Ayah 70:1سورة المعارج
مکی ہے اور اس کی پینتالیس 45 آیات ہیں
Ayah 70:21 ۔” سال سائل “ اہل مدینہ اور اہل شام نے ” سال “ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ پس جس نے ہمزہ پڑھا ہے پس وہ ” سئوال “ سے ہے اور جس نے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے کہا گیا ہے کہ یہ ” سئوال “ کی لغت ہے ۔ کہا جاتا ہے ” سال یسال “ خاف یخاف کی مثل یعنی سال یسال ہمزہ کی تخفیف کرتے ہوئے اس کو ہمزہ بنادیا ہے اور کہا گیا ہے یہ سیل سے ہے اور سال جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے۔ یہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا گیا ہے اور پہلا قول اصح ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کے قول ” بعذاب “ کی باء میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے یہ ” عن “ کے معنی میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” فاسئل بہ خبیرا “ ہے یعنی ” عنہ خبیرا “ اور آیت کا معنی ” سال سائل عن عذاب “ سوال کیا سوال کرنے والے نے عذاب کے بارے میں۔ ” واقع “ اترنے والا ہوکر رہے گا جس پر اترے گا اور جس کے لئے یہ عذاب ہے۔
Ayah 70:32 ۔” اللہ تعالیٰ نے اس کو واضح کرتے ہوئے جواب دیا ” للکافرین “ اہل مکہ کو جب نبی کریم ﷺ نے عذاب کا خوف دلایا تو آپس میں کہنے لگے اس عذاب کا کون مستحق ہوگا ؟ اور کس کو ہوگا ؟ اور اس بارے میں محمد ﷺ سے پوچھو تو آپ (علیہ السلام) سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ ” سال سائل بعذاب واقع للکافرین “ یعنی وہ کافروں کے لئے ہے۔ یہ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور کہا گیا ہے کہ تاء صلہ ہے اور آیت کا معنی دعا مانگنے والے نے دعا مانگی اور سوال کرنے والے نے اس عذاب کے بارے میں سوال کیا جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے۔ للکافرین میں لام علیٰ کے معنی میں ہے اور وہ نضر بن حارث ہے کہ اس نے اپنے اوپر بددعا کی اور عذاب مانگا۔ پس کہنے لگا، اے اللہ ! اگر یہ حق ہے تیرے طرف سے (الخ) پس اس پر اترا بدر کے دن جس کا اس نے سوال کیا تھا تو باندھ کر قتل کیا گیا اور یہ ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) کے قول کا معنی ہے۔ ” لیس لہ دافع “۔
Ayah 70:43 ۔” من اللہ “ یعنی اللہ کی طرف سے عذاب کے ساتھ۔ ” ذی المعارج “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی آسمانوں والے نے اس کا نام معارج رکھا ہے اس لئے کہ فرشتے اس پر چڑھتے ہیں اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں درجات والا۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں فضیلتوں اور نعمتوں والا اور فرشتوں کے معارج والا۔
Ayah 70:54 ۔” تعرج الملائکۃ “ کسائی نے ” یعرج “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ ابن مسعود ؓ کی قرات ہے اور دیگر حضرات نے ” تعرج “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” والروح “ یعنی جبرئیل علیہ السلام۔ ” الیہ “ اللہ تعالیٰ کی طرف ” فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ “ دنیا کے سالوں سے اگر فرشتوں کے علاوہ بنو آدم میں سے کوئی چڑھے ۔ اللہ تعالیٰ کے امر کی انتہا سے ساتویں زمین کے نیچے سے اللہ تعالیٰ کے امر کی انتہا تک ساتویں آسمان کے اوپر سے تو وہ پچاس ہزار سال سے کم میں نہ چڑھے گا اور فرشتہ یہ سارا سفر ایک لحظہ میں طے کردے گا۔
مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں اگر بنو آدم دنیا سے عرش کی جگہ تک چلیں تو پچاس ہزار سال چلیں گے اور عکرمہ اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ قیامت کا دن ہے اور حسن (رح) نے بھی فرمایا ہے وہ قیامت کا دن ہے اور مراد یہ ہے کہ ان کا حساب کے لئے ٹھہرنا حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیں پچاس ہزار سال ہوگا دنیا کے سالوں سے ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ اس کی لمبائی کی مقدار یہ ہے نہ کہ اس کے غیر کی۔ اس لئے کہ قیامت کا دن اس کا اول ہے اور اس کا آخر نہیں ہے ۔ اس لئے کہ وہ لمبا دن ہے اور اگر اس کا آخر ہو تو وہ منقطع ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں وہ قیامت کا دن ہے کافروں پر ہوگا اس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو کہا گیا ” فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ “ کے بارے میں کہ اس دن کی لمبائی کیا ہوگی ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ مومن پر ہلکا کیا جائے گا حتیٰ کہ فرض نماز سے ہلکا ہوگا جو وہ دنیا میں پڑھتا تھا اور کہا گیا ہے اس کا معنی اگر کوئی بندوں کے حساب کا ولی ہو، اسی دن میں اللہ کے سوا تو اس سے پچاس ہزار سال میں فارغ نہ ہوگا اور یہ عطاء کے ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) سے قول کا معنی ہے۔
اورعطائؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے دنیا کے ایام میں سے نصف یوم کی مقدار میں فارغ ہوجائیں گے۔ کلبی (رح) سے روایت ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میں اس دن کے حساب کا مالک فرشتوں، جنوں اور انسانوں کو بنادوں اور ان کا حساب کی طاقت دے دوں تو وہ اس سے پچاس ہزار سال میں فارغ نہ ہوں گے اور میں اس سے دن کی ایک گھڑی میں فارغ ہوجائوں گا اور یمان (رح) فرماتے ہیں وہ قیامت کا دن ہے اس میں پچاس موطن ہیں ہر موطن ہزار سال کا ہے اور اس میں تقدیم و تاخیر ہے گویا کہ کہا ” لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج فی یوم کان مقدارہ خمسین الی سنۃ تعرج الملائکۃ والروح الیہ “۔
Ayah 70:65 ۔” فاصبر صبرا جمیلا “ اے محمد ! ( ﷺ ) ان کی تکذیب پر اور یہ قتال کا حکم دیئے جانے سے پہلے کی بات ہے۔
Ayah 70:76 ۔” انھم یرونہ بعیدا “ یعنی عذاب۔
Ayah 70:87 ۔” ونراہ قریبا “ اس لئے کہ جو آنے والی چیز ہے وہ قریب ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔
Ayah 70:98 ۔” یوم تکون السماء کالمھل “ زیتون کے تلچھٹ کی طرح اور حسن (رح) فرماتے ہیں جیسے چاندی جب پگھلائی جائے۔
Ayah 70:109 ۔” وتکون الجبال کالعھن “ رنگی ہوئی اون کی طرح اور ” عھن “ صرف رنگی ہوئی اون کو کہا جاتا ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں دھنکی ہوئی روئی کی طرح اور حسن (رح) فرماتے ہیں سرخ روئی کی طرح اور وہ کپاس میں کمزور ترین ہے اور پہلے جب پہاڑ متغیر ہوں گے تو وہ بچھی ہوئی ریت ہوجائیں گے۔ پھر دھنکی ہوئی روئی پھر ذرات ہوا میں اڑتے ہوئے۔
Ayah 70:1110 ۔” ولا یسال حمیم حمیما “ بزی نے ابن کثیر (رح) سے ” لا یسئل “ پڑھا ہے یاء کے پیش کے ساتھ یعنی دوست سے دوست کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا یعنی یہ نہ کہا جائے گا تیرا دوست کہاں ہے ؟ اور دیگر حضرات نے یاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کسی قریبی شخص سے اس کے قریبی لوگوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا اس کے اپنی حالت میں مشغول ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 70:1211 ۔” یبصرونھم “ وہ ان کو دیکھتے ہوں گے اور قیامت میں کوئی مخلوق نہیں ہے مگر اس کے جنوں و انسانوں میں سے ساتھی تک اس کی نگاہ پہنچے گی۔ پس آدمی اپنے والد اور اپنے بھائی اور قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا۔ پس اس سے سوال نہ کیا جائے گا اور اپنے دوست کو دیکھے گا۔ پس اس سے بات نہ کرے گا اپنی ذات میں مشغول ہونے کی وجہ سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دن کی ایک گھڑی میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے پھر اس کے بعد نہ پہچان پائیں گے اور کہا گیا ہے ” یبصرونھم “ وہ ان کو پہچانتے ہیں یعنی دوست دوسرے دوست کو دیکھے اور اس کو پہچان لے گا اور اس کے باوجود اس کی حالت نہ پوچھے گا اپنی حالت میں مشغول ہونے کی وجہ سے اور سدی (رح) فرماتے ہیں وہ ان کو پہچانیں گے۔ بہرحال مومن پس اپنے چہرے کی سفیدی وچمک کی وجہ سے اور بہرحال کافر تو اپنے چہرے کی سیاہی کی وجہ سے۔ ” یود المجرم “ مشرک تمنا کریں گے ” لو یفتدی من عذاب یومئذ ببنیہ “۔
