64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة التغابن عطاء (رح) فرماتے ہیں مکی ہے مگر تین آیات اللہ تعالیٰ کے قول ” یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم “ سے ان کے آخر تک اور اس کی اٹھارہ 18 آیات ہیں
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لا متناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تقدیر مخلوق کے متعلق تفسیر 1 ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو مومن اور کافر پیدا کیا۔ پھر ان کو قیامت کے دن لوٹائے گا مومن اور کافر جیسا کہ ان کو پیدا کیا تھا اور ہمیں ابن عباس ؓ سے ابی کعب ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک وہ غلام جس کو خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا اس پر کافر ہونے کی مہر لگائی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ولا یلدوا الافاجرا کفارا “ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا الہل تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کررکھا ہے۔ پس وہ کہتا ہے اے میرے رب ! نطفہ ہے۔ اے میرے رب ! جما ہوا خون ہے۔ اے میرے رب ! گوشت کا لوتھڑا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش کا ارادہ فرماتے ہیں تو وہ کہتا ہے اے میرے رب ! کا لڑکا ہے یا لڑکی ؟ کیا بدبخت ہے یا نیک بخت ؟ پس رزق کتنا ہے ؟ پھر مدت کتنی ہے ؟ پس اسی طرح سب کچھ اس کے ماں کے پیٹ میں ہوتے ہوئے لکھ دیا جاتا ہے اور ایک جماعت نے کہا ہے آیت کا معنی ہے بیشک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ کافر ہوئے اور ایمان لائے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق ذکر کیا، پھر ان کے فعل کو بیان کیا تو فرمایا ” فمنکم کافر ومنکم مومن “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” واللہ خلق کل دابۃ من ماء فمنھم من یمشی علی بطنہ “ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا اور چلنا ان کا فعل ہے۔ پھر اس کی تاویل میں ان کا اختلاف ہوا ہے۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسکو دیکھتا ہے۔

2 ۔ ابوسعیدخدری ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا پس تم میں سے بعض اپنی زندگی میں کافر ہیں اور انجام میں مومن ہیں اور تم میں سے بعض اپنی زندگی میں مومن ہیں انجام میں کافر ہیں۔ عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں پس تم میں سے بعض اللہ کا انکار کرنے والے ستاروں پر ایمان لانے والے ہیں اور تم سے بعض اللہ پر ایمان لانے والے ستاروں کا انکار کرنے والے ہیں اور کہا گیا ہے ” فمنکم کافر “ کہ اس بات کا اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے اور یہ دھریہ کا مذہب ہے۔ ” ومنکم مومن “ اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے اور اس میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو پیدا کیا ہے اور اس کا کفر اس کا اپنا فعل اور کسب ہے اور مومن کو پیدا کیا ہے اور اس کا ایمان اس کا اپنا فعل اور کسب ہے۔ پس دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کے لئے کسب واختیار ہے اور ان کا کسب واختیار اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیت کے ساتھ ہے۔ پس مومن اللہ تعالیٰ کے اس کو پیدا کرنے کے بعد ایمان کو اختیار کرتا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے اس کا ارادہ کیا ہے اور اس کو اس پر قدرت دی ہے اور اس سے ایمان کو جانا ہے اور کافر اللہ تعالیٰ کے اس کو پیدا کرنے کے بعد کفر کو اختیار کرتا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے اس کا ارادہ کیا اور اس کو اس پر قدرت دی ہے اور اس سے اس کفر کا علم رکھا ہے اور یہ اہل سنت والجماعت کا راستہ ہے جو اس پر چلے گا، جبریہ اور قدریہ سے محفوظ ہوجائے گا۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی پاکیزہ بنائیں اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے

3 ۔” خلق السموات والارض بالحق وصور کم فاحسن صورکم والیہ المصیر۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے

4 ۔” یعلم مافی السموات والارض “ ” ویعلم ماتسرون وما تعلنون واللہ علیم بذات الصدور۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے ؟ تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے۔

5 ۔” الم یاتکم “ کفار مکہ کو خطاب کیا ہے۔ ” نبا الذین کفروا من قبل “ یعنی گزشتہ امتوں کی۔ ” فذاقوا وبال اھرھم “ یعنی جو ان کو دنیا میں عذاب لاحق ہوا۔ ” ولھم عذاب الیم “ آخرت میں۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لیکر آتے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ؟ تو انہوں نے (انکو) نہ مانا اور منہ پھیرلیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی اور خدا بےپروا (اور) سزا وار حمد (وثنا) ہے۔

