55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 55:1–2

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

بڑے رحم والے خدا نے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

قرآن اپنے پیغمبر حضرت محمد کو سکھایا3

ف 3 ہو اس کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی اور سب سے اونچی نعمت ہے۔
Ayahs 55:3–4

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اس نے آدم کو پیدا کیا

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اسکو بولن ابات کرنا سکھلایا4

ف 4 یعنی اس قدرت دی کہ اپنے ماضی الضمیر کو نہایت وضاحت اور حسن و خوبی کے ساتھ ادا کرسکے اور دوسروں کی بات سمجھ سکے اپنی اس صفت کی بدولت وہ خیر و شر ہدایت و ضلالت ایمان و کفر کی بدولت وہ خیر و شر ہدایت و ضلالت ایمان و کفر اور دنیا و آخرت کی باتیں سمجھتا اور سمجھاتا ہے اور اسی کو کام میں لا کر فائدہ اٹھاتا ہے۔
Ayah 55:5

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند حساب سے گھوم رہے ہیں5

ف 5 یعنی ایک خاص حساب اور باضابطہ نظام ہے جس میں یہ دونوں عظیم الشان سیارے جکڑے ہوئے ہیں چناچہ ایک خاص وقت میں طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور ایک معین راستہ پر چلتے ہیں۔ اسی وجہ سے انسان اس قابل ہوا ہے کہ وقتوں، دنوں تاریخوں اور مومنوں کا حساب رکھ سکے۔
Ayah 55:6

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بیل اور درخت یا ستارے اور6 درخت) دونوں (اسی کو) سجدہ کر رہے ہیں7

ف 6 ” نجم “ کے مشہور اور متبادر معنی ستارے کے ہیں لیکن یہ ایسے پودے اور بیل بوٹوں کے لئے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا۔ اس لئے متن میں اس کا ترجمہ ” بیل “ بھی کیا گیا ہے اور یہ معنی ” الشجر “ کے قرین ہونے کے اعتبار سے انسب ہیں۔ 7 یعنی اسی کے حکم کے تابع اور اسی کے قانون کے پابند ہیں۔ اس نے ان کے لئے جو ضابطہ اور نظم مقرر فرما دیا ہے اس سے سرموانحراف نہیں کرتے۔
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اسی نے آسمان کو اونچا کیا اور ترازو کو نیچا کیا زمین پر رکھا8

ف 8 یعنی کم نہ تو لو … کم تولنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر تباہی آنے کا ایک سبب یہی تھا۔
Ayahs 55:8–12

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

اس لئے کہ تم انصاف کی حد سے نہ گذرو (یا تولنے میں فرق نہ کروض

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور ٹھیک تو لا کرو اور ترازو مت مارو

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین کو خلقت کے نفائدہ کے) لئے بچھا پا

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں (ہر قسم کے) میوے ہیں اور غلاف چڑھی ہوئی کھجور

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور طرح طرح کے) اناج بھوسے اور دانے والے9

ف 9 یعنی آدمیوں کے لئے دانہ اور جانوروں کے لئے بھوسا۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

تو جنوں اور آدمیو تم دونوں اپنے مال ک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے10

ف 10 یعنی کس کس نعمت کا انکار کرو گے۔ ایک کا انکار کرو گے تو دوسری سامنے آجائے گی اور دوسری کا انکار کرو گے تو تیسری آخر کہاں تک انکار کرتے جائو گے ؟ یہ آیت اس سورة میں اکیس بار آئی ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اس عن کر لا بشئی من نعمک ربنا نکدب ولک الحمد کہنا مستحب ہے۔
Ayahs 55:14–17

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی نے آدم کو ٹھیکری کی طرح کھنکھناتی یا سڑی بدبو دار مٹی سے بنایا

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنوں کو یا ابلیس کو آگ کی لو سے شعلہ سے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی دونوں پورب اور دونوں پچھم کا مالک ہے11

ف 11 دونوں پور بوں (مشرقوں) اور پچھموں (مغریوں) سے مراد موسم سرما اور موسم گرما کے مشرق اور مغرب ہیں۔ موسم سرما میں سورج چھوٹا سا دائرہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے اور موسم گرما میں بڑا دائرہ بنا کر۔
Ayahs 55:18–22

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو دریا (میٹھے اور کھاریض چھوڑ دیئے ہیں دونوں دیکھنے میں مل کر چلتے ہیں پر ملتے نہیں)

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

ان کے بیچ میں ایک آڑے ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

دونوں صدریائوں ض میں سے موتی12 اور مونگے (یا چھوٹے اور بڑے موتی) نکلتے ہیں

ف 12 موتی اور مونگے صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں لیکن جب کھاری اور میٹھا پانی ایک جگہ مل جاتے ہیں تو گویا وہ دونوں کے مجموعہ سے نکلتے ہیں یا ممکن ہے کہ آئندہ تحقیقات سے معلوم ہو کہ جن کھاری سمندروں اور دریائوں سے موتی نکلتے ہیں انکی تہ میں میٹھا پانی ہوتا ہے اور یہ ان پانیوں کے اشتراک عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔
Ayahs 55:23–24

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح دکھلائی دیتے ہیں اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں1

ف 1 اس کے بنائے ہوئے “ اس لحاظ سے ہے کہ اسی نے تمہیں اتنی سمجھ اور مہارت دی کہ تم نے انہیں بنایا۔
Ayahs 55:25–26

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

(اے پیغمبر) زمین پر جتنی چیزیں ہیں سب فنا ہونیوالی ہیں2

ف 2 یہاں فنا ہوجانے کو نعمت قرار دیا گیا ہے اور وہ اس لحاظ سے کہ فنا ہوجانے کے بعد سب دوبارہ زندہ ہوں گے اور سب کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے۔ قرطبی
Ayah 55:27

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور تیرے مالک کی ذات باقی رہے گی جو عزت اور بزرگی والی ہے3

ف 3 حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا الظوبیا ذالجلال والاکرام یعنی ان اسماء حسنیٰ کے ذریعہ سے دعا کیا کرو اور بعض آثار میں ہے کہ ” یا ذالجلال والاکرام کے ساتھ دعا قبول ہوتی ہے۔ (قرطبی وغیرہ)
Ayahs 55:28–29

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں آدمی اور جن اور فرشتے سب اسی سے اپنی مراد مانگتے ہیں4 وہ ہر روز ہر وقت ایک کام میں لگا ہے5

ف 4 چاہے زبان قابل سے اور چاہنے زبان حال سے مطلب یہ ہے کہ سب اسی کے محتاج ہیں۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ 5 یعنی کسی کو مارتا ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو مالدار کرتا ہے اور کسی کو محتاج کسی کو عزت بخشتا ہے اور کسی کو ذلت الغرض ہر آن اور ہر وقت اسکی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ شوون الہیہ کی یہ تاویل بعض صحابہ سے مروی ہے جن میں ابوالددردہ اور حضرت عبداللہ بن عمر بھی شامل ہیں۔ (قرطبی شوکانی)
Ayahs 55:30–31

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے جنو اور آدمیو ہم تمہارے6 حساب و کتاب کی طرف عنقریب متوجہ ہوتے ہیں7

ف 6 اس سے مقصود جنوں اور انسانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ تمہارے اعمال کے محاسبہ کا قوت قریب آگیا ہے۔ معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جنوں کو بھی جزا و سزا ملے گی۔ جمہور علماء اس کے قائل ہیں اور آیت کریمہ و لکل درجات مما عملوا سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ 7 یہاں جنوں اور انسانوں کے لئے نقلان کا لفظ اسعتمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ” زمین کے دو بوجھ “ ان کی قدر و منزلت اور وقار کی وجہ سے ان کو ثقلان فرمایا ہے کہ دوسری مخلوق پر ان کا درجہ بھاری ہے۔
Ayahs 55:32–33

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتی جھٹلائو گے

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

جنوں اور آدمیوں کے گروہ تم سے اگر ہوسکتا ہے کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے ہو کر (کہیں) نکل بھاگو ( اور اللہ کے اختیار سے باہر ہوجائو تو اچھا (نکل دیکھو یہ یاد رہے نکلنا جب ہی ہوسکتا ہے جب زور ہو8

ف 8 اور تم میں زور کہاں۔
Ayahs 55:34–35

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر بن دھوئیں کی آگ اور دھوئیں دار چھوڑی جائیگی9 پھر تم اس کو روک نہ سکو گے10

ف 9 یا ” تم پر بن دھوئیں کی آگ اور پگھلا ہوا اتانبا چھوڑا جائے گا۔ “ یعنی اس وقت جب تم ہماری گرفت سے نکل بھاگنے کی کوشش کرو گے۔ 10 یعنی اس کا مقابلہ نہ کرسکو گے بلکہ مجبوراً ہر طرف سے گھر کر میدان حشر میں جمع ہوگئے۔
Ayahs 55:36–39

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب قیامت کے دن آسمان پھٹ کر تیل یا سرخ نری کی طرح لال ہوجائے گا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

اس دن نہ آدمیوں سے ان کے گناہ پوچھے جائیں گے نہ جنوں سے11

ف 11 یعنی ان سے گناہوں کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے۔ قیامت کے دن متعدد مواقع ہوں گے۔ یہ ایک موقع کا ذکر ہے دوسرا موقع وہ ہوگا جب ان سے سوال کیا جائیگا جیسا کہ فرمایا فوربک لنسئلنھم اجمعین اور تیرے رب کی قسم ہم ان سے ضرور باز پرس کرینگے۔ (حجر 92) یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز ان سے جو سوال ہوگا وہ گناہوں کی دریافت کے لئے نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو خود ہی تمام گاہوں کا علم ہے بلکہ اس لئے ہوگا کہ گنہگاروں کو ملامت کی جائے واللہ اعلم (قرطبی ابن کثیر)