Ayah 75:1سورة القیامۃ
مکی ہے اور اس کی چالیس 40 آیتیں ہیں
Ayah 75:21 ۔” لااقسم بیوم القیمۃ “ قو اس نے ابن کثیر (رح) سے ” لاقسم “ پڑھا ہے پہلا حرف بغیر الف کے ہمزہ سے پہلے۔
Ayah 75:32 ۔” ولا اقسم بالنفس اللوامۃ “ الف کے ساتھ اور اسی طرح عبدالرحمن اعرج نے پڑھا ہے اس معنی پر کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی قسم کھائی ہے اور نفس لوامہ کی قسم نہیں کھائی اور صحیح یہ ہے کہ ان دونوں کی قسم کھائی ہے اور ” لا “ ان دونوں میں صلہ ہے یعنی میں روز قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھاتا ہوں۔ ابوبکر بن عیاش (رح) فرماتے ہیں یہ قسم کی تاکید ہے جیسے تیرا قول ” لا واللہ “ اور فراء (رح) فرماتے ہیں لا مشرکین منکرین کے کلام کی تردید ہے۔ پھر ابتداء کی اور فرمایا ” اقسم بیوم القیامۃ وبالنفس اللوامۃ “ اور مغیرہ بن شعبہ (رح) فرماتے ہیں وہ کہتے ہیں قیامت اور ان میں کسی کی قیامت اس کا مرجانا ہے اور علقمہ (رح) ایک جنازہ میں حاضر ہوئے۔ پس جب وہ دفن کیا گیا تو کہا بہرحال یہ پس تحقیق اس کی قیامت قائم ہوگئی۔
” ولا اقسم بالنفس اللوامۃ “ سعید بن جبیر (رح) اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں خیر اور شر پر ملامت کرتا ہے اور خوشی اور تنگی پر صبر کرتا ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللوامہ گناہگار۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جو فوت ہوجائے اس پر نادم ہوتا ہے اور کہتا ہے اگر میں کرتا اور اگر میں نہ کرتا۔ فراء (رح) فرماتے ہیں نہیں ہے کوئی نیک اور گناہگار نفس مگر وہ اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے۔ اگر خیر کا عمل کیا ہو تو کہتا ہے تونے زیادہ کیوں نہیں کیا ؟ اور اگر شر کا عمل کیا تو کہتا ہے کاش میں یہ کام نہ کرتا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں وہ مومن نفس ہے، فرمایا بیشک مومن اللہ کی قسم تو اس کو نہیں دیکھے گا مگر وہ اپنے نفس کو ملامت کرے گا، میں نے اپنی کلام سے مراد نہیں لیا اور میں نے نہیں ارادہ کیا اپنے کھانے کے ساتھ اور بیشک گناہگار قدم بہ قدم چلتا ہے اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتا اور اس پر عتاب نہیں کرتا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ کافر نفس ہے جو اپنے نفس کو آخرت میں ملامت کرے گا اس پر جو اس نے دنیا میں اللہ کے امر میں کوتاہی کی۔
Ayah 75:4آیت مبارکہ کا شان نزول
3 ۔” ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ “ یہ عدی بن ربیعہ بنوزہرہ کے حلیف اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی اور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! تو مجھے میرے دو برے پڑوسیوں سے کافی ہوجا یعنی عدی اور اخنس کیونکہ عدی بن ربیعہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو کہا اے محمد ! (ﷺ ) مجھے قیامت کے بارے میں بتائیں کب ہوگی ؟ اور اس کا امر اور حال کیسا ہوگا ؟ پس آپ (علیہ السلام) نے اس کو خبر دی تو اس نے کہا اگر میں آج کے دن معائنہ کرلوں تو آپ کی تصدیق نہ کروں گا اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائوں یا اللہ تعالیٰ ہڈیوں کو جمع کردیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ایحسب الانسان “ یعنی کافر ” ان لن نجمع عظامہ “ جدا ہونے اور بوسیدہ ہونے کے بعد۔ پس ہم اس کو زندہ کردیں گے۔ کہا گیا ہے ہڈیوں کو ذکر کیا ہے اور مراد اس کی ذات ہے اس لئے کہ ہڈیاں نفس کا قالب ہیں تخلیق ان کے برابر ہوئے بغیر درست نہیں ہوسکتی اور کہا گیا ہے یہ منکر کے قول پر نکلا ہے۔ ” اویجمع اللہ العظام “ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” قال من یحی العظام وھی رمیم “ ہے۔
