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اس کے چھ سو 600 پر تھے۔ پس آیت کا معنی پھر جبرئیل (علیہ السلام) زمین کے افق اعلیٰ پر استواء کے بعد قریب ہوئے۔ پھر نیچے اتر آئے۔ پھر محمد ﷺ کے پاس اترے تو ان سے دو کمان یا اس سے بھی کم قریب ہوگئے۔ ” اوادنیٰ بل ادنیٰ “ کے معنی میں ہے بلکہ قریب اور سای کے قائل ابن عباس ؓ ، حسن اور قتادہ رحمہما اللہ ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اس کی اصل عبارت ” ثم تدلی فدنا “ اس لئے کہ نیچے اترنا قریب ہونے کا سبب ہے اور دیگر حضرات نے کہا کہ پھر رب تعالیٰ محمد ﷺ کے قریب ہوئے، پھر نیچے اتر آئے۔ پھر آپ (علیہ السلام) کے قریب ہوئے حتیٰ کہ دو کمان یا اس سے کم فاصلہ تھا اور قصہ معراج میں حضرت انس ؓ سے ہم تک روایت پہنچی ہے کہ جبار رب العزت قریب ہوئے، پھر نیچے اترے حتیٰ کہ دو کمان یا اس سے کم کا فاصلہ تھا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ” تدلی “ کسی شے کی طرف اترنا حتیٰ کہ اس سے قریب ہوجائے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جبرئیل (علیہ السلام) اپنے رب سے قریب ہوگئے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ اپنے رب سے قریب ہوئے پس اتر آئے اور سجدہ کی طرف مائل ہوئے۔ پس ان سے دوکمان یا کم قریب ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کے قول کا معنی ” قاب قوسین “ یعنی دو کمانوں کی مقدار اور قاب، قیب، قید یہ عبارت ہیں مقدار سے اور قوس وہ جس کے ذریعے تیر پھینکا جائے۔ مجاہد، عکرمہ اور عطاء رحمہم اللہ کے قول میں پس خبر دی گئی کہ جبرئیل (علیہ السلام) اور محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان دو کمان مقدار ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں یہ اشارہ ہے قصہ کی تاکید کی طرف اور اس کی اصل یہ ہے کہ عرب کے دو حلیف جب کسی معاہدہ کا معاملہ کرنے کا ارادہ کرتے تو دونوں اپنی کمانیں لے کر نکلتے اور ان کو ملادیتے اور اس سے ان کی مراد یہ ہوتی کہ وہ ایک دوسرے کی پشت پناہی کریں گے اور ایک دوسرے کی حمایت کریں گے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” قاب قوسین “ یعنی دو گز کی مقدار اور یہ سعید بن جبیر اور شقیق بن سلمہ کا قول ہے اور قوس وہ گز جس کے ذریعے شے کو ناپا جائے اوادنیٰ بلکہ قریب تر۔
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا

10 ۔” فاوحیٰ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے وحی کی ۔ ” الیٰ عبدہ ماواحیٰ “ محمد ﷺ ، ابن عباس ؓ نے عطاء کی روایت میں اور کلبی، حسن اور ربیع رحمہم اللہ ابن زید فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کی طرف وہ وحی کی جوان کی طرف رب تعالیٰ نے وحی بھیجی۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ” اوحیٰ الیہ “ آپ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی۔ ” الم یجدک یتیما فآوی “ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ورفعنا لک ذکرک “ تک اور کہا گیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ جنت انبیاء (علیہم السلام) پر حرام ہے جب تک آپ (علیہ السلام) داخل نہ ہوں گے اور انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں پر حرام ہے جب تک آپ (علیہ السلام) کی امت داخل نہ ہو۔
Ayah 53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا

11 ۔” ماکذب الفئواد مارای “ ابو جعفر نے ماکذب کو ذال کی شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی محمد ﷺ کے دل نے اس کو نہیں جھٹلایا جو آپ (علیہ السلام) نے اپنی آنکھ سے اس رات میں دیکھا بلکہ اس کی تصدیق کی اور اس کو حق جانا اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی محمد ﷺ نے جو کچھ دیکھا دل سے اس کو جھوٹ نہیں کہا بلکہ سچ کہا۔ کہا جاتا ہے ” کذبہ “ جب اس کو جھوٹ کہے اور صدقہ جب اس کو سچ کہے۔ اس کا مجاز ” ماکذب الفواد فیما رای “ ہے اور ” الذی راہ “ میں اختلاف ہوا ہے ایک قوم نے کہا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھا اور یہی ابن مسعود ؓ اور عائشہ صدیقہ ؓ کا قول ہے۔ حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا ” ما کذب الفوادمارای “ جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھا ان کو چھ سو 600 پر تھے اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ ” ماراہ “ سے اللہ تعالیٰ مراد ہے۔ پھر ” رویۃ “ کے معنی میں اختلاف ہوا ہے۔ ان میں سے بعض نے کہا ان کی بصارت کو دل میں کردیا۔ پس آپ (علیہ السلام) نے دل سے دیکھا اور یہی ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ” ماکذب الفواد ماری ولقد راہ نزلۃ اخریٰ “ آپ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل کے ساتھ دو مرتبہ دیکھا ہے اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور یہ انس ؓ ، حسن اور عکرمہ رحمہما اللہ کا قول ہے۔ ان حضرات نے فرمایا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے اور عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنانے کے لئے چن لیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام کے لئے چن لیا اور محمد ﷺ کو ” رئویۃ “ کے لئے چن لیا اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو نہیں دیکھا اور آیت جبرئیل (علیہ السلام) کی رئویت پر محمول کیا ہے۔ مسروق (رح) کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو کہا اے امی جان ! ؓ کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا ؟ تو آپ ؓ نے فرمایا تونے ایسی بات کی ہے جس کی وجہ سے میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے ہیں تو کہا تین چیزوں سے جو تجھے ان کے بارے میں بیان کرے تو اس نے جھوٹ بولا، جو تجھے بیان کرے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے جھوٹ بولا۔ پھر آیت پڑھی ” لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر “… ” وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الاوحیا اومن وراء حجاب “ اور جو تجھے بیان کرے محمد ﷺ جانتے ہیں جو آئندہ کل میں ہوگا تو اس نے جھوٹ بولا۔ پھر آیت پڑھی ” وما تدری نفس ماذاتکسب غدا “ اور جو تجھے بیان کرے کہ محمد ﷺ نے کچھ چھپایا تھا تو اس نے جھوٹ بولا، پھر آیت پڑھی۔ ” یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک “ لیکن جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا۔ عبداللہ بن شقیق نے بھی حضرت ابوذر ؓ سے روایت کی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نور ہیں، کیسے میں اس کو دیکھ سکتا ہوں۔
Ayah 53:13

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو

12 ۔” افتمارونہ علی مایریٰ “ حمزہ ، کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” افتمرونہ “ تاء کی زبر کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے۔ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو ؟ عرب کہتے ہیں ” مریت الرطبل حقہ “ جب اس کا انکار کردے اور دیگر حضرات نے ” افتمارونہ “ الف کے ساتھ اور تاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس معنی پر کہ کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو اس نے دیکھا۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے آپ (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا جب آپ (علیہ السلام) کو معراج کیا گیا تو انہوں نے کہا ہمارے لئے بیت المقدس کا پورا نقشہ کھینچیں اور ہمارے قافلہ کی خبر دیں جو راستہ میں ہے اور اس کے جو انہوں نے مجادلہ کیا اور معنی یہ ہے کہ کیا تم اس سے ایسا جھگڑا کرتے ہو جس سے تمہارا مقصود اس کا انکار کرنا ہے جو آپ (علیہ السلام) نے دیکھا اور جانا۔
Ayah 53:14

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کو ایک اور بار بھی دیکھا ہے

13 ۔” ولقد راہ نزلۃ اخریٰ “ یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اس صورت میں دیکھا جس پر وہ پیدا کیے گئے اس حال میں کہ وہ آسمان سے دوسری مرتبہ اترنے والے تھے اور یہ اس وجہ سے کہ آپ (علیہ السلام) نے ان کو ان کی صورت میں دو مرتبہ دیکھا، ایک مرتبہ زمین میں اور ایک مرتبہ آسمان میں۔
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

پرلی حد کی بیری کے پاس

سدرۃ المنتہیٰ کی تفسیر 14 ۔” عندسدرۃ المنتھیٰ “ اور ابن عباس ؓ کے قول پر ” نزلۃ اخریٰ “ کا معنی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ معراج کی رات کئی مرتبہ اوپر گئے نماز کی تعداد میں تخفیف کروانے کے لئے ۔ پس ہر عروج کے لئے زوال ہوتا ہے۔ پس ان میں سے کسی میں اپنے رب کو دیکھا اور ہم تک ان سے روایت پہنچی ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو اپنے دل کے ساتھ دو مرتبہ دیکھا ہے اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول ” عندسدرۃ المنتھیٰ “ ہم تک عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لیجایا گیا۔ اور وہ ساتویں آسمان میں ہے اور زمین سے جو چیزیں اوپر جاتی ہیں ان کی انتہا اسی کے پاس ہوتی ہے اور اس کے اوپر سے جو چیزیں اترتی ہیں وہ بھی اس کے پاس آکر رک جاتی ہیں۔ فرمایا ” اذ یغشی السدرۃ ما یغشی “ کہا سونے کے پتنگے تھے اور حدیث معراج میں ہم تک روایت پہنچی کہ پھر مجھے ساتویں آسمان تک بلند کیا گیا۔ پس اچانک وہاں ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔ پس میں نے ان کو سلام کیا، پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک بلند کیا گیا۔ پس اس کے بیر ہجر (قبیلہ) کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور سدرۃ بیری کا درخت اور اس کو سدرۃ المنتہیٰ کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس تک مخلوق کے علم کی انتہا ہوجاتی ہے۔ ہلال بن یسار (رح) فرماتے ہیں ابن عباس ؓ نے کعب (رح) سے سدرۃ المنتہیٰ کے بارے میں پوچھا اور میں بھی حاضر تھا تو کعب (رح) نے کہا یہ بیری کا درخت عرش کی جڑ میں ہے۔ عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے سروں پر اور اسی تک مخلوق کے علم کی انتہا ہوتی ہے اور جو اس کے پیچھے ہے وہ غیب ہے اس کو صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ کا تذکرہ کرتے سنا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا سوار شخص اس کی ایک ٹہنی کے سایہ میں سو 100 سال چل سکتا ہے اور اس کی ایک ٹہنی کے سایہ میں ایک ہزار سوار سایہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس میں سونے کے پتنگے تھے۔ گویا کہ اس کے پھل مٹکے ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ درخت ہے جو مختلف رنگوں کے پھل اٹھائے ہوئے ہے۔ اگر اس کا ایک پتہ زمین میں رکھ دیا جائے تو تمام زمین والے روشن ہوجائیں اور وہ طوبیٰ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة الرعد میں کیا ہے۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

