66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة التحریم یہ سورة مدنی ہے، اس میں 12 آیات اور 2 رکوع ہیں
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

اے پیغمبر جو چیز خدا نے تمہارے لئے جائز کی ہے تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو ؟ کیا اس سے اپنی بیبیوں کی خوشنودی چاہتے ہو اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

شہد کو حرام کرنے کا واقعہ 1 ۔” یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شیرینی اور شہد کو پسند فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کی عادت تھی کہ عصر کی نماز کے بعد بیبیوں کے گھر جایا کرتے تھے۔ ایک روز (عصر کے بعد) حضرت حفصہ ؓ کے پاس گئے تو وہاں ہر روز کے معمول کے خلاف زیادہ دیر توقف کیا۔ میں نے جب پوچھ پاچھ کی تو معلوم ہوا کہ حفصہ ؓ کے خاندان کی کسی عورت نے حفصہ کو بطور ہدیہ شہد کی ایک کپی بھیجی تھی۔ انہوں نے اس شہد کا شربت بنا کر رسول اللہ ﷺ کو پلایا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا : میں نے یہ بات سن کر کہا : خدا کی قسم ! ہم کوئی تدبیر کریں گے (کہ رسول اللہ ﷺ وہاں شربت نہ پئیں) چناچہ میں نے سودہ ؓ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس آئیں تو تم کہنا یارسول اللہ ! ( ﷺ ) آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے ؟ حضور ﷺ جواب دیں گے نہیں (میں نے مغافیر نہیں کھایا) اس پر تم کہنا پھر یہ بو کیسی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ کو بہت ناگوار تھا کہ آپ ﷺ کی طرف سے کسی کو یہ بو محسوس ہو۔ حضرت رسول اللہ ﷺ ضرور فرمائیں گے کہ حفصہ ؓ نے مجھے شہد کا شربت پلایا تھا۔ اس کے جواب میں تم یہ کہنا کہ اس شہد کی مکھیوں نے عرفظہ کا عرق چوسا ہوگا۔ میرے پاس جب حضور ﷺ تشریف لائیں گے تو میں بھی یہی کہوں گی اور صفیہ ؓ جب تمہارے پاس تشریف لے آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ جب رسول اللہ ﷺ حضرت سودہ ؓ کے گھر تشریف لائے اور قریب آئے تو انہوں نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ! آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں۔ حضرت سودہ ؓ نے کہا پھر یہ بو کیسی ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا تھا۔ حضرت سودہ ؓ نے کہا : تو اس کی مکھیوں نے عرفظہ کا عرق چوسا ہوگا۔ حضرت سودہ ؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کہا : رسول اللہ ﷺ دروازہ میں ہی تھے کہ خدا کی قسم میں نے تمہارے خوف سے پکار کر وہ بات اسی وقت کہنا چاہی تھی (لیکن توقف کیا اور جب حضور ﷺ میرے پاس پہنچ گئے تو میں نے وہ بات کہی) اس کے بعد رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے وہی (طے شدہ) بات عرض کی۔ پھر صفیہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی وہی بات عرض کی۔ بالآخر جب آپ ﷺ حفصہ ؓ کے پاس پہنچے تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ( ﷺ ) کیا میں اسی شہد کا شربت پلائوں، فرمایا، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے کہ اس کے بعد سودہ ؓ نے کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کو شربت سے محروم کردیا، میں نے کہا : خاموش رہو۔ صحیحین میں بروایت عطاء بیان کیا گیا کہ عبیدبن عمیر نے کہا : میں نے خود سنا، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرمارہی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ (ام المومنین) زینب بنت جحش کے پاس ٹھہر کر شہد کا شربت پیا کرتے تھے ۔ میں نے اور ام المومنین حفصہ ؓ نے باہم مشوروہ کرکے طے کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لائیں تو وہ کہے کہ مجھے کچھ آپ کی طرف سے مغافیر کی بو محسوس ہورہی ہے۔ چناچہ جب حضور والا ہم دونوں میں سے ایک کے پاس تشریف لائے تو اس بی بی نے (حسب مشاورت) وہی بات کہہ دی۔ حضور ﷺ نے فرمایا اور تو کوئی بات نہیں ہے بس زینت بنت جحش کے پاس میں نے شہد کا شربت پیا تھا، دوبارہ ایسا ہرگز نہیں کروں گا یعنی زینب کے گھر شہد کا شربت ہرگز نہ پیوں گا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ ” ان تتوبا الی اللہ “ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ ” واذ اسرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا “ بلکہ آپ نے شہد پیا تھا۔ اس سند کے ساتھ ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں لیکن میں نے زینت بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے میں دوبارہ نہ پیوں گا اور میں نے قسم اٹھالی ہے۔ پس تو اس کی خبر کسی کو نہ دینا۔ آپ (علیہ السلام) اس کے ذریعے اپنی بیویوں کی رضا تلاش کرتے تھے۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول حضرت ماریہ ؓ کے سلسلے میں ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیبیوں کی باریاں بانٹ دیا کرتے (ایک بار) جب حضرت حفصہ ؓ کی باری تھی تو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے میکے جانے اور اپنے والد کو دیکھنے کی اجازت کی درخواست کی۔ حضور ﷺ نے اجازت دے دی ۔ حضرت حفصہ ؓ جب چلی گئیں تو حضور ﷺ نے اپنی باندی حضرت ماریہ قبطیہ کو حضرت حفصہ ؓ کے گھر میں ہی طلب فرمایا، ماریہ آگئیں۔ حضور ﷺ نے ان سے قربت کی۔ حضرت حفصہ لوٹ کر آئیں تو دروازہ کے پاس ہی بیٹھ گئیں۔ کچھ دیر کے بعد رسول اللہ ﷺ برآمد ہوئے تو اس وقت آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ چمک رہا تھا۔ حضرت حفصہ بیٹھی رو رہی تھیں، فرمایا : کیوں رورہی ہو ؟ حضرت حفصہ ؓ نے جواب دیا : آپ ﷺ نے اسی غرض سے مجھے اجازت دی تھی، آپ ﷺ نے میرے گھر میں اپنی باندی کو بلایا اور میری باری کے دن میرے بستر پر اس سے قربت کی۔ آپ ﷺ نے میرا اتنا پاس لحاظ بھی نہیں کیا جتنا دوسری کسی بی بی کا کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا وہ میری باندی نہیں ہے جو اللہ نے میرے لئے حلال کردی ہے (خیر) اب تم خاموش ہوجائو تمہاری خوشنودی کی خاطر میں نے اس ک واپنے اوپر حرام کرلیا۔ کسی بی بی کو اس کی اطلاع نہ دینا اس کے بعد آپ ﷺ تشریف لے آئے، جونہی حضور ﷺ واپس ہوگئے حضرت حفصہ ؓ نے وہ دیوار کھٹکھٹائی جو ان کے اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے مکان کے درمیان تھی اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کہا : میں تم کو ایک خوشخبری سناتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی باندی ماریہ کو اپنے لئے حرام کرلیا، اب ہم کو اللہ نے اس کی طرف سے سکھ دے دیا۔ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ باہم گہری دوست تھیں اور دوسری بیبیوں کے مقابلہ میں آپس میں ایک دوسری کی مددگار ۔ اسی لئے حضرت حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ساری سرگزشت بیان کردی۔ یہ بات سن کر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو غصہ آیا اور رسو ل اللہ ﷺ اپنے عہد پر اس وقت تک قائم رہے جب تک یہ آیت نازل ہوئی۔ ” یایھا النبی لم تحرم مااحل اللہ لک “ یعنی شہد اور ماریہ ” تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفوررحیم “ اور حکم دیا گیا کہ آپ (علیہ السلام) اپنی قسم کا کفارہ دیں اور اپنی لونڈی سے رجوع کریں۔ پس فرمایا :
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کرد یا ہے اور خدا ہی تمہارا کا رساز ہے اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

2 ۔” قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم “ یعنی بیان کیا اور واجب کیا کہ تم ان کا کفارہ دو جب تم حانث ہوجائو اور کفارہ سورة المائدہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ” واللہ مولاکم “ تمہارا اولی اور تمہارا مددگار ہے۔ ” وھوالعلیم الحکیم “ اہل علم کا لفظ تحریم میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قوم نے کہا ہے یہ قسم نہیں ہے۔ پس اگر اپنی بیوی کو کہا تو مجھ پر حرام ” انت علی حرام “ یا کہا ” حرمتک “ میں نے تجھے حرام کردیا ہے۔ پس اگر اس سے طلاق کی نیت کی تو وہ طلاق ہے اور اگر اس سے ظہار کی نیت کی تو یہ ظہار ہے۔ اور اگر اس کی ذات کو حرام کرنے کی نیت کی یا مطلق چھوڑا تو اس پر کفارہ یمین لازم ہوگا محض لفظ کی وجہ سے اور اگر یہ کہا اپنی لونڈی کو، پس اگر آزاد کرنے کی نیت کی تو آزاد ہوجائے گی اور اگر لونڈی کی ذات کو حرام کرنے کی نیت کی یا مطلق چھوڑ دیا تو اس پر کفارہ یمین لازم ہے۔ پس اگر کسی کھانے کی چیز کا کہا ” حرمتہ علیٰ نفسی “ میں نے اس کو اپنے نفس پر حرام کردیا تو اس پر کچھ لازم نہ ہوگا اور یہ ابن مسعود ؓ کا قول ہے اور اسی کی طرف امام شافعی (رح) گئے ہیں اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ یہ قسم ہے۔ پس اگر یہ اپنی بیوی کو کہا یا اپنی لونڈی کو تو اس پر کفارہ واجب نہ ہوگا جب تک ان کے قریب نہ جائے۔ جیسا کہ اگر قسم کھائی کہ اس سے دعلی نہیں کرے گا اور اگر کھانے کو حرام کیا تو وہ ایسے ہے جیسے اگر قسم کھائی کہ اس کو نہیں کھائے گا تو اس پر کفارہ نہیں ہے جب تک اس کو نہ کھائے ۔ یہ ابوبکر اور عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا گیا ہے اور اسی کے امام اوزاعی اور ابوحنیفہ رحمہما اللہ قائل ہیں۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے لفظ حرام کے بارے میں کہا کہ کفارہ دیا جائے گا اور ابن عباس ؓ نے کہا ” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ “
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی) جب اس نے اسکو افشا کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے (ان بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے .

3 ۔” واذا اسرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا “ اور وہ اپنی لونڈی کو خود پر حرام کرنا ہے اور آپ ﷺ کا حفصہ ؓ کو یہ کہنا کہ اس کی کسی کو خبر نہ دینا۔ اور سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے بعد خلافت کے امر کو چھپایا۔ پس اس کو حفصہ ؓ نے بیان کردیا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کی طرف یہ بات چھپائی کہ تیرا باپ اور عائشہ صدیقہ ؓ کا باپ میرے بعد میری امت کے خلیفہ ہوں گے اور میمون بن مہران نے کہا اس بات کو پوشیدہ رکھا کہ ابوبکر میرے بعد میرے خلیفہ ہوں گے۔ ” فلما نبات بہ “ اس کی حفصہ ؓ نے عائشہ صدیقہ ؓ کو خبر دی۔ ” واظھرہ اللہ علیہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) کو اطلاع دی کہ حفصہ ؓ نے اس بات کی آگے خبر کردی ہے۔ ” عرف بعضہ “ عبدالرحمن سلمی اور کسائی رحمہما اللہ نے ” عرف “ راء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اس کے بعض فعل کو پہچان لیا جو اس نے آپ (علیہ السلام) کے راز کو کھولنے میں کیا۔ یعنی اس وجہ سے ناراض ہو اور اس کو اس کی جزاء دی۔ یہ قائل کے قول سے مشتق ہے ” لاعرفن لک مافعلت “ جب کوئی اس سے برا معاملہ کرے۔ یعنی میں تجھے اس کا بدلہ دوں گا اور آپ ﷺ نے یہ بدلہ دیا کہ ان کو طلاق دے دی۔ پس جب یہ بات عمر ؓ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا اگر آل خطاب میں کوئی خیر ہے تو رسول اللہ ﷺ تجھے طلاق نہ دیں گے۔ پس جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور آپ (علیہ السلام) کو حفصہ ؓ سیرجوع کرنے کا حکم دیا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہ جدائی اختیار کی اور ابراہیم ؓ کی والدہ ماریہ ؓ کی باری میں بیٹھے حتیٰ کہ تخییر کی آیت نازل ہوئی اور مقاتل ابن حیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حفصہ ؓ کو طلاق نہیں دی تھی۔ صرف طلاق کا ارادہ کیا تھا تو جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا کہ آپ (علیہ السلام) ان کو طلاق نہ دیں کیونکہ وہ کثرت سے روزے رکھنے والی اور کثرت قیام والی ہیں اور یہ جنت میں آپ (علیہ السلام) کی بیویوں میں سے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو طلاق نہیں دی اور دیگر حضرات نے ” عرف “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اس بات کے بعد حفصہ ؓ کو بتایا یعنی ان کو اس بعض قول کی خبر دی جو ان سے ہوا تھا۔ ” واعرض عن بعض “ یعنی وہ اس کو نہیں بتایا اور اس کی خبر بھی نہیں دی۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کریم کبھی تمام کوتاہی نہیں بتاتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” عرف بعضہ واعرض عن بعض “ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے جب حفصہ ؓ کے چہرے پر ناگواری دیکھی تو ان کو راضی کرنے کے لئے چپکے سے دو باتیں بتائیں۔ (1) لونڈی کو اپنے اوپر حرام کرنا اور ان کو خوشخبری دینا کہ آپ (علیہ السلام) کے بعد خلافت ابوبکر ؓ اور ان کے والد عمر ؓ میں ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس پر مطلع کیا تو حفصہ ؓ کو بتایا اور اس تھوڑی بات کی خبر دی جو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو بتائی تھی اور وہ لونڈی کو حرام کرنا ہے اور بعض سے اعراض کیا یعنی خلافت کے ذکر سے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ ناپسند سمجھا کہ یہ بات لوگوں میں پھیل جائے۔ ” فلما نباھا بہ “ یعنی نبی کریم ﷺ نے حفصہ ؓ کو خبر دی اس کی جو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) پر ظاہر کیا۔ ” قالت “ حفصہ ؓ نے کہا ” من انباک ھذا “ یعنی کس نے آپ (علیہ السلام) کو خبر دی ہے کہ میں نے راز افشاء کیا ہے۔ ” قال نبانی العلیم الخبیر “۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبرئیل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں اور (انکے علاوہ اور) فرشتے بھی مددگار ہیں

4 ۔” ان تتوبا الی اللہ “ یعنی نبی کریم ﷺ پر ایذاء کا تعارف کرنے سے۔ اس سے عائشہ صدیقہ اور حفصہ ؓ کو خطاب کیا ہے۔ ” فقد صغت قلوبکما “ یعنی حق سے مائل ہوگئے اور تم توبہ کی سزاوار ٹھہریں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں تمہارے دل مائل ہوئے کہ ان دونوں کا راز وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند کیا آپ ﷺ کے لونڈی سے اجتناب کرنے سے۔ بخاری وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مجھے حضرت عمر ؓ سے یہ بات دریافت کرنے کی بڑی خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی وہ دو بیویاں کون تھیں۔ جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : ” ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما “ (مگر موقع نہیں ملتا تھا) ایک بار جب حضرت عمر ؓ کو گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ حج کو گیا اور (راستہ میں قضائے حاجت کی ضرورت ہوئی اور) آپ ایک طرف کو مڑ گئے۔ میں بھی لوٹا لیے (راستہ چھوڑ کر) آپ کے ساتھ ایک طرف کو مڑ گیا۔ آپ ضرورت پوری کرکے واپس آئے تو میں نے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور اس وقت کہا امیر المومنین ! رسول اللہ ﷺ کی وہ دو بیویاں کون سی تھیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما “۔ فقد صغت قلوبکما سے کون دو عورتیں مراد ہیں حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ” ابن عباس ! ؓ تیرے اوپر تعجب ہے وہ دونوں عائشہ اور حفصہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) تھیں۔ “ پھر حضرت عمر ؓ نے پوری سرگزشت بیان کی اور فرمایا ” میں اور بنی امیہ بن زید کے قبیلہ کا ایک انصاری جو عوالی مدینہ کا رہنے والا تھا، باہم طے کرچکے تھے کہ باری باری ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہا کریں گے، ایک دن میں ایک دن وہ۔ میری باری کے دن جو وحی نازل ہو یا کوئی دوسرا اہم واقعہ ہو اس کی اطلاع میں اس انصاری کو دوں گا اور اس کی باری کے دن جو کچھ ہو وہ مجھ سے آکر بیان کردے۔ ہمارا قریش کا گروہ اپنی عورتوں پر غالب رہتا تھا لیکن جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے ایسے لوگ پائے جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں۔ ہماری عورتیں بھی انصاری عورتوں کی خو اور خصلت سیکھنے لگیں۔ ایک روز میں اپنی عورت پر چلایا، اس نے بھی ویسا ہی (چلا کر) جواب دیا، مجھے اس کا جواب دینا غیر معمولی معلوم ہوا۔ اس نے کہا ” آپ کو میرا جواب دینا کیوں ناگوار گزرا ؟ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں رسول اللہ ﷺ کو جواب دیتی ہیں بلکہ بعض عورتیں تو آج دن بھر شام تک حضور ( ﷺ ) کو چھوڑے رہی ہیں “ (یعنی حضور ﷺ سے کلام بھی نہیں کیا) ۔ میں یہ بات سن کر گھبرا گیا اور میں نے کہا : نامراد رہے گی جو ایسا کرے گی، اس کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور جاکر حفصہ ؓ کے پاس اترا اور پوچھا ” کیا تم میں سے کوئی رسول اللہ ﷺ سے اتنی ناراض ہوتی ہے کہ دن بھر شام تک حضور ﷺ کو چھوڑے رکھتی ہے ؟ “ حفصہ ؓ نے کہا ” ہاں ! “ میں نے کہا تو ناکام ونامراد ہوگی (اگر تونے ایسی حرکت کی) کیا تجھے ڈر نہیں لگتا کہ رسول اللہ ﷺ کی ناراضی سے اللہ ناراض ہوجائے گا پھر تو تباہ ہوجائے گی۔ (خبردار) ! رسول اللہ ﷺ سے زیادہ (مصارف) طلب نہ کرنا اور کسی معاملے میں حضور ﷺ کو جواب نہ دینا اور آپ ﷺ کو چھوڑے نہ رہنا (یعنی ترک کلام نہ کرنا) اور جو کچھ تجھے ضرورت ہو مجھ سے مانگ لینا اور تجھے اس بات پر رشک نہ ہونا چاہیے کہ تیری ہمسائی تجھ سے زیادہ چمکیلی اور رسول اللہ ﷺ کو تجھ سے زیادہ پیاری ہے، یعنی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اس زمانہ میں ہم باہم تذکرہ کرتے تھے کہ غسانیوں نے ہم سے لڑنے کے لئے اپنے گھوڑوں کی نعل بندی کرائی ہے۔ ایک روز انصاری (دوست) اپنی باری کے دن (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہا اور) عشاء کے وقت ہمارے پاس لوٹ کر آیا اور آتے ہی میرا دروازہ زور ، زور سے پیٹ ڈالا اور پوچھا : کیا عمر ؓ ہے ؟ میں گھبرا کر فوراً باہر نکلا۔ انصاری نے کہا : آج ایک عظیم حادثہ ہوگیا۔ میں نے کہا، کیا ہوا ؟ کیا غسان (شاہ شام) آگیا ؟ بولا اس سے بھی بڑا لمبا حادثہ ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیبیوں کو طلاق دے دی۔ میں نے کہا حفصہ ؓ ناکام ونامراد ہوگئی، میرا تو پہلے ہی خیال تھا کہ عنقریب (شاید) ایسا ہوگا، اس کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور جاکر فجر کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی۔ نماز کے بعد حضور ﷺ اپنے بالا خانے پر تشریف لے گئے اور وہاں سب سے کنارہ کش ہوگئے اور میں حفصہ کے پاس گیا، وہ رو رہی تھی۔ میں نے کہا : اب کیوں روتی ہے ؟ کیا میں نے تجھے پہلے ہی نہیں ڈرادیا تھا، کیا تم عورتوں کو رسول اللہ ﷺ نے طلاق دے دی ؟ بولی : مجھے نہیں معلوم کیا وجہ ہے، رسول اللہ ﷺ سب سے الگ بالا خانے پر گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔ میں حفصہ ؓ کے پاس سے نکل کر (مسجد میں) منبر کے پاس پہنچا۔ اس وقت منبر کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے رو رہے تھے۔ میں بھی ان کے پاس تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ گیا لیکن اندرونی غم کی وجہ سے مجھ سے وہاں زیادہ رکانہ گیا، فوراً بالا خانے کی طرف آیا جہاں رسول اللہ ﷺ گوشہ گیر تھے۔ میں نے غلام سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے عمر کے لئے اجازت کی درخواست کرو۔ غلام اندر گیا، رسول اللہ ﷺ سے کچھ بات کی اور پھر واپس آکر غلام نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے بات کی تھی اور تمہارا تذکرہ کردیا لیکن حضور ﷺ خاموش رہے۔ مجبوراً میں واپس آکر پھر منبر کے پاس ان لوگوں کے قریب بیٹھ گیا جو وہاں موجود تھے لیکن زیادہ دیر رکانہ گیا، پھر جاکر اسی غلام سے کہا : میرے لئے داخلہ کی اجازت کی استدعا کرو۔ اس نے اندر جاکر حضور ﷺ سے کچھ کلام کیا اور کچھ دیر کے بعد واپس آگیا اور بولا : میں نے حضور ﷺ سے تمہارے لئے داخلہ کی درخواست کی تھی مگر حضور ﷺ خاموش رہے۔ میں (مایوس ہوکر) لوٹ آیا اور انہی لوگوں میں جاکر بیٹھ گیا جو منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے لیکن کچھ ہی دیر کے بعد اندرونی احساس کے غلبہ کی وجہ سے اٹھا اور غلام سے جاکر کہا : عمر کے لئے اجازت کی درخواست کرو ۔ غلام اندر گیا اور کچھ دیر کے بعد لوٹ کر آیا اور کہا میں نے تمہارا ذکر کیا لیکن حضور ﷺ خاموش رہے۔ میں نے واپسی کے لئے پشت پھیری ہی تھی کہ اس غلام نے مجھے پکار کر کہا، رسول اللہ ﷺ نے تم کو داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ یہ بات سن کر میں اندر چلا گیا، میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ننگی چٹائی پر استراحت فرما ہیں جس کی وجہ سے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑگئے اور سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ ہے جس میں کھجور کے درخت کے ریشے بھرے ہوئے ہیں۔ میں نے سلام کیا اور کھڑے کھڑے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا آپ ﷺ نے اپنی بیبیوں کو طلاق دے دی ؟ حضور ﷺ نے میری طرف نظر اٹھائی اور فرمایا : نہیں اللہ اکبر ! رسول اللہ ﷺ نے اپنی جھجک کو دور کرنے کے لئے میں نے کھڑے ہی کھڑے عرض کیا۔ دیکھئے حضور ﷺ ہمارا قریش کا جتھا پہلے اپنی عورتوں پر غالب تھا لیکن مدینہ آنے کے بعد ہم نے ایسے لوگ پائے جن کی عورتیں ان پر غالب ہیں۔ رسول اللہ ﷺ یہ بات سن کر مسکرادیئے۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! ملاحظہ فرمائیے میں حفصہ ؓ کے پاس گیا تھا اور میں نے اس سے کہہ دیا کہ تجھے اس بات پر رشک نہ ہونا چاہیے کہ تیری ہمسائی تجھ سے زیادہ چمکیلی ہے رسول اللہ ﷺ کی چہیتی ہے، حضور ﷺ یہ بات سن کر دوبارہ مسکرادیئے۔ حضور ﷺ کو مسکراتے دیکھ کر میں بیٹھ گیا اور نظر اٹھا کر گھر کے اندر کی چیزوں کو دیکھا، خدا کی قسم تین کچے چمڑوں کے علاوہ میں نے کوئی چیز قابل دید نہیں پائی۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ( ﷺ ) اللہ سے دعا کیجئے کہ آپ ﷺ کی امت کو فراخی حاصل ہوجائے۔ روم اور فارس کو اللہ نے فراخ حال کیا ہے اور ان کو دنیا عطا کی ہے باوجودیکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ حضور ﷺ اس وقت تکیہ لگائے ہوئے تھے میری بات سنتے ہی بیٹھ گئے اور فرمایا : ابن خطاب ! کیا تم اس خیال میں ہو، ان لوگوں کو تو اللہ نے ان کی عمدہ (دل پسند) چیزیں دنیا میں دے دی ہیں (آخرت میں ان کا حصہ نہیں) میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ( ﷺ ) میرے لئے دعائے مغفرت فرمائیے۔ بس یہی بات تھی کہ حضور ﷺ اپنی بیبیوں سے الگ ہوکر گوشہ نشین ہوگئے تھے کیونکہ حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے حضور ﷺ کا راز کہہ دیا تھا۔ اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر عتاب کیا تھا، اس لئے حضور ﷺ اپنی بیبیوں سے سخت ناراض تھے اور عہد کیا تھا کہ میں ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جائوں گا۔ چناچہ جب انتیس راتیں گزر گئیں تو سب سے پہلے عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا یارسول اللہ ! ( ﷺ ) آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہینہ تک آپ ﷺ ہمارے (یعنی کسی بی بی کے) پاس تشریف نہیں لائیں گے لیکن آج تو انتیس کے بعد کی صبح ہے۔ میں برابر گن رہی ہوں، فرمایا : مہینہ انتیس کا (بھی ہوتا ہے) ہے۔ واقعی وہ مہینہ انتیس کا (ہوا) تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے اس کے بعد آیت تخییر نازل ہوئی۔ نزول آیت کے بعد سب سے پہلے حضور ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور (مجھے نکاح میں باقی رہنے یا آزاد ہوجانے کا اختیار دیا) میں نے حضور ﷺ (کے ساتھ رہنے) کو اختیار کیا۔ پھر دوسری بیبیوں کو بھی یہی اختیار دیا اور سب نے اسی بات کو اختیار کیا جو عائشہ صدیقہ ؓ نے اختیار کی تھی۔ (یعنی کیسا ہی فقروفاقہ ہو کسی بی بی نے حضور ﷺ سے جدا ہونے کو پسند نہیں کیا) بخاری کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا : میں تجھ سے ایک بات کہتا ہوں بغیر ماں، باپ کے مشورہ کے فوری عجلت میں اس کا جواب دینا تیرے لئے لازم نہیں ہے۔ حضور ﷺ جانتے تھے کہ میرے والدین رسول اللہ ﷺ سے جدا ہونے کا مجھے مشورہ نہیں دیں گے، اس کے بعد حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : ” یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن “ (دونوں آیات کے ختم تک حضور ﷺ نے تلاوت فرمائی) میں نے عرض کیا : اس معاملہ میں والدین سے کیا مشورہ کروں (اس کی کوئی ضرورت نہیں) میں اللہ کو اور اس کے رسول ( ﷺ ) کو اور دارآخرت (کی بھلائی) کو چاہتی ہوں۔ یہ حدیث بتارہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو ایک ماہ تک اپنی بیبیوں سے کنارہ کش رہے، اس کا سبب وہی افشاء راز تھا۔ حضرت حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کا راز کہہ دیا تھا۔ (وان تظاھر اعلیہ) یعنی اگر تم دونوں رسول اللہ ﷺ کے خلاف باہم تعاون کرلو گے جو رسول اللہ ﷺ کو ناگوار ہے۔ (فان اللہ ھو مولاہ) وہ اس کا ولی اور مددگار ہے۔ (وجبریل و صالح المومنین) اس سے مراد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر ؓ ہیں۔ کلبی کا بیان ہے کہ صالح المومنین سے مراد مخلص مومن جو منافق نہیں ہیں۔ (والملائ کہ بعد ذلک ظھیر) یعنی اللہ کی جبرئیل کی اور مومنین صالحین کی مدد کے بعد ملائکہ بھی اپنی پوری کثرت کے ساتھ مددگار ہیں۔
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اگر پیغمبر تم کو طلاق دیدیں تو عجب نہیں ان کا بروردگا رتمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دیدے مسلمان صاحب ایمان ' فرنبردار ' توبہ کرنے والیاں ' عبادت گزار ' روزہ رکھنے والیاں ' بن شوہر اور کنواریاں۔

5 ۔” عسیٰ ربہ ان طلقکن “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے اگر تمہیں اس کا رسول اللہ ﷺ طلاق دے دیں۔ ” ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن مسلمات “ جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ فرمانبردار ہوں گی۔ ” مومنات “ اللہ کی توحید کی تصدیق کرنے وای ہیں۔ ” قانتات “ فرمانبردار اور کہا گیا ہے وہ دعوت دینے والیاں اور کہا گیا ہے نماز پڑھناے والیاں۔ ” تائبات عابدات سائحات “ روزے رکھنے والیاں اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں ہجرت کرنے والیاں اور کہا گیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کریں گے جہاں آپ (علیہ السلام) چاہیں گے۔ ” ثیبات وابکار “ اور یہ قدرت کی خبر دی نہ کہ وجود بتایا ہے اس لئے کہ فرمایا ہے ” ان طلقکن “ اور تحقیق اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ آپ (علیہ السلام) ان کو طلاق نہ دیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم “ کی طرح ہے اور یہ بھی قدرت کی خبر دی ہے نہ یہ کہ کوئی ایسی امت موجود ہے جو محمد ﷺ کی امت سے بہتر ہے۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم) سے بچاو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر ہیں) جو ارشاد خدا انکو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں

6 ۔” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ یعنی ان چیزوں سے رکنے کے ساتھ جن سے تمہیں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور اس کی طاعت کے ساتھ عمل کرنے کے ساتھ ” واھلیکم نارا “ یعنی ان کو خیر کا حکم دو اور شر سے روکو اور ان کی تعلیم دو اور ان کو ادب سکھائو ان کو اس کے ذریعے آگ سے بچائو۔ ” وقودھا الناس والحجارۃ علیھا ملائکۃ “ یعنی جہنم کے داروغے ” غلاظ “ اہل نار پر سخت ہیں۔ ” شداد “ قوی ان میں سے ایک ایک دھکے سے ستر ہزار لوگوں کو جہنم میں داخل کردے گا اور وہ زبانیہ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں رحمت کو پیدا نہیں کیا۔ ” لایعصون اللہ ما امرھم ویفعلون مایومرون “۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

کافرو ! آج بہانے مت بناؤ جو عمل تم کیا کرتے تھے انہی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا

توبۃ نصوحا کی تفسیر 7 ۔” یایھا الذین………………تعملون
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اس دن خدا پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کریگا۔ بلکہ ان کا نور ایمان ان کے آگے اور داہنی طرف (روشنی کرتا ہوا) چل رہا ہوگا اور وہ خدا سے التجا کرینگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف فرما بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

8 ۔ یایھا الذین………توبۃ نصوحا۔ حسن اور ابوبکر رحمہما اللہ نے عاصم سے ” نصوحا “ نون کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر حضرات نے اس کے زبر کے ساتھ یعنی ” توبۃ “ ذات نصح جو صاحب توبہ کی خیر خواہی کرے جس چیز سے توبہ کی ہے اس کی طرف عود کو چھوڑنے کے ساتھ اور اس کے معنی میں اختلاف ہوا ہے۔ عمر، ابی ومعاذ فرماتے ہیں ” التوبۃ النصوح “ یہ کہ توبہ کرے پھر گناہ کی طرف نہ لوٹے۔ جیسا کہ دودھ تھن میں واپس نہیں جاتا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں وہ توبہ یہ ہے کہ بندہ گزشتہ پر شرمندہ ہو اور پختہ ارادہ ہو کہ دوبارہ گناہ نہ کرے گا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ زبان سے استغفار کرے اور دل سے نادم ہو اور بدن سے رک جائے۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں ایسی توبہ جس کے ذریعے تم اپنی خیر خواہی کرتے ہو۔ قرظی (رح) فرماتے ہیں اس کو چار چیزیں جمع کرتی ہیں، زبان سے استغفار کرنا اور بدن سے رک جانا اور دل میں اس کام کی طرف لوٹنے کو چھوڑنے کی نیت کرنا اور برے دوستوں کو چھوڑنا۔ ” عسیٰ ربکم ان یکفر عنکم سیاتکم ویدخلکم جنت تجری من تحتھا الانھر یوم لا یخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ “ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل کرنے کا عذاب نہ دیں گے۔ ” نورھم یسعیٰ بین ایدیھم وبایمانھم “ پل صراط پر ” یقولون “ جب منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا۔ ” ربنا انمم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شیء قدیر “۔
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اے پیغمبر کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

9 ۔” یایھا النبی…………………المصیر “ پھر اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں اور نیک عورتوں کی مثال بیان کی ہے۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

خدا نے کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے انکی خیانت کی تو وہ خدا کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونیوالوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہوجاؤ

10 ۔” ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امراۃ نوح “ اس کا نام واعلہ تھا۔ ” وامراۃ لوط “ اس کا نام واہلہ تھا۔ مقاتل (رح) نے کہا والعہ اور والھہ ” کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین “ اور یہ دونوں نوح اور لوط (علیہما السلام) ہیں۔ ” فخانتاھما “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا۔ ان دونوں کی خیانت یہ تھی کہ یہ دونوں عورتیں اپنے خاوند کے دین کے علاوہ دین پر تھیں۔ پس نوح (علیہ السلام) کی بیوی لوگوں کو کہتی تھی یہ مجنون ہیں اور جب نوح (علیہ السلام) پر کوئی شخص ایمان لاتا تو وہ ” جبابرۃ “ کو بتادیتی اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی تو وہ لوط (علیہ السلام) کے مہمان پر اپنی قوم کی رہنمائی کرتی تھی۔ جب رات کو کوئی مہمان آجاتا تو آگ روشن کردیتی اور جب دن کو کوئی مہمان آتا تو دھواں اڑاتی تاکہ اسکی قوم کو پتہ چل جائے کہ کوئی مہمان آیا ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ان دونوں نے نفاق کو چھپایا اور ایمان کو ظاہر کیا۔ ” قلم یغنیا عنھما من اللہ شیئا “ وہ دونوں اپنے نبی (علیہ السلام) ہونے کے باوجود اپنی بیویوں سے عذاب الٰہی کو دور نہ کرسکے ” وقیل ادخلا النار مع الداخلین “ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ہر اس شخص کی امید ختم کردی ہے جو گناہ کا ارتکاب کرتا ہے کہ اس کو اس کے غیر کی نیکی نفع دے گی۔ پھر خبر دی کہ کسی اور کی معصیت بندہ کو نقصان نہیں دے گی جب وہ خود فرمانبردار ہو۔
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور مومنوں کے لئے (ایک) مثال (تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے خدا سے التجا کی کہ اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے اعمال سے نجات بخش اور ظالم لوگوں کے ہاتھ سے مجھ کو مخلصی عطا فرما۔

11 ۔” پھر فرمایا ” وضرب اللہ مثلا للذین امنوا امراۃ فرعون “ وہ آسیہ بنت مزاحم ہے۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں جب موسیٰ (علیہ السلام) جادوگروں پر غالب آگئے تو فرعون کی بیوی ایمان لے آئی جبکہ فرعون پر اس کا اسلام ظاہر ہوا تو اس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پائوں میں چار میخیں ٹھونکوادیں اور اس کو دھوپ میں ڈلوادیا۔ سلمان (رح) فرماتے ہیں کہ فرعون کی بیوی سورج کے ذریعے عذاب دی جاتی تھی۔ پس جب وہ وہاں سے جاتے تو اس پر فرشتے سایہ کرتے۔ ” اذ قالت ربی ابن لی عندک بینا فی الجنۃ “ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جنت کا گھر اس کے سامنے مکشوف کردیا حتیٰ کہ اس نے اس کو دیکھ لیا اور قصہ میں یہ ہے کہ فرعون نے حکم دیا کہ اس پر بڑی چٹان پھینکی جائے جب وہ لوگ اس کے پاس چٹان لائے تو اس نے کہا ” رب ابن لی عندک بینا فی الجنۃ “ تو اس نے جنت میں موتی کا بنا اپنا گھر دیکھ لیا اور اس کی روح پرواز کرگئی ۔ پھر چٹان ایسے جسم پر پھینکی گی جس میں روح نہ تھی اور اس کو کوئی تکلیف نہ ہوئی اور حسن اور ابن کیسان رحمہما اللہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی کو اوپر اٹھالیا، پس وہ جنت میں کھاتی پیتی ہیں۔ ” ونجنی من فرعون وعملہ “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ” وعملہ “ یعنی شرک سے اور ابو صالح نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ” وعملہ “ یعنی اس کے جماع سے ۔ ” ونجنی من القوم الظالمین “ کافر لوگوں سے۔