Ayah 75:54 ۔” بلی قادرین “ یعنی ہم قادر ہیں صرف کے استقبال پر حال کی طرف۔ فرار (رح) فرماتے ہیں ” قادرین “ یہ نصب ہے خروج پر نجمع سے۔ جیسا کہ تو کلام میں کہتا ہے کیا تو گمان کرتا ہے کہ ہم تجھ پر قادر نہیں ہیں ؟ کیوں نہیں ہم تو تجھ سے زیادہ طاقتور پر قادر ہیں۔ مراد یہ ہے کہ بلکہ ہم اس سے اکثر پر قادر ہیں۔ آیت کا مجاز ” بلی نقدر علی جمع عظامہ وعلی ماھواعظم من فلک “ اور وہ ” علی ان نسوی بنانہ “ اس کی انگلیوں کے پورے۔ پس ہم ان کے ہاتھوں اور پائوں کی انگلیوں کو ایک چیز کی طرح کردیں۔ جیسے اونٹ کے پائوں اور گدھے کے کھر۔ پس ان سے بند کرنے، کھولنے اور لطیف اعمال کتابت ، سلائی وغیرہ کا نفع نہ اٹھا سکے گا۔ یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور زجاج اور ابن قنیبہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کا معنی کافر نے گمان کیا کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع کرنے پر قادر نہ ہوں بلکہ ہم تو قادر ہیں اس پر کہ جوڑوں کو ان چھوٹے وجود کے باوجود دوبارہ پیدا کریں، پھر ان کو جوڑیں حتیٰ کہ پوروں کو برابر بنادیں۔ پس جو ذات چھوٹی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر ہے پس وہ اس کے بڑوں کو جمع کرنے پر زیادہ قادر ہے۔
Ayah 75:65 ۔” بل یرید الانسان لیفجر امامہ “ فرماتے ہیں ابن آدم جاہل نہ ہو اس بات سے کہ اس کا رب اس کی ہڈیوں کو جمع کرنے پر قادر ہے لیکن وہ ارادہ کرتا ہے کہ اپنے آگے گناہ کرے یعنی وہ جب تک زندہ ہے اس میں قدم جاری رکھے نہ اس سے ہٹے اور نہ توبہ کرے۔ یہ مجاہد ، حسن، عکرمہ اور سدی رحمہم اللہ کا قول ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ” لیفجر امامہ “ گناہ کا اقدام کرے اور توبہ کو موخر کرے۔ پس کہے عنقریب میں توبہ کروں گا۔
عنقریب میں عمل کروں گا حتیٰ کہ اس پر موت آئے اسے برے حال اور برے اعمال پر اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں وہ امید سے کہتا ہے میں زندہ رہوں گا تو دنیا سے اتنا دوراتنا حاصل کروں گا اور موت کو یاد نہیں کرتا۔ ابن عباس ؓ اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں وہ اس کی تکذیب کرتا ہے جو اس کے آگے ہے بعث اور حساب میں سے اور فجور کی اصل مائل ہونا اور فاسق اور کافر کو فاجر کا نام دیا گیا ان کے حق سے مائل (اعراض کرنے) ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 75:76 ۔” یسال ایان یوم القیامۃ “ یعنی یہ کب ہوگا ؟ اس کی تکذیب کرتے ہوئے۔
Ayah 75:87 ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” فاذا برق البصر “ اہل مدینہ نے ” برق “ راء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کی زیر کے ساتھ اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی۔ پس وہ پلک نہ جھپکا سکے گا ان عجائب کو دیکھنے کی وجہ سے جن کی دنیا میں تکذیب کرتا تھا۔ کہا گیا ہے یہ موت کے وقت ہوگا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں جہنم کو دیکھنے کے وقت کفار کی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی اور فراء اور خلیل رحمہما اللہ فرماتے ہیں برق بالکسر یعنی گھبرایا اور حیران ہوا عجائب کو دیکھنے کی وجہ سے اور ” برق بالفتح “ یعنی اس کی آنکھ پھٹ گئی اور اس کو چمک کی وجہ سے کھولا۔
Ayah 75:98 ۔” وخسف القمر “ تاریک ہوگیا اور اس کا نور و روشنی چلی گئی۔
Ayah 75:109 ۔” وجمع الشمس والقمر “ یعنی وہ دونوں سیاہ بےنور ہوجائیں گے۔ گویا کہ وہ دو بیل ہیں دہشت زدہ اور کہا گیا ہے ان دونوں کو روشنی ختم کرنے میں جمع کردیں گے اور عطاء بن یسار (رح) فرماتے ہیں قیامت کے دن دونوں جمع کیے جائیں گے، پھر سمندر میں پھینکے جائیں گے۔ پس یہ دونوں اللہ کی بڑی آگ ہوجائیں گے اور کہا گیا ہے جمع کیے جائیں گے پھر دونوں آگ میں ڈالے جائیں گے اور کہا گیا ہے دونوں جمع کیے جائیں گے پھر مغرب سے طلوع کیے جائیں گے۔
Ayah 75:1110 ۔” یقول الانسان “ یعنی اس کا جھٹلانے والا۔ ” یومئذ این المفر “ یعنی بھاگنے کی جگہ اور کہا گیا ہے وہ مصدر ہے یعنی کہاں بھاگنا ہوگا ؟
