74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة المدثر مکی ہے اور اس کی چھپن 56 آیات ہیں
Ayah 74:2

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اے (محمد ﷺ جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو

سورة مدثر کا شان نزول یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے قرآن میں سے پہلے نازل ہونے والی آیات کے بارے میں پوچھا تو آپ (رح) نے فرمایا ” یایھا المدثر “ میں نے کہا وہ کہتے ہیں۔ ” اقراباسم ربک “ ہے تو ابوسلمہ (رح) نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے ایسے کہا جیسے میں نے تجھے کہا۔ پھر مجھے جابر ؓ نے کہا میں تجھے وہی بات بیان کررہا ہوں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے بیان کی ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں ایک مہینہ حراء می معتکف رہا جب میں نے اپنا اعتکاف ختم کیا تو میں نیچے اترا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے دائیں نظر کی کچھ نہ دیکھا اور بائیں نگاہ کی کچھ نہ دیکھا اور اپنے سامنے نظر کی پھر بھی کچھ نہ دیکھا اور پیچھے نظر کی پھر وہاں بھی کچھ نہ دیکھا تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو بڑی چیز دیکھی تو میں خدیجہ ؓ کے پاس آیا، میں نے کہا مجھے چادر اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا پھر انہوں نے مجھے چادر اوڑھائی اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو آیت نازل ہوئی ” یایھا المدثر قم فانذر وربک فکبر “ جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فطرت وحی کے بارے میں بیان کرتے سنا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے آواز سنی تو میں نے نگاہ اٹھائی تو اچانک وہ فرشتہ جو میرے پاس حراء میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تھا تو میں اس سے مرعوب ہوا حتیٰ کہ زمین پر گرگیا۔ پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو میں نے کہا ” زملونی زملونی زملونی “ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” یایھا المدثر قم فانذر “ اللہ تعالیٰ کے قول ” فاھجر “ تک ۔ ابوسلمہ (رح) فرماتے ہیں الرجزبت پھر اس کے بعد وحی لگاتارآنے لگی۔
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اٹھو اور ہدایت کرو

1-2 ۔…” یایھا المدثر۔ قم فانذر “ یعنی کفار مکہ کو ڈرائیں۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو

3 ۔” وربک فکبر “ یعنی اس کی بڑائی و عظمت بیان کریں ۔ اس سے جو اس کو بتوں کے پچاری کہتے ہیں۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

4 ۔” وثیابک فطھر “ قتادہ اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کریں تو الثوب کے ذریعے نفس سے کنایہ کیا ہے اور یہ ابراہیم، ضحاک، شعبی اور زہری رحمہم اللہ کا قول ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” وثیابک فطھر “ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا تو ان کو گناہ اور دھوکہ پر نہ پہن، پھر فرمایا کیا تونے غیلان بن سلمہ ثقفی کا قول نہیں سنا۔ میں نے اللہ کی قسم نہ گناہ کے کپڑے پہنے اور نہ عذر کا نقاب اوڑھا اور عرب آدمی کا سچ اور وفاء میں وصف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ظاہر الثیاب یعنی پاک دامن ہے اور تو اس کے لئے کہے گا جو عذر کرے۔ بیشک اس کا دامن داغدار ہے۔ ” انہ لانس الثیاب “ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تو اس کو عذر اور ظلم اور گناہ پر نہ پہن تو اس کو پہن اس حال میں کہ تو نیک پاک صاف ہو۔ ابو ورق نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس کا معنی اپنے عمل کی تو اصلاح کر۔ سدی (رح) فرماتے ہیں جب آدمی نیک ہو تو اس کو کہا جاتا ہے ” انہ لطاھر الثیاب “ وہ پاک دامن ہے اور جب گناہ گار ہوکر کہا جاتا ہے ” انہ لخبیث الثیاب “ ان کا دامن داغدار ہے۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اور اپنے دل اور نیت کو تو صاف کر اور حسن وقرظی رحمہما اللہ فرماتے ہیں اور اپنے اخلاق کو آپ اچھا کریں۔ ابن سیرین اور ابن زید فرماتے ہیں کپڑوں کو ان نجاستوں سے پاک کرنے کا حکم دیا ہے جن کے ساتھ نماز جائز نہیں ہوتی کیونکہ مشرکین نہ خود پاک ہوتے تھے اور نہ کپڑے پاک کرتے تھے اور طائوس فرماتے ہیں اپنے کپڑوں کو چھوٹا کریں اس لئے کہ کپڑوں کا چھوٹا ہونا ان کی پاکی کا ذریعہ ہے۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور ناپاکی سے دور ہو

5 ۔” والرجز فاھجر “ ابو جعفر اور حفص نے عاصم اور یعقوب سے ” الرجز “ راء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ان دونوں کی زیر کے ساتھ اور یہ دولغتیں ہیں اور ان دونوں کا معنی ایک ہے۔ مجاہد، عکرمہ، قتادہ، زہری، ابن زید اور ابو اسلمہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں الرجز سے مراد بت ہیں۔ فرمایا ” فاھجرھا “ ان کے قریب نہ جائو اور کہا گیا ہے اس میں زاسین سے تبدیل کی گئی ہے اور عرب سین اور زاء کو ایک دوسرے کی جگہ لاتے رہتے ہیں ان کے مخرج کے قریب ہونے کی وجہ سے اور اس تاویل کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” واجتنبوا الرجس میں الاوثان “ ہے اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ اس کا معنی آپ گناہوں کی جگہوں کو چھوڑدیں اور ابوالعالیہ اور ربیع رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” الرجز “ راء کی پیش کے ساتھ بت اور زیر کے ساتھ نجاست اور معصیت۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں یعنی شرک اور کلبی (رح) فرماتے ہیں یعنی عذاب اور آیت کا مجازیہ ہے ” اھجرما اوجب لک العذاب من الاعمال “ یعنی جو اعمال آپ پر عذاب کو واجب کریں ان کو چھوڑ دیں۔
Ayah 74:7

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

6 ۔” ولا تمنن تستکثر “ یعنی آپ اپنا مال مدارات و رشوت کے طور پر نہ دیں تاکہ اس سے زیادہ دیا جائے اور یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ضحاک اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم ﷺ کے لئے خاص تھا۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ حلال و حرام سے ربا ہے۔ بہرحال حلال تو وہ ہدایا ہیں اور حرام تو وہ سود ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں آپ ﷺ کوئی چیز دنیا کے بدلہ کی طمع پر نہ دیں یعنی اپنے رب کے لئے دیں اور اس سے اللہ کا ارادہ کریں اور حسن (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ اپنے عمل کا اللہ پر احسان نہ جتائیں کہ آپ اس کو زیادہ کریں گے۔ ربیع فرماتے ہیں اپنی نگاہ میں اپنے عمل کو زیادہ نہ سمجھیں کیونکہ وہ ان میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) پر انعام کیا ہے اور آپ کو تھوڑا دیا ہے۔ خصیف نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ آپ کمزور نہ ہوں خیر کی کثرت کرنے سے یہ ان کے قول حبل متین سے مشتق ہے جب وہ کمزور ہو۔ اس کی دلیل ابن مسعود ؓ کی قرات ہے۔ ” ولاتمنن ان تستکثر من الخیر “ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی آپ (علیہ السلام) نبوت کا لوگوں پر احسان نہ جتائیں کہ اس پر اجر لیں یا دنیا کا سامان۔
Ayah 74:8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کیلئے صبر کرو

7 ۔” ولربک فاصبر “ کہا گیا ہے پس تو صبر کر اس کی طاعت پر اور اس کے اوامرونواہی پر اللہ کے ثواب کی وجہ سے۔ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں پس آپ اللہ تعالیٰ کے لئے صبر کریں اس پر جو آپ کو اس کے راستے میں تکلیفیں دی گئیں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی آپ نے بڑا عظیم امر اٹھایا ہے اس میں عرب وعجم سے لڑائی ہے۔ پس آپ (علیہ السلام) اس پر صبر کریں اللہ تعالیٰ کے لئے اور کہا گیا ہے پس آپ صبر کریں قضاء کے موارد کے تحت اللہ کی وجہ سے۔
Ayah 74:9

