59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 59:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

ف 2 جتنی چیزیں آسمان میں ہیں اور جتنی زمین میں (سب) اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان3 بیان کرتی ہیں اور وہ زبردست ہے حکمت والا

ف 2 یہ سورة بالاتفاق غزوہ بنی نفسیر کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ (شوکانی)3 یعنی بعض زبان حال سے اور بعض زبان قال سے گواہی ہی دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔
Ayah 59:2

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے خدا ہے جس نے اہل کتاب کے کافروں بنی نضیر کے یہودیوں کو پہلے حشر کے وقت ان کے گھروں میں سے نکال باہر کیا4(مسلمانو) تم کو تو ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا (سمجھتے تھے بڑے زور دار ہیں اور وہ بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے لیکن اللہ (کا حکم) ان پر ایسی جگہ سے آن پہونچا جدھر سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں (مسلمانوں کی) وہاں ڈال دی یہ حال ہوگیا کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے جاڑنے لگے تو عقل کی آنکھ والو (اس واقعہ سے) عبرت لو

ف 4 بنو نضیر یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مدینہ منورہ کی مشرقی جانب چند میل کے فاصلہ پر آباد تھا۔ یہ لوگ بڑے طاقتور اور سرمایہ دار تھے اور انہیں اپنے مضبوط قلعوں پر بڑا ناز تھا دراصل ان کے آباء و اجداد فتنہ بنی اسرائیل کے زمانہ میں اس نیت سے مدینہ منورہ میں آباد ہوئی تھے کہ جب نبی آخر الزمان کا ظہور ہوگا تو وہ ان پر ایمان لائیں گے۔ مگر آنحضرت کی بعثت کے بعد انہوں نے نہ صرف ایمان لانے سے انکار کردیا بلکہ الٹے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ جب آنحضرت نے ہجرت کر کے مدینہ تشریف بےگئے تو بظاہر انہوں نے معاہدہ کرلیا مگر در پردہ قریش مکہ کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے رہے اور ایک موقع پر انہوں نے اسکیم بنائی کہ آنحضرت پر اوپر سے پتھر اگر آپ کو قتل کردیا جائے۔ ان کی اس قسم کی شرارتوں سے تنگ آ کر بالاخر آنحضرت نے ان پر چڑھائی کی اور وہ اپنے قلعوں میں محصور ہوگئے۔ مسلمانوں نے اللہ کے حکم سے جنگی تدبیر کے طور پر ان کے بہت سے درخت کاٹ ڈالے۔ بالآخر انہوں نیصلح کرلی اور یہ طے پایا کہ مدینہ خالی کردیں اور جتنا مال اٹھا کرلے جاسکتے ہیں لے جائیں۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اپنے مکانوں کے شتیر تک اکھاڑ کرلے گئے۔ یہ لوگ کچھ خیبر اور باقی شام چلے گئے۔ ان آیات میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ چونکہ یہود کے لئے جلا وطنی کا یہ پہلا موقعہ تھا اس لئے اسے پہلا حشر کہا گیا ہے۔ یا پہلی جلا وطنی مدینہ سے خیبر کی طرف ہوئی اور دوسری مرتبہ حضرت عمر کے زمانہ میں انہیں خیبر سے شام بھیج دیا گیا۔
Ayah 59:3

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں جلا وطن ہونا نہ لکھ دیا ہوتا تو دنیا میں ان پر5 پر (اور کوئی دوسرا) عذاب اتارتا اور آخرت میں تو ان کو بہر صورت دوزخ کا عذاب ہونا ہے

ف 5 جن قتل ہوتے یا قید ہوتے یا بیماری وغیرہ سے ہلاک ہوتے جیسا کہ بنو قریظہ کا یہی حشر ہوا۔
Ayahs 59:4–5

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

اس عذاب کے اترنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے دشمنی کی اور جو کوئی اللہ سے دشمنی کرے تو اللہ تو سخت عذاب والا ہے

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

مسلمانو تم نے جو بنی نضیر کے کھجور کے درخت کاٹ ڈالے یا انکو ہاتھ نہ لگایا اور اپنی جڑوں سے کھڑا چھوڑا دیا تو یہ سب خدا کے حکم سے تھا اور خدا کو یہ منظور تھا کہ نافرمانوں کو ذلیل کرے6

ف 6 جب اسلامی لشکر نے جنگی تدبیر کے طور پر بنی نضیر کے درخت کاٹے اور آگ بھی لگائی تو یہود نے یہ صورت حال دیکھ کر آنحضرت کو آواز دی اور کہا ” اے محمد آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ اللہ کے بنی ہیں اور اصلاح کرنی چاہتے ہیں۔ کیا ان درختوں کا کاٹنا اور جلانا بھی اصلاح ہے ؟ “ ان کی یہ بات آنحضرت اور مسلمانوں پر شاق گزری۔ ان کے جواب میں یہ آیت اتری (شوکانی) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت کو قرآن کے علاوہ اور احکام بھی دیئے گئے ہیں کیونکہ یہاں جس کے متعلق فرمایا ہے کہ ” انہوں نے اللہ کے حکم سے کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ قرآن میں نہیں ہے بلکہ وحی کے ذریعہ سے دیا گیا ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ وحی صرف قرآن تک محدود نہیں ہے۔
Ayah 59:6

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور خدا تعالیٰ نے جو ان کا مال بن لڑ ہے اپنے پیغمبر کو دلا دیا تو تم نے (اے مسلمانو) نہ اس کے لئے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے قبضہ کرا دیتا ہے1 اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے2

ف 1 یعنی غالب کرتا ہے۔2 مسلمان کافروں سے جو مال لڑکر حاصل کریں۔ اسے غنیمت کہا جاتا ہے جس کے احکام سورة انفال آیت 41 میں گزر چکے ہیں اور جو مال لڑائی کے بغیر حاصل ہوا سے قے کہا جاتا ہے۔ اس میں فوج کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ وہ خلاصہ اللہ و رسول اور ان لوگوں کا حصہ ہوتا ہے جن کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔ بنو نضیر کے اموال چونکہ صلح نامہ کے تحت حاصل ہوئے تھے۔ اس لئے قرآن نے اسے اموال فے قرار دیا۔ ان کو آنحضرت نے مہاجرین میں تقسیم کردیا۔ اس طرح انصار پر سے ان کا بار ہلکا ہوگیا اور کچھ حصہ آنحضرت نے رکھ لیا اس سے جو آمدنی ہوتی اس سے اپنے گھر والوں کے لئے سال بھر کا خرچ نکال لیتے اور جو بچتا اے اللہ کی راہ میں صرف کردیتے۔ (ابن کثیر)
Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال بستی والوں کا اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرکو بن لڑے دلا دے تو وہ اللہ کا حق ہے اور پیغمبر کا اور پیغمبر کے ناتے والوں کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا یہ حکم اس لئے دیا گیا ایسا نہ ہو یا مال جوبن لڑے ہاتھ آیا مالدار لوگ تم میں ہاتھوں3 ہاتھ اس کو لے لیں اور غریبوں کو کچھ نہ ملے) اور مسلمانوں جو مال (یا حکم) پیغمبر تم کو دے تو اس کو لے لوف 4 اور جس سے منع کرے اس سے باد رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو (پیغمبر کا خلاف نہ کرو) بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے

ف 3 یعنی اس کی تقسیم کے جو مصارف بیان کئے گئے ہیں وہ اس لئے ہیں کہ یتیموں، بیکسوں کی خبر گیری ہوتی رہے اور یہ محض دولت مندوں ہی کلٹ پھیر میں پڑ کر انہی کی جاگیریں کر نہ رہ جائے۔4 یعنی زندگی کے کسی معاملے کے متعلق آنحضرت کا جو حکم ہوا اس پر عمل کرو۔ اور جس سے آپ منع فرمائیں اس سے باز ہو۔ اس آیت نے آنحضرت کے حکم کو ایک مستقل تشریع کی حیثیت دی ہے اور اسے قرآن کی معوافقت کے ساتھ مقید نہیں فرمایا۔ لہٰذا آنحضرت کا جو حکم بذریعہ صحیح روایت ثابت ہوگا وہ واجب العمل ہوگا اور کسی حکم کے قرآن میں بالتصریح مذکور نہ ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ حکم قرآن کے خلاف ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعودنی فرمایا : اللہ تعالیٰ نے افزائش حسن کے لئے ہاتھ گود نے مصنوعی بال لگانے اور فتوں میں سوراخ کرنیوالی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اس پر ایک عورت نے کہا کہ قرآن میں تو یہ مسئلہ نہیں ہے … حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا اگر تم نے واقعی قرآن پڑھا ہوتا تو وہ تمہیں ضرور مل جاتا کیا تم نے آیت ” وما اتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا “ نہیں پڑھی اس نے جواب دیا کہ ” ہاں پڑھی ہے “ فرمایا تو اللہ کے رسول نے اس سے منع فرمایا ہے۔ (روح المعانی) ایک حدیث میں آنحضرت نے تصریح فرمائی ہے۔ ” سن رکھو ! مجھے قرآن ملا ہے اور اس کے ساتھ دیسی ہی ایک اور چیز یعنی سنت جس پر عمل کرنا بھی اسی طرح ضروری ہے۔
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

