60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 60:1–6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

مومنو ! میرے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم تو ان کو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ تمہارے دین حق سے منکر ہیں اور اس لیے کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو، پیغمبر کو اور تم کو جلا وطن کرتے ہیں تم ان کی طرف چپکے چپکے دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ اور جو کچھ تم چھپا کر یا اعلانیہ کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور تکلیف دینے کے لیے تم پر ہاتھ بھی چلائیں اور زبان بھی اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم بھی کافر ہوجاؤ

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناطے کام آئیں گے اور نہ اولاد اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے۔

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہارے لیے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کی زندگی نمونہ ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ، ہم تم سے اور ان سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، بےتعلق ہیں۔ اور تمہارے معبودوں کے کبھی قائل نہیں ہوسکتے اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ، ہم میں اور تم میں کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی،۔ ہاں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے یہ ضرورکہا کہ، میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا مانگوں گا اور میں اللہ کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا، اے ہمارے رب تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور ہمیں لوٹ کر آنا ہے

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم کو کفار کے ہاتھوں عذاب نہ دلوانا، اور اے ہمارے رب ہمیں معاف فرما بیشک تو غالب حکمت والا ہے

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

جو کوئی اللہ کے سامنے جانے اور روز آخرت کے آنے کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال پر چلنا ضروری ہے اور جو نافرمانی کرے تو اللہ بےپرواہ ہے۔ اور اللہ پاک ہے حمد و ثنا اسی کے لیے ہے

