54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آ پہونچی اور چاند پھٹ گیا1

ف 1 متواتر صحیح احادیث سے ثابت ہے اور تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ چاند کے پھٹنے کا یہ واقعہ بطور معجزہ نبی ﷺ کے زمانہ میں واقعہ ہوچکا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ چاند کے پھٹ جانے پر آپ نے فرمایا ” اشھدوا “ گواہ رہو “ (ابن کثیر) بعض لوگ انشق القمر “ کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ قیامت چاند پھٹے گا لیکن یہ مطلب بجائے خود مہمل ہے اور اس سے متواثر احادیث کی مخالفت (لازم آتی ہے اور پھر کسی عقلی دلیل سے بھی اس واقعہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بایق رہا یہ کہنا کہ چاند پھٹا ہوتا تو تاریخوں میں اس کا ذکر ہوتا تو واضح رہے کہ اول تو یہ ہے بھی رات کا تھوڑی دیر کا واقعہ اس لئے دنیا بھر کے تمام لوگوں کا مطلع ہونا ضروری نہیں اور ضھر بعض ملکوں میں اس وقت دن ہوگا اور بعض میں مطلع کے اعتبار سے چاند کا طلوع بھی نہیں ہوگا۔ تاہم تاریخ فرشتہ وغیرہ میں مذکور ہے کہ ہندوستان میں مہاراجہ ” مالی بار “ نے چاند کو دو ٹکڑوں کی شکل میں دیکھا اور اس وجہ سے وہ اسلام بھی لے آیا۔ ” بینات “ میں اس پر تفصیلی بحث ہے۔
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور یہ قریش کے کافر اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اس کا کچھ خیال نہیں کرتے اور کہتے ہی جادو تو ہمیشہ سے چلا آیا ہے2

ف 2 احادیث میں مذکور ہے کہ یہ بات کفار مکہ نے شق قمر کا معجزہ دیکھ کر کہی تھی۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ یہ معجزہ آنحضرت کے زمانہ میں ہوچکا ہے اور قرب قیامت میں چاند کے پھٹنے کی تاویل سیاق وسباق کے بھی خلاف ہے۔
Ayah 54:3

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے (پیغمبر کو) جھٹلایا اور اپنے دل کی خواہشوں پر چلے اور ہر کام کا آخر ایک ٹھیرائو ہے (وہاں جا کر دم لیگا)3

ف 3 اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائیگی چناچہ ان کافروں کو بھی پتہ چل جائے گا کہ آنحضرت اللہ کے سچے رسول تھے اور ان کی تکذیب غلط تھی۔
Ayahs 54:4–6

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کافروں کو ذرہ خبریں (اگلی امتوں کی پہنچ چکی ہیں جن سے ان کو تنبیہ ہونا تھی

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

سراسر دانئ ایک ی باتیں مگر یہ ڈرانیوالی خبریں ان کافروں کو کچھ فائدہ نہیں دیتیں

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) ان کا خیال چھوڑ دے4 جس دن بلانیوالا فرشتہ اسرائیل ان کو ایسی چیز کی طرف بلائیگا جو دیکھنے میں نہیں ائٓی

ف 4 یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دے اور اس دن کا انتظار کر
Ayahs 54:7–9

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

قیامت کا ہولناک عذاب یہ آنکھیں نیچے کئے ہوئے قبروں سے اس طرح نکل پڑیں گے جیسے ٹیڑیاں بکھر پڑیں

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

بلانیوالے کی طرف بھاگتے ہوئے چلیں گے کافر کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن اجیرن ہے

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم والوں نے ہمارے بندے نوح کو جھٹلایا اور کہنے لگے یہ بائولا ہے اور اس کو ڈانٹا5

ف 5 یعنی دھمکیاں دیں اور ہر طریقہ سے لعنت و ملامت کی کہ نبوت کا دعویٰ کرنے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے سے باز رہے۔
Ayahs 54:10–12

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

آخر اس نے اپنے مالک کو پکارا میں (ان کے ہاتھ سے) عاجز اب تو ہی ان سے میرا بدلہ ہے

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

ہم نے اس کی دعا پر آسمان کے دہانے کھول دیئے موسلا دھار پانی برسنے لگا

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور ادھر زمین کے سوتے بہا دیئے تو دونوں پانی ایک کام کیلئے6 مل گئے جو ٹھہر چکا تھا7

ف 6 یعنی انہیں ڈبونے اور ہلاک کرنے کے لئے 7 یعنی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فیصلہ فرما دیا تھا۔
Ayahs 54:13–14

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو اس کشتی پر وسار کرلیا جو لکڑی کے تختوں اور کیلوں سے بنی تھی

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

وہ ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی یہ بدلہ تھ اس شخص کا جس کی انہوں نے ناقدری کی8

ف 8 یعنی جس کی رسالت ان کے لئے ایک نعمت تھی لیکن انہوں نے اس کی قدر نہ کی۔ مراد حضرت نوح ہیں۔
Ayah 54:15

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس واقعہ کو اپنی قدرت کیا یک نشانی بنا چھوڑی تو ہے کوئی نصیحت9 لینے والا

ف 9 یا ” اس کشتی کو ہم نے قدرت کی نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ “ ‘ کہتے ہیں کہ یہ کشتی جودی پہاڑ پر ایک مدت تک رہی اور اسے اس امت کے لوگوں نے بھی دیکھا۔ آج بھی اس کے بعض تختوں کی تلاش جاری ہے۔
Ayahs 54:16–17

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

تو میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (سخت) تھا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے تو قرآن کو سمجھنے (یا یاد کرنے) کے لئے آسان کردیا ہے لیکن کوئی نصیحت لینے والا بھی ہو10

ف 10 قرآن کے آسان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی سطحی کتاب ہے جسے سمجھنے کے لئے نہ کسی محنت کی ضرورت ہے اور نہ کسی علم کی حتی کہ جو شخص عربی زبان تک سے ناواقف ہو وہ جب چاہے اسے ہاتھ میں لے اور حدیث اور علوم حدیث و تفسیر سے بےنیاز ہو کر اس سے جو مسائل چاہے استنباط کرتا رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا انداز بیان اللہ تعالیٰ نے ایسا صاف، سہل اور دل نشین بنایا ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرنا نہایت آسان ہے۔ یہی معنی اس کے کتاب مبین ہونے کے ہیں اور پھر اس کا آسان کرنا یہ بھی ہے کہ یہ سہولت سے حفظ ہوسکتا ہے۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں قرآن کے حجم کی کوئی ایسی کتاب نہیں پائی گئی جس کے ہزاروں لاکھوں حافظ ہر زمانہ میں پائے گئے ہوں حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں ” اگر اللہ تعالیٰ کو آسان نہ کرتا تو کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کے کلام کو اپنی زبان سے ادا نہ سکتا۔ (شوکانی)
Ayahs 54:18–19

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد کی قوم والوں نے بھی پیغمبر کو جھٹلایا پھ رمیرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا سخت ہوا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ان پر کڑکڑاتی ٹھنڈی آندھی1 ایسے منحوس دن میں بھیجی جس کی نحوست انکے مرے تک قائم رہی

ف 1 سورة حاقہ (آیت 7) میں ہے کہ یہ آندھی ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی۔ اس دن کے منحوس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان لوگوں پر منحوس بن کر آیا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ بجائے خود منحوس تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ مہینے کا آخری بدھ کا دن تھا اور یہ دن منحوس ہوتا ہے۔ لیکن یہ تمام روایات انتہائی ضعیف بلکہ موضوع ہیں۔ گو علامہ قرطبی نے بعض روایات میں تاویل کی کوشش کی ہے کہ ان ایام کے منحوس ہونے کے معنی کفار کے حق میں منحوس ہونے کے ہیں نہ کہ مسلمانوں کے حق میں۔ واللہ اعلم (قرطبی)
Ayahs 54:20–24

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

وہ آندھی لوگوں کو اس طرح اکھڑ کر پھینکتی گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے درختوں کی جڑیں ہیں

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (سخت) ہوا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے یا کرنے) کے لئے آسان کردیا ہے لیکن کوئی نصیحت لینے والا بھی ہو

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

ثمود کی قوم والوں نے بھی ڈراینوالوں (پیغمبروں) کو جھٹلایا

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

کہنے لگے کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک آدمی کے کہنے پر چلیں2 ایسا کریں تو ہم گمراہ اور پاگل ٹھہرے

ف 2 یعنی حضرت صالح کے بارے میں کہنے لگے کہ ایک تو یہ بشر ہیں فرشتہ یا کوئی دوسری فوق البشر ہستی نہیں ہیں اور دوسرے یہ ہماری اپنی ہی قوم کے ایک فرد ہیں اور تیسرے وہ اکیلے ہیں۔ کوئی لائو لشکر ان کے ساتھ نہیں ہے۔ اس لئے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم انہیں اپنا سردار مان کر ان کی پیروی اختیار کریں۔
Ayah 54:25

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

تعجب کی بات ہے ہم سب کے ہوتے ساتے ایک اسی پر وحی اتری3 نہیں بات یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے لپاٹیا ڈین گیا

ف 3 ” حالانکہ ہم میں اس سے بہتر لوگ موجود ہیں۔
Ayah 54:26

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

(ہم نے صالح سے کہا) کل ان کو معلوم ہوجائیگا کون جھوٹا لیا ٹیاڈین گیا4 انہوں نے جیسے فرمائش کی ہے

ف 4 کل سے مراد قریب کا زمانہ ہے یعنی اترنے کا وقت یا قیامت کا دن۔
Ayah 54:27

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

اسی طرح ہم اونٹنی کو بھیجتے ہیں ان کے آزمانے کو5 تو بھی ان کو تکتا رہ اور ان کے ستانے پر صبر کئے رہ

ف 5 یعنی یہ آزمان یکے لئے کہ ہماری واضح نشانی دیکھ لینے کے بعد بھی اپنی سرکشی سے باز آتے ہیں کہ نہیں ؟
Ayah 54:28

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو جتلا دے کہ پانی ان میں اور اونٹنی میں بٹ گیا ہے ہر کوئی اپنے وقت پر پانی لینے آئے6

ف 6 یعنی ایک دن یہ سارا پانی یہ اونٹنی پئے گی اور ایک دن وہ اور ان کے تمام جانور
Ayah 54:29

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

اپنے ساتھی (قدار) کو بلایا اس نے تلوار کا ہاتھ چلایا اور اونٹنی کو زخمی کر ڈالا7

ف 7 ان الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ دنوں تک تو یہ ایک دن کی باری کا سلسلہ جاری رہا لیکن آخر کار وہ لوگ صبر نہ کرسکے اور انہوں نے اونٹنی کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے ایک سردار جس کا نام مفسرین نے قدار بن سالف بتایا ہے … کو پکارا کہ تو بہادر جری ہے اور اس کام کو سرانجام دے سکتا ہے۔
Ayahs 54:30–31

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

آخر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا سخت نکلا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایک چیخ کا عذاب بھیجا صحضرت جبرئیل کیچ ھنگاڑ) وہ روندی ہوئی باڑہ کی طرح پھونس ہو کر) رہ گئے8

ف 8 یعنی جیسے جانوروں کی حفاظت کے لئے سو کھی ٹہنیوں اور کانٹوں کی باڑھ بناتے ہیں اور چند دن میں وہ پائمال ہو کر چورا ہوجاتی ہے اسی طرح وہ لوگ چورا ہو کر رہ گئے۔
Ayahs 54:32–36

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے تو قرآن کو سمجھنے (یا یاد کرنے) کے لئے آسان کردیا ہے لیکن کوئی نصیحت لینے والا بھی ہو۔

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

لوط کی قوم والوں نے بھی ڈرانیوالوں (پیغمبروں) کو جھٹلایا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

ہم نے ان پر پتھرائو کیا مگر لوط کے لوگوں پر جو ایماندار تھے احسان کر کے ہم نے صبح سویرے ہی انکو وہاں سے نکال کر بچا دیا

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

جو لوگ ہماری نعمتوں کا شکر کرتے ہیں ہم ان کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں آفت سے ان کو محفوظ رکھتے ہیں

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور لوط نے عذاب آنے سے پہلے ہی ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا مگر وہ ڈرانے میں لگے شک کرنے1

ف 1 یعنی حضرت لوط کی سب تنبیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا اور باتوں میں اڑاتے رہے۔
Ayah 54:37

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور الٹا یہ کیا کہ لوط کے مہمانوں کو اس سے مانگا ان سے برا کام کرنے کو2 ہم نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا اور ہم نے کہا اب میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو

ف 2 مہمانوں سے مراد فرشتے ہیں جو حضرت لوط کے ہاں مہمان بن کر آئے تھے۔ سو رہ ہود اور سورة قبر میں مفصل قصہ گزر چکا ہے۔