55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 55:40–41

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

اس دن گنہگار (کافر اور مشرک) اپنے چہرے سے پہچان لئے جائیں گے12(منہ کالا آنکھیں نیلی اور پیشانی اور پائوں (ملا کر) پکڑ لئے جائیں گے13

ف 12 جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ جس روز کچھ چہرے سفید ہونگے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔ (آل عمران :106 اور یہ کہ ونحشر المجرمین یومئذ زرقا اور اس روز ہم مجرموں کو جمع کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلگوں ہوں گی۔ (طہ 102) 13 یعنی ایک زنجیر سے پیشانی اور پائوں دونوں کس کر جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے یا کبھی فرشتے انہیں مشانی کے اوپر کے بال پکڑ کر گھسیٹیں اور کبھی پائوں پکڑ کر۔
Ayahs 55:42–44

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

تو تم اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

ان سے کہا جائیگا اب دیکھا یہی تو وہ جہنم ہے جس کو دنیا میں گنہگار جھٹلاتے تھے

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

وہ اس میں اور کھولتے پانی میں چکر مارتے رہیں گے 1

ف 1 ینی دوزخ میں جلائے جائیں گے۔ پیاس لگے گی تو کھولتے ہوئے پانی کی طر لے جائے جائیں گے۔ پھر وہاں سے دوزخ کی طرف لائے جائیں گے۔ اس طرح دوزخ اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے۔
Ayahs 55:45–46

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

اور جو کوئی قیامت کے دن اپنے مالک کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا2 اس کو وہ باغ ملیں گے3

ف 2 یعنی اس نے خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی اور اس بنا پر گناہوں سے بچتا رہا۔ 3 ایک جنت عدن اور دوسری جنت نعیم یا ایک بلند اور دوسر اپائیں باغ یا ایک روحانی اور دوسرا جسمانی باغ یا ایک مردانہ اور دوسرا زنانہ باغ یا ایک اطاعت کے بدلہ میں اور دوسرا ترک معصیت کے بدلہ میں یا ایک باغ صحت عقید ہ کے بدلہ میں اور دوسرا نیک عمل کے بدلہ میں دو باغوں کے مفسرین نے یہ سب معنی بیان کئے ہیں۔ واللہ اعلم شوکانی
Ayahs 55:47–52

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

دونوں باغ ہری ٹہنیوں والے شاداب ہونگے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

ان دونوں میں دو چمشے بہہ رہے ہونگی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

دونوں باغ میں ہر میوے کی دو دو قسمیں ہوں گی4

ف 4 ایک قسم وہ جس سے وہ دنیا میں آشنا تھا اور دوسری قسم وہ جو کبھی اس کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی تھی یا مطلب یہ ہے کہ ایک باغ میں ایک طرح کئے ہیں اور پھول ہوں گے اور دوسرے میں دوسری طرح کے واللہ اعلم۔
Ayahs 55:53–54

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا یہ نعمتیں جھٹلائو گے

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

بہشت کے لوگ ایسے بچھونوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر تافتے ریشمی کپڑے کے ہونگے5 اور دونوں باغوں کے میوے زمین پر جھکے ہوں گے6

ف 5 یعنی جب انکے استر اس شان کے ہوں گے تو ابروں کا کیا کہنا۔ 6 یعنی قریب ہوں گے تاکہ توڑنے میں وقت نہ ہو۔
Ayahs 55:55–56

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

وہاں نیچے نگاہ والی شرمگیں عورتیں حوریں ہونگی جن کا بکر بہشتوں سے پہلے کسی آدمی نے توڑا ہوگا نہ کسی جن نے7

ف 7 یعنی وہ پاک باز اور حیادار بھی ہوں گی اور بالکل کنواری بھی۔
Ayahs 55:57–58

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

گویا وہ یاقوت اور موتی کی بنی ہوئی ہیں8

ف 8 یعنی ان کے رنگ یا قوت کی طرح چمکدار اور موتی کی طرح سفید ہوں گے۔
Ayahs 55:59–60

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

اچھے کام کئیت و اس کا بدلہ بھی اچھا ہی ملے گا اور کیا9

ف 9 یعنی دنیا کے نیک عمل کا بدلہ آخرت میں نیک ہی دیا جائے گا … حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی : ” جسے توحید کی نعمت دی گئی اس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ “ (شوکانی)
Ayahs 55:61–62