6 ۔” ذلک “ عذاب۔” بانہ کانت تاتیھم رسلھم بالبینات فقالوا ابشر یھدوننا “ اور ” یھدینا “ نہیں کہا اس لئے کہ ابشراگرچہ اس کا لفظ واحد ہے لیکن یہ جمع کے معنی میں ہے اور یہ اسم جنس ہے اس کے لفظ سے اس کا کوئی واحد نہیں ہے اور اس کا واحد انسان ہے۔ اور اس کا معنی وہ انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے جیسا آدمی ہمیں ہدایت دے گا۔ ” فکفروا وتولوا واستغنی اللہ “ ان کے ایمان سے۔ ” واللہ غنی “ اپنی مخلوق سے۔ ” حمید “ اپنے افعال میں۔ پھر ان کے بعث کا انکار کرنے کی خبر دی۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انکا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ کے پھر جو جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے دیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

7 ۔” زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل “ اے محمد ﷺ ۔ ” بلی وربی لتبعثن ثم لتنبئون بما عملتم وذلک علی اللہ یسیر۔
Ayah 64:9

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاو۔ اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

8 ۔” فآمنوا باللہ ورسولہ والنور الذی انزلنا “ اور وہ قرآن ہے۔ ” واللہ بما تعملون خبیر “۔
Ayah 64:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

جس دن وہ تم کو اکٹھا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکٹھا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

9 ۔” یو م یجمعکم لیوم الجمع “ یعنی قیامت کے دن اس میں آسمانوں اور زمینوں والوں کو جمع کریں گے۔ ” ذلک یوم التغابن “ یہ بات تفاعل ہے غبن سے اور وہ حصہ کا فوت ہوجانا ہے اور مراد پس مغبون وہ شخص جو اپنے گھر والوں اور جنت میں منازل سے غبن کیا گیا۔ پس اس دن ہر کافر کا غبن ظاہر ہوجائے گا، ایمان کو چھوڑنے کی وجہ سے اور ہر مومن کا غبن اس کی نیکیوں میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے۔ ” ومن یومن باللہ ویعمل صالحا یکفر عنہ سیئاتہ ویدخلہ جنات تجری من تحتھا الانھار “ اہل مدینہ اور اہل شام نے نکفر پڑھا ہے۔ ” وندخلہ “ اور سورة الطلاق میں ” ندخلہ “ نون کے ساتھ ان میں اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” خالدین فیھا ابدا ذلک الفوز العظیم “۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

10 ۔” والذین کفروا وکذبوا بآیاتنا اولئک اصحاب النار خالدین فیھا وبئس المصیر “۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اسکے دل کو ہدایت دیتا ہے اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔

11 ۔” مااصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ “ اس کے ارادے اور قضاء کے ساتھ۔ ” ومن یومن باللہ “ پھر تصدیق کرے کہ اس کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ ہے۔ ” یھدقلبہ “ اس کو یقین کی توفیق دیتا ہے حتیٰ کہ وہ جان لے کہ جو کچھ اس کو پہنچا ہے اس سے چوکنے والا نہیں تھا اور جو اس سے ہٹ گیا وہ اس کو پہنچنے والا نہیں تھا۔ پس وہ اس کی قضاء پر سر جھکا دیتا ہے۔ ” واللہ بکل شیء علیم “
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اور خدا کی اطاعت کرو اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے۔

12 ۔” واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول فان تولیتم فانما علی رسولنا البلاغ المبین۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

13 ۔” اللہ لا الہ الا ھو وعلی اللہ فلیتوکل المومنون “
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

