63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة المنافقون مدنی ہے اس کی گیارہ آیات ہیں
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

اے محمد) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (ازراہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بیشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحققت تم اسکے پیغمبر ہو۔ لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں

1 ۔” اذا جاء ک المنافقون “ یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی۔ ” قالوا نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنافقین لکاذبون “ اس لئے کہ انہوں نے جو ظاہر کیا اس کے خلاف دل میں چھپایا ہے۔
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور انکے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

2 ۔” اتخذوا ایمانھم جنۃ “ ڈھال۔ ” فصدوا عن سبیل اللہ “ لوگوں کو جہاد اور محمد ﷺ پر ایمان لانے سے روکا ہے۔ ” انھم ساء ماکانوا یعملون “۔
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔

2 ۔” ذلک بانھم امنوا “ زبان سے اقرار کیا جب مومنوں کو دیکھا۔ ” ثم کفروا “ جب مشرکین کی طرف تنہائی اختیار کی۔ ” فطبع علی قلوبھم “ کفر کی ” فھم لایفقھون “ ایمان کو۔
Ayah 63:5

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب تم ان (کے تناسب اعضاء) کو دیکھتے ہو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تخریج کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی ہوئی ہیں کہ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر (بلا آئی) یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

4 ۔” واذا رایتھم تعجبک اجسامھم وان یقولوا تسمع لقولھم کانھم خشب مسندۃ “ ” اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قدوقامت آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور اگر وہ بات کہیں تو آپ ان کی بات سن لیں گے گویا وہ لکڑیاں ہیں جو (دیوار کے سہارے لگائی ہوئی) کھڑی ہیں “۔ ” تعجبک “ یعنی قد آور ہیں ، رنگ شگفتہ ہیں، دیکھنے میں خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔ ” وان یقولوا “ اور اگر وہ کچھ بات کریں تو آپ ان کی بات سنیں یعنی سچی جانیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ابن ابی قدآور اور فصیح اللسان تھا۔ جب وہ بات کرتا تھا تو رسول اللہ ﷺ اس کی بات سنتے تھے۔ ” کانھم خشب مسندۃ “ حالانکہ وہ دیوار کے سہارے سے کھڑی ہوئی لکڑیاں ہیں، علم و معرفت اور عقل سلیم سے خالی، کھوکھلی۔ ” یحسبون کل صیحۃ علیھم، ھم العدو فاحذرھم، قاتلھم اللہ انی یوفکون “…” وہ ہر غل پکار کو اپنے اوپر پڑنے والی خیال کرتے ہیں (خواہ وہ پکار کسی وجہ سے ہو) یہی لوگ (تمہارے پکے) دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہو، ان کو خدا غارت کرے کہاں پھرے چلے جاتے ہیں۔ “ ” یحسبون “ یعنی ان کے دل چونکہ رعب زدہ ہیں، اس لئے ہر پکار اور اونچی آواز کو اپنے اوپر ٹوٹ پڑنے والی خیال کرتے ہیں۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان کو ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کا نفاق ظاہر نہ ہوجائے جس کی وجہ سے ان کا خون مباح کردیا جائے اور ان کو قتل کردیا جائے۔ اس لئے لشکر میں جو اونچی آواز سنائی دیتی ہے، مثلاً کوئی کسی کو پکارتا ہے یا کوئی جانور چھوٹ کر بھاگ پڑتا ہے یا گم شدہ اونٹ کو ڈھونڈا جاتا ہے تو وہ خیال کرتے کہ ان کے قتل اور گرفتاری کا حکم ہوگیا اور اب ان کو پکڑا جائے گا۔ ” ھم فعلو “ یہ منافق پکے دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہو۔ ہوشیار رہنے اور احتیاط رکھنے کے حکم کا مقصد یہ ہے کہ ان کی صحبت میں نہ ہو، ان کو ساتھ نہ رکھو، ان سے بےخوف نہ رہو کیونکہ جو شخص ہر وقت اپنی جان کے اندیشے میں رہے اور خوف جان ہر وقت اس کو لگا رہے ہے وہ یقینا پہلا دشمن ہوتا ہے اور جس کی طرف سے اس کو خوف لگارہتا ہے اس کو دیکھ پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ ” قاتلھم اللہ “ ان پر اللہ کی لعنت ۔ بظاہر یہ بددعا ہے اور خود اپنی ذات سے منافقوں پر لعنت کرنے کی طلب ہے لیکن حقیقت میں یہ مسلمانوں کو لعنت اور بددعا کرنے کی تعلیم ہے۔ ” انی یوفکون “ یعنی وہ کس طرح حق سے پھیرے جاتے ہیں۔ ابن جریر، قتادہ اور ابن المنذر نے عکرمہ کا یہی تشریحی قول نقل کیا ہے، اس قصہ میں ہم نے اوپر ذکر کردیا ہے کہ مسلمانوں نے عبداللہ بن ابی سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر استغفار کرنے کی درخواست کرے مگر اس نے گردن نیوڑائی۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 63:6

