71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة نوح مکی ہے اور اس کی اٹھائیس آیات ہیں
Ayah 71:2

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کر طرف بھیجا کہ پیشتر اسکے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو

1 ۔” انا ارسلنا نوحا الی قومہ ان انذر قومک “…” بان انذر قومک من قبل ان یاتیھم عذاب الیم “ معنی بیشک ہم نے ان کو بھیجا تاکہ وہ ان کو عذاب سے ڈرائیں اگر وہ ایمان نہ لائیں۔
Ayah 71:3

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بھائیوں میں تم کو کھلے طور پر نصحیت کرتا ہوں

2 ۔” قال یا قوم انی لکم نذیر مبین “ میں تمہیں ڈراتا ہوں اور تمہارے لئے بیان کرتا ہوں۔
Ayah 71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو

3 ۔” ان اعبدوا اللہ واتقوہ واطیعون۔
Ayah 71:5

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دیگا اور (موت کے) وقت مقرر تک تم کو مہلت عطا کرے گا جب خدا کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تم جانتے ہوتے

4 ۔” یغفرلکم من ذنوبکم “ من صلہ ہے یعنی ” یغفرلکم ذنوبکم “ اور کہا گیا ہے یعنی جو تمہارے گناہوں میں سے پہلے ہوچکے ایمان لانے کے وقت تک اور یہ ان کے بعض گناہ ہیں۔ ” ویو خرکم الی اجل مسمی “ وہ تمہیں عافیت دے گا تمہاری مدتوں کے ختم ہونے تک۔ پس تم پر عقاب نہ کرے گا۔ ” ان اجل اللہ اذا جاء لایو خرلو کنتم تعلمون “ فرماتے ہیں تم موت سے پہلے ایمان لے آئو عذاب سے محفوظ رہوگے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اجل جب آتا ہے تو موخر نہیں ہوتا اور تمہیں ایمان لانے کی قدر نہ دے گا۔
Ayah 71:6

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

جب لوگوں نے نہ مانا تو نوح نے خدا سے عرض کیا کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا

5 ۔” قال رب انی دعوت قومی لیلا ونھارا۔
Ayah 71:7

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ گریز کرتے رہے

6 ۔” فلم یزدھم دعائی الافرارا “ بھاگنا اور ایمان سے پیٹھ پھیرنا۔
Ayah 71:8

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

جب جب میں نے انکو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے

7 ۔” وانی کلما دعوتھم “ آپ پر ایمان لانے کی طرف۔ ” لتغفر لھم جعلوا اصابعھم فی آذانھم “ تاکہ وہ میری دعوت نہ سن سکیں۔ ” واستغشوا ثیابھم “ ان کے ذریعے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ وہ مجھے نہ دیکھیں۔ ” واصبروا “ اپنے کفر پر۔” واستکبروا “ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے ۔ ” استکبارا “۔
Ayah 71:9

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا

8 ۔” ثم انی دعوتھم جھارا “ اس کا معنی ہے دعاء کے ساتھ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اپنی بلند آواز سے۔
Ayah 71:10

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

اور ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا

9 ۔” ثم انی اعلنت لھم “ یعنی دعاء کا اعلانیہ تکرار کیا۔ ” واسررت لھم اسرارا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ایک ایک آدمی کو آہستہ دعوت دی، اس کو آپ کی دعوت اور توحید کی طرف بلایا۔
Ayah 71:11

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

اور کہا اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے

10 ۔” فقلت استغفروا ربکم انہ کان غفارا۔
Ayah 71:12

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا .

11 ۔” یرسل السمآء علیکم مدرارا “ اور یہ کہ قوم نوح (علیہ السلام) نے جب لمبا زمانہ ان کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی اور عورتوں کو بانجھ کردیا چالیس 40 سال تو ان کی اولاد ، مال اور مویشی ہلاک ہوگئے تو ان کو نوح (علیہ السلام) نے کہا تم اپنے رب سے شرک سے معافی طلب کرو یعنی مغفرت طلب کرو توحید اپنا کر۔ وہ تم پر آسمان سے بہت زیادہ بارش بھیجے گا۔ شعبی (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ لوگوں کے ساتھ بارش طلب کرنے نکلے، پس استغفار کیا اور لوٹ آئے تو ان کو کہا گیا ہم نے آپ ؓ کو بارش طلب کرتے تو نہیں سنا ؟ تو آپ ؓ نے کہا میں نے بارش ک و آسمان کے مجاریع سے طلب کیا ہے جن سے بارش اتاری جاتی ہے۔ پھر پڑھا ہے۔
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کریگا (اور ان مییں) تمہارے لئے نہریں بہاوے گا

12 ۔” استغفروا ربکم انہ کان غفارا۔ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ ۔
Ayah 71:14

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے

13 ۔” ویمدد کم ب اموال وبنین “ عطائؒ فرماتے ہیں تمہارے اموال کو اولاد کو زیادہ کردے گا۔” ویجعل لکم جنات ویجعل لکم انھارا۔ مالکم لا ترجون للہ وقارا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تم اللہ کی عظمت نہیں دیکھتے ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی تعظیم نہیں کرتے جیسا کہ اس کی تعظیم کا حق ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں تم اللہ سے نہیں ڈرتے جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور رجاء خوف کے معنی میں ہے اور وقار، عظمت، توقیر سے اسم ہے اور وہ تعظیم کرنا ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں تم اللہ کا حق نہیں پہچانتے اور تم اس کی نعمت کا شکرادا نہیں کرتے۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کی عبادت میں یہ امید نہیں کرتے کہ وہ تمہیں ثواب دے گا، تمہارے اس کی توقیر کرنے پر۔
Ayah 71:15

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے

14 ۔” وقد خلقکم اطوارا “ کئی مرتبہ ایک حال کے بعد دوسرے حال میں نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ مکمل تخلیق ہونے لک۔
Ayah 71:16

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں

15 ۔” الم تروا کیف خلق اللہ سبع سماوات طباقا، وجعل القمر فیھن نورا “ حسن (رح) فرماتے ہیں یعنی آسمان دنیا میں ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اتیت بنی تمیم “ حالانکہ تو ان میں سے بعض کے پاس گیا ہوتا ہے۔ وہ فلان متوارفی دور بنی فلان فلاں بنو فلاں کے گھروں میں چھپا ہوا ہے حالانکہ وہ ایک گھر میں ہوتا ہے اور عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں بیشک سورج و چاند ان دونوں کا رخ آسمانوں کی طرف ہے اور سورج کی روشنی اور چاند کا نور ان میں ہے اور ان کی گدیاں زمین کی طرف ہیں اور یہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے۔
Ayah 71:17

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور چاند کو ان میں (زمین) کا نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھیرایا ہے

16 ۔” وجعل الشمس سراجا “ روشن چراغ۔
Ayah 71:18

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

17 ۔” واللہ انبتکم من الارض نباتا “ اسم ہے مصدر کی جگہ رکھا گیا ہے یعنی نباتا۔ خلیل (رح) فرماتے ہیں اس کا مجاز ” فنبتم نباتا “ ہے۔
Ayah 71:19

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

پھر اسی میں تمہیں لوٹا دیگا اور (اسی سے) تم کو نکال کھڑا کرے گا

18 ۔” ثم یعید کم فیھا “ موت کے بعد۔ ” ویخرجکم “ اس سے بعث کے دن زندہ۔ ” اخراجا “۔
Ayah 71:20

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا

19 ۔” واللہ جعل لکم الارض بساطا “ اس کو تمہارے لئے بچھایا۔
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو

20 ۔” لتسلکوا منھا سبلا فجاجا “ کشادہ راستوں پر۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

(اسکے بعد) نوح نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے ہیں جن کو انکے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا

21 ۔” قال نوح رب انھم عصونی “ یعنی میری دعوت کو قبول نہیں کیا۔ ” واتبعوا من لم یزدہ مال وولدہالا خسارا “ یعنی فقراء اور نچلے طبقہ کے لوگوں نے قائدین اور سرداروں کی اتباع کی جن کو ان کے مال اور اولاد کی کثرت نے صرف دنیا میں گمراہی اور آخرت میں سزا زیادہ کی تھی۔
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے

22 ۔” ومکروا مکرا کبارا “ یعنی کبیر وعظیم۔ کہا جاتا ہے کبیر اور کبار تخفیف کے ساتھ اور کبار سد کے ساتھ۔ شد مبالغہ کے لئے دی گئی ہے اور تمام ایک معنی میں ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے امر عجیب وعجاب وعجاب شد کے ساتھ، مبالغہ میں اشد ترین اور ان کے مکر میں اختلاف کیا ہے۔ ابن عباس ؓ فرمتاے ہیں انہوں نے بہت بڑی بات کہی۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں اللہ پر جھوٹ گھڑ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور کہا گیا ہے کہ رئوسا نے اپنے پیروکاروں کو نوح (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے روکا اور ان کو قتل پر ابھارا۔
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

23 ۔” وقالوا “ ان کو ” لا تذرن آلھتکم “ یعنی ان کی عبادت کو۔ ” ولا تذرن ودا “ اہل مدینہ نے دائود کے پیش کے ساتھ اور باقی حضرات نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ولا سواعا ولا یغوث ویعوق ونسرا “ یہ ان کے معبودوں کے نام ہیں۔ یغوث ویعوق اور ونسرا کی تفسیر محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں یہ نیک لوگوں کے نام ہیں جو نوح اور آدم (علیہما السلام) کے درمیان گزرے پس جب یہ مرگئے تو ان کے متبعین تھے جو ان کی پیروی کرتے تھے اور ان کے بعد عبادت میں ان کا طریقہ اپناتے تھے۔ پس ان کے پاس ابلیس آیا اور ان کو کہا اگر تم ان نیک لوگوں کی صورتیں بنالو تو یہ عبادت میں تمہاری چستی اور شوق کا سبب بنے گا۔ انہوں نے ایسا کیا پھر ان کے بعد جو قوم آئی ان کو ابلیس نے کہا تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ انہی صورتوں کی عبادت کرتی تھے تم بھی ان کی عبادت کرو تو بتوں کی عبادت کی ابتداء ہوگئی اور ان صورتوں کو یہ نام دیئے گئے تھے اس لئے کہ انہوں نے ان مسلمان لوگوں کی جیسی صورتیں بنائی تھیں۔ عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ بت جو قوم نوح میں معبود تھے وہی عرب میں ان کے بعد معبود بنے۔ بہرحال ودیہ کلب کا تھا دمۃ الجندل میں اور سواع ہذیل کا تھا اور یغوث مراد کا تھا پھر بنو غطیف کا بنا جو سبا کے پاس جرف مقام میں ہیں اور یعقوق یہ ہمدان کا تھا اور نسر یہ حمیرآل ذی الکلاع کا تھا اور یہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگوں کے نام تھے۔ پس جب یہ مرگئے تو شیطان نے ان کی قوم کو وحی کی کہ تم ان کو خصوصی نشست گاہوں میں ان کے بت گاڑھ دو اور ان کو ان نیک لوگوں کے نام دے دو تو انہوں نے ایسا کیا لیکن ان کی عبادت نہیں کی گئی۔ پھر جب یہ لوگ مرگئے اور علم ختم ہوگیا تو ان کی عبادت کی گئی۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ ان بتوں کو طوفان نے دفن کردیا تھا، ان پر مٹی ڈال کر۔ پس یہ دفن ہی رہے کہ ان شیطان نے مشرکین عرب کے لئے نکالا اور عرب دوسرے بت تھے پس لات ثقیف کا تھا اور عزیٰ سلیم، غطفان اور جشم کا اور مناۃ قدید کا اور ایساف اور نائلہ اور ھبل اہل مکہ کے تھے۔
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

(پروردگار) انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے اور تو ان کو اور گمراہ کر دے

24 ۔” وقد اضلوا کثیرا “ یعنی بتوں کی وجہ سے بہت سے لوگ گمراہ ہوگئے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” رب انھن اضللن کثیرا من الناس “ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان کے بڑوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ ” ولا تزد الظالمین الا ضلالا “ یہ ان پر بددعا ہے۔ اس کے بعد جب نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنادیا کہ وہ ایمان نہ لائیں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” انہ لن یومن من قومک الا من قدآمن “۔
Ayah 71:26

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب ہی غرقاب کردیے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا

25 ۔” مما خطیئاتھم “ یعنی ان کی خطائوں میں سے۔ اور (ما) صلہ ہے اور ابوعمرو نے ” خطایاھم “ پڑھا ہے اور یہ دونوں ” خطیئۃ “ کی جمع ہیں۔ ” اغرقوا “ طوفان کے ساتھ۔ ” فادخلوانار “ اضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ دنیا میں ایک حالت میں ہوا کہ ایک جانب سے غرق کیے گئے اور دوسری جانب سے جلائے گئے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ” فادخلوانارا “ یعنی آخرت میں۔ ” فلم یجدوالھم من دون اللہ انصارا “ یعنی کسی ایک کو نہیں پایا جو ان کو اللہ واحد قہار کے عذاب سے بچائے۔
Ayah 71:27

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اور (پھر) نوح نے (یہ) دعا کی کہ اے میرے پروردگار کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے

26 ۔” وقال نوح رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا “ کوئی ایک جو زمین میں چکر لگائے ، پس جائے اور آئے دوران سے ہے اور قتیبی (رح) فرماتے ہیں اس کی اصل دار سے ہے یعنی گھر میں اترنے والا۔
Ayah 71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اگر تو انکو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی

27 ۔” انک ان تذرھم یضلوا عبادک “ ابن عباس ؓ ، کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے بیٹے کے ساتھ نوح (علیہ السلام) کے پاس جاتا اور کہتا اس سے بچ کر رہنا یہ بڑا جھوٹا ہے اور میرے باپ نے بھی مجھے اس سے روکا تھا۔ پس بڑے مرجاتے اور چھوٹے اس حالت پر پیدا ہوتے۔ ” ولا یلدوا الا فاجرا کفارا “ محمد بن کعب، مقاتل اور ربیع اور ان کے علاوہ حضرات کہتے ہیں کہ نوع (علیہ السلام) نے یہ تب کہا جب اللہ تعالیٰ نے ہر مومن کو ان کی پشتوں سے نکال لیا اور ان کی بیویوں کے رحموں سے اور ان کی عورتوں کے رحموں کو بانجھ کردیا اور ان کے مردوں کی پشتوں کو خشک کردیا عذاب سے چالیس سال پہلے۔ اورکہا گیا ہے ستر سال پہلے اور اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو خبر دی کہ وہ ایمان نہ لائے گے اور کسی مومن کو نہ جنیں گے۔ پس اس وقت نوح (علیہ السلام) نے ان پر بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرلی اور ان تمام کو ہلاک کردیا اور عذاب کے وقت ان میں کوئی چھوٹا بچہ نہ تھا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” وقوم نوح لما کذبوا الرسل اغرقناھم “ اور بچوں سے تو تکذیب نہیں پائی جاسکتی۔