Ayah 52:1سورة الطور
مکی ہے اور اس کی انچاس آیتیں ہیں
Ayah 52:21 ۔” والطور “ اس سے وہ پہاڑ مراد ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تھا۔ یہ ارض مقدس میں ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم اٹھائی ہے۔
Ayah 52:32 ۔” وکتاب مسطور “ لکھی ہوئی۔
Ayah 52:43 ۔” فی رق منشور “ رق جس میں لکھا جائے۔ وہ مصحف کا چمڑا منشور کھلا ہوا۔ اس کتاب کی تعیین میں اختلاف ہوا ہے کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے توریت کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور موسیٰ (علیہ السلام) قلم کے چلنے کی آواز سن رہے تھے اور کہا گیا ہے کہ وہ لوح محفوظ ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ حفاظت کرنے والے فرشتوں کے رجسٹر ہیں جوان کی طرف قیامت کے دن کھلے ہوئے نکلیں گے۔ پس اس کے دائیں کو اور اس کے بائیں کو پکڑ لیں گے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” ونخرج لہ یوم القیامۃ کتابا یلقاہ منشورا “ ہے۔
Ayah 52:54 ۔” والبیت المعمور “ پردوں اور اہل کی کثرت کے ساتھ۔ یہ بیت ساتویں آسمان میں عرض کے محاذی کعبہ کے اوپر ہے اس کو صراح کہا جاتا ہے اس کا احترام آسمانوں میں ایسے ہی ہے جیسے کعبہ کا احترام زمین میں ہے۔ اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں طواف کرتے ہیں اور اس میں نماز پڑھتے ، پھر وہ کبھی واپس اس کی طرف نہ لوٹیں گے۔
Ayah 52:65 ۔” والسقف المرفوع “ یعنی آسمان۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” وجعلنا السماء سقفا محفوظا “ ہے۔
Ayah 52:7والبحر المسجور کی تفسیر
6 ۔” والبحر المسجور “ محمد بن کعب قرظی اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں۔ یعنی جلایا ہوا گرم پانی بھڑکائے ہوئے تندور کی طرح اور یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے اور یہ اس وجہ سے کہ روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام سمندروں کو قیامت کے دن آگ بنادیں گے۔ پس اس کے ذریعے جہنم کی آگ میں اضافہ کریں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” واذا البحار سجرت “ اور حدیث میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی آدمی سمندر میں سوار نہ ہو مگر جہاد کرنے کے لئے یا عمرہ یا حج کرنے کے لئے کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے۔ مجاہد اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” المسجور “ بھرا ہوا۔ کہا جاتا ہے ” سجرت الانائ “ جب تو اس کو بھر دے اور حسن، قتادہ اور ابو العالیہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں خشک جس کا پانی ختم ہوگیاہو اور وہ خشک ہوگیا ہو۔
ربیع بن انس (رح) فرماتے ہیں وہ میٹھا کھارے کے ساتھ ملا ہوا ۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ” البحر المسجور “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ عرش کے نیچے سمندر ہے۔ اس کی وسعت جیسے ساتوں آسمانوں سے ساتوں زمینوں تک کا فاصلہ ۔ اس میں گاڑھا پانی ہے اس کو بحرالحیوان کہا جاتا ہے ۔ نفخہ اولیٰ کے بعد اس سے بندوں کی بارش ہوگی چالیس صبح تک پس وہ اپنی قبروں سے اگیں گے۔ یہ مقاتل (رح) کا قول ہے اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کی قسم کھائی ہے۔
Ayah 52:87 ۔” ان عذاب ربک لواقع “ اترنے والا ہے۔
Ayah 52:98 ۔” مالہ من دافع “ روکنے والا۔ جبیر بن مطعم فرماتے ہیں میں دینہ آیا تاکہ رسول اللہ ﷺ سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کروں تو میں آپ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو آپ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور آپ (علیہ السلام) کی آواز مسجد سے باہر آرہی تھی تو میں نے سنا کہ وہ پڑھ رہے ہیں ” والطور “ سے ” ان عذاب ربک لواقع مالہ من دافع “ پس گویا کہ میرا دل پھٹ گیا جب میں نے اس کو سنا تو اور یہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے۔ فرماتے ہیں پس میں عذاب کے اترنے کے خوف سے اسلام لے آیا اور مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوسکوں گا حتیٰ کہ مجھ پر عذاب واقع ہوجائے گا۔ پھر بیان کیا کہ کب واقع ہوگا تو فرمایا :
