Ayah 68:1سورة القلم
مکی ہے اور اس کی باون آیات ہیں
Ayah 68:2سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا گیا
1 ۔” نٓ“ اس میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ وہ مچھلی ہے جس کی پیٹھ پر زمین ہے اور یہ مجاہد اور مقاتل ، سدی اور کلبی رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ابو ظبیان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں پہلا وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ قلم ہے۔ پس وہ جاری ہوا ہر اس چیز کے ساتھ جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر نون کو پیدا کیا، پھر زمین کو اس کی پیٹھ پر بچھادیا۔ پس نون نے حرکت کی تو زمین ڈگمگائی تو اس کو پہاڑوں کے ذریعے جمایا گیا اور بیشک پہاڑ زمین پر فخر کرتے ہیں۔ پھر ابن عباس ؓ نے پڑھا ” نٓ والقلم وما یسطرون “ اور اس کے اسم میں اختلاف ہوا ہے۔ پس کلبی اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” بلھوث “ ہے اور راوی کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا اور اس کو سرسبز کیا تو عرش کے نیچے سے ایک فرشتہ بھیجا جو زمین پر اتر ا حتیٰ کہ سات زمینوں کے نیچے داخل ہوگیا۔
پس اس کو اپنے کندھوں پر رکھ لیا۔ ایک ہاتھ پر مشرق اور دوسرے پر مغرب دونوں ہاتھ پھیلالیے، سات زمینوں کو قبضہ میں لیا حتیٰ کہ ان کو ضبط کرلیا۔ پس اس کے قدموں کے لئے کوئی ٹھہرنے کی جگہ نہ تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس پر فردوس سے ایک بیل اتارا اس کے دس سینگ اور چالیس ہزار پائوں تھے اور فرشتے کے دونوں پائوں کا قرار اس کی کوہان پر کردیا۔ پھر بھی قدم نہ جم سکے تو اللہ تعالیٰ نے سبز یاقوت لیا، فردوس کے اعلیٰ درجہ سے اس کی موٹائی پانچ سو سال کی مسافت ہے تو اس کو بیل کی کوہان سے کانوں کے درمیان رکھ دیا تو فرشتے کے پائوں اس پر جم گئے اور اس بیل کے سینگ زمین کے اطراف سے نکلے ہوئے ہیں اور اس کے نتھنے سمندر میں ہیں۔ پس وہ ہر دن ایک سانس لیتا ہے۔ پس جب وہ سانس خارج کرتا اور اندر لیتا ہے تو سمندر میں مدوجزر ہوتا ہے۔ جب سانس خارج ہوتا ہے تو مد اور جب اندر کھینچتا ہے تو جزر ہوتا ہے۔ پس بیل کے پائوں کے لئے کوئی ٹکنے کی جگہ نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے ایک چٹان پیدا کی سات آسمانوں اور سات زمینوں کی موٹائی جیسی تو بیل کے پائوں اس پر جم گئے۔ یہ وہی چٹان ہے جس کے بارے میں لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو کہا تھا ” فتکن فی صخرۃ “ اور اس چٹان کے لئے جائے قرار نہ تھی تو اللہ تعالیٰ نے نون کو پیدا کیا اور وہ بڑی مچھلی ہے پھر چٹان کو اس کی پیٹھ پر رکھا اور اس کا تمام جسم خالی ہے اور مچھلی سمندر پر اور سمندر ہوا کی پشت پر اور ہوا قدرت پر ہے۔ کہا گیا ہے پس تمام دنیا اس کے ساتھ جو اس پر ہے دو حرف ہیں جن کو جبار نے کہا ” کونی “ (توہوجا)” فکانت “ (پس وہ ہوگئی) ۔
کعب احبار (رح) فرماتے ہیں بیشک شیطان نے اس مچھلی کو جس کی پیٹھ پر زمین ہے اس کو پیغام بھیجا اور وسوسہ ڈالا اور اس کو کہا اے لوثیا کیا تو جانتی ہے کہ تیری پیٹھ پر امتوں اور چوپایوں ، درختوں اور پہاڑوں میں سے کیا کیا ہے اگر تو ان کو جھاڑ دے تو اپنی پیٹھ سے گرادے گی تو لوثیا نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک چوپایہ بھیجا جو اس کے نتھنے میں داخل ہوگیا اور اس کے دماغ تک پہنچ گیا تو مچھلی چلائی اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نکلنے کی اجازت دے دی۔ کعب (رح) فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ اس کی طرف دیکھتی ہے اور وہ اس کی طرف دیکھتا ہے۔ اگر وہ کسی چیز کا ارادہ کرے تو وہ اس طرف لوٹ آتی ہے جیسے پہلے تھی اور ان میں سے بعض نے کہا ہے بیشک نون رحمن کے حروف میں سے آخری ہے۔
