Ayah 69:1سورة الحاقہ
مکی ہے اور اس کی باون 52 آیات ہیں
Ayah 69:21 ۔” الحاقۃ “ یعنی قیامت۔ اس کا نام حاقہ رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ حق ہے اس کو جھٹلانے والی کوئی چیز نہیں ہے اور کہا گیا ہے اس لئے کہ اس میں امور کے حقائق اور حق ہیں اور اس لئے کہ اس اعمال پر جزاء ثابت ہوتی ہے یعنی واجب ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے ” حق علیہ الشیء یحق حقوقا “ جب کوئی چیز واجب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکافرین “ کسائی (رح) فرماتے ہیں الحاقہ یوم حق ہے۔
Ayah 69:32 ۔” ماالحاقۃ “ یہ استفہام ہے اس کا معنی اس کی شان کو بڑا کرنا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے زید مازید اس کی شان کی تعظیم کے لئے۔
Ayah 69:43 ۔” وما ادراک ما الحاقۃ “ یعنی آپ (علیہ السلام) اس کو نہیں جانتے اس لئے کہ آپ نے اس کا معائنہ نہیں کیا اور میں جو ہولناکیاں ہوں گی وہ نہیں دیکھیں۔
Ayah 69:54 ۔” کذبت ثمود وعاد بالقارعۃ “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں قیامت کو۔ اس کا نام قارعہ رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ بندوں کے دلوں کو کھڑکاتی ہے خوف دلانے کے ساتھ اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس عذاب کو جھٹلایا جس کی دھمکی ان کے نبیوں نے دی تھی حتیٰ کہ ان پر اترا تو ان کے دلوں کو کھڑکایا۔
Ayah 69:65 ۔” فاما ثمود فاھلکوا بالطاغیۃ “ یعنی اپنی سرکشی اور کفر کی وجہ سے اور کہا گیا ہے کہ مصدر ہے اور کہا گیا ہے صفت ہے۔ یعنی اپنے سرکشی والے افعال کی وجہ سے اور یہ مجاہد (رح) کے قول کا معنی ہے جیسا کہ فرمایا ” کذبت ثمود بطغواھا “ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ایسی چیخ کے ساتھ جو طاغیہ تھی اور وہ ایسی چیخ جو چیخ کی مقدار سے تجاوز کرجائے۔ پس ان کو ہلاک کردیا۔
Ayah 69:76 ۔” واما عاد فاھلکوا بریح صرصرعاتیۃ “ سخت تھی اپنے خزانوں پر۔ پس ان کی اطاعت نہ کی اور ان کے لئے اس پر کوئی سہل بھی نہ تھی اور مقدار سے تجاوز کرگئی۔ پس ان کو معلوم نہ ہو کہ اس سے کتنی نکلی ہے۔
Ayah 69:87 ۔” سخرھا علیھم “ اس کو ان پر بھیجا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان پر مسلط کردیا۔ ” سبع لیال وثمانیۃ ایام “ وہب (رح) فرماتے ہیں یہ وہ دن ہیں جن کا نام عرب ایام العجوز رکھتے ہیں ٹھنڈا اور سخت ہوائوں والے۔ کہا گیا ہے ان کا نام عجوز رکھا گیا اس لئے کہ یہ سردی کی وجہ سے عاجز کردیتے ہیں اور کہا گیا ہے اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ قوم عاد کی ایک بوڑھی عورت ایک سوراخ میں داخل ہوگئی تو ہوا اس کے پیچھے لگی رہی، پھر عذاب اترنے کے آٹھویں دن اس کو قتل کردیا اور عذاب ختم ہوگیا۔
” حسوما “ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں لگاتار اس میں کوئی وقفہ نہ تھا۔ پس اس پر یہ زخم کو داغنا ہے وہ یہ کہ بیماری کی جگہ پر لوہے سے داغا جائے حتیٰ کہ وہ تندرست ہوجائے۔ پھر ہر چیز کو کہا جاتا ہے جس کو پیچھے لگایا جائے۔ حاسم اور اس کی جمع حسوم ہے۔ جیسے شاہد وشھود۔ اور کلبی و مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” حسو ما دائمۃ “ اور نضر بن شمیل (رح) فرماتے ہیں ان کو کاٹ دیا اور ہلاک کردیا اور جسم کاٹنا اور روکنا ہے اور اس سے ” حسم الدائ “ بیماری کی وجہ سے رگ کاٹ کر خون روکنے کے لئے داغنا۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی ” تحسمھم حسوما “ ان کو فنا کردے گی اور ختم کردے گی اور عطیہ (رح) فرماتے ہیں ” شئوم “ یعنی نحوست گویا کہ اس خیر کو ان لوگوں سے کاٹ دیا۔ ” فتری القوم فیھا “ یعنی ان راتوں اور دنوں میں۔ ” صرعی “ ہلاک شدہ صریع کی جمع ہے۔ ” کانھم اعجاز نخل خاویۃ “ گرے ہوئے۔ اور کہا گیا کھوکھلے تنے والے۔
Ayah 69:98 ۔” فھل تریٰ لھم من باقیۃ “ یعنی کوئی نفس باقی یعنی ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔
Ayah 69:109 ۔” وجاء فرعون ومن قبلۃ “ اہل بصرہ اور کسائی نے قاف کی زیر کے ساتھ اور باء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ومن معہ اور جو اس کے ساتھ تھے اس کے لشکروں اور پیروکاروں میں سے اور دیگر حضرات نے قاف کے زبر اور باء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اور جوان سے پہلے تھے کافر امتوں میں سے۔ ” والموتفکات “ یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں مراد، ان پلٹی ہوئی بستیوں کے لوگ ہیں اور کہا گیا ہے مراد وہ امتیں ہیں جو اپنے گناہوں کی وجہ سے پلٹی گئیں۔ ” بالخاطئۃ “ یعنی خطاء اور معصیت کی وجہ سے اور وہ شرک ہے۔
Ayah 69:1110 ۔” فعصوا رسول ربھم “ یعنی لوط اور موسیٰ (علیہما السلام) ” فاخذھم اخذۃ رابیۃ “ بڑھنے والا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سخت۔ اور کہا گیا ہے امتوں کے عذاب پر زائد۔
Ayah 69:1211 ۔” انا لما طغی المائ “ یعنی سرکشی اور حد سے تجاوز کیا حتیٰ کہ ہر چیز پر چڑھا اور اس پر بلند ہوگیا یعنی نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں۔ ” حملنا کم “ یعنی ہم نے تمہارے آباء کو اٹھایا اور تم ان کی پشتوں میں تھے۔ ” فی الجاریۃ “ اس کشتی میں جو پانی میں چلتی ہے۔
Ayah 69:1312 ۔” لنجعلھا “ یعنی تاکہ ہم اس فعل کو جو ہم نے کیا نوح (علیہ السلام) کی قوم کو غرق کرنے اور ان کو نجات دینے کا جن کو ہم نے اس میں سوار کیا۔ ” لکم تذکرۃ “ عبرت ونصیحت۔ ” وتعیھا “ قو اس اس نے ابن کثیر (رح) سے اور سلیم نے حمزہ (رح) سے عین کے اختلاس کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کی زیر کے ساتھ یعنی اس کی حفاظت کرے گی۔ ” اذن واعیۃ “ یعنی حفاظت کرنے والی اس کی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گی۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اذن کانوں نے جو سنا اور جو سنا وہ سمجھا۔ فراء (رح) فرماتے ہیں تاکہ اس کی حفاظت ہر کان کرے۔ پس یہ عبرت اور نصیحت ہوجائے ان کے لئے جو بعد میں آئیں گے۔
Ayah 69:1413 ۔” فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ “ اور وہ پہلا نفخہ ہے۔
Ayah 69:1514 ۔” وحملت الارض والجبال “ ان کی جگہیں اٹھالی گئیں۔ ” قد کتا “ دونوں توڑے گئے۔ ” دکۃ “ توڑنا ” واحدۃ “ پس وہ دونوں ریزہ ریزہ ہوکر ہوا میں بکھر گئے۔
Ayah 69:1615 ۔” فیومئذ وقعت الواقعۃ “ قیامت قائم ہوگئی۔
Ayah 69:1716 ۔” وانشقت السماء فھی یومئذ واھیۃ “ کمزور ہے ۔ فرائؒ فرماتے ہیں ” وھیھا “ اس کا پھٹ جانا ہے۔
Ayah 69:1817 ۔” والملک “ یعنی فرشتے۔ ” علی ارجائھا “ اس کے ارد گرد اور اطراف میں۔ جب تک اس سے نہ پھٹے گا۔ اس کا واحد رجا ہے اور تثنیہ رجوان۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں فرشتے اس کے کناروں پر ہیں حتیٰ کہ ان کو رب تعالیٰ حکم دیں گے پس وہ اتریں گے پھر زمین کو گھیر لیں گے اور جو لوگ زمین پر ہیں۔ ” ویحمل عرش ربک فوقھم “ یعنی ان کے سروں کے اوپر یعنی اٹھانے والے۔” یومئذ “ قیامت کے دن۔ ” ثمانیۃ “ یعنی آٹھ فرشتے۔ حدیث میں آیا ہے کہ وہ آج چار ہیں۔ پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان کو چار دوسروں کے ساتھ قوت دیں گے تو آٹھ ہوجائیں گے۔ پہاڑی بکرے کی صورت میں ان کے کھروں سے ان کے گھٹنوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کا اور حدیث میں آیا ہے کہ ان فرشتوں میں سے ہر ایک آدمی کا چہرہ اور شیر کا چہرہ اور بیل کا چہرہ اور گدھ کا چہرہ ہوگا۔