Ayah 70:1312 ۔” وصاحبتہ “ اس کی بیوی ” واخیہ۔
Ayah 70:1413 ۔” وفضیلتہ “ اس کا خاندان جس سے وہ جدا ہوا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کا قبیلہ اور اس کے غیر نے کہا ہے اس کے قریبی رشتہ دار۔ ” التی تو ویہ “ یعنی اس کی طرف ٹھکانہ حاصل کرتا ہے۔
Ayah 70:1514 ۔” ومن فی الارض جمیعا “ دل سے چاہے گا کہ ان سب کے ذریعے اپنا فدیہ دے۔ ” ثم ینجیہ “ یہ فدیہ دینا اللہ کے عذاب سے۔
Ayah 70:1615 ۔” کلا “ اللہ کے عذاب سے کوئی چیز اس کی نجات نہ دے سکے گی، پھر ابتداء کرتے ہوئے فرمایا ” انھا لظی “ یہ جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور کہا گیا ہے یہ دوسرا درجہ ہے۔ اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ شعلے مارتا ہے۔
Ayah 70:17نزاعۃ للشویٰ کی تفسیر
16 ۔” نزاعۃ للشوی “ حفص نے عاصم (رح) سے ” نزاعۃ “ پڑھا ہے حال کی بناء پر منصوب ہے اور دیگر حضرات نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” ھی نزاعۃ للشوی “ اور وہ اطراف ، دونوں ہاتھ، دونوں پائوں ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں سر کی کھال کے لئے اور ابراہیم بن مہاجر نے ان سے روایت کیا ہے گوشت ہڈیوں کے بغیر۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں آگ اطراف کو کھینچ لے گی۔ پس نہ گوشت چھوڑے گی نہ کھال اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کھال اور گوشت کی ہڈیوں سے کھینچ لے گی۔ سعید بن جبیر (رح) کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ پٹھوں اور پیٹھ کے لئے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں سر سے دماغ تک پہنچ جائے گی اور سارا دماغ کھاجائے گی۔ پھر وہ لوٹ آئے گا جیسے تھا تو پھر وہ آگ لوٹے گی اس کو کھانے کے لئے اسی طرح معاملہ چلتا رہے گا۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کی تخلیق اور اعضاء میں سے عمدہ کے لئے۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں اس کے چہرے کے محاسن کے لئے اور ابن جریر (رح) فرماتے ہیں ” الشویٰ “ انسان کے زخم جو جائے قتل تک نہ پہنچے ہوں۔ کہا جاتا ہے ” رمی فاشویٰ “ جب تیرا عضاء کو لگے اور جائے قتل تک نہ پہنچے۔
Ayah 70:1817 ۔” تدعوا “ آگ اپنی طرف ” من ادبر “ ایمان سے۔ ” وتولی “ حق سے۔ پس آگ کہے گی میری طرف آ اے مشرک ! میری طرف آ اے منافق ! ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کافروں و منافقوں کو ان کے ناموں سے پکارے گی فصیح زبان میں پھر ان کو اٹھالے گی جیسے پرندہ دانہ کو چگ لیتا ہے۔ خلیل (رح) سے نقل کیا گیا ہے وہ فرماتے ہیں ” تدعوا “ یعنی عذاب دے گی اور کہتے ہیں ایک بدو نے دوسرے کو کہا دعاک اللہ یعنی تجھے اللہ عذاب دے۔
Ayah 70:1918 ۔” وجمع “ یعنی مال کو جمع کیا۔ ” فاوعی “ اس کو برتن میں روکا اور اس سے اللہ کا حق ادا نہیں کیا۔
Ayah 70:20خلق ھلوعا کی تفسیر
19 ۔” ان الانسان خلق ھلوعا “ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے فرماتے ہیں ” ھلوع “ اس چیز پر حریص جو اس کے لئے حلال نہیں ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں شجیح۔ اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں تنگ دل والا۔ ضحاک وحسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں بخیل اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں واویلا کرنے والا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں تنگ دل والا اور ” ھلع “ سخت لالچ اور کم صبر۔ عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کی تفسیر اس کے بعد والی آیت ہے۔
Ayah 70:2120 ۔” اذا مسہ الشرجزوعا۔
Ayah 70:2221 ۔” واذ مسہ الخیر منوعا “ یعنی جب اس کو فقر پہنچے تو صبر نہ کرے اور جب اس کے پاس مال آئے تو خرچ نہ کرے۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا جو چیز اس کو اچھی لگے اس کو پسند کرتا ہے اور جو ناپسند ہو اس سے بھاگتا ہے۔ پھر اس کو پابند کیا، پسندیدہ چیز کو خرچ کرنے اور ناپسند چیز پر صبر کرنے پر۔
Ayah 70:2322 ۔ پھر استثناء کرتے ہوئے فرمایا ” الاالمصلین “ جمع کا واحد سے استثناء کیا ہے اس لئے کہ انسان جمع کے معنی میں ہے۔
Ayah 70:2423 ۔” الذین ھم علی صلاتھم دائمون “ ان نمازوں کو ان کی اوقات میں ادا کرتے ہیں ۔ ابوالخیر کہتے ہیں ہم نے عقبہ بن عامر ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” الذین ھم علی صلاتھم دائمون “ کے بارے میں پوچھا، کیا وہ لوگ ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں ؟ فرمایا نہیں لیکن جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو اپنے دائیں اور بائیں اور اپنے پیچھے متوجہ نہیں ہوتے۔
Ayahs 70:25–3324 ۔…” والذین فی اموالھم حق معلوم 25 ۔ للسائل والمحروم 26 ۔ والذین یصدقون بیوم الدین۔
Ayah 70:3433 ۔ والذین ھم بشھاداتھم قائمون “ حفص نے عاصم اور یعقوب رحمہما اللہ سے ” بشھاداتھم “ جمع کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” بشھادتھم “ واحد پڑھا ہے۔ ” قائمون “ یعنی اس میں حق کے ساتھ قائم ہوتے ہیں اور اس کو چھپاتے نہیں ہیں اور تبدیل بھی نہیں کرتے۔
Ayah 70:3534 ۔” والذین ھم علی صلواتھم یحافظون۔
Ayah 70:3635 ۔ اولئک فی جات مکرمون “۔
Ayah 70:3736 ۔” فمال الذین کفروا “ یعنی ان لوگوں کا کیا حال ہے جنہوں نے کفر کیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” فمالھم عن التذکرۃ معرضین “…” قبلک مھطعین “ دوڑانے والے تیری طرف متوجہ ہونے والے اپنی گردنیں کھینچنے والے اور تیری طرف نگاہ ٹکانے والے تیری طرف جھانکنے والے۔ یہ کفار کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ نبی کریم ﷺ کے ارد گرد جمع ہوجاتے تھے آپ (علیہ السلام) کی کلام کو سنتے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ استہزاء کرتے تھے اور آپ (علیہ السلام) کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو کیا ہوگیا ہے آپ کی طرف دیکھتے ہیں اور آپ ﷺ کے پاس بیٹھتے ہیں اور جو سنتے ہیں اس سے نفع نہیں اٹھاتے۔
Ayah 70:3837 ۔” عن الیمین وعن الشمال عزین “ حلقے اور گروہ۔ اور عزون متفرق جماعتیں اس کا واحد عزۃ ہے۔
Ayah 70:3938 ۔” ایطمع کل امری منھم ان یدخل جنۃ نعیم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کا معنی کیا ان میں سے ہر آدمی طمع کرتا ہے کہ میری جنت میں داخل ہوگا جیسے کہ مسلمان داخل ہوں گے اور اس میں نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور نبی کریم ﷺ نے غلط کہا ہے ؟
Ayah 70:4039 ۔” کلا “ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ پھر ابتداء کی اور فرمایا : ” انا خلقناھم مما یعلمون “ یعنی نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، لوگوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ایک اصل سے پیدا کیے گئے ہیں اور ان کا باہم فضیلت رکھنا اور جنت کا مستحق ہونا ایمان وطاعت کی وجہ سے ہے۔
بشر بن حجاش ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور اپنی ہتھیلی میں لعاب ڈالا اور اس پر انگلی رکھی اور پھر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم ! تو مجھے کیسے عاجز کرسکتا ہے حالانکہ میں نے تجھے اس کی مثل سے پیدا کیا ہے حتیٰ کہ جب گلے تک پہنچا تو تو نے کہا میں صدقہ کرتا ہوں اور اب کہا صدقہ کا وقت ہے ؟ اور کہا گیا ہے اس کا معنی بیشک ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس وجہ سے جو وہ جانتے ہیں اور ورہ امرونہی، ثواب و عقاب ہے اور کہا گیا ہے کہ ” ما “ …” من “ کے معنی ہے اس کا مجاز ” انا خلقنا ھم ممن یعلمون ویعقلون کالبھائم “۔