Ayah 51:1سورة الذاریات
مکی ہے اور اس کی ساٹھ 60 آیتیں ہیں
Ayah 51:21 ۔” والذاریات ذروا “ یعنی ہوائیں جو مٹی کے ذرات کو اڑاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے ” ذرت الریح التراب وازرت “۔
Ayah 51:32 ۔” فالحاملات وقرا “ یعنی بادل جو پانی کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
Ayah 51:43 ۔” فالجاریات یسرا “ وہ کشتیاں جو پانی میں آسانی کے ساتھ چلتی ہیں۔
Ayah 51:54 ۔” فالمقسمات امرا “ فرشتے جو مخلوق کے درمیان امور کی تقسیم کرتے ہیں۔ اس تفصیل پر جس کا ان کو حکم دیا گیا ہوتا ہے۔ ان اشیاء کی قسم کھائی کیونکہ ان میں اس کی کاری گری اور قدرت پر دلالت ہے۔
Ayah 51:65 ۔ پھر مقسم علیہ کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا ” انما توعدون “ ثواب و عتاب کا ” لصادق “۔
Ayah 51:76 ۔” وان الدین “ حساب اور جزائ ” لواقع “ البتہ ہونے والا ہے۔
Ayah 51:87 ۔ پھر دوسری قسم کی ابتداء کی اور فرمایا ” والسمآء ذات الحبک “ ابن عباس ؓ ، عکرمہ اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں اچھی اور ٹھیک تخلیق والا۔ کپڑا بننے والا جب عمدہ کپڑا بنے تو اس کو کہا جاتا ہے ” مااحسن حبکتہ بن جبیر (رح) فرماتے ہیں زینت والا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں تاروں کے ساتھ مزین کیا گیا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں مضبوط تعمیر والا۔ مقاتل ، کلبی اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں راستوں والا جیسا کہ پانی کی لہریں جب ان پر ہوا چلے اور ریت کے ٹیلے کا راستہ بالوں کے گچھے کی ایک لٹ۔ لیکن تو اس کو لوگوں سے دور ہونے کی وجہ سے نہ دیکھ سکے۔ یہ حباک اور حبیکۃ کی جمع ہے اور جواب قسم ہے۔
Ayah 51:98 ۔” انکم “ اے اہل مکہ ! ” لفی قول مختلف “ قرآن اور محمد ﷺ کے بارے میں۔ تم قرآن کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ جادو اور کہانت اور پہلوں کی من گھڑت باتیں ہیں اور محمد ﷺ کے بارے میں کہتے ہو کہ جادوگر اور شاعر اور مجنون ہیں اور کہا گیا ہے کہ ” لفی قول مختلف “ یعنی تصدیق کرنیوالے اور تکذیب کرنے والے۔
Ayah 51:109 ۔” یوفک عنہ من افک “ اس پر ایمان لانے سے وہ پھرتا ہے پھرتا ہے حتیٰ کہ اس کی تکذیب کرلے۔ یعنی جس کو اللہ تعالیٰ محمد ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے سے محروم کردے اور کہا گیا ہے کہ ” عن “ من اجل کے معنی میں ہے۔ یعنی اس مختلف قول کی وجہ سے پھرتا ہے یا اس کے سبب ایمان سے وہ پھرتا ہے کیونکہ وہ اس شخص کو ملتے جس کا ایمان لانے کا ارادہ ہوتا تو اس کو کہتے کہ وہ جادو گر اور کاہن اور مجنون ہیں۔ پس اس کو ایمان سے پھیر دیتے اور یہ مجاہد (رح) کے قول کا معنی ہے۔
Ayah 51:1110 ۔” قتل الخراصون “ تکذیب کرنے والوں پر لعنت کی گئی۔ کہا جاتا ہے ” تحرص علی فلان الباطل “ فلاں پر باطل الزام لگایا اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مکہ کے عتاب کو آپس میں تقسیم کیا تھا اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں قول کو تقسیم کیا تھا تاکہ لوگوں کو دین اسلام سے پھیریں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کاہن لوگ مراد ہیں۔
Ayah 51:1211 ۔” الذین ھم فی غمرۃ “ غفلت، اندھے پن اور جہالت میں۔ ” ساھون “ غافل بےپرواہ آخرت کے امر سے اور سہو کسی چیز سے غافل ہونا اور وہ دل کا اس پر چلاجانا۔
Ayah 51:1312 ۔” یسالون ایان یوم الدین “ وہ کہتے ہیں اے محمد ! ﷺ کب ہوگا جزاء کا دن۔ یعنی قیامت کا دن یہ تکذیب اور استہزاء کے لئے کہتے تھے۔
Ayah 51:1413 ۔” یوم ھم “ یعنی یہ جزاء ایسے دن میں ہوگی کہ وہ ” علی الناریفتنون “ عذاب دیئے جائیں اور اس کے ساتھ جلائے جائیں گے جیسے سونے کو آگ پر تپایا جاتا ہے اور کہا گیا ہے کہ ” علی “ باء کے معنی میں ہے یعنی آگ کے ساتھ اور ان کو جہنم کے داروغے کہیں گے۔
Ayah 51:1514 ۔” ذوقوافتنتکم “ تمہارا عذاب ” ھذا الذی کنتم بہ تستعجلون “ دینا میں اس کی تکذیب کرتے ہوئے۔
Ayahs 51:16–1715-16…” ان المتقین فی جنات وعیون ۔ آخذین ما آتاھم “ جو ان کو دے گا۔ ” ربھم “ خیر اور اعزاز سے۔ ” انھم کانوا قبل ذلک “ ان کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے۔ ” محسنین “ دنیا میں۔
Ayah 51:1817 ۔” کانوا قلیلا من اللیل ما یھجعون “ اور ھجوع رات کو سونا دن کے علاوہ۔ ” وما “ صلہ ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ رات کو تھوڑا سوتے تھے یعنی اکثر رات نماز پڑھتے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ساری رات جس میں وہ سوتے ہیں تھوڑی ہے اور یہ سعید بن جبیر کے ابن عباس ؓ سے قول کا معنی ہے۔ یعنی کم رات بھی ان پر آئے تو اس میں کچھ نماز ضرور پڑھتے ہیں یا تو اس کے ابتداء میں یا درمیان میں۔
انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ وہ مغرب و عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں۔ محمد بن علی ؓ فرماتے ہیں وہ نہیں سوتے حتیٰ کہ عتمہ کی نماز پڑھ لیں۔ مطرف بن عبداللہ بن شخر فرماتے ہیں کہ بہت کم رات ان پر ایسی گزرت ہے کہ ساری رات وہ سوئے ہوں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ ساری رات نہ سوتے تھے اور بعض حضرات اس کے قول ” قلیلا ‘ ‘ پر وقف کیا ہے یعنی کہ وہ تھوڑے سے لوگ ہیں۔ پھر ابتداء کی ” من اللیل مایھجعون “ اور اس کو جحد بنایا یعنی وہ رات کو بالکل نہیں سوتے بلکہ نماز اور عبادت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور یہ ضحاک اور مقاتل رحمہما اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔
Ayah 51:1918 ۔” وبالا سحارھم یستغفرون “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ وہ رات کا حکم حصہ سوتے ہیں اور کبھی طبیعت میں نشاط ہوتا ہے تو سحر تک چلے جاتے ہیں۔ پھر سحر کے وقت استغفار کرنے لگتے ہیں۔ کلبی، مجاہد اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ سحر کے وقت نماز پڑھتے ہیں کیونکہ ان کی سحر کے وقت کی نماز مغفرت طلب کرنے کے لئے ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر رات اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتے ہیں۔ جب رات کا تہائی باقی رہ جاتا ہے پھر فرماتے ہیں میں بادشاہ ہو، میں بادشاہ ہوں، کون شخص ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے پس میں اس کو دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو میں اس کی مغفرت کروں ؟
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب رات کو تہجد کے لئے کھڑے ہوتے تو فرماتے ” اللھم لک الحمد انت قیم السموات والارض ومن فیھن ولک الحمد انت نور السموات والارض ومن فیھن ولک الحمد انت ملک السموات والارض ومن فیھن ولک الحمد انت اللحق ووعدک الحق ولقائوک حق وقولک حق والجنۃ حق والنار حق والنبیون حق ومحمد حق والساعۃ حق اللھم لک اسلمت وبک امنت وعلیک توکلت والیک انبت وبک خاصمت والیک حاکمت فاغفرلی ماقدمت وما آخرت وما اسورت وما اعلنت وما انت اعلم بہ منی انت المقدم وانت الموخر لا الہ الا انت ولا الہ غیرک “۔
اے اللہ ! تیرے ہی لئے ستائش (زیبا) ہے۔ آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کی کائنات کا تو ہی مدبر ہے۔ تیرے ہی لئے حمد ہے۔ آسمانوں کا زمین کا اور ان کی موجودات کا تو ہی حاکم ہے۔ تیری ہی تعریف (زیبا) ہے۔ تو ہی حق ہے تیر اہی حق ہے تیرا ہی وعدہ حق ہے تیرا (ہمیشہ) باقی رہنا حق ہے۔ تیرا کلام حق ہے، دوز خ حق ہے ، انبیاء حق ہیں، محمد ﷺ حق ہیں۔ قیامت حق ہے۔ اے اللہ ! میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں، تجھی پر ایمان رکھتا ہوں، تجھی پر میرا بھروسہ ہے۔ تیری ہی طرف میں رجوع کرتا ہوں، تیری مدد سے میں دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہوں، تیری ہی جانب میں اپنا معاملہ (فیصلہ کے لئے) لے جاتا ہوں، تو ہمارا رب ہے، تیری ہی طرف منتقل ہونا ہے۔ میرے اگلے، پچھلے اور پوشیدہ ، ظاہر گناہ اور وہ قصور جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے معاف فرمادے تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے ہٹانے والا ہے (یا سب سے پہلے اور سب کے بعد تو ہی ہے) تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تیرے علاوہ کوئی قابل پرستش نہیں۔ (متفق)
سفیان (رح) نے کہا اور عبدالکریم ابوامیہ نے ” ولا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کو زیادہ کیا ہے۔ حضرت عبادہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جو رات کو بیدار ہو اور کہے ” لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر و سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ “ پھر کہا ” رب اغفرلی “ یا فرمایا کہ دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ پس اگر وضو کیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کی جائے گی۔
Ayah 51:2019 ۔” وفی اموالھم حق للسائل والمحروم “ سائل جو لوگوں سے مانگے اور محروم جس کا غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہو اور اس پر مال فئی سے کچھ جاری نہ ہو یہ ابن عباس ؓ اور سعید بن مسیب کا قول ہے۔ فرمایا :” المحروم “ وہ شخص جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو اور لغت میں اس کا معنی وہ شخص جو خیر اور عطاء سے روک دیا گیا۔ قتادہ اور زہری رحمہما اللہ فرماتے ہیں محروم وہ باعفت شخص جو سوال نہ کرے۔ زید بن اسلم فرماتے ہیں وہ شخص جس کا پھل یا اس کی کھیتی یا اس کے جانوروں کی نسل تباہ ہوگئی ہو اور یہی محمد بن کعب قرظی (رح) کا قول ہے۔ فرمایا محروم ضرورت مند شخص۔ پھر پڑھا ” انا لمغرمون بل نحن محرومون “
Ayahs 51:21–2220-21…” وفی الارض آیات “ عبرتیں ” للموقنین “ جب اس میں پاس پہاڑوں ، سمندروں، درختوں ، پھلوں اور قسم قسم کے پودوں میں۔ ” وفی انفسکم “ نشانیاں ہیں جب وہ نطفہ تھا پھر جما ہوا خون بنا۔ پھر گوشت کا لوتھڑا ، پھر ہڈی یہاں تک کہ اس میں روح پھونکی گئی۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زبانوں، صورتوں، رنگوں اور طبیعتوں کا اختلاف مراد ہے۔ ابن زبیر (رح) فرماتے ہیں پاخانہ، پیشاب کا راستہ مراد ہے کہ ایک راستہ سے بندہ کھاتا پیتا ہے اور دوراستوں سے نکلتا ہے۔ ” افلا تبصرون “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہیں کیسے پیدا کیا پھر تم بعث پر اس کی قدرت کو پہچان لو۔
Ayah 51:2322 ۔” وفی السماء رزقکم “ ابن عباس ؓ ، مجاہد ، مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی بارش جو رزق کا سبب ہے ” وماتوعدون “ عطا (رح) فرماتے ہیں ثواب و عتاب کا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں خیر وشر کا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں جو تم جنت اور جہنم کا وعد ہ کیے گئے ہو۔ پھر اپنے نفس کی قسم کھائی۔
Ayah 51:2423 ۔” فورب السماء والارض انہ لحق “ یعنی جو میں نے رزق کا معاملہ ذکر کیا وہ حق ہے۔ ” مثل “ حمزہ، کسائی اور ابوبکر نے عاصم سے ” مثل “ لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے الحق سے بدل ہونے کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کمثل ” ماانکم تنطقون “ پس تم کہو لا الہ الا اللہ اور کہا گیا ہے کہ جس کی ان کو خبر دی گئی تھی اس کی تحقیق کو آدمی کے نطق کی تحقیق کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ جیسا کہ تو کہے گا ” انہ لحق “ جیسا کہ تو یہاں ہے اور ” انہ لحق “ جیسا کہ تو کلام کرتا ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ اپنے صدق اور اپنے وجود میں اس شخص کی طرح ہے جس کو تو اچھی طرح پہچانتا ہے اور بعض حکماء نے کہا ہے کہ یعنی جس طرح ہر انسان اپنی زبان سے بولتا ہے اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے غیر کی زبان سے بولے ۔ اسی طرح ہر انسان اپنا رزق کھاتا ہے جو اس کے لئے تقسیم کیا گیا ہے اور اس پر قادر نہیں کہ کسی اور کا رزق کھالے۔
Ayah 51:2524 ۔” ھل اتاک حدیث ضیف ابراھیم “ ہم نے ان کی تعداد سورة ھود میں ذکر کردی ہے۔ ” المکرمین “
کہا گیا ہے کہ ان کا نام مکر مین رکھا ہے اس لئے کہ وہ فرشتے تھے عنداللہ معزز اور اللہ تعالیٰ نے ان کے وصف میں فرمایا ” بل عباد مکرمون “ اور کہا گیا ہے اس لئے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) مخلوق میں سے معزز ترین ہیں تو معززین کے مہمان بھی معزز ہوتے ہیں اور کہا گیا ہے اس لئے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے انکی جلد مہمانی کرکے اور خندہ پیشانی کے ساتھ بذات خود ان کی خدمت کرکے ان کا اکرام کیا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ان کی بذات خود خدمت کی۔ ابن عباس (رح) عنہما سے مروی ہے کہ ان کا نام مکرمین رکھا اس لئے کہ وہ بغیر دعوت کے آئے تھے اور نبی کریم ﷺ سے ہم تک روایت پہنچی کہ جو شخص اللہ اور آخرت کی دن پر ایمان رکھتا ہے پس چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔
Ayah 51:2625 ۔” اذدخلوا علیہ فقالوا سلاما قال “ ابراہیم (علیہ السلام) نے ” سلام قوم منکرون “ یعنی اجنبی ہم تمہیں نہیں پہچانتے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اپنے دل میں کہا یہ قوم ہم تو ان کو نہیں پہچانتے۔ اور کہا گیا ہے کہ ان کے امر کو اجنبی سمجھا اس لئے کہ وہ بغیراجازت طلب کیے داخل ہوئے تھے۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں اس زمانے اور اس علاقہ میں ان کے سلام کو اجنبی سمجھا۔
Ayah 51:2726 ۔” فراغ “ مائل ہوئے۔ ” الی اھلہ فجاء بعجل سمین “ بھنا ہوا۔
Ayah 51:2827 ۔” فقربہ الیھم “ تاکہ وہ کھائیں لیکن انہوں نے نہیں کھایا۔ ” قال الاتاکلون۔
Ayah 51:2928 ۔ فاوجس منھم خیفۃ قالوا لا تخف وبشروہ بغلام علیم۔
Ayah 51:3029 ۔” فاقبلت امراتہ فی صرۃ “ یعنی چیختے ہوئے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے اقبال استعمال نہیں ہوا بلکہ یہ تو قائل کے قول ” اقبل لشتمنی “ کی طرح ہے یعنی وہ مجھے برا بھلا کہنا شروع ہوگیا، یعنی واویلا کرتی آئیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” قالت یا ویلتی “ …” فصکت وجھھا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اپنے چہرے پر تھپڑ مارا اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ اپنی انگلیاں جمع کرکے اپنی پیشانی پر ماریں تعجب کی وجہ سے ۔ جیسے عورتوں کی عادت ہے جب وہ کسی چیز کو عجیب سمجھیں اور ” صک “ کی اصل کسی شے کو چوڑی چیز سے مارنا۔ ” وقالت عجوز عقیم “ اس کا مجاز ہے ” اتلد عجوز عقیم “ یعنی کیا بوڑھی بانجھ عورت بچہ جنے لگی اور حضرت سارہ کی اس سے پہلے کوئی اولاد نہ تھی۔
Ayah 51:3130 ۔” قالوا کذلک قال ربک “ یعنی جیسے ہم نے آپ کو کہا ہے آپ کے رب نے اس طرح کہا ہے کہ آپ عنقریب بچہ جنیں گی۔ ” انہ ھوالحکیم العلیم “
Ayah 51:3231 ۔” قال “ ابراہیم (علیہ السلام) نے ۔ ” فما خطبکم ایھا المرسلون۔
Ayah 51:3332 ۔” قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین “ یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم۔
Ayah 51:3433 ۔” لئرسل علیھم حجارۃ من طین۔
Ayah 51:3534 ۔” مسومۃ “ نشان زدہ ہوں گے۔ ” عندربک للمسرفین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مشرکین کے لئے اور شرک گناہوں میں سے حد سے بڑھا ہوا اور بڑا گناہ ہے۔
Ayah 51:3635 ۔” فاخرجنا من کان فیھا “ قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں ” من المومنین “ اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” فاسر باھلک بقطع من اللیل “ ہے۔
Ayah 51:3736 ۔” فما وجدنا فیھا غیربیت “ ایک گھر والوں کے علاوہ ” من المسلمین “ یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹیاں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان اور اسلام دونوں کے ساتھ موصوف قرار دیا ہے اس لئے کہ جو مومن ہو وہ مسلم ہوتا ہے۔
Ayah 51:3837 ۔” وترکنا فیھا “ قوم لوط (علیہ السلام) کے شہر میں۔ ” آیۃ “ عبرت۔ ” للذین یخافون العذاب الالیم “ یعنی ڈرنے والوں کے لئے علامت جوا ن کی رہنمائی کرے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ پس ان کے عذاب کی مثل سے ڈریں۔
Ayah 51:3938 ۔” وفی موسیٰ “ یعنی اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجنے میں نشانی اور عبرت کو چھوڑا اور کہا ہے کہ یہ اس کے قول ” وفی الارض آیات للموقنین “ پر معطوف ہے۔ ” وفی موسیٰ اذا ارسلناہ الی فرعون بسلطان مبین “ ظاہر حجت کے ساتھ۔
Ayah 51:4039 ۔” فتولی “ یعنی پس اس نے اعراض کیا اور ایمان سے پیٹھ پھیری ” برکنہ “ یعنی اپنی جماعت اور اپنے لشکرکے ساتھ جس کے ذریعے وہ قوت حاصل کرتا تھا، اس ستون کی طرح جس کے ذریعے عمارت کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ اس کی نظیر اس کا قول ” اوآوی الی رکن شدید “…” وقال ساحر اور مجنون “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” او “ بمعنی وائو ہے۔