Ayah 73:1سورة المزمل
مکی ہے اور اس کی بیس 20 آیات ہیں
Ayah 73:21 ۔” یایھا المزمل “ یعنی اپنے کپڑے میں لپٹنے والے اور اس کی اصل ” متزمل “ تاء کا زاء میں ادغام کیا گیا ہے اور اس کی مثل مدثر ہے تاء کو دال میں ادغام کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے ” تزمل وتدثر “ بثوبہ جب اس کو اچھی طرح ڈھانپ لے اور سدی (رح) فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ اے سونے والے تو کھڑا ہو اور نماز پڑھ۔ حکماء رحمہم اللہ فرماتے ہیں بہ خطاب نبی کریم ﷺ کو تھا ابتداء وحی میں رسالت کی تبلیغ سے پہلے۔ پھر اس کے بعد آپ (علیہ السلام) کو نبی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خطاب کیا گیا۔
Ayah 73:32 ۔” قم اللیل “ یعنی نماز کے لئے ۔ ” الا قلیلا “ اور رات کا قیام (تہجد) فرض تھی ابتداء میں پھر اس کی مقدار بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 73:43 ۔” نصفہ اوانقص منہ قلیلا “ تہائی تک۔
Ayah 73:54 ۔” اوزد علیہ “ نصف پر دو تہائی تک۔ نبی کریم ﷺ کو ان مراتب کے درمیان اختیار دیا ہے۔ پس نبی کریم ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ان مقداروں پر قیام کرتے تھے اور ایک شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ رات کا تہائی کب ہوتا ہے اور رات کا نصف کب ہوتا ہے اور دو تہائی کب ہوتا ہے تو وہ صبح تک قیام کرتا اس خوف سے کہ وہ واجب مقدار کی حفاظت نہ کرسکا ہو اور یہ ان پر بڑا مشکل ہوا حتیٰ کہ ان کے پائوں سوج گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور ان سے تخفیف کردی اور اس کو اپنے قول ” فاقرئوا ما تیسر من القرآن علم ان سیکون منکم مرضی “ سے منسوخ کردیا ہے۔ پس آیت کے اول اور آخر کے درمیان ایک سال کا فاصلہ ہے۔
سعید بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس گیا اور کہا اے ام المومنین ؓ ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کی خبر دیں تو آپ ؓ نے فرمایا کیا تونے قرآن نہیں پڑھا ؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ؓ نے کہا بیشک اللہ کے نبی کے اخلاق قرآن ہے۔ میں نے کہا پس رسول اللہ ﷺ کا قیام اے ام المومنین ؟ انہوں نے کہا کیا تو نے ” یایھا المزمل “ نہیں پڑھا۔ میں نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ؓ نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء میں قیام کو فرض قرار دیا۔ پس آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ نے ایک سال قیام کیا حتیٰ کہ ان کے پائو سوج گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آخری حصہ آسمان میں بارہ مہینے روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے تخفیف نازل کی۔ اس سورت کے آخر میں پھر رات کا قیام فرض کے بعدنفل ہوگیا۔
مقاتل اور ابن کیسان رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ حکم مکہ میں تھا پانچوں نمازوں کے فرض ہونے سے پہلے۔ پھر اس کو پانچ نمازوں کے ذریعے منسوخ کردیا گیا۔ ” ورتل القرآن ترتیلا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کو واضح بیان کریں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اس کو واضح قرات سے پڑھیں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آپ (علیہ السلام) اس کو اپنے وقار پر پڑھیں تین آیات یا چار آیات یا پانچ آیات۔ قتادہ (رح) سے روایت ہے کہ حضرت انس ؓ سے سوال کیا گیا نبی کریم ﷺ کی قرات کیسے تھی ؟ تو فرمایا کھینچ کھینچ کر۔ پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پڑھا۔ بسم اللہ کو کھینچا اور الرحمن کو کھینچا اور الرحیم کو کھینچا۔ ابو وائل کہتے ہیں ایک شخص ابن مسعود ؓ کے پاس آیا۔ اس نے کہا میں نے آج رات مفصل کو ایک رکعت میں پڑھا ہے تو آپ ؓ نے فرمایا شعر کے پڑھنے کی طرح پڑھا۔ تحقیق میں ان نظائر کو پہچانتا ہوں جن کو نبی کریم ﷺ ملاتے تھے۔ پھر مفصل میں سے بیس سورتیں ذکر کیں ہر دو سورتیں ایک رکعت میں۔ علقمہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی ہے ابن مسعود ؓ نے فرمایا تم اس کو ردی کھجور کو پھینکنے کی طرح پھینک نہ دو اور شعر کے پڑھنے کی طرح نہ پڑھو۔ اس کے عجائب پر رکو اور اس سے دلوں کو حرکت دو اور تم میں سے کسی کا ارادہ سورة کا آخر نہ ہو۔
سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم قرات کررہے تھے جب ہم پر رسول اللہ ﷺ نکلے تو فرمایا الحمدللہ اللہ کی کتاب ایک ہے اور تم میں سرخ ، سیاہ ، سفید ہیں۔ تم قرآن پڑھو اس سے پہلے کہ ایسی قومیں آجائیں جو اس کو پڑھیں گی اس کے حروف کو ایسے سیدھا کریں گی جیسا کہ تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے یہ ان کے گلوں سے تجاوز نہ کرے گا اس کا اجر دنیا میں جلدی لے لیں گے اور موخر نہ کریں گے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ قرآن کی آیت پر ایک رات کھڑے رہے اور اس کو ابوذر ؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے حتیٰ کہ صبح کردی ایک ہی آیت پر ۔ اور آیت ” ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم “۔
Ayah 73:6آیت انا سنلقی علیک قولا ثقیلا کی تفسیر
5 ۔” انا سنلقی علیک قولا ثقیلا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سخت۔ حسن (رح) فرماتے بیشک آدمی البتہ سورت کو جلدی ختم کردے گا لیکن اس پر عمل کرنا ثقیل ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ” ثقیلا “ اللہ کی قسم ! اس کے فرائض وحدود ہیں۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ثقیل ہیں اس وجہ سے کہ اس میں امر ، نہی اور حدود ہیں۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں وعد اور وعید اور حلال و حرام میں ثقیل ہے اور محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں منافقین پر ثقیل ہے۔ حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں زبان پر ہلکی بات ہے اور ترازو میں وزنی ہے۔
فرائؒ فرماتے ہیں ” ثقیلا “ ہلکی سطحی بات نہیں ہے اس لئے کہ وہ ہمارے رب کی کلام ہے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں وہ اللہ کی قسم ثقیل مبارک ہے جیسے دنیا میں ثقیل ہے قیامت کے دن تولنے میں ثقیل ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا یارسول اللہ ! آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کبھی میرے پاس آتی ہے گھنٹی کی مسلسل آواز کی مثل اور یہ مجھ پر بڑی سخت ہوتی ہے پھر مجھ سے جدا ہوتی ہے اور میں یاد کرچکا ہوتا ہوں جو کہا اور کبھی فرشتہ میرے لئے آدمی کی شکل اختیار کرلیتا ہے پھر مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں جو وہ کہتا ہے محفوظ کرچکا ہوتا ہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا اور میں نے آپ (علیہ السلام) کو دیکھا کہ آپ ﷺ پر وحی اتررہی تھی سخت ٹھنڈے دن میں۔ پھر وہ آپ ﷺ سے جدا ہوئی اور آپ (علیہ السلام) کی پیشانی پسینہ بہارہی تھی۔
Ayah 73:7ان ناشئۃ الیل کی تفسیر
6 ۔” ان ناشئۃ اللیل “ یعنی اس کی تمام گھڑیاں اور اس کی ہر گھڑی ” ناشئہ “ ہے اس کے ساتھ نام رکھی گئی اس لئے کہ وہ ظاہر ہوتی ہے اس سے ” نشات السحابۃ “ ہے جب بادل ظاہر ہو اور ہر چیز جو رات کو پیدا ہو اور ظاہر ہو تو اس کو ” نشافھونا شیئ “ کہا جاتا ہے اور جمع ” ناشئۃ “ ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے ابن عباس ؓ اور ابن زبیر سے اس کے بارے میں سوال کیا تو دونوں نے فرمایا رات ساری ناشئہ ہے۔ سعید بن جبیر اور ابن زید فرماتے ہیں رات کی جس گھڑی قیام کرے تو ” فقد نشا “ (اور وہ کھڑا ہوا) اور وہ حبشی لغت میں قیام ہے ۔ کہا جاتا ہے ” نشا “ فلاں یعنی کھڑا ہوا اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ” الناشئۃ “ سونے کے بعد کھڑا ہونا اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں رات کے آخری حصہ میں قیام کرنا اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں وہ رات کے اول حصہ میں قیام کرنا۔ علی بن حسین سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ مغرب و عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے یہ ” ناشئۃ اللیل “ ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ہر نماز جو عشاء آخرۃ کے بعد ہو تو وہ ” ناشئۃ مین اللیل “ ہے اور ازہری (رح) فرماتے ہیں ” نائشۃ اللیل “ رات کا قیام ہے۔ جاء کا مصدر فاعلہ کے وزن پر جیسے عافیۃ بمعنی عفو ہے۔ ” ھی اشد وطا “ ابن عامر اور ابوعمرو نے ” وطا “ وائو کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے ممدود مواطاۃ اور موافقت کے منی میں۔
ھی اشدوطا کی تفسیر
کہا جاتا ہے ” وطات فلان مواطاۃ القلب والسمع والبصر واللسان “ میں نے فلاں سے دل، کانوں، آنکھوں اور زبان کے ساتھ موافقت کی۔ یہ موافقت رات کو دن کی بانسبت زیادہ ہوتی ہے اور دیگر حضرات نے وائو کے زبر کے ساتھ اور طاء کے سکون کے ساتھ یعنی سخت ہے نماز پڑھنے والے پر اور دن کی نماز سے ثقیل ہے۔ اس لئے کم رات نیند اور آرام کے لئے ہوتی ہے اور اسی سے آپ (علیہ السلام) کا قول ہے ” اللھم اشدد وطائک علی مضر “ ہے۔ اے اللہ ! مضر پر اپنی پکڑ سخت کردے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کی نماز ابتدائی رات میں زیادہ سخت تھی۔ فرماتے ہیں وہ زیادہ لائق ہے کہ تم شمار کرو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر قیام کو فرض کیا ہے اور یہ اس وجہ سے کہ انسان جب سو جاتا ہے تو نہیں جانتا کہ کب بیدار ہوگا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں خیر میں زیادہ ثابت قدم اور قرات کو زیادہ یاد کرنے والا اور فراء (رح) فرماتے ہیں کھڑے ہونے میں زیادہ ثابت قدم یعنی قیام کے لئے زیادہ موافق اور دن کی گھڑیوں سے نمازی پر زیادہ آسان اس لئے کہ دن بندوں کے تصرف کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور رات خلوت کے لئے۔ پس اس میں عبادت کرنا زیادہ آسان ہے اور کہا گیا ہے زیادہ نشاط دینے والی ہے اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس میں دن کی بنسبت دل زیادہ فارغ ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں ضروریات رکاوٹ نہیں بنتیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں خیر میں زیادہ موافق اور شیطان سے زیادہ روکنے والی ” واقوم قیلا “ اور درست قرات والا اور صحیح قول والا لوگوں کے آرام کرنے اور آوازیں خاموش ہونے کی وجہ سے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں قرآن کے واضح قول والا اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ رات کی عبادت میں نشاط زیادہ ہوتا ہے اور اخلاص مکمل ہونا ہے اور برکت زیادہ اور ثواب میں خوب اضافہ ہوتا ہے۔
Ayah 73:87 ۔” ان لک فی النھار سبحا طویلا “ یعنی تصرف کرنا اور پلٹنا اور آنا جانا اپنی ضروریات اور مشغولیت میں اور سبح کی اصل تیزی سے جانا اور اسی سے پانی میں تیراکی کرنے کو ” سباحۃ “ کہتے ہیں اور کہا گیا ہے ” سبحا طویلا “ یعنی فراغت اور وسعت تیرے سونے اور اپنی ضروریات میں تصرف کرنے کے لئے۔ پس تورات کا کچھ حصہ نماز پڑھ اور یحییٰ بن یعمر (رح) نے ” سبحا “ خاء نقطہ والی کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی آرام اور بدن کے لئے ہلکی اور اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول ہے جو آپ (علیہ السلام) نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو فرمایا جب انہوں نے چور کو بددعا کی۔ ” لا تسبخی عنہ بدعائک علیہ “ یعنی تو اس پر بددعا کرکے اس پر تخفیف نہ کر۔