اور یہی عکرمہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور حسن، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ نے فرمایا ہے نون دوات ہے اور کہا گیا ہے یہ قسم ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی ہے اور کہا گیا ہے سورة کی ابتداء ہے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں اس کے نام ناصر اور نور کا شروع ہے اور محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی مدد کرنے کی قسم کھائی ہے۔
” والقلم “ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر کو لکھا اور یہ نور کا قلم ہے اس کا طول آسمانوں و زمین کے درمیان جتنا ہے اور کہا جاتا ہے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے وہ قلم ہے اور اس کی طرف دیکھا تو دو حصے ہوگئے۔ پھر فرمایا تو لکھ اس کو جو قیامت تک ہونے والا ہے تو اس نے لوح محفوظ پر اس کو لکھ دیا۔ ” وما یسطرون “ لکھتے ہیں یعنی نگرانی کرنے والے فرشتے جو بنی آدم کے اعمال لکھتے ہیں۔
Ayah 68:32 ۔” ماانت بنعمۃ “ نبوت کی۔ ” ربک بمجنون “ یہ ان کے قول ” یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون “ کا جواب ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے نون اور قلم کی قسم کھائی ہے اور جو اعمال لکھے جاتے ہیں۔ پس فرمایا ” ماانت بنعمۃ ربک “ تیرے رب کی نبوت کے ساتھ۔ ” بمجنون “ یہ جواب قسم ہے۔ یعنی بیشک آپ مجنون نہیں ہوسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) پر نبوت و حکمت کا انعام کیا ہے اور کہا گیا ہے آپ کے رب کی عصمت کی وجہ سے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ اس طرح ہے جو کہا جاتا ہے ” ما انت بمجنون والحمد للہ “ اور کہا گیا ہے اس کا معنی ” ماانت بمجنون “ آپ (علیہ السلام) مجنون نہیں ہیں اور نعمت آپ کے رب کے لئے ہے۔ جیسے ان کا قول ” سبحانک اللھم وبحمدک “ یعنی ” والحمدلک “ تیرے لئے۔
Ayah 68:43 ۔” وان لک لاجرا غیر ممنون “ یعنی کم نہ ہوگا اور نہ ختم ہوگا آپ ﷺ کے ان کی افتراء پردازی پر صبر کی وجہ سے۔
Ayah 68:5وانک لعلی خلق عظیم کی تفسیر
4 ۔” وانک لعلی خلق عظیم “ ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں عظیم دین پر ہیں نہ اس سے زیادہ کوئی دین مجھے محبوب ہے اور نہ میرے ہاں پسندیدہ ہے اور وہ دین اسلام ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ قرآن کے آداب ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ آپ ﷺ کے اخلاق قرآن ہیں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ کے اوامر کو بجا لاتے تھے اور اللہ کی نہی سے رکتے تھے اور معنی یہ ہے کہ بیشک آپ ﷺ ان اخلاق پر ہیں جس کا آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حکم دیا ہے۔
آپ ﷺ کے حسن خلق کے متعلق احادیث مبارکہ
اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کے اخلاق کو عظیم قرار دیا ہے اس لئے کہ آپ ﷺ نے اللہ کی تادیب پر عمل کیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنے قول ” خذالعفو “ میں دی۔ جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے مکارم اخلاق کو مکمل کرنے کے لئے بھیجا ہے اور اچھے افعال کے مکمل کرنے کے لئے۔
براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ حسین چہرے والے اور سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے، بہت زیادہ اور چھوٹے قد کے بھی نہ تھے۔ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی۔ آپ ﷺ نے مجھے کبھی اف نہیں کہا اور نہ کسی کام کے کرنے پر مجھے یہ کہا کہ تونے یہ کیوں کیا ہے اور نہ کسی چیز کی وجہ سے جس کو میں نے چھوڑ دیا ہو اور رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے اخلاق کے اعتبار سے سب سے زیادہ اچھے تھے اور میں نے کبھی کسی ریشم اور کسی اور چیز کو نہیں چھوا جو آپ (علیہ السلام) کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور نہ میں نے کستوری اور کوئی خوشبو ایسی سونگھی جو رسول اللہ ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبودار ہو۔
عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فحش گو اور بدکلامی کرنے والے نہ تھے اور آپ (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے بہترین لوگ تم میں اچھے اخلاق والے ہیں۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے سامنے مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستے میں آئی اور کہا یارسول اللہ ! ﷺ مجھے آپ (علیہ السلام) سے ایک کام ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں کی ماں ! تو مدینہ کی گلیوں میں سے جس میں جا بیٹھ میں تیرے ساتھ بیٹھ جائوں گا۔ راوی کہتے ہیں اس نے ایسا کیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے پاس بیٹھ گئے حتیٰ کہ اس کی جو ضرورت تھی وہ پوری کی۔
انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں اگر اہل مدینہ کی لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کو پکڑ کر جہاں چاہتی آپ (علیہ السلام) کے ساتھ چلتی ۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مرد کو مصافحہ کرتے تو اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہ کھینچتے جب تک وہ خود اپنا ہاتھ نہ کھینچ لے اور اپنے چہرے کو اس کے چہرے سے نہ پھیرتے حتیٰ کہ وہ خود اپنے چہرے کو پھیر لے اور آپ (علیہ السلام) کو کبھی کسی سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی طرف ٹانگیں پھیلائے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو نہیں مارا مگر یہ کہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور نہ کسی خادم کو مارا اور نہ کسی بیوی کو۔ انس ؓ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا۔ آپ (علیہ السلام) پر نجرانی چادر تھی موٹے کنارے والی تو آپ (علیہ السلام) کو ایک بدو ملا، اس نے آپ (علیہ السلام) کی چادر پکڑ کر زور سے کھینچی اور آپ ﷺ بدو کے سینے کی طرف لوٹ گئے حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے کندھے کی جانب دیکھا کہ اس پر چادر کے کنارے نشان ڈال چکے ہیں اس کی سختی سے کھینچنے کی وجہ سے۔ پھر اس نے کہا اے محمد ! ﷺ میرے لئے اس مال میں سے حکم کریں جو آپ (علیہ السلام) کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے پھر ہنسے اور اس کے لئے عطاء کا حکم دیا۔
ابوالدرداء ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ سب سے وزنی چیز جو مومن کے میزان میں رکھی جائے گی قیامت کے دن وہ اچھے اخلاق ہیں اور اللہ تعالیٰ فحش گو، بیہودہ بات کرنے والے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو فرمایا کیا تم جانتے ہو سب سے زیادہ کون سی چیز ہے جو لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم میں دو جوف (سوراخ) داخل کریں گے شرمگاہ اور منہ۔ کیا تم جانتے ہو لوگوں کو سب سے زیادہ کیا چیز جنت میں داخل کرے گی ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک سب سے زیادہ جو چیز لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی وہ اللہ سے ڈرنا اور اچھے اخلاق ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ بیشک مومن اپنے اچھے اخلاق کے ذریعے رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کے درجہ کو پالیتا ہے۔
Ayah 68:65 ۔” فستبصرو یبصرون “ پس عنقریب اے محمد ! ( ﷺ ) آپ دیکھ لیں گے اور وہ یعنی اہل مکہ بھی دیکھ لیں گے جب ان پر عذاب اترے گا۔
Ayah 68:76 ۔” بایکم المفتون “ کہا گیا ہے اس کا معنی تم میں سے کون مجنون ہے۔ پس مفتون مفعول کے وزن پر مصدر کے معنی میں ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے مابفلان مجلود و معقول یعنی سمجھ وعقل نہیں ہے اور یہ ضحاک (رح) کے قول کا معنی ہے اور عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور کہا گیا ہے کہ باء فی کے معنی میں ہے اس کا مجاز ” فستبصرو یبصرون “ کہ دونوں فریقوں میں سے کون مجنون ہے آپ (علیہ السلام) کے فریق میں یا ان کے فریق میں اور کہا گیا ہے ” بایکم المفتون “ اور وہ شیطان ہے جنون کے ذریعے فتنہ میں ڈالتا ہے اور یہ مجاہد (رح) کا قول ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے باء اس میں زائد ہے اس کا معنی ” ایکم المفتون ؟ “ یعنی وہ جنون اس کو مجنون کے ذریعے آزمایا گیا ہے اور یہ قتادہ (رح) علیہ کا قول ہے۔
Ayah 68:87 ۔” ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھواعلم بالمھتدین۔
Ayah 68:98 ۔” فلا تطع المکذبین “ یعنی مشرکین مکہ کو کیونکہ وہ آپ (علیہ السلام) کو اپنے آباء و اجداد کے دین کی طرف بلاتے تھے تو آپ (علیہ السلام) کو ان کی اطاعت کرنے سے روک دیا ہے۔
Ayah 68:109 ۔” ودوا لو تدھن فیدھنون “ ضحاک (رح) فرماتے ہیں اگر آپ (علیہ السلام) کافر ہوجائیں (نعوذ باللہ) تو وہ بھی کافر ہوجائیں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اگر آپ (علیہ السلام) ان کے لئے نرم ہوجائیں تو وہ آپ (علیہ السلام) کے لئے نرم ہوجائیں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اگر آپ ان سے اپنے دین میں نرمی کریں تو وہ اپنے دین میں نرمی کریں گے۔ زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں اگر آپ ” لو تنافق وترائی فینافقون “ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں انہوں نے ارادہ کیا کہ کچھ عرصہ آپ (علیہ السلام) ان کے معبودوں کی عبادت کریں اور وہ کچھ عرصہ اللہ کی عبادت کریں۔
