62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة الجمعہ مدنی ہے اور اس کی 11 آیات ہیں
Ayahs 62:2–3

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے۔

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے (محمد کو) پیغمبر بنا کر بھیجا جو ان کے سامنے اسکی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور انہیں (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔

2-1…” یسبح للہ مافی السموات…تا…بعث فی الامیین “ یعنی عرب ان پڑھ امت تھے نہ لکھتے تھے اور نہ پڑھتے تھے۔ ” رسولا منھم “ یعنی محمد ( ﷺ ) آپ کا نسب ان کا نسب ہے۔ ” یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلھم الکتاب والحکمۃ ہو ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین “ یعنی وہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے نہیں تھے مگر واضح گمراہی میں بتوں کی عبادت کرتے تھے۔
Ayah 62:4

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

اور ان میں سے اور لوگوں کی طرف بھی (انکو بھیجا ہے) جو ابھی ان (مسلمانوں سے) نہیں ملے اور وہ غالب حکمت والا ہے

واخرین منھم کی اعراب کی وجہ 3 ۔” وآخرین منھم “ اور آخرین میں اعراب کی دو وجہیں ہیں۔ ان میں سے ایک جر ہے الامیین کی طرف لوٹاتے ہوئے اس کا مجاز وفی آخرین ہے اور دوسری نصب ہے ھاء اور میم کی طرف رد کرتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ کے قول ” ویعلمھم “ میں ہے ۔ یعنی اور ان میں سے دوسروں کو تعلیم دیتے ہیں یعنی مومنین جو ان کا دین رکھتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ جب اسلام لے آئے تو ان میں سے ہوگئے کیونکہ تمام مسلمان ایک امت ہیں اور علماء کا ان میں اختلاف ہے تو ایک قوم نے کہا وہ عجم ہیں اور یہ ابن عمرو ؓ اور سعید بن جبیر (رح) کا قول ہے اور لیث کی مجاہد سے روایت ہے اور اس پر دلیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ جب آپ (علیہ السلام) پر سورة الجمعہ نازل ہوئی۔ پس جب آپ (علیہ السلام) نے پڑھا ” وآخرین منھم لما یلحقوا بھم “ تو ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ! ﷺ یہ کون لوگ ہیں ؟ تو نبی کریم ﷺ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا حتیٰ کہ اس نے دو مرتبہ یا تین مرتبہ پوچھا۔ کہتے ہیں اور ہم میں سلمان فارسی ؓ تھے۔ کہتے ہیں پھر نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھا پھر کہا اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہو تو اس کو ان لوگوں میں سے چند لوگ حاصل کرلیں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دین ثریا کے پاس ہوتا تو اس کی طرف جانا ایک مرد یا فرمایا کئی مرد بناء فارس میں سے حتیٰ کہ وہ اس کو حاصل کرلیتے اور عکرمہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ تابعین ہیں اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں یہ وہ تمام لوگ جو اسلام میں نبی کریم ﷺ کے بعد داخل ہوئے اور یہ ابن ابی شیخ کی مجاہد (رح) سے روایت ہے اللہ تعالیٰ کا قول ” لما یلحقوا بھم “ یعنی ان کو نہیں پایا لیکن وہ ان کے بعد ہوں گے اور کہا گیا ” لما یلحقوا بھم “ یعنی فضل و مرتبہ میں پہلے لوگوں کے ساتھ اس لئے کہ تابعین صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی کسی چیز کہ نہ پاسکے۔ ” وھوالعزیز الحکیم “
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔

4 ۔” ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآئ “ یعنی اسلام اور ہدایت ” واللہ ذوالفضل العظیم “
Ayah 62:6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا انکی مثال گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