15 ۔” عندھا جنت الماویٰ “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ” جنۃ الماویٰ “ ایسی جنت ہے جس کی طرف جبرئیل (علیہ السلام) اور فرشتے ٹھکانہ حاصل کرتے ہیں اور مقاتل (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کی طرف شہداء کی روحیں ٹھکانہ حاصل کرتی ہیں۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

جبکہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

16 ۔” اذ یغشی السدرۃ ما یغشی “ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں سونے کے پتنگے اور حدیث معراج میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ پر لیجایا گیا۔ پس اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کا پھل مٹکوں کی طرح کے۔ فرمایا پھر جب اس کو اللہ کیا مر سے ڈھانپ لیا جس چیز نے ڈھانپا تو وہ متغیر ہوگیا تو اللہ کی مخلوق میں سے کوئی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ اس کے حسن کو بیان کرے اور میری طرف وحی کی جو وحی کی پھر مجھ پر ہر دن ورات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو فرشتوں نے ڈھانپا کو ئوں کی طرح۔ اور سدی (رح) فرماتے ہیں پرندوں سے۔ ابوالعالیہ (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے یا ان کے علاوہ سے فرماتے ہیں اس کو مخلوق کے نور نے ڈھانپ لیا اور اس کو فرشتوں نے اللہ کی محبت کی وجہ سے کو ئوں کی مثل ڈھانپ لیا۔ حتیٰ کہ وہ درخت پر گرنے لگے ۔ فرماتے ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) سے کلام کی اور آپ (علیہ السلام) کو فرمایا، آپ (علیہ السلام) سوال کریں۔ حسن (رح) سے روایت ہے کہ اس کو رب العزت کے نور نے ڈھانپ لیا۔ پس وہ خوب روشن ہوگیا اور حدیث میں روایت کیا گیا ہے کہ میں نے اس کے ہر پتہ پر ایک فرشتہ کھڑا دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کررہا تھا۔
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی

17 ۔” مازاغ البصر وما طغیٰ “ یعنی نبی کریم ﷺ کی نگاہ دائیں بائیں مائل نہیں ہوئیں۔ ” وماطغیٰ “ یعنی جو دیکھا اس سے تجاوز نہیں کیا اور کہا گیا ہے کہ جس کا حکم دیا گیا اس سے تجاوز نہیں کیا اور یہ اس مقام پر آپ (علیہ السلام) کے ادب کا بیان ہے کہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوئے۔
Ayah 53:19

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

من آیات ربہ الکبریٰ کی تفسیر 18 ۔” لقد رای من آیات ربہ الکبریٰ “ یعنی بڑی آیات۔ اور کہا گیا ہے کہ جو اس رات آپ (علیہ السلام) نے اپنے سفر اور واپسی پر جو کچھ دیکھا وہ مراد ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” لنریہ من آیاتنا “ ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تحقیق آپ (علیہ السلام) نے اپنے رب کی آیات میں سے بڑی آیت کو دیکھا۔ زر بن حبیش نے حضرت عبداللہ ؓ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا ” لقد رای من آیات ربہ الکبریٰ “ کہ جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی صورت میں دیکھا۔ ان کے چھ سو 600 پر تھے۔ حضرت عبداللہ ؓ سے علقمہ نے روایت کی ہے کہ ” لقد رای من آیات ربہ الکبریٰ “ فرمایا۔ آپ (علیہ السلام) نے سبز پھڑ پھڑانے والے کو دیکھا جس نے آسمان کے افق کو بند کردیا۔
Ayah 53:20

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزٰی کو دیکھا

19 ۔” افرایتم اللات والعزیٰ “ یہ بتوں کے نام ہیں جن کو انہوں نے معبود بنالیا، ان کی عبادت کرتے تھے۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے اسماء سے نام نکالے۔ پس کہنے لگے اللہ سے لات اور العزیز سے عزیٰ اور کہا گیا ہے کہ ” العزی اعز “ کی مونث ہے۔ بہرحال لات، تو قتادہ (رح) فرماتے ہیں طائف میں تھا۔ پس ابن زید (رح) نے کہا ہے کہ کھجور کا کمرہ تھا قریشی اس کی عبادت کرتے تھے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ابوصالح رحمہما اللہ نے ” اللات “ کو تاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے اور ان حضرات نے کہا ہے کہ یہ ایک آدمی تھا جو حاجیوں کے لئے ستوبنایا کرتا تھا۔ پس جب یہ مرگیا تو اس کی قبر کی طرف مائل ہوئے اور اس کی عبادت کرنے لگے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ پہاڑ کی چوٹی میں ہوتا تھا۔ اس کی بکریاں تھیں، ان کے دودھ سے گھی اور پنیر بنا کر اس سے ایک حلوہ سا بناتا تھا، پھر وہ حاجیوں کو کھلاتا تھا۔ اور یہ بطن نخلہ میں تھا۔ پھر جب یہ مرگیا تو انہوں نے اس کی عبادت شروع کردی اور یہی لات ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ثقیف کا ایک شخص تھا اس کو صرمہ بن غنم کہا جاتا تھا وہ گھی بناتا اور اس کو ایک چٹان پر رکھ دیتا۔ پھر عرب آتے اور اس گھی میں اپنے ستو ملاتے۔ پھر جب یہ شخص مرگیا تو ثقیف اس کو اپنے علاقہ میں لے گئے اور اس کی عبادت شروع کردی۔ پس طائف نے لات کی جگہ کا ارادہ کیا اور بہرحال عزیٰ ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ غطفان میں ایک درخت ہے جس کی وہ عبادت کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید ؓ کو بھیجا، انہوں نے اس کو کاٹ دیا تو خالد بن ولید ؓ اس کو کلہاڑے مارتے تھے اور کہتے تھے۔ یاعز کفرانک لا سبحانک…انی رایت اللہ قداھانک ” اے عزا تیرا کفر ہے نہ کہ تیری تسبیح “۔ بے شک میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ تجھے ذلیل کردیا ہے۔ پس اس سے ایک شیطانہ نکلی ۔ اس کے بال کھڑے تھے، اپنی ہلاکت کی آوازیں لگارہی تھی۔ اس نے ہاتھ اپنے سر پر رکھے ہوئے تھے اور کہا گیا ہے کہ خالد ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس لوٹے تو کہا میں نے اس کو اکھاڑ دیا۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا دیکھا ؟ انہوں نے کہا میں نے کچھ نہیں دیکھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تونے اس کو نہیں اکھاڑا۔ پھر ان کو دوبارہ بھیجا اور ان کے پاس کدال تھی تو اس کی جڑ سے اکھاڑ دیا تو اس سے ایک ننگی عورت نکلی تو حضرت خالد ؓ نے اس کو قتل کردیا۔ پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ (علیہ السلام) کو یہ خبر دی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ عزیٰ تھا اور پھر کبھی اس کی عبادت نہ کی جائے گی۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ غطفان کا بت ہے اس کو ان کے لئے سعد غطفانی نے بنایا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ مکہ آیا اور صفاومروہ کو دیکھا اور دیکھا کہ اہل مکہ ان کے درمیان طواف کرتے ہیں تو بطن نخلہ کی طرف لوٹا اور اپنی قوم کو کہا کہ اہل مکہ کے لئے صفا اور مروہ ہیں اور تمہارے لئے نہیں ہیں اور ان کے معبود ہیں جن کی وہ عبادت کرتے ہیں اور تمہارے نہیں ہیں۔ انہوں نے پوچھا پھر تو ہمیں کیا حکم کرتا ہے ؟ اس نے کہا میں تمہارے لئے اس طرح کا بنائوں گا۔ پھر اس نے ایک پتھر صفا سے اور ایک پتھر مروہ سے لیا اور ان کو نخلہ کی طرف منتقل کیا۔ پھر جو پتھر صفا سے لیا تھا اس کو رکھ دیا اور کہا یہ صفا ہے ۔ پھر جو پتھر مروہ سے لیا تھا اس کو رکھ دیا اور کہا یہ مروہ ہے۔ پھر تین پتھر لیے اور ان کو درخت کا سہارا لگا دیا ، پھر کہا یہ تمہارا رب ہے تو وہ لوگ ان دونوں کے درمیان طواف کرنے لگے اور اس پتھر کی عبادت کرنے لگے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو فتح کیا تو ان پتھروں کے اٹھانے کا حکم دیا اور خالد بن ولید ؓ کو عزیٰ کی طرف بھیجا، انہوں نے اس کو کاٹ دیا اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں یہ طائف میں ایک گھر ہے جس کی ثقیف عبادت کرتے تھے۔
Ayah 53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں ؟ )