Ayah 68:1110 ۔” ولا تطع کل حلاف “ کثرت سے جھوٹی قسمیں اٹھانے والا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی ولید بن مغیرہ۔ اور کہا گیا ہے اسود بن عبدیغوث اور عطا (رح) فرماتے ہیں اخنس بن شریق ” مھین “ کمزور حقیر۔ کہا گیا ہے وہ فعیل کا وزن ہے ” مھانۃ “ سے اور وہ کم رائے اور کم تمیز والا ہونا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بڑا جھوٹا۔ اور یہ پہلے کے قریب ہے اس لئے کہ انسان اپنے آپ کو ذلیل کرنے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔
Ayah 68:1211 ۔” ھماز “ غیبت کرنے والا لوگوں کے گوشت عیب نکالنے اور غیبت کرنے کے ذریعے کھاتا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں یہ وہ شخص جو اپنے بھائی کے بارے میں مجلس میں آنکھ سے اشارے کرتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” ھمزۃ “ ہے ۔ ” مشاء بنمیم “ چغل خور لوگوں کے درمیان چغلیاں لگاتا پھرتا ہے تاکہ ان کے درمیان فساد ڈال دے۔
Ayah 68:1312 ۔” مناع للخیر “ مال پر بخیل ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مناع للخیر “ یعنی اسلام سے اپنی اولاد اور خاندان کو روکتا ہے ۔ کہتا ہے اگر تم میں سے کوئی محمد ﷺ کے دین میں داخل ہوگیا تو میں اس کو کسی چیز کا نفع نہ دوں گا کبھی بھی۔ ” معتد “ بڑا ظالم حق سے تجاوز کرنے والا۔ ” اثیم “ فاجر۔
Ayah 68:14عتل کی مختلف تفاسیر
13 ۔” عتل “ العتل سخت مزاج ظالم۔ حسن (رح) فرماتے ہیں فحش گو بد اخلاق۔ فراء (رح) فرماتے ہیں وہ باطل میں سخت جھگڑنے والا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اپنے کفر میں سخت اور ہر سخت چیز عرب کے نزدیک عتل ہے اور اس کی اصل العتل سے ہے وہ سختی کے ساتھ دفع کرنا۔ عبید بن عمیر کہتے ہیں العتل بہت زیادہ کھانے پینے والا سخت طاقتور میزان میں ایک جو کے برابر وزن نہ رکھے گا۔ فرشتہ ان لوگوں میں سے ستر ہزار کو ایک دھکے سے جہنم میں ڈال دے گا۔
” بعد ذلک “ اس کے ساتھ یعنی جو ہم نے بیان کیا اس کے ساتھ۔ ” زنیم “ اور وہ نسب میں شبہ کی وجہ سے کسی قوم کے ساتھ نسب ملایا گیا ہو۔ حالانکہ ان میں سے نہ ہو۔
زنیم کی تفاسیر
عطاء نے ابن عباس ؓ سے کہا ہے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ قریش میں اس کا نسب ملایا گیا ہے حالانکہ ان سے نہیں۔ مرہ ہمدانی فرماتے ہیں اس کے باپ نے اٹھارہ سال بعد اس کے نسب کا دعویٰ کیا اور کہا گیا ہے ” زنیم “ وہ شخص کے حلق کے نیچے گوشت لٹکا ہوا ہو، بکری کے گوشت کی طرح۔
عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس آیت میں اس شخص کی صفت بیان کی گئی ہے جس کو پہچانانہ جاتا ہو حتیٰ کہ جب یوں کہاں جائے وہ زنیم ہے تو وہ پہچانا جائے اور اس کی گردن میں گوشت لٹکا ہوا تھا جس کے ذریعے وہ پہچانا جاتا تھا۔ سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ وہ شر کے ذریعے پہچانا جائے جیسے بکری اپنی گردن کے لٹکے ہوئے گوشت کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کے اتنے اوصاف وعیوب ذکر کیے ہوں جتنے ولید بن مغیرہ کے عیوب ذکر کیے ہیں۔
پس اس کے ساتھ ایسی عار لاحق کردی ہے جو اس سے دنیا اور آخرت میں جدا نہ ہوگی۔ حارث بن وہب خزاعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں ہر ضعیف جس کو ضعیف سمجھا جائے۔ اگر اللہ پر قسم اٹھالے تو اس کی قسم کو پورا کردے، کیا میں تمہیں جہنم والوں کی خبر نہ دوں ہر سرکش، اجڈ، متکبر شخص ہے۔
Ayah 68:1514 ۔” ان کان ذامال وبنین “ ابوجعفر، ابن عامر، حمزہ، ابوبکر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” ا ان “ استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ پھر حمزہ اور ابوبکر رحمہما اللہ نے دو ہمزوں کو تخفیف دی ہے بغیر مد کے اور پہلے ہمزہ کو مدد دی ہے ابو جعفر، ابن عامر اور یعقوب رحمہم اللہ نے اور دوسرے کو لین کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر استفہام کے خبر کی بناء پر پڑھا ہے۔ پس جس نے استفہام کے ساتھ پڑھا ہے اس کا معنی کیا اب ہے مال اور اولاد والا۔
Ayah 68:1615 ۔” اذا تتلیٰ علیہ آیاتنا قال اساطیر الاولین “ یعنی اس نے ان نعمتوں کی جزاء جو اس کی بیٹوں اور مال کی صورت میں دی گئی ہیں ہماری آیات کے انکار کو بنایا ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی کیا اب ہے مال اور ایسی اولاد والا جو اس کی فرمانبرداری کرے اور جس نے اس کو خبر پر پڑھا ہے تو اس کا معنی ہر قسمیں اٹھانے والے جھوٹے کی اطاعت نہ کریں اس لئے کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے ۔ یعنی وہ اپنے مال و بیٹوں کی وجہ سے اللہ کی اطاعت نہیں کرتا۔ ” اذا تتلی علیہ آیاتنا قال اساطیر الاولین “
Ayah 68:1716 ۔ پھر اس کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ” سنسمہ علی الخرطوم “ اور خرطوم ناک ہے۔ ابوالعالیہ اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی ہم اس کے چہرے کو سیاہ کردیں گے۔ پس ہم اس کے لئے آخرت میں علامت بنادیں گے جس کے ذریعے پہنچانا جائے گا وہ چہرے کا سیاہ ہونا ہے۔ فرائؒ فرماتے ہیں ناک کو علامت کے ساتھ خاص کیا ہے حالانکہ وہ سیاہی پورے چہرے پر چھائی ہوئی ہوگی۔ اس لئے کہ بعض کو کل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عنقریب ہم تلوار کے ذریعے اس کا کام تمام کردیں گے اور یہ بدر کے دن کہا گیا۔
اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں عنقریب ہم اس کے ساتھ ایسی چیز لاحق کریں گے جو اس سے جدا نہ ہوگی۔ قتیبی (رح) فرماتے ہیں عرب کسی شخص کو کہتے ہیں ” سب الرجل سبۃ قبیحۃ قدوسمہ مسیسم سوئ “ مراد یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ایسی عار ملائی گئی ہے جو اس سے جدا نہ ہوگی۔ جیسا کہ علامت نہ مٹتی ہے اور نہ اس کا اثر جاتا ہے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے عیب ذکر کرکے اس کے ساتھ ایسی عار لاحق کردی ہے جو اس سے دنیا اور آخرت میں جدا نہ ہوگی۔ جیسے ناک پر علامت لگانا اور ضحاک اور کسائی رحمہما اللہ فرماتے ہیں عنقریب ہم اس کے چہرے پر داغ دیں گے۔
Ayah 68:1817 ۔” انا بلوناھم “ یعنی ہم نے اہل مکہ کا قحط اور بھوک کے ذریعے امتحان لیا۔ ” کما بلونا “ ہم نے آزمائش۔ ” اصحاب الجنۃ “ ابو صالح نے ابن عباس ؓ سیروایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” انا بلوناھم کما بلونا اصحاب الجنۃ “ کے بارے میں۔
فرماتے ہیں یمن میں ایک باغ تھا جس کو ضروان کہا جاتا تھا صنعاء سے دو فرسخ پہلے اس کو اہل طریق روندتے تھے۔ اس کو اہل صلاۃ کی ایک قوم نے لگایا تھا یہ ایک شخص کا تھا جو مرگیا تو اس کے تین بیٹے وارث بنے اور جب اس کو ٹھنڈی ہوا لگتی اور جو چیز جدا ہوتی جس کو درانتی کاٹتی ہے جس وہ درختوں کے اوپر سے نیچے بچھونوں پر گرتی تو وہ مساکین کے لئے ہوتی اور جب کھیتی کاٹتے اور جس چیز کو درانتی کاٹنے سے چھوڑ دیتی وہ بھی مساکین کے لئے ہوتی اور جب دانہ نکالتے جو چیز نیچے گرجاتی وہ بھی مساکین کے لئے ہوتی۔ پھر جب باپ مرگیا اور یہ تین بھائی باپ سے وارث بنے تو کہنے لگے اللہ کی قسم ! مال تھوڑا ہے اور عیال زیادہ ہیں اور یہ کام تو تب کیا جاتا ہے جب مال زیادہ اور عیال تھوڑے ہوں۔
