58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے خاوند کے باب میں تجھ سے تکرار کر رہی تھی اور خدا کے سامنے جھینک رہی تھی (شکایت کر رہی تھی) اور اللہ تم دونوں کی بات چیت سنتا ہے بیشک اللہ (سب کچھ سنتا دیکھتا ہے2

ف 2 یہ عورت جیسا کہ تعلقات صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عائشہ اور بعض دوسرے صحابہ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ خولہ بنت ثعلثہ تھیں۔ ہوا یہ کہ ان کے خاوند اوس بن صامت پر دماغی عدم توازن کا اخر تھا۔ ایک متربہ انہیں دورہ پڑا تو انہوں نے خولہ سے یہ کہہ دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ اصطلاح میں اسے ظہار کہتے ہیں اور یہ زمانہ جاہلیت میں طلاق شمار ہوتات ھا۔ اس کے بعد اوس شرمندہ ہوئے اور خولہ مسئلہ دریافت کرنے کے لئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی خاص حکم نازل نہیں فرمایا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہوگئی۔ اب تم دونوں کیونکر مل سکتے ہو۔ وہ شکوہ اور آہ وزاری کرنے لگیں۔ کبھی رسول اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتیں۔ ” اے اللہ کے رسول ! ! انہوں نے مجھے طلاق تو نہیں دی۔ “ اور کبھی آسمان یک طرف منہ اٹھا کر کہتیں۔ اے میرے خدا ! اب میں کیا کروں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ انہیں اگر ان کے باپ کو دے دوں تو وہ برباد ہوجائیں گے اور اگر نہ دوں تو انہیں کہاں سے کھلائوں گی ؟ الغرض اسی طرح روتی پیٹتی ہیں اور یہ کہتی رہیں کہ میری جوانی تو ان کے پاس گزری، اب بڑھاپا لے کر کہاں جائوں گی ؟…آنحضرت ﷺ خاموشی سے ان کی باتیں سنتے رہے۔ اتنے میں حضرت جبرئیل یہ آیتیں لے کر نازل ہوئے اور خولہ کی برکت سے رہتی دنیا تک تمام عورتوں کا بھلا ہوگیا۔ مسند ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر اپنی خلافت کے زمانہ میں سوار کہیں جا رہے تھے کہ ایک بڑھیا نے سواری روک لی اور آپ خاصی دیر تک توجہ سے اس کی باتیں سنتے رہے یہاں تک کہ جب اس کی ضرورت پوری ہوگئی تو وہ چل گئی۔ لوگوں نے عرض کیا۔ ” امیر المومنین ! یہ کیا ہوا کہ ایک بڑھیا کے روکنے پر آپ رک گئے اور آپ کیساتھ بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی رکنا پڑا۔ “ فرمایا ! ” جانتیہو کہ یہ بڑھیا کو نتھی ؟ “ لوگوں نے کہا ” نہیں۔ “ فرمایا یہ خولہ بنت ثعلبہ تھی جس کی فریاد اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں سے سنی۔ بھلا عمر کی کیا مجال تھی کہ اس کی بات نہ سنتا۔ اگر وہ مجھے صبح تک بھی روکے رکھتی تو میں رکا رہتا اور درمیان میں صرف نماز ادا کرنے کے لئے جاتا۔ “ (ابن کثیر) ظہار کے حکم کی تفصیل آگے آرہی ہے
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے اپنی جو رئوں سے ظہار کر بیٹھے ہیں ان کو ہاں بناتے ہیں وہ درحقیقت ان کیم اں نہیں ہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے اور جو روں کو ماں بنا کر وہ ایک بری بیہودہ جھوٹ بات بکتے ہیں اور بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے3

ف 3 اس کا کرم اور رحم ہے کہ اس نے ظہار کا کفارہ مقرر کر کے اس سے نکلنے کا راستہ پیدا کردیا۔ اگر واقعی بیوی کو ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دینے سے اسے طلاق ہوجاتی تو بڑی مشکل پڑتی۔
Ayahs 58:3–4

