56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 56:41–43

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے بائیں ہاتھ والوں کی کیا خرابی ہوگی

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

اور دوزخ کی گرم ہوا زہریلی اور جھلستے بھلستے پانی میں رہیں گے

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور سایہ کیا ہوگا کالا دھواں2

ف 2 یعنی دوزخیوں کو کہیں سایہ نہ ملے گا۔ سخت کالے دھوئیں ہی کو وہ سایہ سمجھ کر اس کی طرف دوڑیں گے۔
Ayahs 56:44–45

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

نہ اس میں ٹھنڈک ہوگی نہ وہ دیکھنے میں ھبلا معلوم ہوگا

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

کیونکہ وہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں مزے اڑا چکی تھے3

ف 3 یعنی حرام و حلال سے بےپروا ہو کر نفس کی خواہشوں اور دنیا کی رنگ رلیوں میں مست ہوچکے تھے۔
Ayah 56:46

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور بڑے گناہ (شرک یا جھوٹی قسم) پر جمے رہتے تھے4

ف 4 یعنی اس سے توبہ نہ کرتے تھے۔
Ayahs 56:47–52

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور کہتے کیا تھے بھلا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

کیا پھر ہم یا ہمارے باپ دادا جی کر اٹھائے جائیں گے

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان کافروں سے جو قیامت کو نہیں مانتے کہ دے اگلے اور پچھلے (سب لوگ)

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

ایک مقرر دن کے وقت ضر ضرور اکٹھے ہونگے (یعنی قیامت کے دن)

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر تم کو اے گمراہو (قیامت کے) جھٹلانے والو

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

تھور کا درخت ضرور کھانا پڑے گا5

ف 5 اس تھوہر کے درخت سے متعلق سورة صافات میں ارشاد ہے کہ وہ ایک ایسا درخت ہے جو دوزخ کی تہ میں اگتا ہے۔ اس کی کلیاں ایسی ہیں جیسے شیطانوں کے سر (یا سانپوں کے پھن) آیت 65 ۔ 64)
Ayahs 56:53–55

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

اس سے پیٹ بھرنا ہوگا (پیٹ بری بلا ہے )

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر (اوپر سے جب پیاس لگے گی تو) کھولتا پانی پینا ہوگا

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

اس طرح پیو گے جیسے پیاسے بیمار اونٹ (غٹ غٹ) پی جاتے ہیں6

ف 6 اور ” پھر بھی ان کی پیاس نہیں بجھتی “ اونٹ کو ایک بیماری استقاء کی طرح ہوتی جاتی ہے۔ اس میں وہ جتنا پانی پاتا ہے سب پی جاتا ہے لیکن سیراب نہیں ہوتا۔ دوزخیوں کو بھی اس طرح کی پیاس میں مبتلا کیا جائے گا اور پھر پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا اعاذنا اللہ منھا
Ayahs 56:56–57

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

انصاف کے دن ان کی یہ مہمانی ہوگی

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

(یعنی قیامت کے دن ہم ہی نے (اے کافرو) تم کو پیدا کیا اور تم (ہماری بات کا) یین نہیں کرتے7

ف 7 یعنی اس بات کو سچ کیوں نہیں مانتے کہ جس طرح ہم نے تمہیں پہلے پیدا کیا اسی طرح ہم تمہیں دوبارہ بھی پیدا کریں گے ؟
Ayah 56:58

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو نطفہتم میں سے نکلتا ہے8

ف 8 ” اور رحم مادر میں پہنچ کر بچہ بنتا ہے۔ ‘
Ayah 56:59

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

تم نے اس کو بنایا یا ہم نے بنایا9

‘9 مطلب یہ ہے کہ اسے ہم نے بنایا۔ تم نہ اسے بنا سکتے تھے اور نہ رحم مادر میں اسے بچہ کی شکل دے سکتے تھے۔
Ayah 56:60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

پھر بنانے کے بعد ہم ہی نے تم میں ہر ایک کی موت کا وقت ٹھہرا دیا10 اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں

ف 10 ” چناچہ تم میں سے کوئی بچپن میں متر ا ہے، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں۔
Ayah 56:61

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

کہ تمہاری طرح بدل کر دوسرے لوگ پیدا کریں تمہاری صورتیں بدل ڈالیں اور تم کو ایسی جگہ اٹھا کھڑا کریں جس کو تم نہیں جانتے1

ف 1 یعنی تمہیں کسی اور جہان میں لے جائیں اور یہاں تمہاری جگہ کسی دوسری مخلوق کو بسا دیں۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہاری شکل ایسی بنادیں جسے تم نہیں پہچانتے۔ یعنی تمہیں بندر اور سور بنادیں۔
Ayah 56:62

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اور تم تو پہلی بار پیدا کرنا جان چکے ہو پھر کیوں نہیں سمجھتے ہو2

ف 2 یعنی جب تم یہ جانتے ہو اور اس کا اقرار بھی کرتے ہو کہ تمہیں پہلی بار ہمیں نے پیدا کیا ہے تو پھر یہ کیوں نہیں مانتے کہ جب تم مر جائو گے تو ہم تمہیں دوبارہ بھی زندگی دے سکیں گے حالانکہ دوسری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے کی بنسبت آسان تر ہے۔ نیز دیکھیے ( سورة روم آیت 27)
Ayahs 56:63–64