بہرحال جب مال تھوڑا ہے اور عیال زیادہ ہیں تو ہم یہ کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو ایک دن انہوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ وہ صبح کو لوگوں کے نکلنے سے پہلے جائیں گے اور اپنی کھجوریں کاٹ لیں گے اور انہوں نے استثناء نہ کیا یعنی انشاء اللہ نہ کہا تو وہ لوگ رات کی تاریکی میں اپنے باغ کی طرف گئے تاکہ مساکین کے نکلنے سے پہلے اس کو کاٹ لیں تو اس کو بالکل سیاہ دیکھا۔ تحقیق اس پر رات کو عذاب کا ایک حصہ چکرلگا گیا تھا پس اس کو جلا دیا۔ پس وہ اس زمین کی طرف ہوگئی جس کی کھیتی کٹ گئی ہو۔ پس یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” اذقسموا “ انہوں نے قسمیں کھائیں۔ ” لیصرمنھا مصبحین “ ضرور اس کے پھل کاٹیں گے جب صبح ہوگی مساکین کو معلوم ہونے سے پہلے۔
Ayah 68:1918 ۔” ولا یستثنون “ انہوں نے ان شاء اللہ نہ کہا۔
Ayah 68:2019 ۔” فطاف علیھا طائف “ عذاب۔ ” من ربک “ رات کو اور طائف رات کو ہی ہوتا ہے اور یہ طائف آگ تھی جو آسمان سے اتری اور باغ کو جلا دیا۔ ” وھم نائمون “
Ayah 68:2120 ۔” فاصبحت کالصریم “ تاریک سیاہ رات کی طرح اور حسن (رح) فرماتے ہیں یعنی اس سے خیر ختم کردی گئی تھی۔ پس اس میں کچھ نہ تھا اور اخفش (رح) فرماتے ہیں رات سے صبح صریم کی طر ح اور صریم کی اصل مصروم کٹی ہوئی ہے جیسے قتیل اور مقتول اور ہر چیز جو کاٹی گئی ہو وہ صریم ہے۔ پس رات صریم ہے اور صبح صریم ہے اس لئے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے صاحب سے کٹی ہوئی جداء ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سیاہ راکھ کی طرح خزیمہ کی لغت کے مطابق۔
Ayah 68:2221 ۔” فتنادوامصبحین “ جب صبح ہوئی تو ایک دوسرے کو آوازیں دیں۔
Ayah 68:2322 ۔” ان اغدوا علی حرثکم “ یعنی پھل، کھیتیاں اور انگور۔ ” ان کنتم صارفین “ پھلوں کو کاٹنے والے ہو۔
Ayah 68:2423 ۔” فانطلقوا “ وہ اس کی طرف چلے۔ ” وھم یتخافتون “ سر گوشیاں کررہے تھے آپس میں۔
Ayah 68:2524-25 ۔” ان لا یدخلنھا الیوم علیھا مسکین، وغدوا علی حرد “ حرد لغت میں قصد کرنا، منع کرنا اور غضب کرنا کے معنی میں آتا ہے۔ حسن اور قتادہ اور ابوالعالیہ رحمہم اللہ نے کہا ہے جدوجہد پر۔ قرظی، مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں اتفاقی امر پر جس کو انہوں نے آپس میں طے کیا تھا اور یہ قصد کے معنی کی بناء پر ہے اس لئے کہ کسی چیز کا ارادہ کرنے والا کوشش کرنے والا اور کام کا پختہ ارادہ رکھنے والا ہوتا ہے۔ ابوعبیدہ اور قتیبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ صبح کو گھروں سے نکلے مساکین کو محروم کرنے کے لئے ، کہا جاتا ہے ” حاردت السنۃ “ جب اس کے لئے بارش نہ ہو اور ” حاردت الناقۃ “ جب اس کا دودھ نہ ہو اور شعبی اور سفیان رحمہما اللہ فرماتے ہیں مساکین سے غصہ اور گھٹن کی بناء پر اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے قدرت پر ” قادرین “ ان کے نزدیک اپنے باغ اور اس کے پھلوں پر ان کے درمیان اور پانچ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
Ayahs 68:26–2726 ۔” فلماراوھا قالوا انا لضالون “ یعنی جب انہوں نے باغ کو جلا ہوا دیکھا تو کہنے لگے ہم تو باغ کا راستہ بھول گئے ہیں یہ ہمارا باغ نہیں ہے۔
