57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

آسمان اور زمین میں جتنی چیزیں ہیں سب اللہ کی پاکی بیان کر رہی ہیں9 اور وہ زبردست ہے حکمت والا

ف 9 بعض زبان قال سے اور بعض زبان حال سے گواہی دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔
Ayahs 57:2–3

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

اس کی بادشاہت ہے آسمان اور زمین میں وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی پہلا ہے اور اور پچھلا10 اور ابہر اور اندر11 اور وہ سب کچھ جانتا ہے

ف 10 یعنی وہ سب موجودات سے پہلے تھا اور سب موجدات کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہے گا۔11 یا کھلا ہوا اور پوشیدہ اور وہ اس لحاظ سے کہ اس کی کاریگری کے آثار کھلے ہوئے ہیں اور اس کی ذات مقدس ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے۔ آنحضرت نے ظاہر کی تفسیر بلند اور غالب سے کی ہے ایک ماثور دعا ہے : وانت الظاھر فلیس فوقک شی یعنی تو ہیظاہر ہے اور تیرے اوپر کوئی چیز نہیں۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم)
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس نے چھ دن میں آسمان اور زمین بنائے پھر عرش پر چڑھا جو زمین میں گھستا ہے12 اور جو زمین سے نکلتا ہے1 اور جو آسمان سے اترتا ہے2 اور جو آسمان پر چڑھتا ہے3 وہ ان سب کو جانتا ہے اور وہ عرش پر رہ کر تم جہاں رہو اپنے علم اور قدرت سے تمہارے ساتھ ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ بھی رہا ہے4

ف 12 جیسے بارش کا پانی اور بیج وغیرہ۔ 1 جیسے نباتات اور معدنیات وغیرہ2 جیسے بارش فرشتے، شرعی احکام اور قضاء و قدر کے فیصلے وغیرہ3 جیسے فرشتے اور بندوں کے اعمال وغیرہ4 اس لئے صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جب حضرت جبرئیل نے آنحضرت سے احسان کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی معیت بلحاظ علم کے ہے۔ کذا قال السلف بلکہ حافظ ابن عبدالبر وغیرہ نے لکھا ہے کہ اس پر صحابہ اور تابعین کا اجماع ہے اور اہل علم میں سے کوئی بھی اس کا مخالف نہیں۔ (ابن کثیر و شرح حدیث النزول)
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمان اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے اور سب کام لوٹ کر اللہ ہی کے پاس جاتے ہیں5

ف 5 ” نہ کہ کسی اور کی طرف “ لہٰذا وہی تمام اعمال کا فیصلہ فرمائے گا اور بندوں کو اس کے متعلق جزا یا سزا دے گا
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہ گرمی کے موسم میں رات کو (گھٹا) کر دن میں گھسیٹ دیتا ہے اور سردی کے موسم میں دن کو گھٹا کر) رات میں گھسیٹ دیتا ہے اور وہ تو دلوں کے خیال (بھی) جانتا ہے6

ف 6 کجا کہ اس سے تمہاری اعمال پوشیدہ رہیں، اگرچہ وہ دلوں میں آنے والے خیالات وساوس پر اس وقت تک مئواخذہ نہیں کرتا جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے۔ (وقد مرنی خاتم سورة البقر)7 یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت کی رسالت کا اقرار کرو۔ یہ کفار عرب سے خطاب ہے۔ اگر یہ خطاب مسلمانوں سے ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اللہ و رسول پر ایمان میں مزید پختگی پیدا کرو اور اس پر برقرار رہو۔ کما فی اھدنا الصراط المستقیم
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائو اور جس مال کا تمت کو وارث بنایا اس میں سے اللہ کی راہ میں) خرچ کرو8 کیونکہ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ9 کیا ان کو بڑا نیگ (ثواب) ملے گا0 1

ف 8 یعنی جس میں اس نے تمہیں پچھلے لوگوں کا وارث بنایا یا اپنا غائب بنا کر تصرف کا اختیار دیا۔9 مطلب یہ ہے کہ جو اموال تمہارے قبضہ میں ہیں حقیقت میں ان کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ تم محض امین و خزانچی ہو۔ لہٰذا جہاں وہ حکم دے وہیں اس کے نائب ہونے کی حیثیت سے خرچ کرو او اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ سال پہلے دوسروں کے قبضہ میں آیا۔ اسی طرح تمہارے مرنے کے بعد تمہارے وارثوں کے قبضہ میں چلا جائے گا۔ اس میں سے تمہارے کام صرف وہی آئے گا جو تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو گے۔10 یعنی جنت لہٰذا ایمان کے مقضی کے مطابق عمل کرو۔
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور لوگو تم کو کیا ہوا ہے تم اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہیں لاتے اور پیغمبر تم کو اپنے مالک پر ایمان لانے کیلئے بلا رہا ہے اور اگر تم کو یقین آئیتو خود تمہارا مالک (روز الست میں) تم سے اقرار لے چکا ہے11

ف 11 امام ابن جریر نے اس سے مراد وہ اقرار لیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب اس نے انہیں حضرت آدم کی پشت سے پیدا کیا تھا اور جو ان میں سے ہر ایک کی سرشت میں داخل ہے۔ وقدم فی سورة الاعراف 172) شاہصاحب لکھتے ہیں :” اقرار اللہ نے چکا ہے دنیا میں آنے سے پہلے اور اس کا اثر رکھ دیا دل میں۔ (موضح) حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ بیعت ہے جو آنحضرت نے صحابہ کرام سے لی تھی جس کا ذکر سورة مائدہ میں ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی تو اللہ ہے جو اپنے بندے (محمد صلعم) پر صاف صاف آیتیں (قرآن کی) اس لئے اتارتا ہے کہ تم کو صکفر کے) اندھیروں سے نکال کر ایمان کے) اجالے میں لائے اور بیشک اللہ تم لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا مہربان ہے12

ف 12 اس لئے اس نے تم میں اپنا رسول بھیجا اور اس پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور نم کو کیا ہوگا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنا خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمان کا وارث اللہ تعالیٰ ہے (مال اسی کا مال) جن لوگوں نے تم میں سے مکہ فتح ہونے سے پہلے اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا اور لڑے ان کا درجہ ان لوگوں سے بڑا ہے جنہوں نے (مکہ) فتح ہونے کے بعد خرچ کیا اور لڑے1 ور اللہ تعالیٰ نے تو سب کو اچھا بدلہ (جنت) دینے کا وعدہ کرلیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے

ف 1 کیونکہ اس وقت اظہار ایمان اور اس پر استقامت نہایت مشکل تھی، اس لئے آنحضرت نے بھی ایک موقع پر ایمان لانے والوں سے کہا میرے (سابقین) صحابہ کو برا مت کہو انہوں نے تو ایک مدیا نصف مد اللہ کی راہ میں خرچ کر کے جو درجہ حاصل کرلیا تم احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر کے بھی وہ درجہ نہیں کرسکتے۔ دوسری روایت میں ہے ان کا ایک ساعت کا عمل تمہارے عمر بھر کے عمل سے بہتر ہے۔ (سوکانی) 2 یعنی یوں تو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص کسی وقت بھی ایمان لائے گا اور اس کی راہ میں جہاد کرے گا وہ اسے اچھا بدلہ (جنت) عطا فرمائے گا۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

لوگو تم میں سے کون ایسا ہے جو اللہ نہ کو قرض دے اچھا قرضہ3 پھر اللہ اس کا دونا اس کو دیگا اور اس کے علاوہ اس کو بہتر نیگ ملے گا4

ف 3 ” قرض حسن “ (اچھے فرض) سے مراد وہ مال ہے جو آدمی دل کی خوشی سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اس کی راہ میں خرچ کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ اسے اپنے ذمہ قرض قرار دے رہا ہے حالانکہ انسان کے پاس جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ اسے اپنے ذمہ قرض قرار دے رہا ہے حالانکہ انسان کے پاس جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ ہی کا دیا ہوا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں قرض کے معنی یہ کہ اس وقت جہاد میں خرچ کرو پھر تم ہی دولتیں برتو گے۔ یہی معنی ہیں دونوں کے دینہ مالک اور غلام میں سود بیاج نہیں جو دیا سو اس کا اور جو نہ دیا سو اس کا۔ “ ‘4 یعنی جنت … مزیدت شریح کے لئے دیکھیے بقرہ 245
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

اس دن (اے پیغمبر) تو ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو دیکھے گا ان کے ایمان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف پل صراط پر دوڑتا جاتا ہوگا فرشتے ان سے کہتے جائیں گے آجتم کو خوشی ہے خوشی ہے وہ کیا ان باغوں میں جانا جن کے تلے نہریں پڑی بہ رہی ہیں سدا نہی میں رہو گے۔ یہیتو بڑی کامیابی ہے

ف 5 ” اور اسی کی رہنمائی میں چل کر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ “ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ یہ نور پر شخص کے ایمان اور عمل صالح کے مطابق ہوگا جس کا ایمان جس قدر پختہ اور عمل جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر اس کا نور زیادہ ہوگا۔ قتادہ سے مرسلام وہی ہے کہ بعض مومن ایسے ہوں گے جن کا نور مدینہ سے صنعا تک پھیلا ہوگا۔ ضحاک اور قتادہ کہتے ہیں کہ نور آگے ہوگا اور ان کے داہنے ہاتھ میں ان کے اعمال نامے ہونگے ابن کثیر یہ مطلب اس صورت میں ہے جب و بایمانھم کو بین ایدھم سے الگ جملہ قرار دیا جائے۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمانداروں سے کہیں گے (ذرا تو ٹھہرو) ہم کو آن یدو ہم بھی تمہاری روشنی سے سلگا میں6 ان سے کہا جائیگا7 پیچھے لوٹ جائو (یعنی دنیا میں پھر جائو) وہاں روشنی ڈھونڈھ لو8 پھر اس کے بعد ایماندار اور منافقوں کے بیچ میں ایک دیوار کی آڑ کردی جائیگی اس میں ایک دروازہ ہوگا اس کے اندر کی طرف تو رحمت (بہشت) ہوگی اور اس کے ادھر (جدھر منافق ہونگے) باہر کی طرف اللہ کا عذاب جہنم ہوگا9

ف 6 یعنی تمہاری کچھ روشنی لے لیں اور اس کی رہنمائی میں چلیں۔7 یعنی فرشتے کہیں گے یا ایماندار جواب دیں گے۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

منافق ایمانداروں سے پکار پکار کہیں گے کیا دنیا میں بھائی ہم تمہارے ساتھ نہ تھے10 وہ کہیں گے البتہ تھے تو سہی مگر تم نے نفاق کر کے خود اپنے تئیں بالا میں ڈالا اور تم تو انتظار کرتی تھے11 دل سے ہمارے خیر خواہ نہ تھے اور خدا اور پیغمبر کی طرف سے تم کو شک ہی رہا اور واہی تباہی امیدوں آرزئوں نے تم کو دھوکے میں ڈال کر کہاں12

ف 8 مطل بیہ ہے کہ یہاں تمہیں روشنی ملنے والی نہیں ہے۔ یہ روشنی تو ایمان اور نیک اعمال کی ہے جو ہم نے دنیا میں کئے تھے۔ اب اگر پلٹ کر دنیا میں جاسکتے ہو تو چلے جائو اور وہاں سے روشنی کما کرلے آئو … ایک روایت میں ہے کہ پل صراط کے پاس اللہ تعالیٰ ہر مومن اور منافق کو روشنی دے گا۔ جب سب لوگ پل صراط پر پہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ منافقوں کی روشنی سلب کرلے گا اس وقت ایمانداروں سے درخواست کریں۔ انظھقا نفیس من نورکم اور ایماندار کہیں گے ربنا اتملنا نورناً اے رب ہمارے ہماری روشنی مکمل فرما (یعنی جنت میں داخل ہوجانے تک اسے باقی رکھ) اس موقع پر کوئی کسی دوسرے کو نہ پوچھے گا۔ 9 اس دیوار سے مراد وہ دیوار ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگی۔ (شو کانی)10 جو آج ہمیں اکیلا چھوڑے دیتے ہو۔11 کہ کب ہم مسلمانوں پر کوء آفت نازل ہوتی ہے۔ “2 ۃ یعنی تم سمجھتے رہے بس چند دن میں مسلمان تباہ ہوجائیں گے اور اسلام کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

یہاں تک کہ اللہ کا حکم آن پہونچا (تم خود مرگئے اور شیطان نے) تم کو (نہ چھوڑا) اللہ کے باب میں فریب ہی دیتا رہا14 تو آج کے دن نہ تم سے چھڑائی میں کچھ لیا جائیگا (فدیہ وغیرہ) ہوگا) اور نہ (دوسرے) کافروں سے تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے

ف 13 اللہ کے باب میں شیطان کا انسان کو دھوکا دیتا کئی ہیں۔ “ پل صراط پر کافر نہ چلیں گے۔ وہ پہلے ہی دوزخ میں پڑیں گے مگر جو امت ہے کسی نبی کے سچے یا کچے۔ جب اندھیرا گھیر یگا ایمان والوں کے ساتھ روشنی ہوگی۔ منافق ان کی روشنی میں چلنے لگے وہ شتاب نکل گئے یہ رہے پیچھے پکارت یکہ ہم کو بھی روشنی دو کسی نے کہا کہ پیچھے سے روشنی لائو، وہ پیچھے ہٹے ان کے بیج دیوار کھڑی ہوگئی۔ یعنی روشنی دنیا میں کمائی جاتی ہے وہ جگہ پیچھے آئے۔ (کذا فی الموضح)
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

وہی تمہاری رفیق ہے اور وہ بری جگہ ہے کیا ایمانداروں کے لئیا بھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کا ذکر کرنے پر اور جو اللہ کی طرف سے قرآن اترا (اس کیس ننے پر) ان کے دل پگل جائیں1 اور ان کتاب والوں (یہود و نصاریٰ کی طرح نہ ہوجائیں جن کو (قرآن اترنے سے) پہلے اللہ کی کتاب دی گئی تھی پھر ان پر لمبی مدت گزری تو ان کے دل سخت ہوگئے اور اب ان میں اکثر لوگ بدکار نافرمانی ہیں

ف 1 مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ جب انکے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اس کی کتاب پڑھی جائے اور ان کے دلوں میں خشوع و خضوع کی کیفیت پیدا ہو عمش کہتے ہیں کہ صحابہ کرام جب مدنیہ آئے اور انہیں فقر و فاقہ کے بعد کچھ تن آسانی کے اسباب ملے تو ان میں کچھ سستی آگئی۔ اس پر بطور عتاب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی الصا المعانی
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

یہ سمجھ لو کہ اللہ زمین کو مرے پیچھے (پانی برسا کر جلا دیتا ہے2 ہم نے اپنی قدرت کی نشانیاں تم سے بیان کردیں اس لئے کہ تم کو عقل پیدا ہو

ف 2 لہٰذا وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکے۔ اس سے مقصود عام مسلمانوں کو توبہ کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
Ayahs 57:18–19

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بیشک جو مرد خیرات کرتے ہیں اور جو عورتیں خیرات کرتی ہیں اور جو لوگ اللہ کو اچھا قرضہ دیتے ہیں ان کو وہ ثواب ملے گا اور اس کے علاوہ کو اچھا نیگ دیا جائے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

(بہشت) اور جو لوگ الہ اور اس کے سب پیغمبروں پر ایمان لائے وہی اپنے مالک کے پاس صدیق اور شہید ہیں3 ان کو ان کا ثواب اور ان کا نور ملے گا4 اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا اور جھٹلایا وہی دوزخی ہیں

ف 3 یعنی انہیں صدیقین اور شہداء کا متربہ نصیب ہوگا۔ حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : میری امت کے اہل ایمان شہید ہیں، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر) حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ہر مومن صدیق اور شہید ہے۔ اسی طرح حضرت عمرو بن مرہ جہنی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ کی خدمت میں حاض رہو کر عرض کیا ’ د اے اللہ کے رسول اگر میں توحید و رسالت کی شہادت دوں پانچوں نمازیں ادا کرتا رہوں۔ زکوۃ دیتا رہوں، رمضان کے روزے رکھوں اور راتوں کو عبادت کروں تو میں کیا ہوں گا ؟ فرمایا : تم صدیقین اور شہداء میں سے ہوں گے۔ (شوکانی)4 یعنی انہیں صدیقین اور شہداء کا ثواب اور نور ملے گا یا انہیں اپنے ایمان اور عمل کے مطابق ثواب اور نور ملے گا۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

(لوگو) یہ جان رکھو دنیا کی زندگی اور کچھ نہیں بس کھیل اور تماشا ہے اور بنائو سنگھار اور ایک دوسرے پر بڑائی جتانا اور ایک دوسرے سے زیادہ مال اور اولاد کی خواہش کرنا5 اس کی مثال ایک مینہ کی سی ہے جس کی پیداوار نے کسانوں (کنبیوں) کو خوش کردیا6 پھر چند ہی روز میں کوئی آفت آتی ہے) وہسوکھ جاتا ہے تو دیکھتا ہے وہ پیلا پڑگیا اس کے بعد (بھس کی طرح) روندن بن جانا ہے7 اور آخرت بروں کے لئے سخت عذاب ہے اور اچھوں کے لئے اللہ کی معافی اور رضا مندی ہے اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے1

ف 5 یہ سچے اور مخلص اہل ایمان کے مقابلے میں دنیا دار لوگوں کا حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام خواہشوں اور دلچسپیوں کا ذکر ان پانچ باتوں میں فرمایا دیا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں ” آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہیے پھر تماشا پھر بنائو درست کرنا (یعنی بنئاو سنگھار کی فکر) پھر ساکھے کرنے اور نام حاصل کرنا (یعنی ساکھ بڑھانا اور نام و نمود حاصل کرنا اور جب مرنا قریب آوے تب فکر مال اور اولاد کا کہ پیچھے میرا گھر بنا رہے آسودہ یہ سب دغا کی جنس سے آگے کام آئے گا کچھ اور یعنی ایمان اور عمل صالح یہ کچھ کام نہ آوے گا۔ “6 جیسے دنیا داروں کو ان کی جوانی اور مالداری خوش کرتی ہے۔7 یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے۔ بس چند روز بہار ہے آخر زوال اور پھر فنا ہے۔ 1 جس نے دنیا سے دل لگایا وہ دھوکے میں پڑگیا اور اس نے اپنی آخرت تباہ کرلی۔ البتہ ایسے لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی دھوکا نہیں ہے جنہوں نے اسے آخرت کا ذریعہ بنایا۔ آخرت کے ماقبلہ میں دنیا کی بےوقعتی کا ذکر بہت سی احادیث میں مذکور ہے۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

لوگو اپنے مالک کی معافی بخشش کی طرف لپکو2 اور اس باغ بہشت کی طرف جس کی چوڑائی یا پھیلائو آسمان اور زمین دونوں کی چوڑائی یا پھیلائو کے برابر ہے3 وہ ان لوگوں کے لئیت یار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے سب پیغمبروں پر ایمان لائے یہ (عافی اور باغ ملنا) اللہ کا فضل ہے جس کو وہ چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

ف 2 یعنی وہ نیک کام کرو جن سے تمہیں اپنے مالک کی خوشنودی اور معافی نصیب ہو۔3 جب جنت کا عرض اس قدر ہے تو اس کے طول کے کیا کہنے
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

(لوگو) جو آفتیں زمین پر آتی ہیں (مثلاً قحط زلزلہ طوفان وغیرہ) اور جو خودتم بر آتی ہیں (مثلاً دکھ بیماری موت وغیرہ) وہ سب اس آفت کے پیدا کرنے سے4 پہلے ہی لوح محفوظ رکھی ہوئی موجود ہیں بیشک اللہ کے نزدیک یہ سب باتیں لکھ لینا) آسان ہے (کوئی مشکل کام نہیں)5

ف 4 یا زمین اور لم لوگوں کی پیدائش سے پہلے۔ “5 حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا۔ “ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیر زمین و آسمان کی پیدائش ہے پچاس ہزا رسال پہلے لکھ دی تھی۔ (ابن کثیر بحو (صحیح مسلم)
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

یہ ہم نے تم کو اس لئے بتلا دیا کہ جو چیز تم سے جاتی رہے9 اس کا (حد سے زیادہ غم نہ کھائو7 اور جو نعمت اللہ تعالیٰ تم کو دے اس پر غرور سے پھول نہ جائو8 اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا

ف 6 یا ” تمہیں نہ ملے “7 ” بلکہ یہ سمجھ کر صبر کرو کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پانی تھی۔ اگر اس نے یہ چیز ہماری قسمت میں لکھی ہوئی تو ہمیں ہر صورت مل کر رہتی “ اور اس نے جو ہماری قستم حق میں بہتر نہ تھا۔ اگر بہتر ہوتا تو وہ ضرور ہماری قسمت میں لکھتا۔8 بلکہ یہ سمجھ لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے ہماری اپنی کوشش کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لئے آدمی کو کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ مطلب یہ کہ کوشش کے بعد اگر ناکامی ہو تو غم نہیں بلکہ صبر کرنا چاہیے اور بصورت کا میابی غرور کرتا نہیں بلکہ شکر بجا لانا چاہیے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ تقدیر ایمان کا فائدہ قرار دے رہا ہے۔ اس اصول پر عمل پیرا رہنے سے زندگی میں اعتدال رہتا ہے اور انسان افراط وتفریط کا شکار نہیں ہونے پاتا۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

ایسے لوگ (ایک تو) خود تخیلی کرتے ہیں (دوسرے) اوروں کو بھی بخیلی کرتا سکھاتے ہیں9 اور جو کوئی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے) منہ پھیرے تو اللہ بےپرواہ ہے سراسر خوبیوں والاف 10

ف 9 کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ پر نہیں بلکہ اپنی کوشش اور تدبیر پر بھروسا ہوتا ہے اس لئے سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاتھ سے کوئی چیز چلی گی تو معلوم نہیں وہ ہمیں دوبارہ مل سکے گی یا نہیں اس کے برعکس جن لوگوں کو خدا پر اعتماد ہوتا ہے وہ دنیا کی چیزوں سے ایسی محبت نہیں کرتے کہ ان کا جدا ہونا ان پر شاق گزرتا ہو بلکہ وہ انہیں دل کھول کر اللہ تعالیٰ کی یوں میں صرف کرتے ہیں۔10 یعنی اس یکسی کی تعریف پامال و دولت کی ضرورت نہیں ہے تم اگر اس کی راہ میں خرچ کرو گے تو اپنے ہی بھلے کے لئے کرو گے اور اگر نہیں کرو گے تو اپنا نقصان آپ کرو گے۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم تو اپنے پیغمبروں کو کھلی کھلی نشانیاں دیکر بھیج چکے اور ان کے ساتھ کتاب اتاری (تورایت انجیل زبور قرآن وغیرہ) اور انصاف کا ترازو اتارا11 اس لئے کہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور ہم ہی نے لوہا پیدا کیا12 اس سے تو بڑی لڑائی کا سامان بنتا ہے اور لوگوں کو (بہت) فائدے ہوتے ہیں13 اور اس کے پیدا کرنے سے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ دیکھ لے کون بن دیکھے1 اللہ کی اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتا ہے2 ہے بیشک اللہ زور والا ہے زبردست3

ف 11 یعنی عدل و انصاف کا حکم دیا۔12 اخلقنا کے معنی اتارنا بھی ہیں اور پیدا کرنا بھی یہاں پیدا کرنا مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ لوہے کے کالوں سے نکالنا اور اس کی صفت کی تعلیم دینا مراد ہے۔ نیز دیکھیے سورة انعام آیت 43)3 ۃ جیسے تلوار بندوق اور دوسرے جنگی ہتھیار اس میں اشارہ ہے کہ دنیا میں امن وامان قائم کرنے کیلئے کتاب و قانون عدل و انصاف کے علاوہ اس شخص کی بھی ضرورت ہے جو ہاتھ میں تلوار رکھتا ہو۔ انصاف پھیلانے کے لئے ہے ایک روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ! مجھے قیامت سے پہلے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے تاکہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ گردانا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی میرے نیزے کے زیر سایہ رکھا اے ور اس شخص کے لئے ذلت اور محکومیت رکھی ہے جو میری مخالفت کرے۔ (ابن کبیر)1 یعنی محض آنحضرت کی تصدیق کرتے ہوئے۔2 یہ دیکھے کہ کسی کا مقصد تلوار اٹھانے سے دین حق کا بول بالا کرنا ہے۔3 یعنی اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ وہ خود زور والازبردست ہے اس نے جو تمہیں جہاد کا حکم دیا اس سے مقصد تمہاری وفاداری کا امتحان لینا ہے۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نوح اور ابراہیم کو (پیمبر بنا کر) بھیج چکے ہیں اور ان کی اولاد میں ہم نے پیغمبری اور کتاب کو جاری)4 رکھا اس پر بھی ان کی اولاد میں سے بعضے تو راہ پر آئے اور بہتیرے نافرمان ہی رہے

ف 4 چننچہ حضرت ابراہیم کے بعد جتنے پیغمبر آئے سب انہی کی اولاد میں سے تھے5 یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بڑے نرم اور مہران تھے آیت میں تعریف صحبا ہکرام کی فرمائی گی ہے۔ دیکھیے اس الفتح آیت 29)
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے پیچھے پیغمبروں کا تار باندھ دیا اور ان سب کے پیچھے عیسیٰ کو بھیجا جو مریم کا بیٹا تھا اور اس کو ہم نے انجیل دی اور جو لوگ اس کے تابع ہوئے ان کے دلوں میں ہم نے نرمی اور مہربانی رکھی5 اور ان لوگوں نے درویشی نکال لی6 ہم نے یہ حکم ان کو نہیں دیا تھا مگر انہوں نے خود اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کو یہ نکال لی پھر جیسا چاہئیت ھا ویسا اس کو نباہ نہ سکے7 پھر جو لوگ ان میں ایماندار رہے (توحید پر قائم رہے) ان کو تو ہم نے ان کا ثواب عنایت فرمایا اور ان میں بہتیرے بےایمان ہیں8

ف 6 یعنی دنیا کو چھوڑ دینا، شادی نہ کرنا اور خلقت سے الگ ہو کر جنگلوں اور غاروں میں رہنا بسنا۔7 یعنی انہوں نے دو جرم کئے ایک رہبانیت درویشی کو دین کا جزو لاینفک قرار دے لیا اور پھر اس درویشی کے حقوق و آداب کی بھی نگہداشت نہ کرسکے۔ چناچہ انہوں نے ابتداء میں توحید اور درویشی کو ایک ساتھ نبھانے کی کوشش کی لیکن حضرت مسیح کے تیسری صدی بعد سے اپنے بادشاہوں کے بہکانے میں آگئے۔ اور تثلیث کے جر میں پھنس کر توحید کہ چھوڑ دیا۔ پھر درویشی تو درکنار اصل ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ درویشی کو جاہ ریاست طلبی کا ذریعہ بنالیا اور ابطل طریقوں سے لوگوں کے مال کھانے لگے۔ القرض جہاد کے فریضہ لو چھوڑ کر تصرف کی رسوم اتخیار کرنا ہی رہبانیت ہے جس کی قرآن نے مذمت کی ہے اور پھر درویشی یا دینی پیشوائی کو جاہ و ریاست اور دنیا طلبی نصاریٰ میں عا مو با کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ فقیری تا اور تارک دنیا بننا نصاریٰ نے رسم نکالی، جنگل میں تکیہ لگا کر بیٹھتے نہ جو رکھتے نہ بیٹا کماتے نہ جوڑے محض عبادت میں رہتے۔ نہ کرنے نہ جوڑتے محض عبادت میں رہتے۔ خلق سے نہ ملنے اللہ نے بندوسوں پر یہ حکم نہیں رکھا مگر جب اپنے اوپر نام رکھا ترک دنیا کا پھر اس پردے میں دنیا چاہنی بڑا وبال ہے۔ (موضع)8 حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرماا : ایماندار رہنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور بےایمانی سے مراد وہ ہیں جنہوں نے مجھ سے کفر کیا۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

(اہل کتاب کے) ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو9 اور اس کے پیغمبر (حضرت محمد) پر ایمان لائو اللہ تم کو اپنی رحمت میں سے دوہرا حصہ دے گا10 اور تم کو ایسی روشنی دیگا جس کی وجہ سے تم (پل صراط پر) چل نکلو گے11 اور (تمہارے گناہ) تم کو سبخشدہ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف 9 آ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو پہلے انبیاء پر ایمان رکھتے تھے۔10 ایک حصہ پہلے انبیاء پر ایمان لانے کا اور دوسرا حصہ آنحضرت پر ایمان لانے کا، اسی کی تشریح میں آنحضرت نے فرمایا : اہل کتاب میں سے جو شخص اپنی نبی پر ایمان اور اپھی مجھ پر ایمان لے آیا سے دو کہرا اجر ملے گا ابن کثیروالا یا جس سے تم دنیا میں دین کی صحیح راہ پر چلنے لگوے گے۔ دونوں صورتوں میں روشنی سے مراد و کتاب پر سنت کی روشنی ہے
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

اس لئے کہ کتاب والے (جو ایمان نہیں لائے) یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر ان کی کچھ نہیں چلتی اور فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے12 وہ جس کو چاہتا ہے سرفراز فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے13

۔12 یہاں اللہ کے فضل سے مراد وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ یعنی دوہرا اجر اور گناہوں کی معافی13 آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” لئلاء “ میں ” لا “ کو زائدہ مانتے ہوئے اس کا ترجمہ ” تاکہ “ کیا جائے اور اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ شاہ صاحب نے بھی اس کا ترجمہ ” تاکہ جانیں کتاب والے “ ہی کیا ہے اور اس پر فائدہ میں لکھتے ہیں یعنی اہل کتاب پیغمبروں کا احوال سن کر پچھتاتے کہ ہم ان سے دورپڑے ہم کو وہ درجے ملنے محال ہیں سو یہ رسول اللہ نے کھڑا کیا اس کی صحبت میں وہ مل سکتا ہے آگے سے دو ناکمال اور اللہ کا فضل بند نہیں ہوگیا ہے۔ “