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا نعمتیں جھٹلائو گے

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

اور ان د باغوں سے اتر کر اور دو باغ ہیں10

ف 10 عربی زبان میں دون کا لفظ اگرچہ ماسوا اور علاوہ کے معنی میں بھی اسعتمال ہوتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر استعمال ایک چیز کے دوسری چیز کے مقابلہ میں نیچے یا بالحاظ مرتبہ کم ہونے کے معنی میں ہوتا ہے اس لئے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو باغ پہلے سے دو باغوں سے نیچے یا ان کے مقابلہ میں کم مرتبہ ہوں گے۔ ایک حدیث میں ہے کہ دو جلتیں سونے کی ہوں گی اور ان کے برتن اور دوسری ہر چیز سونے کی ہوگی اور دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کے برتن اور دوسری ہر چیز چاندی کی ہوگی۔ شاید پہلی دو جنتیں مقربین اور دوسری دو اصحاب الیمین کے لئے ہوں گے۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)
Ayahs 55:63–66

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

یہ دونوں باغ (بہت سبزی سے) کالے ہو رہے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

ت و تم دونوں اپنے مالک کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

ان میں دو چشمے ہیں جو ابل رہے ہیں1

ف 1 میں ان میں ہر آن نواے کی طرف پانی ابل رہا ہے اور وہ کبھی خشک نہیں ہوتے
Ayahs 55:67–68

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلاو گے

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان میں ہر قسم کے میوے ہیں اور خاص کر کھجور اور انار2

ف 2 جنت میں ہر قسم کے پھل جنہیں جنتی لوگ پسند کریں گے نہایت کثرت سے ہوں گے لیکن کجھجور اور انار کا ذکر خاص طور پر اسلئے فرمایا کہ ان دونوں کو عرب بہت پسند کرتی تھے اور وہ ان کی سر زمین میں بکثرت پائے جاتے تھے۔ ان کے مقابلہ میں دوسرے پھلوں سے وہ اس قدر واقف نہ تھے۔
Ayahs 55:69–72

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان میں اچھی خصلت کی خوبصورت عورتیں ہونگی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مال کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

حوریں جو خمیوں میں بند بیٹھی ہوں گی3

ف 3 یعنی پردہ نشین ہوں گی۔ ” حود “ کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔ یعنی ایسی عورتیں جن کے رنگ سفید اور آنکھیں بڑی اور سیاہ ہوں گی۔ جنت کے یہ خیمے موتیوں کے ہونگے۔ حضرت قیس سے مرفو عاً مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : جنت میں کھوکھلے موتی کا ایک خیمہ ہے جس کا عرض ساٹھ میل ہے۔ اس کے ہر کونے میں رہنے والے دوسرے کو نے میں رہنے والوں کو نہ دیکھ پائیں گے۔ جنتی ان کے پاس لائے جائینگے۔ (شوکانی)
Ayahs 55:73–76

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

بہشتیوں سے پہلے ان کا بکر نہ کسی آدمی نے توڑا ہوگا ن جن نے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:75 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader

یہ لوگ وہاں سبز غالیچوں پر اور عمدہ عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے4

ف 4 ” عبقر “ دراصل عربوں کے افسانوں میں جنوں کی ایک بستی کا نام تھا جس کے لئے ہم اردو میں پرستان کا لفظ اسعتمال کرتے ہیں۔ اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے اہل عرب ہر غیر معمولی نفیس اور نادر چیز کو عبقری کہا کرتے تھے۔ اب بھی عربی زبان میں یہ لفظ اس شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کا مالک ہو۔
Ayahs 55:77–78

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے مالک کی کیا کیا نعمتیں جھٹلائو گے

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کا نام بڑی برکت کا ہے جو عزت اور بزرگی والا ہے5

ف 5 حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نماز سے لام پھیرن کے بعد صرف اتنی دیر (قبلہ رخ ہو کر) بیٹھتے تھے جتنی دیر میں آپ زبان سے یہ الفاظ ادا فرماتے : الھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام اے اللہ ! تو ہے سلامتی والا اور سلامتی دینے والا اے بزرگی و برتری کے مالک ! تو بابرکت ہے۔ ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم