Ayah 72:1سورة جن
مکی ہے اور اس کی اٹھائیس 28 آیات ہیں
Ayah 72:21 ۔” قل اوحی الی انہ استمع نفرمن الجن “ اور یہ نو تھے نصیبین کے جنوں میں سے اور کہا گیا ہے سات تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی قرات توجہ سے سنی۔ ہم ان کا واقعہ سورة الاحقاف میں بیان کرچکے ہیں۔ ” فقالوا “ جب اپنی قوم کی طرف لوٹے۔ ” انا سمعنا قرانا عجبا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” بلیغا “ یعنی قرآن ذاعجب اس کی بلاغت کی وجہ سے تعجب کیا جاتا ہے۔
Ayah 72:32 ۔” یھدی الی الرشد “ وہ توحید وایمان سے درستگی کی طرف بلاتا ہے۔ ” فامنا بہ ولن نشرک بربنا احدا “
Ayah 72:43 ۔” وانہ تعالیٰ جد ربنا “ اہل شام اور اہل کوفہ نے ابوبکر کے علاوہ عاصم سے۔” وانہ تعالیٰ “ ہمزہ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح اس کے بعد باری تعالیٰ کے قول ” وانا منا المسلمون “ تک۔ اور دیگر حضرات نے ان کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور ابوجعفر ن ان میں سے ” وانہ “ کو زبر دی ہے جو وحی پر رد کیا گیا ہے اور جو جنوں سے حکایت ہے اس کو زیر دی ہے اور پسندیدہ سب میں کسرہ پڑھنا ہے اس لئے کہ یہ جنوں کا اپنی قوم کو قول ہے۔ پس یہ معطوف ہے اس کے قول ” فقالوا انا سمعنا قرآنا عجبا “ پر اور انہوں نے کہا ” وانہ تعالیٰ “ اور جس نے فتحہ دیا ہے اس نے عطف باری تعالیٰ کے قول ” فآمنا بہ “ پر ڈالا ہے اور ہم اس تمام پر ایمان لائے۔ پس ” ان “ کو فتحہ دیا گیا ہے اس پر ایمان واقع ہونے کی وجہ سے۔
” جد ربنا “ ہمارے رب کا جلال و عظمت، اس کو مجاہد، عکرمہ اور قتادہ رحمہم اللہ نے کہا ہے کہا جاتا ہے ” جدالرجل “ یعنی عظیم ہوگیا اور اسی سے انس ؓ کا قول ہے جب کوئی آدمی ہم میں سے سورة البقرہ اور آل عمران پڑھ لیتا تو ” جدقینا “ یعنی اس کا مرتبہ عظیم ہوجاتا اور سدی (رح) فرماتے ہیں ” جدربنا “ یعنی ہمارے رب کا امر اور حسن (رح) فرماتے ہیں ہمارے رب کا تمنی اور اسی سے جد کو حظ بمعز حصہ کہا جاتا ہے اور جل مجدود اور ابن عباس ؓ نے کہا ہے ہمارے رب کی قدرت ۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں اس کا فعل۔ قرظی (رح) فرماتے ہیں اس کی نعمتیں اس کی مخلوق پر اور اخفش (رح) فرماتے ہیں ہمارے رب کا مالک بلند ہوگیا۔ ” مااتخذ صاحبۃ ولا ولدا “ کہا گیا ہے اس کا جلال وعظتم بلند ہے اس سے کہ وہ کوئی بیوی یا اولاد بنائے۔
Ayah 72:54 ۔” وانہ کان یقول سفیھنا “ وہ ابلیس ہے۔ ” علی اللہ شططا “ جھوٹ اور ظلم اور وہ اللہ تعالیٰ کو شریک اور اولاد کے ساتھ موصوف کرنا۔
Ayah 72:65 ۔” وانا ظننا “ ہم نے گمان کیا۔ ” ان لن تقول الانس والجن “ یعقوب نے ” تقول “ وائو کی زبر اور اس کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” علی اللہ کذبا “ یعنی ہم ان کو ان کے اس قول میں کہ ” اللہ تعالیٰ نے بیوی اور اولاد بنائی ہے “ گمان کرتے تھے حتیٰ کہ ہم نے قرآن سن لیا۔
Ayah 72:76 ۔” وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن “ کیونکہ کوئی آدمی عرب میں سے جاہلیت میں جب سفر کرتا تھا پس اس وادی میں چٹیل زمین میں شام کرتا تو کہتا میں سردار کی پناہ مانگتا ہوں اس کی قوم کے بیوقوفوں سے تو وہ ان میں امن وپڑوس میں رات گزارتا صبح تک۔ کردم بن ابوسائب انصاری (رح) فرماتے ہیں میں اپنے والد کے ساتھ مدینہ کی طرف نکلا، کسی ضرورت کی وجہ سی اور یہ ابتدائی بات تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا مکہ میں تذکرہ ہورہا تھا۔ پس ہم نے رات کو ایک بکریوں کے چرواہے کے پاس ٹھکانہ حاصل کیا۔ جب آدھی رات ہوئی تو ایک بھیڑیا آیا اور بکری کا ایک بچہ پکڑ لیا تو چرواہا کو دا اور اے وادی کے عامر تیرا پڑوسی تو آواز لگانے والے نے آواز لگائی جس کو ہم نے نہیں دیکھا، کہا اے بھیڑئیے اس کو چھوڑ دے تو بکری کا بچہ بھاگتا آیا اور ریوڑ میں داخل ہوگیا اور اس کو ہلکا سا زخم بھی نہ لگا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر مکہ میں اتارا ” وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوھم “ یعنی انسانوں نے جنوں کے سردار سے پناہ مانگ کر ان کو زیادہ کردیا۔ ” رھقا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں گناہ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں سرکشی اور حسن (رح) فرماتے ہیں شر۔ ابراہیم رحمہما اللہ فرماتے ہیں عظمت کیونکہ وہ اس پناہ مانگنے کی وجہ سے سرکشی میں بڑھتے جارہے تھے، وہ کہتے تھے ہم جنوں و انسانوں کے سردار ہوگئے اور ” رھق “ کلام عرب میں گناہ اور محارم کا ارتکاب کرنا ہے۔
Ayah 72:87 ۔” وانھم ظنوا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بیشک جنوں نے گمان کیا۔ ” کما ظننتم “ اے انسانوں میں سے کافروں کی جماعت۔ ” ان لن یبعث اللہ احمدا “ اس کے مرنے کے بعد۔
Ayahs 72:9–108 ۔” وانا “ جن کہنے لگے۔ ” لمسنا السمآء “ کلبی (رح) فرماتے ہیں آسمان دنیا ” فوجدناھا ملئت حرسا شدیدا “ اس کا گھات لگایا ہے تاکہ اس کو مارے۔ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں بیشک مارنا نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے تھا اور آپ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد سخت چوکیداری کی کوئی مشال ہی نہیں ہے اور وہ بعض حالات میں بات چرالیتے تھے، پھر جب نبی کریم ﷺ کو بھیجا گیا تو وہ اس سے بالکل روک دیئے گئے۔ پھر انہوں نے کہا۔
Ayah 72:1110 ۔” وانا لاندری اشرارید بمن فی الارض “ شہاب ثاقب کے مارنے کے ذریعے سے۔ ” ام ارادبھم ربھم رسدا “۔
Ayah 72:1211 ۔” وانا منا الصالحون ومنا دون ذلک “ نیک لوگوں کے علاوہ۔ ” کنا طرائق قددا “ یعنی متفرق جماعتیں اور مختلف قسمیں اور ” قدۃ “ کسی چیز کا ٹکڑا کہا جاتا ہے ” صارا لقوم قددا “ جب ان کے حالات مختلف ہوں اور اس کی اصل قد سے ہے اور وہ کاٹنا ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ان کی مراد مسلمان وکافر تھے اور کہا گیا ہے مختلف خواہشات والے اور حسن اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں جن تمہاری طرح ہیں پس ان میں سے قدریہ ، مرجئہ اور رافضہ ہیں اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں گروہ فرقے ہر فرقہ کی خواہش نفس تھی لوگوں کی خواہشات کی طر ح اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں مختلف رنگ کے اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں قسمیں۔
Ayah 72:1312 ۔” وانا ظننا “ ہم نے جانا اور یقین کیا۔ ” ان لن نعجز اللہ فی الارض “ یعنی ہم اس سے نہیں چھوٹ سکتے، اگر وہ ہمارے بارے میں کسی امر کا ارادہ کرے۔ ” ولن نعجزہ ھربا “ اگر وہ ہمیں طلب کرے۔
Ayah 72:1413 ۔” وانا لما سمعنا الھدی “ قرآن اور جس کو محمد ﷺ لائے ہیں۔ ” آمنا بہ فمن یومن بربہ فلا یخاف بخسا “ اپنے عمل اور ثواب میں نقصان کا۔ ” ولا رھقا “ پیاس کا اور کہا گیا ہے ناپسند چیز کا جو اس کو ڈھانپ لے گی۔
Ayah 72:1514 ۔” وانا منا المسلمون “ یہ وہ لوگ ہیں جو محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ ” ومنا القاسطون “ ظالم حق سے اعراض کرنے والے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جن لوگوں نے اللہ کے لئے شریک بنایا۔ کہا جاتا ہے ” اقسط الرجل اذا عدل “ جب وہ انصاف کرے ” فھومسقط وقسط “ جب وہ ظلم کرے ” فھوقاسط “…” فمن اسلم فاولئک تحروا رسدا “ یعنی انہوں نے حق کے راستہ کا ارادہ کیا۔
Ayah 72:1615 ۔” واما القاسطون “ جنہوں نے کفر کیا۔ ” فکانوا لجھنم حطبا “ وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے قیامت کے دن۔
Ayah 72:1716 ۔” پھر کفار مکہ کی طرف لوٹے اور فرمایا ” وان لو استقاموا علی الطریقۃ “ اس کی تاویل میں اختلاف کیا ہے۔ پس ایک قوم نے کہا ہے اگر وہ حق اور ایمان اور ہدایت کے طریقہ پر قائم رہتے تو وہ فرمانبردار مومن ہوتے۔ ” لا سقینا ھم ماء غدقا “ زیادہ۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ ان سے سات سال بارش ہٹا لینے کے بعد کی بات ہے اور انہوں نے کہا اس کا معنی اگر وہ ایمان لے آتے تو ہم ان پر دنیا میں وسعت دیتے اور ان کو کثیر مال دیتے اور آسانی والی زندگی دیتے اور کثیر پانی کی مثال دی گئی ہے اس لئے کہ خیر اور رزق سارا کا سارا بارش میں ہے۔ جیسا کہ کہا ” ولوانھم اقاموا التوراۃ والا نجیل وما انزل الیھم من ربھم لاکلوا من فوقھم “ اور کہا ” لو ان اھل القریٰ امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکات من السمائ “
Ayah 72:1817 ۔” لنفتنھم فیہ “ یعنی تاکہ ہم ان کا امتحان لیں کہ ان کا شکر کیسا ہے ان نعمتوں میں جو وہ دیئے گئے اور یہ سعید بن مسیب، عطاء بن ابی رباح، ضحاک، قتادہ، مقاتل اور حسن رحمہم اللہ کا قول ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ کفر اور مگر اہی کے طریقہ پر ڈٹ جاتے تو ہم ان کو کثیر مال دیتے اور ان پر وسعت کرتے تاکہ ہم ان کو اس میں آزمائیں سزا ہے ان کے لئے اور دھیل ہے حتیٰ کہ وہ اس کے ذریعے آزمائے جائیں گے پھر ہم ان کو عذاب دیں گے اور یہ ربیع بن انس، زید بن اسلم، کلبی اور ابن کیسان رحمہم اللہ کا قول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” فلما نسوا ماذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شیء “ الآیہ…” ومن یعرض عن ذکر ربہ یسل کہ “ اہل کوفہ اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” یسل کہ “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے نون کے ساتھ۔ یعنی ہم اس کو داخل کریں گے ” عذابا صعدا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مشقت والے اور معنی “ ذاصعد “ یعنی مشقت والا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس میں کوئی راحت نہ ہوگی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس میں کوئی خوشی نہ ہوگی۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ صرف سختی ہی زیادہ کرے گا اور اس میں اصل یہ ہے کہ صعود (چڑھنا) انسان پر سخت مشقت والا ہے۔
Ayah 72:1918 ۔” وان المساجد للہ “ یعنی وہ جگہیں جو نماز اور ذکر اللہ کے لئے بنائی گئی ہیں۔ ” فلا تدعوا مع اللہ احدا “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہودونصاریٰ جب اپنے گرجوں اور عبادت خانوں میں داخل ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے تو اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حکم دیا کہ جب وہ مسجدوں میں داخل ہوں تو اللہ تعالیٰ کے لئے دعوت کو خالص کریں اور مراد تمام مساجد ہیں۔
وان المسجد للہ کی تفسیر
حسن (رح) فرماتے ہیں اس نے تمام جگہیں مراد لی ہیں اس لئے کہ ساری زمین نبی کریم ﷺ کے لئے مسجد بنائی گئی ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں جنوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا ہمارے لئے کیسے ہوگا اگر ہم آپ (علیہ السلام) کے ساتھ نماز میں شریک ہوں اور ہم دور ہوں ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی ” وان المساجد للہ “ سعید بن جبیر (رح) سے ہی روایت کیا گیا ہے کہ مساجد سے وہ تمام اعضاء مراد ہیں جن پر انسان سجدہ کرتا ہے اور وہ سات ہیں پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنے، دونوں پائوں، فرماتے ہیں یہ اعضاء جن پر سجدہ کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں تم ان پر اللہ کے غیر کے لئے سجدہ نہ کرو۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں پیشانی اور اپنے ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور پائوں کے اطراف اور میں کپڑا اور بال نہ سمیٹوں۔ پس اگر مساجد کو نماز کی جگہیں قرار دیا جائے تو اس کا واحد مسجد جیم کی زیر کے ساتھ ہے اور اگر تو اس کو اعضاء کے معنی میں قرار دے تو اس کا واحدمسجد جیم کے زبر کے ساتھ ہے۔
Ayah 72:2019 ۔” وانہ “ نافع اور ابوبکر رحمہما اللہ نے ہمزہ کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے اس کے زبر کے ساتھ۔ ” لما قام عبداللہ “ یعنی نبی کریم ﷺ ” یدعوہ “ یعنی اس کی عبادت کرتے ہیں اور قرآن پڑھتے۔ یہ اس وقت جب آپ (علیہ السلام) بطن نخلہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن پڑھ رہے تھے۔ ” کادوا “ یعنی جن۔ ” یکونون علیہ البدا “ یعنی ایک دوسرے پر سوار ہوجاتے اور قرآن سننے کی حرص میں بھیڑ کردیتے۔ یہ ضحاک کا قول اور عطیہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ اس جماعت کا قول ہے جو اپنی قوم جن کی طرف لوٹے ان کو خبر دی جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اصحاب کی اطاعت دیکھی اور ان کے نبی کریم ﷺ کی نماز میں اقتداء کرنے کو دیکھا اور حسن، قتادہ اور ابن زیدرحمہم اللہ نے کہا ہے یعنی جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا دعوت دینے تو انسانوں اور جنوں نے آپ (علیہ السلام) پر غلبہ کیا تاکہ اس حق کو باطل کردیں جو آپ (علیہ السلام) ان کے پاس لائے ہیں۔
تاکہ اس حق کو باطل کردیں جو آپ (علیہ السلام) ان کے پاس لائے ہیں اور اللہ کے نور کو بجھا دیں تو اللہ تعالیٰ نے انکار کردیا مگر یہ کہ وہ اپنے نور کو مکمل کرے گا اور اس امر کو مکمل کرے گا اور آپ (علیہ السلام) کی مددکرے گا ان پر جو آپ (علیہ السلام) سے مقابلہ کریں گے اور ہشام نے ابن عامر سے ” لبدا “ لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور لبد کی اصل کئی جماعتیں جو ایک دوسرے کے اوپر ہوں اور اسی سے وہ لبد ہے اون کا بچھونا جو بچھایا جاتا ہے اس کے گھنے (موٹا) ہونے کی وجہ سے اور بالوں کو لیپنا جب وہ موٹا لیپ ہو۔
Ayah 72:2120 ۔” قل انما ادعوا ربی “ ابوجعفر، عاصم اور حمزہ رحمہم اللہ نے ” قل “ امر کا صیغہ اور باقی حضرات نے ” قال “ پڑھا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے کہا ” انما ادعواربی “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کو کہا آپ (علیہ السلام) بہت بڑا امر لائے ہیں، آپ (علیہ السلام) اس سے رجوع کرلیں، ہم آپ کو پناہ دیں گے تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو کہا ” انما ادعوا ربی ولا اشرک بہ احدا “۔