Ayah 73:98 ۔” واذکر اسم ربک “ توحید اور تعظیم کے ذریعے۔ ” تبتل الیہ تبتیلا “ ابن عباس ؓ اور ان کے علاوہ فرماتے ہیں اس کے لئے مکمل اخلاص کریں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کوشش کریں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس کی عبادت کے لئے فارغ ہوں اور سفیان (رح) فرماتے ہیں اس پر بھروسہ کریں، بھروسہ کر، اور کہا گیا ہے اس لئے عبادت میں کامل یکسوئی اختیار کریں اور یہ اسی باب میں اصل ہے۔ کہا جاتا ہے ” تبتلت الشیئ “ یعنی میں نے اس کو کاٹ کر جا کردیا اور اس کی تصدیق ان کا قول کرتا ہے ” انت بتۃ بتلۃ “ یعنی اپنے خاوند سے جدا ہے اس کے لئے تجھ پر کوئی راہ نہیں ہے اور ” تبتیل تفعیل “ سے ہے اسی سے کہا جاتا ہے ” بتلتے ، فتبتل “ معنی یہ ہے کہ اس کی طرف اپنے نفس کو جدا کریں اس لئے فرمایا ” تبتیلا “ ابن زید (رح) فرماتے ہیں ” التبتل “ دنیا ومافیہا کو چھوڑنا اور جو اللہ کے پاس اس کو تلاش کرنا۔
Ayah 73:109 ۔” رب المشرق والمغرب “ اہل حجاز، ابو عمر اور حفص رحمہم اللہ نے ” رب “ کو باء کی پیش کے ساتھ ابتداء پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے زبر کے ساتھ اس ” رب “ کی صفت ہونے کی بناء پر جو باری تعالیٰ کے قول ” واذکر اسم ربک “ میں ہے۔ ” لا الہالا ھو فاتخذہ وکیلا “ تیرے امور کا نگہبان پس تو تمام امور کو اس کے سپرد کر۔
Ayah 73:1110 ۔” واصبر علی مایقولون واھجرھم ھجرا جمیلا “ اس کو قتال کی آیت نے منسوخ کردیا ہے۔
Ayah 73:1211 ۔” وذرنی والمکذبین اولی النعمۃ ومھلھم قلیلا “ یہ قریشی کے سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی جو استہزاء کرنے والے تھے اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بدر میں کھانا کھلانے والے لھے۔ یہ تھوڑے سے تھے حتیٰ کہ بدر میں مارے گئے۔
Ayah 73:1312 ۔” ان لدینا “ ہمارے پاس آخرت میں۔ ” انکالا “ بڑی بیڑیاں جو کبھی جدانہ ہوں گی۔ اس کا واحد نکل ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں لوہے کہ طوق ہیں ” وجحیما “
Ayah 73:1413 ۔” وطعا ما ذاغصۃ “ بدمزہ جو حلق کو پکڑے گا نہ نیچے اترے گا اور نہ باہر نکلے گا اور زقوم اور ضریع ہے۔ ” وعذابا الیما “
Ayah 73:1514 ۔” یوم ترجف الارض والجبال “ یعنی جھٹکے کھائیں گے اور حرکت کریں گے۔ ” وکانت الجبال کثیبا مھیلا “ ریت بہنے والی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں وہریت جس سے تھوڑی سی لی جائے تو اس کا مابعد اس کے پیچھے سرکتا آئے ، کہا جاتا ہے ” اھلت الرمل اھیلہ ھیلا “ جب تو اس کے نچلے حصہ کو حرکت دے حتیٰ کہ وہ اوپر سے گرپڑے۔
Ayah 73:1615 ۔” انا ارسلنا الیکم رسولا شاھدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا “
Ayah 73:1716 ۔” فعصیٰ فرعون الرسول فاخذناہ اخذا وبیلا “ سخت بوجھل ، یعنی ہم نے اس کو سخت سزادی کفار مکہ کو ڈرا رہے ہیں۔
Ayah 73:1817 ۔” فکیف تتقون ان کفرتم “ یعنی تمہارے لئے قیامت کے دن بچنا کیسے ہوگا جب تم نے دنیا میں کفر کیا ؟ یعنی تمہارے لئے بچنے کے لئے کوئی راہ نہ ہوگی اس کا معنی تم قیامت کے دن عذاب سے کیسے بچو گے ؟ اور کس چیز سے تم بچائوکرو گے جب تم نے کفر کیا ؟ ” یوما یجعل الولدان شیبا “ اس کی سختی وہولنا کی کی وجہ سے بالکل سفید بالوں والا اور یہ اس وقت جب آدم (علیہ السلام) کو کہا جائے گا آپ کھڑے ہوں پس اپنی اولاد میں سے آگ میں لوگوں کو بھیجیں۔
Ayah 73:1918 ۔” پھر اس ہولناکی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” السماء منفطر بہ “ پھٹنے والا ہے اس جگہ پر فرشوں کے اترنے کی وجہ سے اور کہا گیا ہے ھاء ” رب “ کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی اس کے حکم اور ہیبت سے ” کان وعدہ مفعولا “ ہونے والا۔
Ayah 73:2019 ۔” ان ھذہ “ یعنی قرآن کی آیات۔ ” تذکرۃ “ وعظ ونصیحت۔ ” فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا “ ایمان اور طاعت کے ساتھ۔