مومنو ! تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے

14 ۔” یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اہل مکہ کے چند مرد تھے اسلام لائے اور مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بیویوں اور اولادوں نے ان کو روکا اور کہا ہم نے تمہارے اسلام پر صبر کرلیا ہے لیکن ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے تو انہوں نے گھر والوں کی بات مان کر ہجرت چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فاحذروھم “ اگر تم ان کی اطاعت کرو اور ہجرت چھوڑ دو ۔ ” وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا فان اللہ غفور رحیم “ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنے گھر والوں اور اولاد میں مقیم رہے اور ہجرت نہیں کی۔ پھر جب ہجرت کی تو ان لوگوں کو دیکھا جو ہجرت میں سبقت کر گئے کہ انہوں نے فقاہت فی الدین حاصل کرلی ہے تو ان کا ارادہ ہوا کہ اپنی بیویوں اور اولاد کو سزا دیں جنہوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور اگر وہ دارالہجرت میں آکر ملیں تو پھر خرچ نہ کریں اور ان کو خیر نہ پہنچائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کرنے اور ان سے درگزر کرنے کا حکم دیا اور عطاء بن یسار (رح) فرماتے ہیں عوف بن مالک اشجعی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ اہل اور اولاد والے تھے اور جب جہاد کا ارادہ کیا تو گھر والے رونے لگ جاتے اور ان کا دل نرم کرتے اور کہتے کس کے پاس آپ ہمیں چھوڑ رہے ہیں تو ان کا دل پسیج گیا اور ٹھہر گئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ان من ازواجکم واولاد کم عدوا لکم “ ان کے تمہیں اطاعت عبادت چھوڑنے پر مجبور کرنے کی وجہ سے لیکن تم ان سے بچو کہ تم ان سے قبول کرلو۔ ” وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا “ پس تم ان تمہاری مخالفت کرنے پر ۔۔۔۔ اللہ غفور رحیم پس اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے۔

15 ۔” انما اموالکم واولادکم فتنۃ “ آزمائش و امتحان اور آخرت سے روکنا ہے کہ اس کے سبب انسان بڑے گناہوں اور حق کو روکنے اور حرام کھانے میں واقع ہوجاتا ہے۔ ” واللہ عندہ اجر عظیم “ ان میں سے بعض نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو ذکر کیا تو اس میں ” من تبعیض “ کا داخل کردیا۔ پھر فرمایا ” ان من ازواجکم واولادکم عدوالکم “ اس لئے کہ سارے گھر والے اور اولاد دشمن نہیں ہیں اور اپنے قول ” انما اموالکم واولاد کم فتنۃ “ میں من کو ذکر نہیں کیا۔ اس لئے کہ یہ فتنہ اور دل کے مشغول ہونے سے خالی نہیں ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی یہ نہ کہے ” اللھم انی اعوذبک من الفتنۃ “ کیونکہ تم میں سے ہر ایک جب مال اور گھر والوں کی طرف لوٹتا ہے تو وہ فتنہ پر مشتمل ہوتا ہے لیکن چاہیے کہ یوں کہے ” اللھم الی اعوذبک من مفصلات الفتن “ ابوبریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے تو حسن اور حسین ؓ آئے اور ان دونوں شر سرخ قمیصیں تھیں، یہ چلتے اور گرتے پڑتے آرہے تھے تو رسول اللہ ﷺ منبر سے اترے ، ان دونوں کو اٹھایا اور اپنے سامنے رکھا، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے ” انما اموالکم واولادکم فتنۃ “ میں نے ان بچوں کی طرف دیکھا کہ گرتے پڑتے چلے آرہے ہیں تو مجھ سے صبر نہ ہوا اور میں نے اپنی بات درمیان میں چھوڑ دی اور ان دونوں کو اٹھا لیا۔
Ayah 64:17

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

سو جہاں تک ہو سکے خدا سے ڈرو اور (اسکے احکام کو) سنو اور (اسکے) فرمانبردار ہو اور (اسکی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو شخص طبیعت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔

16 ۔” فاتقوا اللہ مااستطعتم “ یعنی تم طاقت رکھو۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے قول ” اتقوا اللہ حق تقاتہ “ کے لئے ناسخ ہے۔ ” واسمعوا واطیعوا “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ” وانفقوا خیرالانفسکم “ یعنی تم اپنے مالوں سے خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ ” ومن یوق شح نفسہ “ حق کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے مال سے عطاء کرے۔ ” فاولئک ھم المفلحون “۔
Ayah 64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دو چند دیگا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے۔

17 ۔” ان تقرضوا اللہ قرضا حسنا یضاعفہ لکم ویغفرلکم واللہ شکور حلیم۔