Ayah 72:2221 ۔” قل انی لااملک لکم ضرا “ میں قادر نہیں ہوں اس پر کہ تمہارے نقصان کو دور کروں۔ ” ولا رشدا “ یعنی میں تمہارے لئے نہیں ہانکتا یا تمہاری طرف رشد وخیر کو یعنی بیشک اللہ تعالیٰ اس کے مالک ہیں۔
Ayah 72:2322 ۔” قل انی لن یجیرنی من اللہ احمد “ مجھے اس سے کوئی نہ بچائے گا، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ ” ولن اجد من دونہ ملتحدا “ جائے پناہ جس کی طرف میں مائل ہوں اور ملتحد کا معنی یعنی مائل ہونے والا۔ سدی (رح) فرماتے ہیں حفاظت کی جگہ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں زمین میں داخل ہونے کی جگہ جیسے تہہ خانہ وغیرہ۔
Ayah 72:2423 ۔” الابلاغا من اللہ ورسالاتہ “ پس اس میں پناہ ، امن اور نجات ہے۔ اس کو حسن نے کہا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ وہ چیز ہے جو مجھے اللہ کے عذاب سے پناہ دے گی یعنی تبلیغ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ” الابلاغا من اللہ “ پس یہ وہ چیز ہے جس کا میں مالک ہوں اللہ کی مدد اور توفیق کے ساتھ اور کہا گیا ہے میں تمہارے لئے نقصان اور خیر کا مالک نہیں ہوں لیکن میں پہنچاتا ہوں اللہ کے پیغام کیونکہ میں اس کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میں مالک نہیں ہوں مگر اسی چیز کا جس کا میں مالک بنایا گیا ہوں۔ ” ومن یعص اللہ ورسولہ “ اور ایمان نہیں لایا۔ ” فان لہ نار جھنم خالدین فیھا ابدا “۔
Ayah 72:2524 ۔” حتی اذا راوا ما یوعدون “ یعنی عذاب قیامت کے دن۔ ” فسیعلمون “ عذاب نازل ہونے کے وقت۔ ” من اضعف ناصرا واقل عددا “ کیا وہ یا مومنین۔
Ayah 72:2625 ۔” قل ان ادری “ یعنی میں نہیں جانتا۔ ” اقریب ماتوعدون “ عذاب کا اور کہا گیا ہے قیامت کا دن۔ ” ام یجعل لہ ربی امدا “ ۔
Ayah 72:2726 ۔” عالم الغیب “ یہ مرفوع ہے صفت کی بناء پر اجل اور انتہا جس کی مدت لمبی ہو۔ یعنی بیشک عذاب کے وقت کا علم غیب ہے جس کو نہیں جانتا مگر اللہ تعالیٰ ۔
اس کا قول ” ربی “ اور کہا گیا ہے ” ھوعالم الغیب۔ فلایظھر “ نہیں مطلع کرتا۔ ” علی غیبہ احدا۔
Ayah 72:2827 ۔ ؟؟ الامن ارتضیٰ من رسول “ مگر جس کو اپنی رسالت کے لئے چن لے۔ پس اس کو غیب میں سے جس پر چاہے مطلع کردے اس لئے کہ وہ اپنی نبوت پر ایسی نشانی کے ذریعے استدلال کرے گا جو عاجز کرنے والی ہو اور غیب کی خبر دے۔ ” فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا “ بعض جہات کو ذکر کیا ہے تمام پر دلالت کرنے کے لئے۔ ” رصدا “ یعنی اس کے سامنے اور پیچھے حفاظت کرنے، فرشتے مقرر کردے گا جو اس کی شیاطین سے حفاظت کریں گے کہ وہ بات نہ چوری کرلیں اور جن سے یہ کہ وہ وحی کو کان لگا کر سنتے، پھر وہ کاہن کی طرف ڈال لیتے۔ مقاتل (رح) اور ان کا غیر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی رسول کو بھیجتے تو ابلیس اس کے پاس فرشتے کی صورت میں آتا اس کو خبر دیتا تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اور اس کے پیچھے حفاظت کرنے والے فرشتے بھیجتے جو ان کی حفاظت کرتے اور شیاطین کو دھتکارتے۔ پس جب اس کے پاس شیطان فرشتے کی صورت میں آتاتو فرشتے اس کو خبر دیتے کہ وہ شیطان ہے تو اس سے بچ اور جب فرشتہ آتا تو اس کو کہتے یہ تیرے رب کا رسول ہے۔