54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 54:38–42

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور دن کو سویرے ہی ان پر وہ عذاب آپہنچا جو ٹل نہیں سکتا تھا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

ہم نے کہا اب میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے تو قرآن کو سمجھنے (یا یاد کرنے) کے لئے آسان کردیا ہے لیکن کوئی نصیحت لینے والا بھی ہو

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور فرعون والوں کے پاس بھی ڈرانیوالے (پیغمبر) آچکے

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

انہوں3 نے ہماری قدرت کی سب نشانیوں معجزوں کو جھٹلایا آخر ہم نے ان کو اس طرح سے دھر پکڑا جیسے کوئی زبردست طاقت والا ایک کمر درد دشمن کو) پکڑتا ہے

ف 3 یا ” تنبی ہیں آچکیں “
Ayah 54:43

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

اسے قریش کے لوگو تم میں جو کافر ہیں کیا وہ ان قوموں سے بڑھ کر ہیں4 یا تم کو (اللہ کی) کتابوں میں معافی مل گئی ہے5

ف 4 یعنی کیا بل بوتے میں ان سے بڑھ کر ہیں کہ ان کی کوئی گرفت نہ کی جاسکے۔ 5 یعنی اجازت دے دی گئی ہے کہ جو چاہو کرتے ہو تمہاری کوئی گرفت نہ ہوگی۔
Ayahs 54:44–45

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

یا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ہمارا جتھا زور دار ہے دشمن کو نیچا دکھا سکتا ہے بدلہ لے سکتا ہے

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

اب یہ جتھا شکست کھاتا ہے اور پیٹھ موڑ کر نو قدم بھگاتا ہے67

ف 6 یعنی عنقریب نہیں اپنی جتھے بندی کی حقیقت معلوم ہوجائے گی اور ان کے جتھے مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست کھا کر بھاگیں گے۔ چناچہ یہ پیش گوئی چند ہی سال کے بعد ” بدر “ اور دوسری جنگوں میں پوری ہوئی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ بدر کے روز آنحضرت نے اپنے خیمے میں دعا فرمائی ” اے اللہ ! میں تجھے تیرے عہد اور وعد کا واسطہ دیتا ہوں۔ اگر تو چاہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے (تو مسلمانوں کی اس تھوڑی سی جمعیت کو مٹ جانے کے لئے بےیارو مددگار چھوڑ دے اور نہ اس کی ضرور مدد فرما۔ حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! بس کیجیے۔ آپ نے اپنے رب سے نہایت مبالغہ کے ساتھ سلوک کیا ہے۔ اس پر نبی ﷺ زرہ پہنے ہوئے خیمہ سے باہرت شریف لائے اور آپ کی زبان مبارک پر یہ آیت تھی۔ (فتح عذیر) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب سورة قمر کی یہ آیت نادید ہوئی تو میں حیران تھا کہ یہ جتھا کونسا ہے جو عنقریب شکست کھائے لیکن جب جنگ بدر میں کفار شکست کھا کر بھاگ رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت زرہ پہنے آگے کی طرف لپک رہے تھے اور آپ کی زبان مہلک پر یہ آیت جاری تھی۔ ابن جریر 7 یعنی دنیا میں انہیں جو ذلت ہوگی وہ تو ہوگی ہی ان سے نمٹنے اور عذاب دینے کا اصل وعدہ قیامت کے دن کا ہے۔
Ayah 54:46

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ دراصل ان کے عذاب کا وعدہ قیامت کے دن ہے7 اور قیامت تو بڑی آفت اور بڑی تلخ ہے8

ف 8 جس کے سامنے دنیا کی آفتوں اور تکلیفوں کی کوئی حقیت نہیں ہے۔
Ayahs 54:47–49

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

بیشک گنہگار (مشرک دنیا میں) گمراہ میں (آخرت میں) دہکتی آگ میں پڑیں گے

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

جس دن اوندھے منہ صدوزخ) کی آگ میں گھسیٹے جائیں گے اس سے کہا جائیگا اب دوزخ کی آگ تمہارے بدن سے لگنے کا مزہ چکھو

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

ہم نے تو ہر چیز کو تقدیر کے موافق بنایا9

ف 9 یعنی وہ اس طرح پیش آئے وہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے لکھی ہوئی ہے۔ اس کا نام تقدیر ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے اور حدیث میں ’ دقدر پیغمبروں رکھنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جبرئیل کی حدیث میں ہے وتومن بالقدر خیرد وشرہ “ کہ تم تقدیر کے خیرہ شر پر ایمان رکھو۔ ایک حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کرو اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائو۔ اگر تمہیں کوئی چیز پہنچے تو کہو کہ اللہ نے میری تقدیر میں یونہی لکھا تھا اور ہوتا بھی وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے اور ہرگز یہ نہ لکھو اگر میں یوں کرلیتا تو ایسے ہوں اس لئے کہ یہ اگر شیطان کے عمل کو کھولتا ہے یعنی اس کی راہ دکھاتا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 54:50

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا کام یعنی کسی چیز کا پیدا کرنا ایک دم کی بات ہے جیسے آنکھ کی جھپک10

ف 10 یعنی ہم پلک جھپکتے ہیں جو چاہیں کر ڈالیں کسی چیز کے بنانے بگاڑنے میں ہمیں ہرگز دیر نہیں لگتی۔ لہٰذا یہ نہ سمجھو کہ ہم قیامت لانا چاہیں تو اس کے آنے میں دیر ہوجائیگی۔
Ayahs 54:51–52

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور ہم تم سے پہلے تمہاری ذات والوں (کافروں) کو ہلاک کرچکے ہیں تو کوئی نصیحت لینے والا

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

جو چیز انہوں نے کی ہے وہ ورقوں میں لکھی گی ہے11

ف 11 یعنی ان کے اعمالناموں میں لکھی جا چکی ہے۔ قیامت کے روز یہ اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔
Ayahs 54:53–55

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader

اور ہر کام چھوٹا ہو یا بڑا لوح محفوظ میں ہمارے پاس) لکھا ہوا ہے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader

جو لوگ پرہیز گار ہیں وہ بیشک باغوں اور نہروں میں سچی صحبت میں (جہاں لغو اور جھوٹ نہ ہوگا )

فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader

اس بڑے بادشاہ کے پاس رہیں گے جس کو سب قدرت1

ف 1 حضرت عبید اللہ بن ابی عمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انصاف کرنے والے لوگ رحمان کے دائیں ہاتھ نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔ یہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں اپنے گھر والوں اور اپنی رعیت کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)