60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

مسلمانو میرے دشمن اور اپنے دشمن یعنی کافروں کو دوست نہ بنائوتم ان سے دوستانہ2 ملاپ کرتے ہو اور وہ جو سچا دین3 سچا کلام قرآن تمہارے پاس آیا اس کو مانتے ہی نہیں4 وہ تو ایسے ظالم ہیں کہ تم کو اور پیغمبر کو اتنی سشی بات پر کہ تم اپنے مالک اللہ پر ایمان لائے مکہ سے نکال باہر کترے ہیں5 اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لئے اپنے وطن سے نکلے ہو اور میری خوشی چاہتے ہو (تو ان سے ہرگز دوستی نہ رکھو) تم چپکے چپکے ان سے دوستی لگاتے رہو اور یہ نہیں جانتے کہ میں تمہاری چھپی اور کھلی (دونوں) باتوں سے خوب آگاہ ہوں اور جو کوئی تم میں ایسا کریگا (کافروں سے دوستی رکھے گا) وہ سیدھے رستے سے ِف 7

ف 2 یہ حاطب کی مذکورہ بالا غلطی کی طرف اشارہ ہے۔3 یا تم از راہ دوستی انہیں پیغام بھیجتے ہو۔4 اس لئے انکے دشمن خدا ہونے سے شک نہیں۔5 اس سے بڑا ظلم اور اس سے بھڑ کر اللہ تعالیٰ سے دشمنی اور کیا ہوسکتی ہے۔6 یا ” چپکے چپکے انہیں دوستی کا پیغام بھیجتے ہو۔ “7 یہ دوسری بات ہے کہ وہ توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ اس کی سچائی دیکھ کر اس کا قصور معاف فرما دے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حاطب بن ابی مبلعہ کا قصور معاف فرما دیا۔
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

بھٹک گیا اگر کہیں وہ تم کو پالیں (تم پر غالب ہوجائیں) تو تمہارے دشمن ہی رہیں گے8 اور برائی کے لئے اپنے ہاتھ اور زبانیں تم پر چلائیں گے ماریں گے پیٹیں گے گالیاں بھی دیں گے اور یہ چاہیں گے کہ تم کسی طرح پھر کافر بن جائو

ف 8 یعنی تمہارا چپکے چپکے ان سے دوستی گانٹھنا کوئی فائدہ نہ دے گا۔
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن تمہارے ناتے رشتے اور اولاد کچھ تمہارے کام نہیں آنے کے اللہ تم کو ان کو جدا کر دیگا9 اور اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو وہ دیکھ رہا ہے

ف 9 یعنی تم اپنے ایمان کی بدولت جنت میں جائو گے اور وہ اپنے کفر کی بدلوت دوزخ میں تمہارا اور ان کا کیسا ؟ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہارا اور ان کا فیصلہ کر دیگا لہٰذا یہ کافر رشتہ دار تمہارے کسی کام نہ آئیں گے۔
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

(مسلمانو) تم کو ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں کی اچھی خصلت کی پیروی کرنا تھی جب انہوں نے اپنی قوم والوں سے (جو مشرک تھے) کہہ دیا ہم کو تم سے اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان سے کوئی علاقہ نہیں ہے (ہم تم سے اور اس نے بالکل الگ ہیں) ہم تمہارے دین کو نہیں مانتے اور ہم میں اور تم میں کھلم کھلا ہمیشہ عداوت اور دشمنی رہے گی جب تک تم اکیلے (سچے) خدا پر ایمان نہ لائو گے دل مگر ہاں ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ کہا تھا کہ میں تیرے لئے بخشش مانگوں گا2 اور میں اللہ کے سامنیتیری بھلائی کا کوئی اختیار نہیں رکھتا3 مالک ہمارے ہم تجھی پر بھروسہ رکھتے ہیں اور تیری ہی طرف رجوع ہوتے ہیں اور تیری طرف آخر ہم کو لوٹ جانا ہے

ف 1 یعنی ہماری راہ توحید کو اختیار نہ کرو گے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھی اپنے شرک رشتہ داروں سے الگ ہوگئے تھے۔ اسی طرح تمہارا بھی یہ فرض ہے کہ اپنے مشرک رشتہ داروں سے کسی قسم کا تعلق رکھو۔2 یعنی اس قول میں حضرت ابراہیم کی پیروی جائز نہیں اور انہوں نے یہ وعدہ اس وقت کیا جب کہ حضرت ابراہیم کو معلوم نہ تھا کہ مشرک کے لئے مفغرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ بعد میں جب انہیں معلوم ہوا کہ اللہ کے دشمن کے لئے مففرت کی دعا نہیں کی جاسکتی اور ان کا والد اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے الگ ہوگئے۔ دیکھیے (توبہ 114)3 یعنی صرف درخواست کرسکتا ہوں نفع کو نقصان کا مجھے اتخیار نہیں ہے۔ یہ اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے وہ اگر چاہے گا تو میری درخواست قبول فرما کر تمہیں بخش دے گا اور نہ میں اس سے زبردستی تمہاری بخشش نہیں کر اسکتا۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

مالک ہمارے ہم کو کافروں کی گمرایہ کا سبب مت بنا4 اور مالک ہمارے ہم کو بخش دے بیشک تو ہی زبردست ہے حکمت والا

ف 4 یعنی ہمیں نیک عمل اور پختہ کردار کی توفیق دے ایسا نہ ہو کہ ہماری بد عملی اور اخلاقی کمزوری کو دیکھ کر یہ کافر ایمان لانے سے باز رہیں اور غلط راہوں پر چلتے رہیں۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کافروں کو ہم پر غلبہ نصیب نہ فرما۔ کیونکہ اس صورت میں وہ یہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر اور اس طرح وہ ایمان لانے سے باز رہیں گے۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

(مسلمانو) جو کوئی تم میں اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اس کو ان لوگوں کی اچھی خصلت کی پیروی کرنا چاہیے اور جو کوئی ان لوگوں کی پیروی سے) منہ پھیرے اور کافروں سے دوستی چائے تو اللہ بےپرواہ ہے خوبیوں6 والا

ف 5 یعنی آخرت کی بازپرس کا ڈر ہو۔6 یعنی اقنا نقصان آپ کرو گے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی دوستی یا دشمنی کی کوئی پروا نہیں۔ وہ اپنی ذات سے تمام خوبیوں اور تمام کمالات کا مالک ہے تم دشمنی کر کے اسے کیا نقصان پہنچا سکتے ہو۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

عجب نہیں کہ سب کافر مسلمان ہوجائیں اور) جن کافروں سے تم مذہبی دشمنی رکھتے ہو ان میں اور تم میں اللہ دوستی کرا دے اور اللہ بڑی قدرت والا اور اللہ بخشنے والا رحم والا ہے7

ف 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت سے بعید نہیں ہے کہ جو کافر آج تمہارے بد ترین دشمن ہیں وہ کل انہیں توفیق دے اور وہ مسلمان ہوجائیں اور اس طرح تمہارے اور ان کے درمیان درست تعلقات قائم ہوجائیں۔ چناچہ فتح مکہ کے بعد ایسا ہی ہوا۔ اس آیت سے مقصود مسلمانوں کو تسلی دینا ہے کہ کفار مکہ سے ترک موالات کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ صرف تھوڑے رصہ کے لئے ہے جلد ہی ایسے حالات پیش آئیں گے کہ تمہیں اس پر عمل کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ (موضح)
Ayah 60:8

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

جو لوگ کافروں میں سے دین پر تم سے نہیں لڑے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے انہوں نے نکالا ان سے بھلائی اور انصاف کا برتائو کرنے سے اللہ تم کو منع نہیں کرتا کیونکہ اللہ تم کو منع نہیں کرتا کیونکہ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے8

ف 8 ان سے مراد وہ عورتیں بچے بوڑھے اور بیمار لوگ ہیں جو جنگ نہیں کرسکتے یا وہ عرب قبائل جیسے خزاعہ اور بنو الحارث جو اگرچہ کافر تھے لیکن مسلمانوں کا ان سے معاہدہ تھا کہ وہ ان کے مقابلے میں قریش کی مدد نہ کریں گے اور وہ اپنے اس معاہدہ پر قائم ہے (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں : مکہ کے لوگوں میں سے بعض یاییس بھی تھے کہ آپ مسلمان نہ ہوئے ہونے والوں سے ضد بھی نہ کی۔ “ آخر حضرت اسماء کا آنحضرت کی اجازت سے اپنی والدہ مشرکہ) کے ساتھ اچھا سلوک کرنا تو ثابت ہی ہے۔
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تو تم کو ان لوگوں کی دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جو دین پر تم سے لڑے (انہوں نے مذہبی جنگ کی اور انہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکال باہر کیا اور تمہارے نکالنے پر (تمہارے دشمنوں کی) مدد کی9 اور جو لوگ ایسے لوگوں سے دوستی رکھیں وہ گناہگار ہیں