Ayah 52:109 ۔” یوم تمورا السماء مورا “ یعنی گھومے گا چکی کے گھومنے کی طرح اور اپنے اہل کے ساتھ ایسے ہلے گا جیسے کشتی ہلتی ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں حرکت کرے گا۔ عطاء خراسانی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے اجزاء آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے اور کہا گیا ہے کہ وہ مضطرب ہوجائے گا اور ” المور “ ان تمام معانی کو جامع ہے۔ پس وہ لغت میں جانا، آنا، چکر لگانا، آنا جانا اور اضطراب کے معنی رکھتا ہے۔
Ayah 52:1110 ۔” وتسیرالجبال سیرا “ پس وہ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں گے اور بکھری ہوئی دھنی ہوئی روئی ہوجائیں گے۔
Ayah 52:1211 ۔” فویل “ پس سخت عذاب ہے۔ ” یومئذ للمکذبین “۔
Ayah 52:1312 ۔” الذین ھم فی خوض یلعبون “ باطل میں غوروخوض کرتے ہیں ، غفلت ولاپروائی میں کھیلتے ہیں۔
Ayah 52:1413 ۔” یوم یدعون “ دھکیلے جائیں گے۔ ” الی نار جھنم دعا “ سختی کے ساتھ دھکیلنا کیوں کہ جہنم کے داروغے ان کے ہاتھ گردنوں پر باندھ دیں گے اور ان کی پیشانیاں پائوں سے لگا دیں گے۔ پھر ان کے چہروں کے بل جہنم کی طرف دھکیلیں گے اور ان کی گدیوں پر ماریں گے۔ یہاں تک کہ وہ جہنم پر وارد ہوں گے۔ پس جب وہ اس کے قریب ہوں گے تو ان کو جہنم کے داروغے کہیں گے۔
Ayah 52:1514 ۔” ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون “ دنیا میں۔
Ayah 52:1615 ۔” افسحر ھذا “ کیونکہ وہ محمد ﷺ کی نسبت سحر کی طرف کرتے تھے اور یہ کہ محمد ﷺ آنکھوں جادو کے ساتھ ڈھانپ دیتے ہیں تو ان کو ڈانٹا گیا اور ان کو کہا گیا ” افسحر ھذا ام انتم لا تبصرون “۔
Ayah 52:1716 ۔” اصلوھا “ اس کی سختی کو قیاس کرو۔ ” فاصبروا او لا تصبروا سواء علیکم “ صبر کرنا اور واویلا کرنا ہے ۔ تجزون ما کنتم تعملون “۔
Ayah 52:1817 ۔” ان المتقین فی جنات ونعیم۔
Ayah 52:1918 ۔” فاکھین “ اس پر خوش ہیں اتراتے ہیں۔ ” بما آتاھم ربھم ووقاھم ربھم عذاب الجحیم “ اور ان کو کہا جائے گا۔
Ayah 52:2019 ۔” کلوا واشربوا ھنیئا “ اس کا انجام بیماری اور پیٹ خرابی سے امن ہے۔ ” بما کنتم تعملون “۔
Ayah 52:2120 ۔” متکئین علی سرر مصفوفۃ “ ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوئے ہوں گے۔ ” وزوجناھم بحور عین “۔
Ayah 52:2221 ۔” والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان “ ابو عمرو نے ” اتبعناھم “ الف قطعی کے ساتھ تعظیم کی وجہ سے پڑھا ہے ۔ ” ذریاتھم “ الف اور تاء کی زیر کے ساتھ دونوں میں۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” الحقنا بھم “ اور ” وماالتناھم “ کی وجہ سے تاکہ کلام ایک ترتیب پر ہوجائے اور دیگر حضرات نے ” واتبعتھم “ الف وصلی اور اس کے بعد تاء مشدد اور آخری تاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ پھر ان کا اختلاف ہوا ہے ” ذریتھم “ میں۔ اہل مدینہ نے پہلے کو بغیر الف اور تاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے کو الف اور تاء کی زیر کے ساتھ۔
