56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 56:1–2

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب آپڑے آپڑنے والی (یعنی قیامت)

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کا آپڑنا جھوٹ نہیں ہے7

ف 7 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب وہ نازل ہوگی تو اسے ہرگز جھٹلایا نہ جاسکے۔
Ayah 56:3

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

(کسی کو) نیچا دکھائے گی کسی کا درجہ بلند کریگی8

ف 8 یعنی بڑے بڑے متکبروں کو جو دنیا میں معزز اور بلند مرتبہ سمجھے جاتے تھے دھکیل کر دوزخ میں پھینکے گی اور بہت سے اہل حق کو جو دنیا میں حقیر و کم مرتبہ نظر آئی تھے جنت کے اعلیٰ مراتب تک پہنچائے گی۔
Ayahs 56:4–8

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین ہل کر جھکولے کھانے لگے گی

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ کر چکنا چور ہوجائیں گے (ریزہ ریزہ )

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

اور گرد (غبار) کی طرح پھیل جائیں گے

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم لوگوں کی آدمیوں کی تین لڑکیاں ہوجائیں گی

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

ایک تو داہنے ہاتھ والے داہنے ہاتھ والوں کا کیا پوچھنا ہے9

ف 9 یعنی ان کی خوش حالی اور عیش و آرام کا کیا پوچھنا ! مراد عام جنتی لوگ ہیں جو عشر کی دائیں جانب ہونگے یا جنہیں حضرت آدم کے دائیں پہلو سے پیدا کیا گیا یا جنہیں ان کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یا جنہیں دائیں طرف سے لے جایا جائے گا۔
Ayah 56:9

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

دوسرے بائیں ہاتھ والے بائیں ہاتھ والوں کی کیا خرابی ہے1

ف 1 یعنی ان کی بدبختی نحوست و بدحالی کا کیا ٹھکانا ! مراد دوزخی لوگ ہیں جو عرش کی بائیں طرف ہوں گی یا جنہیں ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ دیئے جائیں گے وغیرہ
Ayah 56:10

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

تیر سے آگے بڑھنے والے تو وہ آگے بڑھنے والے ہی ہیں (انکا درجہ سب سے زیادہ ہے2

ف 2 مراد وہ لوگ ہیں جو نہ صرف خود ایمان لائے اور نیکو کار رہے بلکہ ایمان لانے اور ہر ایک نیک عمل … جیسے نماز ہجرت اور جاد وغیرہ … کی انجام دہی میں دوسروں پر سبقت لے جانے والے ہیں۔
Ayahs 56:11–14

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

یہ لوگ ہمارے نزدیک والے ہوں گے

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

آرام کے باغوں میں

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

ان آگے بھڑنے والوں میں اگلے لوگ بہت ہوں گے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے پچھلے ہوں گے3

ف 3 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور قدیم مفسرین سے یہ دونوں مقنول ہیں۔ شاہ صاحب نے بھی اپنے فوائد میں بلا ترجیح دونوں نقل کئے ہیں ایک یہ کہ پہلے تمام انبیائو کے پیروں میں سے اعلیٰ درجہ کے لوگ ملا کر لغت محمدیہ کے اعلیٰ درجہ کے لوگ سے تعداد ہیں زیادہ ہوں گ۔ دوسرا یہ کہ خود امت محمدیہ میں اعلیٰ درجہ کے لوگ پہلے بہت ہوں گے اور بعد میں کم۔ اس دوسرے مطلب کی تائید ابوبکرہ کی روایت سے ہوتی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ھما جمیعاً من ھذہ الامتہ کہ ان دونوں سے مراد اسی امت کے لوگ ہیں مگر یہ روایت اسناد کمزور ہے اس لئے علماء تفسیر نے اس پر اعتماد نہیں کیا۔ پہلے مطلب کو ابن جریز طبری نے دوسرے مطب کو حافظ بن کثیر نے ترجیح دی ہے۔ ان کے علاوہ حافظ ابن کثیر نے ایک تیسرا مطلب بھی بیان فرمایا ہے کہ ہر امت کے پہلے طبقہ میں جتنے درجہ کے لوگ ہوئے ہیں اتنے اس کے بعد کے طبقہ میں نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث ” خیر القرون قرنی “ سے معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔
Ayahs 56:15–17

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

سونے چاندی جواہرات کے جڑائو

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوئے

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

ان پر لڑکے خوبصورت ہے بےریش و بروت) جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے4

ف 4 یعنی کبھی جوان یا بوڑھے نہ ہوگے۔
Ayahs 56:18–23

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

کو زے اور صراحیاں اور گلاس شراب کے لئے پھرت یہوں گے

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

اس شراب کے پینے سے نہ سر میں درد ہوگا (شمار) اور نہ عقل میں فوتر ہوگا (نہ بکواس کریں گے)

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوہ جو پسند کریں

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جو وہ چاہیں

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور بڑی آنکھ والی یا بہت کالی آنکھ والی حوریں وہاں ان کو ملیں گی

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

گویا چھپائے ہوئے احتیاط5 سے لپیٹے ہوئے) موتی ہیں

ف 5 یعنی نہایت صاف و شفاف جن پر گرد و غبار کا کوئی اثر نہ ہو۔
Ayahs 56:24–28

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان کے چھے کاموں کا بدلہ ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں نہ کوئی بیہودہ بات ہوگی نہ گناہ کی بات

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

البتہ ہر طرف سے سلام سلام کی پکار ہوگی

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے ہاتھ والے داہنے ہاتھ والوں کا کیا پوچھنا

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

وہ لوگ بےکانٹے کی بیریوں میں ہوں گے7

ف 6 مثلاً گالی گلوچ، غیبت، جھوٹ اور بہتان وغیرہ
Ayah 56:29

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور لدے ہوئے کیلوں (موز کے) درختوں میں

ف 7 حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام اپٓس میں کہا کرتے تھے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ہمیں بد دو ئوں کے مسائل دریافت کرنے سے بڑا فائدہ پہنچاتا ہے۔ چناچہ ایک مرتبہ ایک بدو نے آنحضرت سے عرض کیا ” اے الہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک ایسے درخت کا ذکر فرمایا ہے جو جنت میں ہوگا حالانکہ وہ تکلیف دہ درخت ہے۔ “ رسول ﷺ نے دریافت فرمایا ” وہ کونسا ہے ؟ ؟ کہنے لگا ” بیری ! اس لئے کہ اس میں تو کاٹنے ہتوے ہیں جو چبھتے ہیں۔ “ فرمایا ” کیا اللہ تعالیٰ نے ” مختصود “ نہیں فرمایا یعنی یہ کہ اس بیری کے کانٹے صاف کردیئے جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ ہر کانٹے کی جگہ ایک بیراگائے گا اور ہر بیر میں بہتر 72 کھانوں کے مزے ہونگے۔ “ (شوکانی)
Ayah 56:30

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

پائیدار سائے ہیں8 چھائوں میں جو کبھی نہ سر کے گی

ف 8 حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو سال چلے گا لیکن اسے طے نہ کر پائے گا۔ ” اگر تم چاہو تو آیت “ و ظل ممدود پڑھ لو۔ “ (شو کانی)
Ayahs 56:31–34

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور بہتے ہوئے رواں پانی میں

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور ریل پیل میووں میں

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو ہمیشہ بےفصل بےروک ٹوک ان کو ملتے رہیں گے

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور شاندار عورتوں یا اونچے فرشوں میں)9

ف 9 یعنی خوب دبیز اور اونچے ہوں گے۔ عربی زبان میں ” فرش “ کا لفظ عورت کے لئی بھی بطور کیا یہ استعمال ہوتا ہے اس لئے آیت وفرش مرفوعۃ کا ترجمہ ” شاندار عورتیں “ بھی کیا گیا ہے۔
Ayahs 56:35–36

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم کو ان کو ایک دم سے اٹھا کر کھڑا کردیں گے

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

اور ان کو کنواریاں پیاری10

ف 10 ان سے مراد دنیا کی عوتریں ہیں جو چاہے بوڑھی ہو کر مری ہوں لیکن انہیں جوان بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے اس آیت کو یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 56:37–40

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

ہم عمر بنادیں گے

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

داہنے ہاتھ والوں کی

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

(داہنے ہاتھ والے) اگلے لوگوں میں سے بہت ہوں گے

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور پچھیل لوگوں میں سے بھی بہت ہوں گے1

ف 1 اگلے اور پچھلے لوگوں کی تفسیر اوپر ایسی سورة میں گزر چکی ہے