5 ۔” مثل الذین حملوا التوراۃ “ یعنی اس کے ساتھ قائم ہونے اور اس عمل کے کرنے کے مکلف بنائے گئے۔ ” لم الم یحملوھا “ جو اس میں ہے اس پر عمل نہیں کیا اور اس کا حق ادا نہیں کیا۔ ” کمثل الحمار یحمل اسفارا “ یعنی علم کی کتابیں اس کا واحد سفر ہے۔ فراء کہتے ہیں وہ بڑی کتابیں ہیں یعنی جیسے گدھے ان کتابوں کو اٹھاتے ہیں اور جو اس میں ہے اس کو نہیں جانتے اور اس سے نفع نہیں اٹھا سکتے۔ اسی طرح یہود توریت پڑھتے ہیں اور اس سے نفع نہیں اٹھاتے اس لئے کہ انہوں نے توریت کے احکام کی مخالفت کی ہے۔ ” بئس مثل القوم الذین کذبوا بآیات اللہ واللہ لا یھدی القوم الظالمین “ جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرکے یعنی وہ لوگ کہ اللہ کے علم میں سبقت کر گیا ہے کہ وہ ان کو ہدایت نہ دے گا۔
Ayah 62:7

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے یہود ! اگر تم کو یہ دعوے ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں تو اگر تم سچے ہو تو (ذرا) موت کی آرزو تو کرو

6 ۔” قل یایھا الذین ھادوا الموت “ پس اپنے نفس پر موت کی بددعا کرو۔ ” ان کنتم صادقین “ کہ تم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہو کیونکہ موت تمہیں اللہ تعالیٰ تک پہنچادے گی۔
Ayahs 62:8–9

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

اور یہ ان (اعمال) کے سبب جو کرچکے ہیں ہرگز اسکی آرزو نہیں کریں گے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

کہہ دو کہ موت جس سے تم گریز کرتے ہو وہ تو تمہارے سامنے آکر رہے گی پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جو جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

8-7…” ولا یتمنونہ ابدا بما قدمت ایدیھم واللہ علیم بالظالمین۔ قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم ثم تردون الی عالم الغیب والشھادۃ فینئکم بما کنتم تعملون “۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

مومنو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو اور (خریدو) فروخت ترک کردو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