20 ۔” ومناۃ “ ابن کثیر (رح) نے مد اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر حضرات نے قصر کے ساتھ اور بغیر ہمزہ کے ۔ اس کے لئے کہ عرب نام رکھتے تھے۔ زید مناۃ اور عبدمناۃ اور ان ناموں میں مد نہیں سنی گئی۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ خزاعۃ کا تھا مقام قدید میں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں انصار کے بارے میں کہ یہ مناۃ کے لئے احرام باندھتے تھے اور یہ قدید میں تھا۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں یہ گھر تھا مشلل میں اس کی بنوکعب عبادت کرتے تھے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں مناۃ ہذیل اور خزاعہ کا بت تھا۔ اس کی اہل مکہ عبادت کرتے تھے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ لات، عزیٰ اور مناۃ پتھروں کے بت تھے، کعبہ کے وسط میں تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور اللات ومناۃ پر وقف کرنے میں قراء کا اختلاف ہوا ہے۔ پس بعض نے ان دونوں پر ھاء کے ساتھ وقف کیا ہے اور ان میں سے بعض نے تاء کے ساتھ اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ جو مصحف میں تاء کے ساتھ لکھا جاتا ہے اس پر تاء کے ساتھ وقف کیا جاتا ہے اور جو ھاء کے ساتھ لکھا جاتا ہے اس پر ھاء کے ساتھ وقف کیا جاتا ہے اور بہرحال اللہ تعالیٰ کا قول ” الثالثۃ الاخریٰ “ پس الثالث مناۃ کی صفت ہے یعنی تذکرہ میں تیسرا بت اور بہرحال الاخریٰ تو ” عرب الثالثۃ الاخریٰ “ نہیں کہتے الاخریٰ یہاں الثالثہ کی صفت ہے۔ خلیل (رح) فرماتے ہیں پس یاء رئوس آیات کے ساتھ موافقت کی وجہ سے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” مآرب اخریٰ “ یہاں اخر نہیں کہا اور کہا گیا ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اس کا مجازیوں ہے ” افرایتم اللات والعزی الاخریٰ ومناۃ الثالثۃ “ اور آیت کا معنی یہ ہے کہ تم ہمیں خبر دو یہ گمان کرنے والوں کو لات اور عزیٰ اور مناۃ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ بلند ہے اس سے جو ظالم کہتے ہیں بہت زیادہ بلند اور کلبی (رح) فرماتے ہیں مشرکین مکہ کہتے تھے بت اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی تو وہ اس ک و ناپسند سمجھتا۔
Ayah 53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہارے لئے بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں ؟

21 ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر انکار کرتے ہوئے فرمایا ” الکم الذکر ولہ الا نثیٰ ۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

22 ۔” تلک اذا قسمۃ ضیزی “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ظالم تقسیم ہے کہ تم نے اپنے رب کے لئے وہ چیز مقرر کی جو تم خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں ٹیڑھی تقسیم ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں غیر معتدل۔ ابن کثیر (رح) نے ” ضئزی “ ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر ہمزہ کے۔ کسائی (رح) فرماتے ہیں اسی سے کہا جاتا ہے ” ضاز، یضیز، ضیزا “ اور ” ضاز یضوز ضوزا “ اور ضاز یضاز ضازا “ جب ظلم کرے اور کم کرے اور ضیزی کی اصل کلام سے فعلی فاء کے پیش کے ساتھ ہے ۔ اس لئے کہ یہ صفت ہے اور صفات صرف فعلی بضم الفاء کے وزن ہوتی ہیں جیسے ” حبلی انثیٰ اور بشری “ یا فعلی فاء کے زبر کے ساتھ کے وزن پر جیسے ” غضبیٰ ، شکریٰ “ اور ” عطشی “ اور کلام عرب میں کوئی صفت فعلی فاء کی زیر کے ساتھ نہیں ہے۔ ہاں اسماء میں یہ وزن آتا ہے جیسے ” ذکریٰ ، شعریٰ کسریٰ “ اور ضاد یہاں اس لئے ہے تاکہ یاء وائو سے تبدیل نہ ہوجائے اور یہ باء والوں میں سے ہے جیسا کہ انہوں نے کہا ابیض کی جمع بیض اور اصل بوض ہے جمرا اور صفر کی مثل۔ پس بہرحال جس نے کہا ” ضاز یضوز “ تو اس سے اسم ” ضوزی “ ہے شوریٰ کی مثل۔
Ayah 53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

23 ۔” انھی “ نہیں ہیں یہ بت۔” الا اسماء سمیتموھا انتم وآبائو کم ماانزل اللہ بھا من سلطان “ حجت وبرہان اس پر جو تم کہتے ہو کہ وہ معبود ہیں پھر خبر کی طرف لوٹے خطاب کے بعد اور فرمایا ” ان یتبعون الا الظن “ ان کے اس قول میں کہ یہ معبود ہیں۔ ” وما تھوی الانفس “ اور وہ ہے جو ان کے لئے شیطان نے مزین کیا۔ ” ولقد جآء ھم من ربھم الھدیٰ “ کتاب اور رسول کا بیان کہ وہ معبود نہیں ہیں اور بیشک عبادت صرف ایک اللہ ” قھار “ کے لئے درست ہے۔
Ayah 53:25

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟

24 ۔” ام للانسان ما تمنی “ کیا کافر گمان کرتا ہے کہ اس کے لئے وہ ہوگا جو وہ تمنا اور خواہش کرے گا بتوں کی سفارش کی۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

25 ۔” فللہ الآخرۃ والاولیٰ “ معاملہ ویسے نہیں جیسے کافر نے گمان کیا خواہش کی بلکہ اللہ ہی کے لئے آخرت اور پہلی ہے کوئی ایک ان دونوں میں کسی چیز کا مالک نہ ہوگا مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔
Ayah 53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے

26 ۔” وکم من ملک فی السموات “ ان میں سے جن کی عبادت یہ کفار کرتے ہیں اور عنداللہ ان کی سفارش کی امید کرتے ہیں۔ ” لا تغنی شفاعتھم شیئا الا من بعد ان یاذن اللہ “ سفارش کی۔ ” لمن یشاء ویرضیٰ “ یعنی اہل توحید میں سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ فرشتے اسی کے لئے سفارش کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوں گے۔ ” شفاعتھم “ کی ضمیر جمع لائی گئی ہے حالانکہ الملک واحد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے قول ” وکم من ملک “ میں کثرت مراد ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فمامنکم من احد عنہ حاجزین “ کی طرح ہے۔
Ayah 53:28

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

27 ۔” ان الذین لا یئومنون بالآخرۃ لیسمون الملائکۃ تسمیۃ الا نثیٰ “ یعنی مونث کے ناموں کے ساتھ جب انہوں نے کہا یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

اور حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں وہ صرف ظن پر چلتے ہیں اور ظن یقین کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آتا

28 ۔” وما لھم بہ من علم “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے ان کو یقین نہیں ہے کہ یہ مونث ہیں۔ ” ان یتبعون الا الظن وان الظن لا یغنی من الحق شیئا “ اور حق علم کے معنی میں ہے یعنی ظن علم کے قائم مقام نہیں ہوسکتا اور کہا گیا ہے کہ حق عذاب کے معنی میں ہے۔ یعنی ان کا گمان ان کو عذاب سے نہ بچا سکے گا۔
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

تو جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو

29 ۔” فاعرض عن من تولی عن ذکرنا “ یعنی قرآن سے اور کہا گیا ایمان سے۔ ” ولم یردالا الحیاۃ الدنیا “۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

ان کے علم کی یہی انتہا ہے تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چلا

30 ۔ پھر ان کی رائے کو حقیر قرار دیا اور فرمایا ” ذلک مبلغھم من العلم “ یعنی یہ ان کے علم کی انتہا ہے اور ان کی عقلوں کی مقدار ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اور کہا گیا ہے کہ وہ علم تک نہیں پہنچے مگر ان کا یہ گمان کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ ان کی سفارش کریں گے۔ پس تم اس پر اعتماد کرو اور قرآن سے اعراض کرو۔ ” ان ربک ھواعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بمن اھتدی “ یعنی وہ دونوں فریقوں کو جاننے والا ہے۔ پس ان کو بدلہ دے گا۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلہ دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

31 ۔” وللہ مافی السموات وما فی الارض “ یہ جملہ معترضہ ہے۔ پہلی آیات اور اللہ تعالیٰ کے قول ” لیجزی اللذین اسائوا بما عملوا “ کے درمیان پس لام اللہ تعالیٰ کے قول ” لیجزی “ میں پہلی آیت کے معنی کے ساتھ متعلق ہے۔ اس لئے کہ جب وہ ان کو جانتا ہے تو ہر ایک وہی بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق ہے۔ ” الذین اسائوا “ یعنی انہوں نے شرک کیا۔ بما عملوا یعنی شرک کے عمل کیے۔ ” ویجزی الذین احسنوا بالحسنیٰ “ اپنے رب کی توحید کی۔ ” بالحسنیٰ “ یعنی جنت کے ساتھ اور نیکی کرنے والے اور گناہ کرنے والے کو بدلہ دینے پر تب ہی قادر ہوسکتے ہیں۔ جب کثیر الملک ہوں اس لئے درمیان میں فرمایا۔ ” وللہ ما فی السموات ومافی الارض “۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں بیشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے وہ تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

