Ayah 76:1سورة الدھر
مدنی ہے اور اس کی اکتیس 31 آیات ہیں
عطاء (رح) فرماتے ہیں یہ مکی ہے اور مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں مدنی ہے۔ حسن اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ مدنی ہے سوائے ایک آیت کے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” فاصبر لحکم ربک “ ہے۔ ” ولا تطع منھم آثما او کفورا “ ہے اور اس کی اکتیس آیات ہیں۔
Ayah 76:21 ۔” ھل اتی “ تحقیق آیا ہے۔ ” علی الانسان “ یعنی آدم (علیہ السلام) پر۔ ” حین من الدھر “ چالیس سال اور وہ مٹی گارے سے جو مکہ اور طائف کے درمیان ڈالا ہوا تھا روح پھونکے جانے سے پہلے۔ ” لم یکن شیئا مذکورا “ نہ ذکر کیا جاتا اور نہ پہچانا جاتا اور نہ یہ معلوم تھا کہ اس کا نام کیا ہے اور نہ وہ جو اس سے مراد ہے۔ مراد یہ ہے وہ شے تھا لیکن قابل ذکر نہ تھا اور یہ اس وقت جب اس کو مٹی سے پیدا کیا اس میں روح پھونکنے سے پہلے۔ روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو سنا جو یہ آیت پڑھ رہا تھا ” لم یکن شیئا مذکورا “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کاش کہ وہ مکمل ہوجائے۔ مراد یہ تھی کاش کہ وہ اس پر باقی رہے جس پر تھا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں پھر اس کو ایک سو بیس 120 سال بعد پیدا کیا۔
Ayah 76:32 ۔” انا خلقنا الانسان “ یعنی آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو۔ ” من نطفۃ “ یعنی مرد اور عورت کی منی سے۔ ” امشاج “ ملے جلے۔ اس کا واحد مشج اور مشیج ہے جیسے خدن وخدین۔
امشاج کی تفسیر میں ائمہ کرام کے مختلف اقوال
ابن عباس ؓ ، حسن ، مجاہد اور ربیع رحمہم اللہ فرماتے ہیں یعنی آدمی کا پانی اور عورت کا پانی رحم میں ملتے ہیں تو ان دونوں سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ پس آدمی کا پانی سفید گاڑھا اور عورت کا پانی زرد پتلا ہے۔ پس ان دونوں میں سے جو دوسرے پر غالب ہوجائے تو بچہ اس کے مشابہ ہوگا اور جو پٹھے اور ہڈیاں ہیں تو وہ مرد کے نطفہ سے بنتے ہیں اور گوشت ، خون اور بال عورت کے پانی سے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں امشاج سے نطفہ کے مختلف رنگ مراد ہیں۔ پس مرد کا نطفہ سفید اور سرخ اور عورت کا نطفہ سبز، سرخ اور زرد ہے اور یہ والبی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور اسی طرح کلبی (رح) نے کہا ہے۔ فرمایا الامشاج سفیدی، سرخی اور زردی میں اور یمان فرماتے ہیں جب دو رنگ مل جائیں تو وہ امشاج ہے اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں وہ رگیں جو نطفہ میں ہوتی ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں نطفہ جو خون کے ساتھ ملایا جائے اور وہ حیض کا خون ہے۔ پس جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو حیض مرتفع ہوجاتا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ پیدائش کے مراحل ہیں۔ نطفہ پھر جما ہوا خون، پھر گوشت کا لوتھڑا۔ پھر ہڈی پھر اس پر گوشت چڑھاتے ہیں، پھر اس کو دوسری پیدائش دیتے ہیں۔ ” نبتلیہ “ ہم اس کا امرونہی کے ذریعے امتحان لیتے ہیں۔ ” فجعلناہ سمیعا بصیرا “ بعض اہل عربیت نے کہا ہے اس میں تقدیم و تاخیر ہے اس کا مجاز ” فجعلناہ سمیعا بصیر انبتلیہ “ اس لئے کہ آزمائش تخلیق مکمل ہونے کے بعد ہوتی ہے۔
Ayah 76:43 ۔” انا ھدیناہ السبیل “ یعنی ہم نے اس کے لئے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے راستے کو بیان کیا اور ہم نے اس کو خیر و شر کے راستہ کی معرفت دی۔ ” اماشاکر اواماکفورا “ یا مومن نیک بخت یا کا فرید بخت ہے اور کہا گیا ہے کلام کا معنی جزاء ہے۔ یعنی ہم نے اس کے لئے راستے کو بیان کردیا، اگر وہ شکر کرے یا کفر کرے۔