ف 9 یعنی تمہارے نکالنے میں ان کا ساتھ دیا۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

مسلمانو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں اپنا دیس چھوڑ کر (ہجرت کر کے) آئیں تو (پہلے) ان کو آزما لیا کرو اللہ تو خوب جانتا ہے1 کہ وہ ایماندار ہیں2 یا نہیں اس لئے آزمانا ضرور ہے پھر اگر تم سمجھ لو وہ درحقیقت ایماندار ہیں تو ان کو کافروں کی طرف مت لوٹائو ایسی مسلمان عورتیں کافروں کے لئے حلال نہیں ہوسکتیں نہ کافر ایسی مسلمان عورتوں کے لئے حلال ہوسکتے ہیں3 اور کافروں نے جو ان عورتوں پر خرچ کیا ہو مہر وہ ان کو دیدو اور اگر تم اے مسلمانوں ایسی عورتوں کے مہر ادا کردو تو ان سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں4 اور کافر (مشرکہ) عورتوں سے علاقہ مت رکھو5 اور تم نے جو ان پر مہر خرچ کیا ہے وہ کافروں سے مانگ لو6 اور انہوں نے جو خرچ کیا ہے وہ کافروں سے مانگ لو6 اور انہوں نے جو خرچ کیا ہے وہ تم سے مانگ لیں7 اللہ کا یہی حکم ہے جو حکم وہ تم کو دیتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے حکمت والا

ف 1 یعنی انہیں آزما لو کہ وہ حقیقت میں مسلمان ہیں بھی کہ نہیں ؟ مسور بن محزمہ مروان بن حکم سے راوی ہے کہ جب حدیبیہ کے روز آنحضرت کا قریش سے معاہدہ ہوا تو کچھ مسلمان عورتیں آپ کے پاس چلی آئیں انہی کے بارے میں آیت نازل ہوئی (شوکانی)2 یعنی اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے کہ وہ ایماندار ہیں یا نہیں لیکن تمہیں چونکہ حقیقت حال نہیں ہے اس لئے ان عورتوں کو آزمائے بغیر اپنے ہاں پناہ نہ دو شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” طاہر میں ان کا جانچنا یہ کہ اگلی آیت میں جو حکم ہیں یہ قبول کریں۔ “3 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت کا نکاح کافر ( مرد سے نہیں ہوسکتا اور کافر کی بیوی مسلمان ہوجائے تو اس سے کے شوہر سے جا کردیا اور اگر شوہر بھی مسلمان ہوجائے تو نکاح برقرار یہ کہ اگلی آیت میں جو حکم ہیں۔4 یعنی ان کی عدت گزر جانے کے بعد جیسا آلہ و جوب عدت سے دلائل سے معلوم ہوتا ہے۔ (شوکانی)5 یعنی اگر شوہر مسلمان ہوجائے اور بیوی شرک پر قائم تو ایسی عورت کو چھوڑ دینا چاہیے۔ اس نے روجیت میں رکھنا جائز نہیں ہے البتہ اگر وہ کتابیہ (یہودی یا عیسائی) ہو تو اسے چھوڑنا ضروری نہیں ہے۔ محمد بن اسحاق نے امام زہری سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضرت عمر نے اپنی دونوں کافروں کو طلاق دے دی۔ اسی طرح حضرت طلحہ نے بھی اپنی ایک بیوی کو طلاق دی۔ (ابن کثیر)6 یعنی اگر وہ ان عورتوں کو اپنے پاس رکھنا چاہیں۔7 یعنی جب وہ عورتیں مسلمان ہو کر تمہارے پاس آئیں اور کافروں کو ان کی عورتوں کا مہر واپس کردینے کا حکم بسبب عہد کے تھا اور نہ یہ مراد جب نہیں۔ (جامع البیان) شاہ صاحب بھی لکھتے ہیں۔ ” یہ حکم جب تھا کافروں سے صلح ٹھہر گئئی تھی پھیر دینے پر اب یہ حکم نہیں مگر کہیں ایسی صلح کا اتفاق ہوجاوے۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری کوئی عورت اسلام سے پھر کر کافروں میں جاملے پھر تم ان کافروں کو سزا دو ان کا کچھ مال لوٹو تو جن مسلمانوں کی عورتیں مرتد ہو کر) جلدیں تھیں ان کا جتنا خرچہ ان عورتوں پر) ہوا تھا وہ ان کو ادا کرو8 اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو9