اور ان مہاجرین محتاجوں کا بھی حق ہے جو اپنے گھر بار مال و دولت سے نکال دیئے گئے5 وہ خدا کے فضل اور اس کی رضامندی کی تلاش میں ہیں6 اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں7 یہی لوگ تو سچے (ایماندار) ہیں

ف 5 یعنی جنہیں کفار مکہ نے ان کے گھر بار سے نکال دیا اور مال و دولت سے محروم کردیا۔6 اللہ کے فضل سے مراددنیا کی روزی اور اس کی رضا مندی سے مراد آخرت کا ثواب ہے۔7 یعنی دین اسلام کی راہ میں کفار سے جہاد کرتے ہیں۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور ان (نصار) کا بھی (حق) ہے جنہوں نے مہاجرین سے پہلے مدینہ میں اپنا ٹھکانا مقرر کیا اور ایمان لائے جو کوئی (مسلمانوں میں سے) ان کے پاس ہجرت کر کے آتا تو اس سے محبت کرتے اور مہاجرین کو (لوٹ کے مال میں سے8) جو دیاء جائے اس سے ان کے دلوں میں حسد نہیں ہوتا اور (مہاجرین کو آرام پہونچانا) اپنے آرام پر مقدم رکھتے ہیں گو ان کو تنگی ہی کیوں نہ ہو 9 اور جو شخص اپنے نفس کی بخیلی اور لالچ سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچونچیں گے

ف 8 بلکہ خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے یہ مہاجر بھائی آرام سے آیت میں مہاجرین مراد ہیں اور اس آیت میں انصار، (از موضح)9 صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت کی خدمت میں ایک شخصحاض رہوا اور اس نے اپنی محتاجی کا ذکر کیا … حضرت ابوطلحہ اسے اپنے ساتھ لے گئے اور بیوی سے کہا یہ اللہ و رسول کا مہمان ہے۔ بیوی نے کہا۔ واللہ میرے پاس صرف بچوں کا کھانا ہے۔ ابو طلحہ نے کہا کہ بچوں کو سلا دو اور جب کھانا رکھو تو چراغ بجھا دینا تاکہ وہ ان کھالے اور ہم بھوکے رہیں۔ صبح کی قوت مہان آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ” رات ان دونوں نے جو کام کیا اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہوا اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحابہ کرام میں ایثار کا یہ جذبہ بےپناہ پایا جاتا تھا کتب حدیث میں اس قسم کے متعدد واقعات مذکور ہیں۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا (بھی حق) ہے جو مہاجرین اور انصار کے بعد (مسلمان ہو کر) آئے10 وہ یہ دعا کرتے مالک ہمارے ہم کو بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے اور ہمارے دل میں مسلمانوں کی طرف سے میل (کینہ) مت آنے دے مالک ہمارے بیشک تو بڑی شفقت والا مہربان ہے1

ف 10 ان سے مراد بعد میں ہجرت کر کے آنے والے صحابہ بھی ہیں اور قیامت تک آنے والے وہ مسلمان بھی جو صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلیں۔ 1 پہلے ایمان لانے والوں میں صحابہ کرام بذریعہ اولی شامل ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اسلام کا دعویٰ کرنیکے باوجود صحابہ کرام کی پوری جماعت کے لئے مغفرت اور روضان کی دعا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کے اس آیت میں دیئے ہوئے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اگر وہ اپنے دل میں ان کی طرف سے کینہ رکھتا ہے تو وہ دراصل شیطان کا پیروی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں اور امت محمدیہ کے بہترین طبقہ کے خلاف اپنے دل میں دشمنی رکھتا ہے اور اگر وہ مرنے سے پہلے اپنی اس روش سے توبہ نہیں کرتا تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا خاتمہ بالخیر نہیں ہے۔
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

اے پیغمبر کیا تو نے منافقوں پر نظر نہیں ڈالی وہ اپنے بھائیوں اہل کتاب کے کافروں سے کہتے ہیں2 اگر تم کہیں (اپنے ملک سے) نکالے گئے تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہونگے اور تمہارے باپ میں تو ہم کبھی کسی کی بات ماننے والے نہیں اور اگر کوئی تم سے لڑا تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں

ف 2 منافقوں کو اہل کتاب ابنی نفیر وغیرہ) کا بھائی فرمایا۔ کیونکہ ان یک درمیان کفر قدر مشترک تھی اگرچہ دونوں کے کفر کی نوعیت مختلف تھی۔
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر اہل کتاب کے یہ کافر نکالے جائیں گے تو منافق ان کے ساتھ کبھی نہیں نکلیں گے اور اگر مسلمانوں کی ان سے لڑائی ہوگی تو منافق کبھی ان کی مدد نہیں کرنے کے3 اور جو مدد بھی کی تو کس کام کی) پیٹھ موڑ کر بھاگتے نظر آئینگے پھر کوئی ان کی کمک بھی نہیں کرنے کا

ف 3 چناچہ جب بنی نضیر کا محاصرہ کیا گیا اور انہیں جلا وطن کیا گیا تو ابن ابی منافق اور اس کے ساتھی ان کی کسی طور مدد نہ کرسکے حالانکہ وہ اس سے پہلے ان تک اس طرح کے پیغامات بھیجتے رہے تھے۔ لہٰذا منافقین کی طرف سے ہرگز فکر مند نہ ہوں۔
Ayah 59:13

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

مسلمانو منافق تو ایسے بےایمان ہیں ان کے دلوں پر اللہ سے زیادہ تمہاری دھاک ہے4 اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں

ف 4 یعنی بنتے تو بڑے عقلمند ہیں اور اسی لئے دوغلے پن کی راہ چل رہے ہیں۔ لیکن حقیقت ہے کہ ان سے بڑھ کر کوئی بیوقوف نہیں۔ آخرت تو آخرت اپنی دنیا بھی تباہ کر رہے ہیں۔
Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ یہودی اور منفاق مل کر بھی تم سے نہیں لڑ سکتے مگر ہاں محفوظ بستیوں یا دیواروں کی آڑ میں5 وآپس میں (کٹے مرتے ہیں) خوب لڑتے ہیں تو (شایدیوں) خیال کرتا ہو وہ ایک دل ہیں جو کہ ان کے دل پھوٹ رہے ہیں کیونکہ ان لوگوں کو عقل نہیں6

ف 5 جیسا کہ نامردوں اور بزدلوں کا قاعدہ ہوتا ہے۔ میدان میں آنا پسند نہیں کرتے بلکہ مکانوں اور قلعوں کی آڑ لے کر دور ہی سے لڑنا پسند کرتے ہیں۔ محفوظ بستیوں سے مرادقلعے یا وہ بستیاں ہیں جن کے گرد فصیل یا خندق ہوتی ہے۔6 اگر عقل رکھتے تو حق کو پچانتے
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کو بھی حال ہی ہونا ہے جو بھی یعنے جنگ بدر میں ان سے پہلے مکہ کے کافروں کا حال ہوچکا7 مارے گئے قید ہوئے) اپنے کئے کا مزہ چکھا اور آخرت میں انہیں ان کو تکلیف کا عذاب ہونیوالا ہے

ف 7 یہی مفہوم شاہ صاحب نے اپنے فوائد میں ذکر کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ان سے ” یہود بنی فیقاع “ مراد ہوں جن کو رسول اللہ ﷺ نے بنی نفیر سے تھوڑی مدت پہلے مدینہ سے نکال دیا تھا۔ یہ قول قتادہ اور محمد بن اسحاق کا ہے۔ اس یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ ابن کثیر
Ayah 59:16

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

ان منافقوں کی مثال شیطان کی سی ہے وہ آدمی ہے کہتا ہے کافرین جاجب وہ کافر بن جاتا ہے ( اور کوئی سخت وقت آتا ہے) تو کیا کہتا ہے (مجھے کیا واسطہ) میں تجھ سے الگ ہوں اللہ کے (غضب) سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا مالک ہے1

ف 1 شیطان کو حقیقت میں خدا کا ڈر نہیں ہے محض آدمی سے پچیھا چھڑانے کے لئے اس سے کہتا ہے کہ مجھے خدا کا ڈر ہے اس لئے مجھے اپنی مدد سے معذور سمجھو۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” شیطان آخرت میں یہ کہے گا اور بدر کے دن بھی ایک کافر کی صورت میں لوگوں کو لڑواتا تھا۔ جب فرشتے نظر آئے تو بھاگا۔ یہ کہاوت ہے منافقوں کی۔ “ مطلب یہ ہے کہ منافق بھی یہود کو ایسا دھوکہ دیتے ہیں جب شیطان نے انسان کو دیا۔ (جامع البیان)
Ayahs 59:17–19