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

جب صور پھونکا جائے گا

8 ۔” فاذا نقرفی الناقور “ یعنی صور میں پھونک ماری جائے گی اور وہ سینگ ہے جس میں اسرافیل پھونک ماریں گے یعنی دوسری پھونک۔
Ayah 74:10

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

وہ جو مشکل کا دن ہوگا

9 ۔” فذلک “ یعنی صور میں پھونک مارنا۔ ” یومئذ “ یعنی قیامت کا دن۔ ” یوم عسیر “ سخت ہے۔
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

یعنی کافروں پر آسان نہ ہوگا۔

10 ۔” علی الکافرین “ اسمیں ان پر معاملہ تنگ ہوگا۔ ” غیر یسیر “ آسان نہیں ہے۔
Ayah 74:12

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

11 ۔” ذرنی ومن خلقت وحیدا “ یعنی میں نے اس کو اس کی ماں کے پیٹ تنہا خالی ہاتھ پیدا کیا نہ اس کے پاس مال تھا نہ اولاد۔ یہ ولید بن مغیرہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کی قوم میں نام وحید لیا جاتا تھا۔
Ayah 74:13

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور مال کثیر دیا۔

12 ۔” وجعلت لہ مالا ممدودا “ یعنی کثیر۔ کہا گیا ہے جو بڑھنے کی وجہ سے زیادہ ہوجائے جیسے کھیتی، تھن، تجارت۔ اس کی انتہاء میں اختلاف ہے۔ مجاہد اور سعید بن جبیررحمہما اللہ فرماتے ہیں ایک لاکھ دینار اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں چار ہزار دینار۔ سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں دس لاکھ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں نو ہزار چاندی کے برابر۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کا طائف میں ایک باغ تھا اس کے پھل سردیاں، گرمیاں ختم نہ ہوتے تھے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کے مکہ اور طائف کے درمیان اونٹ، گھوڑے اور مویشی ہوتے تھے اور اس کی کثیر اولاد اور غلام اور پڑوس تھے اور کہا گیا ہے ” مالا ممدودا “ مہینے کا غلہ مہینے کے ساتھ۔
Ayah 74:14

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور (ہر وقت اس کے پاس) حاضر رہنے والے (بیٹے) دیئے

13 ۔” وبنین شھودا “ مکہ میں موجود اس سے غائب نہ ہوتے تھے، یہ دس بیٹے تھے۔ اس کو مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ نے کہا ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ سات تھے۔ ولید بن ولید، خالد، عمارہ ، ہشام ، عاص ، قیس، عبدشمس، ان میں سے تین اسلام لائے خاد، ہشام اور عمارہ۔
Ayah 74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

اور اسے ہر طرح کے سامان میں وسعت دی

14 ۔” ومھدت لہ تمھیدا “ یعنی میں نے اس کی عمر اور عیس میں اضافہ کردیا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں یعنی مال ایک دوسرے کے اوپر جیسے فرش بچھایا جاتا ہے۔
Ayah 74:16

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ابھی خواہش رکھتا ہم کہ اور زیادہ دے

15 ۔” ثم یطمع “ امید کرتا ہے ” ان ازید “ یعنی میں اس کے مال واولاد کو زیادہ کردوں۔
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ ہماری آیتوں کا دشمن کا رہا ہے۔

16 ۔” کلا “ میں ایسا نہ کروں گا اور زیادہ نہ کروں گا۔ کہتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ولید اپنے مال واولاد میں نقصان میں ہی رہا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔ ” انہ کان لا یاتنا عنیدا “ عناد رکھنے والا۔
Ayah 74:18

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے

17 ۔” سارھقہ صعودا “ عنقریب میں اس کو عذاب کی مشقت کی تکلیف دوں گا جس میں کوئی راحت نہ ہوگی۔ سارھقہ صعودا کی تفسیر ابو سعید ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” الصعود “ جہنم میں پہاڑ ہے جس پر ستر سال چڑھے گا پھر اترے گا۔ ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول ” سارھقہ صعودا “ کے بارے میں فرمایا وہ جہنم میں آگ کا پہاڑ ہے اس کو مکلف کیا جائے گا کہ اس پر چڑھے۔ پس جب وہ اپنا ہاتھ رکھے گا وہ پگھل جائے گا۔ پھر جب اٹھائے تو وہ واپس لوٹ آئے گا، پھر پائوں رکھے گا پگھل جائے گا اور جب اٹھائے گا تو وہ اپنی حالت پر لوٹ آئے گا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں ” الصعود “ چکنی چٹان ہے جہنم میں۔ اس کو اس پر چڑھنے کا مکلف بنایا جائے گا۔ اس کو چڑھنے میں سانس لینے کے لئے بھی نہ چھوڑا جائے گا اس کو آگے سے لوہے کی زنجیروں کے ذریعے کھینچا جائے گا اور پیچھے سے لوہے کے گرزوں سے مارا جائے گا۔ پس وہ چالیس سال میں اس پر چڑھے گا پھر جب اس کی چوٹی پر پہنچے گا تو اس کو نیچے لڑھکا دیا جائے گا۔ پھر تکلیف دی جائے گی کہ اوپر چڑھ اور آگے سے کھینچا جائے گا اور پیچھے سے مارا جائے گا۔ پس یہ اس کی حالت ہوگی ہمیشہ۔
Ayah 74:19

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

اس نے فکر کیا اور تجویز کی

18 ۔” انہ فکروقدر “ آیات میں۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر اتارا ” حم تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم “ اللہ تعالیٰ کے قول ” المصیر “ تک تو نبی کریم ﷺ مسجد میں کھڑے تھے اور ولید بن مغیرہ آپ ﷺ سے قریب آپ کی قرات سن رہا تھا پس جب نبی کریم ﷺ نے اس کے قرات سننے کو محسوس کیا تو آیت کی قرات کا اعادہ کیا تو ولید چلا گیا اور اپنی قوم بنومخزوم کی مجلس میں آیا اور کہا اللہ کی قسم ! میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنی ہے نہ وہ انسان کی کلام ہے اور نہ جن کی کلام ہے اور بیشک اس کے اندر مٹھاس ہے اور بیشک اس پر بڑی رونق ہے اور بیشک اس کا اعلیٰ پھل دینے والا ہے اور اس کا اسفل سرسبز ہے اور بیشک وہ غالب ہوگی مغلوب نہ ہوگی۔ پھر اپنے گھر چلا گیا تو قریش نے کہا اللہ کی قسم ولید بےدین ہوگیا۔ اللہ کی قسم ! تم سب قریش بےدین ہوجائو گے اور ولید کو ” ریحانہ “ قریش کہا جاتا تھا تو ان کو ابوجہل نے کہا میں تمہیں ولید سے کافی ہوں تو وہ گیا اور ولید کے پاس غمگین ہوکر بیٹھ گیا تو اس کو ولید نے کہا مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تجھے غمگین دیکھتا ہوں اے بھتیجے ؟ ابوجہل نے کہا مجھے غمگین ہونے سے کون سی چیز روکے گی کیونکہ یہ قریشی آپ کے لئے خرچ جمع کردیں گے تاکہ وہ آپ کی بڑھاپے میں مدد کریں اور ان کا گمان ہے کہ آپ نے محمد کی کلام کو مزین کیا ہے اور آپ ابن ابی کبثہ اور ابن ابی قحافہ پر داخل ہونا چاہتے ہیں تاکہ ان کے بچے ہوئے کھانے کھائیں۔ تو ولید بھڑک گیا اور کہنے لگا کیا قریش نہیں جانتے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مال واولاد والا ہوں اور کیا محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کا پیٹ بھی بھرتا ہے کہ ان کا کھانا بچے ؟ پھر ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہوا اور اپنی قوم کی مجلس میں آیا اور ان کو کہا تم گمان کرتے ہو کہ محمد ( ﷺ ) مجنون ہیں، کیا تم نے دیکھا ہے کہ ان کی گردن دبائی گئی ہو کبھی ؟ انہوں نے کہا اے اللہ نہیں۔ ولید نے کہا تم گمان کرتے ہو کہ وہ کاہن ہیں ؟ کیا تم نے ان کو کبھی کہانت کرتے دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا اے اللہ نہیں۔ ولید نے کہا تم گمان کرتے ہو کہ وہ شاعر ہیں، کیا تم نے ان کو کبھی شعر بولتے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا اے ولید نہیں۔ ولید نے کہا تم گمان کرتے ہو کہ وہ جھوٹے ہیں، کیا تم نے ان پر کبھی کسی جھوٹ کا تجربہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں اور رسول اللہ ﷺ کا نبوت سے آپ (علیہ السلام) کی سچائی کی وجہ امین نام رکھاجاتا تھا تو قریش نے ولید کو کہا۔ پھر وہ کیا ہیں ؟ تو اس نے دل میں غور وفکر کیا پھر دیکھا اور تیوری چڑھائی اور کہا وہ تو صرف جادوگر ہیں۔ (نعوذ باللہ) کیا تم ان کو نہیں دیکھتے کہ وہ آدمی اور اس کے گھر والوں اور اولاد اور غلاموں میں تفریق کردیتے ہیں ؟ پس وہ جادو گر ہیں جو وہ کہتے ہیں وہ جادو ہے جو نقل کیا گیا ہے۔ پس یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” انہ فکر “ محمد ﷺ اور قرآن کے بارے میں ” وقدر “ اپنے دل میں کہ اس کے لئے کیا ممکن ہے کہ وہ قرآن اور محمد ﷺ کے بارے میں کہے۔
Ayah 74:20

