Ayah 65:1سورة الطلاق
مدنی ہے اور اس کی بارہ 12 آیات ہیں
Ayah 65:2آیات 1
حالت حیض میں طلاق کا حکم
1 ۔” یایھا النبی اذاطلقتم النسائ “ نبی کریم ﷺ کو ندا دی ہے۔ پھر اپنی امت کو خطاب کیا ہے اس لئے کہ وہ سردار مقدم ہیں۔ پس سب کا خطاب آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ہے اور کہا گیا ہے اس کا مجاز ” یایھا النبی قل لامتک اذا طلقتم النسآئ “ ہے۔ یعنی جب تم ان کو طلاق دینے کا ارادہ کرو جیسے اللہ کا فرمان ہے۔ ” فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ “ یعنی جب تو قرات کا ارادہ کرے۔ ” فطلقوھن لعدتھن “ یعنی اس طہر میں جس کو وہ اپنی عدت میں شمار کرلیں اور ابن عباس اور ابن عمر ؓ دنوں نے پڑھا۔ ” فطلقوھن فی قبل عدتھن “ یہ آیت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔ نافع کی عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے عمر ! تو اس کو حکم دے کہ وہ اس سے رجوع کرلے، پھر اس کو روک لے حتیٰ کہ وہ پاک ہوجائے، پھر اس کو حیض آئے ، پھر پاک ہوجائے، پھر اگر چاہے تو اس کو روک لے اس کے بعد اور اگر چاہے تو جماع سے پہلے اس کو طلاق دے۔ پس یہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے۔ سالم نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تو اس کو حکم دے کہ وہ رجوع کرلے، پھر اس کو پا ک ہونے کی حالت میں یا حمل کی حالت میں طلاق دے۔ یونس بن جبیر اور انس بن سیرین نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اس میں ان دونوں نے یہ نہیں کہا کہ پھر حیض آئے پھر پاک ہو۔
ابوالزبیر نے خبر دی کہ عبدالرحمن بن ایمن عروہ کے مولی، انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے مسئلہ پوچھا اور ابوالزبیر سن رہے تھے کہ آپ کیا دیکھتے ہیں، اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہو ؟ تو ابن عمر ؓ نے فرمایا عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کو حکم دے کہ وہ اس سے رجوع کرلے، پھر جب وہ پاک ہوجائے تو چاہے تو اس کو طلاق دے اور چاہے تو اس کو روک لے۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” یایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن فی قبل عدتھن اور تقبل عدتھن “ شافعی (رح) کو شک ہے ۔ ابن جریج (رح) سے روایت ہے کہ اور ابن عمر ؓ نے کہا اور نبی کریم ﷺ نے پڑھایا ” یایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن فی قبل عدتھن “۔
حالت حیض ونفاس میں طلاق دینا کیسا ہے ؟
حالت حیض اور نفاس میں طلاق دینا بدعت ہے اور اس طرح اس طہر میں طلاق دینا جس میں اس عورت سے جماع کیا ہو نبی کریم ﷺ کے فرمان کی وجہ سے ” اور اگر چاہے تو طلاق دے جماع سے پہلے “ اور طلاق سنت یہ ہے کہ اس کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو اور یہ اس عورت کے حق میں ہے جس کو عدت حیضوں کے ذریعے لازم ہوتی ہو۔ بہرحال جب غیر مدخول بھابیوں کو طلاق دی حالت حیض میں یا ایسی چھوٹی بیوی کو طلاق دی جس کو ابھی تک حیض نہیں آیا یا حیض سے ناامید عورت کو جماع کرنے کے بعد طلاق دی یا حاملہ عورت کو جماع کرنے کے بعد طلاق دی یا خون دیکھنے کی حالت میں تو یہ طلاق بدعی بھی نہ ہوگی اور سنی بھی نہ ہوگی اور ان عورتوں کی طلاق میں کوئی بدعت نہیں ہے اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر چاہیے کہ اس کو طلاق دے پاکی یا حمل کی حالت میں اور خلع کرنا حیض کی حالت میں یا ایسے طہر کی حالت میں جس میں جماع کیا ہو بدعت نہ ہوگی۔ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے ثابت بن قیس ؓ کو ان کی بیوی سے خلع کرنے کی اجازت دے دی اس عورت کی حالت معلوم کیے بغیر اور اگر خلع ہر حال میں جائز نہ ہوتی تو آپ (علیہ السلام) اس عورت کا حال ضرور پوچھتے اور اگر اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی یا ایسے طہر میں جس میں جماع کیا ہو قصداً تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے لیکن طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے ابن عمر ؓ کو رجوع کا حکم دیا تھا اگر طلاق واقع نہ ہوئی ہوتی تو آپ (علیہ السلام) ان کو مراجعت کا حکم نہ دیتے اور جب حالت حیض میں رجوع کرلے تو جائز ہے کہ اس کو اس طہر میں طلاق دے جو اس حیض کے بعد ہے جماع سے پہلے۔
جیسا کہ اس کو یونس بن جبیر اور انس بن سیرین رحمہما اللہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے اور جو نافع نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ پھر چاہے تو اس کو روک لے حتیٰ کہ وہ پاک ہوجائے پھر حیض آئے پھر پاک ہوجائے تو یہ استحباب ہے، انہوں نے طلاق کو دوسرے طہر تک موخر کرنے کو مستحب قرار دیا ہے تاکہ اس شخص کا اس عورت سے رجوع کرنا طلاق کے لئے نہ ہو جیسا کہ طلاق کے لئے نکاح کرنا مکروہ ہے اور تین طلاقوں کو جمع کرنے میں بعض اہل علم کے نزدیک کوئی بدعت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اگر اپنی بیوی کو طہر کی حالت میں تین مرتبہ طلاق دے دی تو یہ بدعی نہ ہوگی اور یہی امام شافعی اور احمد رحمہما اللہ کا قول ہے اور ان میں سے سعض اس طرف گئے ہیں کہ یہ بدعت ہے اور یہی امام مالک اور اہل رائے رحمہم اللہ کا قول ہے۔
اللہ تعالیٰ کا قول ” واحصوا العدۃ “ یعنی اس کے حیضوں کی تعداد کو محفوظ کرو۔ کہا گیا ہے کہ عدت کے شمار کرنے کا حکم دیا ہے طلاق کو حیضوں پر جدا جدا کرنے کے لئے۔ جب اس کا تین طلاق دینے کا ارادہ ہو اور کہا گیا ہے رجوع کی مدت کے باقی ہونے کے علم کے لئے اور نفقہ اور رہائش کے حکم کی رعایت کرنے کے لئے۔ ” واتقوا اللہ ربکم لا تخرجوھن من بیوتھن “ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ گھرجس میں طلاق دی ہے خاوند کا ہو تو عورت کو اس سے نکلنا جائز ہے۔ ” ولا یخرجن “ اور اس کے لئے بھی نکلنا جائز نہیں ہے جب تک عدت ختم نہ ہو۔ پس اگر بغیر ضرورت کے یا کسی ضرورت کی وجہ سے نکلی تو گناہگار ہوجائے گی۔ پس اگر کوئی ضرورت واقع ہوگئی جیسے مکان گرنے کا خوف ہو یا عورت کے ڈوب جانے کا تو اس کے لئے جائز ہے کہ دوسری جگہ چلی جائے اور اسی طرح اگر اس عورت کو سوت بیچنے یا کپاس خریدنے کی ضرورت ہو تو اس کے لئے دن کو نکلنا جائز ہے رات کو نکلنا جائز نہیں ہے۔
کیونکہ کچھ مرد احد میں شہید کیے گئے تو ان کی بیویوں نے کہا ہم اپنے گھروں میں وحشت میں مبتلا ہوجاتی ہیں تو نبی کریم ﷺ نے ان کو اجازت دی کہ وہ کسی عورت کے پاس جاکر گپ شپ لگا آیا کریں۔ پھر جب نیند کا وقت ہو تو ہر عورت اپنے گھر کی طرف ٹھکانہ حاصل کرے اور نبی کریم ﷺ نے حضرت جابر ؓ کی خالہ کو کہا جب ان کے خاوند نے ان کو طلاق دے دی کہ وہ اپنی کھجوروں کی کٹائی کے لئے نکل جایا کریں اور جب اس کو سفر میں عدت لازم ہو تو وہ اپنے گھر والوں میں عدت گزارنے جارہی ہو یا آرہی ہو اور خانہ بدوش عورت وہیں ٹھکانہ بنائے گی عدت میں جہاں اس کے اہل ٹھکانہ بنائیں۔ اس لئے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ان کے حق میں ایسے ہے جیسے مقیم کے حق میں اقامت ہے۔ ” الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” ان تبدا علی اھل زوجھا “ تو اس کا نکلنا حلال ہوجائے گا اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ فاحشہ سے مراد یہ ہے کہ وہ زنا کرے پھر حد قائم کرنے کے لئے نکالی جائے۔ پھر اسکے گھر واپس لائی جائے اور یہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا گیا ہے۔
اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے مگر یہ کہ اس عورت کے جھگڑے کی وجہ سے اس کو طلاق دے دے تو اس کے لئے جائزے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر سے منتقل ہوجائے اور فاحشہ جھگڑا کرنا ہے اور ابن عمر ؓ اور سدی (رح) فرماتے ہیں اس کا عدت ختم ہونے سے پہلے نکلنا فاحشہ ہے۔” وتلک حدود اللہ “ یعنی جو سنت طلاق اور اس کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔ ” ومن یتعذ حدود اللہ یقد ظلم نفسہ لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا “ خاوند کے دل میں اس سے رجوع کرنے کا خیال ڈال دے۔ ایک طلاق اور دو طلاقوں کے بعد اور یہ دلالت کرتا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ طلاقیں جدا جدا دے اور تین طلاقیں ایک دفعہ نہ واقع کرے حتیٰ کہ جب وہ شرمندہ ہوجائے تو اس کو رجوع کرنا ممکن ہو۔
Ayah 65:32 ۔” فاذا بلغن اجلھن “ یعنی ان کی عدت پوری ہونے کے قریب ہوجائے۔ ” فامسکوھن “ یعنی ان سے رجوع کرلو۔ ” بمعروف اور فارقوھن بمعروف “ یعنی ان کو چھوڑ دو حتیٰ کہ ان کی عدت ختم ہوجائے۔ پھر وہ تم سے جدا ہوجائیں۔ ” واشھدواذوی عدل منکم “ رجوع یا فراق پر۔ رجوع پر گواہ بنانے کا حکم دیا ہے۔
” واقیموالشھادۃ للہ “ اے گواہو ! ” ذلکم یوعظ بہ من کا یو من باللہ والیوم الآخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا “ عکرمہ ، شعبی اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں اور جو اللہ سے ڈرے پس سنت کے مطابق طلاق دے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کا ذریعہ بنادے گا اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ نے فرمایا ہے۔ یہ عوف بن مالک اشجعی ؓ کے بارے میں حلال ہوئی ہے۔ مشرکین نے ان کے بیٹے مالک کو قید کرلیا تو یہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا یارسول اللہ دشمنوں نے میرے بیٹے کو قید کرلیا ہے اور آپ (علیہ السلام) کو فاقہ کی بھی شکایت کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو اللہ سے ڈر اور صبر کر اور ” لاحول ولا قوۃ “ کثرت سے کہا کر تو اس شخص نے ایسا کیا تو وہ ایک دن اپنے گھر مبیں بیٹھے تھے کہ ان کا بیٹا ان کے پاس آیا، دشمن اس سے غافل ہوئے تو وہ ان کو ایک اونٹ لے کر اپنے والد کے پاس آگیا۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ دشمن اس سے غافل ہوئے تو وہ ان کی بکریوں کے ریوڑ کو والد کے پاس ہانک کرلے آیا اور وہ چار ہزار بکریاں تھیں تو آیت نازل ہوئی۔ ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا “ اس کے بیٹے میں۔
Ayah 65:43 ۔” ویرزقہ من حیث لایحتسب “ جو بکریاں ہانکیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس نے بکریاں اور دوسرا سامان حاصل کیا پھر اپنے والد کے پاس آیا تو اس کے والد نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ (علیہ السلام) کو اقعہ سنایا اور سول پوچھا کہ کیا جو ان کا بیٹا لایا ہے۔ اس کا کھانا ان کے لئے حلال ہے ؟
تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ابن عباس اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا “ وہ یہ کہ وہ جانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور بیشک اللہ تعالیٰ اس کا رازق ہے اور ربیع بن خیثم (رح) فرماتے ہیں ” یجعل لہ مخرجا “ ہر اس چیز سے جو لوگوں پر تنگ ہو اور ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں ” یجعل لہ مخرجا “ ہر سختی سے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” مخرجا “ اس سے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔
” ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ “ اللہ سے ڈرے۔ اس میں جو اس کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی پریشانیوں سے کافی ہوجائیں گے اور روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا اس پر توکل کا حق ہے تو تمہیں ایسے رزق دے گا جیسا کہ پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔
صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں۔ ” ان اللہ بالغ امرہ ، طلحہ بن مصرف اور حفص نے عاصم (رح) سے پڑھا ہے۔
” بالغ امرہ “ اضافت کے ساتھ۔ اور دیگر نے حضرات نے ” بالغ “ تنوین کے ساتھ ” امرہ “ نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اپنے امر کو نافذ کرنے والا ہے، اپنی مخلوق میں اپنی قضاء کو جاری کرنے والا ہے۔
” قد جعل اللہ لکل شیء قدرا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر سخت اور نرم چیز کے لئے ایک مدت مقرر کی ہے جس کی طرف اس کی انتہا ہوگی۔ مسروق (رح) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں ” ان اللہ بالغ امرہ “ اس پر توکل کر یا توکل نہ کر لیکن توکل کرنے والے کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور اس کا اجر بڑا کیا جائے گا۔
Ayah 65:54 ۔” والاتی یئسن من المحیض من نساء کم “ پس ان کو حیض آنے کی امید نہیں ہے۔ ” ان ارتبتم “ یعنی تمہیں شک ہو۔ پس تم نہ جانو کہ ان کی عدت کیا ہے ” فعدتھن ثلاثۃ اشھر “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں جب نازل ہوئی۔ ” والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروئ “ تو خلاد بن نعمان بن قیس انشاری نے کہا اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ ) جس کو حیض نہیں آتا ان کی عدت کیا ہے ؟ اور جس کو ابھی تک حیض نہیں آیا اور حاملہ کی عدت کیا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” والاتی یئسن من المحیض من نساء کم “ یعنی وہ عورتیں جو حیض سے بیٹھ گئی ہیں۔ ” ان ارتبتم “ تم ان کے حکم میں شک کرو۔ ” عفدتھن ثلاثہ اشھر والائی لم یحضن “ یعنی وہ چھوٹی لڑکیاں جس کو ابھی حیض نہیں آیا تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ بہرحال نوجوان جس کو حیض آتا ہے لیکن ناامیدی کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اس کا حیض ختم ہوگیا۔ تو اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ اس کی عدت ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ ان کا خون دوبارہ آجائے ۔
پس وہ تین حیض عدت گزارے گی یا اگر ناامیدی کی عمر کو پہنچ گئی ہے تو تین مہینے عدت گزارے گی اور یہ عثمان، علی، زید بن ثابت اور عبداللہ بن مسعود رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا قول ہے اور اس کے عطاء (رح) قائل ہیں اور اسی کی طرف امام شافعی (رح) اور اصحاب رائے گئے ہیں اور عمر ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ نو مہینے انتظار کرے گی۔ پس اگر اس کو حیض نہ آئے تو تین مہینے عدت گزارے گی اور یہ مالک (رح) کا قول ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ایک سال انتظار کرے، پس اگر حیض نہ آئے تو تین مہینے عدت گزارے اور یہ تمام طلاق کی عدت کے بارے میں ہے۔ بہرحال جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ علاوہ ازیں کہ اس کو حیض آتا ہو یا نہ آتا ہو اور بہرحال حاملہ عورت تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ خاوند نے اس کو طلاق دی ہو یا فوت ہوگیا ہو۔
اللہ تعالیٰ کے قول ” واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن “ سبیعہ بنت حارث نے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچہ جنا تو ان پر ابو السنابل بن بعلبک کا گزر ہوا تو کہا خاروند تلاش کرنے کے لئے تیار ہوگئی ہے حالانکہ اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے تو سبیعہ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو ذکر کی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ابوالسنابل نے جھوٹ کہا یا فرمایا معاملہ ویسے نہیں جیسے ابوالسنابل نے کہا ہے۔ تیری عدت گزر گئی ہے پس تو نکاح کرلے۔ ” ومن یتق اللہ یجعل لہ من امرہ بسرا “ یعنی اس پر دنیا اور آخرت کے معاملہ کو آسان کردے گا۔
Ayahs 65:6–75 ۔” اسکنوھن “ یعنی اپنی طلاق شدہ بیویوں کو۔ ” من حیث سکنتم “ من صلہ ہے یعنی ان کو وہاں رہائش دو جہاں تم رہائش رکھتے ہو۔ ” من وجدکم “ تمہاری گنجائش و طاقت کے مطابق۔ یعنی اگر مال دار ہو تو اس پر خرچ اور رہائش میں وسعت دو اور اگر فقیر ہو تو اس کی طاقت کے مطابق۔ ” ولا تضاروھن “ تم ان کو تکلیف نہ دو ۔” لتضیقوا علیھن “ اس کے مساکن کو کہ وہ نکل جائیں۔” وان کن اولات حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن “ پس وہ اپنی عدت سے نکل جائیں۔
معتدہ رجعیہ کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے
رجعی عدت گزارنے والی خاوند پر خرچ اور رہائش کا حق رکھتی ہے جب تک عدت میں ہو اور سکنی سے ہماری مراد رہائش کا خرچ ہے۔ پس اگر وہ گھر جس میں اس نے طلاق دی ہے وہ خاوند کی ملک ہو تو خاوند پر واجب ہے کہ اس گھر سے نکل جائے اور گھر کو اس بیوی کے لئے اس کی عدت کی مدت چھوڑ دے اور اگر مکان کرایہ کا ہو تو خاوند پر کرایہ واجب ہے اور اگر مکان عاریت کا ہو اور عاریت دینے والا رجوع کرلے تو اس پر لازم ہے کہ بیوی کے لئے کرایہ پر گھر لے جس میں وہ رہے۔ بہرحال طلاق بائنہ کی عدت گزارنے والی خلع یا تین طلاقوں کے ذریعے یا لعان کے ذریعے تو اس کے لئے رہائش ہوگی حاملہ ہو یا غیر حاملہ اکثر اہل علم کے نزدیک۔
اور یہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا اس کے لئے رہائش نہیں ہے مگر یہ کہ وہ حاملہ ہو اور یہ حسن، عطاء اور شعبی رحمہم اللہ کا قول ہے اور علماء کا اس عورت کے خرچہ میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ اس کے لئے کوئی نفقہ نہ ہوگا مگر یہ کہ وہ حاملہ ہو۔ یہی بات ابن عباس ؓ سے روایت کی گئی ہے اور یہی حسن، عطاء اور شعبی رحمہم اللہ کا قول ہے اور اسی کے امام شافعی اور احمد رحمہما اللہ قائل ہیں اور ان میں سے بعض نے ہر حال میں اس کو واجب کیا ہے۔
یہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا گیا ہے اور یہی ابراہیم نخعی (رح) کا قول ہے اور اسی کے ثوری (رح) اور اصحاب رائے قائل ہیں اور قرآن کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی ابراہیم نخعی (رح) کا قول ہے اور اسی کے ثوری (رح) اور اصحاب رائے قائل ہیں اور قرآن کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ مستحق نہ ہوگی مگر یہ کہ حاملہ ہو ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” وان کن اولات حمل فانفقوا علیھن “ اور اس پر سنت کی جہت سے دلیل یہ ہے کہ فاطمہ بنت قیس کو ان کے خاوند ابو عمروبن حفص نے طلاق بتہ دی اور وہ شام میں غائب تھے تو اس کے پاس اپنا وکیل جو دے کر بھیجا تو فاطمہ ؓ اس پر ناراض ہوئیں تو اس نے کہا اللہ کی قسم ! تیرے لئے ہم پر کچھ واجب نہ ہے تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ (علیہ السلام) کو یہ بات ذکر کی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تیرے لئے اس پر کوئی نفقہ نہیں ہے اور اس کا امر یہ ہے کہ وہ ام شریک کے گھر میں عدت گزارے ، پھر فرمایا یہ عورت اس کے پاس میرے صحابہ کرام ؓ آتے جاتے ہیں پس تو ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزار کیونکہ وہ نابینا شخص ہیں تو اپنے کپڑے رکھ دے، پھر جب تیری عدت گزر جائے تو مجھے اطلاع دینا۔ فاطمہ کہتی ہیں جب میری عدت گزر گئی تو میں نے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہرحال ابوجہم وہ اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں رکھتا۔
اور بہرحال معاویہ تو وہ فقیر ہیں ان کے پاس کوئی مال نہیں ہے تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے۔ فاطمہ ؓ کہتی ہیں میں نے اس کو ناپسند سمجھا۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اسامہ بن زید ؓ سے نکاح کرلے تو میں نے اس سے نکاح کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں خیر رکھ دی اور مجھ پر رشک کیا گیا اور جنہوں نے اس کے لئے رہائش نہیں بنائی تو انہوں نے استدلال کیا ہے فاطمہ بنت قیس ؓ کی حدیث سے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ وہ عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کے گھر میں عدت گزاریں اور اس میں ان کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا فاطمہ ایک ویران مکان میں تھی تو اس پر ارد گرد کا خوف تھا اور سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں فاطمہ ؓ کو اس گھر سے منتقل کیا گیا ان کے اپنے سسرالی رشتہ داروں پر زبان درازی کرنے کی وجہ سے اور ان کی زبان تیز تھی۔
بہرحال شبہ سے وطی ہوجانے کی عدت گزارنے والی اور جس کا نکاح عیب یا آزادی کی وجہ سے ملنے والے اختیار (خیار عتق) کی وجہ سے فسخ ہوگیا ہو تو نہ اس کے لئے رہائش ہے اور نہ کوئی نفقہ اگرچہ وہ حاملہ ہو اور خاوند کی وفات کی عدت گزارنے والی اس کے لئے کوئی نفقہ نہیں ہے حاملہ ہو یا غیر حاملہ۔ اکثر اہل علم کے نزدیک اور حضرت علی ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ اس کے لئے نفقہ ہوگا اگر حاملہ ہو وضع حمل تک ترکہ سے اور یہی شریح، شعبی، نخعی اور ثوری رحمہم اللہ کا قول ہے اور ان کا اس کی رہائش میں اختلاف ہے اور امام شافعی (رح) کے اس میں دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اس عورت کے لئے کوئی رہائش نہیں ہے بلکہ وہ عدت گزارے گی جہاں وہ چاہے گی اور یہی علی، ابن عباس اور عائشہ صدیقہ ؓ کا قول ہے اور اسی کے عطاء اور حسن رحمہما اللہ قائل ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اور دوسرا یہ کہ اس عورت کے لئے سکنی ہے اور عمر، عثمان، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عمر ؓ کا قول ہے اور اسی کے امام مالک، سفیان ثوری، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ قائل ہیں اور جن حضرات نے اس کے لئے سکنی واجب کیا ہے انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان، یہ ابوسعید خدری ؓ کی بہن ہیں۔
انہوں نے خبر دی کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں آپ (علیہ السلام) سے یہ پوچھنے کہ یہ اپنے اہل کی طرف بنی عذرہ میں لوٹ جائیں کیونکہ ان کے خاوند اپنے چند بھگوڑے غلاموں کی تلاش میں گئے حتیٰ کہ وہ قدوم کی ایک طرف میں ان کو ملے تو ان غلاموں نے ان کو قتل کردیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جائوں ؟ کیونکہ میرے خاوند نے مجھے کسی ایسے گھر میں نہیں چھوڑا۔ جس کا وہ مالک ہو اور نہ ہی نفقہ چھوڑا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ پھر میں لوٹی حتیٰ کہ جب میں حجرہ میں یامسجد میں تھی مجھے بلایا یا میرے بلانے کا حکم دیا تو مجھے بلایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تونے کیسے کہا تھا ؟ کہتی ہیں میں نے واقعہ دوبارہ سنایا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اپنے گھر میں ٹھہری رہ حتیٰ کہ کتاب اپنے وقت کو پہنچ جائے۔ کہتی ہیں پس میں نے اس میں چار مہینے دس دن عدت گزاری۔
کہتی ہیں پس جب حضرت عثمان ؓ کا زمانہ آیا تو میری طرف پیغام بھیجا تو مجھ سے اس بارے میں پوچھا تو اپنے گھر ٹھہری رہ حتیٰ کہ کتاب اپنے وقت کو پہنچ جائے اور جن حضرات نے سکنی کو واجب نہیں کیا انہوں نے کہا کہ آپ (علیہ السلام) نے فریعہ کو دوسری مرتبہ گھر میں رہنے کا حکم دیا وہ استحباباً تھا نہ کہ وجوبا۔
اللہ تعالیٰ کا قول ” فان ارضعن لکم “ یعنی تمہاری اولاد کو دودھ پلائیں۔ ” فاتوھن اجورھن “ ان کے دودھ پلانے پر ” واتمروا بینکم بمعروف “ تاکہ تم ایک دوسرے سے قبول کرلو جب وہ اس کو نیکی کا حکم دے اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں مشورہ کرو۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں باپ اور اس کے متعین اجرت پر رضامندی کے ساتھ اور خطاب دونوں میاں بیوی کو ہے۔ ان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کو لائیں اور اس طریقہ کو جو اچھا ہو اور نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ کریں۔
” وان تعاسرتم “ دودھ پلانے اور اجرت دینے میں۔ پس خاوند بیوی کو اس کی اجرت دینے سے انکار کردے اور ماں دود پلانے سے انکار کردے تو اس کے لئے اس عورت کو دودھ پلانے پر مجبور کرنا ج ائز نہیں ہے لیکن وہ بچے کے لئے اس کی ماں کے علاوہ کوئی دودھ پلانے والی اجرت پر رکھ لے اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” فسترضع لہ اخری “ ہے۔
Ayah 65:87 ۔” لینفق ذوسعۃ من سعتہ “ اپنے غنا کی مقدار پر۔ ” ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ “ مال سے۔ ” لا یکلف اللہ نفسا “ نفقہ میں ” الا ما آتاھا “ جو اس کو مال دیا ہو۔ ” سیجعل اللہ بعد عسر یسرا “ سختی اور تنگی کے بعد مالداری اور وسعت۔
Ayah 65:98 ۔” وکاین من قریۃ عتت “ نافرمانی کی اور سرکشی کی۔ ” عن امرربھا ورسلہ “ یعنی اور اپنے رسول کے امر سے۔ ” فحاسبناھا حسابا شدیدا “ سخت حساب مناقشہ اور پورا حساب لینا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کے دین کے اعمال پر اس کا حساب کیا۔ پھر اس کو آخرت میں عذاب کا بدلہ دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وعذبناھا عذابا نکرا “ ہولناک اور وہ آگ کا عذاب ہے۔ ان دونوں کا لفظ ہے اور دونوں کا معنی استقبال کا ہے اور کہا گیا ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اس کی عبادت یوں بنے گی ” فعذبناھا فی الدنیا، بالجوع والقحط والسیف “ بھوک، قحط، تلوار اور تمام مصائب کے ذریعے ” وحاسبناھا فی الآخرۃ حسابا شدیدا “۔
Ayah 65:109 ۔” فذاقت وبال امرھا “ اس کے امر کی جزاء اور کہا گیا ہے اس کے کفر کے انجام کا بوجھ۔” وکان عاقبۃ امرھا خسرا “ دنیا اور آخرت میں خسارہ ہے۔
Ayah 65:1110 ۔” اعداللہ لھم عذابا شدیدا فاتقوا اللہ یا اولی الالباب الذین امنوا قدانزل اللہ الیکم ذکرا “ یعنی قرآن۔
Ayah 65:1211 ۔” رسولا “ یہ ذکر اسے بدل ہے۔ اور کہا گیا ہے تمہاری طرف قرٓن کو اتارا ہے اور رسول کو بھیجا اور کہا گیا ہے مع الرسول اور کہا گیا ہے ذکر وہی رسول ہیں اور کہا گیا ہے ذکر ا یعنی شرف۔ پھر بیان کیا کہ وہ کیا ہے تو فرمایا ” یتلوا علیکم آیات اللہ بینات لیخرج الذین امنوا وعملوا الصالحات من الظلمات الی النور و من یومن باللہ ویعمل صالحا یدخلہ جنات تجری تحتھا الانھار خالدین فیھا ابدا قد احسن اللہ لہ رزقا “ یعنی جنت جس کی نعمتیں ختم نہ ہوں گی۔