Ayah 68:2827 ۔” تو ان میں سے بعض نے کہا ” بل نحن محرومون “ ہم اس کی خیر اور نفع سے محروم کیے گئے ہیں، ہمارے مساکین کو نہ دینے کی وجہ سے اور استثناء چھوڑنے کی وجہ سے۔
Ayah 68:2928 ۔” قال اوسطھم “ ان میں سے انصاف پسند اور زیادہ سمجھ دار اور افضل نے۔ ” الم اقل لکم لو لا تسبحون “ کیوں نہیں استثناء کیا تم ن یان پر ان کے قول ” لیصرمنھا مصبحین “ میں استثناء چھوڑنے پر انکار کیا ہے اور استثناء کا نام تسبیح رکھا ہے اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے اور اس بات کا اقرار ہے کوئی کسی چیز پر اس کی مشیت کے بغیر قادر نہیں ہوسکتا اور ابوصالح (رح) فرماتے ہیں اس کا استثناء سبحان اللہ تھا اور کہا گیا ہے کیوں نہیں تم اللہ کی تسبیح کرتے اور سبحان اللہ کہتے اور جو تم کو دیا ہے اس پر شکر کرتے اور کہا گیا ہے تم اپنے فعل سے استغفار کیوں نہیں کرتے۔
Ayah 68:3029 ۔” قالوا سبحان ربنا “ اس کی پاکی بیان کی۔ اس لئے کہ وہ اپنے فعل میں ظالم ہو اور اپنے اوپر ظلم کا اقرار کرتے ہوئے کہا ” انا کنا ظالمین “ ہمارے مساکین کو منع کرنے کی وجہ سے۔
Ayah 68:3130 ۔” فاقبل بعضھم علی بعض یتلاومون “ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے ۔ مساکین کو ان کے حقوق سے منع کرنے میں اور اپنے اوپر ہلاکت کی آوازیں لگائیں۔
Ayah 68:3231 ۔” قالوا یاویلنا انا کنا طاغین “ فقراء کے حق کو روکنے میں۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں ہم نے اللہ کی نعمتوں سے سرکشی کی۔ پس ہم نے ان کا شکر نہیں کیا اور ہم نے وہ نہیں کیا جو ہمارے آباء اس سے پہلے کرتے تھے۔
Ayah 68:3332 ۔ پھر اپنے دل میں کہنے لگے ” عسیٰ ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انا الی ربنا راغبون “ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان لوگوں نے اخلاص دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی سچائی کو پہچان لیا تو ان کو اس باغ کے بدلہ میں ایک اور باغ دیا جس کو حیوان کہا جاتا تھا۔ اس میں انگور کا درخت تھا اس کا ایک گچھا ایک خچر اٹھاتا تھا۔
Ayah 68:3433 ۔” کذلک العذاب “ یعنی جیسے ہم نے ان کے ساتھ کیا ہم اس طرح ان کے ساتھ کرتے ہیں جو ہماری حدود سے تجاوز کرے اور ہمارے حکم کی مخالفت کرے۔ ” والعذاب الآخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون “۔
Ayah 68:3534 ۔ پھر خبر دی اس کی جو اللہ تعالیٰ کے پاس متقین کے لئے ہے۔ ” ان للمتقین عندربھم جنات النعیم “ پس مشرکین نے کہا تھا ہم آخرت میں اس سے افضل دیئے جائیں گے جو تم دیئے جائو گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا :
Ayah 68:3635 ۔” انجعل المسلمین کالمجرمین۔
Ayah 68:3736 ۔” مالکم کیف تحکمون۔
Ayah 68:3837 ۔” ام لکم کتاب “ جو اللہ کی طرف سے اتری ہو۔ ” فیہ “ اس کتاب میں ” تدرسون “ تم پڑھتے ہو۔
Ayah 68:3938 ۔” ان لکم فیہ “ اس کتاب میں ۔ ” لما تخیرون “ تم اختیار کرتے ہو اور چاہتے ہو۔
Ayah 68:4039 ۔” ام لکم ایمان “ معاہدے ومیثاق ہیں۔ ” علینا بالغۃ “ پختہ جو تم نے ہم سے کیے ہیں۔ پس تم نے ان کو ہم سے پختہ کرلیا ہے کہ وہ نہ لوٹیں گے۔ ” الی یوم القیامۃ ان لکم “…” ان “ کو کسرہ دیا گیا ہے خبر میں لام داخل ہونے کی وجہ سے “ ذلک العھد “…” لما تحکمون “ اپنے لئے خیر اور عنداللہ اعزاز کا۔