دشمنوں سے ہرگز دوستی نہ کریں تشریح : یہ آیات بڑے پکے اصول بیان کرتی ہیں۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد قتادہ، عروہ بن زبیر حضرات کی متفقہ رائے یہ ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے کی خبر کو بالکل راز میں رکھا گیا تھا تاکہ مکہ میں خون خرابہ نہ ہو اور مکہ فتح ہوجائے۔ یہ ایک بہت بڑا عسکری راز تھا۔ جس کو بڑی رازداری سے سیدنا حاطب ابی بلتعہ، نے مکہ کے سرداروں تک پہنچانے کی کوشش کی صرف اس خیال سے کہ مکہ کے سرداروں کی ہمدردی حاصل ہوجائے تو وہ ان کے خاندان کی حفاظت کرلیں گے جو کہ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ ہجرت مدینہ کے بعد مکہ میں تنہا رہ رہے تھے۔ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ کی یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ مفسرین کے بقول ان آیات کا شان نزول یہی واقعہ ہے۔ دراصل مسلمانوں کو یہ سمجھانا اور ایک پکا اصول دینا مقصود ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہرگز کسی صورت بھی کسی منافق کافر یا مشرک پر اعتبار نہ کرو اپنے جنگی راز ہرگز کسی پر ظاہر نہ کرو چاہے تمہارے اپنے عزیز ترین رشتہ ہی کیوں نہ ہوں یا وہ بھی جنگ کی لپیٹ میں آنے والے کیوں نہ ہوں کیونکہ لوگوں سے چھپ کر یہ حرکت کی جاسکتی ہے مگر اللہ سے کوئی بات ہرگز چھپی ہوئی نہیں۔ اگر تم ایسی حرکت کرو گے تو سخت عذاب دیے جاؤگے اور عذاب سے بچانے کے لیے نہ تمہارے رشتہ دار کام آئیں گے۔ نہ آل اولاد۔ اس لیے اس حرکت سے باز رہو۔ آج دنیا کی پالیسی میں یہ بات ہر ملک کی سیاست میں سب سے اوپر آتی ہے۔ ، ملکی راز کی حفاظت،۔ یہ بےحد ضروری شعبہ ہے اورا سی لیے سختی سے منع کیا گیا ہے آیت 3 تک یہی حکم تفصیلاً بیان کیا گیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کے نقصانات بڑی وضاحت سے بیان کیے گئے ہیں۔ پھر اگلی آیات میں سیدناابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ ایمان و توحید کے مقابلہ میں عزیز ترین رشتہ داریاں بھی ختم ہیں کیونکہ اعمال صرف اپنے ہی بچائیں گے۔ دوسری بات جو واضح کی گئی ہے وہ مشرک کے لیے دعائے مغفرت سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ اس کی ہدایت کے لیے دعا کی جاسکتی ہے۔ پہلے تو سیدناابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کی مغفرت کی دعا کی، لیکن اللہ کے حکم آنے کے بعد، کہ کافر کے لیے مغفرت کی دعا مت کرو،۔ آپ کی دعا میں باپ کی مغفرت کا ذکر نہیں ملتا۔ آپ کی خوبصورت اور پر اثر دعا قرآن پاک میں درج کی گئی ہے تاکہ تمام مسلمان اسی طرح اپنے خالق ومالک سے دعا کریں۔ آپ کی دعا آیت نمبر 5, 4 میں درج کی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی ان کے بتائے ہوئے پختہ عقائد کی وضاحت کردی گئی ہے اور آیت نمبر 6 اس بات کی وضاحت کر رہی ہے کہ دنیا میں اگر کسی سے رشتہ رکھنا ہے تو سب سے پہلے اور ضروری رشتہ دین اسلام کے عقائد پر قائم رہنے والے کا رشتہ ہے۔ جو بھی ان عقائد سے دوری اختیار کرے یعنی دین ابراہیمی جس کی اشاعت کے لیے نبی اکرم ﷺ کو بھیجا گیا ہے۔ تو اس دوری اختیار کرنے والے کو دنیا وآخرت میں عذاب پانے کے لیے ضرور تیار رہنا چاہیے۔ کیونکہ توحید اور روزآخرت پر ایمان لانا خود اپنی ہی نجات کا ذریعہ ہے اللہ کو ہمارے اس عقیدے کو ماننے نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ وہ تو ہے ہی علیُّ العظیم اور وہ ہمارے غلط سوچنے، غلط عقیدہ رکھنے سے بالکل بےنیاز ہے۔ ہر چیز اس کی حمد وثناء میں ہر وقت لگی رہتی ہے کوئی گناہ گار انسان اگر اس کی حمد وثناء نہیں کرے گا تو اس کی عزت یا سلطنت یا بڑائی میں ہرگز کوئی فرق نہیں آئے گا۔ چند اصول جو ہمیں یہاں دیے گئے ہیں ان کی وضاحت یوں ہوگی۔ 1 عسکری راز کی حفاظت اپنی اور اپنی آل اولاد کی جان سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ 2 کبھی بھی کافر و مشرک یا منافق پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ خاص طور سے جنگ کے زمانے میں۔ 3 مسلمان کے لیے سب سے بڑا رشتہ دین کا ہے۔ 4 آخرت پر یقین توحید پر یقین اور اسی عقیدہ کی حفاظت سب سے زیادہ ضروری ہے۔ 5 کافر و مشرک کے لیے مغفرت کی دعا سے منع کیا گیا ہے۔ 6 دین ابراہیمی کو زندگی کا نصب العین بنانا ضروری ہے۔ کیونکہ دین اسلام اسی کی تجدید ہے۔ 7 عبادت اور دعا میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو ہمارے پیارے نبی سیدناابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے تمام انبیاء اور پھر سب سے آخر میں جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے اختیار کئے۔ 8 اللہ کی حمد وثناء اور دعا ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ پر ایمان نیکیوں کا آغاز ہے۔ کیونکہ ہر وہ دل جس میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ویرانے کی مانند ہے۔ جس میں نہ سکون ہوتا ہے اور نہ اطمینان۔
Ayahs 60:7–13

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

اُمید ہے کہ اللہ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں دوستی کر دے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تمہیں منع نہیں کرتا اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ انہی لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

مومنو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ اور اللہ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہے اور نہ وہ ان کو جائز اور جو کچھ انہوں نے ان پر خرچ کیا ہو وہ ان کو دیدو اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو۔ اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضہ میں نہ رکھو (کفار کو واپس دے دو ) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے اپنی عورتوں پر خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں یہ اللہ کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کیے دیتا ہے۔ اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے اور اس کا مہر وصول نہ ہوا ہو پھر تم ان سے جنگ کرو اور ان سے تم کو غنیمت ہاتھ لگے تو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں ان کو اس مال میں سے اتنا دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور اللہ سے جس پر تم ایمان لائے ہو ڈرو۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جب آپ کے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ کے ساتھ نہ تو شرک کریں گی نہ چوری کریں گی، نہ بد کاری کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، نہ اپنے ہاتھ پاؤں پر کوئی بہتان باندھ لائیں گی نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں سے جن پر اللہ غصہ ہوا ہے، دوستی نہ کرو کیونکہ جس طرح کافروں کو مردوں کے جی اٹھنے کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت آنے کی امید نہیں

