61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة الصف مدنی ہے اور عطائؒ فرماتے ہیں مکی ہے اور اس کی چودہ آیات ہیں
Ayah 61:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

1 ۔” سبح للہ مافی السماوات ومافی الارض وھو العزیز الحکیم۔ (2) یایھا الذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون “ مفسر ین رحمہم اللہ فرماتے ہیں مومنین نے کا اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ اعمال میں سے کون سا اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے تو ہم وہ کرتے اور اس میں اپنے مال وجان کو خرچ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا “ تو ان کو اس کے ذریعے احد کے دن آزمایا گیا تو وہ پیٹھ دکھا گئے تو اللہ تعالیٰ نے اتارا ” لم تقولون مالا تفعلون “۔
Ayah 61:3

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے

2 ۔ اور محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو شہداء بدر کے ثواب کی خبر دی تو صحابہ کرام ؓ نے کہا اگر ہماری اس کے بعد کوئی لڑائی ہوئی تو ہم اس میں اپنی کوشش کریں گے۔ پھر وہ احد کے دن بھاگے تو اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان کو عار دلائی۔ قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ قتال کی شان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کوئی آدمی کہتا تھا میں نے قتل کیا ہے حالانکہ اس نے قتل نہیں کیا ہوتا تھا اور کہتا میں نے نیزہ مارا حالانکہ نیزہ نہیں مارا ہوتا تھا اور میں نے تلوار ماری حالانکہ اس نے تلوار نہیں ماری ہوتی تھی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن زید (رح) نے کہا ہے کہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، وہ مومنین کی مدد کا وعدہ کرتے تھے حالانکہ وہ جھوٹے تھے۔
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

خدا اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

3 ۔” کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا “ اللہ تعالیٰ کا قول ” ان تقولوا “ رفع کی جگہ میں ہے۔ جیسے تیرا قول ” بئس رجلا اخوک “ ہے اور آیت کا معنی ہے یعنی یہ بات ناراضگی اور غضب میں اللہ کے ہاں بڑی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں کہ تم کہو ” مالا تفعلون “ یعنی تم اپنے آپ سے کسی چیز کا وعدہ کرو، پھر تم اس کو پورا نہ کرو۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی راہ میں (ایسی طور) پر پرے جما کر لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں وہ بیشک محبوب مددگار ہیں

4 ۔” ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا “ یعنی وہ اپنی صفیں باندھتے ہیں قتال کے وقت اور اپنی جگہوں سے نہیں ہٹتے۔ ” کانھم بنیان مرصوص “ تحقیق وہ ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے ملادی گئی ہو۔ پس اس میں کوئی شگاف اور خلل نہ ہوا اور کہا گیا ہے سیسہ کے ذریعے مضبوط کی گئی ہو۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کجروی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

5 ۔” واذقال موسیٰ لقومہ “ بنی اسرائیل سے۔ ” یا قوم لم توذوننی “ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر آدر (پھولے ہوئے خصیوں والا) ہونے کا عیب لگایا۔ ” وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم “ اور رسول کی عزت و احترام کی جاتی ہے۔ ” فلما زاغوا “ حق سے مائل ہوگئے۔ ” ازاغ اللہ قلوبھم ‘ اس کو حق سے مائل کردے گا۔ یعنی جب انہوں نے اپنے نبی کو ایذاء دے کر حق کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو حق سے ہٹا دیا۔ ” واللہ لا یھدی القوم الفاسقین “ زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کو ہدایت نہ دیں گے جس کے بارے میں اللہ کے علم میں یہ بات سبقت کرچکی ہے کہ وہ فاسق ہے۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہو (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

6 ۔” واذ قال عیسیٰ ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من الفوراۃ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ اور الف اس میں حمد میں مبالغہ کے لئے ہے اور اس کی دو وجہیں ہیں ان میں سے ایک یہ کہ یہ فاعل سے مبالغہ ہے یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی حمد کرنے والے ہیں اور آپ (علیہ السلام) اللہ کی اپنے غیر سے زیادہ تعریف کرنے والے ہیں اور دوسری یہ کہ یہ معقول کی طرف سے مبالغہ ہے یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعریف کی گئی ہے ان کی عمدہ عادات وخصال کی وجہ سے اور آپ (علیہ السلام) کے ان سب سے مناقب زیادہ اور فضائل جامع اور ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے آپ (علیہ السلام) کی تعریف کی جاتی ہے۔ ” فلما جاء ھم بالبینات قالوا ھذا سحر مبین “
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون کہ بلایا جائے تو اسلام کی طرف اور وہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

7 ۔” ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب وھو یدعی الی الاسلام واللہ لا یھدی القوم الظالمین ۔
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ خدا (کے چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں۔

8 ۔” یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون “۔
Ayah 61:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے۔

9 ۔” ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون “۔
Ayah 61:11

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

مومنو ! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے مخلصی دی۔

10 ۔” یا یھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم “ ابن عامر (رح) نے ” تنجیکم “ تشدید کے ساتھ اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” من عذاب الیم “ یہ آیات نازل ہوئی جب انہوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ اعمال میں سے کون سا اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے تو ہم اس کو کرتے اور اس کو تجارت کے مرتبہ میں کردیا گیا ہے اس لئے کہ وہ اس اللہ کی رضا اور جنت کے حصول اور آگ سے نجات کا نفع حاصل کریں گے۔ پھر اس تجارت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 61:12

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

(وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

11 ۔” تومنون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم ذلکم خیرلکم ان کنتم تعلمون۔
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہاے جنت میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت ہائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا یہ بڑی کامیابی ہے

12 ۔” یغفرلکم ذنوبکم وید خلکم جنات تجری من تحتھا الانھار ومساکن طیبۃ فی جنت عدن ذلک الفوز العظیم “۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح (عن) قریب ہوگی اور مومنو کو (اس کی) خوشخبری سنا دو

13 ۔” واخری تحبونھا “ اور تمہارے لئے دوسری خصلت ہے تم اس آخرت کے ثواب کے ساتھ جلدی پسند کرتے ہو اور وہ خصلت ” نصر من اللہ وفتح قریب “ کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ قریش کے خلاف مدد کرنا ہے اور فتح مکہ اور عطائؒ فرماتے ہیں فارس اور روک کی فتح مراد ہے۔ ” وبشر المومنین “ اے محمد ! ( ﷺ ) دنیا میں مدد کی اور آخرت میں جنت کی۔ پھر ان کو دین کی مدد اور مخالفین سے جہاد کرنے کی ترغیب دی ہے۔