32 ۔” پھر ان کا وصف بیان کیا اور فرمایا ” الذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش الااللمم “۔ الا اللمم کی تفسیر میں مختلف اقوال اس آیت کے معنی میں اختلاف ہوا ہے۔ ایک قوم نے کہا ہے کہ یہ استثناء صحیح ہے اور ” اللمم “ کبائر اور فواحش میں سے ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ مگر یہ کہ وہ کسی فاحشہ کا ارتکاب کرلے، ایک مرتبہ پھر توبہ کرلے اور پھر باز آجائے اور یہ ابوہریرہ ؓ ، مجاہد اور حسن رحمہما اللہ کا قول ہے اور عطاء کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں ” اللمم “ جو شرک سے کم ہو۔ سدی اور ابو صالح رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” الا اللمم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے کہا وہ آدمی جو گناہ کا ارتکاب کرے، پھر دوبارہ وہ گناہ نہ کرے۔ پس میں نے یہ بات ابن عباس ؓ کو ذکر کی تو انہوں نے فرمایا تحقیق تیری اس پر معزز فرشتے نے مدد کی ہے اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” الا اللمم “ کے بارے میں کہ تو کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو معاف کردے اے اللہ ! تو سب کو معاف کردے اور کون سا بندہ تیرے لئے ہے مگر ” الما “ اور ” اللمم “ اور المام کی اصل جو انسان عمل کرے وقتاً فوقتاً اور اس کا اعادہ نہ کرے اور اس پر ڈٹ نہ جائے اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ یہ استثناء منقطع ہے۔ مجاز عبارت ہوگی ” لکن اللمم “ اور ان حضرات نے ” اللمم “ کو کبائر اور فواحش میں نہیں بنایا۔ پھر ان کا اس کے معنی میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ان میں سے بعض نے کہا کہ جو جاہلیت میں گزر چکا اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ نہ کریں گے کیونکہ مشرکین نے مسلمانوں کو کہا تھا تم پہلے ہمارے ساتھ یہی کام کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ اور یہ زید بن ثابت ؓ اور زید بن اسلم (رح) کا قول ہے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ یہ صغیرہ گناہ ہیں جیسے ایک مرتبہ دیکھ لینا اور ہاتھ لگالینا اور بوسہ دین جو زنا کے علاوہ ہو اور یہ ابن مسعود، ابوہریرہ ؓ مسروق اور شعبی رحمہم اللہ کا قول ہے اور طائوس کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اس سے زیادہ ” اللمم “ مشابہہ کسی چیز کو نہیں دیکھا جو ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ابن آدم کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے وہ اس کو پائے گا لامحالہ۔ پس آنکھ کا زنا نظر کرنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا و خواہش کرتا ہے اور فرج (شرم گاہ) اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے اور ابوہریرہ ؓ سے دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آنکھیں ان کا زنا دیکھنا ہے اور کان ان کا زنا توجہ سے سننا ہے اور زبان اس کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ ان کا زنا پکڑنا ہے اور پائوں ان کا زنا چلنا ہے۔ اورکلبی (رح) فرماتے ہیں ” اللمم “ دو صورتوں پر ہے۔ ہر وہ گناہ جس پر دنیا میں اللہ تعالیٰ نے حد ذکر نہ کی ہو اور آخرت میں عذاب نہ ذکر کیا ہو۔ پس یہ وہ گناہ ہیں جن کو نمازیں مٹادیتی ہیں جب تک کبائر اور فواحش تک نہ پہنچیں اور دوسری صورت بڑا گناہ جس کا مسلمان کئی مرتبہ ارتکاب کرے پھر اس سے توبہ کرلے۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں یہ وہ گناہ ہے جو دل میں کھٹکے اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں ” اللمم “ بغیر ارادہ کے ایک مرتبہ دیکھنا۔ پس یہ معاف ہے۔ پس اگر نگاہ کو دوبارہ ڈالتا ہے تو یہ لمم نہیں بلکہ گناہ ہے۔ ” ان ربک واسع المغفرۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے لئے جس نے یہ کیا اور توبہ کی۔ یہاں کلام مکمل ہوگئی۔ پھر فرمایا ” ھو اعلم بکم اذانشاء کم من الارض “ یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ ” واذ انتم اجنۃ “ جنین کی جمع ہے۔ اس کا نا جنین رکھا گیا ہے۔ اس کے پیٹ میں چھپے ہونے کی وجہ سے۔ ” فی بطون امھا تکم فلا تزکو انفسکم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تم اپنی مدح نہ کرو۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ خوب جانتے ہیں ہر نفس کے بارے میں کہ وہ کیا کرنے والا ہے اور کس طرح لوٹنے والا ہے۔ ” فلا تزکوا انفسکم “ یعنی تم ان کو گناہوں سے بری قرار نہ دو اور اپنے اچھے اعمال پر خود کی تعریف نہ کرو۔ کلبی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں لوگ اچھے اعمال کرتے تھے پھر کہتے تھے ہماری نماز اور ہمارا روزہ اور ہمارا حج اور ہمارا جہاد تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” ھواعلم بمن اتقی ، یعنی نیک کی اور اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کو خالص کیا۔
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیرلیا

آیت افرء یت الذی تولی کی تفسیر 33 ۔” افرایت الذی تولی “ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم ﷺ کے دین کی اتباع کی تو بعض مشرکین نے اس کو عار دلائی اور کہا تونے اپنے بڑے حضرات کے دین کو چھوڑ دیا اور ان کو گمراہ قرار دے دیا ؟ تو اس نے کہا میں اللہ کے عذاب سے ڈر گیا ہوں تو اس عار دلانے والے نے اس کو ضمان دی کہ اگر وہ شریک کی طرف لوٹ آئے تو بہت سارا مال دوں گا اور اللہ کا عذاب اس سے اٹھالوں گا تو ولید شریک کی طرف لوٹ آیا اور اس عار دلانے والے نے کچھ مال اس کو دیا اور باقی نہیں دیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ” افرایت الذین تولی “ ایمان سے پیٹھ پھیری۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا

34 ۔” واعطی “ اپنے ساتھی کو۔ ” قلیلا واکدی “ باقی سے بخل کیا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ” اعطیٰ “ یعنی ولید کو قلیل خیر میں سے تھوڑا اپنی زبان کے ساتھ۔ ” واکدی ثم اکدی “ یعنی روک لیا اور اس کو کچھ عطیہ نہ دیا اور سدی (رح) فرماتے ہیں یہ عاص بن وائل سہمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ وہ بسا اوقات بعض امور میں نبی کریم ﷺ کی موافقت کرتا تھا اور محمد بن کعب قرظی (رح) فرماتے ہیں ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اس نے کہا اللہ کی قسم ! محمد ﷺ تو ہمیں عمدہ اخلاق کا حکم دیتے ہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مطلب ہے ” واعطیٰ قلیلا واکدیٰ “ اس پر ایمان نہیں لایا اور ” اکدیٰ “ کا معنی یعنی ختم کردیا اور اس کی اصل ” کدیۃ “ سے ہے یہ پتھر ہوتا ہے جو کنویں میں نکل آئے تو کھدائی میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ عرب کہتے ہیں ” اکدیٰ الحافر واجبل “ جب کھودنے والا کھدائی میں ” کدیۃ “ پتھر تک پہنچ جائے۔
Ayah 53:36

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے ؟

35 ۔” اعندہ علم الغیب فھویریٰ “ جو اس سے غائب ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ساتھی اس کا عذاب اٹھالے گا۔
Ayah 53:37

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی ؟

36 ۔” ام لم ینبا “ اس کو خبر نہیں دی گئی۔ ” بما فی صحف موسیٰ “ یعنی توریت کے اوراق میں۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

اور ابراہیم کی جنہوں نے (حق طاعت و رسالت) پورا کیا ؟

37 ۔” وابراھیم “ اور ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں۔ ” الذی وفیٰ “ مکمل کیا جو اس کو حکم دیا گیا۔ وابرھیم الذی وفی کی تفسیر حسن، سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جو حکم دیا گیا وہ عمل کیا اور اپنے رب کے پیغامات اس کی مخلوق تک پہنچا دیئے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جو ان پر فرض کیا گیا اس کو پورا ادا کیا۔ ربیع (رح) فرماتے ہیں اپنا خواب پورا کردکھایا اور اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کھڑے ہوگئے۔ عطاء خرسانی (رح) فرماتے ہیں طاعت کو مکمل کیا۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں اسلام کے حصوں کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن “ ہے اور توفیہ مکمل کرنا ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں مناسک حج کے وعدہ کو پورا کیا۔ ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” وابراھیم الذی وفی “ چار رکعات دن کے ابتداء میں پڑھیں۔ حضرت ابوالدرداء اور ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابن آدم ! تو میرے دن کی ابتداء میں چار رکعتیں پڑھ میں تجھے اس کے آخر میں کافی ہوجائوں گا۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

38 ۔” پھر بیان کیا جو ان دونوں کے صحیفوں میں تھا اور فرمایا ” الاتزر وازرۃ اخری “ یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا نفس دوسرے کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گا اور اس کا معنی یہ ہے کہ کسی نفس سے دوسرے کے گناہ کا مواخذہ نہ ہوگا۔ اس میں اس شخص کے قول کو باطل کیا ہے جس نے ولید بن مغیرہ کو کہا تھا ” میں تیرا گناہ اٹھائوں گا “ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے لوگ آدمی کو دوسرے کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیتے تھے، آدمی کو اس کے باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیوی اور غلام کے گناہ کے بدلہ میں قتل کردیا جاتا تھا حتیٰ کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے آکر ان کو اس سے روکا اور ان کو اللہ کا پیغام پہنچایا۔ ” الا تزر وازرۃ وزراخری “
Ayah 53:40

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے

39 ۔” وان لیس للانسان الا ماسعیٰ “ یعنی جو اس نے عمل کیا اللہ تعالیٰ کے قول ” ان سعیکم لشتیٰ “ کی طرح اور یہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں لکھا ہوا تھا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اس شریعت میں منسوخ الحکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” الحقنابھم ذریتھم “ کی وجہ سے۔ پس اولاد کو آباء کی نیکیوں کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں یہ ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کی قوم کے لئے تھا۔ بہرحال یہ امت تو ان کے لئے وہ ہے جو انہوں نے عمل کیا اور جوان کے لئے دوسروں نے عمل کیا۔ اس حدیث کی وجہ سے جو روایت کی گئی ہے کہ ایک عورت اپنے بچہ کو اٹھا کر لائی اور عرض کیا یارسول اللہ ! کیا اس کے لئے حج ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : ہاں اور تیرے لئے اجر ہے اور ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کو کہا میری ماں نے خود کشی کرلی ہے ۔ پس کیا اس کو اجر ملے گا اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں۔ ربیع بن انس (رح) فرماتے ہیں ” وان لیس للانسان الا ماسعیٰ “ یعنی کافر۔ بہرحال مومن تو اس لئے وہ بھی ہے جو اس نے خود عمل کیا اور وہ بھی جو اس کے لئے عمل کیا گیا۔ کہا گیا ہے کہ کافر کے لئے خیر میں سے کچھ نہیں مگر جو اس نے خود عمل کیا ہو۔ پس اس پر دنیا میں ثواب دیا جائے گا حتیٰ کہ اس کے لئے آخرت میں کوئی خیر باقی نہ رہے گی اور روایت کیا گیا ہے کہ عبداللہ بن ابی نے عباس ؓ کو قمیص دی اور ان کو پہنائی۔ پس جب وہ مرا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قمیص بھیجی تاکہ اس کو اس میں کفن دیا جائے۔ پس اس کے لئے آخرت میں کوئی ایسی نیکی نہ بچی جس پر اس کو ثواب دیا جائے۔