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو اپنے سرہلا دیتے ہیں اور تم انکو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

5 ۔” واذ قیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووارء وسھم ورایتھم یصدون وھم مستکبرون۔
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے خدا انکو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

6 ۔” سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم لن یغفر اللہ لھم، ان اللہ لا یھدی القوم الفسقین “۔ ” لووارء وسھم “ یعنی وہ بار بار متواتر اعراض کرتے اور غرور سے سر پھیر لیتے ہیں۔ ” ورایتھم “ مسلمانوں نے منافقوں سے جو کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جائو تاکہ حضور ﷺ تمہارے لئے دعائے مغفرت کردیں۔ اس قول کے وقت جو لوگ حاضر تھے، یہ خطاب انہی سے ہے۔ ” یصدون “ یہ صدود سے مشتق ہے یعنی استغفار سے روگردانی کرتے ہیں۔ ” وھم مستکبرون “ یعنی عذر خواہی سے غرور کرتے ہیں۔ ” سوآء علیھم “ ابن المنذر نے بروایت عروہ و مجاہد و قتادہ رحمہم اللہ بیان کیا کہ جب آیات ” استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ستر سے زیادہ بار دعائے مغفرت کروں گا۔ اس پر آیت ” سوآء علیھم “ نازل ہوئی۔ ایک شخص کو بھیج کر مجھے طلب فرمایا اور یہ آیات پڑھیں، پھر فرمایا : اللہ نے تیری ” بات “ کی تصدیق کردی۔ محمد بن اسحق اور دوسرے علماء سیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی کہ بنی مصطلق رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے کے لئے جمع ہورہے ہیں اور ان کا سپہ سالار ام المومنین حضرت جویریہ ؓ کا باپ حار ث بن ضرار ہوگا۔ حضور ﷺ نے یہ خبر پاکر مدینہ میں اپنا جانشین بقول محمد بن عمرو و ابن سعد حضرت زید بن حارثہ کو بنایا اور ابن ہشام کے قول پر حضرت ابوذر غفاری کو جانشین مقرر کیا اور مسلمانوں کی جمعیت ساتھ لے روانہ ہوگئے۔ اس لشکر میں مسلمانوں کے پاس تیس گھوڑے تھے جن میں سے دس مہاجروں کے تھے اور دو رسول اللہ ﷺ کے اور باقی انصار کے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دنیوی مال کے لالچ میں بہت سے منافق بھی ہوگئے۔ بنی مصطلق سے رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ مریسیع کے چشمہ پر جو قدید کی طرف سے سمت ساحل پر تھا، ہوا۔ حارث نے ۔۔۔ کی تیاری کرلی تھی۔ رسول اللہ ﷺ صف بستہ ہوگئے اور حضرت عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق منادی کردی کہ لا الہ الا اللہ کہہ دو تمہاری جانیں اور مال محفوظ رہیں گے۔ اس کے بعد طرفین سے تیراندازی ہونے لگی اور مڈبھیڑ ہوگئی، خوب لڑائی ہوگئی۔ بنی مصطلق میں سے جن کو (بتقدیرالٰہی) جانا تھا وہ مارے گئے، باقی شکست کھا کر بھاگ پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی عورتوں اور بچوں پر قبضہ کرلیا اور اللہ نے آپ کو مال غنیمت عطا فرمایا۔ ابھی لوگ اس چشمہ پر فروکش تھے کہ ایک حادثہ ہوگیا۔ حضرت عمر ؓ کے پاس بنی غفار کے قبیلہ کا ایک مزدور تھا جو آپ کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر چلتا تھا، اس کا نام جہجاہ بن سعید تھا۔ سنان بن وبرہ جہنی سے جمجاہ کا ٹکرائو ہوگیا۔ قبیلہ جہنیہ ، قبیلہ عوف بن خزرج کا حلیف تھا، دونوں لڑ پڑے جہجاہ نے سنان کو اتنا زخمی کردیا کہ خون بہنے لگا۔ سنان نے گروہ انصار کو مدد کے لئے پکارا اور غفاری نے گروہ مہاجرین کو بلایا۔ طرفین میں سے ایک گروہ جمع ہوگیا اور ہتھیار نکل آئے۔ مہاجرین کی طرف سے ایک آدمی نے جس کو جعال کہا جاتا تھا جہجاہ کی مدد کی۔ قریب تھا کہ ایک بڑا فتنہ بپا ہوجائے کہ رسول اللہ ﷺ نکل آئے اور فرمایا، یہ کیا جاہلیت (کے دور) کی پکار مچارکھی ہے، لوگوں نے واقعہ کی اطلاع دی۔ حضور ﷺ نے فرمایا چھوڑو یہ فتنہ ہے۔ یعنی شریعت میں مذموم ہے، آدمی کو اپنے بھائی کی رد کرنی چاہیے خواہ اس کا بھائی ظالم ہو یا مظلوم۔ ظالم ہو تو اس کو ظلم سے روک دے، یہی اس کی مدد ہے اور مظلوم ہو تو اس کی حمایت کرے ۔ اس کے بعد مہاجرین کے کچھ لوگوں نے حضرت عبادہ بن صامت اور دوسرے انصاریوں سے گفتگو کی اور انہوں نے سنان سے بات کی۔ آخر سنان اپنے حق سے دست بردار ہوگئے۔ عبداللہ بن ابی سلول اپنی جگہ بیٹھا ہوا تھا اس کے پاس دس منافق بھی بیٹھے ہوئے تھے جن میں من جملہ مالک، سوید، قاعس، اوس بن قبطی، زید بن صلعت، عبداللہ بن نبیل اور معتب بن قشیر بھی تھے۔ حضرت زید بن ارقم بھی وہاں تشریف فرما تھے۔ یہ کم سن لڑکے تھے۔ ابن ابی نے کہا کیا ان لوگوں نے یہ یہ حرکت کی کہ اب ہم پر فخر کرنے اور ہماری بستیوں میں ہم سے مقابلہ کرنے لگے۔ ہماری اور ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے کہاوت ہے، اپنے کتے کو (کھلا کھلا کر) موٹا کر کہ تجھے کاٹ کھائے۔ خدا کی قسم ! جب ہم مدینہ کو لوٹیں گے تو ہم میں سے جو عزت میں اونچا ہوگا وہ ذلیل کو نکال کر باہر کردے گا۔ اونچی عزت والا، اس نے اپنے آپ کو کہا اور رسول اللہ ﷺ کو ذلیل کہا (نعوذ باللہ) پھر اپنی قوم کے لوگوں کو خطاب کرکے کہا یہ سب کچھ تم نے کیا۔ تم نے ان کو اپنے شہروں میں اتارا اور اپنا مال بانٹ کردیا۔ خدا کی قسم ! اگر تم جعال (کو دینے) سے رک جاتے اور بچا ہوا کھانا نہ دیتے تو یہ لوگ تمہاری گردنوں پر سوار نہ ہوجاتے اور تمہاری بستیوں سے کہیں دوسری جگہ منتقل ہوجاتے، اب بھی ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاوقتیکہ وہ محمد (ﷺ ) کے پاس سے ہٹ جائیں۔ حضرت زید بن ارقم نے کہا خدا کی قسم ! تو اپنی قوم میں ذلیل ، حقیر اور قابل نفرت ہے اور محمد ﷺ خداداد عزت کے مالک ہیں اور مسلمانوں کے دلوں میں محبوب ہیں۔ عبداللہ بن ابی نے کہا خاموش ہوجا، میں تو یونہی مذاق سے کہہ رہا تھا۔ حضرت زید بن ارقم نے جاکر رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی اطلاع دے دی۔ حضور ﷺ کو یہ بات ناگوار ہوئی اور چہرہ رنگ کا رنگ بدل گیا، پھر فرمایا : لڑکے کے شاید تونے اس پر دوزغ بندی کی۔ حضرت زید نے کہا نہیں، خدا کی قسم ! حضور ﷺ میں نے خود سنا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : شاید تیرے سننے میں کچھ غلطی ہوئی۔ حضرت زید نے کہا، نہیں یارسول اللہ (میرے سننے میں غلطی بھی نہیں ہوئی) حضور ﷺ نے فرمایا : شاید تجھے کچھ اشتباہ ہوگیا۔ حضرت زید نے کہا نہیں یا رسول اللہ ! (کچھ اشتباہ بھی نہیں ہوا) لشکر میں عبداللہ کی یہ بات پھیل گئی۔ سوائے ابن ابی کی اس بات کے لوگوں میں اور کوئی بات ہی نہیں ہوتی تھی۔ کچھ انصاری حضرت زید کو ملامت کرنے لگے کہ تو نے اپنی قوم کے سردار پر تہمت لگائی اور جو بات اس نے نہیں کی تھی تو نے وہ بات اس کی طرف منسوب کردی، یہ تونے بڑی بےجا حرکت کی اور رشتہ داری کو منقطع کیا۔ حضرت زید نے جواب دیا خدا کی قسم ! جو کچھ اس نے کہا تھا میں نے خود سنا تھا، خدا کی قسم (سارے قبیلہ) خزرج میں میرے باپ کو عبداللہ بن ابی سے زیادہ کسی سے محبت نہیں تھی، اگر میں اپنے باپ سے بھی یہ بات سنتا تو رسول اللہ ﷺ سے جاکر ضرور نقل کرتا۔ مجھے امید ہے کہ اللہ اپنے نبی ﷺ پر کوئی ایسا کلام ضرور نازل فرمائے گا جس سے میری بات کی تصدیق ہوگی۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا، یارسول اللہ ! (ﷺ ) مجھے اجازت دیجئے، میں اس کی گردن ماردوں۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا، یارسول اللہ عباد بن بشر کو حکم دیجئے کہ وہ ابن ابی کا سرکاٹ کر آپ ﷺ کے پاس لے آئے۔ ایک روایت میں عباد بن بشر کی جگہ محمد بن مسلمہ کا نام آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں نے یہ اجازت دی، لوگ کہیں گے محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (کوئی ان کا ساتھ نہ دے) لیکن کوچ کرنے کا اعلان کردو (یہی مناسب ہے) یہ وقت ایسا تھا کہ (معمولاً ) رسول اللہ ﷺ ایسے وقت سفر پر روانہ نہیں ہوتے تھے۔ سخت گرمی کا وقت تھا اور رسول اللہ ﷺ (سخت گرمی کے وقت روانہ نہیں ہوتے تھے بلکہ) ٹھنڈا وقت ہوجاتا تو روانہ ہوتے تھے۔ لشکر والوں کو کچھ پتہ بھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی قصویٰ سامنے سے برآمد ہوگئی (مجبوراً ) لوگ بھی روانہ ہوگئے۔ حضور ﷺ نے ابن ابی کو طلب فرمایا، وہ حاضر ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے جو بات پہنچی ہے کیا تم نے وہ کہی تھی ؟ ابن ابی نے کہا اس خدا کی قسم ! جس نے آپ ﷺ کے اوپر کتاب نازل فرمائی ہے، میں نے اس میں سے کچھ نہیں کہا، زید قطعاً جھوٹا ہے۔ عبداللہ بن ابی اپنی قوم میں بڑا سردار (مانا جاتا) تھا۔ اس کے ساتھیوں نے جو انصار تھے اور وہاں موجود تھے، عرض کیا یارسول اللہ (ﷺ ) ممکن ہے اس لڑکے کے کو کچھ اشتباہ ہوگیا ہو۔ جو بات ابن ابی نے کہی ہو وہ اس کو محفوظ نہ رہی ہو۔ غرض ابن ابی کے عذر کو رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمالیا اور انصار کی طرف سے زید پر ملامت کی بوچھاڑ ہونے لگی اور لوگوں نے ان کو جھوٹا قرار دے دیا۔ زید اپنے چچا کے ساتھ رہتے تھے۔ چچا نے کہا میں (تم کو جھوٹا قرار دینا) نہیں چاہتا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے اور سارے لوگوں نے تمہاری تکذیب کردی اور تم سے متنفر ہوگئے۔ زید کا قاعدہ تھا کہ سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ چلتے تھے لیکن اس بات کے بعد حضور ﷺ کے پاس جانے سے جھجکنے لگے۔ جب رسول اللہ ﷺ روانہ ہوگئے تو سب سے پہلے حضرت سعد بن عبادہ آپ سے ملے۔ ابن اسحق نے سعد کی بجائے اسید بن حضیر کا نام ذکر کیا ہے اور کہا و (رح) وبرکاتہ، سعد (یا اسید) نے عرض کیا یارسول اللہ ! (ﷺ ) آپ ایسے نالوار وقت میں روانہ ہوئے ہیں کہ ایسے وقت میں آپ ﷺ سفر پر روانہ نہیں ہوتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم کو وہ بات نہیں پہنچی جو تمہارے ساتھی نے کہی تھی۔ سعد نے کہا یارسول اللہ ! (ﷺ ) کونسا ساتھی ؟ فرمایا : ابن ابی کہتا ہے کہ جب وہ مدینے لوٹ کر جائے گا تو بڑی عزت والا، وہاں سے بڑے ذلیل آدمی کو نکال دے گا۔ سعد نے عرض کیا، یارسول اللہ ! (ﷺ ) اگر آپ ﷺ چاہیں تو اس کو نکال دیں، وہ بڑا ذلیل ہے اور آپ بڑی عزت والے ہیں ۔ عزت تو اللہ کے اور آپ ﷺ کے اور مومنوں کے لئے ہے۔ کچھ دیر کے بعد عرض کیا، یارسول اللہ ! (ﷺ ) اس سے نرمی کیجئے۔ یارسول ! (ﷺ ) جب آپ کو مدینے میں لایا گیا تھا، اس زمانے میں اس کی قوم والے اس کو ہار پہنانے (اور بادشاہ بنانے) کے لئے ہار پر ورہے تھے، جس جس کے ہاتھ کوئی پوتھ تھا وہ ہار پرونے کے لئے آرہا تھا۔ یہاں تک کہ سوائے یوشع یہودی کے کسی کے پاس کوئی پوتھ نہیں بچا تھا۔ یوشع جانتا تھا کہ خزرج والوں کو ابن ابی کی تاج پوشی کے لئے پوتھ کی ضرورت ہے، اس لئے اس نے ان لوگوں سے پوتھ کی زیادہ قیمت لی، یہی باتیں ہورہی تھیں کہ اللہ آپ کو یہاں لے آیا۔ ابن ابی نے (آپ ﷺ کی تشریف آوری کو اپنے لئے حکومت سے محرومی کا سبب سمجھا اور) خیال کیا کہ آپ ﷺ کے آنے سے اس کی حکومت چھین لی گئی۔ ابن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ کو جب اس قول کی اطلاع ملی جو حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا تو حضور ﷺ سے گزارش کی کہ یارسول اللہ ! (ﷺ) اگر اس بات کی وجہ سے جو ابن ابی کے متعلق آپ ﷺ تک پہنچی ہے۔ ابن ابی کو آپ قتل کردینا چاہتے ہیں تو مجھے حکم دیجئے میں خود اس کا سر لاکر حضور ﷺ کی خدمت میں اتنی جلدی پیش کردوں گا کہ آپ ﷺ یہاں سے اٹھنے بھی نہ پائیں گے۔ خدا کی قسم ! خزرج والے خوب جانتے ہیں کہ سارے خزرجیوں میں کوئی بھی اپنے والدین کا اتنا اطاعت گزار نہیں ہے جتنا میں ہوں، اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میرے علاوہ کسی اور کو میرے باپ کے قتل کرنے پر مامور کیا اور اس نے قتل کردیا تو مجھے میرا نفس اجازت نہیں دے گا کہ میرے باپ کا قاتل لوگوں میں چلتا پھرے اور میں اس کو یوں ہی چھوڑدوں (لا محالہ میں اس کو قتل کردوں گا) تو کافر کے عوض مومن کو قتل کرکے میں دوزخی ہوجائوں گا۔ آپ ﷺ کی طرف سے معافی (انتقام سے) افضل و اعظم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، عبداللہ میرا ارادہ تو (تمہارے باپ کو) قتل کرانے کا نہیں ہے، نہ میں نے اس کا حکم دیا ہے، جو لوگ ہماری صحبت میں رہتے ہیں، ہم تو ان سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس کھاڑی کے رہنے والوں نے ابن ابی کو تاچ پہنانے پر اتفاق کرلیا تھا لیکن جب اللہ آپ (ﷺ ) کو یہاں لے آیا تو اس کو پست کردیا اور ہم کو آپ کی وجہ سے سر بلند فرمایا۔ اب بھی کچھ لوگ اس کے آس پاس گھومتے اور ان پچھلی باتوں کا تذکرہ کرتے ہیں ان کو اللہ نے مغلوب کردیا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سب کو لے کر روانہ ہوگئے، دن بھر چلتے چلٹے شام ہوگئی، پھر رات بھر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور دن چڑھ گیا، جب دھوپ سے تکلیف ہونے لگی تو ایک جگہ اتر پڑے اور ٹھہر گئے، لوگ فوراً زمین کو چھوتے ہی (یعنی اترتے ہی) بیتاب ہوکر سوگئے (گویا سوتے میں گرپڑے) رسول اللہ ﷺ نے یہ (روانگی میں عجلت) اس وجہ سے کی تاکہ لوگوں میں ابن ابی کے قول کا جو تذکرہ ہورہا تھا اس سے لوگ باز رہیں اور ایک جگہ بیٹھ کر آپس میں بات چیت کرنے کا موقع نہ رہے) اس کے بعد پچھلے دن میں رسول اللہ ﷺ نے سفر فروغ کردیا، یہاں تک کہ چشمہ بقاء تک جو بقیع کے بالائی جانب علاقہ حجاز میں واقع تھا ، پہنچ کر اتر پڑے۔ مسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینے کے قریب پہنچے تو ایک طوفانی ہوا ایسی اٹھی کہ سوار بھی اس کی وجہ سے ریت میں دفن ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ طوفان ایک منافق کی موت کے لئے (اللہ کی طرف سے) بھیجا گیا ہے۔ چناچہ جب ہم مدینہ میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایک بڑا منافق مرگیا۔ محمد بن عمرو کا بیان ہے جب طوفان آیا تو لوگوں نے کہا یقینا مدینہ میں کوئی بڑا حادثہ ہوا ہے اور وہاں ہمارے بال بچے ہیں (ہم کو ان کی فکر ہے) عیینہ بن حصن فزاری اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ایک مقررہ مدت کے لئے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ تھا اور معاہدے کی مدت ختم ہونے والی تھی (اس لئے لوگوں کا خیال ہوا کہ کہیں عیینہ بن حصن نے مدینہ پر حملہ کردیا ہو) ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تمہارے لئے کوئی بات (اندیشہ کی) نہیں ہے۔ مدینہ کی ہر گھاٹی پر ایک فرشتہ محافظ موجود ہے کوئی دشمن مدینے میں داخل نہیں ہوسکتا، تم ہی داخل ہوگے۔ واقعہ یہ ہوا کہ مدینہ میں ایک بڑا منافق مرگیا، اسی وجہ سے یہ طوفانی ہوا چلتی تھی، اس کے مرنے کا منافقوں کو سخت غم ہوا تھا کیونکہ وہ منافقوں کا پشت پناہ تھا، یہ مرنے والا زید بن رفاعہ بن تابوت تھا۔ محمد بن عمرو نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ زوال آفتاب تک آندھی بہت تیز رہی، زوال کے بعد سکون ہوگیا۔ حضرت عبادہ بن صامت نے اس روز ابن ابی سے فرمایا، تیرا گہرا دوست زید بن رفاعہ بن تابوت مرگیا، جس کے مرنے سے اسلام اور اہل اسلام کی فتح ہوئی۔ ابن ابی کہا افسوس وہ میرا (دوست ہی) تھا۔ ابو ولید یہ تو بتائو کہ تم کو کس نے اطلاع دی ؟ حضرت عبادہ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی کہ ابھی وہ مرگیا۔ ابن ابی بڑا پشیمان، پریشان اور غمگین ہوا۔ محمد بن عمرونے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی قصویٰ اونٹوں (کے گلے) میں سے گم ہوگئی، مسلمان ہر طرف اس کو تلاش کرنے لگے، ایک منافق تھا زید بن صلت جو انصار کی اس جماعت میں شامل تھا جس میں عبادہ بن بشر بن وقس اور اسید بن حضیر شامل تھے، زید بن صلت نے پوچھا، یہ لوگ ہر سمت کہاں جارہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کھوگئی ہے، اس کو تلاش کررہے ہیں۔ کہنے لگا جہاں اونٹنی ہو وہ جگہ اللہ ان کو بتا کیوں نہیں دیتا ؟ مسلمانوں کو یہ بات ناگوار ہوئی اور انہوں نے کہا : دشمن خدا ! تجھ پر خدا کی مار تو منافق ہوگیا۔ حضرت اسید بن حضیر بولے مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میرا فعل پسند ہوگا یا نہیں ؟ اگر یہ بات نہ ہوتی تو خدا کی قسم ! میں برچھا تیرے آر پار کردیتا، جب یہ نفاق تیرے دل میں تھا تو ہمارے ساتھ نکل کر کیوں آیا تھا ؟ کہنے لگا میں نے دنیوی مال کے طلب میں آیا تھا۔ خدا کی قسم ! محمد اس اونٹنی سے کہیں بڑی آسمانی باتوں کی خبر تو ہم کو دیتے ہیں (اونٹنی کی کوئی خبر نہیں) مسلمانوں نے کہا : خدا کی قسم ! ہماری کبھی تجھ سے (ملاپ کی) کوئی راہ نہیں ہوگی اور نہ کسی ٹیلے کے سائے میں ہم تیرے ساتھ بیٹھیں گے، اگر ہم کو تیرے دل کی حالت معلوم ہوتی تو تیرے ساتھ ہی نہ رہتے، اس کے بعد زید کود کر بھاگ پڑا، اس کو ڈر لگا کہ مسلمان مجھ پر حملہ کردیں گے، مسلمانوں نے اس کا سامان پھینک دیا۔ زید ساتھیوں سے بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر پناہ گزین ہوگیا۔ اس کے بعد جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وحی لے کر آگئے (اور اونٹنی کی اطلاع دے دی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اور وہ منافق سن رہا تھا) منافقوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کھو گئی اور اللہ نے ان کی اونٹنی کا مقام نہیں بتایا، باوجودیکہ محمد ( ﷺ ) ہم کو اونٹنی کی گم شدگی سے بہت بڑی باتیں بتایا کرتے ہیں (حضور ﷺ نے فرمایا) علم غیب سوائے خدا کے کسی کو نہیں اور اللہ نے اب مجھے اونٹنی کا مقام بتادیا ہے، تمہارے سامنے گھاٹی کے اندر اونٹنی موجود ہے اس کی مہار ایک درخت میں پھنس گئی ہے تم اس طرف جائو حسب الحکم لوگ وہاں جاکر اونٹنی کو لے آئے جہاں رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا۔ منافق نے جب اونٹنی کو آتے دیکھا تو پشیمان ہوا اور فوراً تیزی کے ساتھ ان ساتھیوں کے پاس آیا جن کے ساتھ وہ پہلے تھا، آکر دیکھا کہ اس کا سامان پھینک دیا گیا اور لوگ سب اپنی جگہ بیٹھے ہیں، مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے، یہ کہہ کر قریب آگیا اور بولا میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، یہ بتائو کہ کیا تم میں سے کوئی یہاں سے اٹھ کر محمد ﷺ کے پاس گیا اور اس نے محمد ( ﷺ ) کو میری بات کی اطلاع دی جو میں نے یہاں کہی تھی ؟ سب نے جواب دیا نہیں، خدا کی قسم ! ہم میں سے تو کوئی اپنی جگہ سے اٹھا ہی نہیں، کہنے لگا : میری کہی ہوئی بات تو (یہاں) لوگوں کے پاس ہی رہی اور (وہاں) رسول اللہ ﷺ نے فرمادی۔ پھر زید نے واقعہ نقل کردیا جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا تھا۔ کہنے لگا، پہلے مجھے محمد ( ﷺ ) کے بارے میں شک تھا لیکن اب شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ گویا پہلے میں مسلمان ہی نہیں ہوا تھا، اب اسلام لایا ہوں۔ ساتھیوں نے کہا تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاکر معافی کا طلبگار ہوتا کہ وہ (اللہ سے) تیرے لئے استغفار کریں۔ چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور حضور ﷺ نے اس کے لئے دعائے مغفرت کی۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کو پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

7 ۔” ھم الذین یقولون “ یعنی منافق انصار سے کہتے ہیں، یہ عدم مغفرت کی دلیل ہے۔ ” لا تنفقوا علی من عندرسول اللہ “ یعنی نادار مہاجرین جیسے جہجاہ وغیرہ۔ ” خزآئن السموات “ یعنی جنت کی نعمتیں، بارش اور تقدیر رزق۔ ” والارض “ اور زمین کے خزانے یعنی روزی، رزق سب اللہ ہی کے ہیں۔ اسی کے دست قدرت میں ہر چیز ہے ، کوئی کسی کو اللہ کی اجازت اور مقدرہ تقسیم کے بغیر کچھ نہیں دے سکتا، نہ اس کی مشیت کے بغیر روک سکتا ہے۔ ” ولکن المنافقین لا یفقھون “ یعنی منافقین اللہ کی شان اور قدرت سے واقف نہیں، اس لئے ایسی بات کہتے ہیں، اگر سمجھ لیتے تو ایسی بات نہ کہتے۔
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اسکے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے

8 ۔” یقولون……………لا یعلمون “ ” کہتے ہیں اگر ہم مدینے کو لوٹ کر پہنچے تو جو عزت (اور قوت و غلبہ) والا ہوگا وہ ذلت والے کو (یعنی کمزور کو) مدینے سے نکال کر باہر کرے گا، عزت (اور غلبہ اور قوت) تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو حاصل ہے لیکن منافق (یہ بات) نہیں جانتے “۔ ” العزۃ “ یعنی حقیقت میں غلبہ اور قوت تو اللہ ہی کو حاصل ہے وہ اللہ کی عطاء کردہ ہے۔ اس نے اپنے دین کو غالب کہو دشمنوں پر ان کو فتح عنایت فرمائی ہے۔ ” لا یعلمون “ یعنی منافق جہالت اور غرور کے سبب اس بات کو نہیں جانتے۔
Ayah 63:10

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

مومنو تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

9 ۔” یایھا الذین امنوا لا تلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ ومن یفعل ذلک فاولئک ھم الخسرون “…” اے ایمان والوں ! تم کو تمہارے مال اور تمہارے اولاد (یعنی ساری دنیا ) اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے اور جو وہ کریں گے وہی ناکام رہنے والے ہوں گے “۔ ” اموالکم ولا اولادکم “ یعنی مال اور اولاد کا انتظام و اہتمام ” عن ذکر اللہ “ لفظ ذکر عام ہے، تمام عبادتوں کو حاصل ہے لیکن اہل تفسیر کے نزیک اس جگہ پانچوں وقت کی نمازیں مراد ہیں۔ ” ومن یفعل ذلک “ یعنی جو لوگ مال واولاد میں ایسا اشتعال رکھیں گے جو ذکر اللہ سے مانع ہو تو ایسے ہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں کہ انہوں نے حقیر، فنا پذیر چیز کو پسند کرلیا اور لازوال عالی قدرت نعمت کو ترک کردیا۔ ” فاولئک ھم الخاسرون “۔
Ayah 63:11

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا ؟

10 ۔” وانفقوا مما رزقناکم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مال کی زکوٰۃ مراد ہے۔ ” من قبل ان یاتی احدکم الموت “ پھر وہ لوٹنے کا مطالبہ کرے۔ ” فیقول رب لولا اخرتنی “ کیوں نہیں تو نے مجھے مہلت دی اور کہا گیا ہے کہ ” لا “ صلہ ہے۔ پس کلام تمنی کے معنی میں ہوگی۔ یعنی اگر آپ مجھے مہلت دے دیتے۔ ” الی اجل قریب فاصدق “ فاتصدق میں صدقہ دوں اور اپنے مال کی زکوٰۃ دوں۔ ” واکن من الصالحین “ یعنی ” من المومنین “ مومنین میں سے۔ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” ومن صلح من آبائھم “ ہے۔ یہ مقاتل (رح) اور جماعت کا قول ہے اور ان حضرات نے کہا ہے کہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور کہا گیا ہے کہ آیت مومنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہاں صلاح سے مراد حج ہے۔ ضحاک اور عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں جو شخص بھی مرگیا اور اس کا مال تھا جس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی اور حج کی طاقت تھی لیکن حج نہیں کیا تو وہ موت کے وقت لوٹنے کا سوال کرے گا اور یہ آیت پڑھی ” واکن من الصالحین “ ابوعمرونے ” واکون “ وائو کے ساتھ اور نون کے نصب کے ساتھ تمنی کے جواب کی بناء پر پڑھا ہے اور فاصدق کے لفظ پر۔ کہا وائو کو مصحف سے اختصار کے لئے حذف کیا گیا ہے اور دیگر حضرات نے واکن جزم کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول فاصدق پر عطف کرتے ہوئے۔ اگر اس میں فاء نہ ہو اس لئے کہ اگر فاء نہ ہو تو اس پر جزم ہوگی یعنی ” ان اخرتنی اصدق واکن “ اور اس لئے کہ مصحف میں وائو کے حذف کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