Ayah 50:1مکی ہے اور اس کی پینتالیس 45 آیات ہیں
Ayah 50:21 ۔” قٓ“ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ قسم ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ سورت کا نام ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ قرآن مجید کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نام قدیر، قادر، قاہر، قریب، قابض کی چابی ہے اور عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سبز زمرد کا یہ پہاڑ ہے جس نے زمین کو گھیرا ہوا ہے۔ اسی سے آسمان کی سرسبزی ہے اور آسمان گنبد کی طرح ہے اور اس پر آسمان کے دونوں جانب (پہلو) ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ اس حجاب کے باہر ہے جس میں سورج غروب ہوتا ہے اس کے سوا سال کی مسافت ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ” قضی الامر یا قضی ماھو کائن “ (معاملہ کا فیصلہ کردیا یا آئندہ آنے والی چیزوں کا فیصلہ کردیا) جیسا کہ ” حم “ میں انہوں نے کہا تھا۔
” والقرآن المجید “ شرف والا معزز اللہ کے ہاں کثیر خیروالا۔ اس قسم کے جواب میں ان کا اختلاف ہوا ہے۔ پس اہل کوفہ نے کہا ہے کہ اس کا جواب ” بل عجبوا “ ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا جواب محذوف ہے۔ اس کا مجاز ” والقرآن المجید لتبعثن “ ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا جواب باری تعالیٰ کا قول ” ما یلفظ من قول “ ہے اور کہا گیا ہے کہ ” قدعلمنا “ ہے اور قسم کے جواب سات ہیں۔ ” ان “ شد کے ساتھ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” والفجر ولیال عشر، ان ربک لبالمرصاد “ اور مانفی کی جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” والضحیٰ ما ودعک “ اور لام مفتوح جیسے باری تعالیٰ کا قول ” فوربک لنسئلنھم باللہ جھدایمانھم لا یعبث اللہ من یموت “ اور قد جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” والشمس وضحاھا، قد افلح من زکاھا “ اور بل جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” والقرآن المجید “
Ayah 50:32 ۔” بل عجبوا ان جاء ھم منذر “ خوف دلانے والے ” منھم “ اس کا نسب اور سچائی اور امانت داری کو جانتے ہیں ” فقال الکافرون ھذا شیء عجیب “ غریب۔
Ayah 50:43 ۔” ائذا متنا وکنا ترابا “ ہم اٹھائے جائیں گے۔ بعث کے ذکر کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ کلام اس پر دلالت کررہی ہے۔ ” ذلک رجع “ یعنی زندگی کی طرف لوٹنا۔ ” بعید “ اور نہیں ہونے والی یعنی بہت بعید ہے کہ موت کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 50:54 ۔” قد علمنا ماتنقص الارض منھم “ یعنی جوان کے گوشت ، خون اور ہڈیوں کو کھاجائے گی، اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ موت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ کون ان میں سے مرگیا اور کون باقی رہا۔
” وعندنا کتاب حفیظ “ شیاطین سے محفوظ اور مٹنے اور تبدیل ہونے سے محفوظ ہے اور کہا گیا ہے کہ حفیظ یعنی ان کی تعداد اور اسماء کو محفوظ کرنے والی ہے۔
Ayah 50:65 ۔” بل کذبوا بالحق “ قرآن کو۔ ” لما جاء ھم فھم فی امر مریج “ ملے جلے۔ سعید بن جبیر و مجاہد (رح) فرماتے ہیں مشتبہ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس آیت میں بیان ہے کہ جو حق کو چھوڑ دے گا تو اس پر اس کا معاملہ فاسد اور دین مشتبہ ہوجائے گا اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ نہیں چھوڑا کسی قوم نے حق کو مگر ان کا معاملہ فاسد ہوگیا اور زجاج (رح) نے ذکر کیا ہے کہ معنی ہے کہ ان کا معاملہ مل جل گیا ہے۔ پس فرمایا کہ وہ لوگ کبھی نبی کریم ﷺ کو شاعر کہتے، کبھی جادو گر اور کبھی تعلیم یافتہ اور کبھی قرآن کو جادو اور کبھی گھڑی ہوئی چیز کہتے تو ان کا معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا۔ پھر اپنی قدرت پر ان کو دلیل دی۔
Ayah 50:76 ۔” افلم ینظروا الی السماء فوقھم کیف بنینا ھا “ بغیر ستون کے ” وزینا ھا “ ستاروں کے ساتھ۔ ” وما لھا من فروج “ کوئی جوڑ کوئی شگاف کوئی پھٹن۔ اس کا واحد فرج ہے۔
Ayah 50:87 ۔” والارض مددنا ھا “ ہم نے اس کو پانی پر بچھایا۔ ” والقینا فیھا رواسی “ پہاڑ ٹھوس ” وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج “ خوبصورت پررونق دیکھنے سے نظر خوش ہوجائے۔
Ayah 50:98 ۔” تبصرۃ “ یعنی ہم نے اس کو بصیرت کا ذریعہ ” وذکری “ اور نصیحت۔ ” لکل عبدمنیب “ تاکہ وہ اس کے ذریعے بصیرت اور نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 50:109 ۔” ونزلنا من السمآء ماء مبارکا “ کثیر الخیر اور اس میں ہر چیز کی زندگی ہے وہ بارش ہے۔ ” فانبتنا بہ جنات وحب الحصید “ یعنی گندم ، جو اور تمام دانے جو کاٹے جاتے ہیں۔ پس جب کی اضافت حصید کی طرف کی ہے حالانکہ یہ دونوں ایک ہیں لفظی اختلاف کی وجہ سے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے مسجد الجامع اور ربیع الاول۔ اور کہا گیا ہے کہ ” حب الحصید “ یعنی ان پودوں کے دانے جو کاٹے جاتے ہیں۔
Ayah 50:1110 ۔” والنخل باسقات “ مجاہد، عکرمہ اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں لمبے۔ کہا جاتا ہے ” سبقت النخلۃ بسوقا “ جب وہ لمبی ہوجائے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں سیدھی۔ ” لھا طلع “ پھل اور بوجھ ، پھل کو طلع کا نام دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ یہ طلوع ہوتا ہے اور طلع وہ پہلی چیز جو پھٹنے سے پہلے ظاہر ہو۔ ” نضید “ تہہ بہ تہہ شگوفے۔ پس جب وہ اپنے شگوفوں سے نکل آئے تو وہ نضید نہیں ہے۔
Ayah 50:1211 ۔” رزقا للعباد “ یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لئے رزق بنایا۔ ” واحیبنا بہ “ بارش کے ذریعے۔ ” بلدۃ میتا “ ہم نے اس میں گھاس وغیرہ اگایا۔ ” کذلک الخروج “ قبروں سے۔
Ayah 50:1312 ۔” کذبت قبلھم نوح واصحاب الرس وثمود۔
Ayah 50:1413 ۔” وعادوفرعون اخوان لوط۔
Ayah 50:1514 ۔” واصحاب الایکۃ وقوم تبع “ یہ تبع حمیری ہے۔ اس کا نام اسعد ابوکرب ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کی مذمت کی ہے اور اس کی مذمت نہیں کی۔ ہم نے اس کا قصہ سورة الدخان میں ذکر کردیا ہے۔ ” کل کذب الرسل “ یعنی ان مذکورین میں سے ہر ایک نے رسولوں کی تکذیب کی۔ ” فحق وعید “ ان کے لئے میرا عذاب واجب ہوگیا۔ پھر ان کے قول ” ذلک رجع بعید “ کا جواب نازل کیا۔
Ayah 50:1615 ۔” افعیینا بالخلق الاول “ یعنی ہم عاجز ہوگئے جب ہم نے ان کو پہلے پیدا کیا۔ پھر ہم اعادہ سے تھک جائیں گے اور یہ ان کی تقریر ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے پہلی تخلیق کا اعتراف کیا اور بعث کا انکار کیا اور ہر وہ شخص جو کسی چیز سے عاجز ہوجائے اس کو کہا جاتا ہے ” عیی بہ “…” بل ھم فی لبس “ شک میں ” من خلق جدید “ اور وہ بعث ہے۔
Ayah 50:1716 ۔” ولقد خلقنا الانسان ونعلم ماتوسوس بہ نفسہ “ جو اس کے دل میں خیال آتا ہے۔ پس ہم پر اس کے دل کی پوشیدہ باتیں بھی مخفی نہیں ہیں۔ ” ونحن اقرب الیہ “ اس کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ ” من حبل الورید “ اس لئے کہ اس کے اجزاء ایک دوسرے کو چھپائے ہوئے ہیں اور اللہ کے علم کو کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی اور حبل الورید گردن کی رگ اور یہ حلقوم اور علبارین کے درمیان ہوتی ہے سارے بدن میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے اور حبل وہی ورید ہے پس اس کی اپنی طرف اضافت کی گئی ہے دونوں لفظوں کے اختلاف کی وجہ سے۔
Ayah 50:1817 ۔” اذ یتلقی المتلقیان “ جب وہ ملے اور وہ دو فرشتے جو انسان پر نگران بنائے گئے ہیں وہ اس کے عمل اور گفتگو کو لیں اس کی حفاظت و کتابت کریں۔ ” عن الیمین وعن الشمال “ یعنی ان میں سے ایک اس کے دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب ہے۔ پس دائیں جانب والا نیکیاں لکھتا ہے اور جو بائیں جانب ہے وہ برائیاں لکھتا ہے۔ ” قعید “ یعنی بیٹھا ہوا۔ ” قعیدان “ نہیں کہا اس لئے کہ مرادیہ ہے کہ دائیں جانب بھی قعید (بیٹھا) ہے اور بائیں جانب بھی قعید ہے تو ان میں سے ایک کے ذریعے دوسرے سے اکتفاء کیا گیا ہے۔ یہ اہل بصرہ رحمہم اللہ کا قول ہے اور اہل کوفہ فرماتے ہیں قعوداً مراد ہے رسول کی طرح دو اور جمع کے لئے بنایا گیا ہے۔ جیسا کہ دو کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فقولا انا رسول رب العالمین “ کہا گیا ہے کہ قعید ایسا لازم مراد ہے جو دورنہ ہو نہ کہ قاعد جو قائم کی ضد ہے۔ مجاہدہ (رح) فرماتے ہیں کہ قعیدرصید کی ضد ہے۔
Ayah 50:1918 ۔” ما یلفظ من قول “ کوئی کلام نہیں کرتا۔ پس اس کو اپنے منہ سے پھینک دے۔ ” الا لدیہ رقیب “ حفاظت کرنے والا۔ ” عتید “ حاضر جہاں بھی ہو۔ حسن (رح) فراتے ہیں کہ فرشتے انسان سے دو حالتوں میں الگ ہوتے ہیں اس کے قضائے حاجت کے وقت اور اس کے جماع کرنے کے وقت اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ دونوں سب کچھ لکھتے ہیں حتیٰ کہ حالت مرض میں اس کی آہ وبکاء بھی اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ صرف وہی لکھتے ہیں جس پر اجر ملنا ہو یا گناہ ملنا ہو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ان کی مجلس بالوں کے نیچے گلے پر ہے اور اس کی مثل حسن (رح) سے ہے اور حسن (رح) کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ وہ بچہ داڑھی کو صاف رکھیں۔
حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیکیاں لکھنے والا آدمی کے دائیں جانب پر اور برائیاں لکھنے والا آدمی کے بائیں جانب پر ہے اور نیکیاں لکھنے والا برائیاں لکھنے والے کا امیر ہے۔ پس جب بندہ کوئی نیک کام کرے تو دائیں طرف والا دس لکھتا ہے اور جب برائی کرے تو صاحب یمین صاحب شمال کو کہتا ہے۔ اس کو سات گھنٹے کے لئے چھوڑ دے۔ شاید کہ یہ تسبیح کرے یا استغفار کرے۔
Ayah 50:2019 ۔” وجآء ت سکرۃ الموت “ اس کی سختی اور شدت جو انسان کو ڈھانپ لے گی اور اس کی عقل پر غالب آجائے گی۔ ” بالحق “ یعنی موت کی حقیقت کے ساتھ اور کا گیا ہے آخرت کے معاملہ سے حق کے ساتھ حتیٰ کہ انسانکے سامنے واضح ہوجائے اور وہ اس کا مشاہدہ دیکھ لے اور کہا گیا ہے کہ انسان کے انجام کا جو انجام ہوگا سعادت و شقاوت میں سے اور کہا گیا ہے اس شخص کے لئے جس کو سکرات موت آئے۔ ” ذلک ماکنت منہ تحید “ تو اعراض کرتا ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں تو بھاگتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تو ناپسند کرتا اور حید کی اصل مائل ہونا۔ کہا جاتا ہے ” وحدت عن الشیء احید حیدا ومحیدا “ جب تو اس سے اعراض کرے۔
Ayah 50:2120 ۔” ونفخ فی الصور “ یعنی اٹھانے کا نفخہ۔ ” ذلک یوم الوعید “ یعنی یہ دن اس وعید کا دن ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے کفار سے وعدہ کیا ہے کہ ان کو اس میں عذاب دے گا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ وعید سے عذاب مراد ہے یعنی وعید واقع ہونے کا دن۔
Ayah 50:2221 ۔” وجآء ت “ یہ دن ” کل نفس معھا سائق “ جو اس کو محشر کی طرف ہانگے گا۔ ” وشھید “ جو اس کے اعمال کو گواہی دے گا اور وہ اس کا عمل ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ سائق فرشتوں میں سے ہوگا اور شاہد خود انہی کے ہاتھوں پائوں سے اور یہی عطیہ عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ یہ دونوں فرشتوں میں سے ہیں۔
Ayah 50:2322 ۔ پس اللہ تعالیٰ اس کو کہیں گے ” لقد کنت فی غفلہ من ھذا “ آج کے دن دنیا میں ” فکشفنا عنک غطاء ک “ جو دنیا میں تیرے دل، تیرے کانوں اور آنکھوں پر تھا۔ ” فبصرک الیوم حدید “ جاری ہونے والی ہے جس کا تو دنیا میں انکار کرتا تھا۔ اس کو دیکھنے والی ہے اور مجاہد (رح) سے روایت کیا گیا ہے یعنی تیری نظر تیرے میزان کی زبان کی طرف جب تیری نیکیاں اور برائیاں وزن کی جائیں گی۔
Ayah 50:2423 ۔” وقال قرینہ “ وہ فرشتہ جو اس کا نگران بنایا گیا ہے۔ ” ھذا مالدی عتید “ تیار کیا ہوا حاضر کیا ہوا اور کہا گیا ہے کہ ” ما “ من کے معنی میں ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ فرشتہ کہے گا یہ وہ ابن آدمی جس کا آپ نے مجھے نگران بنایا تھا، میرے پاس حاضر ہے۔ تحقیق میں نے اس کو اور اس کے اعمال کے دفتر کو حاضر کردیا ہے۔
Ayah 50:2524 ۔” پس اللہ تعالیٰ اس کے قرین کو کہیں گے۔ ” القیا فی جھنم “ یہ تثنیہ کے لفظ سے واحد کو خطاب ہے عرب کی عادت پر۔ وہ کہتے ہیں ” ویلک ارحلاھا، وازجراھا وخذاھا واطلقاھا “ ایک کے لئے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی اصل یہ ہے کہ آدمی کے سفر میں اس کے اونٹ اور بکریوں میں کم سے کم دو مددگار ہوتے ہیں۔
پس ایک کی کلام کو اس کے دونوں صاحبوں پر جاری کیا ہے اور اسی سے ان کا قول ہے ایک کو شعر میں کہتے ہیں خلیلی۔ اور زجاج (رح) فرماتے ہیں یہ امر سائق اور شاہد کو ہے اور کہا گیا ہے کہ ملنے والوں کو ہے۔ ” کل کفار عنید “ نافرمان حق سے اعراض کرنے والا ۔ عکرمہ اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں حق سے ایک طرف اللہ سے ضد رکھنے والا۔
Ayah 50:2625 ۔” مناع للخیر “ یعنی فرض زکوٰۃ کی وجہ سے اور ہر حق جو اس کے مال میں واجب ہوا ہو۔ ” معتد “ ظالم جو اللہ کی توحید کا اقرار نہ کرے۔ ” مریب “ توحید میں شک کرنے والا اور اس کا معنی شک میں داخل ہے۔
Ayah 50:2726 ۔” الذی جعل مع اللہ الھا آخر فالقیاہ فی العذاب الشدید “ اور وہ آگ میں ہیں۔
Ayah 50:2827 ۔” قال قرینہ “ یعنی وہ شیطان جو اس کافر کے مقدر میں ہے۔ ” ربنا ما اطغیتہ “ نہ میں نے اس کو گمراہ کیا اور نہ میں نے اس کو بہکایا۔ ” ولکن کان فی ضلال بعید “ حق سے پس، اس کا شیطان اس سے برات ظاہر کرے گا۔ ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” قال قرینہ “ یعنی فرشتہ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ کافر کک ہے گا اے میرے رب ! فرشتے نے کتابت میں مجھ پر زائد چیزیں لکھ دی ہیں تو فرشتہ کہے گا ” ربنا مااطغیتہ “ یعنی میں نے اس پر زیادہ نہیں کیا اور میں نے وہی کچھ لکھا ہے جو اس نے کہا اور عمل کیا۔ لیکن یہ دور کی گمراہی میں تھا۔ اس سے حق کی طرف نہیں لوٹتا تھا۔
Ayah 50:2928 ۔” قال “ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” لا تختصموا لدی وقد قدمت الیکم بالوعید “ قرآن میں اور میں نے تم کو ڈرایا اور تنبیہ کی رسول کی زبان پر اور تم پر وہ فیصلہ کیا جو میں کرنے والا تھا۔
Ayah 50:3029 ۔” ما یبدل القول لدی “ میرے قول کے لئے کوئی تبدیلی نہیں ہے اور وہ اس کا قول ” لا ملان جھنم من الجنۃ والناس اجمعین “ ہے اور ایک قوم نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” مایبدل القوی لدی “ کا معنی یہ ہے یعنی میرے نزدیک قول کی تکذیب نہیں کی جاتی اور قول کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ اس لئے کہ میں عالم الغیب ہوں اور یہ کلبی (رح) کا قول ہے اور فراء کا اختیار کردہ ہے اس لئے کہ اس نے کہا ” مایبدل القول لدی “ اور یہ نہیں کہا ” ما یبدل لی “ …” وما انا بظلام للعبید “ کہ ان کو بغیر جرم کے سزادوں۔
Ayah 50:3130 ۔” یوم نقول لجھنم “ نافع اور ابوبکر رحمہما اللہ تعالیٰ نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” قال لا تحتصموا لدی “ کی وجہ سے ہے اور دیگر حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ھل امتلات “ کیوں کہ پیچھے اللہ تعالیٰ کا جہنم سے وعدہ گزر چکا ہے کہ اس کو جنوں اور انسانوں سے بھردیں گے۔ یہ سوال اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی خبر کی تصدیق اور اس کے وعدہ کی تحقیق کے لئے ہوگا۔ ” وتقول “ جہنم ” ھل من مزید “ کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تحقیق میں بھر چکی ہہوں مجھ میں کوئی جگہ ایسی باقی نہیں رہی جو نہ بھری ہو۔ پس یہ استفہام انکاری ہے۔
یہ عطاء ، مجاہد، مقاتل بن سلیمان رحمہم اللہ کا قول ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ استفہام زیادتی کو طلب کرنے کا ہے اور ابو صالح (رح) کی روایت میں یہی ابن عباس ؓ کا قول ہے اور اس تفصیل پر اللہ تعالیٰ کے قول ” ھل امتلات “ سے سوال تمام اہل جہنم کے جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہوگا اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ سابق ہوچکا۔ ” لاملان جھنم من الجنۃ والناس اجمعین “ پس جب اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اس کی طرف ہانکا گیا تو جو فوج بھی اس میں ڈالی جائے گی تو اس میں چلی جائے گی اور اس کو کوئی چیز نہ بھرے گی تو وہ کہے گی کیا آپ نے قسم نہیں کھائی تھی کہ مجھے بھر دیں گے ؟ تو اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھ دیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے بلند ہیں جو ظالم کہتے ہیں پھر فرمائیں گے کیا تو بھر گئی ہے ؟ پس وہ کہے گی بس بس مجھ میں گنجائش نہیں ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم ” ھل من مزید “ کہتی رہے گی حتیٰ کہ رب العزت اس پر اپنا قدم رکھیں گے تو وہ کہے گی بس بس تیری عزت کی قسم ! اور اس کا بعض بعض میں سمٹ جائے گا اور جنت میں بھی گنجائش باقی رہے گی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کریں گے۔ پس اس کو اس زائد جگہ میں آباد کریں گے۔
Ayah 50:3231 ۔” وازلفت الجنۃ “ قریب کی گئی۔ ” للمتقین “ شرک سے۔” غیر بعید “ وہ اس کی طرف داخل ہونے سے پہلے دیکھیں گے۔
Ayah 50:3332 ۔” ھذا ماتوعدون “ ابن کثیر (رح) نے یاء کے ساتھ اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان کو کہا جائے گا یہ جو تم دیکھ رہے ہو وہ ہے جو تم سے انبیاء (علیہم السلام) کی زبانوں سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ” لکل اواب “ معاصی سے طاعت کی طرف رجوع کرنے والوں کے لئے۔
سعید بن مسیب فرماتے ہیں وہ ایسا شخص جو گناہ کرے، پھر توبہ کرے ، پھر گناہ کرے، پھر توبہ کرے۔ شعبی اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں جو تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے ان سے استغفار کرے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں وہ بہت زیادہ توبہ کرنے والا۔ ابن عباس ؓ اور عطائؒ فرماتے ہیں تسبیح کرنے والا۔ یہ اس کے قول ” یا جبال اوبی معہ “ سے ہے۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ نماز پڑھنے والا۔ ” حفیظ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے امر کی حفاظت کرنے والا اور ان سے بھی مروی ہے وہ شخص جو اپنے گناہوں کی حفاظت حتیٰ کہ ان سے لوٹ آئے اور استغفار کرے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں حفاظت کرنے والا ہے اس کی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے پاس اپنا حق ودیعت کیا ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں اپنے نفس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ انتظار کرنے والا ہے۔ سہل بن عبداللہ فرماتے ہیں طاعات اور اوامر کی پابندی کرنے والا ہے۔
Ayah 50:3433 ۔” من خشی الرحمن بالغیب “ یہ محل جر میں ہے اواب کی صفت ہونے کی وجہ سے اور کہا گیا ہے کہ مرفوع ہے استنئاف کی وجہ سی اور آیت کا معنی جو رحمن سے ڈرا اور بن دیکھے اس کی اطاعت کی۔ ضحاک اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی خلوت (تنہائی) میں کہ اس کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ حسن (رح) فرماتے ہیں جب پردہ لٹکا دے اور دروازہ بند کردے۔ ” وجآء بقلب منیب “ مخلص اللہ تعالیٰ کی طاعت پر متوجہ ہونے والا ۔
Ayah 50:3534 ۔” ادخلوھا “ یعنی ان صفات والوں کو کہا جائے گا ۔ تم جنت میں داخل ہوجائو۔ ” بسلام “ عذاب اور غموں سے سلامتی کے ساتھ اور کہا گیا ہے اللہ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے ان پر سلام کے ساتھ اور کہا گیا ہے نعمتوں کے زوال سے سلامتی کے ساتھ۔ ” ذلک یوم الخلود “
Ayah 50:3635 ۔” لھم مایشائون فیھا “ اور وہ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے حتیٰکہ ان کے سوال کی انتہا ہوجائے گی۔ پس جو چاہیں گے دیئے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے وہ چیز زیادہ دیں گے جس کا انہوں نے سوال نہیں کیا ہوگا اور وہ اس کا قول ” ولدینا مزید “ یعنی ان کے لئے ان نعمتوں میں زیادتی ہوگی جن کا کسی کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوگا اور جابر اور انس ؓ فرماتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کی طرف نظر کرنا ہے۔
Ayah 50:3736 ۔” وکم اھلکنا قبلھم من قرن ھم اشد منھم بطشا فنقبوا فی البلاد “ انہوں نے سفر کیا، انہوں نے چکر لگایا اور اس کی اصل نقب سے ہے اور وہ راستہ ہے گویا کہ وہ ہر راستہ پر چلے۔ ” ھل من محیص “ پس انہوں نے اللہ کے امر سے کوئی جائے فرار نہ پائی اور کہا گیا ہے کہ ” ھل من محیص موت سے جائے فرار ؟ پس انہوں نے اس میں نہ پایا۔ اہل مکہ کو ڈرانا ہے اور بیشک وہ ان کے راستہ کی مثل پر ہیں وہی موت سے جائے فرار نہ پائیں گے مرجائیں گے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف لوٹیں گے۔
Ayah 50:3837 ۔” ان فی ذلک “ جو میں نے عبرتیں اور عذاب اور بستیوں کے ہلاک کرنے کا ذکر کیا ہے۔ ” لذکری “ نصیحت۔ ” لمن کان لہ قلب “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی عقل۔ فرائؒ فرماتے ہیں کہ یہ عربیۃ میں جائز ہے تو کہے گا ” مالک قلب وما قلبک معک “ یعنی تیرے ساتھ تیری عقل نہیں ہے اور کہا گیا ہے اس کے لئے حاضر دل ہے اللہ کے ساتھ۔ ” اوالقی السمع “ قرآن کو توجہ سے سنا اور جو اس کو کہا جائے گا اس کو توجہ سے سن اور اپنے دل میں کوئی اور خیال نہ لائے۔ عرب کہتے ہیں ” اوالقی السمع “ قرآن کو توجہ سے سنا جو اس کو کہا جائے گا اس کو توجہ سے سن اور اپنے دل میں کوئی اور خیال نہ لائے۔ عرب کہتے ہیں ” الق الی سمعک “ یعنی تو توجہ سے سن۔ ” وھوشھید “ یعنی حاضر دل کے ساتھ جو غافل اور بھولنے والا نہ ہو۔
Ayah 50:3938 ۔” ولقد خلقنا السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب “ تھکاوٹ۔ یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا اے محمد ! ﷺ ہمیں بتائیں کہ ان چھ دنوں میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے کیا پیدا کیا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اتوار اور سوموار کے دن زمین کو پیدا کیا اور منگل کے دن پہاڑوں اور نہروں ، شہروں اور روزیوں کو بدھ کے دن اور آسمانوں اور فرشتوں کو جمعرات کے دن جمعہ کی تین گھڑیوں تک اور تین گھڑیوں میں سے پہلی میں مدتوں کو اور دوسری میں آفت کو اور تیسری میں آدم (علیہ السلام) کو۔ انہوں نے کہا آپ (علیہ السلام) نے سچ کہا اگر آپ مکمل کرتے۔ آپ (علیہ السلام) نے اور یہ کہا ہے ؟ انہوں نے کہا پھر ہفتہ کے دن آرام کیا اور عرش پر متمکن ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کی تردید کے لئے نازل کی۔
Ayah 50:4039 ۔” فاصبر علی مایقولون “ ان کے کذب سے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں ہیں اور یہ ان کے قتال کا حکم دینے سے پہلے کی آیت ہے۔ ” وسبح بحمد ربک “ یعنی اللہ تعالیٰ کی حمد کے لئے نماز پڑھیں۔ ” قبل طلوع الشمس “ یعنی صبح کی نماز ” وقبل الغروب “ یعنی عصر کی نماز۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ قبل الغروب سے ظہر وعصر مراد ہیں۔