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

19 ۔” فقتل “ لعنت کیا جائے اور زہری (رح) فرماتے ہیں عذاب دیا گیا۔ ” کیف قدر “ تعجب ، انکار اور ڈانٹ کے طریقہ پر۔
Ayah 74:21

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

20 ۔” ثم قتل کیف قدر “ اس تاکید کے لئے تکرار کیا ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی ہے لعن لعنت کیا جائے جس حال پر بھی کلام پر قادر ہوا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” لاضربنہ کیف صنع “ یعنی جس حال پر بھی اس نے کیا۔
Ayah 74:22

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تامل کیا

21 ۔” ثم نظر “ اس کو طلب کرنے میں جس کے ذریعے قرآن کی تردید کرسکے۔
Ayah 74:23

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا

22 ۔” ثم عبس وبسر “ تیوری چڑھائی پھر سخت ناگواری سے دیکھا اس شخص کی طرح جو کسی شے میں غور و فکر کرنے والا ہو۔
Ayah 74:24

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا

23 ۔” ثم ادبر “ ایمان سے۔ ” واستکبر “ تکبر کیا جب اس کی طرف بلایا گیا۔
Ayah 74:25

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

پھر کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو (اگلوں سے) متصل ہوتا آیا ہے

24 ۔” فقال ان ھذا “ نہیں ہے یہ جو محمد ( ﷺ ) پڑھتے ہیں۔ ” الا سحریوثر “ جادوگروں سے نقل وحکایت کرتے ہیں۔
Ayah 74:26

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے

25 ۔” ان ھذا الاقول البشر “ یعنی یسار اور جبر۔ پس محمد ( ﷺ ) ان دونوں سے نقل کرتے ہیں اور کہا گیا ہے اس کو مسیلمہ صاحب یمامہ سے روایت کرتے ہیں۔
Ayah 74:27

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کو سقر میں داخل کرینگے

26 ۔ اللہ فرماتے ہیں ” ساصلیہ “ عنقریب میں اس کو داخل کروں گا۔ ” سقر “ جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
Ayahs 74:28–29

