63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 63:1–8

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! ) جب منافق لوگ آپ کے پاس آتے ہـیں تو کہتے ہیں، ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ ﷺ بیشک اللہ کے پیغمبر ہیں ٖاور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ظاہر کرتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کی وجہ سے) جھوٹے ہیں۔

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ یہ پہلے تو ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب آپ ان کو دیکھو تو ان کے ڈیل ڈول اچھے لگیں اور جب بولتے ہیں تو آپ ان کی باتوں کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل اتنے) کہ ہر زور کی آواز کو سمجھیں کہ ان پر بلا آئی۔ یہ آپ کے دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہنا، اللہ ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لیے مغفرت مانگیں تو سر ہلا دیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

آپ ان کے لیے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے۔ اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں، لیکن منافق نہـیں سمجھتے۔

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچے تو ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے، حالانکہ عزت اللہ کی ہے۔ اس کے رسول ﷺ کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے۔

منافق ان کے کارنامے اور انجام تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اصل میں جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ ہجرت کر کے گئے تو وہاں تین گروہ وجود میں آئے مسلم، مشرک اور منافق۔ منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دے کر میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کچھ مضبوط کرلوں گا اور مسلمان تو آج ہیں کل نہیں۔ مٹ مٹا جائیں گے پھر میرا ہی راج ہوگا۔ جو نشانیاں منافقین کی اس سورت میں بتائی گئی ہیں یعنی مضبوط ڈیل ڈول کے امیر کبیر، خوش گفتار اور وضعدار اور پھر ضرورت سے زیادہ قسمیں کھاکھا کر اپنے ایمان کی یقین دہانی کرانا اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دینے کا ہر وقت یقین دلانا اور خوب قسمیں کھا کھا کر غلط باتوں کو ٹھیک بنا کر لوگوں کو بد راہ کرنے کی کوشش میں لگے رہنا۔ یہ سب تو انہی منافقین کے گروہ کی لگتی ہیں جو عبد اللہ بن ابی کے چیلے تھے بہر حال مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ منافقین انتہائی خطرناک لوگ ہوتے ہیں۔ ان پر نہ تو یقین کرو اور نہ ہی ان پر بھروسہ کرو اور ان خطرناک لوگوں سے ہمیشہ ہوشیار رہو۔ سیدناقتادہ اور سیدناسدی (رح) فرماتے ہیں، یہ آیات عبد اللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہیں۔ واقعہ یہ تھا کہ اسی کی قوم کے ایک نوجوان مسلمان نے اس کی کچھ ایسی ہی بری باتیں رسول اللہ ﷺ تک پہنچائیں۔ حضور ﷺ نے اسے بلوایا تو وہ صاف مکر گیا اور جھوٹی قسمیں کھا گیا، انصار نے اس صحابی کو ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ کی اور اسے جھوٹا جانا اس پر یہ آیتیں اتریں تب اس سے صحابی کی سچائی اور اس کی منافقت ظاہر ہوگئی تو پھر اس کو کہا گیا کہ چل اور رسول اللہ ﷺ سے استغفار کر تو اس نے انکار کے لہجے میں سر ہلا دیا اور نہ گیا،۔ (ازتفسیر ابن کثیر) مزید کہ کتب سیر و مغازی کے مصنفین لکھتے ہیں کہ، یہ واقعہ (آیت 6 کے بارے میں) غزوہ مریسیع یعنی غزوہ بنو المصطلق کا ہے۔ چناچہ عاصم بن عمر بن قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ اس لڑائی کے موقع پر رسول کریم ﷺ کا ایک جگہ قیام تھا وہاں سیدناجھجاہ بن سعید غفاری ؓ اور سیدناسنان بن یزید ؓ کا پانی پر جھگڑا ہوگیا، جھگڑے نے طول پکڑا۔ سنان ؓ نے انصاریوں کو اور جھجاہ ؓ نے مہاجرین کو مدد کے لیے آواز دی۔ اس وقت سیدنازید بن ارقم ؓ وغیرہ انصار کی ایک جماعت عبد اللہ بن ابی ؓ کے پاس بیٹھی ہوئیـ تھی۔ اس نے جب یہ فریاد سنی تو کہنے لگا لو ہمارے ہی شہروں میں ان لوگوں نے ہم پر حملے شروع کردیے، اللہ کی قسم ہماری اور ان قریشیوں کی مثال وہی ہے جو کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو موٹا کرو تاکہ تجھے ہی کاٹے، خدا کی قسم اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو ہم ذی مقدور لوگ ان بےمقدروں کو وہاں سے نکال دیں گے پھر اس کی قوم کے لوگ اس کے پاس بیٹھے تھے ان سے کہنے لگا یہ سب آفت تم نے اپنے ہاتھوں اپنے اوپر لی ہے تم نے انہیں اپنے شہر میں بسایا تم نے انہیں اپنے مال کا آدھوں آدھ حصہ دیا، اب بھی اگر تم ان کی مالی امداد نہ کرو تو یہ خود تنگ آکر مدینہ سے بھاگ نکلیں گے وغیرہ وغیرہ۔ (از تفسیر ابن کثیر) آیات 7 اور 8 میں اللہ رب العزت نے ان کی کم عقلی، خباثت اور فخر و غرور میں ڈوبی ہوئی باتوں کا جواب دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور اپنے رسول ﷺ اور مومنوں کی شان اور مرتبہ کا اعلان کیا ہے کہ یہ منافق لوگ اس مرتبہ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ کیونکہ ان کی عقل، پہنچ اور سوچ تو صرف دنیاوی آسائشوں تک ہی محدود ہے۔ وہ تو سوچتے ہی نہیں کہ سب سے بڑا روزی دینے والا اور ہر طرح کی قدرت رکھنے والا تو صرف وہ خدائے واحد و ذوالجلال ہے جو بڑی عزت اور قدرت والا ہے اور سب کو عزت، دولت زندگی اور روزی رزق دینے والا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو یوں نصیحت فرماتا ہے۔
Ayahs 63:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

مومنو ! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس وقت سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو اس وقت کہنے لگو کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو اللہ اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔

موت یقینی ہے اور اللہ خبر رکھنے والا ہے تشریح : ان آیات کو غور سے پڑھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رب العٰلمین کس قدر مہربان اور حکیم و عزیز اور رحمن و رحیم ہے۔ اس نے اپنے بندے کو پیدا کر کے بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا بلکہ قرآن و سنت کے ذریعے معیشت، معاشرت، تمدن اور پرسکون زندگی گزارنے کے اصول بھی ہمیں بتا دیے ہیں۔ مال اور اولاد انسانی زندگی کا بہترین سرمایہ ہیں مگر ساتھ ہی بد ترین آزمائش کا ذریعہ ہیں اگر ان دونوں کی محبت میں ہم نے اعتدال سے کام نہ لیا تو یقینا ہم غفلت، بد اندیشی، نفرت، جرائم، بےاعتدالی اور اللہ سے دوری اختیار کرلیں گے تو اس سے اللہ کو یا کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہ ہوگا بلکہ ہم خود ہی اس بےاعتدالی کی وجہ سے دنیا و آخرت میں اتنا زبردست نقصان اٹھائیں گے کہ جس کی کوئی تلافی بھی ممکن نہ ہوگی۔ کیونکہ موت کا ذکر اسی لیے کردیا گیا ہے کہ وہ اٹل ہے خاص وقت میں آئے گی اور پھر دوبارہ یہ عملی زندگی ہر گزممکن نہ ہوگی۔ اسی لیے اولاد کے حقوق اور مال خرچ کرنے کے طریقے صدقہ خیرات اور زکوٰۃ کی صورت میں ہمیں بتا دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے پورے معاشرے میں اصلاح کا سامان ہوجاتا ہے اور خود انسان عملی زندگی میں بہترین انسان بننے کی سعادت حاصل کر کے آخرت کی تمام بتائی گئی ابدی خوشیوں کا حق دار بن جاتا ہے۔ ہے نامزے کی بات۔ ، دین خیر خواہی ہے،۔ اس کے لیے ایک حدیث ملاحظہ کریں۔ سیدناتمیم داری ؓ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ، دین خیر خواہی ہے،۔ تو ہم لوگوں نے کہا کہ کس کے لیے ؟ تو فرمایا کہ، اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کے اماموں اور مسلمانوں کے لیے ،۔ (مسلم شریف ) مطلب یہ ہے کہ اللہ، کتاب، رسول ﷺ اور ولی اللہ ان سب کو جب ہم نے دل و جان سے مان لیا، ان کی ہدایات کو سر آنکھوں پر رکھا تو بس نجات ہی نجات پا لی۔ اس کی وضاحت میں جدید معاشرے کی تصویر آپ کے سامنے رکھ کر کرنا چاہوں گی۔ یہ وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں مولانا وحید الدین خان صاحب نے کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں، جدید معاشرہ بیک وقت دو متضاد عمل کر رہا ہے، ایک طرف وہ مادی ساز و سامان فراہم کرنے میں پوری قوت صرف کر رہا ہے دوسری طرف وہ مذہب کو ترک کر کے وہ حالات پیدا کر رہا ہے جس سے زندگی طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوجائے، وہ ایک طرف دوا کھلا رہا ہے، اور دوسری طرف زہر کا انجکشن دے رہا ہے،۔ مہاتما گاندھی نے اس کو یوں کہا، سائنسی معلومات اور دریافتیں محض حرص کو بڑھانے کا اوزار ثابت ہوسکتی ہیں اصل قابل لحاظ چیز انسان ہے،۔ (از The Makinjg of Society, Delhi 1963 P. 68-69) اسی طرح بہت سے مفکرین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ مزید لکھتے ہیں۔ ، زندگی میں تمام خرابیوں کی جڑ صرف یہ واقعہ ہے کہ جدید دنیا کا انفرادی فلسفہ اور اس کے اجتماعی مقاصد ایک دوسرے سے متضاد ہیں، وہ تمام واردات جن کو ہم ناپسند کرتے ہیں، جن کو ہم جرم، برائی اور بد عنوانی کہتے ہیں، وہ دراصل کسی شخص، پارٹی یا قوم کی اپنی مادی خوشی حاصل کرنے کی کوشش ہی ہوتی ہے اور اسی کوشش کا سماجی انجام قتل، بد کاری، لڑائی، اغوا، جعل سازی، ڈاکہ، لوٹ گھسوٹ، جنگ اور اسی طرح کی دوسری بیشمار صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تضاد بتاتا ہے کہ زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ دنیا کی مادی چیزوں کے بجائے آخرت میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کو مقصد بنایا جائے جو فرد اور سماج کو باہمی تضاد سے بچا کر متوافق ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ نظریہآخرت کی یہ خصوصیت جہاں یہ ثابت کرتی ہے کہ وہی وہ واحد بنیاد ہے، جو ترقیاتی اسکیموں کو صحیح طور پر کامیاب کرسکتی ہے، اسی کے ساتھ وہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وہی حقیقی مقصد ہے۔ کیونکہ غیر حقیقی چیز زندگی کے لیے اتنی اہم ہم آہنگ نہیں ہوسکتی،۔ مطلب یہ ہے کہ حیوان اور انسان میں فرق ہی یہ ہے کہ مومن اللہ تعالی، یوم آخرت، دوبارہ زندہ ہونے، اللہ کے رسولوں اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والا ہے جب وہ ان تمام باتوں کو ماننے سے دور ہوگیا تو پھر وہ بھی حیوان کی طرح وحشی ہوگیا۔ مولانا موصوف مزید لکھتے ہیں، مشہور عالم پروفیسر نیگ نے (C.G. Jung) اپنی زندگی بھر کا تجربہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ، پچھلے تیس برسوں میں روئے زمین کے تمام متمدن ممالک کے لوگوں نے مجھ سے مشورہ حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا ہے، میرے مریضوں میں زندگی کے نصف آخر میں پہنچنے والے تمام لوگ۔ جو کہ 35 سال کے بعد کہی جاسکتی ہے، کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جس کا مسئلہ اپنے آخری تجزیہ میں زندگی کا مذہبی نقطہ نظر پانے کے سوا کچھ اور ہو، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان میں سے ہر شخض کی بیماری یہ تھی کہ اس نے وہ چیز کھو دی تھی جو کہ موجودہ مذاہب ہر دور میں اپنے پیرؤں کو دیتے رہے ہیں، اور ان مریضوں میں سے کوئی بھی حقیقتاً اس وقت تک شفایاب نہ ہوسکا جب تک اس نے اپنا مذہبی تصور دوبارہ نہیں پا لیا، (Couted by C.A. Coulson Science and Christia Belif, P. 110) (از مذہب اور جدید چیلنج) اس سورت کی تمام آیات انہی سکون بخش قوانین کی ترجمان ہیں جو بندے کو اللہ کی قربت میں حاصل ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ سے محبت کرتا ہے تو بھاگ بھاگ کر اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتا ہے جیسے ایک نیک نوکر مہربان مالک کی فرمانبرداری میں کرتا ہے اور پھر اس کے سامنے حاضر ہونے کی بہترین تیاری کرتا رہتا ہے کہ اللہ کے غصہ اور ناراضی سے بچ سکے آخری آیات پورے مضمون کا نچوڑ ہیں۔ یعنی مادی زندگی اللہ سے دور نہ کر دے کیونکہ اس میں نقصان ہے۔ مولیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنے مال بہترین طریقہ سے خرچ کرو۔ تاکہ تمہارے اندر بخل، خود غرضی، لوٹ گھسوٹ، بےرحمی اور شرو فساد جیسی خرابیاں پیدا نہ ہوجائیں اور تم پر سکون اور نیک لوگوں جیسی زندگیاں گزارو۔ یاد رکھو تمہاری تمام حرکات، سوچ اور نیتیں سب کچھ اللہ کے علم میں ہیں اور تم نے مرنے کے بعد اپنے اس دنیا کے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے ضرور حاضر ہونا ہے اور پورے انصاف کے ساتھ بدلہ بھی پانا ہے۔ کوئی دھاندلی وہاں نہ چلے گی۔ زندگی کو پرسکون کرنے اور آخرت میں نجات پانے کا کتنا آسان اور مجرب نسخہ ہے جو اللہ نے ہم لوگوں کو دے رکھا ہے اور اس یقین دہانی کے ساتھ کہ اس نسخہ میں قیامت تک کسی قسم کا کوئی رد و بدل ہرگز نہ ہوگا۔ اسی لیے یہ دین کامل کہلایا ورنہ تمام مذاہب بنیادی طور پر تو ایسے ہی اعتقادات کے حامل تھے مگر بعد میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں آتی چلی گئیں اور پھر لوگ ویسے ہی مذہب سے دور ہوتے چلے گئے۔ اللہ ہمیں مذہب سے دوری کی زحمت سے بچائے اور ہمیں بہترین مسلمان بننے کی توفیق دے کیونکہ اسی میں سکون ہے اور اسی میں نجات ہے۔ آمین۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں : کہ اے پیغمبر ﷺ فرمادیں میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ رب العٰلمین کے لیے ہے۔ (الانعام :163) کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ ، کاشت کرنا ہے تو پھول کروتا کہ تمہارا ماحول گلزار بن جائے،۔ بدی کے اندھیرے صرف علم کی روشنی سے ہی چھٹ سکتے ہیں،۔ علم قرآن جو تمام علوم کی جڑ، بنیاد ہے، جو انسان کے لیے روشنی ہی روشنی ہے قرآن ہمارے لئے بہترین نعمت ہے۔ خلاصہ سورة المنفقون یہ سورت انسانی کردار کو بہترین رخ پر رکھنے کے لیے بڑے ہی خوبصورت انداز میں مثالوں کے ساتھ بڑے اچھے اصول بتا رہی ہے۔ پہلا تو یہ کہ منافقت بڑی خبیث عادت ہے خود کو اس عادت سے بچانا چاہیے اور منافقین سے خبردار رہنا چاہیے۔ پھر یہ کہ غلط لوگوں سے نمٹنے کے لیے بڑی احتیاط، دور اندیشی، نرمی اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔ ہمارے مذہب نے ہمیشہ ہمیں ایسی ہی تربیت دی ہے۔ پھر نفس کو اپنے قابو میں رکھنا اور مال و اولاد کی وجہ سے خود کو ذلیل و خوار ہونے سے بچانا بےحد ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں جہاں رحمت ہیں وہاں زحمت بھی ثابت ہوسکتی ہیں جیسا کہ قرآن میں آتا ہے۔ ، تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں۔ (سورۃ التغابن :15) تو اس فتنے کو رحمت میں بدلنے کے لیے یہ سبق دیا گیا ہے۔ ، اے ایمان والو تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں،۔ (المنفقون 9) کیونکہ یہ انسانی فطرت میں ہے اگر وہ اعتدال اور اللہ کے احکامات کو سامنے نہ رکھے گا تو بہت ممکن ہے کہ وہ اس گناہ میں پھنس جائے تو اسی لئے حکم دیا گیا ہے کہ مال کو جوڑ جوڑ کر نہ رکھو بلکہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ صدقہ، خیرات، زکوٰۃ اور جہاد بالمال میں خوشی خوشی خرچ کرو۔ قرآن میں بیشمار دفعہ ان تمام کاموں کے بارے میں احکامات آچکے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا، نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ،۔ (سورۃ التوبہ :41) زندگی کو کامیاب، آسان اور پر سکون بنانے کے یہ بہترین اصول ہیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہرضی اللہ تعالیٰ عنہابیان کرتی ہیں آپ ﷺ اکثر یہ دعا مانگتے رہتے ہیں۔ (یا ملقب القلوب ثبت قلبی علی دینک) اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جما دے،۔ (جامع ترمذی) ہماری بھی یہی دعا ہے۔ اللہ قبول فرمائے ( آمین) الحمد اللہ سورة المنٰفقون مکمل ہوئی۔