Ayahs 62:1–4اللہ رب العزت کی تسبیح اور آخری رسول ﷺ کی بعثت کا ذکر
تشریح : اس مضمون سے ملتی جلتی بیشمار آیات ہم پڑھ چکے ہیں اب اس مضمون کو ہم سید حسین نصر صاحب کی تحریر سے واضح کرتے ہیں لکھتے ہیں، عام طور پر اسلام کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے معنوی لحاظ سے تین درجے ہیں اول تو یہ کہ ساری مخلوق مسلم ہے یعنی اللہ کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ (ایک پھول اس بات پر قادر نہیں کہ وہ پھول نہ رہے، اسی طرح ایک ہیرا چمکنے پر مجبور ہے اللہ نے انہیں ایسا ہی بنایا ہے اور ان کا کام ہی اطاعت کرنا ہے) دوسری بات یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو اپنی مرضی سے مقدس الہامی قانون کو قبول کرتے ہیں اس اعتبار سے مسلم ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی کو قانون کے سپرد کردیا ہے،۔ (اسلام میں سائنس اور تہذیب)
اب ہم قانون کی بات کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ قانون وحی الٰہی سے مرتب ہوا ہے اس لئے بہترین ہے۔ ہر قسم کی کمی بیشی، مشکل اور خرابی سے پاک صاف بہترین قانون ہے۔ وجہ یہ ہے کہ قانون اس الہ العٰلمین کا بنایا ہوا ہے جس نے کل کائنات اور کائنات کی تمام چیزوں کو بڑے بہترین انداز، ناپ تول اور خوبصورتی سے بنایا ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ اس نے خود بنایا ہے اس لیے ان کے بارے میں بنائے گئے قوانین بھی مکمل ہیں اور کیونکہ خود اس نے بنایا، لہٰذا ہر چیز اس کے علم میں ہے۔
پوری کائنات اور اس کے ہر ذرہ سے وہ واقف ہے۔ اسی لیے وہ زبردست حکمت والا اور غالب ہے۔ اس کی زبردست کاریگری، حکمت اور فضل و کرم کی بہترین دلیل ہے کہ اس نے یہ زبردست قانون کی کتاب جو ہر قسم کے قدیم جدید علوم اور تاریخ سے بھری ہوئی ہے ایک ایسی بزرگ ترین ہستی کے ذریعے انسان تک پہنچائی ہے جو خود کبھی کسی سکول اور استاد سے نہیں پڑھا مگر وہ خود ان کا عمل اور ان کی تعلیمات ہر قسم کے علم و عرفان سے پوری طرح مزین ہیں۔ یعنی قرآن، احادیث اور حکمت۔ یہ تمام علوم ماضی، حال اور مستقبل کے واقعات، حقائق اور مصائب و آسائش کا حصول زندگی کے شروع سے آخر تک کے تمام حقائق ان کا حل اور ایک لاجواب کامیاب منشور انسان کو تھما دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ کیا ہے ؟ بس اللہ کا فضل ہے، کاریگری ہے، حکمت ہے اور برکت و رحمت ہے جس کو وہ دینا چاہے دیتا ہے۔ کیونکہ وہ مہربان ہے رحیم و کریم ہے غفور رحیم ہے اس لئے سیدناآدم (علیہ السلام) سے لیکر آج تک بندے کی رہنمائی وہ ہمیشہ کرتا چلا آیا ہے۔ مگر مختلف ادوار میں مختلف قومیں گزری ہیں۔ جنہوں نے نبی کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر شیطان کی راہیں اختیار کرلیں اور ظاہر ہے تباہی کا راستہ اختیار کیا تو تباہ و برباد ہوگئیں تو ان گزشتہ قوموں سے سبق سیکھنا بےحد ضروری ہے۔ انہوں نے اپنی الہامی کتابوں کو بدل دیا اور پیغمبروں کے ساتھ برا سلوک کیا تو ان کا انجام برا ہوا۔ ماضی میں بنی اسرائیل کا حال ہمارے سامنے قرآن پاک میں بار بار بیان کیا جا رہا ہے تاکہ ہم مسلمان عبرت حاصل کریں اور کامیاب ہو سکیں۔ اگلی آیات میں یہود کا ذکر ہو رہا ہے ملاحظہ ہو۔
Ayahs 62:5–8یہود کی مذمت
تشریح : یہود کے حالات بڑی وضاحت سے بہت دفعہ بیان کیے جا چکے ہیں۔ یہاں پھر اس لیے ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کے بڑے سخت دشمن تھے اور اب بھی ہیں تو اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ ہدایت کی کتاب تورات ان کو بھی دی گئی تھی مگر انہوں نے یوں کیا کہ جیسے کتاب گدھے پر لا دی گئی ہو۔ جیسے گدھے کو اپنے اوپر لادی گئی کتابوں کا کوئی شعور نہیں ہوتا انہوں نے بھی اپنی دی گئی کتاب سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا اور اب الزام دیتے ہیں دوسروں کو۔ تو ان کو صاف صاف بتا دو کہ ہم مسلمان تو رب قدوس کو مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آخرت میں جزا و سزا ضرور ملے گی اس لیے قرآن و حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ اگر تم اس حقیقت پر ایمان لاتے تو آج پیشمان نہ ہوتے اور نہ ہی موت سے ڈرتے۔ کیونکہ موت کا آنا اور اللہ کے سامنے اپنے اعمال کے ساتھ پیش ہونا یقینی ہے۔ اللہ کی تو یہ صفت کاملہ ہے کہ وہ پوشیدہ اور ظاہر معاملات کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ یہاں کردار یہود کے بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان عبرت حاصل کریں جو غفلت و نافرمانی میں پڑ کر زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ان کو بھی موت اور یوم آخرت کو یاد رکھنا چاہیے۔ یہ قرآن میں دی گئی سچی خبر ہے۔
Ayahs 62:9–11مومنوں کے لیے نماز جمعہ کا حکم
تشریح : جیسا کہ سورت کے تعارف میں بتا دیا گیا ہے کہ یہ سورت اس واقعہ کی وجہ سے نازل ہوئی جو ان آخری آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے ہماری زندگی موت، روزی، رزق، بیماری و صحت، عزت و ذلت اور خیر و برکت سب کچھ اللہ کے حکم سے ہے مگر ساتھ ہی ہمیں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ ان تمام چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے اللہ کے بتائے ہوئے مخصوص قوانین کے تحت مقررہ حدود میں رہتے ہوئے پورے خلوص اور محنت سے کام کریں۔ یہ نہیں کہ جو اللہ نے لکھ دیا وہ تو مل ہی جائے گا چاہے کچھ بھی نہ کریں۔ اگر ایسا کیا تو پھر یہود جیسا انجام ہوگا۔ اللہ نے یہ جو اعضاء کی نعمتیں ہمیں دے رکھی ہیں ان کا شکریہ ایسے ہی ادا ہوگا کہ ان اعضاء بدنی سے پورا پورا جائز فائدہ اٹھائیں اور بخشش کے حق دار بنیں اور دنیا و آخرت میں نجات حاصل کریں۔ جیسا کہ صلوۃ، یعنی نماز ایک بدنی اور روحانی عبادت ہے یہ تمام گزشتہ مذاہب میں ادا کی جاتی رہی ہے کیونکہ اس کے اصطلاحی معنوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ، دعا، رحمت، استغفار اور قربت الٰہی، ہے ہماری نماز ادا کرنے کا طریقہ حضور ﷺ کا بتایا ہوا طریقہ ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ، جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھو اسی طرح پڑھا کرو،۔ اسی لئے قرآن پاک کی بیشمار سورتوں میں حکم آیا ہے مثلاً سورة مریم، طٰہ، نساء، کوثر، بقرہ، المومنون، انعام، العنکبوت اور بیشمار دوسری سورتیں۔ اسی طرح احادیث میں بھی تاکید آئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا، نماز دین کا ستون ہے،۔ اور پھر شاعر نے کہا
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلمان میں اسی لیے نمازی
نماز کے لیے بدن کا پاک ہونا، کپڑوں کا پاک ہونا، جگہ کا پاک ہونا، اور دل میں نیت کرنا تکبیر تحریمہ، قیام قرأت، رکوع، سجدے، قعدہ۔ تکبیر تحریمہ، رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا (ہاتھ کانوں تک یا کندھوں تک اٹھانا) اور دیگر طریقے جو احادیث میں موجود ہیں انہیں بھی سیکھنا چاہیے دن میں پانچ فرض نمازیں ہیں جو مقررہ اوقات میں ادا ہوتی ہیں اس کے علاوہ۔ عیدیں کی نمازیں، جمعہ کی نماز، چاشت، تہجد، اشراق کی نمازوں کے اوقات مقرر ہیں۔ جمہ کی نماز کے بارے میں تفصیلاً عرض ہے کہ یہ جمعہ کے دن ظہر کے وقت ادا کی جاتی ہے۔ باجماعت نماز پڑھنے سے ایک خاص سرور حاصل ہوتا ہے اور مسلمانوں کے نظم و ضبط اور یکجہتی کا بہترین مظاہرہ ہوتا ہے۔ غیر مسلم اس مظاہرے سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔ خدائے برتر کا حکم ہے کہ جیسے ہی اذان جمعہ ہو تمام کاروبار بند کر کے نماز کے لیے چلے جاؤ اور نماز ختم کر کے دوبارہ اپنے کاروبار میں مصروف ہوجاؤ۔
خلاصہ سورة الجمعہ
یہ سورت انسانوں کو نیکی ہدایت اور کامیابی کا ایک اچھا اور معروف طریقہ سمجھا رہی ہے۔ معروف اس لیے کہ اسلام سے پہلے اہل کتاب نے اپنے لیے احترام دین کے لحاظ سے ہفتہ کے مختلف دنوں کو منتخب کیا ہوا تھا مثلاً یہود نے ہفتہ کا دن عیسائیوں نے اتوار کا دن اسی طرح مسلمانوں نے جمعہ کا دن منتخب کیا جس کے لیے اللہ کی طرف سے بھی حکم صادر ہوگیا۔ اور حدیث میں آیا ہے۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے خطبہ میں فرمایا جان لو کہ اللہ نے تمہارے اوپر نماز جمعہ فرض کی ہے۔ (بیہقی)
سیدناعبد اللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا، لوگوں کو چاہیے کہ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے گا اور وہ غافل ہو کر رہ جائیں گے،۔ (مسند احمد، مسلم، نسائی)
نمازیں تو سب ہی فرض ہیں۔ جمعہ کی نماز اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ اس کو وقتاً فوقتاً رشد و ہدایت اور وعظ و نصیحت کی ضرورت رہتی ہے اس طرح دل و دماغ پر غفلت و لاپرواہی کا غبار جمنے نہیں پاتا بلکہ علم و عرفان اور نور ہدایت سے ایک خاص چمک اور سکون پیدا ہوتا رہتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جمعہ کی اذان سنتے ہی تمام کاروبار حیات بند کر کے نماز کی طرف چل پڑو،۔ جمعہ کی نماز میں خطبہ ہوتا ہے۔ جو کہ ہر کس و ناکس کے لیے سننا ضروری ہوتا ہے۔ اسی اجتماعی عبادت سے نہ صرف یہ کہ آپس میں بھائی چارہ، نظم و ضبط اور اسلامی تعلیمات کی مشق ہوتی رہتی ہے بلکہ اسلامی قوانین کی مستقل تشہیر ہوتی رہتی ہے۔ اور اسلامی قوانین ہر لحاظ سے اتنے محکم اور فطرت انسانی کے قریب ترین ہیں کہ وہ دنیا کے ہر خطے ہر طبقے اور ہر نسل کے لیے انتہائی موزوں ترین ہیں اسی لیے ان میں کسی رد و بدل کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی اور اس حقیقت کا اظہار غیر مسلم بھی کرتے ہیں مثلاً مشہور مستشرق ویلز یوں لکھتے ہیں، تاریخ انسانی کے خدوخال میں لکھا ہے، بیشک یورپ، اپنے تجارتی و انتظامی قوانین کے لحاظ سے اسلام کا شہر ہے،۔
مگر افسوس اس بات کا ہے کہ خود مسلمانوں نے اللہ کے وضع کیے ہوئے قوانین اور سیدھے راستے سے دوری اختیار کرلی ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کا وقار ڈولنے لگا ہے۔ اسی کمی اور مذہب سے دوری کو مٹانے کے لیے نماز جمعہ فرض کیا گیا ہے تاکہ دین کی دوری کو نزدیکی میں بدلا جاسکے۔ موجودہ خطیب بڑے اچھے خطیب ہیں ان کو بہت زیادہ احتیاط اور محنت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان کا رتبہ بڑا ہی اہم، نازک اور محترم و ذمہ داری کا رتبہ ہے۔ انہیں چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے قرآن پاک کی اس آیت کو سامنے رکھ کر وعظ تیار کیا کرـیں۔ اے پیغمبر ! لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریقہ سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا، تمہارا رب اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔ (سورۃ نحل آیت 125)
اس میں تین قسم کے لوگوں کے لیے وعظ و نصیحت کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ پہلا خواص کا طبقہ ہے۔ ان کے لیے محکم صحیح اور واضح دلیل کے ساتھ ایسی بات کی جائے جو شکوک و شبہات سے بالکل خالی ہو، تاکہ وہ آسانی سے ہدایت کی بات کو سمجھ سکیں۔ دوسرا طبقہ ہے عوام کا، ان کو سمجھانے کے لیے سیدھی سادی عام مگر پر اثر طریقہ سے بات کی جائے جو ان کی عام زندگی سے قریب ترین واسطہ رکھتی ہو۔ کیونکہ ایسے لوگ زیادہ شکوک و شبہات اور بڑی بڑی حکمت کی باتوں کو آسانی سے سمجھ نہیں سکتے اس لئے ان کی ذہنی صلاحیت کے مطابق آسان بات ہونی چاہیے۔ تیسرا طبقہ ہے مخالفین کا تو ان سے انتہائی نرمی، تحمل اور خوشگوار لہجہ میں ایسی دلیلوں کے ساتھ گفتگو کی جائے جو ان کے ارد گرد عام زندگی کے ہر لمحہ میں موجود ہوں اور ان کے لیے کفر و ایمان، نیکی و بدی، اور شرو فساد اور امن و سکون کا فرق پوری طرح واضح کرسکیں۔ اگر ایک واعظ ان تمام باتوں کا خیال نہ رکھے تو وہ یقیناً کامیاب واعظ نہیں ہوسکتا۔ رسول کریم ﷺ مخاطب کی صلاحیت کا بڑا خیال رکھتے اور پھر خطبہ دیتے ہوئے آپ ﷺ خیال رکھتے تھے کہ سامعین اکتانہ جائیں۔ اور آپ ﷺ کا لہجہ اور انداز اس قدر مشفقانہ، پر سکون اور شگفتہ ہوتا تھا کہ سننے والا سحر زدہ ہوجاتا اور اس کی کایا ہی پلٹ جاتی یہ بھی واعظ کی خصوصیات میں شامل ہونا چاہیے واعظ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ ایسی بات ہرگز نہ کرے جو قوم ملک میں تفرقہ بازی کا باعث بنے یا جو شر و فساد کا باعث بنے۔ ہادی برحق ﷺ کا ارشاد ہے کہ، میں اپنی امت کے متعلق گمراہ ائمہ سے شدید ترین خطرہ محسوس کرتا ہوں،۔ (ابو وؤد)
جمعہ کی نماز بڑی اہمیت اور برکت رکھتی ہے اس لیے اس کی حرمت ہر شخص پر لازم ہے اور اس فرض کو پورا کرتے ہوئے اپنے دنیاوی کاموں کو خاص طور پر لین دین یعنی تجارت کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ کیونکہ رزق تو اللہ کے اختیار میں ہے القرآن، زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو،۔ ( سورة ھود :6) لہٰذا ہمیں اپنے فرائض پورا کرتے ہوئے توکل علی اللہ پر نظر رکھنی چاہیے۔ حقوق العباد اور حقوق اللہ کو خلوص سے پورا کرنا ہمارا سب سے اولین فرض ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ الحمدﷲ سورة الجمعہ مکمل ہوگئی۔