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے ؟

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

(وہ آگ ہے کہ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی

’ وما ادراک ماسقر، لا تبقی ولا تذر “ یعنی نہیں باقی رکھے گی اور نہیں چھوڑے گی اس میں کوئی چیز مگر اس کو کھاجائے گی اور ہلاک کردے گی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” لا یمیت ولا تحی “ یعنی اس میں کسی زندہ کو باقی نہ رکھے گی اور نہ کسی مردہ کو چھوڑے گی جب بھی وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو نئے کئے جائیں گے اور سدی (رح) فرماتے ہیں نہ ان کا گوشت باقی رکھے گی اور نہ ان کی ہڈی چھوڑے گی اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں جب ان میں شروع ہوگی تو ان میں سے کچھ باقی نہ رکھے گی اور جب لوٹائے جائیں گے تو ان کو نہ چھوڑے گی حتیٰ کہ ان کو فنا کردے گی اور ہر چیز کے لئے اکتاہٹ اور سستی ہے سوائے جہنم کے۔
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

(اور) بدن کو جھلس کر سیاہ کر دیگی

29 ۔” لواحۃ للبشر “ جلد کو تبدیل کرنے والی ہے حتیٰ کہ اس کو سیاہ کردے گی۔ کہا جاتا ہے ” لاحۃ السقم والحزن “ جب اس کو تبدیل کردے ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جلد کو جھلسادے گی حتیٰ کہ اس کو رات سے بھی زیادہ سیاہ کرکے چھوڑے گی۔ ابن عباس ؓ اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں جلد کو جلانے والی ہے اور حسن اور ابن کیسان رحمہما اللہ فرماتے ہیں ان کے سامنے جہنم واضح ہوجائے گی حتیٰ کہ اس کو عیانا دیکھ لیں گے اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” وبرزت الجحیم للغاوین “ ہے اور ” لواحۃ “ مرفوع ہے اس ” سقر “ کی صفت ہونے کی بناء پر جو باری تعالیٰ کے فرمان ” وما ادراک ماسقر “ میں ہے اور ” البشر “ بشرہ کی جمع ہے اور بشر کی جمع ابشار ہے۔
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اس پر انیس داروغہ ہیں

30 ۔” علیھا تسعۃ عشر “ یعنی جہنم ار انیس 19 فرشتے ہیں اور وہ اس کا داروغہ مالک اور اس کے ساتھ اٹھارہ ہیں اور اثر میں آیا ہے کہ ان کی آنکھیں اچکنے والی بجلی کی طرح اور ان کی کچلیاں (نوکیلے دانت) ہرن کے سینگوں کی طرح نوکیلے ہیں ان کے منہ سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے ان میں سے ایک کے کندھوں کے درمیان ایک سال کی مسافت ہوگی، ان سے رحمت چھین لی گئی ہوگی، ان میں سے ایک ستر ہزار کو اٹھا کو جہنم میں جہاں کا ارادہ کرے گا پھینک دے گا۔ عمروہ بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک دفعہ میں جہنم میں قبیلہ ربیعہ اور مضر سے زیادہ لوگوں کو پھینک دے گا۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوجہل نے قریش کو کہا کہ تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں۔ ابن ابی کبثہ نے سایا ہے وہ خیر دیتا ہے کہ جہنم کے داروغے انیس 19 ہوں گے اور تم تو بڑے بہادر ہو کیا تم میں سے دس افراد اس سے عاجز ہیں کہ جہنم کے داروغوں میں سے ایک کو پکڑ لیں ؟ تو ابو الاشد اسید بن کلدہ بن خلف جمحی نے کہا میں تمہیں ان میں سے سترہ کو کافی ہوں، دس میری پیٹھ پر اور سات میرے پیٹ پر۔ پس تم مجھے دو سے کافی ہوجائو اور روایت کیا گیا ہے کہ اس نے کہا میں تمہارے آگے صراط پر چلوں گا۔ پس دس کو اپنے دائیں کندھے سے اور نوکو بائیں کندھے سے جہنم میں پھینک دوں گا اور ہم چلتے ہوئے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
Ayah 74:32

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کیا ہے (اور) اس لئے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو اور اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں اور اس لئے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے اور (جو) کافر (ہیں) کہیں کہ اس مثال (کے بیان کرنے) سے خدا کا مقصود کیا ہے ؟ اسی طرح خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو بنی آدم کے لیے نصحیت ہے

31 ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” وماجعلنا اصحاب النار الاملائکۃ “ نہ کہ مرد اور آدمی پس کون ہے جو فرشتوں پر غالب آئے گا ؟ ” وماجعلنا عدتھم “ یعنی ان کی کم تعداد ” الا فتنۃ للذین کفروا “ یعنی ان کو گمراہ کرنے کے لئے حتیٰ کہ انہوں نے کہا جو کچھ کہا ” لیستیقن الذین اوتوا الکتاب “ اس لئے کہ توریت و انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ وہ انیس 19 ہیں ۔ ” ویزداد الذین امنوا ایمانا “ یعنی جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے تو محمد ﷺ کی تصدیق میں زیادہ ہوں گے جب وہ پائیں گے آپ (علیہ السلام) کے قول کو ان کی کتابوں کے موافق ۔ ” ولا یرتاب “ نہیں شک کرتے۔ ” الذین اوتوا الکتاب والمومنون “ ان کی تعداد میں۔ ” ولیقول الذین فی قلوبھم مرض “ شک اور نفاق۔ ” والکافرون “ مکہ کے مشرکین۔ ” ماذا اراد اللہ بھذا مثلا “ اس بات سے کیا چیز مراد لی ہے ؟ اور مثل سے خود بات مراد ہے۔ ” کذلک “ یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے گمراہ کیا ان کو جنہوں نے داروغوں کی تعداد کا انکار کیا اور ان کو ہدایت دی جنہوں نے تصدیق کی۔ اسی طرح ” یضل اللہ من یشاء ویھدی من یشاء وما یعلم جنود ربک الاھو “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ ابوجہل کو جواب ہے جب اس نے کہا تھا محمد (ﷺ ) کے تو صرف انیس 19 مددگار ہیں۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں ” وما یعلم جنود ربک الاھو “ یعنی فرشتوں میں سے وہ جن کو اس نے اہل جہنم کو عذاب دینے کے لئے پیدا کیا ہے۔ ان کی تعداد کو صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور معنی یہ ہے کہ انیس 19 تو جہنم کے داروغے ہیں اور ان کے فرشتوں میں سے مددگار اور لشکر اتنے ہیں کہ ان کی تعداد کو صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں، پھر سقر کے ذکر کی طرف رجوع کیا۔ پس فرمایا ” وماھی “ یعنی جہنم ” الا ذکریٰ للبشر “ مگر نصیحت ووعظ لوگوں کے لئے۔
Ayah 74:33

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم

32 ۔” کلا والقمر “ یہ قسم ہے حق کہتا ہے۔
Ayah 74:34

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور رات کی جب پیٹھ پھیرنے لگے

33 ۔” واللیل اذادبر “ نافع، حمزہ، حفص اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” اذ “ بغیر الف کے پڑھا ہے۔ ” ادبر “ الف کے ساتھ اور دیگر حضرات نے ” اذا “ الف کے ساتھ ” دبر “ بغیر الف کے اس لئے کہ اس کی شدید موافقت ہے۔ اس سے جو اس کو ملا ہوا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” والصبح اذا اسفر “ ہے اور اس لئے کہ قرآن میں کوئی قسم ایسی نہیں ہے جس کی جانب میں اذ ہو تمام قسموں کی جانب اذا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں کہا جاتا ہے ” دبر اللیل وادبر “ جب وہ پیٹھ پھیر کر جاری ہو ۔ ابوعمر ؓ فرماتے ہیں دبر قریش کی لغت ہے اور قطرب (رح) فرماتے ہیں دبر یعنی متوجہ ہوا عرب کہتے ہیں دبرنی فلان یعنی وہ میرے پیچھے آیا۔ پس رات دن کے پیچھے آتی ہے۔
Ayah 74:35