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی جو رئوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنے کئے پر شرمندہ ہوتے ہیں تو ان پر ہاتھ لگانے یا جماع کرنے سے پہلے ایک بردہ آزاد کرنا (لازم) ہے مسلمانو) تم کو یہ نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جس کو بروہ نہ مل سکے وہ ہاتھ لگانے (یا صحبت کرنے سے) پہلے پے در پے دو مہینے (برابر) روزے رکھے4 جو یہ بھی نہ کرسکے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے5 یہ حکم اس لئے دیا جاتا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور یہ اللہ کے مقرر کئے ہوئے حکیم ہیں ان کا خیال رکھو اور جو لوگ اللہ کے حکم نہ مانیں گے ان6 ان کو تکلیف کا عذاب ہوگا7

ف 4 اگر بلا عذر ایک روزہ بھی ناغہ کرے تواز سر نو دو مہینے کے روزے رکھے اور اگر عذر سے ناغہ کرے۔ (جیسے سفر یا بیماری کی وجہ سے) تو امام سعید بن مسیب حسن بصری مالک اور شافعی کہتے ہیں کہ صرف بقیہ روزے پورے اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ دوبارہ از سر نو دو مہینے کے روزے رکھے۔ (فتح القدیر)5 ضروری نہیں کہ سب کو ایک وقت میں کھانا کھلائے، بلکہ یہ جائز ہے کہ بعض کو ایک دن کھانا کھلائے اور بعض کو کسی اور دن۔ (فتح القدیر)6 اصل لفظ کافرین استعمال ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکموں کہو نہیں مانتے، وہ حقیقت میں کافر ہیں چاہے مردم شماری کی رو سے مسلمانوں میں شمار ہوتے ہوں۔7 حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ جب ظہار کا یہ حکم نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے خولہ سے فرمایا :” جائو اپنے خاوند سے کہو کہ ایک غلام آزاد کرے۔ “ خولہ نے کہا ” یا رسول اللہ ! وہ غریب سے اور اس کے لئے غلام آزاد کرنا ممکن نہیں۔ “ فرمایا ” تو اسے چاہیے کہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے۔ خولہ نے کہا ” اللہ کی قسم وہ بہت بوڑھا ہے۔ روزے رکھنے کی اس میں طاقتن ہیں۔ فرمایا ” تو اسے چاہیے کہ ایک وسق کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔ “ خولہ نے کہا ” اس کے لئے ایسا کرن ابھی ممکن نہیں۔ “ فرمایا ” اچھا تو میں ایک عرق پیمانہ کھجوریں دے کر اس کی مدد کروں گا۔ “ خولہ نے کہا ایک عرق میں دونگی فرمایا تم نے بہت اچھا کیا جائو اتنی کھجوریں اس کی طرف سے صدقہ کردو اور اپنے چچا کے لڑکے یعنی اپنے شوہر سے اچھا برتائو کیا کرو۔ “ (فتح القدیر بحوالہ بہیقی ابن مردویہ وغیرہ)
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے خلاف کرتے ہیں وہ ایسے ہی ذلیل ہوں گے یا بدر کے دن ذلیل ہوچکے جیسے ان سے پہلے اگلے کافر لوگ ذلیل ہوئے اور ہم تو8 کھلی نشانیاں یا آیتیں اتار چکے اور جو لوگ نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا

ف 8 کھلی کھلی نشانیوں (یا آیتوں) سے مراد وہ نشانیاں (آیتیں) ہیں جو محمد ﷺ کی صداقت پر ناقابل تردید شہادت پیش کرتی ہیں۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو جلا اٹھائیگا پھر جیسے کام وہ دنیا میں کرتے رہے ان کو جتلا دیا جائے گا اللہ کو تو وہ سب یاد ہیں1 اور وہ اپنے کئے ہوئے کام (کر کے) بھول گئے اور ہر چیز اللہ کے سامنے حاضر ہے2

ف 1 یعنی ایک ایک کر کے اس کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں اور یہ ریکارڈ قیامت کے روز ان کے سامنے آجائیگا2 یعنی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ غیب یا پوشیدہ جو کچھ ہے۔ وہ دوسروں کی نسبت سے ہے نہ کہ خود اس کی نسبت
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ سب کو جانتا ہے جب تین آدمی مل کر کچھ کانا پھوسی چپکی چپکی باتیں کرتے ہیں تو اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے3 اور جب پانچ آدمی کچھ کانا پھوسی صلاح و مشورہ کرتے ہیں تو اللہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اسی طرح اس سے کم آدمی ہوں یا زیادہ اللہ (اپنے علم سے) ضرور ان کے ساتھ ہوگا وہ کہیں ہوں اگرچہ سات کو ٹھڑیوں کے اندر ہوں پھر قیامت کے دن جو کام انہوں نے کئے ہیں ان کو جتلادیگا بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے

ف 3 یعنی اسے ان کی کانا پھوسی کی اطلاع ہوتی ہے اور وہ اپنے علم کے ذریعہ ان کے پاس موجود ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کے اس مفہوم پر بعض مفسرین نے سلف کا اجماع نقل کیا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تو نے ان لوگوں پر نظر نہیں ڈالی جن کو کانا پھوسی کرنے سے منع کیا گیا تھا لیکن جس کام سے منع کیا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں4 اور کانا پھوسی بھی کرتے ہیں تو گناہ اور ظلم اور پیغمبر کی نافرمانی کے لئے اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو زبان دبا کر اسی طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تجھ پر سلام نہیں بھیجا5 اور اپنے دل میں کیا کہت یہیں اگر یہ سچے پیغمبر ہیں تو اللہ ہماری بات پر سام کہنے پر) ہم کو سزا کیوں نہیں دیتا ان کی سزا کے لئے دوزخ بس کرتی ہے اس میں گھسیں گے وہ برا ٹھکانا ہے6

ف 4 مفسرین نے لکھا ہے کہ منافقوں اور یہودیوں کی عادت تھی کہ جب وہ کسی مسلمان کو آتادیکھتے تو علیحدہ ہو کر سرگوشیاں کرنے لگتے، تاکہ گزرنے والا مسلمان یہ سمجھے کہ وہ اس کے یا پیغمبر کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں اور پھر اس مسلمان کو تنگ کرنے کے لئے ایک دوسرے کو آنکھ بھی مارتے مسلمانوں کو اس سے بڑا رنج ہوتا چناچہ انہوں نے آنحضرت سے اس کا ذکر کیا۔ آنحضرت نے ان یہودیوں اور منافقوں کو بلا کر علیحدہ سرگوشیاں کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن وہ باز نہ آئے اور اپنی عادت پر قائم رہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات فرمائیں۔ (ابن کثیر)5 یہ خاص طور پر یہودیوں کی عاد تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتیتو معروف طریقہ سے السلام علیک کہنے کی بجائے السام علیک کہتے۔ سام کے معنی موت کے ہیں۔ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی کہ آپ کو موت آجائے۔ آنحضرت بھی ان کے جواب میں صرف علیکم یا وعلیکم (یعنی تم پر) فرما دیتے اور بعض اوقات یہود ان حرکات کا اعتراف بھی کرلیتے۔ اس لئے آنحضرت نے مسلمانوں سے فرمایا :” جب اہل کتاب میں سے کوئی شخص تمہیں سلام کریتو اس کے جواب میں ” علیک “ کہا کرو ایک مرتبہ چند یہودی آنحضرت کی خدمت میں آئے اور انہوں نے حسب عادت السام علیک یا ابالقاسم “ کہہ کر سلام کیا حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ میں نے ان کے جواب میں ” علیکم السام و العنۃ “ کہا یعنی تم پر موت اور لعنتہو۔ اس پر آنحضرت نے فرمایا : ” عائشہ ! اللہ تعالیٰ فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا … اگر وہ ایسا کہیں تو تم ان کے جواب میں صرف ” وعلیکم “ کہہ دیا کرو۔ (شوکانی)6 یعنی جلد کیوں کرتیہو ایسی سزا ملے گی کہ اس کے ہوتے کسی دوسری سزا کی ضرورت نہ رہے گی۔ اب رہی پیغمبر کی صداقت تو اس کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ اسے تمہارے دل کی بات کا پتا چل گیا اور ایسا اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہی سے ہوسکتا تھا۔
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

مسلمانو تم کا نا پھوسی کرو تو گناہ کی بات اور ظلم اور پیغمبر کی نافرمانی کے لئے کانا پھوسی نہ کر وہاں اگر ضرورت ہو تو نیک کام کرنے یا بری بات سے بچنے کے لئے کانا پھوسی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس اکٹھا ہو کر جانا ہے7

ف 7 دیکھئے سورة نساء آیت : 114 صحیحین میں حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : جب تم تین آدمی ہو تو تم میں سے چاہیے اس لئے کہ اس سے اس تیسرے آدمی کو رنج ہوگا کہ نہ معلوم میرے خلاف کوئی بات کررہے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

یہ کانا پھوسی شیطان کا کام ہے1 ہے اس لیے یہ مطلب ہے کہ مسلمان (اپنے بھائیوں کے مارے جانے کی خبر سن کر) رنجیدہ ہوں حالانکہ اس کانا پھوسی سے مسلمانوں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا جب تک خدا کا حکم نہ ہو اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیے

ف 1 ” کیونکہ جس کا وہ حامی و مددگار ہوگا اس کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکے گا کہتے ہیں کہ آنحضرت جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو منافقین مسلمانوں کو رنج دینے کے لئے یوں کانا پھوسیاں کرتے کہ افسوس یہ لشکر والے سب مارے گئے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا (وحیدی)
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مسلمانو جب تم سے کہا جائے بیٹھنے کے لئے ذرا جگہ دو تو کھل بیٹھا کرو جگہ دیدیا کرو اللہ تعالیٰ بہشت میں تم کو جگہ دیگا2 اور جب تم سے کہا جائے اپنی جگہ سے اٹھ جائو تو اٹھ کھڑے ہو3 جو لوگ تم میں سے ایمان لاتے ہیں اور جن کو علم ملا ہے دین کے عالم ہیں4 اللہ ان کے درجے دنیا اور آخرت میں بلند کریگا اور اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

ف 2 اس آیت میں مسلمانوں کو آداب مجلس کی تعلیم ہے کہ ذرا کھل کر بیٹھا کرو تاکہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو تکلیف نہ ہو، البتہ اگر بالکل جگہ نہ ہو تو دوسری بات ہے احادیث میں آداب مجلس کی تفصیل دیکھ لی جائے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ حکم ہر اس مجلس کے لئے ہے جس میں مسلمان کسی نیک کام کے لئے جمع ہوں۔ (شوکانی)3 یعنی جب تمہیں کسی نیک کام کے لئے بلایا جائے تو سستی نہ کرو بلکہ چلنے کو فوراً تیار ہوجائو۔ (شوکانی) 4 یعنی سچا ایمان اور صحیح علم آدمی کو ادب و تہذیب سیکھاتا ہے اور تواضح سے انسان کے مراتب بلند ہوتے ہیں ایک حدیث میں ہے ہے کہ من تواضح للہ رفعہ اللہ یہ کام اکھڑا اور متکبر قسم کے جاہلوں کا ہے کہ وہ صرف اتنی سی بات پر بگڑ جاتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کے لئے کھلے ہو کر بیٹھنے یا مجلس سے اٹھ جانے کے لئے کہا گیا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” اتنی حرکت کرنے (یعنی دوسرے کو جگہ دینے اور دائرہ مجلس کو وسیع کرنے) میں غرور نہ کریں۔ خوئے نیک پر اللہ مہربان ہے اور بدخو سے اللہ بیزار۔ (موضح)
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مسلمانو جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنا چاہو تو ان میں بات کہنے سے پہلے کچھ خیرات سامنے دھر لیا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اس سے دل صاف رہیں گے پھر اگر تم کو خیرات کا مقدر نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے5

ف 5 یعنی ایسے شخص پر صدقہ دینا فرض نہیں۔ وہ اس کے بغیر بھی نبی ﷺ کے کان میں کچھ کہہ سکتا ہے ہوا یہ کہ بہت سے منافقی نے محض اپنی بڑائی جس نے کے لئے نبی ﷺ سے سرگوشیاں کرنی شروع کردیں۔ اس سے دوسرے لوگوں کو بھی تکلیف ہوتی کیونکہ انہیں استفادہ کا موقع نہ ملتا اور خود نبی ﷺ پر بھی ان کا یہ طرز عمل شاق گزرتا لیکن آپ مروت و الخقا کے سبب کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جو شخص بھی آپ سے علیحدگی میں گفتگو کرنا چاہیے۔ وہ اس سے پہلے صدقہ دے کر آیا کرے۔ منافقین نے بخل کے مارے آپ ہی آپ سرگوشی کم کردی۔ اور مطلب حاصل ہوگیا اور بعد میں یہ حکم منسوخ بھی ہوگیا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے۔ کذافی الموضح)
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

مسلمانو کیا تم اس حکم سے کہ یغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دھر لیا کرو ڈر گئے6 تو خیر جب تم ایسا نہ کرسکے اور اللہ تعالیٰ نے تمہارا قصور معاف کردیا تو اتنا تو ضرور کرو کہ نماز کو درستی کے ساتھ ادا کرتے رہو اور زکوا 1 دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے رہو اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے7

ف 6 یعنی کیا ڈر گئے کہ ہمارا سارا مال ہی صدقہ میں خرچ ہوجائو گا ؟7 یعنی صدقہ دینے کے حکم سے جو مقصد تھا وہ حاصل ہوگیا اس لئے ہم نے یہ حکم جو وقتی طور پر دیا گیا تھا منسوخ کردیا لیکن اس کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ ان احکام کو پوری پابندی سے بجا لاتے رہو جو کبھی منسوخ ہونے والے نہیں ہیں جیسے نماز زکوۃ اور ہر عاملہ میں اللہ رسول کی اطاعت اسی سے تزکیہ نفس ہوتا رہے گا۔ فان لم تفعلوا تو خیر جب تم ایسا نہ کرسکے) سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے کا یہ حکم بہت تھڑوی مدت اور عام مسلمانوں کے اس پر عمل کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی اس لئے بعض روایات میں حضرت علی فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کاتب میں ایک آیتی ایسی ہے جس پر نہ مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کرسکے گا۔ یاھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول فقد موا بین یدی بخونکم صدقۃ میرے پاس ایک دنیار تھا میں نے اسے دس درہموں میں فروخت کردیا۔ میں جب بھی رسول اللہ ﷺ میں گفتگو کرتا تو ایک درہم صدقہ کردیتا پھر اگلی آیت سے آیت منسوخ ہوگئی اور کسی کو اس پر عمل کرنے کا موقع میسر نہ آیا۔ علما نے تفسیر نے یہ قصہ نقل کیا ہے۔ واللہ اعلم (شوکانی وغیرہ)
Ayah 58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تو نے ان لوگوں کو منافقوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ان لوگوں سے دوستی رچائی جن پر اللہ کا8 غصہ ہے (یعنی یہودیوں سے) اب وہ (یعنی منافق لوگ) نہ تو تم میں مسلمانوں میں رہے اور نہ ان میں یہودیوں میں اور جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسم کھاتے ہیں9

ف 8 بلکہ دونوں کے درمیان لٹک کر رہ گئے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : ” مذبذبین بین ذلک لا الی ھولاء ولا الی ھو لاء ومن تصل اللہ فلن تجدلہ سبیلاً وہ اس کے درمیان لٹکے ہوئے ہیں، نہ ان کی طرف ہیں اور نہ ان کی طرف اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لئے تم کوئی نجات کی راہ نہ پائو گے۔ “ (نساء 183)9 یعنی مسلمانوں کو قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور یہودیوں سے ہماری ہرگز دوستی نہیں ہے، حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔
Ayah 58:15

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب10 دوزخ کا طیار کر رکھا ہے کیونکہ ان کے کام بہت ہی برے تھے۔

ف 10 اسی کو دوسری آیت میں یوں فرمایا ان المنافقین فی الدزک الاسفل من الناس ولن تجدلھم نصیراً بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور تم ان کے لئے کوئی مددگار نہ پائو گے۔ (النساء 125)10 یعنی منافقین جن کی مخالفت کرتے رہے۔
Ayah 58:16

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی جھوٹی) قسمیں ڈھال نبا رکھی ہیں1 اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روک دیا ہے مسلمان ہونے سے منع کرتے ہیں ان کو ذلت کا عذاب ہے

ف 1 یعنی جیسے ڈھال سے تلوار کا حملہ روکا جاتا ہے، اسی طرح یہ منافقین جھوٹی قسمیں کھا کر مسلمانوں سے اپنی جان اور اپنا مال بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 58:17

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ان کے مال اور ان کے بال بچے اللہ کے عذاب کے سامنے کچھ کام نہیں آئیں گے2 یہ لوگ دوزخی ہیں وہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہیں گے

ف 2 جنہیں بچانے کے لئے وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔
Ayah 58:18

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ ان منافقوں کو جلا اوٹھائے گا وہاں اللہ کے سامنے بھی ایسی ہی قسمیں کھائیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور سمجھیں گے کہ اس سے کچھ مطلب نکل ائٓیگا سن رکھو یہی تو (بالکل جھوٹے ہیں3

“3 جو اللہ تعالیٰ کے حضور بھی جھوٹ بولنے سے باز نہ آئیں گے۔ حالانکہ وہ تو دلو تک کا حال جاننے والا ہے۔
Ayah 58:19

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شطان پر چڑھ بیٹھا ہے اور اس نے اللہ کییاد ان کو بھلا دیا4 یہ لوگ شیطان کے لشکر ہیں ( اس کی فوج ہیں) سن رکھو شیطان کے لشکر والے ہی ضرور تباہ ہوں گے5

“4 انہیں دنیا کی رنگ رلیوں میں ایسا مست کردیا کہ وہ بھول گئے کہ کوئی خدا بھی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور اس کے احکام و فرامین پر عمل کرنا چاہیے5 اس سے بڑھ کر تباہی کیا ہوگی کہ انہوں نے جنت کو دوزخ کے بدلے اور ہدایت کو گمراہی کے بدلے بیچ ڈالا۔
Ayahs 58:20–21

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے خلاف کرتے ہیں وہ بہت ذلیل ہوں گے

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ لوح محفوظ یا اگلی کتابوں میں یہ لکھ چکا ہے کہ آخر کار میں غالب ہوں گا اور میرے6 پیغمبر غالب ہونگے تلوار سے یا دلیل سے بیشک اللہ زور آور ہے زبردست

ف 6 یعنی جن پیغمبروں کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے وہ بذریعہ تلوار اور دلیل اور جن کو جہاد کا حکم نہیں دیا گیا وہ بذریعہ دلیل دوسروں پر غالب آ کر رہیں گے۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

اسے پیغمبر جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور پچھلے دن (آخرت) یقین رکھتے ہیں ان کو تو ایسا نہ دیکھے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں7 گو وہ ان کے باپ دادا ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا کہنے والے ہوں8 ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان جما دیا ہے اور اپنی (پاک) روح القدس) سے ان کی مدد کی ہے9 اور ان کو بہشت کے ان باغوں میں لے جائے گا جن کے تے نہریں پڑی بہ رہی ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش یہی لوگ اللہ کے شکر والے ہیں سن رکھو اللہ کے لشکر والے ہی (آخرکار) کامیاب ہونگے1

ف 7 مطلب یہ یہ کہ اللہ و آخرت پر ایمان اور اللہ و رسول کے دشمنوں سے دوستی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔8 یہ آیت صحابہ کرام کی شان میں نازل ہوئی۔ چناچہ حدیث و سیرت کی کاتبوں میں ہے کہ جنگ بدر میں حضرت ابوعبیدہ نے اپنے والد کو قتل کیا۔ جنگ اس میں حضرت ابوبکر صدق اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے مقابلے میں نکلے۔ حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمر کو اور حضرت عمر نے اپنے ماموں قاص بن ہشام کو اور حضرت علی حمزہ اور عبیدہ بن حارث نے عتبہ شبیہ اور ولید بن قلبہ کو (جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے) قتل کیا رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ نے جو مخلص مسلمان تھے آنحضرت سے عرض کیا کہ ” اے اللہ کے رسول اگر آپ حک دیں تو میں اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں۔ “ آپ نے منع فرمایا۔ الفرض ان صحابہ نے اللہ و رسول کے مقابل ہمیں اپنے قریبی رشتہ داروں تک کی پروا نہ کی۔ یہ بات ان کے مناقب میں سنہری حروف میں لکھی جانے کی ہے۔ (ابن کثیر وقرطی)9 یا ” اپنے فیض غیب سے انکی مدد کی “ یعنی انہیں وہ غیبی نور عطا فرمایا جس سے دل کو اطمینان و سکون اور روح کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور پھر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔ صاحب جامع البیان لکھتے ہیں :” یہاں روح سے مراد غلبہ یا نور ایمان ہے واللہ اعلم 1 یہ ہے وہ تصدیق نامہ جو صحابہ کرام کو اللہ تعالیٰ کی جناب سے حاصل ہوا۔ بایں ہمہ کیا ان لوگوں کی بدبختی کا اندازہ ہوسکتا ہے جو ان کو برا کہتے ہیں ؟ شاہ صاحب لکھتے ہیں : یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹا ہو وہی سچے ایمان والے ہیں۔ ان کو یہ درجے ہیں