Ayah 75:1211 ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” کلا لا وزر “ نہ قلعہ ہے اور نہ کوئی جائے حفاظت اور نہ جائے پناہ اور سدی (رح) فرماتے ہیں کوئی پہاڑ نہیں اور وہ جب خوفزدہ ہوتے تھے تو پہاڑ میں پناہ لیتے تھے تو اس کے ذریعے بچائو کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس دن کوئی پہاڑ نہ ہوگا جو ان کو بچائے۔
Ayah 75:1312 ۔” الی ربک یومئذ المستقر “ یعنی مخلوق کا ٹھکانہ ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں لوٹنے اور رجوع کی جگہ۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” الی ربک الرجعی “ ہے۔ ” والی اللہ المصیر “ اور سدی (رح) فرماتے ہیں انتہا ہے اس کی نظیر ” وان الی ربک المنتھی “ ہے۔…
Ayah 75:1413 ۔” ینبا الانسان یومئذ بما قدم واخر “ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جو موت سے نیک اور براعمل کیا اور جو موت کے بعد پیچھے اچھا طریقہ یا برا طریقہ چھوڑا جس پر عمل کیا جارہا ہو۔ عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” بما قدم “ معصیت میں سے۔ ” واخر “ طاعت میں سے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ” بما قدم “ اللہ کی طاعت میں سے۔ ” ومااخر “ اپنی عمر کے آخر میں اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں ” بماقدم “ اپنے اموال میں سے اپنے لئے ” وما اخر “ اس کو ورثاء کے لئے پیچھے چھوڑا۔
Ayah 75:1514 ۔” بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ “ عکرمہ ، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کا معنی ہے بلکہ انسان اس کے نفس پر اس کے نفس سے نگران ہیں جو اس کی نگرانی کرتے ہیں اور اس کے خلاف اس کے عمل کی گواہی دیں گے اور وہ اس کے کان اور آنکھیں اور اعضاء ہیں اور ھاء داخل ہے بصیرۃ پر اس لئے ک ہانسان سے مراد یہاں اس کے اعضاء ہیں اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا معنی ہو بلکہ انسان اس کے نفس یعنی اس کے اعضاء کے لئے دیکھنے والے ہیں۔ پس حرف جر کو حذف کردیا گیا جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم “ ہے یعنی لاولاد کم اور ممکن ہے کہ وہ صفت ہو مونث اسم کی یعنی ” بل الانسان علی نفسہ عین بصیرۃ “ اور ابوالعالیہ اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں بلکہ انسان اس کے نفس پر گواہ ہے اور یہی عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور ھاء بصیرۃ میں مبالغہ کے لئے ہے۔ اس تاویل کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا “ ہے۔
Ayah 75:1615 ۔” ولو القیٰ معاذیرہ “ یعنی اس کے خلاف گواہ گواہی دے گا اگرچہ وہ عذر کرے اور اپنے آپ سے جھگڑے یہ اس کا نفع نہ دے گا۔ جیسا کہ فرمایا ” یوم لا ینفع الظالمین معذرتھم “ اور یہ مجاہد، قتادہ، سعید بن جبیر، ابن زید اور عطاء رحمہم اللہ کے قول کا معنی ہے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں اور اگر عذر کیا تو اس پر قول کا القاء ہے جیسا کہ فرمایا ” فالقوا الیھم القول انکم لکاذبون “ اور ضحاک اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” ولو القیٰ معاذیرہ “ یعنی اگرچہ پردہ گرادے اور دروازے بند کردے اس کے نفس سے وہ ہے جو اس کے عذر کو جھٹلائے گا اور اہل یمن پردہ کا نام معذارارکھتے ہیں اور اس کی جمع معاذیر ہے اور اس کا معنی اس قول پر اگرچہ پردہ لٹکادے تاکہ اس کا عمل مخفی رہے تو اس کا نفس اس پر گواہ ہے۔
Ayah 75:1716 ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ “ ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ “ کے بارے میں مروی ہے ، فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر اترتے تو اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے تو یہ آپ پر گراں ہو اور یہ آپ (علیہ السلام) سے پہچانا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ” لا اقسم بیوم القیامۃ “ سورت میں ” لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ “
Ayah 75:1817 ۔” ان علینا جمعہ وقرآنہ “ فرمایا ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کو آپ ﷺ کے سینے میں جمع کردیں۔
Ayah 75:1918 ۔” فاذا قراناہ فاتبع قرآن ہ “ پس جب اس کو نازل کرے تو آپ توجہ سے سنیں۔
Ayah 75:2019 ۔” ثم ان علینا بیانہ “ ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کو آپ (علیہ السلام) کی زبان سے بیان کریں۔ فرمایا اور جب آپ (علیہ السلام) کے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے تو آپ (علیہ السلام) سرجھکا کر خاموش ہوجاتے پھر جب وہ چلے جاتے تو آپ ﷺ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے جب آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا، ڈرتے کہ آپ (علیہ السلام) سے چوک نہ جائے تو کہا گیا ” لاتحرک بہ لسانک، ان علینا جمعہ “ کہ ہم آپ کے سینہ میں جمع کردیں گے۔ ” وقرآنہ “ کہ آپ ﷺ اس کو پڑھیں گے۔
Ayah 75:2120 ۔” کلا بل تحبون العاجلۃ “ ۔
Ayah 75:2221 ۔” وتذرون الآخرۃ “ اہل مدینہ اور اہل کوفہ نے ” تحبون وتذرون “ دونوں میں تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ یعنی وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس کے لئے عمل کرتے ہیں یعنی کفار مکہ اور جس نے تاء پڑھا ہے اس تقدیر پر کہ ” قل یا محمد بل تحبون وتذرون “۔
Ayah 75:2322 ۔” وجوہ یومئذ “ قیامت کے دن۔ ” ناضرۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں خوبصورت ہوں گے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں خوش اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں تروتازہ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں سفید ان پر نور چڑھا ہوا ہوگا اور سدی (رح) فرماتے ہیں روشن، چمکدار اور یمان فرماتے ہیں روسن۔ فراء کہتے ہیں نعمتوں کی وجہ سے کھلے ہوئے ۔ کہا جاتا ہے ” نضر اللہ وجھہ ینضر نضرا ونضرہ اللہ وانضرہ ونضروجھہ ینضر نضرۃ…” الی ربھا ناظرۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اکثر لوگ اپنے رب کی طرف عیانا بغیر حجاب کے دیکھیں گے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں خالق کی طرف دیکھے گی۔
Ayah 75:2423 ۔” وحق لھا ان تنضر وھی تنظر الی الخالق “ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت میں ادنیٰ مرتبہ کا شخص وہ ہے جو اپنے باغوں، بیویوں، نعمتوں، خادموں اور خوشی کی طرف ہزار سال کی مسافت سے دیکھے گا اور ان میں سے اللہ کے ہاں معزز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے چہرہ کو صبح وشام دیکھے گا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا ” وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ “
Ayah 75:2524 ۔” ووجوہ یومئذ باسرۃ “ تیوری چڑھائے غبار آلود سیاہ ہوں گے۔
Ayah 75:2625 ۔” تظن ان یفعل بھا فاقرہ “ وہ یقین رکھتا تھا کہ اس کے ساتھ بڑے عذاب کا معاملہ کیا جائے گا اور ” فاقرۃ “ بڑی مصیبت اور ایسا سخت معاملہ جو کمر کے مہر توڑ دے۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کمر توڑنے والی۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں وہ آگ میں داخل ہونا ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی رئویت سے روک دیا جائے گا۔
Ayah 75:2726 ۔” کلا اذا بلغت “ یعنی نفس یہ کنایہ ہے غیر مذکور سے۔ ” التراقی “ پس موت کے وقت گھنگھرو بولیں اور ” تراقی ترقوۃ “ کی جمع ہے اور وہ ہڈیاں جو ہنسلی کی ہڈی کے درمیان گڑھے اور کندھے کے درمیان ہوتی ہیں۔ نفس کے تراقی تک پہنچنے کے ذریعے موت کے قریب ہونے سے کنایہ کیا گیا ہے۔
Ayah 75:2827 ۔” وقیل من راق “ یعنی کہے گا جس پر موت حاضر ہو کیا کوئی طبیب ہے جو اس کو جھاڑ پھونک کرے اور دواء دے تو یہ اس کے جھاڑنے یا دواء سے شفایاب ہوجائے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں تم اس کے لئے طبیبوں کو تلاش کرو وہ اس کو اللہ کی قضاء سے کچھ فائدہ نہ دیں گے۔ سلیمان تیمی اور مقاتل بن سلیمان فرماتے ہیں یہ فرشتوں کے قول میں سے ہے ان میں سے بعض بعض کو کہیں گے کون اس کی روح کو لے کر چڑھتا ہے، پھر اس کو رحمت کے فرشتے یا عذاب کے فرشتے لے جائینگے
Ayah 75:2928 ۔” وظن “ یقین کرلیا اس نے جس کی روح تراقی کو پہنچ گئی۔ ” انہ الفراق “ دنیا سے
Ayah 75:3029 ۔” والتفت الساق بالساق “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں سختی ، سختی کے ساتھ۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں موت کی سختی آخرت کی سختی کے ساتھ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اس پر لگاتار سختیاں آئیں۔ سدی (رح) فرماتے ہیں ایک تکلیف سے نہیں نکلے کہ دوسری اس سے سخت آجائے گی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کا امر آخرت کے امر کے ساتھ ۔ پس دنیا کے آخری دن اور آخرت کے ایام میں سے پہلے دن میں ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس میں موت وحیات جمع ہوگئیں۔
اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں لوگ اس کے جسم کو تیار کررہے ہوتے ہیں اور فرشتہ اس کی روح کو اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ دونوں میت کی پنڈلیاں ہیں جب کفن میں لپیٹی جائیں اور شعبی (رح) فرماتے ہیں یہ دونوں میت کی پنڈلیاں ہیں جب موت کے وقت مل جائیں۔
Ayah 75:3130 ۔” الی ربک یومئذ المساق “ یعنی بندوں کا لوٹنا اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگا اس کی طرف ہانکے جائیں گے۔
Ayah 75:3231 ۔” فلا صدق ولا صلی “ یعنی ابوجہل نے نہ قرآن کی تصدیق کی اور نہ اللہ کے لئے نماز پڑھی۔
Ayah 75:3332 ۔” ولکن کذب وتولی “ ایمان سے۔
Ayahs 75:34–3533 ۔” ثم ذھب الی اھلہ “ ان کی طرف لوٹا۔ ” یتمطی “ اکڑتا ہوا اور اترا کر چلتا ہوا۔ کہا گیا ہے اس کی اصل ” یتمطط “ یعنی یتمدد اور والمط بمعنی کھینچنا ہے۔
Ayah 75:3635 ۔” ثم اولی لک فاولیٰ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابوجہل کے لئے وعید پر وعید ہے اور یہ کلمہ دھمکی اور وعید کے لئے وضع کیا گیا ہے اور بعض علماء نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے تو اس عذاب کا زیادہ لائق اور زیادہ حق دار ہے اس آدمی کے لئے کہا جاتا ہے جس کو کوئی ناپسند چیز پہنچے۔ ” یستوجبہ “ یہ اس کا سزوار ہے اور کہا گیا ہے یہ کلمہ عرب اس کے لئے بولتے ہیں جس کے ناپسند چیز قریب ہو اور اسکی اصل ولی سے ہے اور وہ بمعنی “ قریب “ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار “ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے بطحاء میں ابوجہل کے کپڑے پکڑ کر کہا ” اولیٰ لک فاولیٰ ۔ ثم اولیٰ لک فاولیٰ “ تو ابوجہل نے کہا اے محمد ! ﷺ کیا آپ مجھے دھمکی دیتے ہیں، اللہ کی قسم ! آپ اور آپ کا رب میرے ساتھ کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور میں اس مکہ دو پہاڑوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ قوی ہوں۔ پھر بدر کے دن اللہ تعالیٰ نے اس کو بری جگہ میں پچھاڑا اور اس کو برے طریقہ سے قتل کیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک ہر امت کا فرعون ہے اور اس امت کا فرعون ابوجہل ہے۔
Ayah 75:3736 ۔” ایحسب الانسان ان یترک سدی “ بےکار نہ حکم دیا جائے گا اہ نہ نہی کیا جائے گا۔ سدی (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے مہمل اور ابل سدی اس اونٹ کو کہتے ہیں جو چرواہے کے بغیر ہو یا جہاں چاہے چرے۔
Ayah 75:3837 ۔” الم یک نطفۃ من منی یمنی “ رحم میں ٹپکائی جاتی ہے۔ حفص نے عاصم سے ” یمنی “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ حسن (رح) کی قرات ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے نطفہ کی وجہ سے۔
Ayah 75:3938 ۔” ثم کان علقۃ فخلق فسوی “ پس اس میں روح ڈالی اور اس کی تخلیق کو درست کیا۔
Ayah 75:4039 ۔” فجعل منہ الزوجین الذکر والانثیٰ “ اس کے پانی سے مذکر ومونث اولاد کو پیدا کیا۔…