61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 61:1–4

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اللہ کی تعریف کرتی ہیں اور وہ (کیونکہ) غالب، حکمت والا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو، جو کیا نہیں کرتے

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

اللہ ان لوگوں کو چاہتا ہے جو اس کی راہ میں یوں قطار بنا کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی دیواریں ہیں

قول و فعل میں مطابقت اور جہاد کی فضیلت تشریح : آسمانوں اور زمین کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کا تابع فرمان ہے ایک سیکنڈ کے لیے کوئی چیز اللہ کے بنائے ہوئے قانون اور حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی اور یہی ان کی تسبیح ہے۔ کیونکہ اللہ کے غلبے، علم اور حکمت سے باہر کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی جاسکتی ہے۔ ہر چیز اس کی قدرت کے اندر گھری ہوئی ہے۔ اور وہ کارساز واحد ہے۔ اور وہ دلوں کے بھید بھی خوب اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کے قول و عمل میں کتنا تضاد ہے۔ کیونکہ مسلمان مخلص ہوتا ہے جب کہ منافق کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے اور یہ رویہ اللہ کو کسی صورت بھی پسند نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو، روزہ رکھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔ یہ کہ جب بولے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ (مسلم و بخاری) دراصل یہاں ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو بظاہر بڑے دعوے کرتے تھے کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کا پسندیدہ عمل کون سا ہے تو ہم ضرور وہ عمل کریں تاکہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو ان کے منہ لٹک گئے۔ اور لگے بہانے بنانے تو ایسے لوگوں سے اللہ بےزاری کا اظہار کرتا ہے۔ اور پھر جہاد فی سبیل اللہ کی تعریف یوں کی کہ جو اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے اس قدر مضبوط عزم و ارادہ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جیسے سیسہ پلائی دیوار ہو۔ ، بُنْیاَن مَّرْصُوْص، رَصْ کا مطلب ہے خوب ملا کر جوڑ دینا۔ رصاص سیسہ کو کہتے ہیں یعنی ایک ایسی دیوار کہ جس کے جوڑوں میں سیسہ پگھل کر ڈال دیا جائے کہ دیوار اس قدر مضبوطی سے جڑ جائے کہ درمیان میں کسی قسم کا کوئی سوراخ کوئی کمزوری نہ رہ جائے۔ مطلب اصل میں مثال دینے کا یہ ہے کہ جو مجاہدین اللہ کی راہ میں اللہ کی خوشنودی اور دین کی محبت میں دشمن کے مقابلے میں نکل کھڑے ہوں۔ وہ عقیدہ، ایمان، مقصد اور جانثاری میں اس قدر مخلص، مضبوط، اور پکے ارادے کے سپاہی ہوں کہ ان کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہ دے سکے۔ جذبہ ایمانی اس قدر طاقت ور ہوتا ہے کہ اللہ کی مدد بھی جوش میں آجاتی ہے تو ایسے حالات میں بھلا کوئی مقابلہ میں ٹھہر سکتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ ، انصار اللہ، کہتے ہیں۔ یعنی جو اللہ کی محبت میں اس حد تک ڈوب جائے کہ اس کو اللہ کی محبت سے زیادہ کوئی چیز اہم دکھائی نہ دے حتیٰ کہ جان جیسی پیاری چیز بھی اس کے سامنے کچھ حقیقت نہ رکھے اور وہ اس کو اللہ کی راہ میں قربان کردینے پر تیار ہوجائے تو بھلا پھر اللہ ایسے جان نثاروں کی خاص مدد کیوں نہ کرے گا گویا انہوں نے اپنی جانوں کے بدلے میں اللہ کی مہربانیاں، عنایتیں، قربتیں اور مدد کو خرید لیا ہے۔ تو یوں انہوں نے بظاہر اللہ کی، اسلام کی، دین کی اور رسول اللہ ﷺ کی مدد کی لیکن دراصل انہوں نے خود اپنی مدد کی اور اس طرح دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کے حقدار ہوگئے۔ جہاد میں اگر بچ گئے تو غازی اگر کام آگئے تو شہید۔ شہید اور غازی دونوں ہی بہترین درجات کے حامل ہوتے ہیں۔ بھلا ایسے، انصار اللہ، بہترین اور کامیاب بندوں کا ان نکمے منافق اور ڈرپوک لوگوں سے کیا مقابلہ ہوسکتا ہے جو صرف زبانی کلامی جہاد کی بات کرتے ہیں۔ جب وقت آتا ہے تو دنیا جہان کے حیلے بہانے بنانے لگتے ہیں کہ کسی طرح جنگ میں جانے سے بچ جائیں۔ گویا اگر موت کا وقت آگیا ہے تو وہ جنگ میں نہ جا کر بچ جائیں گے جب کہ موت کا وقت تو مقرر ہوچکا ہے اس وقت مقرر ہوگیا تھا جب ہماری زندگی کی ابتدا ماں کے پیٹ میں ہوئی تھی یہ بات تو بالکل سچ ہے۔ نزول قرآن کے وقت ان حقائق کا کسی کو بالکل علم نہ تھا جو انکشافات قران پاک میں کیے گئے ہیں۔ مثلاً جینی کوڈ، زندگی کی خصوصیات کا وہ راز ہوتا ہے جو پیدا ہونے والے جسمیہ میں ودیعت ہوتا ہے۔ اسی طرح سابقہ اقوام اور انبیاء کے بارے میں بالکل صاف اور سچی کہانیاں بتائی گئی ہیں تاکہ ہم بعد میں آنے والے ان کے حالات اور واقعات کو جان کر اپنی راہیں درست کرسکیں اور اللہ کے غضب سے بچ سکیں۔
Ayahs 61:5–8

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

(اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ، بھائیو ! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں،۔ تو جب ان لوگوں نے نافرمانی کی تو اللہ نے ان کے دل پھیر دیے، اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی یاد کرو جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا کہ، اے بنی اسرائیل ! میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں اور جو کتاب مجھ سے پہلے آ چکی ہے یعنی تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتا ہوں،۔ پھر جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون کہ بلایا تو جائے اسلام کی طرف اور وہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے چراغ کی روشنی کو پھونک مار کر بجھا دیں۔ حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافرنا خوش ہی ہوں

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وسیدناعیسیٰ (علیہ السلام) اور آخری رسول ﷺ کی رسالت کی گواہی تشریح : یہاں سب سے پہلے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کا اور ان کی قوم بنی اسرائیل کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں تعارف سورة بقرہ اور سورة قصص میں کافی تفصیلاً بتایا جا چکا ہے۔ مختصراً یوں ہے کہ بنی اسرائیل مذہبی نہیں بلکہ نسلی نام ہے۔ اس قوم کا لقب جو یعقوب (علیہ السلام) معروف بہ اسرائیل بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے پیدا ہوئی۔ اور اپنے وطن شام سے نکل کر اطراف عالم میں پھیلی۔ خاندان یعقوب (علیہ السلام) کی اصل فضیلت یہ تھی کہ ان کو عزت، حکومت اور رسالت دی گئی۔ اور پھر یوں ایران، عراق، ہند، چین، یونان اور مصر کی حکومت ملی۔ مگر ان کی بد نصیبی کہ توحید کی تعلیم سے ہٹ کر مشرک ہوگئے اسی کے بدلے سزا کے طور پر پیغمبری ان سے چھین لی گئی۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بڑے مدبر پیغمبر تھے۔ ان کی والدہ نے فرعون کے ڈر سے آپ کو پیدا ہوتے ہی تابوت میں بند کرکے دریا میں ڈال دیا تھا۔ آپ نے فرعون کے محل میں پرورش پائی۔ آپ بڑے ہی نیک، صحت مند اور مدبر انسان تھے۔ آپ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر تجلی کی صورت میں اللہ کا دیدار کیا اللہ نے آپ (علیہ السلام) سے کلام بھی کیا اسی لیے آپ (علیہ السلام) کو کلیم اللہ کا لقب ملا۔ آپ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے اور سیدنا ہارون (علیہ السلام) ، آپ (علیہ السلام) کے مددگار تھے۔ بنی اسرائیل آپ کو نبی مانتے تھے مگر پھر بھی آپ سے مخلص نہ تھے۔ آپ کو بڑی تکلیفیں دیں۔ بنی اسرائیل کا ذکر قرآن پاک میں بہت جگہ ہوچکا ہے۔ مثلاً سورة البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ ان پر کون کون سی عنایات کی گئیں اور انہوں نے کس کس طرح ناشکری اور نافرمانی کی اور پھر کس طرح زیر عتاب آئے۔ تفصیلاً بیان کیا گیا ہے تاکہ مسلمان عبرت حاصل کریں۔ اسی طرح سورة النساء اور مائدہ میں بھی ان سے لیے گئے عہد اور انعامات کا ذکر ہے۔ ارض مقدس میں داـخل ہونے کا حکم، جہاد کے حکم پر ان کی بزدلی اور پھر چالیس برس تک صحرا نوردی کا مفصل ذکر ہے۔ اسی طرح سورة اعراف، طہٰ اور بیشمار سورتوں میں ان کے بارے میں مفصل بیانات آپ پڑھ چکے ہیں۔ یہاں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ بڑا مہربان ہے مگر ایک حد تک، جب کوئی قوم یا انسان حد سے بڑھ جائے تو پھر اللہ کے عتاب اور سزا سے کوئیـ بچا نہیں سکتا۔ اور اللہ کے قانون میں یہ شامل ہے کہ جو ہدایت کی طرف قدم بڑھائے اس کی مدد اللہ بہت زیادہ کرتا ہے اور جو جان بوجھ کر ہدایت کی راہ کو چھوڑ کر برے رستے اختیار کرے تو پھر اس کی سزا کے طور پر اللہ اس کے لیے برائی کے امکانات وسیع کردیتا ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ آپ (علیہ السلام) کو بڑے معجزے دئیے گئے۔ آپ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بڑا سمجھایا کہ میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات کو سچا مانتا ہوں اور اسی دین کی تعلیم دے رہا ہوں جس کی تعلیم تمام پہلے پیغمبروں نے دی ہے۔ اور پھر پہلی کتاب تورات میں میرے بارے میں بتایا جا چکا ہے اور پھر اس بات کی تصدیق بھی میں کرتا ہوں کہ آخری نبی سیدنااحمد مجتبیٰ ﷺ آخری نبی بنا کر بھیجے جائیں گے۔ اور تمہارے لیے حکم ہے کہ ان کے آنے پر ان کی پوری طرح فرمانبرداری کرنا اور ان کے نقش قدم پر ہی چلنا۔ مگر ہوا یوں کہ پہلے توا نہوں نے سیدنا عیسیٰ کی نافرمانیاں کیں اور پھر جب سیدنامحمد ﷺ تشریف لائے تو سب سے زیادہ یہود و نصاریٰ نے ہی آپ ﷺ کی مخالفت کی اور آپ ﷺ کو ہر طرح سے تکلیفیں پہنچانے کی کوششیں کیں۔ پہلے تو بڑی باتیں کرتے تھے کہ نبی آخرالزمان آئیں تو ہم ان کے ساتھ مل کر دنیا سے فسادیوں کا نام و نشان مٹادیں گے۔ لیکن جب آپ ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے جان بوجھ کر اپنی کتاب میں سے بشارت رسول ﷺ کا حصہ ہی چھپا دیا اور یوں اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر جھوٹے بہتان باندھنے لگے کہ یہ سب کچھ حقیقت میں کچھ بھی نہیں بلکہ یہ تو صاف صاف جادو کے اثرات ہیں۔ غرض وہ لوگ اس خیال میں تھے کہ ان کی مخالفت سے دین محمدی ﷺ بالکل ناکام ہوجائے گا۔ یہاں پہلے اس بات کی وضاحت کردینا ضروری ہے کہ تورات میں اور قرآن پاک میں آپ ﷺ کا نام احمد لکھا گیا ہے۔ اس پر کئی فتنہ پرداز لوگوں نے کہانیاں بنا ڈالیں جن کی کوئی اہمیت نہیں۔ بیشک احمد نام سیدنامحمد ﷺ کا ہی ہے۔ تصدیق کے لیے حدیث بھی بیان کی جا رہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ، میرے بہت سے نام ہیں، محمد ﷺ ۔ احمد ﷺ ۔ ماحی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کفر کو مٹا دیا اور میں حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں۔ (صحیح بخاری، مسلم) بہرحال یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ اور منافقین یہ سب رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین، اور اس کے بھیجنے والے الہ العٰلمین کے زبردست مخالفین تھے اور ہیں۔ جب کہ اللہ رب العزت ایک بہت بڑی سچائی ہے اس کا بھیجا ہوا رسول، کتاب اور دین اسلام یہ بھی بہت بڑی سچائیاں ہیں تو جو لوگ یا جو قومیں اس کی مخالفت میں کھڑی ہوتی ہیں وہ سوائے اپنے سرپھوڑنے کے اور کچھ نہیں کرسکتیں وہ لاکھ طوفان اٹھائیں، کوشش کریں ہر طرح سے زور مار کر دیکھ لیں وہ اس دین الٰہی کو مٹانے میں خود ہی مٹ جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کی حفاظت اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور صاف صاف فرما دیا ہے کہ، حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں،۔ (آیت 8) اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہر مسلمان مرد، عورت، بچہ، بوڑھا اور جوان اسلام کی سر بلندی کے لیے جہاد کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ چاہے جہاد باللسان ہو، بالمال ہو، بالقلم ہو ، بالعلم ہو، بالنفس ہو یا جہاد بالسیف ہو۔ مسلمان کا ہر قدم ہر عمل ہر سوچ اور ہر سانس جہاد کی سوچ میں ہونا چاہیے کیونکہ یہی کامیابی ہے، سرفرازی ہے اور دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ ہمارا پیارا دین اسلام تمام دینوں سے افضل اور اللہ کی حفاظت میں ہے۔ اس کی فضیلت اور معقولیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ، آج منکر لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پس تم ان سے نہ ڈرو، تم صرف مجھ سے ڈرو، آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا ہے اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا ہے،۔ (سورۃ المائدہ آیت 3) ضحاک کے قول کے مطابق قرآن کی یہ آیت فتح مکہ کے بعد 8 ھ؁ میں نازل ہوئی اس وقت کے مطابق یہ آیت مستقبل کے لیے ایک سچی پیشگوئی تھی۔ اسی طرح سورة الصف کی آیت نمبر 8 بھی آئندہ کی پکی کامیابی کی دلیل ہے اور یہ بتا دیا گیا ہے کہ آئندہ زمانوں کے تاریخی واقعات ان آیات کے عین مطابق ہوں گے اور بالکل ایسے ہی ہوا اس وقت جنگ ِ احد کے بعد کی کامیابیاں اور اب موجودہ حالات ہمارے سامنے تین انقلاب لائے۔ آزادی، سائنسی اور سیکولرزم۔ تینوں بظاہر دین اسلام کے مخالف تھے مگر بالآخر دین اسلام کے زبردست حامی ثابت ہوئے۔ 1 آزادی، رائے نے مذہب اور اس کی کتابوں کے وہ چھپے ہوئے راز پوری طرح کھول کر دنیا کے سامنے پیش کردیے جواب تک عام لوگوں سے چھپے ہوئے تھے یوں دین کی صداقت واضح ہوگئی۔ 