ف 8 یعنی اگر کافر ان عورتوں کا مہر مسلمانوں کو واپس نہ کریں جو کافر ہو کر یا کافر رہ کر دارالاسلام سے کافر کے ہاں چلی جائیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ کافروں کو جو مال لوٹیں اس میں سے ان مسلمان شوہروں کا خرچ ادا کریں جن کی بیویاں داراظفر آجائیں یا دارالکفر سے جو عورتیں مسلمان ہو کر دارالاسلام آجائیں ان کے مہر کافروں کو واپس کرنے کی بجائے ان مسلمان شوہروں کو ادا کریں جن کی بیویاں دارالکفر بھگ جائیں …… کافروں کو سزا دینے کے مفہوم میں یہ دونوں چیزیں شامل ہیں یعنی لڑائی میں مال غنیمت حاصل کرنا یا مقابلہ میں ان کی عورتوں کا مہر ادا کرنا۔ مختلف مفسرین نے یہ دونوں معنی مراد لئے ہیں۔ چناچہ حافظ بن کشمر لکھتے ہیں اس میں غاقب تم کے مفہوم میں وسعت ہے اگر کفار کا مہر ادا کرنا باقی ہو تو مسلمانوں کو وہ دے دیا جائے ورنہ مال غنیمت سے اس کے نقصان کا جبر کردیا جائے۔ ان جریدہ نے اس کو ترجیح دی ہے۔ واللہ الحمد واللہ9 یعنی ایمان کے لئے تقویٰ شرط ہے یعنی انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا احساس اس اندرونی شعور کا نام ہی دراصل تقویٰ ادا کرنے کا احساس اس اندرونی شعور کا نام ہی دراصل تقویٰ ہے اور قرآن و حدیث میں اسی شعور کو پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر جب مسلمان عورتیں حیرت پاس آن کر ان باتوں پر بیعت کرنا چاہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گی اور نہ چوری کریں گی نہ بدکاری نہ اپنی اولاد کو ماریں گی (دختر کشی)10 نہ اپنے ہاتھوں اور پائوں کے بیچ میں طوفان اٹھائیں گی11 نہ کسی اچھے کام میں تیری نافرمانی کریں گی12 تو ان سے بیعت لے لے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے معافی مانگ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے13

ف 10 حمل کو روکنا یا وقت سے پہلے گرا دینا بھی اس کے تحت آتا ہے بشرطیکہ کسی طبعی یا شرعی مجبوری کے تحت نہ ہو۔11 شاہ صاحب لکھتے ہیں : ایک معنی یہ کہ بیٹا جنا کسی اور سے اور لگا دیں کسی اور کو یا بن جنا ڈال لیویں اور باپ لگا دیں۔ حدیث فرمایا : جو عورت بیٹا لگا دے کسی کا کسی کو، اس پر بہشت کی بو حرام ہے۔ (موضح)12 یعنی آپ کی شریعت کے خلاف کوئی کام نہ کریں جیسے مصیبت میں نوحہ کرنا یا بیاہ شادی کے موقع پر ایسی رسموں کے پابندی کرنا جن سے مال کی بربادی کے علاوہ لاتعداد اخلاقی اور اجتماعی خرابیاں جنم لیتی ہیں اور جو سراسر جاہل مشرک قوموں کی نقالی ہے۔13 حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ ہجرت کر کے آنے والی عورتوں سے اس آیت کے مطابق اقرار لیا کرتے تھے جو عورت یہ اقرار کرلیتی آپ اس سے فرماتے : ” میں نے تم سے زبانی بیعت لے لی۔ “ اللہ کی قسم ! آپ نے کسی بیعت کرنے والی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، سب عورتوں نے آپ سے یونہی زبانی بیعت کی۔ (شکافی)
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

مسلمانو ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غصہ پر1 یہ لوگ آخرت ( کے ثواب سے) ناامید (محروم) ہوچکے جیسے کافر قبر والوں (مردوں) سے ناامید ہوچکے2

ف 1 مراد تمام کافر ہیں چاہے وہ یہودی ہوں یا نصاریٰ یا مشرک یا منافق2 یعنی انہیں یہ امید نہیں ہے کہ کوئی شخص قبر میں جانے کے بعد پھر اٹھے گا اور ان سے ملاقات کرے گا…دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے قبر والوں میں سے کافر مایوس ہوچکے۔ “ یعنی انہوں نے مرنے کے بعد جب آخرت کے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیا تو وہ آخرت کے ثواب اور نجات سے بھی مایوس ہوگئے