Ayah 76:54 ۔” پھر دونوں فریقوں کے لئے جو ہے اس کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” انا اعتدنا للکافرین سلاسل “ یعنی جہنم میں۔ اہل مدینہ، کسائی اور ابوبکر نے عاصم سے ” سلاسلا “ اور ” قواریر قواریر “ الف کے ساتھ پڑھا ہے وقف میں اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے ان تمام میں وصل کی صورت میں اور حمزہ اور یعقوب نے بغیر الف کے وقف کی صورت میں اور بغیر تنوین کے ان میں وصل کی صورت میں پڑھا ہے اور ابن کثیر (رح) نے ” قواریر “ پہلا وقف میں الف کے ساتھ اور وصل میں تنوین کے ساتھ اور ” سلاسل “ اور ” قواریر “ دوسرا بغیر الف اور بغیر تنوین کے اور ابو عمرو، ابن عامر اور حفص رحمہم اللہ نے ” سلاسلا “ اور پہلا قواریرا وقف کی صورت میں الف کے ساتھ حظ پر اور بغیر تنوین کے وصف میں اور ” قواریرا “ دوسرا بغیر الف اور بغیر تنوین کے ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” واغلالا “ یعنی ان کے ہاتھوں میں۔ ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے۔ ” وسعیرا “ سخت ایندھن۔
Ayah 76:65 ۔” ان الابرار “ یعنی مومنین جو اپنے ایمان میں سچے اور اپنے رب کی اطاعت کرنے والے ہیں، اس کا واحد ” بار “ ہے جیسے شاہد اور اشہاد۔ ناصر اور انصار اور ” بر “ بھی جیسے نھر اور انھار۔ ” یشربون “ آخرت میں۔ ” من کاس “ اس میں شراب ہوگی۔ ” کان مزاجھا کافورا “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کو کافور کے ساتھ ملایا جائے گا اور کستوری کی مہر لگائی گئی ہوگی۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں مزاجھا اس کا ذائقہ اور اہل معانی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ وہ اپنی سفیدی اور عمدہ خوشبو اور ٹھنڈک میں کافور کی طرح ہوگی۔ اس لئے کہ کافور پیا نہیں جاتا اور وہ اللہ تعالیٰ کے قول ” حتی اذا جعلہ نارا “ کی طرح ہے یعنی کنار اور یہ مجاہد، مقاتل رحمہما اللہ کے قول کا معنی ہے۔ اس کا مزاج کا فور کی خوشبو کی طرح ہوگا۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں اس کو کافور، کستوری اور زنجییل کے ساتھ عمدہ بنایا گیا ہوگا۔ عطاء اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کافور جنت میں پانی کے چشمے کا نام ہے۔
Ayah 76:76 ۔” عینا “ اس پر نصب کافور کے تابع ہونے کی وجہ سے ہے اور کہا گیا ہے مدح کی بناء پر نصب ہے اور کہا گیا ہے اصل عبارت ” اعنی عینا “ ہے یعنی میں چشمہ مراد لیتا ہوں اور زجاج (رح) فرماتے ہیں زیادہ عمدہ یہ ہے کہ معنی ہوں من عین۔ ” یشرب بھا “ کہا گیا ہے ” یشربھا “ اور یاء صلہ ہے اور کہا گیا ہے بھا یعنی منھا۔ ” عباد اللہ “
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ کے اولیاء ” یفجرونھا تفجیرا “ یعنی اس کو کھینچیں گے جہاں چاہیں گے اپنے گھروں اور محلات کی طرف۔ جیسا کہ کسی کی نہر ہو، یہاں دنیا میں تو وہ اس کو کھو دکر جہاں چاہے لے جاسکتا ہے۔
Ayah 76:8یوفون بالنذر کی مختلف تفاسیر
7 ۔” یوفون بالنذر “ یہ ان کی دنیا کی صفات ہیں۔ یعنی وہ دنیا میں اس طرح تھے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ وہ پورا دا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج وعمرہ اور اس کے علاوہ واجبات کو فرض کیا ہے اور النذر کا معنی واجب کرنا اور مجاہدہ اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتی ہیں جب وہ اللہ کی طاعت کی منت مانتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے منت مانی کہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو چاہیے کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے منت مانی کہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو اس کی نافرمانی کرے۔