اوراہل شام اور یعقوب نے دونوں کو الف کے ساتھ اور تاء کی زیر کے ساتھ دوسرے میں اور دیگر حضرات نے دونوں کو بغیر الف کے اور پہلے میں تاء کے پیش اور دوسرے میں تاء کے زبر کے ساتھ اور اس آیت کے معنی میں اختلاف ہوا ہے۔ ایک قوم نے کہا ہے کہ اس کا معنی ” والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان “ یعنی ان کی چھوٹی اور بڑی اولاد پس بڑی اولاداپنے ایمان کی وجہ سے اور چھوٹی اپنے آباء کے ایمان کی وجہ سے کیونکہ چھوٹے بچے کے اسلام کا حکم کیا جائے گا، اس کے والدین میں سے کسی ایک کے تابع کرتے ہوئے۔ ” الحقنابھم ذریتھم “ مومنین کو جنت میں ان کے درجات کے ساتھ اگرچہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے اپنے آباء کے درجہ تک نہ پہنچ سکیں گے، یہ ان کے آباء کا اعزاز ہوگا تاکہ ان کی آنکھیں اس کے ذریعہ ٹھنڈی ہوں اور یہی سعید بن جبیر (رح) کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔
اور دیگر حضرات نے کہا ہے اس کا معنی ” واللذین امنوا واتبعتھم ذریتھم “ بالغ اولاد وایمان کے ساتھ تو ہم ان کے ساتھ ان کی چھوٹی اولاد کو بھی لاحق کردیں گے جو ایمان کو نہیں پہنچے ان کے آباء کے ایمان کی وجہ سے۔ اور یہ ضحاک (رح) کا قول ہے اور عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اپنے مومن بندے کے لئے اس کی اولاد کو جنت میں جمع کردیں گے جیسا کہ وہ دنیا میں پسند کرتا تھا کہ وہ اس کے پاس جمع ہوں۔ ان کو جنت میں داخل کریں گے اپنے فضل کے ساتھ اور ان کو ان کے درجہ پر پہنچائیں گے اس کے باپ کے عمل کی وجہ سے بغیر اس کے کہ آباء کے اعمال سے کچھ کم کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وما التناھم “ ہے۔ ابن کثیر (رح) نے لام کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے لام کے زبر کے ساتھ۔ یعنی ہم ان یعنی آباء سے کچھ کم نہ کریں گے۔ ” من عملھم من شیء “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کی اولاد کو اس کے درجہ میں بلند کریں گے۔ اگرچہ وہ اس عمل سے کم ہوں گے تاکہ ان کے ذریعے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں۔ پھر پڑھا : ” والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم “ آیت کے آخر تک۔
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت خدیجہ ؓ نے پوچھا نبی کریم ﷺ سے اپنے ان بچوں کے بارے میں جو جاہلیت میں مرگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ دونوں جہنم میں ہیں۔ پس جب ان کے چہرے پر ناگواری کو دیکھا تو فرمایا اگر تو ان کا ٹھکانہ دیکھ لیتی تو ان سے نفرت کرتی۔ تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! پس میرے آپ (علیہ السلام) سے جو بچے ہوئے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جنت میں ہیں۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک مومنین اور ان کی اولاد جنت میں ہے اور مشرکین اور ان کی اولاد جہنم میں ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا ” واللذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم “ … ” کل امری بما کسب رھین “۔
مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ہر کافر بندہ جس نے شرک کا عمل کیا اس کی وجہ سے آگ میں رہن رکھا ہوا ہے اور مومن رہن نہیں ہے۔ بوجہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” کل نفس بما کسبت رھینہ الا اصحاب الیمین “ پھر ذکر کیا جوان کو خیر اور نعمت زیادہ دیں گے۔
Ayah 52:2322 ۔” وامددناھم بفاکھۃ “ اس پر زیادتی جو ان کے لئے پہلے تھا۔ ” ولحم مما یشتھون، مختلف قسم کے گوشت۔
Ayah 52:2423 ۔” یتنازعون “ ایک دوسرے سے لیں گے دیں گے۔ ” فیھا کا سا لا لغوفیھا “ اور وہ باطل ہے۔ قتادہ (رح) سے یہ روایت کیا گیا ہے۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں اس میں کوئی فضول کام نہ ہوگا۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں نہ گالم گلوچ نہ کوئی جھگڑا۔ قتیبی (رح) فرماتے ہیں ان کی عقل نہ ختم ہوگی کہ لغوی گناہ کی باتیں کریں۔ ” ولا تاثیم “ یعنی ان سے وہ کام نہ ہوگا جو ان کو گناہ گار کردے۔
زجاج (رح) فرماتے ہیں ان کے درمیان لغو اور وہ کام جاری نہ ہوگا جس میں گناہ ہو جیسا کہ دنیا میں شراب پینے کے ساتھ ہوتا ہے اور کہا گیا اس کے پینے میں گنہگار نہ ہوگا۔
Ayah 52:2524 ۔” ویطوف علیھم “ خدمت کے ساتھ۔ ” غلمان لھم کانھم “ حسن سفیدی اور رونق میں۔ ” لولومکنون “ محفوظ خزانہ جس تک لوگوں کے ہاتھ نہ پہنچے ہوں۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں مکنون یعنی سیپ میں۔ عبداللہ بن عمرو (رح) فرماتے ہیں ہر جنتی کے لئے ہزار غلام دوڑتے ہوں گے اور ہر غلام اس کام پر ہوگا جو دوسرا نہ کررہا ہوگا اور حسن (رح) سے روایت کیا گیا ہے کہ جب یہ آیت تلاوت کی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا، یارسول اللہ ! خادم چھپے ہوئے موتی کی طرح ہوگا تو مخدوم کیسا ہوگا ؟ اور قتادہ (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہمیں ذکر کیا گیا کہ ایک شخص نے کہا یا نبی اللہ ! ﷺ یہ خادم ہے تو مخدوم کیسا ہوگا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا مخدوم کی خادم پر فضیلت ایسے ہوگی جیسے چودھویں کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہوتی ہے۔
Ayah 52:2625 ۔” واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون “ ایک دوسرے سے جنت میں سوال کریں گے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی مشقتیں اور خوف کو یاد کریں گے۔
Ayah 52:2726 ۔” قالوانا کنا قبل فی اھلنا “ دنیا میں۔ ” مشفقین “ عذاب سے ڈرتے تھے۔
Ayah 52:2827 ۔” فمن اللہ علینا “ مغفرت کے ساتھ۔ ” ووقانا عذاب السموم “ کلبی (رح) فرماتے ہیں جہنم کے عذاب سے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” السموم “ جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
Ayah 52:2928 ۔” انا کنا من قبل “ دنیا میں ۔” ندعوہ “ خالص کے لئے عبادت کرتے تھے۔ ” انہ “ اہل مدینہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ” انہ “ الف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” لانہ “ یا ” بانہ “ اور دیگر حضرات نے زیر کے ساتھ استئناف کی بناء پر پڑھا ہے۔ ” ھوالبر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” اللطیف “ (باریک بین) اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں اپنے وعدہ میں سچا ہے۔ ” الرحیم “۔
Ayah 52:3029 ۔” فذکر “ اے محمد ! ﷺ قرآن کے ذریعے اہل مکہ کو ” فما انت بنعمۃ ربک “ اس کی رحمت اور حفاظت کے ساتھ۔ ” بکاھن “ کہ قرآن گھڑ لیا ہو اور آئندہ آنے والی بات کی بغیر وحی کے خبر دیں۔ ” ولا مجنون “ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے مکہ کی گھاٹیاں تقسیم کرلی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ پر کہانت ، جادو، جنوں اور شعر کی تہمت لگاتے تھے۔
Ayah 52:3130 ۔” ام یقولون “ بلکہ وہ کہتے ہیں یعنی یہ تقسیم کرنے والے اندازے لگانے والے ” شاعر “ یعنی وہ شاعر ہیں۔ ” تربص بہ ریب المنون “ زمانہ کے حوادث اور سا کا پھرنا۔ پس وہ بھی مر کر ہلاک ہوجائیں گے۔ جیسا کہ ان سے پہلے شعراء ہلاک ہوگئے اور اس کے ساتھی تتر بتر ہوگئی اور ان کے والد جوانی میں فوت ہوگئے۔ اب ہمیں امید ہے کہ ان کی موت بھی اپنے والد کی موت کی طرح ہوگی اور ” المنون “ کبھی دھر کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی موت کے معنی میں۔ ان دونوں کے ساتھ نام رکھا گیا کیوں کہ یہ دونوں مدت کو ختم کردیتے ہیں۔
Ayah 52:3231 ۔” قل تربصوا “ میری موت کا انتظار کرو۔ ” فانی معکم من المتربصبین “ انتظار کرنے والوں میں سے حتیٰ کہ اللہ کا امر تمہارے بارے میں آجائے۔ پس تم عذاب دیئے جائو بدر کے دن تلوار کے ساتھ۔
Ayah 52:3332 ۔” ام تامرھم احلامھم “ ان کی عقلیں۔ ” بھذا “ کیونکہ عظماء و قریش بڑے عقل مند اور صاحب عقل سمجھے جاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عقول کا عیب نکالا کہ ان کے لئے حق کی باطل سے پہچان مکمل نہیں ہوئی۔ ” ام ھم “ بلکہ وہ ” قوم طاغون “۔