9 ۔” یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلاۃ من یوم الجمعۃ “ یعنی یوم یوم الجمعہ اللہ تعالیٰ کے قول ” ارونی ماذا خلقوا من الارض “ یعنی فی الارض کی طرح۔ اذا نودی للصلوٰۃ کی تفسیر اور اس جواء سے امام کے منبر پر خطبہ کے لئے بیٹھنے کے وقت اذان مراد ہے۔ سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں جمعہ کے دن پہلی اذان جب امام منبر پر بیٹھ جاتا، ہوتی۔ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر اور عمر ؓ کے دور میں پھر جب عثمان ؓ کا دور آیا اور لوگ زیادہ ہوگئے تو حضرت عثمان ؓ نے زوراء (جگہ کا نام) پر دوسری اذان کو زیادہ کیا۔ اعمش (رح) نے ” من یوم الجمعۃ “ میم کے سکون کے ساتھ پڑھا اور اکثر حضرات نے میم کے پیش کے ساتھ اور اسی دن کا نام جمعہ رکھنے میں اختلاف ہوا ہے۔ ان میں سے بعض نے کہا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن نبی آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو جمع کیا اور کہا گیا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس دن تمام اشیاء کے پیدا کرنے سے فارغ ہوئے تو اس دن میں تمام مخلوقات جمع ہوگئیں اور کہا گیا ہے اس دن میں جماعتوں کے جمع ہونے کی وجہ سے اور کہا گیا ہے اس دن میں لوگوں کے نماز کے لئے جمع ہونے کی وجہ سے اور کہا گیا ہے پہلا شخص جس نے اس کا نام جمعہ رکھا کعب بن لئوی ہے۔ ابوسلمہ (رح) کہتے ہیں پہلا شخص جس نے امام بعد کہا کعب بن لئوی ہے اور یہ پہلا شخص تھا جس نے جمعہ کا نام جمعہ رکھا اور اسی کو یوم المعروبہ کہا جاتا تھا اور ابن سیرین (رح) سے روایت ہے کہ اہل مدینہ نے مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے آنے سے پہلے جمعہ کی نماز قائم کی اور کہا گیا ہے کہ جمعہ کے دن کے نازل ہونے سے پہلے اور انہی لوگوں نے اس کا نام جمعہ رکھا اور کہنے لگے یہود کے لئے ایک دن ہے جس میں وہ ہر سات دن میں جمع ہوتے ہیں اور نصاریٰ کا ایک دن ہے ۔ پس آئو ہم بھی ایک دن مقرر کرلیں جس میں ہم جمع ہوجائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں اور نماز پڑھیں۔ پھر کہا کہ ہفتہ کا دن یہود کا ہے اور اتوار کا دن نصاریٰ کا پس تم اس کو عروبہ کے دن بنالو تو وہ اسعد بن زراہ ؓ کے پاس جمع ہوگئے تو انہوں نے ان کو دو رکعت پڑھائیں اور ان کو نصیحت کی۔ پس انہوں نے اس کا نام یوم الجمعہ رکھ دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دن کے بارے میں بعد میں آیت نازل کی۔ کعب سے روایت کیا گیا ہے کہ جب وہ جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زراہ کے لئے رحم کی دعا کرتے تو میں نے ان کو کہا جب آپ ؓ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ ؓ پر رحم کی دعا کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا اس لئے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں ھزم بنت بنی بیاضہ کی زمین پر بقیع میں جمعہ پڑھایا۔ اس کو بقیع الخضمات کہا جاتا تھا۔ میں نے کہا آپ لوگ اس دن کتنے تھے ؟ کہا چالیس اور بہرحال پہلا جمعہ جو نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو پڑھایا تو اہل سیر نے ذکر کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے تو قباء میں پڑائو ڈالا بنو عمر وبن عوف کے پاس اور یہ ربیع الاول بارہ تاریخ سوموار کا دن تھا جب چاشت کا وقت لمبا ہوگیا۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے قباء میں سوموار، منگل، بدھ، جمعرات کا دن قیام کیا اور ان کو مسجد کی بنیاد رکھی۔ پھر ان کے درمیان سے نکلے جمعہ کے دن مدینہ کا ارادہ کرکے تو آپ (علیہ السلام) کو جمعہ کی نماز کا وقت بنو سالم بن عوف میں آگیا، ان کی ایک وادی کے درمیان میں اور تحقیق انہوں نے اس جگہ میں مسجد بنائی ہوئی تھی تو وہاں آپ (علیہ السلام) نے جمعہ پڑھایا اور خطبہ دیا ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” فاسعوا الی ذکر اللہ “ یعنی اس کے لئے چلو اور تیاری کرو اور یہاں سعی سے دوڑنا مراد نہیں اس سے مراد صرف تیاری اور عمل کرنا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ” واذا تولی سعیٰ فی الارض “ اور کہا۔ ” ان سعیکم لشقی “ اور عمر بن خطاب ؓ پڑھتے تھے ” فامضوا الی ذکر اللہ “ اور اسی طرح یہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرات میں ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ کی قسم ! یہ قدموں سے سعی کرنا مراد نہیں ہے کیونکہ ان کو روکا گیا ہے کہ وہ نماز کے لئے آئیں مگر ان پر سکینہ اور وقار ہو لیکن دلوں اور نیت اور خشوع کے ساتھ اور قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں ہے ” فاسعوا الی ذکر اللہ فرمایا۔ پس سعی یہ ہے کہ تو اپنے دل اور عمل کے ساتھ دوڑے اور وہ اس کی طرف چلنا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے قول ” فلما بلغ معہ السعی “ کی تاویل کرتے ہوئے فرماتے تھے۔ پس جب وہ چلا اس کے ساتھ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب نماز کھڑی کی جائے تو تم اس کی طرف دوڑتے ہوئے نہ آئو اور لیکن تم چلتے ہوئے آئو اور تم پر وقار اور سکینہ لازم۔ پس جو تم پالو تو نماز پڑھو اور جو تم سے فوت ہوجائے تو اس کو مکمل کرلو۔ قولہ ” الیٰ ذکر اللہ “ یعنی نماز کی طرف اور سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں ” فاسعوا الی ذکراللہ “ فرمایا وہ امام کی نصیحت ہے۔ ” وذروا البیع “ یعنی خریدو فروخت اس لئے کہ بیع کا اسم ان دونوں کو شامل ہے اور خریدوفروخت دوسری اذان کے وقت حرام ہوتی ہے اور زہری (رح) فرماتے ہیں امام کے نکلنے کے وقت اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں جب سورج کا زوال ہوجائے تو خریدوفروخت حرام ہوجاتی ہے۔ ” ذلکم “ جو ذکر کیا گیا ہے جمعہ میں حاضر ہونا اور بیع کو چھوڑنا۔” خیرلکم “ بیع وشراء سے۔ ” ان کنتم تعلمون “ اپنے نفس کی ضروریات کو اور تو جان لے کہ جمعہ کی نماز فرض عین ہے ۔ پس ہر اس شخص پر فرض ہے جو عقل، بلوغ، آزادی، مذکر اور مقیم ہونے کی شرائط کا جامع ہو اور اس کو کوئی عذر بھی نہ ہو۔ پس جس نے جمعہ کو چھوڑ دیا وہ وعید کا مستحق ہے۔ بہرحال بچہ اور مجنون تو ان پر کوئی جمعہ فرض نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ دونوں اس کے اہل نہیں ہیں کہ ان پر ابدان کے فرض لازم ہوں، ان کے بدنوں کے ناقص ہونے کی وجہ سے اور بالا تفاق عورتوں پر بھی جمعہ نہیں ہے۔ جمعہ کس پر واجب نہیں محمد بن کعب (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے بنووائل کے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کا چھوڑنا کسی مسلمان کے لئے صحیح نہیں۔ سوائے عورت، بچے، یا غلام کے اور اکثر اس طرف گئے ہیں کہ غلاموں پر جمعہ واجب نہیں ہے۔ اور حسن، قتادہ اور اوزاعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس غلام پر واجب ہے جو تجارت کے لئے باہر نکلتا ہے اور اکثر کے نزدیک مسافر پر واجب نہیں ہے اور نخعی اور زہری رحمہما اللہ فرماتے ہیں مسافر پر واجب ہے جب وہ اذان سنے اور ہر وہ شخص جس کو مرض کا عذر ہو یا مریض کی دیکھ بھال کرتا ہو یا خوف ہو تو اس کے لئے جمعہ کو چھوڑنا جائز ہے اور اسی طرح اگر اس کو بارش اور کیچڑ کے عذر سے چھوڑ دے۔ ابن عباس ؓ اپنے موذنوں کو بارش کے دن فرماتے تھے جب تو ” اشھد ان محمد ا رسول اللہ “ کہے تو ” حی علی الصلوٰۃ “ نہ کہنا بلکہ کہنا ” صلوا فی بیوتکم “ گھروں میں نماز پڑھو تو لوگوں نے اس کو ناپسند سمجھا تو فرمایا اس کو اس نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر ہے اور جمعہ عزیمت ہے اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ تم اپنے گھروں سے نکلو، پھر مٹی اور کیچڑ میں چلتے آئو اور ہر وہ شخص جس پر جمعہ میں حاضر ہونا واجب نہیں جب وہ حاضر ہوگیا اور امام کے ساتھ نماز پڑھ لی، جمعہ کی تو اس سے ظہر کا فرض ساقط ہوگیا لیکن اس کے ذریعے جمعہ کی تعداد مکمل نہ کی جائے گی مگر صاحب عذر شخص کیونکہ وہ حاضر ہوگیا تو اس سے جمعہ کی تعداد مکمل ہوجائے گی۔ ابن عمر اور ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا اور آپ (علیہ السلام) منبر کی لکڑیوں پر تھے ” کہ قومیں جمعہ کو چھوڑنے سے باز آجائیں یا اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر کردیں گے۔ پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔ “ ابوالجعد یعنی ضمیری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے تین مرتبہ سستی کی وجہ سے جمعہ چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیں گے۔ جمعہ کہاں قائم کیا جائے گا اور اہل علم کا جمعہ کے قائم کرنے کی جگہ میں اختلاف ہوا ہے اور ان لوگوں کی تعداد میں جن کی وجہ سے جمعہ منعقد ہوجائے گا اور اس مسافت میں جس سے جمعہ کے لئے آنا واجب ہے۔ بہرحال ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ ہر بستی جس میں چالیس آدمی اہل کمال میں سے جمع ہوجائیں بایں طور کہ وہ آزاد، عاقل، بالغ ایسے مقیم ہوں جو وہاں سے سردیوں کو کوچ کرتے ہوں اور نہ گرمیوں کو مگر کسی ضرورت کے لئے جانا ہو تو ان پر اس جگہ میں جمعہ قائم کرنا واجب ہے اور یہ عبیداللہ بن عبداللہ اور عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے اور اسی کے امام شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ قائل ہیں اور ان حضرات نے کہا ہے کہ جمعہ نہیں منعقد ہوگا مگر اس صفت کے چالیس آدمیوں سے کم کے ساتھ اور عمر بن عبدالعزیز (رح) نے ان چالیس کی تعداد کے ساتھ یہ شرط بھی لگائی ہے کہ ان میں والی ہو اور والی کا ہونا امام شافعی (رح) کے نزدیک شرط نہیں ہے۔ جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط اور حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جمعہ صرف مصر جامع میں جائز ہے اور اصحاب رائے کا قول ہے۔ پھر امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک چار افراد سے جمعہ منعقد ہوجائے گا اور والی شرط ہے اور اوزاعی اور ابویوسف رحمہما اللہ فرماتے ہیں تین کے ساتھ منعقد ہوجائے گا۔ جب ان میں والی موجود ہو اور حسن اور ابوثور رحمہما اللہ فرماتے ہیں دو افراد کیساتھ منعقد ہوجائے گا تمام نمازوں کی طرح اور ربیعہ (رح) فرماتے ہیں بارہ افراد کے ذریعے منعقد ہوگا اور اس کے بستیوں میں قائم کرنے کی دلیل ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے بعد پہلا جمعہ جو قائم کیا گیا وہ مسجد عبدالقیس میں بحرین کے مقام جواثی میں کیا گیا اور جب بندہ کسی ایسی بستی میں مقیم ہو جہاں جمعہ نہ قائم کیا جاتا ہو یا جنگل میں مقیم ہو تو ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ اگر ان کو جمعہ کی جگہ سے اذان پہنچتی ہو تو ان پر جمعہ میں حاضر ہونا لازم ہے اور اگر ان کو اذان نہ پہنچتی ہو تو ان پر جمعہ لازم نہیں اور یہ امام شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا قول ہے اور شرط یہ ہے کہ ان کو آواز ایسے موذون کی پہنچے جو بلند آواز والا ہے ایسے وقت میں جب آوازیں خاموش اور ہوائیں تھمی ہوئی ہوں۔ پس ہر بستی جو جمعہ کی جگہ سے اتنی مقدار قریب ہو تو اس کے اہل پر جمعہ میں حاضر ہونا واجب ہے اور سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں ہر اس شخص پر واجب ہے جس کو رات گزارنے کے لئے اپنے گھر کا ٹھکانہ مل جائے اور زہری (رح) فرماتے ہیں ہر اس شخص پر واجب ہے جو چھ میل کے فاصلہ پر ہوا اور ربیعہ (رح) فرماتے ہیں چار میل پر اور مالک اور لیث رحمہما اللہ فرماتے ہیں تین میل پر۔ اور ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں دیہات والوں پر جمعہ واجب نہیں ہے قریب ہو بستی یا دور۔ اور ہر وہ یخص جس کو جمعہ کی نماز لازم ہو اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ جمعہ کے دن زوال کے بعدجمعہ کی نماز پڑھنے سے پہلے سفر کرے اور اصحاب رائے نے اس کو جائز قرار دیا ہے کہ وہ زوال کے بعد سفر کرے جب وہ شہر سے وقت نکلنے سے پہلے جدا ہوجائے۔ بہرحال جب فجر کے طلوع ہونے کے بعد زوال سے پہلے سفر کرے تو جائز ہے مگر یہ مکروہ ہے مگر یہ کہ اس کا سفر کسی عبادت حج یا جہاد وغیرہ کا ہو اور ان میں سے بعض اس طرف گئے ہیں کہ جب وہ جمعہ کے دن مقیم ہونے کی حالت میں صبح کرے تو سفر نہ کرے حتیٰ کہ جمعہ کی نماز پڑھ لے اور اس کے جواز پر دلیل ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ کو ایک سو چھوٹے لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تو یہ جمعہ کے دن میں موافق ہوگیا ہے تو آپ (علیہ السلام) کے اصحاب ؓ صبح کو چلے گئے اور عبداللہ ؓ نے کہا میں پیچھے رہ جاتا ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ کر ان کو جاملوں گا۔ پس جب نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو دیکھا تو فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح کو جائے ؟ انہوں نے کہا میرا ارادہ ہوا کہ میں آپ (علیہ السلام) کے ساتھ نماز پڑھوں، پھر ان کو جاملوں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تو وہ تمام خرچ کردے جو زمین میں ہے تو تو ان کے صبح جانے کی فضیلت کو نہ پہنچ سکے گا اور روایت کیا گیا ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے ایک شخص کو سنا جس پر سفر کی ہیئت تھی کہہ رہا تھا اگر آج جمعہ کا دن نہ ہوتا تو میں نکلتا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا تو نکل جا کیونکہ جمعہ کسی کو سفر سے نہیں روکتا۔ جمعہ کے دن کی سنتوں اور فضیلتوں کے بیان میں تحقیق جمعہ کے دن کی سنتوں اور اس کی فضیلت میں کئی احادیث واردہوئی ہیں ان میں سے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں طور کی طرف نکلاتو میں کعب احبار (رح) کو ملا تو ان کے ساتھ بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھے توریت سے باتیں بتائیں اور میں نے ان کو رسول اللہ ﷺ کی احادیث سنائیں۔ پس ان حدیثوں میں سے جو میں نے ان کو کہیں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے۔ اس میں آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے اور اسی میں زمین پر اتارے گئے اور اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی میں وفات پائی اور اس دن میں قیامت قائم ہوگی اور زمین کا ہر مویشی جمعہ کے دن چیختا ہے صبح کو سورج کے طلوع ہونے کے وقت قیامت کے خوف سے مگر جن وانس اور اس میں ایک گھڑی ہے نہیں پاتا اس کو مسلمان بندہ اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگ رہا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے دیتے ہیں۔ کعب (رح) نے پوچھا یہ سال کے ایک دن میں ہوتی ہے۔ میں نے کہا بلکہ ہر جمعہ میں۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں پھر کعب نے توریت پڑھی۔ کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں پھر میں عبداللہ بن سلام کو ملا تو میں نے ان کو اپنی کعب احبار کے ساتھ مجلس کا بتایا اور جو میں نے جمعہ کے دن کے بارے میں ان کو بیان کیا تو عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا میں جانتا ہوں وہ کون سی گھڑی ہے۔ وہ جمعہ کے دن میں آخری گھڑی ہے۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی کیسے ہوسکتی ہے ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے تو فرمایا کہ بندہ اسی وقت نماز یا دعا مانگ رہا ہو اور اس آخری گھڑی میں تو نماز نہیں پڑھی جاتی ؟ تو عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں کہا جو کسی مجلس میں بیٹھا نماز کا انتظار کررہا ہو تو وہ نماز میں ہے حتیٰ کہ وہ نماز پڑھ لے ؟ ابوہریرہ ؓ نے کہا کیوں نہیں۔ عبداللہ ؓ نے کہا پس وہ یہ ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی پر جمعہ کا دن آئے تو چاہیے کہ غسل کرے۔ سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور جتنا طاقت رکھے پاک ہو اور تیل لگائے اور اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر نکلے اور دو آدمیوں کے درمیان تفریق نہ کرے، پھر وہ نماز پڑھے جو اس پر فرض کی گئی ہے۔ پھر جب امام کلام کرے تو خاموش ہوجائے تو اس کے اس دن اور دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا اور مسواک کیا اور خوشبو لگائی، اگر وہ اس کے پاس ہو اور اپنے اچھے کپڑوں میں سے پہنے، پھر نکلا حتیٰ کہ مسجد آیا، پھر لوگوں کی گردنیں نہیں پھلانگیں، پھر نماز پڑھی جو اللہ نے چاہا پڑھی اور جب امام نکلا تو خاموش ہوگیا تو یہ اس کے درمیان اور اس جمعہ کے درمیان جو اس سے پہلے تھا کفارہ ہوگا اور ابوہریرہ ؓ نے فرمایا اور تین دن کی زیادتی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص نیکی لایا تو اس کے لئے اس کا دس گنا ہے۔ اوس بن اوس ثقفی ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا جو شخص جمعہ کے دن غسل کا حکم کرے اور خود غسل کرے اور جلدی کا حکم کرے اور خود جلدی کرے اور پیدل جائے سوار نہ ہو اور امام کے قریب ہوجائے اور توجہ سے سنے اور لغوکام نہ کرے تو اس کے ہر قدم پر ایک سال کا عمل اس کے روزوں اور قیام کا اجر ہوگا۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازہ پر فرشتے کھڑے ہوتے ہیں، وہ لوگوں پر ان کے مراتب لکھتے ہیں جو پہلے آئیں ان کا زیادہ، پس جب امام نکلتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور وہ خطبہ کو سنتے ہیں اور نماز کی طرف جلدی کرنے والا ایک اونٹ ہدیہ کرنے والے کی طرح ہے۔ پھر جو اس سے بعد ہے وہ ایک گائے کرنے والے کی طرح، پھر جو اس کے بعد ہے وہ بکری ہدیہ کرنے والے کی طرح پھر جو اس کے بعد ہے وہ مینڈھا کرنے والے کی طرح حتیٰ کہ مرغی اور انڈے کو بھی ذکر کیا۔
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

10 ۔” فاذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض “ یعنی جب نماز سے فارغ ہو تو زمین میں تجارت کے لئے اور اپنی ضروریات میں تصرف کرنے کے لئے پھیل جائو۔ ” وابتغوامن فضل اللہ “ یعنی رزق اور یہ امرباحت ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” واذاحللتم فاصطادوا “ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اگر تو چاہے تو نکل اور اگر چاہے تو بیٹھ جا اور اگر تو چاہے تو عصر تک نماز پڑھ اور کہا گیا ہے کہ ” فانتشروافی الارض “ دنیاطلب کرنے کے لئے نہیں ہے لیکن مریض کی عیادت اور جنازہ میں حاضر ہونے اور راخ فی اللہ کی زیارت کے لئے ہے اور حسن، سعید بن جبیر اور مکحول رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” وابتغوا من فضل اللہ “ یہ علم طلب کرنے کے لئے ہے۔ ” واذکرو اللہ کثیر العلکم تفلحون “۔