” ویخافون یوما کان شرہ مستطیرا “ پھیلنے والا لمبا۔ کہا جاتا ہے ” استطار الصبح “ جب وہ پھیل جائے اور لمبی جائے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کا شر آسمانوں میں پھیلنے والا ہوگا۔ پس وہ پھٹ جائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور سورج و چاند بےنور کردیئے جائیں اور فرشتے گھبرا جائیں گے اور زمین ، پس پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے اور پانی خشک ہوجائیں گے اور زمین پر موجود ہر عمارت وپہاڑ ٹوٹ جائیں گے۔
Ayah 76:98 ۔” ویطعمون الطعام علی حبہ “ یعنی کھانے کی محبت اور قلت اور ان کے کھانے کی چاہت کرنے اور ضرورت ہونے کے باوجود اور کہا گیا ہے اللہ کی محبت میں۔ ” مسکینا “ فقیر کو جس کا کوئی مال نہ ہو۔ ” ویتیما “ بچہ جس کا باپ نہ ہو۔ ” واسیرا “ مجاہد، سعید بن جبیر اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ اہل قبلہ میں سے قید کیا ہوا شخص اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے امراء کو ان کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگرچہ ان دنوں ان کے قدی مشرک ہوتے تھے اور کہا گیا ہے الاسیر مملوک غلام اور کہا گیا ہے عورت۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اللہ سے عورتوں کے معاملہ میں ڈرو کیوں کہ وہ تمہارے پاس عوان یعنی قیدی ہیں اور اس آیت کے سبب نزول میں اختلاف کیا ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ ایک انصاری شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے ایک دن مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلایا۔ مجاہد اور عطاء عن ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے یہ علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک یہودی کے پاس تھوڑے سے جو کے بدلے مزدوری کی، پھر جو لیے اس کے تہائی پیسا، پھر اس سے کوئی چیز بنائی تاکہ وہ اس کو کھا سکیں پھر جب وہ پک گئی تو مسکین آیا اور سوال کیا تو انہونے اس کو سارا کھانا دے دیا۔ پھر دوسرے تہائی کے ساتھ یہی معاملہ کیا۔ پس جب یہ پکا تو یتیم آیا سوال کیا تو انہوں نے اس کو کھلا دیا، پھر باقی تہائی کے ساتھ وہی معاملہ کیا۔ پس جب وہ پک گیا تو مشرکین میں سے ایک قیدی آیا سوال کیا تو انہوں نے اس کو کھلا دیا اور اپنا دن بھوکے گزارا اور یہ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ قیدی اہل شرک میں سے تھا اور اس میں دلیل ہے کہ قیدیوں کو کھانا کھلانا اگرچہ وہ مشرک ہوں اچھا کام ہے اس کے ثواب کی امید ہے۔
Ayah 76:109 ۔” انما نطعکم لو جہ اللہ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا “ اور شکور مصدر ہے عقود، دخول اور خروج کی طرح۔ مجاہد اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ان کے دلوں سے جان لیا۔ پھر ان کی تعریف کی۔
Ayah 76:1110 ۔” انا نخاف من ربنا یوما عبوسا “ اس میں چہرے اس کی ہولناکی اور شدت کی وجہ سے ترش ہوجائیں گے اور عبوس کی نسبت یوم کی طرف کی گئی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے یو م صائم ولیل نائم ۔ اور کہا گیا ہے کہ یو م کا وصف عبوس بیان کیا ہے اس لئے کہ اس میں شدت ہوگی۔ ” قمطریرا “ قتادہ مجاہد اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں قمطر پر جو چہروں اور پیشانیوں کو ترش کے ساتھ پکڑے گا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں عبوس وہ جس میں کوئی انبساط نہ ہو اور قمطریر سخت۔ اخفش (رح) فرماتے ہیں قمطریر دنوں میں سے سخت ترین اور آزمائش میں طویل ۔ کہا جاتا ہے ” یوم قمطریر وقماطر “ جب سخت ناپسند ہو اور ” اقمطر الیوم فھو مقمطر “۔
Ayah 76:1211 ۔” فوقاھم اللہ شر ذلک الیوم “ جس سے وہ ڈرتے ہیں۔ ” ولقاھم نضرۃ “ ان کے چہروں میں حسن ” وسرورا “ ان کے دلوں میں۔
Ayah 76:1312 ۔” وجزاھم بما صبروا “ الل کی طاعت پر اور اس کی معصیت سے اجتناب پر۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں فقر پر اور عطا (رح) فرماتے ہیں بھوک پر۔ ” جنۃ وحریرا “ حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت میں داخل کیا اور ان کو ریشم پہنایا۔
Ayah 76:1413 ۔” متکئین “ حال پر۔ ” فیھا “ جنت میں۔ ” علی الارائک “ پردے والی سہریاں اور ” اریکۃ “ اسی وقت ہوسکتا ہے جب دونوں صفتیں جمع ہوں۔ ” لا یرون فیھا شمسا ولا زمھریرا “ یعنی گرمی اور سردی۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی سورج اس کی گرمی ان کو تکلیف دے گی اور ” زمھریر “ اس کی ٹھنڈک ان کو تکلیف دے گی۔ اس لئے کہ وہ دونوں دنیا میں تکلیف دیں گی اور ” زمھریر “ سخت ٹھنڈک ہے۔
Ayah 76:1514 ۔ ودانیۃ علیھم ظلالھا “ یعنی ان سے قریب ہوں گے ان کے درخت کے سائے اور ” دانیۃ “ کا نصب اللہ تعالیٰ کے قول ” متکئین “ پر عطف کی وجہ سے ہے اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” لایرون فیھا شمسا ولا زمھریر “ کی جگہ اور دیکھیں گے ” دانیۃ “ اور کہا گیا ہے مدح کی بناء پر ۔ ” وذلت “ تابع کیے گئے اور قریب کیے گئے۔ ” قطوفھا “ اس کے پھل ” تذلیلا “ وہ اس کے پھلوں کو کھائیں گے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور لیٹ کر اور ان کو توڑیں جیسے چاہیں گے جس حال پر چاہیں گے۔
Ayah 76:16قواریرا من فضۃ کی تفسیر
15 ۔” ویطاف علیھم بآنیۃ من فضۃ واکواب کانت قواریرا۔
Ayah 76:1716 ۔” قواریرا من فضۃ “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں شیشیوں کے صاف ہونے میں چاندی کی سفیدی مراد ہے۔ پس وہ شیشے کے صاف ہونے میں چاندی سے ہوں گی۔ انے اندر کی چیز باہر سے دیکھی جائے گی۔ کلبی (رح) (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ر قوم کے قواریران کی زمین کی مٹی سے بنائے ہیں۔ پس جنت کی زمین چادی کی ہے تو اس سے ان کے شراب کے برتن بنائے گئے جس میں وہ پئیں گے۔ ” قدروھا تقدیرا “ پیالوں کا ان کے رب نے ٹھیک اندازہ کیا ہے نہ زیادہ ہوں گے نہ کم۔ ینی ان کے لئے اندازہ کیا ہے پلانے والوں اور خادموں کا جوان پرچکر لگائیں گے وہ ان کا اندازہ کریں گے پھر پلائیں گے۔
Ayah 76:1817 ۔” ویسقون فیھا کا سا کان مزاجھا زنجیلا “ وہ اس کی طرف خوب خواہش کریں گے اور خوشی سے جھومیں گے اور زنجییل ان چیزوں میں سے ہے جن کو عرب بہت عمدہ سمجھتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعد کیا کہ وہ جنت میں وہ جام پلائے جائیں گے جن میں جنت کی زنجییل ملی ہوئی ہوگی۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں دنیا کی زنجییل کے مشابہ نہ ہوگی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہر وہ چیز جس کا قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جنت اور آسمان میں ہونے کا ذکر کیا ہے دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور کہا گیا ہے وہ جنت میں چشمہ ہے اس سے زنجییل کا ذائقہ آتا ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کو صرف مقربین پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لئے ملائی جائے گی۔
Ayah 76:1918 ۔” عینا فیھا تسمی سلسبیلا “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں سلسلہ جو ان کے تابع ہوں جہاں چاہیں گے اس کو پھیریں گے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں تیز بہنے والا۔ ابوالعالیہ اور مقاتل بن حیان رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کا نام سلسبیل رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ ان کے راستوں اور ان کے گھروں میں بہے گا، عرش کے نیچے سے پھوٹے گا، جنت عدن سے اہل جنت کی طرف اور جنت کی شراب کا فور جیسی ٹھنڈی زنجییل کے ذائقے والی اور مشک کی خوشبو والی ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا نام سلسبیل رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ انتہائی عمدہ خوشگوار ہونے کی وجہ سے حلق میں آسانی سے اترتی چلی جائے گی اور اللہ تعالیٰ کا قول ” تسمی “۔ یعنی اس کی صفت بیان کی جاتی ہے اس لئے کہ اکثر علماء کے نزدیک سلسبیل صفت ہے نہ کہ اسم۔
Ayah 76:2019 ۔” ویطوف علیھم والدن مخلدوناذا رایتم حسبتھم لو لوا منثورا “ عطائؒ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ وہ سفیدی اور حسن میں موتی ہیں جب ان کو دھاگے سے بچھونے پر بکھیر دیا جائے تو وہ پروئے ہوئے سے زیادہ اچھا ہوتا ہے اور اہل معانی رحمہم اللہ فرماتے ہیں ان کو منثور کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے چونکہ یہ دوران خدمت بکھرے ہوتے ہیں اس وجہ سے۔ پس اگر وہ صف باندھے ہوتے تو ان کو لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کے ساتھ تشبیہ دی جاتی۔
Ayah 76:2120 ۔” واذا رایت ثم “ یعنی جب آپ اپنی نگاہ سے دیکھتے۔ ” ثم “ یعنی جنت میں ” رایت نعیما “ جو بیان نہیں کی جاسکتیں۔ ” وملکا کبیرا “ اور وہ یہ کہ ان میں سے ادنیٰ مرتبہ والا شخص اپنے ملک کی طرف دیکھے گا ایک ہزار سال کی مسافت میں۔ اس کی انتہا کو ایسے دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی جگہ کو دیکھتا ہے۔ مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ رب العزت کا رسول فرشتوں میں سے اس کی اجازت کے بغیر اس پر داخل نہ ہوسکے گا اور کہا گیا ہے ایسا ملک جس کا زوال نہیں ہوگا۔
Ayah 76:2221 ۔” عالیھم ثیاب سندس “ اہل مدینہ اور حمزہ رحمہم اللہ نے ” عالیھم “ یاء ساکن اور ھاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ پس یہ رفع کی جگہ میں ہوگا ابتداء کی وجہ سے اور اس کی خبر یثاب سندس ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے زبر اور ھاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے صفت کی بناء پر یعنی ان کے اوپر اور یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی بناء پر یثاب سندس کا۔ ” خضر واستبرق “ نافع اور حفص رحمہما اللہ نے ” خضر واستبرق “ دونوں کو مرفوع پڑھا ہے ثیاب پر عطف کرتے ہوئے اور ان دونوں کو حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے مجرور پڑھا ہے اور ابن کثیر اور ابوب کرنے ” خضر “ زیر کے ساتھ۔ ” واستبرق “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور ابو جعفر اور اہل بصرہ اور اہل شام نے اس کا الٹ پڑھا ہے۔ پس رفع ثیاب کی صفت ہونے کی بناء پر اور جر سندس کی صفت ہونے کی بناء پر۔ ” وحلواساور من فضۃ وسقاھم ربھم شرابا طھورا “ کہا گیا ہے گندگیوں سے پاک اس کو ہاتھوں اور پائوں نے میلا نہ کیا ہوگا دنیا کی شراب کی طرح۔ ابو قلابہ اور ابراہیم رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ ناپاک پیشاب نہ ہوگا لیکن ان کے جسموں سے پسینہ نکلے گا کستوری کی خوشبو کی طرح کا۔