عباس بن عبدالمطلب ؓ فرماتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے بطحاء میں تو ایک بادل گزرا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے کہا بادل۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اور مزن ہم نے کہا اور مزن آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اور عنان تو ہم نے کہا اور عنان تو ہم خاموش ہوگئے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو آسمان و زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا پانچ سو سال کی مسافت۔ اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور اسی طرح ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال ہے اور سات آسمانوں کے اوپر سمندر ہے اس کے اوپر اور نیچے والے حصہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ پھر اس کے اوپر آٹھ پہاڑی بکرے ہیں، ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے اور اس کے اوپر عرش ہے اور اس کے نچلے اور اوپر والے حصے کے درمیان آسمان و زمین کے درمیان جتنا فاصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہیں اور اللہ تعالیٰ پر بنی آدم کے اعمال میں سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے اور یہ ابن عباس ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے اور ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ ان کے اوپر اس دن آٹھ ہیں یعنی فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں ان کی تعداد کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 69:1918 ۔” یومئذ تعرضون “ اللہ پر۔ ” لاتخفی “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ۔ ” منکم خافیۃ “ یعنی کوئی فعل مخفی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ پر تمہاری کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ ابو موسیٰ (رح) فرماتے ہیں لوگ تین مرتبہ پیش کیے جائیں گے۔ بہرحال دو مرتبہ پیشیاں تو جھگڑوں اور معذرت کی ہوں گی اور تیسری پیشی کے وقت اعمال نامے اڑیں گے پس وہ اپنے دائیں ہاتھ اور وہ اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑے گا۔
Ayah 69:2019 ۔” فاما من اوتی کتاب بیمینہ فیقول ھائوم اقرئوا کتابیہ “ ھائ ” کنابیہ “ میں وقف کی ھاء ہے۔
Ayah 69:2120 ۔” انی ظننت “ میں نے جانا اور یقین کیا۔ ” انی ملاق حسابیہ “ یعنی میرا آخرت میں حساب کیا جائے گا۔
Ayah 69:2221 ۔” فھوفی عیشۃ “ یعنی گزران کی حالت میں۔ ” راضیۃ “ مرضیہ یعنی پسندیدہ ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” ماء دافق “ ہے۔ اس سے راضی ہونے سے مراد یہ لیا ہے کہ وہ ثواب پائے گا اور عذاب سے محفوظ ہوگا۔
Ayah 69:2322 ۔” فی جنۃ عالیۃ “ بلند۔
Ayah 69:2423 ۔” قطوفھا دانیۃ “ اس کے پھل قریب ہیں حاصل کرنے والے کے لئے ان کو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے حاصل کرلے گا اور جیسے چاہیں گے کاٹیں گے۔
Ayah 69:2524 ۔ ان کو کہا جائے گا ” کلوا واشربوا ھنیئا بما اسلفتم “ تم نے اپنی آخرت کے لئے جو نیک اعمال آگے بھیجے۔ ” فی الایام الخالیۃ “ گزشتہ مراد دنیا کے ایام ہیں۔
Ayah 69:2625 ۔” واما من اوتی کتابہ بشمالہ “ ابن سائب (رح) فرماتے ہیں اس کا بایاں ہاتھ اس کی پیٹھ کے پیچھے لپیٹ دیا جائے گا۔ پھر اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا اور کہا گیا ہے کہ اس کا بایاں ہاتھ اس کے سینے سے کھینچا جائے گا، اس کی پیٹھ کے پیچھے کی طرف پھر اس کو اعمال نامہ دیا جائے گا۔ ” فیقول یالیتنی لم اوت کتابیہ “ تمنا کرے گا کہ اس کو اعمال نامہ نہ دیا جاتا کیوں کہ اس میں اپنے برے اعمال دیکھے گا۔
Ayah 69:2726 ۔” ولم ادر ما حسابیہ۔
Ayah 69:2827 ۔” یالیتھا کانت القاضیۃ “ کہے گا کاش وہ موت آجائے جو دنیا میں ہوت تھی ہر بعد والی چیز کا فیصلہ کرنے والی اور زندگی کو ختم کرنے والی۔ پس میں اس کے بعد زندہ نہ رہوں اور ” قاضیۃ “ موت ہے اس کے بعد زندگی نہ ہو تمنا کرے گا کہ وہ حساب کے لئے نہ اٹھایا گیا ہوتا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں موت کی تمنا کرے گا۔ اگرچہ اس کے ہاں دنیا میں موت سے زیادہ ناپسندید چیز کوئی نہ تھی۔
Ayah 69:2928 ۔” مااغنی عنی مالیۃ “ مجھ سے اللہ کے عذاب کو تھوڑا سا بھی دور نہیں کررہا ۔
Ayah 69:3029 ۔” ھلک عنی سلطانیہ “ مجھ سے میری دلیل گم ہوگئی۔ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے نزدیک اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں مجھ سے میرا ملک اور قوت چلی گئی۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی جب اس کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے شرک کی اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں کو کہیں گے۔
Ayah 69:3130 ۔” خذوہ فغلوہ “ تم اس کے ہاتھ گردن پر جمع کردو۔
Ayah 69:3231 ۔” ثم الجحیم صلوٰۃ “ یعنی تم اس کو جہنم میں داخل کردو۔
Ayah 69:3332 ۔” ثم فی سلسلۃ زرعھا سبعون ذراعا فاسلکوہ “ پس تم اس کو اس میں داخل کردو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ستر گز فرشتے کے گز کے ہوں گے ۔ پس اس کی دبر میں داخل ہوں اور نتھنوں سے نکلیں گے اور کہا گیا ہے اس کے منہ میں داخل ہوں اور دبر سے نکلیں گے اور نوف بکالی فرماتے ہیں سترگز، ہرگز ستر باع کا، ہر باع تیرے اور مکہ کے درمیان فاصلہ سے زیادہ ہے اور وہ اس وقت کوفہ کے صحن میں تھے اور سفیان (رح) فرماتے ہیں ہرگز ستر گز کا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں کہ یہ کون سا گز ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس کی مثل اضافہ اور لکڑی کے پیالہ کی طرف اشارہ کیا آسمان سے زمین کی طرف چھوڑا جائے حالانکہ وہ پانچ سو سال کی مسافت ہے تورات سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گا اور اگر وہ اس سلسلہ کے اوپر سے چھوڑا جائے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے تو یہ چالیس سال رات ودن چلتا رہے گا۔ اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے اور کعب (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں اگر دنیا کا تمام لوہا جمع کر لیاجائے تو اس کے ایک حلقہ (کڑی) کے برابر وزن نہ ہوگا۔
Ayah 69:3433 ۔” انہ کان لا یومن باللہ العظیم۔
Ayah 69:3534 ۔” ولا یحض علی طعام المسکین “ مسکین کو دنیامیں کھانا نہ کھلاتا تھا اور نہ اپنے گھر والوں کو اس کا حکم کرتا تھا۔
Ayah 69:3635 ۔” فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم “ قریبی جو اس کو نفع دے اور اس کی سفارش کرے۔
Ayah 69:3736 ۔” ولا طعام الا من غسلین “ اور وہ اہل جہنم کی پیپ ہے۔ یہ غسل سے ماخوذ ہے۔ گویا کہ یہ ان کے زخموں اور پھنسیوں کا نچوڑ (دھو ون) ہے۔ ضحاک اور ربیع رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ درخت ہے جس کو جہنمی لوگ کھائیں۔
Ayah 69:3837 ۔” لا یاکلہ الا الخاطئون “ یعنی کافر لوگ۔
Ayah 69:3938 ۔” فلا اقسم “ لا مشرکین کے کلام کی تردید ہے۔ گویا کہ کہا کہ معاملہ ویسے نہیں ہے جیسے مشرکین کہتے ہیں میں قسم کھاتا ہوں۔ ” بما تبصرون “۔
Ayah 69:4039 ۔” وما لا تبصرون “ یعنی جو تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں میں تمام اشیاء کی قسم کھاتا ہوں۔ پس اس میں تمام تکوینی اور موجود چیز میں داخل ہوجائیں گی اور کہا میں دنیا اور آخرت کی قسم کھاتا ہوں اور کہا گیا ہے جو تم دیکھتے زمین کے اوپر جو کچھ ہے اور جو تم نہیں دیکھتے جو زمین کے اندر ہے اور کہا گیا ہے جو تم جسموں میں سے دیکھتے ہو اور جو تم روحوں کو نہیں دیکھتے اور کہا گیا ہے ” ماتبصرون “ انسانوں کو۔ ” ومالاتبصرون “ فرشتوں اور جنوں کو اورکہا گیا ہے ظاہری اور باطنی نعمتیں۔ اور کہا گیا ہے ” ماتبصرون “ جو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور لوح وقلم کے لئے ظاہر کیا ہے۔ ” ومالا تبصرون “ جو اپنا علم اختیار کیا ہے اس پر کسی کو مطلع نہیں کیا۔