69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 69:1

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة الحاقہ مکی ہے اور اس کی باون 52 آیات ہیں
Ayah 69:2

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

سچ مچ ہونیوالی

1 ۔” الحاقۃ “ یعنی قیامت۔ اس کا نام حاقہ رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ حق ہے اس کو جھٹلانے والی کوئی چیز نہیں ہے اور کہا گیا ہے اس لئے کہ اس میں امور کے حقائق اور حق ہیں اور اس لئے کہ اس اعمال پر جزاء ثابت ہوتی ہے یعنی واجب ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے ” حق علیہ الشیء یحق حقوقا “ جب کوئی چیز واجب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکافرین “ کسائی (رح) فرماتے ہیں الحاقہ یوم حق ہے۔
Ayah 69:3

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

سچ مچ ہونیوالی کیا ہے

2 ۔” ماالحاقۃ “ یہ استفہام ہے اس کا معنی اس کی شان کو بڑا کرنا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے زید مازید اس کی شان کی تعظیم کے لئے۔
Ayah 69:4

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم ہے کہ وہ سچ مچ ہونیوالی کیا ہے

3 ۔” وما ادراک ما الحاقۃ “ یعنی آپ (علیہ السلام) اس کو نہیں جانتے اس لئے کہ آپ نے اس کا معائنہ نہیں کیا اور میں جو ہولناکیاں ہوں گی وہ نہیں دیکھیں۔
Ayah 69:5

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا

4 ۔” کذبت ثمود وعاد بالقارعۃ “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں قیامت کو۔ اس کا نام قارعہ رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ بندوں کے دلوں کو کھڑکاتی ہے خوف دلانے کے ساتھ اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس عذاب کو جھٹلایا جس کی دھمکی ان کے نبیوں نے دی تھی حتیٰ کہ ان پر اترا تو ان کے دلوں کو کھڑکایا۔
Ayah 69:6

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

سو ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے

5 ۔” فاما ثمود فاھلکوا بالطاغیۃ “ یعنی اپنی سرکشی اور کفر کی وجہ سے اور کہا گیا ہے کہ مصدر ہے اور کہا گیا ہے صفت ہے۔ یعنی اپنے سرکشی والے افعال کی وجہ سے اور یہ مجاہد (رح) کے قول کا معنی ہے جیسا کہ فرمایا ” کذبت ثمود بطغواھا “ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ایسی چیخ کے ساتھ جو طاغیہ تھی اور وہ ایسی چیخ جو چیخ کی مقدار سے تجاوز کرجائے۔ پس ان کو ہلاک کردیا۔
Ayah 69:7

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا .

6 ۔” واما عاد فاھلکوا بریح صرصرعاتیۃ “ سخت تھی اپنے خزانوں پر۔ پس ان کی اطاعت نہ کی اور ان کے لئے اس پر کوئی سہل بھی نہ تھی اور مقدار سے تجاوز کرگئی۔ پس ان کو معلوم نہ ہو کہ اس سے کتنی نکلی ہے۔
Ayah 69:8

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن ان پر چلائے رکھا تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈہے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے

7 ۔” سخرھا علیھم “ اس کو ان پر بھیجا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان پر مسلط کردیا۔ ” سبع لیال وثمانیۃ ایام “ وہب (رح) فرماتے ہیں یہ وہ دن ہیں جن کا نام عرب ایام العجوز رکھتے ہیں ٹھنڈا اور سخت ہوائوں والے۔ کہا گیا ہے ان کا نام عجوز رکھا گیا اس لئے کہ یہ سردی کی وجہ سے عاجز کردیتے ہیں اور کہا گیا ہے اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ قوم عاد کی ایک بوڑھی عورت ایک سوراخ میں داخل ہوگئی تو ہوا اس کے پیچھے لگی رہی، پھر عذاب اترنے کے آٹھویں دن اس کو قتل کردیا اور عذاب ختم ہوگیا۔ ” حسوما “ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں لگاتار اس میں کوئی وقفہ نہ تھا۔ پس اس پر یہ زخم کو داغنا ہے وہ یہ کہ بیماری کی جگہ پر لوہے سے داغا جائے حتیٰ کہ وہ تندرست ہوجائے۔ پھر ہر چیز کو کہا جاتا ہے جس کو پیچھے لگایا جائے۔ حاسم اور اس کی جمع حسوم ہے۔ جیسے شاہد وشھود۔ اور کلبی و مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” حسو ما دائمۃ “ اور نضر بن شمیل (رح) فرماتے ہیں ان کو کاٹ دیا اور ہلاک کردیا اور جسم کاٹنا اور روکنا ہے اور اس سے ” حسم الدائ “ بیماری کی وجہ سے رگ کاٹ کر خون روکنے کے لئے داغنا۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی ” تحسمھم حسوما “ ان کو فنا کردے گی اور ختم کردے گی اور عطیہ (رح) فرماتے ہیں ” شئوم “ یعنی نحوست گویا کہ اس خیر کو ان لوگوں سے کاٹ دیا۔ ” فتری القوم فیھا “ یعنی ان راتوں اور دنوں میں۔ ” صرعی “ ہلاک شدہ صریع کی جمع ہے۔ ” کانھم اعجاز نخل خاویۃ “ گرے ہوئے۔ اور کہا گیا کھوکھلے تنے والے۔
Ayah 69:9

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

بھلا تو ان میں سی کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے ؟

8 ۔” فھل تریٰ لھم من باقیۃ “ یعنی کوئی نفس باقی یعنی ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔
Ayah 69:10

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے

9 ۔” وجاء فرعون ومن قبلۃ “ اہل بصرہ اور کسائی نے قاف کی زیر کے ساتھ اور باء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ومن معہ اور جو اس کے ساتھ تھے اس کے لشکروں اور پیروکاروں میں سے اور دیگر حضرات نے قاف کے زبر اور باء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اور جوان سے پہلے تھے کافر امتوں میں سے۔ ” والموتفکات “ یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں مراد، ان پلٹی ہوئی بستیوں کے لوگ ہیں اور کہا گیا ہے مراد وہ امتیں ہیں جو اپنے گناہوں کی وجہ سے پلٹی گئیں۔ ” بالخاطئۃ “ یعنی خطاء اور معصیت کی وجہ سے اور وہ شرک ہے۔
Ayah 69:11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے بھی انکو بڑا سخت پکڑا

10 ۔” فعصوا رسول ربھم “ یعنی لوط اور موسیٰ (علیہما السلام) ” فاخذھم اخذۃ رابیۃ “ بڑھنے والا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سخت۔ اور کہا گیا ہے امتوں کے عذاب پر زائد۔
Ayah 69:12

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کرلیا

11 ۔” انا لما طغی المائ “ یعنی سرکشی اور حد سے تجاوز کیا حتیٰ کہ ہر چیز پر چڑھا اور اس پر بلند ہوگیا یعنی نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں۔ ” حملنا کم “ یعنی ہم نے تمہارے آباء کو اٹھایا اور تم ان کی پشتوں میں تھے۔ ” فی الجاریۃ “ اس کشتی میں جو پانی میں چلتی ہے۔
Ayah 69:13

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں

12 ۔” لنجعلھا “ یعنی تاکہ ہم اس فعل کو جو ہم نے کیا نوح (علیہ السلام) کی قوم کو غرق کرنے اور ان کو نجات دینے کا جن کو ہم نے اس میں سوار کیا۔ ” لکم تذکرۃ “ عبرت ونصیحت۔ ” وتعیھا “ قو اس اس نے ابن کثیر (رح) سے اور سلیم نے حمزہ (رح) سے عین کے اختلاس کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کی زیر کے ساتھ یعنی اس کی حفاظت کرے گی۔ ” اذن واعیۃ “ یعنی حفاظت کرنے والی اس کی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گی۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اذن کانوں نے جو سنا اور جو سنا وہ سمجھا۔ فراء (رح) فرماتے ہیں تاکہ اس کی حفاظت ہر کان کرے۔ پس یہ عبرت اور نصیحت ہوجائے ان کے لئے جو بعد میں آئیں گے۔
Ayah 69:14