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

اور صبح کی جب روشن ہو

34 ۔” والصبح اذا اسفر “ روشن ہو اور واضح ہو۔
Ayah 74:36

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے

35 ۔” انھا لاحدی الکبر “ یعنی بیشک سقر بڑے امور میں سے ایک ہے اور کبر کا واحد کبریٰ ہے۔ مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کبر سے مراد جہنم کے طبقات ہیں اور سات ہیں۔ جہنم لظی، حطمۃ، سعیر، سقر، جحیم، ہاویہ۔
Ayah 74:37

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

(اور) بنی آدم کے لئے موجب خوف

36 ۔” نذیراً للبشر “ یعنی آگ انسانوں کو ڈرانے والی ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ کسی دہشت ناک چیز سے نہیں ڈرایا اور اس کا نصب اللہ تعالیٰ کے قول ” لاحدی الکبر “ سے قطع پر ہے اس لئے کہ وہ معرفۃ ہے اور نذیراً نکرہ ہے۔ خلیل (رح) فرماتے ہیں نذیر مصدر ہے نکیر کی طرح اور اس لئے اس کے ساتھ مونث کو موصوف کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی صفت میں سے ہے اور اس کا مجاز ” وما جعلنا اصحاب النار الا ملائکۃ نذیراً للبشر “ یعنی ” اندارا لھم “ ان کو ڈرانے کے لئے۔ ابورزین فرماتے ہیں فرمایا ہے کہ میں تمہارے لئے اس سے نذیر ہوں۔ پس تم اس سے ڈرو اور کہا ہے یہ محمد ﷺ کی صفت ہے اس کا معنی ” یایھا المدثر قم نذیر اللبشر “ یعنی اس کو ڈرائیں اور یہ ابن زید کے قول کا معنی ہے۔
Ayah 74:38

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے

37 ۔” لمن شائ “ بدل ہے اللہ تعالیٰ کے قول للبشر سے۔ ” منکم ان یتقدم “ خیر اور طاعت میں۔ ” اویتاخر “ اس سے شر اور معصیت اور معنی یہ ہے کہ انذار حاصل ہو ہر اس شخص کے لئے جو ایمان لایا یا کفر کیا۔
Ayah 74:39

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گرو ہے

38 ۔” کل نفس بما کسبت رھینۃ “ آگ میں مرتھن (رہن رکھا ہوا) ہے اپنے کسب کی وجہ سے اپنے عمل سے پکڑا گیا ہے۔
Ayah 74:40

فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ Open ayah 74:40 in the Quran reader

مگر داہنی طرف والے (نیک لوگ)

39 ۔” الا اصحاب الیمین “ کیونکہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے رہن نہ ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کردیں گے۔ اصحاب الیمین کی تفسیر قتادہ (رح) فرماتے ہیں تمام لوگوں کو معلق کیا ہے سوائے اصحاب یمین کے اور ان میں اختلاف ہوا ہے۔ حضرت علی ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے بچے ہیں۔ ابوظبیان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرشتے ہیں۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ اصحاب جنت ہیں جو آدم (علیہ السلام) کے دائیں جانب تھے میثاق کے دن۔ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے کہا یہ لوگ جنت میں ہوں گے اور مجھے پرواہ نہیں اور ان سے یہ بھی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے نامہ اعمال دائیں ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان سے یہ بھی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ پر بابرکت ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ مخلص مسلمان ہیں اور قاسم (رح) فرماتے ہیں ہر نفس اپنے کسب کی وجہ سے ماخوذ ہے خیر ہو یا شر مگر وہ جو اللہ کے فضل پر بھروسہ کرے اور جو اپنے کسب پر اعتماد کرے گا تو وہ اس کی وجہ سے رہن ہوگا اور جو فضل پر اعتماد کرے گا تو وہ نہ پکڑا جائے گا۔