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پھر ان دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دونوں ہمیشہ کے لئے دوزخ میں پڑے اور بدکاروں کی یہی سزا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

مسلمانو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس نے کل کیلئے (یعنی قیامت کے لئے) کیا سامان آگے بھیجا ہے اور خدا کا خون رکھو بیشک اللہ کو تمہارے (سب) کاموں کی خبر ہے

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح مت بنو جنہوں نے خدا کو بھلا دیا دنیا میں غرق ہوگئے پھر خدا نے ایسا کردیا کہ وہ اپنے تئیں آپ بھول گئے2 یہی لوگ تو نافرمان ہیں دوزخ والے

ف 2 یعنی اپنی نجات کی فکر سے غافل ہوگئے اور اس بنا پر گناہوں میں پڑے ہے اور عذاب آخرت سے بچنے کے لئے نیک اعمال کی راہ اختیار نہ کی۔
Ayahs 59:20–21

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

اور بہشت والے برابر نہیں ہوسکتے جو بہشت والے ہیں وہی مراد پائیں گے

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر ہم اس قرآن کو ایک پہاڑ پر اتارتے (حالانکہ پہاڑ بہت سخت ہوتا ہے) تو دیکھتا وہ اللہ کے ڈر سے بجھ کر رہا ہے پھٹ رہا ہے3 اور ہم یہ مثالیں اس لئے لوگوں سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سوچیں اور سمجھیں

ف 3 یعنی افسوس کا مقام ہے کہ آدمی کے دل پر قرآن کا اثر نہیں ہوتا حالانکہ قرآن اپنی تاثیر قوت بیان اور مواعظ و نصائح پر مشتمل ہونے کے اعتبار سے اس قدر عظیم اللہ کتاب ہے کہ اگر پہاڑ جیسی سخت چیز بھی اترا جاتا اور اس میں سمجھا کا مادہ ہوتا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جاتا اور خوف کے مارے پھٹ کر پارہ پارہ ہوجاتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں جبھی کافروں کے دل بڑے سخت ہیں کہ یہ کلا اس کو ایمان نہیں لاتے اگر پہاڑ سمجھے تو وہ بھی دب جائے۔ صموضع)
Ayah 59:22

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہ اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں چھپی اور کلی (سب) باتیں جاننے والا وہی بہت رحم والا مہربان ہے4

ف 4 کھلی اور چھپی باتیں “ دوسروں کے اعتبار سے فرمایا اور نہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے تو ہر بات کھلی ہے۔
Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں وہی (سارے جہان کا) بادشاہ ہے (تمام برائیوں سے) پاک (تمام عیبوں سے) چنگا (اپنے بندوں کو) ہی دینے والا (یا اپنے وعدے کو سچ کرنیوالا ہر چیز کی نگہبانی کرنیوالا زبردست بڑے دبائو والا بڑائی والا اللہ ان مشرکوں کے شرک سے کہیں پاک ہے5

ف 5 یا ان چیزوں سے پاک ہے جنہیں لوگ اکا شریک قرار دیتے ہیں۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی اللہ ہر چیز کا بنانے والا پیدا کرنیوالا نقشہ کھینچنے والا اس کے کیا کیا پیارے نام ہیں6 آسمان اور زمین میں جتنی چیزیں ہیں سب اس کی پاکی بیان کر رہی ہیں7 اس کی خدائی کا اقرار کر رہی ہیں وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔8

“6 یعنی ان مذکورہ صفات کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمال ثابت ہیں جنہیں قرآن نے اسماء حسنی سے تعبیر کیا ہے7 یعنی اپنی زبان حال بازبان قال سے شہادت دے رہے ہیں کہ وہ ہر عیب پر نقص سے پاک ہے۔8 بعض روایات میں جو اگرچہ ضعیف ہیں اس آیت کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ مثلاً حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ” جو شخص تین بار اعوذ باللہ السمیع العلیم من الظیطان الرجیم پڑھے، اور پھر سورة حشر کا آخری حصہ پڑھے۔ اللہ تعالیٰ اس کے پاس ستر ہزار فرشتے بھیج دیگا جو شیطان جنوں اور شیطان انسانوں سے اس کی حفاظت کرینگے۔ اگر رات کے وقت پڑھے گا تو صبح تک اور اگر دن میں پڑھے گا تو شام تک (شوکانی)