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

تو جب صور میں ایک (بار) پھونک مار دی جائے گی

13 ۔” فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ “ اور وہ پہلا نفخہ ہے۔
Ayah 69:15

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا لئے جائیں گے پھر ایک بارگی توڑپھوڑ کر برابر کردئیے جائیں گے

14 ۔” وحملت الارض والجبال “ ان کی جگہیں اٹھالی گئیں۔ ” قد کتا “ دونوں توڑے گئے۔ ” دکۃ “ توڑنا ” واحدۃ “ پس وہ دونوں ریزہ ریزہ ہوکر ہوا میں بکھر گئے۔
Ayah 69:16

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی

15 ۔” فیومئذ وقعت الواقعۃ “ قیامت قائم ہوگئی۔
Ayah 69:17

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا

16 ۔” وانشقت السماء فھی یومئذ واھیۃ “ کمزور ہے ۔ فرائؒ فرماتے ہیں ” وھیھا “ اس کا پھٹ جانا ہے۔
Ayah 69:18

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آینگے اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہونگے

17 ۔” والملک “ یعنی فرشتے۔ ” علی ارجائھا “ اس کے ارد گرد اور اطراف میں۔ جب تک اس سے نہ پھٹے گا۔ اس کا واحد رجا ہے اور تثنیہ رجوان۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں فرشتے اس کے کناروں پر ہیں حتیٰ کہ ان کو رب تعالیٰ حکم دیں گے پس وہ اتریں گے پھر زمین کو گھیر لیں گے اور جو لوگ زمین پر ہیں۔ ” ویحمل عرش ربک فوقھم “ یعنی ان کے سروں کے اوپر یعنی اٹھانے والے۔” یومئذ “ قیامت کے دن۔ ” ثمانیۃ “ یعنی آٹھ فرشتے۔ حدیث میں آیا ہے کہ وہ آج چار ہیں۔ پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان کو چار دوسروں کے ساتھ قوت دیں گے تو آٹھ ہوجائیں گے۔ پہاڑی بکرے کی صورت میں ان کے کھروں سے ان کے گھٹنوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کا اور حدیث میں آیا ہے کہ ان فرشتوں میں سے ہر ایک آدمی کا چہرہ اور شیر کا چہرہ اور بیل کا چہرہ اور گدھ کا چہرہ ہوگا۔ عباس بن عبدالمطلب ؓ فرماتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے بطحاء میں تو ایک بادل گزرا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے کہا بادل۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اور مزن ہم نے کہا اور مزن آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اور عنان تو ہم نے کہا اور عنان تو ہم خاموش ہوگئے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو آسمان و زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا پانچ سو سال کی مسافت۔ اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور اسی طرح ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال ہے اور سات آسمانوں کے اوپر سمندر ہے اس کے اوپر اور نیچے والے حصہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ پھر اس کے اوپر آٹھ پہاڑی بکرے ہیں، ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے اور اس کے اوپر عرش ہے اور اس کے نچلے اور اوپر والے حصے کے درمیان آسمان و زمین کے درمیان جتنا فاصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہیں اور اللہ تعالیٰ پر بنی آدم کے اعمال میں سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے اور یہ ابن عباس ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے اور ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ ان کے اوپر اس دن آٹھ ہیں یعنی فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں ان کی تعداد کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 69:19

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی

18 ۔” یومئذ تعرضون “ اللہ پر۔ ” لاتخفی “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ۔ ” منکم خافیۃ “ یعنی کوئی فعل مخفی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ پر تمہاری کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ ابو موسیٰ (رح) فرماتے ہیں لوگ تین مرتبہ پیش کیے جائیں گے۔ بہرحال دو مرتبہ پیشیاں تو جھگڑوں اور معذرت کی ہوں گی اور تیسری پیشی کے وقت اعمال نامے اڑیں گے پس وہ اپنے دائیں ہاتھ اور وہ اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑے گا۔
Ayah 69:20

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

تو جس کا (اعمال) نامہ اسکے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں) سے کہے گا کہ لیجئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیے

19 ۔” فاما من اوتی کتاب بیمینہ فیقول ھائوم اقرئوا کتابیہ “ ھائ ” کنابیہ “ میں وقف کی ھاء ہے۔
Ayah 69:21

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا

20 ۔” انی ظننت “ میں نے جانا اور یقین کیا۔ ” انی ملاق حسابیہ “ یعنی میرا آخرت میں حساب کیا جائے گا۔
Ayah 69:22

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا

21 ۔” فھوفی عیشۃ “ یعنی گزران کی حالت میں۔ ” راضیۃ “ مرضیہ یعنی پسندیدہ ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” ماء دافق “ ہے۔ اس سے راضی ہونے سے مراد یہ لیا ہے کہ وہ ثواب پائے گا اور عذاب سے محفوظ ہوگا۔
Ayah 69:23

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

(یعنی) اونچے (اونچے محلوں کے) باغ میں

22 ۔” فی جنۃ عالیۃ “ بلند۔
Ayah 69:24

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے

23 ۔” قطوفھا دانیۃ “ اس کے پھل قریب ہیں حاصل کرنے والے کے لئے ان کو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے حاصل کرلے گا اور جیسے چاہیں گے کاٹیں گے۔
Ayah 69:25

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

24 ۔ ان کو کہا جائے گا ” کلوا واشربوا ھنیئا بما اسلفتم “ تم نے اپنی آخرت کے لئے جو نیک اعمال آگے بھیجے۔ ” فی الایام الخالیۃ “ گزشتہ مراد دنیا کے ایام ہیں۔
Ayah 69:26

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور جس کا نامہ (اعمال) اسکے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا (اعمال) نامہ نہ دیا جاتا

25 ۔” واما من اوتی کتابہ بشمالہ “ ابن سائب (رح) فرماتے ہیں اس کا بایاں ہاتھ اس کی پیٹھ کے پیچھے لپیٹ دیا جائے گا۔ پھر اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا اور کہا گیا ہے کہ اس کا بایاں ہاتھ اس کے سینے سے کھینچا جائے گا، اس کی پیٹھ کے پیچھے کی طرف پھر اس کو اعمال نامہ دیا جائے گا۔ ” فیقول یالیتنی لم اوت کتابیہ “ تمنا کرے گا کہ اس کو اعمال نامہ نہ دیا جاتا کیوں کہ اس میں اپنے برے اعمال دیکھے گا۔
Ayah 69:27

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے ؟

26 ۔” ولم ادر ما حسابیہ۔
Ayah 69:28

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

اے کاش موت (ابدالاآباد کیلئے میرا کام) تمام کرچکی ہوتی

27 ۔” یالیتھا کانت القاضیۃ “ کہے گا کاش وہ موت آجائے جو دنیا میں ہوت تھی ہر بعد والی چیز کا فیصلہ کرنے والی اور زندگی کو ختم کرنے والی۔ پس میں اس کے بعد زندہ نہ رہوں اور ” قاضیۃ “ موت ہے اس کے بعد زندگی نہ ہو تمنا کرے گا کہ وہ حساب کے لئے نہ اٹھایا گیا ہوتا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں موت کی تمنا کرے گا۔ اگرچہ اس کے ہاں دنیا میں موت سے زیادہ ناپسندید چیز کوئی نہ تھی۔
Ayah 69:29

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

(آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا۔

28 ۔” مااغنی عنی مالیۃ “ مجھ سے اللہ کے عذاب کو تھوڑا سا بھی دور نہیں کررہا ۔
Ayah 69:30

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

(ہاے) میری سلطنت خاک میں مل گئی

29 ۔” ھلک عنی سلطانیہ “ مجھ سے میری دلیل گم ہوگئی۔ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے نزدیک اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں مجھ سے میرا ملک اور قوت چلی گئی۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی جب اس کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے شرک کی اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں کو کہیں گے۔
Ayah 69:31

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو .

30 ۔” خذوہ فغلوہ “ تم اس کے ہاتھ گردن پر جمع کردو۔
Ayah 69:32

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر اسے دوزخ کی آگ میں جھونک دو

31 ۔” ثم الجحیم صلوٰۃ “ یعنی تم اس کو جہنم میں داخل کردو۔
Ayah 69:33

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

پھر زنجیر سے جس کی ناب ستر گز ہے جکڑ دو

32 ۔” ثم فی سلسلۃ زرعھا سبعون ذراعا فاسلکوہ “ پس تم اس کو اس میں داخل کردو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ستر گز فرشتے کے گز کے ہوں گے ۔ پس اس کی دبر میں داخل ہوں اور نتھنوں سے نکلیں گے اور کہا گیا ہے اس کے منہ میں داخل ہوں اور دبر سے نکلیں گے اور نوف بکالی فرماتے ہیں سترگز، ہرگز ستر باع کا، ہر باع تیرے اور مکہ کے درمیان فاصلہ سے زیادہ ہے اور وہ اس وقت کوفہ کے صحن میں تھے اور سفیان (رح) فرماتے ہیں ہرگز ستر گز کا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں کہ یہ کون سا گز ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس کی مثل اضافہ اور لکڑی کے پیالہ کی طرف اشارہ کیا آسمان سے زمین کی طرف چھوڑا جائے حالانکہ وہ پانچ سو سال کی مسافت ہے تورات سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گا اور اگر وہ اس سلسلہ کے اوپر سے چھوڑا جائے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے تو یہ چالیس سال رات ودن چلتا رہے گا۔ اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے اور کعب (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں اگر دنیا کا تمام لوہا جمع کر لیاجائے تو اس کے ایک حلقہ (کڑی) کے برابر وزن نہ ہوگا۔
Ayah 69:34

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

یہ نہ تو خدائے جل شانہ پر ایمان لاتا تھا

33 ۔” انہ کان لا یومن باللہ العظیم۔
Ayah 69:35

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا۔

34 ۔” ولا یحض علی طعام المسکین “ مسکین کو دنیامیں کھانا نہ کھلاتا تھا اور نہ اپنے گھر والوں کو اس کا حکم کرتا تھا۔
Ayah 69:36

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوست دار نہیں .

35 ۔” فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم “ قریبی جو اس کو نفع دے اور اس کی سفارش کرے۔
Ayah 69:37

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

اور نہ پیپ کے سوا (اسکے لئے) کھانا ہے

36 ۔” ولا طعام الا من غسلین “ اور وہ اہل جہنم کی پیپ ہے۔ یہ غسل سے ماخوذ ہے۔ گویا کہ یہ ان کے زخموں اور پھنسیوں کا نچوڑ (دھو ون) ہے۔ ضحاک اور ربیع رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ درخت ہے جس کو جہنمی لوگ کھائیں۔
Ayah 69:38

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

جس کو گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائیگا

37 ۔” لا یاکلہ الا الخاطئون “ یعنی کافر لوگ۔
Ayah 69:39

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں

38 ۔” فلا اقسم “ لا مشرکین کے کلام کی تردید ہے۔ گویا کہ کہا کہ معاملہ ویسے نہیں ہے جیسے مشرکین کہتے ہیں میں قسم کھاتا ہوں۔ ” بما تبصرون “۔
Ayah 69:40

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

اور انکی جو نظر نہیں آتی

39 ۔” وما لا تبصرون “ یعنی جو تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں میں تمام اشیاء کی قسم کھاتا ہوں۔ پس اس میں تمام تکوینی اور موجود چیز میں داخل ہوجائیں گی اور کہا میں دنیا اور آخرت کی قسم کھاتا ہوں اور کہا گیا ہے جو تم دیکھتے زمین کے اوپر جو کچھ ہے اور جو تم نہیں دیکھتے جو زمین کے اندر ہے اور کہا گیا ہے جو تم جسموں میں سے دیکھتے ہو اور جو تم روحوں کو نہیں دیکھتے اور کہا گیا ہے ” ماتبصرون “ انسانوں کو۔ ” ومالاتبصرون “ فرشتوں اور جنوں کو اورکہا گیا ہے ظاہری اور باطنی نعمتیں۔ اور کہا گیا ہے ” ماتبصرون “ جو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور لوح وقلم کے لئے ظاہر کیا ہے۔ ” ومالا تبصرون “ جو اپنا علم اختیار کیا ہے اس پر کسی کو مطلع نہیں کیا۔