2 جدید سائنسی دور نے اللہ کے وجود کو ماننے کے بہترین راستے بتا دئیے کیونکہ بیسویں صدی عیسوی میں سائنسی دنیا میں تجربات کے دوران بیشمار ایسے حقائق ظاہر ہوئے کہ جن کو بغیر مشاہدے کے ماننا ضروری تھا مثلاً ایکسریز کی تعریف یا پھر یہ کہ ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کا یقین کرلینا کیونکہ اس کے بغیر بلیک ہول یا ڈارک میٹر کے وجود کو مان لینا ناممکن تھا۔ لہٰذا اسی فارمولے کے تحت دینی عقیدہ بھی ثابت ہونے لگا۔ اور ہر انقلاب دین الٰہی کی زبردست حمایت اور تصدیق کرنے لگا۔ 3 تیسرا انقلاب سیکولرزم کا ہے۔ جو گھوم پھر کر اس نتیجہ پر پہنچا کہ دین اسلام کی اصل انسانی فطرت کے اندر سے نکلتی ہے۔ اس کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ ترکی کی طویل جارحانہ سیکولر پالیسی اور پھر سویت یونین کی پورے ایک سو سال کی کوشش بجائے اسلام کو مٹانے کے خود ان کو مٹانے اور توڑنے کے کام آگئی۔ اسی طرح تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کا غلبہ جو اسلام کی فکری قوت سے مغلوب ہوا۔ یہ تمام واقعات قرآن کی اس پیشنگوئی کو ثابت کرتے ہیں جو اللہ نے فرمایا، اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں،۔ (آیت 8) یعنی۔ نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
Ayahs 61:9–14

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے، خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

مومنو ! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

اور یہ کہ اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو جنت کے باغوں میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات ہیں جو ہمیشہ رہنے والے باغات میں تیار ہیں داخل کرے گا یہ بڑی کامیابی ہے

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں اللہ کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور عنقریب فتح ہوگی اور مومنوں کو اس کی خوشخبری سنا دو

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

مومنو ! اللہ کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ بھلا کون ہیں جو اللہ کی طرف بلانے میں میرے مددگار ہوں ؟ حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں،۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا پھر ہم نے ایمان والوں کو طاقت دی دشمنوں کے مقابلہ میں اور وہ غالب ہوگئے

غلبہ ٔ دین کی بشارت اور مومنوں کی تجارت تشریح : اصل میں یہ آیات 3 ھ؁ میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ احد کی جنگ میں مسلمانوں کو خاصی پریشانی اٹھانا پڑی تھی اور یہ پریشانی اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے کچھ غلط رویے اور سوچ کی وجہ سے سزا کے طور پر اٹھانی پڑی تھی۔ مگر اس عارضی پریشانی سے مسلمان ڈگمگا گئے تھے اور دشمن بڑا خوش اور دلیر ہوگیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف احد کے بعد کی کامیابیوں کا یقین دلایا بلکہ ہر دور ہر زمانے میں کامیابیوں اور اللہ کی خاص مدد کا یقین دلا دیا کہ سچے، پکے، متقی اور بہترین مسلمان کیوں کہ اللہ کا پسندیدہ انسان ہوتا ہے اس لیے فتح اس کو ضرور ملتی ہے۔ اور وعدہ اس وقت بھی پورا ہوا فتح مکہ اس کی ابتدا تھی جو جاری وساری رہی یہاں تک کہ پھر جب مسلمان عقیدہ و عمل اور کردار میں کمزور ہونے شروع ہوگئے۔ تو جیسے جیسے کمزور ہوتے گئے دین سے دور ہوتے گئے اللہ کی مدد سے بھی دور ہوتے گئے تو اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور اسلام کی ہمیشہ کی بقاء کا وعدہ دہراتا ہے۔ اور اس طرح کی کھلی فتح کا ذکر پہلے بھی سورة توبہ اور سورة فتح میں آچکا ہے۔ یہاں پھر دہرایا جا رہا ہے۔ اور ان شرائط کے ساتھ کہ تم اگر اللہ پر ایمان لاؤ تو اس کے نتیجہ میں تم خودبخود دنیاوی آلائشوں، شیطان کی شرارتوں اور کفر کی نجاستوں سے پاک صاف ہوجاؤ گے اور جب تمہارے دل، دماغ، جسم اور روحیں اللہ کے نور سے منور ہوجائیں گے تو تمہیں کوئی اس بات سے روک نہ سکے گا کہ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دین کی بقا اور اپنی نجات اور اپنی حقیقی خوشی کے لیے اپنا سب کچھ بےدریغ اللہ کی راہ میں قربان کرنے اور خرچ کرنے پر خوشی سے تیار نہ ہوجاؤ گے۔ جب اس طرح معقولیت تمہارے اندر پیدا ہوجائے گی تو بھلا اللہ کس طرح تمہیں بےیارومددگار چھوڑ دے گا۔ ہرگز نہیں ! مگر اس سارے مسئلہ میں اس سپرٹ کا پیدا ہونا بےحد ضروری ہے جو ایک مسلمان کا طرئہ امتیاز ہے جو مسلم کو مشرک سے علیحدہ کرتا ہے شاعر نے کہا ہے۔ ، ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں اللہ نے ہم سے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ بہترین کامیابیوں کا اور شاندار فتوحات کا وعدہ کیا ہے۔ مگر ان سب کے لیے ہمیں وہ تجارت ضرور کرنی ہوگی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت 9 سے یعنی، مومنو ! میں تمہیں ایسی تجارت بتاؤں آخر تک، اور پھر، مومنوں کو اس کی خوشخبری سنا دو ،۔ آیت 13 تک کا مضمون مسلمان کا اوڑھنا بچھونا ہونا چاہیے تو پھر ایک مسلمان سیدناعیسیٰ کے ان حواریوں یعنی، انصار اللہ، کا درجہ حاصل کرسکتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے دنیا میں فتح و کامیابی اور آخرت میں ہمیشہ رہنے کی جگہ جنت کا وعدہ کیا گیا ہے جو اب تک دنیا کے ہر دور میں سچا ثابت ہوچکا ہے اور آخرت کے بارے میں پورا قرآن اور بیشمار احادیث ہمارے مطالعہ میں ہیں۔ جن پر یقین کرنا ہمارے ایمان کی سلامتی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ اس آخرت کی زندگی اور حساب و کتاب کے بعد بہترین جزا اور بدترین سزا پر یقین کرنا عقیدہ ایمان کا بڑا ضروری اور خاص جز ہے۔ آخر میں سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی مثال بڑے خوبصورت انداز میں دیتا ہے۔ ہوا یوں کہ (تفاسیر میں ایسے ہی لکھا گیا ہے) جب عیسائی جو کہ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے جن کو حواری کہا گیا ہے، ان سے سیدناعیسیٰ نے پوچھا کہ، بھلا کون ہیں جو اللہ کی طرف بلانے میں میرے مددگار ہوں گے،۔ (14) تو انہوں نے جواب میں کہا، ہم اللہ کے مددگار ہیں،۔ (آیت 14) یہ بات چیت اس وقت ہوئی جب سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا تھا کہ اب ان کی قوم انہیں قتل کیے بغیر نہ چھوڑے گی تو اس نازک اور انتہائی خطرناک وقت میں جن لوگوں نے آپ (علیہ السلام) سے وفاداری اور دین کی سلامتی میں سب کچھ کر گزرنے کا وعدہ کیا تو وہ لوگ واقعی قابل تعریف اور قابل تقلید ہیں۔ کیونکہ انہوں نے دنیا کی ہر چیز سے بےنیاز ہو کر صرف اللہ و رسول کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے فوراً راہ خدا میں جدو جہد کرنے کا وعدہ کرلیا۔ مگر ان میں سے سب لوگ سیدناعیسیٰ کے پیروکار ثابت نہ ہوئے بلکہ بیشمار فرقے بن گئے۔ کچھ لوگ جو ایمان پر قائم رہے انہوں نے رسول کریم ﷺ پر ایمان قبول کیا مثلاً یہودی تو آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے جب کہ عیسائی ایمان تو لے آئے مگر بہت سے فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی یہودیوں سے بہت درجہ کامیاب رہے جبکہ یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے لعنت بھیج رکھی ہے۔ ہم مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے کہ ہم بھی سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی طرح ہر چیز سے بےنیاز ہو کر اللہ کی راہ میں اٹھ کھڑے ہوں اور ہماری پوری زندگی اسی جدوجہد میں گزر جائے کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنی ہے۔ دراصل ہماری زندگی مسلسل جہاد ہی ہے۔ کبھی شیطان کے خلاف، کبھی نفس کے خلاف اور کبھی دنیاوی عیش و نشاط کے خلاف۔ تو جہاد کے بارے میں باربارتاکید کی گئی ہے۔ سورۃ الحج :78 ۔ سورة توبہ :41 ۔ الفرقان : 52 ۔ النساء :95 ۔ العنکبوت :69 ۔ البقرۃ :193 ۔ النساء :74 - اسی طرح بیشمار احادیث جہاد کی فضیلت کے لیے موجود ہیں مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کہ، جنت میں سو درجے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے جو اس کے لیے جہاد کرتے ہیں ان میں سے ہر دو درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے،۔ (بخاری، مسلم) مذہب اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے لیکن کیونکہ یہ تمام الہامی مذاہب پر فوقیت رکھتا ہے اور آخری مذہب ہے۔ اس لیے تمام عالم انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ کیونکہ باقی تمام مذاہب پر برتری اور غلبہ جہاد کے بغیر ممکن نہ تھا جو کہ انسانی زندگی میں قدم قدم پر اسے کرنا پڑتا ہے اس لیے رب العزت نے اپنی مقدس کتاب قرآن پاک میں جہاد کے تمام احکامات بڑی وضاحت سے بیان کیے ہیں۔ اور پھر ان تمام احکامات کی وضاحت اور تاکید رسول اللہ ﷺ نے اپنے فعل و قول سے فرمائی ہے۔ شاعر نے اس کو یوں بیان کیا ہے۔ تیرے در پہ جینا تیرے در پہ مرنا کوئی آرزو اس سے بڑھ کر نہیں ہے دعا ہے : مجھے اللہ کافی ہے، اسکے سوا معبود کوئی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (سنن ابی داؤد) خلاصہ سورة الصف اس سورت میں یہود و نصاریٰ کا کردار پہلے تو یوں بیان کیا گیا کہ ان کے قول و فعل کے تضاد نے ان کو دنیا اور آخرت میں ذلیل و خوار کروا دیا۔ کیونکہ یہ عادت اللہ کو ہرگز پسند نہیں انسانی سوسائٹی کے لیے یہ بری عادت بڑی نقصان دہ بات ہے لہٰذا مسلمانوں کو اس بری عادت سے ہمیشہ بچ کر رہنا چاہیے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بڑی سخت مذمت کی گئی ہے مسلمان قول کا سچا بات کا پکا اور عمل کا کھرا ہوتا ہے۔ جبکہ منافق نہ قول کا سچا ہوتا ہے نہ عہد کا پابند اور نہ ہی امانت دار ہوتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ عہد کی پابندی کرو، بیشک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔ (بنی اسرائیل :34 ) یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کے بارے میں ایک حدیث ملاحظہ ہو۔ سیدناابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ جب اللہ کا ارادہ ہوا کہ سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر چڑھالے۔ آپ نہا دھوکر اپنے اصحاب کے پاس آئے جو ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آتے ہی فرمایا، تم میں وہ بھی ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ کفر کریں گے اور ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ بارہ دفعہ، پھر فرمایا کہ، تم میں سے کون اس بات پر آمادہ ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈالی جائے اور وہ میرے بدلے قتل کیا جائے اور جنت میں میرے درجہ میں میرا ساتھی بنے،۔ ایک نوجوان جو عمر میں ان سب سے کم تھا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے تئیں پیش کیا۔ تین دفعہ منع کرنے پر بھی وہ کہتا رہا۔ لہٰذا اس کی شکل سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) جیسی ہوگئی۔ اور خود سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) اسی گھر کے ایک روزن سے آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے اب یہودیوں کی دوڑ آئی اور انہوں نے اس نوجوان کو گرفتار کر کے قتل کیا اور سولی پر چڑھا دیا۔ سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) کی پیشنگوئی کے مطابق باقی کے گیارہ لوگوں میں سے بعض نے بارہ بارہ مرتبہ کفر کیا حالانکہ وہ اس سے پہلے ایماندار تھے۔ پھر بنی اسرائیل کے ماننے والے گروہ کے تین فرقے ہوگئے ایک فرقے نے تو کہا کہ، خود خدا ہمارے درمیان بصورت مسیح تھا جب تک چاہا رہا، پھر آسمان پر چڑھ گیا،۔ انہیں یعقوبیہ کہا جاتا ہے، ایک فرقے نے کہا، ہم میں خدا کا بیٹا تھا جب تک اللہ نے چاہا اسے ہم میں رکھا اور جب چاہا اپنی طرف چڑھا لیا،۔ انہیں نسطور یہ کہا جاتا ہے تیسری جماعت حق پر قائم رہی ان کا عقیدہ ہے کہ خدا کے بندے اور اس کے رسول سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) ہم میں تھے جب تک خدا کی چاہت رہی آپ ہم میں موجود رہے پھر اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا، یہ جماعت مسلمانوں کی ہے پھر ان دونوں کافر جماعتوں کی طاقت بڑھ گئی اور انہوں نے مسلمانوں کو مار پیٹ کر قتل و غارت کرنا شروع کردیا اور مسلمان دبے بچے اور مغلوب ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا، پس بنی اسرائیل کی وہ مسلمان جماعت آپ پر بھی ایمان لائی اور ان کافر جماعتوں نے آپ سے بھی کفر کیا پس ان ایمان والوں کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور انہیں ان کے دشمنوں پر غالب کردیا، رسول اللہ ﷺ کا غالب آجانا اور دین اسلام کا تمام ادیان کو مغلوب کردینا ہی ان کا غالب آنا اور اپنے دشمنوں پر فتح پانا ہے۔ پس یہ امت حق پر قائم رہ کر ہمیشہ غالب رہے گی۔ یہاں تک کہ امر اللہ یعنی قیامت آجائے۔ اور یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ سیدناعیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہو کر مسیح دجال سے لڑائی کریں گے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں موجود ہے۔ واللہ اعلم، (از تفسیر ابن کثیر) جہاد کے لیے اسی خوشی کے ساتھ اٹھ کھڑا ہونے کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے جس خوشی اور محبت سے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا وہ حواری اٹھ کھڑا ہوا جس کو یہودیوں نے قتل کردیا اور سولی پر چڑھایا۔ شہادت کا درجہ اور انعام رب العزت نے بہت بڑا بتایا ہے۔ جس کی تفصیل آیت 12, 11 اور 13 میں بیان کی گئی ہے۔ اللہ ہمیں اس سعادت کو حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین۔ الحمد للہ کہ سورة الصف ختم ہوئی۔