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

بھلا دیکھوت و سہی تم جو (اناج وغیرہ) بوتے ہو

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں3

ف 3 یعنی بظاہر زمین میں بیج تم ڈالتے ہو لیکن اسے زمین کے اندر پرورش کرنا اور پھر باہر نکال کر اسے لہلہاتی کھیتی میں تبدیل کرنا کس کا کام ہے ؟ کیا تم دعویٰ کرسکتے ہو کہ یہ تمہاری محنت اور تدبیر کا نتیجہ ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ ہی کام ہمیں کرتے ہیں۔
Ayahs 56:65–70

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو (اناج پکنے سے پیشتر ہی) اس کو چورا چورا کردیں ( کچرا کوڑا بنادیں) پھر تم یہ باتیں بناتے رہ جائو

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

(ہائے) ہم تو ڈوب گئے (ہمارا پیسہ برباد ہوگیا)

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

نہیں ہماری قسمت ہی پھوٹی ہے

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو سہی جو پانی تم پینے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

کیا تم نے اس کو ابر (بادل) سے اتارا یا ہم نے اتارا

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

ہم چاہتے تو اس کو ایسا کھاری کردیتے جو زبان پر بھی نہ رکھا جاتا تو پھر تم ہمارے احسان کا شکر کیوں نہیں کرتے4

ف 4 مسند ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت جب پانی نوش فرماتے تو یہ دعا پڑھتے ” الحمد للہ الذی شقانا عذبنا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحاً اجاجاً بذنوبنا حمد ہے اس اللہ کے لئے جس نے اپنی رحمت سے ہمیں شیریں اور خوشگوار پانی پلایا اور اسے ہمارے گناہوں کی وجہ سے کھاری اور تلخ نہیں بنایا۔ (ابن کثیر)
Ayahs 56:71–72

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو سہی آگ جس کو تم سلگاتے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

کیا تم نے اس کا درخت بنایا یا ہم نے بنایا5

ف 5 مراد ہر درخت ہے جو جلانے کے کام آتا ہے یا خاص طور پر وہ درخت ہیں جن میں گرڑ سے آگ پیدا ہوتی ہے جیسے عرب میں مرخ اور عفار کے درخت اور ہمارے ہاں ہانس کا درخت … مطلب یہ ہے کہ ان درختوں میں جلنے یا رگڑنے سے آگ پیدا کرنے کی یہ خاصیت کس نے رکھی ؟ تم نے یا ہم نے ؟
Ayah 56:73

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہم نے دنیا کی آگ کو دوزخ کی آگ یاد دلانے کے لئے بنایا ہے6 اور مسافروں کے فادئے کے لئے7

ف 6 حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا کی آگ جسے لوگ سلگاتے ہیں (تیزی میں) جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ شوکانی7 مقوین کے اصل معنی قوء یعنی بیابان میں ٹھہرنے یا رہنے والے لوگ میں جیسے مسافر یا خانہ بدوش کوئی شک نہیں کہ آگ کی ضرورت ہر ایک کو پڑتی ہے لیکن ان لوگوں کو اس سے بہت زیادہ کام لینا پڑتا ہے خصوصاً سردی کے موسم میں اس لئے ان کا خصوصیت سے ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 56:74

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) اپنے مالک کے نام تسبیح کرتا رہ جو سب سے بڑا ہے8

ف 8 کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے انسان کے فائدہ کے لئے ایسی کار آمد چیزیں پیدا کیں۔
Ayah 56:75

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

تو میں اترے جہاں جہاں ڈوبتے ہیں ان کی قسم کھاتا ہوں9

ف 9 دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ” میں ستاروں کے ٹوٹنے کی قسم کھاتا ہوں۔ “ اور تیسرے معنی یہ بھی کہ ” میں قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اترنے کی قسم کھاتا ہوں۔ “ اس میں اقسم سے پہلے ” لا “ زائدہ ہے اور ترجمہ اسی کے مطابق ہے۔
Ayahs 56:76–78

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن عزت والا ہے

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

چھپی ہوئی (یا محفوظ) کتاب میں (لکھا ہوا)10

ف 10 یعنی لوح محفوظ ہیں۔
Ayah 56:79

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک ہیں11

ف 11 اکثر مفسرین کے نزدیک لایمسہ میں ” ہ “ لوح محفوظ کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں یعنی فرشتے بعض نے اس ضمیر کو قرآن کے لئے مانا ہے اور استدلال کیا ہے کہ قرآن کو بےوضو ہونے کی حالت میں چھونا ناجائز نہیں ہے گو بہتر یہ ہے کہ وضو کرلیا جائے۔ موطامالک میں ہے کہ آنحضرت نے عمر دین حزم کو جو خط لکھ کردیا اس میں یہ بھی لکھا کہ لایمس القران الاطاھر کہ قرآن کو سوائے طاہر شخص کے کوئی نہ چھوئے مگر یہ اپنے مفہوم میں صریح نہیں ہے کیونکہ اس کے معنی کفر و شرک سے پاک کے بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ مسلمان تو جنابت کی حالت میں بھی پاک ہی رہتا ہے ’ د سبحان اللہ ان المومن (لایحب (الحدیث)