Ayah 52:3433 ۔” ام یقولون تقولہ “ یعنی قرآن کو خود سے گھڑ لیا ہے اور ” تقول یتکلف “ بات کرنا اور یہ صرف کذب (جھوٹ) کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے اور معاملہ ویسے نہیں جیسے انہوں نے گمان کیا۔ ” بل لا یومنون “ قرآن پر تکبر کرتے ہوئے۔
Ayah 52:3534 ۔” پھر ان پر حجت لازم کرتے ہوئے فرمایا : ” فلیاتوا بحدیث مثلہ “ یعنی قرآن کی مثل اس کی ترتیب اور حسن بیان میں ” ان کانوا صادقین “ کہ محمد ﷺ اس کو اپنی طرف سے کہتے ہیں۔
Ayah 52:3635 ۔” ام خلقوا من غیر شیئ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بغیر رب کے اور اس کا معنی ہے کیا وہ پیدا کیے گئے ہیں بغیر کسی چیز کے ان کو پیدا ہونا ہے۔ پس وہ بغیر خالق کے پائے گئے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جو ممکن نہیں اس لئے کہ خلق کا خالق کے ساتھ تعلق اسم کی ضرورت ہے ہر تخلیق کا خالق ضروری ہے۔ پس اگر وہ خالق کا انکار کرتے ہیں تو یہ ممکن نہیں کہ وہ خود بغیر خالق کے پائے جائیں۔ ” ام ھم الخالقون “ اپنے آپ کے ۔ یہ سخت ترین باطل چیز ہے۔ اس لئے کہ جس چیز کا خود وجود نہ تھا وہ کیسے پیدا کرسکتی ہے۔ پس جب دونوں صورتیں باطل ہوگئیں تو ان پر حجت قائم ہوگئی کہ ان کا خالق ہے۔ پس چاہیے کہ وہ اس پر ایمان لے آئیں۔ اس معنی کو ابو سلیمان خطابی (رح) نے ذکر کیا ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ کیا وہ باطل پیدا گئے ہیں کہ نہ ان کا محاسبہ ہوگا اور نہ ان کو حکم دیا جائے گا ؟ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں کیا وہ فضول پیدا کیے گئے ہیں اور بےکار چھوڑ دیئے گئے ہیں کہ نہ ان کو امر کیا جائے گا نہ نہی کی جائے گی۔ پس وہ قائل کے قول کی طرح ہے ” فعلت کذاوکذامن غیر شیئ “ یعنی بغیر شی تو نے یہ اور یہ کیا بغیر کسی مقصد کے۔ کیا وہ خود اپنے خالق ہیں کہ ان پر اللہ کا کوئی امرواجب نہ ہوگا ؟۔
Ayah 52:3736 ۔” ام خلقوا السموات والارض “ پس وہی خالق ہوجائیں۔ معاملہ اس طرح نہیں ہے۔ ” بل لا یوقنون “۔
Ayah 52:3837 ۔” ام عندھم خزائن ربک “ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں یعنی نبوت مقاتل (رح) فرماتے ہیں کیا ان کے ہاتھوں میں تیرے رب کی رسالت کی چابیاں ہیں کہ وہ اس کو جہاں چاہیں رکھ دیں ؟ کلبی (رح) فرماتے ہیں بارش اور رزق کے خزانے۔ ” ام ھم المصیطرون “ مسلط کیے ہوئے متکبر۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں۔ غالب کہ کسی امرونہی کے تحت نہ ہوں اور جو چاہیں کریں اور سین اور صاد کے ساتھ جائز ہے۔ ابن عامر (رح) نے یہاں سین کے ساتھ پڑھا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول ” بمسیطر “ میں، اور ابن کثیر (رح) نے یہاں سین کے ساتھ اور ” بمصیطر ‘ صاد کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے دونوں میں صاد کے ساتھ۔
Ayah 52:3938 ۔” ام لھم سلم “ سیڑھی اور زینہ آسمان تک۔ ” یستمعون فیہ “ یعنی اس پر وحی سن آتے ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ولا صلبنکم فی جذوع النخل “ ہے یعنی علیھا ان درختوں پر۔ یعنی کیا ان کے لئے سیڑھیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ آسمان تک چڑھ جائیں۔ پس وہ وحی کو سن لیں اور جان لیں کہ جو ان کے پاس ہے وہی حق ہے وحی کے ساتھ۔ پس وہ اس کو تھامے ہوئے ہیں اسی طرح ؟ ” فلیات مستمعھم “ اگر وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ” بسلطان مبین “ واضح دلیل کے ساتھ۔
Ayah 52:4039 ۔” ام لہ البنات ولکم البنون “ یہ ان پر انکار ہے جب انہوں نے اللہ کے لئے وہ بنایا جس کو وہ ناپسند کرتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول۔ ” فاستفتتھم الربک البنات ولھم البنون “