اسلام امن کا مذہب ہے، عورتوں کے خاص معاملات تشریح : پچھلی آیات میں جو غیر مسلموں سے دوستی اور اعتبار سے منع کیا گیا ہے تو خاص حالات میں، یعنی جنگ کے حالات میں کیونکہ، دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے،۔ مخالفین اکثر مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں دہشت گردی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ اسلام تو نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ ہماری تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر سے کفار کی سختیاں برداشت کیں اور پھر چپکے سے ہجرت کر گئے پھر جنگ بدر، احد اور حنین۔ تینوں دفاعی جنگیں تھیں۔ معاہدہ حدیبیہ مکمل طور پر صلح و صفائی کا ثبوت دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے بڑی دانشمندی سے واپسی کو پسند کیا جو بعد میں ہر لحاظ سے مسلمانوں کے حق میں فتح ہی فتح ثابت ہوئی اور اسے فتح مبین کہا گیا ہے۔ فتح مکہ بھی بڑی دانشمندی صبر، سکون اور احتیاط کی وجہ سے بغیر جنگ و جدل اور خون خرابے کے فتح ہوگیا ان تمام باتوں سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اسلام تلوار یا گن سے نہیں بلکہ صبر، امن اور حکمت عملی کا مظاہرہ کرتا ہے اور حسن سلوک حسن کردار، اتحاد، تنظیم اور عقیدہ کی پختگی سے ہی اسلام قلیل مدت میں کثیر علاقے میں پھیل گیا۔ مکہ فتح ہوا تو آپ ﷺ اور مسلمان سر جھکا کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے اور ساتھ ہی عام معافی کا اعلان بھی کروا دیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برائی لوگوں کے دل و دماغ سے خودبخود دھل گئی اور وہاں ایمان کی روشنی ہونے لگی۔ اصل میں نیکی کا پرچار سختی سے ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ تو انسانی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ کوئی بھی سبق جو دلیل اور پیار سے دیا جائے زیادہ اثر کرتا ہے بجائے سختی کے۔ ہم ایسے پیغمبر کے پیروکار ہیں۔ جس نے زندگی میں کبھی کسی سے ظلم و زیادتی نہیں کی۔ بڑے ہی صبر اور سکون سے اتنا بڑا انقلاب لے آئے جو ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ آپ ﷺ نے 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں صرف تین دفاعی جنگیں لڑی ہیں۔ آپ ﷺ ہمارے پیغمبر ہیں جن کو، رحمت للعالمین، اللہ نے قرآن پاک میں کہا ہے۔ آپ ﷺ امن، صبر، سکون، محبت اور شفقت کا مجسمہ تھے۔ اسی کا نام ہے اسلام۔ آپ ﷺ کی صفات اور تعلیمات ہمارا نصب العین ہے ایمان ہے اور مقصد حیات ہے۔ خلافت وامارت کے دور میں اسلام کی دعوت دی جائے گی اگر لوگ قبول کرلیں تو وہ مسلمان ہیں وگرنہ ان سے جزیہ لیاجائے گا اگر جزیہ بھی نہ دیں تو ان سے جنگ ہوگی اسلام محبت، رواداری اور انصاف کا حکم دیتا ہے اسی لیے اللہ نے فرمایا، اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے،۔ (آیت 8) ہاں دین کی حفاظت جان و مال کی حفاظت ملک و قوم کی حفاظت مسلمان پر فرض ہے۔ اس میں بھی حتی الامکان صلح و امن سے کام لیا جانا چاہیے ورنہ پھر، تنگ آمد بجنگ آمد،۔ یہ نہیں کہ سر جھکائے مار کھاتے جاؤ۔ اس کی ہرگز اجازت نہیں دی گئی۔ ہمارا مشن ہے کامیابی کے لیے مشکل راہ کو چھوڑ کر آسان اور پر امن راہ اختیار کی جائے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔ ، سیدہ عائشہرضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ، رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو معاملوں میں ایک کو لینا ہوتا تو آپ ﷺ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کو لیتے،۔ (بخاری) یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے اور ہم اس پر چلنے والے ہیں۔ تو یہ ثابت ہوگیا کہ اسلام انسان کو رحمت، سلامتی، محبت، انسان دوستی اور شفقت کا پیکر بنا دیتا ہے۔ مسلمان کا عقیدہ اس کا محافظ بن جاتا ہے کیونکہ وہ کہتا ہے، اللہ اکبر، یوں وہ صرف اور صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔ اسی سے دعا مانگتا ہے، اسی کے سامنے جھکتا ہے اور اسی سے مدد مانگتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ رحیم ہے اور وہ رحیم بندوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اس کا ایمان اللہ پر پکا ہو، قرآن و سنت اس کا رہبر ہو، تو پھر اللہ عظیم و کبیر کبھی اس کو ناکام نہیں ہونے دے گا اور یوں وہ بےخوف و خطر دنیا کی جدوجہد میں کود جاتا ہے۔ اور اللہ اس کی مدد ضرور کرتا ہے۔ بےخطر کود گیا آتش نمرود میں عشق۔ تو اللہ نے اس آگ کو اپنے پیارے بندے کے لیے گلزار بنا دیا۔ اسی طرح اللہ اپنے پیارے بندوں کی ہمیشہ مدد کرتا ہے۔ جاسوسی بڑا سخت جرم ہے مگر کفر نہیں۔ آیت دس سے آخر تک بڑا اہم مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کا تعلق ازدواجی زندگی کے متعلق ہے۔ ہوا یوں کہ صلح حدیبیہ کی یہ ایک شرط تھی کہ جو آدمی مکہ سے مدینہ جائے گا اسے واپس کردیا جائے گا۔ اسی شرط کے تحت ابو جندل کو واپس کردیا گیا تھا مگر ان آیات میں ان عورتوں کے لیے یہ رعایت دی گئی ہے جو اس معاہدہ کے بعد مسلمان ریاست مدینہ میں آگئی تھیں تو اللہ نے ان کے لیے خاص احکامات نازل فرمائے : ایک یہ کہ ان کو مسلمان ہونے کے بعد واپس نہ بھیجا جائے۔ دوسرا ان کا اچھی طرح امتحان لے لیا جائے کہ آیا یہ پکی مسلمان ہیں یا کہ جھوٹی مسلمان ہیں۔ تیسرے اگر وہ پکی مسلمان ہیں اور مذکورہ شرائط جو کہ آیت 12 میں بتائی گئی ہیں ان کو مانتی ہیں تو ان کو بیعت کرنے کی اجازت دے دو ۔ چوتھا ان کا نکاح کافر خاوند سے خودبخود ختم ہوگیا ہے۔ اس لیے ضروری ہوگیا کہ کافر خاوند مسلمان بیوی کے لیے حرام اور کافر بیوی مسلمان خاوند کے لیے حرام ہوگئی۔ اس لیے پانچواں حکم یہ ہے کہ مہر کی رقم ادا کر کے ان سے نکاح ہوسکتا ہے۔ اور اگر کوئی عورت کافر ہوجائے تو جو کچھ اس کے خاوند نے اس پر خرچ کیا ہو وہ جنگ کے بعد مال غنیمت میں سے اس آدمی کو ادا کیا جائے چھٹا یہ کہ جو عورتیں کفار کے پاس چلی جائیں تو ان کو چاہیے کہ جو بھی ان سے نکاح کرے اس کے سابقہ مسلمان خاوند کی وہ رقم ادا کردے جو اس نے اس پر خرچ کی تھی۔ اس حکم کو مسلمانوں نے تو مان لیا عمل بھی کیا مگر کفار نے نہ مانا اور رقم بھی ادا نہ کی۔ یہی فرق ہے مسلم اور کافر میں۔ مسلم انصاف پسند ہوتا ہے جب کہ کافر بےانصاف بےمروت جابر و ظالم ہوتا ہے۔ پھر اللہ جل شانہ نے ان عورتوں کے لیے مغفرت کی دعا کے لیے حکم دیا ہے۔ کیونکہ اسلام سے پہلے جو کچھ ان سے ہوگیا اللہ بڑا غفور رحیم ہے وہ سب معاف کردیا گیا ہے مگر آئندہ زندگی گزارتے ہوئے اپنے اس عہد پر قائم رہنا ہوگا جو نبی ﷺ سے انہوں نے کیا ہے۔ آخر میں دوبارہ اس بات کی تاکید کی جارہی ہے کہ کفار و مشرکین سے دوستی مت کرو کیونکہ ان کے عقیدے اور تمہارے عقیدے بالکل مختلف ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ برے دوست کی صحبت میں تم بھی خراب ہوجاؤ۔ تم تو آخرت پر یقین رکھتے ہو اس لیے جو کام کرتے ہو اس میں اللہ رسول ﷺ کے حکم کو ضرور مان کر کرتے ہو تم جانتے ہو مر کر دوبارہ ضرور زندہ ہو کر حساب کتاب دینا ہے اس لیے نیکی کو اختیار کرتے ہو جب کہ وہ لوگ صرف اسی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے جو کرنا ہے کرلو اور جب مرگئے تو بس ختم ہوگئے اور دوبارہ اٹھائے جانے پر اعتقاد نہیں رکھتے یعنی۔ بابر بہ عیش کوش کہ دنیا دوبارہ نیست تو ایسے ہی لوگ دھوکے میں ہیں۔ کہیں ان سے دوستی کر کے تم بھی گمراہ نہ ہوجاؤ۔ دعا :۔ ابن معبد نے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دعا کرتے سنا تھا۔ ، الٰہی پاک کر میرے دل کو نفاق سے، اور عمل کو ریاء سے اور زبان کو جھوٹ سے اور آنکھ کو خیانت سے کیونکہ تو آنکھ کی چوری اور سینوں کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے ،۔ (مشکوٰۃ باب جامع الدعاء فصل سوم) خلاصہ سورة الممتحنہ جیسا کہ اس سورت کے نام سے معلوم ہوتا ہے۔ المُمتَحنَہ یعنی، وہ عورت جس کا امتحان لیا جائے،۔ اور اگر ہم اس کو الممتَحِنَہ پڑھیں تو اس کا مطلب ہوجاتا ہے، امتحان لینے والی سورت،۔ یہاں دونوں ہی مطلب ٹھیک ہیں۔ کیونکہ وہ مکہ کی عورتیں جو اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کر آئیں تو یہ ان کے امتحان کی بہت بڑی منزل تھی جس سے وہ کامیابی سے گزرگئیں اور اگر رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو پوری کی پوری امتحان اور پھر سخت امتحان کی زندگی دکھائی دیتی ہے۔ جب ہم پڑھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی پاکباز زندگی کی وجہ سے اہل مکہ ان کو صادق اور امین کے لقب سے پکارتے تھے۔ تو اعلان نبوت کے ساتھ ہی وہی لوگ ان کی جان کے دشمن ہوگئے 13 سال دشمنوں کے درمیان بڑے صبر اور سکون سے تبلیغ دین میں مصروف رہے اور ہرگز مقابلہ میں کھڑے نہ ہوئے۔ ہجرت کے بعد بھی لگا تار کفار اور مخالفین کی سختیوں سے بڑے صبر سے نمٹتے رہے اور جب ان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے حالات پیدا ہوگئے تو بھی بڑی حکمت، دور اندیشی اور فہم و فراست کا مظاہرہ کیا۔ اللہ نے بھی آپ ﷺ کی بھر پور مدد فرمائی۔ جیسا کہ غزوہ بدر کا واقعہ ہمارے سامنے ہے پھر صلح حدیبیہ کا واقعہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ معاہدہ حدیبیہ تاریخ اسلام میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کی افادیت یوں ظاہر ہوئی کہ دو سال کے اندر مسلمان اس قدر تیزی سے بڑھے، پھیلے کہ بغیر جنگ و جدل اور قتل و خوں ریزی کے اسلام پورے عرب پر چھا گیا۔ تو اختصار کے ساتھ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ کفرو اسلام کی جنگ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی دی ہوئی ان صلاحیتوں کے بل بوتے پر جیتی جو ان کو خاص طور پر ودیعت کی گئی تھیں۔ آپ ﷺ نفرت کے سلوک کو محبت میں، بدخواہی کو خیر خواہی میں، تخریبی کاروائیوں کو تعمیری کاروائیوں میں تبدیل کرتے رہے۔ یہ عمل کوئی آسان کام نہیں بلکہ بڑے زبردست امتحان سے گزرنے کا نام ہے۔ اسی شدید ترین امتحان میں کامیابی کا سہرا یوں آپ ﷺ کے سر بندھا کہ آپ کو دی گئی شریعت آپ ﷺ کا دیا ہوا پیغام دین اسلام اور آپ ﷺ کی دی ہوئی کتاب قرآن پاک دنیا کے تمام مذاہب پر سبقت کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب و کامران ہوئے اور پھر اللہ کا یہ وعدہ کہ یہ دین رہتی دنیا تک قائم رہے گا ثابت ہوتا چلا جارہا ہے۔ ماضی بعید کے تمام واقعات ہمارے سامنے قرآن پاک نے بیشمار دفعہ بیان کردئیے ہیں اور ماضی قریب کے واقعات ہمارے سامنے تاریخ پیش کر رہی ہے۔ مثلاً ترکی کے حالات کہ کمال اتاترک نے 1924؁ء میں اسلامی خلافت کے خاتمے کا اعلان کردیا اور پھر ہر صورت میں اسلام کو ختم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اور یوں 1973؁ء میں عصمت انونو نے بھی اسی کوشش میں عمر گزار دی مگر اسلام پھر بھی وہاں کسی نہ کسی صورت زندہ رہا۔ تھک ہار کر عصمت انونو نے اپنے آخری وقت میں عربی رپورٹ میں یہ بیان دیا۔ ، میرے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہے جس کو میں دیکھ رہا ہوں، میں نے اپنے بس بھر تمام کوشش کی کہ ترکوں کے دل سے اسلام کو نکال دیں۔ اس کی جگہ مغربی تہذیب کو ان کے اندر داخل کردیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر نتیجہ ہماری توقع کے خلاف نکلا، چناچہ ہم نے تو سیکولرزم کا پودا لگایا مگر پھل نکلا تو وہ اسلام تھا،۔ (الوعی الاسلامی، ذوالعقدہ 1408؁ھ) اسی سلسلہ میں دوسری مثال سوویت یونین کی ہے۔ 1917؁ء سے ایک طاقتور حکومت کے زور پر اسلام کو مٹایا گیا سو سال کی سخت ترین کوشش کے نتیجہ پر خود کمیونسٹ ایمپائر ہی ٹوٹ گیا۔ کیسے ٹوٹ گیا ؟ اور پھر امریکی میگزین ٹائم (12 مارچ 1990 ء) میں رپورٹ شائع ہوئی جس میں 55 ملین مسلمانوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ اعلان کیا گیا کہ یہاں پر اسلام نئی طاقت کے ساتھ زندہ دکھائی دے رہا ہے اور اس تصویری رپورٹ کی سرخی یوں تھی۔ ، کارل مارکس محمد ﷺ کو جگہ دے گـیا،۔ Karl Marc Makes Room for Muhammad, . سبحان اللہ ! کیا یہ قرآن کی پیشگوئی ثابت نہیں ہورہی کہ اسلام ابدی مذہب ہے جس کی کامیابی کا ذمہ خود رب العزت نے لے رکھا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ یہ قیامت تک زندہ رہے گا۔ جس قدر یہ پاک، صاف، مضبوط اور لازوال ہے اتنا ہی اس کے حصول میں سخت ترین امتحانات سے بھی گزرنا ضروری ہے۔ اور پھر اس کا پھل اور انعام بھی اتنا ہی زیادہ بہترین ہے۔ اعلان جنت کتنی دفعہ قرآن پاک میں کیا گیا ہے ! کیا یہ معمولی اعلان ہے یا غلط ہے ؟ ہرگز نہیں یہ خدائے بزرگ و برترالہ العٰلمین، بادشاہوں کے بادشاہ عظیم الشان ذات پاک کا اعلان ہے۔ جس کا تعلق غیب سے ہے اور اللہ عالم الغیب ہے جو اپنے پیارے بندوں کو یہ غیب کی خبر دے رہا ہے کہ میری طرف رخ کرو کیونکہ بالآخر تم نے میرے ہی پاس آنا ہے تو یہاں اپنے لیے جنت الفردوس میں محلات کی تعمیر کرو۔ جو اس دنیا کے اعمال سے تعمیر ہوں گے۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے