67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة الملک مکی ہے اور اس کی تیس 30 آیات ہیں
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

1 ۔” تبارک الذی بیدہ الملک وھو علی کل شیء قدیر۔
Ayah 67:3

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے

2 ۔” الذی خلق الموت والحیاۃ “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ دنیا میں موت اور آخرت میں زندگی مراد ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں انسان کی موت اور اس کی زندگی دنیا میں مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زندگی اور فناء کا گھر بنایا اور آخرت کو جزاء اور بقاء کا گھر بنایا۔ کہا گیا ہے موت کو مقدم کیا ہے اس لئے کہ وہ قہر کے زیادہ قریب ہے اور کہا گیا ہے اس کو مقدم کیا ہے اس لئے کہ وہ زیادہ مقدم ہے اس لئے کہ تمام اشیاء ابتداء میں موت کے حکم میں تھیں جیسے نطفہ، مٹی اور ان دونوں کی مثل۔ پھر ان پر زندگی واقع ہوئی اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ والے مینڈھے کی صورت پر پیدا کیا جس چیز پر گزرتا اور جو چیز اس کی بدبوسونگھ لیتی مرجاتی اور زندگی کو ایک چتکبرے رنگ کی گھوڑی کی صورت پر پیدا کیا۔ یہ وہی ہے جس پر جبرئیل (علیہ السلام) اور تمام انبیاء (علیہم السلام) سواری کرتے تھے۔ یہ جس چیز پر گزرتی اور جو چیز اس کی خوشبو سونگھتی وہ زندہ ہوجاتی۔ یہ وہی گھوڑی ہے جس کے نشان قدم سے سامری نے ایک مٹھی لی تھی۔ پھر بچھڑے پر ڈالی تو وہ زندہ ہوگیا۔ ” لیبلوکم “ زندگی وموت کے درمیان ” ایکم احسن عملاً “ ابن عمر ؓ سے مرفوع روایت ہے کہ احسن عملاً اچھی عقل والا اور اللہ کے محارم سے پرہیز کرنے والا اور اللہ کی فرمانبرداری میں جلدی کرنے والا اور فضیل بن عیاض (رح) فرماتے ہیں احسن عملاً اخلاص اور درست عمل والا اور فرمایا کہ عمل نہیں قبول کیا جاتا جب تک خالص دنیا سے زیادہ بےرغبت اور اس کو زیادہ چھوڑنے والا ہے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں بلویٰ کا لفظ اسی پر تب واقع ہوتا ہے دونوں کے درمیان ضمیر لائی جائے تو کہے گا ” بلوتکم لانظر ایکم اطوع “ اور اس کی مثل ” سلھم ایھم بذلک ہے یعنی ” سلھم وانظیر ایھم “ پس اگر ابتداء کی بناء پر رفع دیا جائے اور احسن اس کی خبر ہے۔ ” وھوالعزیز “ اپنے نام لینے میں اس سے جس نے اس کی نافرمانی کی ہے۔ ” الغفور “ اس کے لئے جس نے اس کی طرف توبہ کی ہے۔
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

اس نے سات آسمان اوپر تلک بنائے (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے ؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟

3 ۔” الذی خلق سبع سماوات طباقا “ تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر ” ماتریٰ فی خلق الرحمن تفوت “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ ” من تفوت “ وائو کی شد کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے وائو کی کیف اور اس سے پہلے الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں جیسے تحمل اور تحامل اور ” تضھر “ اور تظاہر اور اس کا معنی اے آدم تو رحمن کی تخلیق میں کوئی کجی وٹیڑھا پن اور اختلاف تنا قض نہ دیکھے گا بلکہ وہ تو بالکل سیدھی برابر ہے اور اس کی اصل سے ہے۔ وہ یہ کہ اس میں بعض بعض سے فوت ہوجائے اور اس کی قلت استواء کی وجہ سے۔ ” فارجع البصر ، نظر ۔
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

پھر دوبارہ (سہ بارہ) نظر کر تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹے گی۔

4 ۔” ثم ارجع البصر کر تین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ ایک مرتبہ کے بعد ” ینقلب “ پھرے گی اور لوٹے گی۔ ” الیک البصر خاسئا “ ذلیل جو اس کا مقصد ہوگا اس کو نہ دیکھ سکے گی۔ ” وھو حسیر “ منقطع ہونے والی رات کی طرح نہیں پایا اس کو جو طلب کیا اور کعب (رح) سے روایت کیا گیا ہے انہوں نے فرمایا دنیا کا آسمان موج مکفوف ہے اور دوسرا سفید موتی کا اور تیسرا لوہے کا اور چوتھا زرد رنگ کا ہے اور کہا تانبے کا ہے اور پانچواں چاندی کا اور چھٹاسونے کا اور ساتواں سرخ یا قوت کا اور ساتویں آسمان سے ساتویں حجاب تک نور کے صحراء ہیں۔
Ayah 67:6

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے

5 ۔” ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح “ مراد زمین سے قریب والا ہے جس کو لوگ دیکھتے ہیں اور اس کا قول ” بمصابیح “ ستارے اس کا واحد مصباح ہے اور وہ چراغ ہے ستارے کا نام چراغ رکھا گیا۔ اس کے روشنی دینے کی وجہ سے ” وجعلناھا رجوما “ تیر پھینکنے کے آلے ہیں۔ ” للشیاطین “ جب وہ بات کو چوری سننے لگیں۔ ” واعتدنا لھم “ آخرت میں۔ ” عذاب السعیر “ بھڑکائی ہوئی آگ۔
Ayah 67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

6 ۔” وللذین کفروا بربھم عذاب جھنم وبئس المصیر۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

جب وہ اس میں ڈالے جائیں کے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔

7 ۔” اذا القوا فیھا سمعوا لھا شھیقا “ اور یہ گدھے کے ڈھینچوں کرنے کی ابتداء ہے اور یہ قبیح ترین آواز ہوتی ہے۔ ” وھی تفور “ ان کے ساتھ بہے گی جیسے بہت زیادہ پانی تھوڑے سے دانوں کے ساتھ بہتا ہے۔
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنیولا نہیں آیا تھا ؟

8 ۔” تکاد تمیز “ پھٹ جائے۔ ” من الغیظ “ ان پر غصہ کی وجہ سے ۔ ابن قنیبہ (رح) فرماتے ہیں قریب ہے کہ کفار پر غصہ کی وجہ سے پھٹ جائے۔ ” کلما القی فیھا فوج “ ان میں سے ایک جماعت ” سالھم خزنتھا “ ڈانٹ کا سوال ” الم یاتکم نذیر “ رسول جو تمہیں ڈراتے ۔
Ayah 67:10

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو۔

9 ۔” قالوا بلیٰ قد جاء نا نذیر فکذبنا وقلنا “ رسولوں کو ” مانزل اللہ من شیء ان انتم الا فی ضلال کبیر “۔
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے

10 ۔” وقالوا لو کنا نسمع “ رسولوں سے جو وہ ہمارے پاس لائے ہیں۔ ” اونعقل “ ان سے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اگر ہم ہدایت کو سنتے یا اس کو سمجھتے پھر اس پر عمل کرتے۔ ” ما کنا فی اصحاب السعیر “ زجاج (رح) فرماتے ہیں اگر ہم سنتے اس شخص کی طرح سنتے یا اس کو سمجھتے پھر اس پر عمل کرتے۔ ” ماکنا فی اصحاب السعیر “ زجاج (رح) فرماتے ہیں اگر ہم سنتے اس شخص کی طرح سننا جو غور وفکر کرتا ہے یا ہم سمجھتے اس کی طرح جو شعور وتمیز رکھتا ہے تو ہم جہنم والوں میں نہ ہوتے۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے سو دوزخیوں کیلئے (رحمت خدا سے) دوری ہے

11 ۔” فاعترفوا بذنبھم فسحقا “ دوری ہے۔ ” لاصحاب السعیر “ ابوجعفر اور کسائی رحمہما اللہ نے ” فسحقا “ حاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے حاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں الرعب اور الرعب اور السحت اور السحت کی طرح۔
Ayah 67:13

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

12 ۔” ان الذین یخشون ربھم بالغیب لھم مغفرۃ واجر کبیر۔
Ayah 67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔

13 ۔” واسرواقولکم اواجھروا بہ انہ علیم بذات الصدور “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو آپ (علیہ السلام) کو جبرئیل (علیہ السلام) خبر کردیتے تھے تو وہ آپس میں کہتے آہستہ بات کرو تاکہ محمد ﷺ کا خدا نہ سن لے۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آٰگاہ ہے

14 ۔” الا یعلم من خلق “ کیا نہیں جانتا دلوں کے حال جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ ” وھوا للطیف الخیر “ اس کا علم لطیف ہے دلوں میں اور دلوں میں راز اور وسوسے ہیں ان سے باخبر ہے اور کہا گیا ہے ” من “ مخلوق کی طرف لوٹتا ہے۔ یعنی کیا اللہ اپنی مخلوق کو نہیں جانتا۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔

15 ۔” ھوالذی جعل لکم الارض ذلولا “ نرم کہ اس کی نرمی کی وجہ سے اس پر چلنا مشکل نہ ہو۔ ” فامشوا فی ماکبھا “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کے پہاڑوں میں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں اس کے ٹیلوں میں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کے راستے اور وادیوں میں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اس کے سبل میں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کے اطراف میں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کے ارد گرد۔ فراء فرماتے ہیں اس کے جوانب میں اور اصل کلمہ میں جانب ہے اور اس سے ” منکب الرجل “ آدمی کا کندھا ” الریح النکبائ “ اور ” تنکب فلان “ کے جملے ہیں۔ ” وکلوا من رزقہ “ اس میں سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین میں رزق پیدا کیا ہے۔ ” والیہ النشور “ یعنی اور اسی کی طرف تم اپنی قبروں سے اٹھائے جائو گے۔ (فستعلمون) وہ آخرت کے دن یا موت کے وقت جان لیں گے (کیف نذیر) میرا ڈرانا کیسا ہوگا جب وہ اللہ کے عذاب کو دیکھ لیں گے۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

16 ۔” پھر کفار کو ڈراتے ہوئے فرمایا ” ء امنتم من فی السمائ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے عذاب سے جو آسمان میں ہے اگر تم اس کی نافرمانی کرو۔ ” ان یخسف لکم الارض فاذاھی تمور “ حسن (رح) فرماتے ہیں اپنے اہل کے ساتھ حرکت کرے گی اور کہا گیا ہے ان کو گرا دے گی اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دھنسانے کے وقت زمین کو حرکت دیتے حتیٰ کہ وہ ان کو نیچے ڈال کر ان پر بلند ہوجاتی ہے اور لوگ ان پر گزرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ماریمور جب آئے اور جائے۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے

17 ۔” ام امنتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا “ ہوا پتھروں والی جیسا کہ قوم لوط (علیہ السلام) کے ساتھ کیا گیا۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا۔

18 ۔” ولقد کذب الذین من قبلھم “ یعنی گزشتہ امتوں کے کفار نے۔ ” فکیف کان نکیر “ یعنی میرا ان پر عذاب کے ذریعے انکار۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیٹر بھی لیتے ہیں ؟ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے

19 ۔” اولم یروا الی الطیر فوقھم صافات “ جو اپنے پروں سے ہوا میں صف بناتے ہیں۔ ” ویقبضن “ اپنے پروں کو پھیلانے کے بعد۔ ” ما یمسکھن “ پر پھیلانے اور سکیٹر نے کی حالت میں گرنے سے۔ ” الاالرحمن انہ بکل شیء بصیر “۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے کافر تو دھوکے میں ہیں

20 ۔” امن ھذا الذی ھو جندلکم “ استفہام انکاری ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کون سا لشکر ہے تمہارے پاس۔ ” ینصرکم من دون الرحمن “ جو تم کو اس کے عذاب سے روکے اور تم سے اس کو دور کرے جو وہ تمہارے برے میں ارادہ کرے۔ ” ان الکافرون الافی غرور “ یعنی شیطان کے دھوکے میں وہ ان کو دھوکہ دے رہا ہے کہ ان پر عذاب نہ آئے گا۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے ؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں

21 ۔” امن ھذا الذی یرزقکم ان امسک رزقہ “ یعنی کون ہے جو تمہیں بارش دے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ تم سے بارش کو روک لے۔ ” بل لجوا فی عتو “ گمراہ میں سرگرداں ہیں۔ ” ونفور “ حق سے دور ہونا۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو

22 ۔” پھر مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا ” افمن یمشی مکبا علی وجھہ “ اپنے سر کو گمراہی اور جہالت میں جھکائے ہوئے آنکھوں اور دل کا اندھا دائیں بائیں نہ دیکھتا ہو اور وہ کافر ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں دنیا میں معاصی پر سوار۔ پس اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ کے بل جمع کریں گے۔ ” اھدیٰ امن یمشی سویا “ معتدل راستے کو دیکھتا ہو اور وہ ” علیٰ صراط مستقیم “ اور وہ مومن ہے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں قیامت کے دن سیدھا چلے گا۔
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

کہہ دو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو۔

23 ۔” قل ھوالذی انشاکم وجعل لکم السمع والابصار والابصار والا فئدۃ قلیلا ما تشکرون “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ ان نعمتوں کے رب کا شکر نہیں کرتے۔
Ayah 67:25

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

کہہ دو وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے۔

24 ۔” قل ھوالذی ذراکم فی الارض والیہ تحشرون۔
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پوری) ہوگی ؟

25 ۔” ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صادقین۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنا دینے والا ہوں۔

26 ۔” قل انما العلم عند اللہ وانما انا نذیر مبین
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

تو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے۔

27 ۔” فلما رائوہ “ یعنی آخرت میں عذاب کو اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے قول پر اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں بدر میں عذاب کو۔ ” زلقۃ “ یعنی قریب اور یہ اسم اس کے ساتھ مصدر کو موصوف کیا جاتا ہے۔ اس میں مذکر اور مونث اور واحد ، تثنیہ اور جمع برابر ہیں۔ ” سیئت وجوہ الذین کفروا “ سیاہ ہوگئے ۔ ان پر غم چھا گیا۔ پس معنی یہ ہے کہ ان کے چہرے سیاہی کی وجہ سے انتہائی بدصورت ہوگئے ہوں گے۔ کہا جاتا ہے ” ساء الشیء یسوء فھو سییئ “ جب بدصورت ہو اور ” سییء یسائ “ جب قبیح ہو۔ ” وقیل “ اس کو یعنی ان کو داروغ کہیں گے۔ ” ھذا “ یعنی یہ عذاب۔ ” الذی کنتم بہ تدعون “…” تفتعلون “ کے وزن پر دعاء سے ہے۔ یعنی تم تمنا ودعا کرتے تھے کہ وہ تمہارے لئے بنایا جائے اور یعقوب (رح) نے تدعون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ قتادہ (رح) کی قرات ہے اور ان دونوں کا معنی ایک ہے جیسے ” تذکرون وتذکرون “۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے

28 ۔” قل “ اے محمد ! ﷺ مشرکین مکہ کو جو آپ (علیہ السلام) کی ہلاکت کی تمنا کرتے ہیں ” ارایتم ان اھلکنی اللہ ومن معی “ مومنین میں سے۔ ” اور حمنا “ پس ہم کو باقی رکھا ہماری مدتوں کے ختم ہونے تک۔ ” فمن یجیر الکافرین من عذاب الیم “ کیونکہ وہ ان پر واقع ہونے والا ہے لامحالہ اور کہا گیا ہے اس کا معنی کیا تم دیکھتے ہو اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہلاک کردے۔ پھر مجھے عذاب دے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں یا ہم پر رحم کرے۔ پس ہماری مغفرت کردے۔ پس ہم اپنے ایمان کے باوجود خوفزدہ ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہ کردے ۔ اس لئے کہ اس کا حکم ہم میں نافذ ہونے والا ہے۔ پس کافروں کو کون پناہ دے گا۔ پس کون تمہیں پناہ دے گا اور تمہیں اس کے عذاب سے روکے گا حالانکہ تم تو کافر ہو اور یہ ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہ (جو خدائے) رحمن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائیگا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا

29 ۔” قل ھوالرحمن “ جس کی ہم عبادت کرتے ہیں۔ ” آمنا بہ وعلیہ توکلنا فستعلمون “ کسائی (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ” من ھو فی ضلال مبین “ یعنی عنقریب تم عذاب کے معائنہ کے وقت جان لو گے کون گمراہ ہے ہم یا تم ؟