اور ان کے پاس کھانا لایا جائے گا اس کو کھائیں گے تو جب کھانے کا آخر ہوگا تو پاکیزہ شراب دی جائے گی، اس کو پئیں گے تو ان کے پیٹ پاک ہوجائیں گے اور جو انہوں نے کھایا ہے وہ پسینہ بن کر ان کے جسم سے نکل جائے گا وہ پسینہ کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوگا اور ان کے پیٹ خالی ہوجائیں گے اور ان کی خواہش لوٹ آئے گی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ پانی کا چشمہ ہے جنت کے دروازہ پر جو اس کو پئے گا اللہ تعالیٰ اس کے دل میں جو کینہ، کھوٹ اور حسد ہوگا کھینچ لیں گے۔
Ayah 76:2322 ۔” ان ھذا کان لکم جزاء وکان سعیکم مشکورا “ یعنی جو جنت کی نعمتیں بیان کی گئی ہیں وہ تمہارے لئے تمہارے اعمال کا بدلہ ہوگی اور تمہاری سعی اور دنیا میں عمل کرنا اللہ کی طاعت میں اس کی قدردانی کی جائے گی۔ عطا (رح) فرماتے ہیں میں نے تمہاری اس پر قدردانی کی ہے اور تم کو افضل ثواب دیا ہے۔
Ayah 76:2423 ۔” انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جدا جدا آیت کے بعد آیت یکبارگی نہیں اتارا گیا۔
Ayah 76:2524 ۔” فاصبرلحکم ربک ولاتطع منھم “ یعنی مشرکین مکہ میں سے۔ ” آثما اور کفورا “ یعنی وکفورا اور الف صلہ ہے۔
اثما او کفورا کی تفسیر
قتادہ (رح) فرماتے ہیں آثم اور کافر سے ابوجہل مراد ہے کیونکہ جب نبی کریم ﷺ پر نماز فرض کی گئی تو آپ (علیہ السلام) کو ابوجہل نے اس سے روکا اور کہا اگر آپ دیکھیں اے محمد ! (ﷺ ) کی نماز پڑھیں تو میں آپ (علیہ السلام) کی گردن رونددوں گا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں آثم سے عتبہ بن ربیعہ مراد ہے اور الکفور سے ولید بن مغیرہ ان دونوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا اگر آپ نے جو کچھ کیا ہے عورتوں اور مال کے لئے کیا ہے تو آپ (علیہ السلام) اس امر سے رجوع کرلیں۔ عتبہ نے کہا میں آپ (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیتا ہوں اور بغیر مہر کے اس کو آپ کے پاس بھیج دوں گا اور ولید نے کہا میں آپ کو اتنا مال دوں گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے ۔ بس آپ اس امر سے رجوع کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔
Ayah 76:2625 ۔” واذکر اسم ربک بکرۃ واصیلا۔
Ayah 76:2726 ۔” ومن اللیل فاسجدلہ “ یعنی مغرب و عشاء کی نماز۔ ” وسبحہ لیلا طویلا “ یعنی فرض کے بعد نفل۔
Ayah 76:2827 ۔” ان ھٰولائ “ یعنی کفار مکہ۔ ” یحبون العاجلۃ “ یعنی جلدی گھرکو اور وہ دنیا ہے ۔ ” ویذرون وراء ھم “ یعنی اپنے آگے۔ ” یوم ثقیلا “ سخت اور وہ قیامت کا دن ہے یعنی وہ اس کو چھوڑتے ہیں پس اس پر نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ اس کے لئے عمل کرتے ہیں۔
Ayah 76:2928 ۔” نحن خلقنا ھم وشددنا “ ہم نے قوت دی اور پختہ کیا۔ ” اسرھم “ مجاہد، قتادہ اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” اسرھم “ یعنی ان کی تخلیق کو ۔ کہا جاتا ہے ” رجل حسن الاسر “ یعنی الخلق اور حسن (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کے جوڑ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رگوں اور پٹھوں کے ذریعے۔ مجاہد سے اسر کی تفسیر میں روایت کیا گیا ہے ۔ فرماتے ہیں شرمگاہ یعنی پیشاب اور پاخانہ کے گزرنے کی جگہ جب گندگی نکل جائے تو دونوں بند ہوجاتے ہیں۔ ” واذاشئنا بدلنا امثالھم تبدیلا “ یعنی جب ہم چاہیں گے ان کو ہلاک کردیں گے اور ان کے مشابہ لوگ لائیں گے۔ پس ہم ان کو ان کا بدل کردیں گے۔
Ayah 76:3029 ۔” ان ھذہ “ یعنی سورت ۔ ” تذکرۃ “ وعظ و نصیحت ہے۔” فمن شاء اتخذالی ربہ سبیلا “ عبادت کے لئے وسیلہ۔
Ayah 76:3130 ۔” وما تشاء ون “ ابن کثیر، ابن عامر اور ابو عمرو نے ” یشائو ون “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” الاان یشاء اللہ “ یعنی تم نہیں چاہتے مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ اس لئے کہ امر اسی کی طرف ہے۔ ” ان اللہ کان علیما حکیما “…