64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 64:1–4

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب اللہ کی تسبیح کرتی ہیں، اس کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف لامتناہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمان اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی اچھی بنائیں اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے اور اللہ دل کے بھیدوں سے واقف ہے۔

اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی تخیلقات تشریح : یہ تمام آیات اللہ وحد لا شریک کی لاجواب تخلیقات اور بےحساب حکمتوں کا اظہار کر رہی ہیں ہم خود اور ہمارے گرد پھیلی ہوئی تمام بہترین تخلیقات ہمارے دل و دماغ میں اس خالق کے وجود کا یقین پکا کردیتی ہیں جو کسی کا محتاج نہیں بالکل واحد ہے ہم سب اس کے محتاج ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس خالق ومالک کی تعریف نہ کریں اور اسی سے اپنی مرادیں نہ مانگیں۔ اللہ صرف ایک ہے مگر اس کی بنائی ہوئی ہر چیز جوڑوں میں ہے یا دو سے زیادہ میں ہے یہی فرق ہے مخلوق اور خالق میں۔ کیسی کیسی چیزیں اللہ نے بنا دی ہیں جن کو جاننا اور سمجھنا کسی کے بس میں نہیں ہاں انسان کو اس نے اپنی تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ خوبصورت شکل اور عقل دی ہے اور ساتھ میں ارادہ بھی مگر اس کے بدل میں یہ زندگی اور یہ دنیا اس کے لیے امتحان گاہ اور امتحانی وقفہ بنا دیا ہے۔ کیونکہ اس امتحان کا نتیجہ یوم آخرت کو نکلے گا۔ پھر یہ یقین کرلینا چاہیے کہ یہاں امتحان لینے والا کوئی انسان نہیں کہ جس کو دھوکہ دیکر نمبر لگوا لیئے جائیں گے بلکہ یہاں تو باری تعالیٰ خود ہی امتحان لینے والا اور نتیجہ دینے والا ہوگا۔ وہ باری تعالیٰ ، جو سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کچھ کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے۔ اور اللہ دل کے بھیدوں سے بھی واقف ہے،۔ (4 آیت) تو بہتر ہے کہ زندگی کی ہر راہ پر اس کو یاد رکھیں۔ اس سے ڈریں اس کی تسبیح کریں اور اسی سے ہر طرح کی مدد مانگتے رہیں کہ وہ تو سب سے زیادہ مہربان اور قریب ہے۔ اللہ فرماتا ہے، تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا میرا شکر کرو اور ناشکری سے بچو،۔ (البقرہ :152) حدیث میں آتا ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ، ، ذکر الٰہی سے زیادہ کوئی عمل انسان کو عذاب قبر سے نجات دینے والا نہیں ،۔ (احمد، جامع الصغیر ) اتنا کچھ جان لینے کے بعد کون بیوقوف ہوگا کہ جو اللہ کی قربت کی خواہش نہ کرے گا جو اس کے ذکر سے حاصل ہوسکتی ہے اور زندگی کو پر سکون بنا سکتی ہے۔ کسی امیر کبیر کی قربت سے ہم کس قدر خوش ہوتے ہیں جو ہماے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ تو خود اللہ کا محتاج ہوتا ہے۔ بس تو سچے مومن کی نشانی یہی ہے کہ وہ ہر پل اپنے دل و دماغ کو روح کو اللہ کے نور سے روشن کیے رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہــ، تم اگر میری طرف ایک قدم بڑھو تو میں تمہاری طرف کئی قدم بڑھاتا ہوں،۔ جب بھی بچہ ماں کو پکارتا ہے تو ماں بھاگتی ہوئی جاتی ہے۔ اللہ کو تو اپنی مخلوق سے ماں کی محبت سے 99 گنازیادہ محبت ہے۔ کتنا آسان کام ہے اللہ کی محبت حاصل کرنے کا اس کی قربت حاصل کرنے کا کہ اگر اس کی طرف چل کے جاؤ تو وہ بھاگ کر آتا ہے۔ مہربان اتنا کہ کوئی اس کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے۔ ، اللہ کے (بندوں) کو یعنی دوستوں کو غم لاحق ہوگا نہ کوئی پریشانی،۔ ( سورة یونس :62) ذرا سوچو تو اللہ کی دوستی کس کمال کی دوستی ہے۔ کہ جو ہر دکھ ہر درد پریشانی منٹوں میں دور کر دے مگر اس کے لیے ریاضت، عبادت اور ذکر و فکر کی ضرورت ہے۔ اور یہ بہت آسان ہے۔ آزما لیجئے۔ ، بیشک دعا مومن کا بہت بڑا ہتھیار ہے،۔ مگر شرط ہے مومن ہونا۔
Ayahs 64:5–10

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا آپ کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آتے تو یہ کہتے کہ، کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ہیں، ؟ تو انہوں نے ان کو نہ مانا اور منہ پھیرلیا اور اللہ نے بھی بےپروائی کی اور اللہ بےپرواہ اور خوبیوں والا ہے۔

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کو یقین ہے کہ وہ دوبارہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرمادیں کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو جو کام تم کرتے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ کام اللہ کے لیے آسان ہے

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

تو اللہ اور اس کے رسول پر اور قرآن جو ہم نے نازل کیا ہے ایمان لاؤ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں اکٹھا کرنے کے دن اکٹھا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور بہشت کے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔

منکرین اور ان کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت انسان کی فضیلت اور فرائض پھر ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہے جو ایمان لائے یا جنہوں نے کفر کیا ان آیات میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تمہارے سامنے گزشتہ تاریخی واقعات موجود ہیں کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی دنیا میں ان کو مختلف عذاب دیے گئے مثلاً کسی کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ کسی پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور کئی انسانی شکل و صورت سے محروم کر کے بدنما جانور بنا دیے گئے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن جو عذاب ان کو ملے گا وہ تو بڑا ہی درد ناک ہوگا۔ مگر کفار اس لیے بےپرواہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب لیے جانے اور بدلہ دیے جانے پر بالکل یقین نہیں رکھتے۔ تو اللہ رب العزت اپنے پیارے رسول ﷺ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ اللہ کی قسم کھا کر ان کو آخرت کا اور دوبارہ اٹھائے جانے کا یقین دلا دو ۔ اور ان کو سمجھا دو کہ تمہیں اپنے دربار میں حاضر کر کے تمہاری اچھی طرح خبر لینا اللہ کے لیے ہرگز مشکل کام نہیں۔ اس کے کائنات کے کارخانے میں ہر وہ بندوبست موجود ہے جو تم میں سے ہر شخص کا ایک ایک عمل فلم کے ساتھ محفوظ کر رہا ہے اس کی سائنسی لحاظ سے توضیح ہوچکی ہے۔ اس لیے تمہارے لئے بہترین راستہ یہی ہے کہ نور ہدایت یعنی قرآن پاک کی روشنی میں گناہوں سے بچ کر نیکی اور نجات کا راستہ اختیار کرو۔ یہاں آپ ﷺ کو قسم کھا کر پیغام دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ محض پیغام میں زور اور بات میں سچائی پیدا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس طرح کی دو آیات پہلے گزر چکی ہیں۔ پہلی سور ہیونس میں دوسری سورة سبا میں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انسان اللہ و رسول پر ایمان لائے تو اللہ کو اس کا کوئی نفع نہیں اگر نہ لائے تو اس کی سلطنت میں کوئی کمی کوئی فساد پیدا نہیں ہوتا۔ اگر نفع ہوتا ہے نقصان ہوتا ہے تو وہ خود انسان کا ہوتا ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں گزار دی جائے تو اس میں نجات آخرت اور سکون دنیا ضرور ملے گا اور ایک کامیاب انسان کو اس سے زیادہ کیا چاہیے۔ دیکھا جائے تو یہ سب کچھ اللہ کی رحمت اور انسانوں پر مہربانی کا بہت بڑا سامان ہے۔ اکثر لوگ جو مسلمان ہوتے ہیں مگر دنیا کے ہنگاموں میں اس قدر غرق ہوچکے ہوتے ہیں کہ اگر ان کو کہا جائے کہ بھئی قیامت کو یاد کرو تمہارا حساب کتاب لیا جائے گا تو بےاعتنائی سے کہہ دیتے ہیں، اہو دیکھا جائے گا،۔ یہ ایمان کی کمزوری اور غفلت کا نتیجہ ہے تو ایسے تمام لوگ اور مشرک و کافر لوگوں کے لیے ہی سورة التغابن اور اسی مضمون کی بہت سی آیات قرآن پاک میں بیان کی گئی ہیں۔ یہ سورت اپنے نام اور آیت 9 کے حوالے سے بڑی خوف دلانے والی سورت ہے۔ ، تغابن، غبن سے ہے۔ غبن کے بیشمار معنی ہیں۔ مثلاً لین دین کرنا، دھوکہ دینا، لوٹ لینا، ذہن کی کمزوری، غفلت، بھول، حصہ سے محروم رہ جانا اور کاروبار میں دھوکہ دے دینا وغیرہ۔ اس کو یوں واضح کرتے ہیں۔ امام حسن بصری (رح) تعالیٰ نے دیکھا کہ ایک شخص دوسرے کو بیع میں دھوکہ دے رہا ہے تو آپ نے فرمایا، یہ شخص تجھے بیوقوف بنا رہا ہے،۔ جیسا کہ ہم اردو میں عام طور پر یوں کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص نے بینک میں یا کہیں بھی اتنا بڑا غبن کیا اور پھر بھاگ گیا۔ یہاں اس لفظ کو مفسرین صاحبان نے یوں بیان کیا ہے۔ ، قیامت کے دن ظالم کی اتنی ہی نیکیاں مظلوم لوٹ لے جائے گا جو اس پر ہونے والے ظلم کا بدلہ ہو سکیں یا مظلوم کے اتنے گناہ ظالم پر ڈال دیے جائیں گے جو اس کے حق کے برابر وزن رکھتے ہوں۔ ، ایک حدیث پاک سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، جس شخض کے ذمے اپنے کسی بھائی پر کسی قسم کے ظلم کا بار ہو، اسے چاہیے کہ یہیں اس سے سبک دوش ہو لے کیونکہ آخرت میں درہم و دنیا رنہ ہوں گے وہاں اس کی نیکیوں میں سے کچھ مظلوم کو دلوائیـ جائیں گی یا اگر اس کے پاس کافی نیکیاں نہ ہوں تو مظلوم کے کچھ گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔ (ازمطالعہ قرآن صفحہ 127) ۔ اس سورت میں ہماری زندگیوں کو بدلنے کے لیے کافی دلائل دیے گئے ہے۔ تغابن کا لفظ اپنے اندر بڑی حقیقت سمیٹے ہوئے ہے۔ قیامت کے دن کے ساتھ تغابن کا لفظ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا بڑی سعادت کی بات ہے۔ کیونکہ ایماندار نیک بندے کے چھوٹے موٹے گناہ اللہ نے ویسے ہی معاف کردینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور بہشت کا داخلہ تو ہوگا ہی، وہ بہشت جس کا نقشہ ہی ایسا دل فریب ہے کہ بندہ سوچے سب کچھ بیچ دو اور بہشت خریدلو۔ یہ اللہ کا دستور ہے کہ جہاں نیک کا ذکر ہوگا تو وہاں بد کا ذکر ضرور ہوگا، لہٰذا نیکی کا بدلہ جنت ہے تو بدی کا بدلہ دوزخ ہے۔ وہ بہترین ہے اور یہ بد ترین ہے۔ جو چاہو خرید لو مہلت تمہیں مل چکی ہے اور روشنی تمہارے سامنے ہے۔ جیسا کہ اگلی آیات میں ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 64:11–18

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر اللہ کے حکم سے اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمہ تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ جو برحق معبود ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

مومنو ! تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن بھی ہیں سو ان سے بچتے رہو اور اگر معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو اور اس کے احکام کو سنو اور اس کے فرمانبردار رہو اور اس کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہا رے حق میں بہتر ہے اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچالیا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو خلوص اور نیک نیت سے قرض دو گے تو وہ تم کو اس سے دگنا دے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا۔ اللہ قدر شناس اور بردبار ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

پوشیدہ اور ظاہر کا جا ننے والا غالب اور حکمت والا۔

مومن کے لیے آخرت کا زادراہ تشریح : یہ آیات انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ایک چھوٹا سا منشور ہے آئین ہے جو ہم انسانوں کے لیے آسانیاں اور سکون مہیا کرتا ہے۔ یہی فرق ہے کافر کی زندگی اور مسلمان کی زندگی میں مثال کے طور پر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک چھوٹا سا حصہ ان کی آپ بیتی میں سے بتاتی ہوں یہ انہوں نے آزادی سے 12 سال پہلے 1935 ء میں جیل میں قید ہونے کے دوران لکھی تھی۔ ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہوگیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کرسکتا، کتاب زندگی کے اگلے اوراق سر بمہر ہیں۔ (Nehru-Autobiography, London 1935, P597) جب ان کی زندگی کا اگلا دور شروع ہوا تو وہ دنیا کے تیسرے بڑے ملک کے وزیر اعظم بنے۔ اور اب بھی یہی خیال ان کے ذہن میں گھوم رہا تھا کہ ابھی زندگی کے مزید کچھ اوراق بند ہیں یہی خیال لے کر ہر انسان پیدا ہوتا ہے لہٰذا جنوری 1964 ء کے پہلے ہفتے میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانگریس کی بین الاقوامی کانفرنس نئی دہلی میں ہوئی جس میں ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے بارہ ڈیلی گیٹ شریک ہوئے، پنڈت نہرو نے اس موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ، میں ایک سیاست دان ہوں اور مجھے سوچنے کے لیے وقت کم ملتا ہے پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے، کس لیے ہے، ہم کیا ہیں، اور ہم کیا کر رہے ہیں، میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر بناتی ہیں،۔ (National Herald, Jan, 6, 1964) مولانا وحیدالدین خان صاحب اس کا تجزیہ یوں کرتے ہیں۔ ، یہ ایک عدم اطمینان ہے جو ان تمام لوگوں کی روحوں پر گہرے کہر کی طرح چھایا رہتا ہے، جنہوں نے اللہ کو اپنا الہ اور معبود بنانے سے انکار کیا، دنیا کی مصروفیتوں اور وقتی دلچسپوں میں عارضی طور پر کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اطمینان سے ہم کنار ہیں، مگر جہاں یہ مصنوعی ماحول ختم ہوا، حقیقت اندر سے زور کرنا شروع کردیتی ہے اورا نہیں یاد دلاتی ہے کہ وہ سچے اطمینان سے محروم ہیں۔ خدا سے محروم قلوب کا یہ حال صرف ایک دنیوی بےاطمینانی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک دائمی مسئلہ ہے یہ دراصل اس تاریک اور بےسہارا زندگی کے آثار ہیں، جس کے کنارے وہ کھڑا ہے یہ اس ہولناک زندگی کی ابتدائی گھٹن ہے، جس میں ہر آدمی کو موت کے بعد داخل ہونا ہے اور اس خطرے کا پیشگی الارم ہے، جس میں اس کی روح کو بالاخر مبتلا ہونا ہے، مختصر یہ کہ وہ اس جہنم کا دھواں ہے جو ہر کافر و مشرک کے لیے تیار کی گئی ہے گھر میں آگ لگ جائے تو اس کا دھواں سوتے ہوئے آدمی کے دماغ میں گھس کر اس کو آنے والے خطرے سے باخبر کرتا ہے، اگر یہ دھوئیں کی گھٹن سے جاگ گیا تو خود کو بچا لے گا لیکن جب شعلے قریب آجائیں تو وہ انتباہ کا وقت نہیں ہوتا بلکہ وہ ہلاکت کا فیصلہ ہوتا ہے جو اس کو چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمہاری بےحسی اور بیخبر ی نے تمہارے لیے مقدور کردیا ہے کہ تم آگ میں جلو،۔ (مذہب اور جدید چیلنج) یہ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ بے خدا تہذیب، بےربط معیشت، تمدن، بےبنیاد زندگی اور بےاصول معاشرے نے انسان کو ہر قسم کی بےسکونی، بےرہروی، بد کرداری اور بد نظمی میں مبتلا کردیا ہے۔ صنعتی ترقی، سائنسی اصلاحات، مال کی ہوس اور ترقی کی دوڑنے انسانی معاشرے کو پوری طرح مادی اور انفرادی خوشیاں حاصل کرنے کے چنگل میں پھنسا دیا ہے۔ جو معاشرے میں بےانصافی، بد دیانتی، چوری، قتل، فساد اور رشوت کا بول بالا کرتا ہے۔ اور یہی خود غرضانہ انفرادی خوشی حاصل کرنے کی جدوجہد انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی پہچان دی ہے۔ کہ وہ بہترین مخلوق ہے، عقل رکھتی ہے، علم اس کو دیا گیا ہے۔ جس میں سب سے پہلے اس کو اس کے خالق کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اکیلا ہے اسی نے اس کو بنایا ہے اور اس کے لیے پوری کائنات بنائی ہے جو یہ بتا رہی ہے کہ وہ بڑا بےنیاز ہے، اپنے بندوں پر رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ یہاں صرف ان تین صفات کو بیان کیا جاتا ہے جو سورة التغابن کے آخر میں بیان کی گئی ہیں یعنی عالم الغیب والشھادۃ۔ (1) صرف اللہ کی ہی ذات بابرکت اور واحد ہے جو یہ طاقت رکھتا ہے کہ ظاہر باطن، ماضی، حال، مستقبل زمان ومکان کا اور انسان کا، سب کچھ اسی کے علم میں ہے۔ ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔ نہ کبھی ہوا نہ ہو سکے (2) العزیز ہے یعنی وہ اپنے علم و عرفان میں بےمثال اور وہ پوری طرح ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے۔ (3) الحکیم۔ حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت ہی ہے جو اس نے انسانی جسم بنایا نظام کائنات کس حکمت اور اندازے سے بنایا کہ اس کو پوری طرح سمجھ لینا انسان کی عقل سے باہر ہے۔ ہے کوئی ایسا جو ریت کا ایک ذرہ یا ایک تنکا بھی اپنی قدرت و حکمت سے بنا سکے ؟ ہرگز نہیں اور یہ عین حقیقت ہے۔ اس کے اسی طرح کے 99 صفاتی نام ہیں۔ اسی لیے سب سے پہلا حکم بندے کی بہتریوں کے لئے اس نے یہی دیا کہ سب سے بےنیاز ہو کر صرف اللہ کی عبادت کرو یعنی اپنے دکھ سکھ اور ہر پریشانی میں اسی کا سہارا مضبوطی سے تھام لو۔ پھر جو رسول اس نے ہدایت کے لیے بھیجا ہے اس کی فرمانبراداری کرو کیونکہ وہی تمہیں قرآن کے احکامات سے آگاہ کرے گا۔ قران کے احکامات جو تمہیں ایسی زندگی گزارنے کے آسان طریقے بتاتا ہے کہ تم دنیا کی تمام آسائشوں سے پاک صاف پرسکون زندگی گزار سکو گے جو تمہـیں گناہوں سے بچا کر جنت میں جگہ دلانے کا ذمہ دا رہے۔ اس سورت کے آخر میں چند اصول اخلاق بتائے گئے ہیں ملاحظہ ہوں۔ جیسے توحید پر ایمان، رسالت پر ایمان، آخرت پر ایمان، جنت اور دوزخ پر یقین، بیوی بچوں کے غلط مطالبات اور خواہشات سے خود کو بچانا، مال و اولاد کی محبت میں اللہ کو اور اس کے احکامات کو نہ بھلانا، عام زندگی میں عفو در گزر سے کام لینا، تقوی اختیار کرنا۔ اللہ کی راہ میں اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں سے مال خرچ کرنا، بخل سے بچنا، اللہ کو قرض حسنہ دینا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا۔ اس سورت کے شروع میں بھی چند حقائق بتائے گئے ہیں مثلاً یہ کہ تمام انسانوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ بےسہارا نہیں ان کو ایک بڑا مضبوط، معقول اور ہمیشہ رہنے والے اللہ کا سہارا ملا ہوا ہے۔ اور یہ کہ انسان کی زندگی بےمقصد نہیں، کائنات صرف کھیل تماشہ نہـیں۔ انسان کی زندگی اور کل کائنات بامقصد اور حکمت کے تحت ہے۔ انسان زندگی کے گزرانے میں آزاد اور خود مختار ہے مگر حیوانوں کی طرح آزاد نہیں اس کی جواب دہی ضرور ہوگی کیونکہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اپنی پوری زندگی کا حساب کتاب دے کر انعام یا سزا ضرور ملے گی۔ اس لیے اخلاقی، تمدنی، سماجی اور معاشرتی اصول جو بتائے گئے ہیں قران و سنت میں ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اسلام دین فطرت ہے، اس لیے اس میں کسی ایسی بات کا حکم ہرگز نہیں دیا گیا جس پر عمل کرنا انسان کے لئے مشکل یا ناممکن ہو۔ بلکہ سب کچھ خود انسان کی زندگی میں بھلائی اور آخرت میں یقینی نجات کا ہی باعث ہوگا۔ یہ تمام احکامات ہر مرد، عورت، بچے، بوڑھے اور جوان کے لئے ہیں چاہے وہ زندگی کے کسی بھی شعبہ یارتبہ سے تعلق رکھتاہو۔ امیر ہو غریب ہو یادرمیانے درجے کا ہو۔ کیونکہ امیری، غریبی، شہرت، صحت، سکون، پریشانی، رحمت یا زحمت۔ ہر صورت میں انسان کا امتحان ہے کہ وہ اپنے فرائض کو شکر، صبر، نیک نیتی، خلوص محبت اور قرآن و سنت کو سامنے رکھتے ہوئے پورا کرتا ہے۔ یا کہ ان تمام مندرجہ بالا حدود سے علیحدہ ہو کر زندگی گزارتا ہے۔ جو بھی انسان کرتا ہے خود اپنے لیے کرتا ہے۔ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے۔ ، اللہ کے دوستوں کو غم لاحق ہوگا اور نہ کوئی پریشانی،۔ (سورۃ یونس :62) اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو مسلمان ہے وہ نہ کبھی بیمار ہوسکتا ہے نہ غریب اور نہ ہی کمزور۔ یہ تمام حالات تو زندگی کا لازمہ ہیں۔ کیونکہ صحت کی قدر بیماری سے اور مال و اولاد کی قدر غریب و بےاولادی سے ہی ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان کسی بھی حالت میں خود کو بےسہارا اور پریشان نہیں ہونے دیتاکیون کہ وہ جانتا ہے اس کے ساتھ جو بھی ہو رہا ہے اللہ کی مرضی سے ہو رہا ہے اور جو ہو رہا ہے کسی نہ کسی مصلحت کے تحت ہو رہا ہے۔ اس لیے اس کے صبر و سکون کا انعام اسے ضرور ملے گا۔ یہاں بھی اور وہاں بھی کہ جو ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ حدیث میں آیا ہے، ہوشیار بنئے دور اندیش بنئے : ایک صحابی ؓ نے عرض کیا :، اے اللہ کے رسول ﷺ ! بتلائیے کہ آدمیوں میں کون زیادہ ہوشیار اور دوراندیش ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہے اور موت کے لیے زیادہ سے زیادہ تیاری کرتا ہے، جو لوگ ایسے ہیں وہی دانشمند اور ہوشیار ہیں، انہوں نے دنیا کی عزت بھی حاصل کی اور آخرت کا اعزازو اکرام بھی،۔ (معجم الصغیر، طبرانی) یا اللہ مجھے اپنا شکر گزار بنا، اپنا ذکر کرنے والا، اپنے سے ڈرنے والا، اپنا فرمانبردار، اپنی طرف عاجزی کرنے والا، زاری کرنے والا، رجوع کرنے والا، یا اللہ میری توبہ قبول کرنا، میرے گناہوں کو دھو ڈال، میری زبان کو سچا بنا، میرے دل کو ہدایت دے اور میرے سینے سے ہر قسم کی برائی دور کر دے۔ آمین ثم آمین خلاصہ سورة التغابن اس سورة مبارکہ کے خاص مضامین یوں ہیں 1 ۔ یہ کائنات یونہی نہیں بن گئی بلکہ اس کا خالق ومالک اللہ ہے۔ جو الہ العلمین ہے قادر مطلق ہے۔ 2 ۔ یہ کائنات اور انسان بےمقصد نہیں پیدا کیے گئے 3 ۔ انسان کو خلائق مجبور میں شامل نہیں کیا گیا بلکہ عقل و ارادہ دے کر پیدا کیا گیا ہے۔ 4 ۔ انسان نہ تو مجبور ہے اور نہ ہی مکمل طور پر آزاد بلکہ اس کو جواب دینا ہوگا اپنی پوری زندگی کے اعمال کا۔ 5 ۔ اللہ عالم الغیب والشھادۃ ہے اس لیے جوابدہی بڑی سخت ہوگی پورے انصاف کے ساتھ۔ 6 ۔ قوموں کی تباہی دو وجہ سے ہوئی۔ ایک خود ساختہ اصول حیات بنا کر خوار ہونا اور دوسرا آخرت سے انکار۔ 7 ۔ مومن کا بھروسہ پوری طرح اللہ پر ہونا چاہیے۔ 8 ۔ مومن کا مرنا جینا، مال اولاد اور سب کچھ اللہ کے لیے ہونا چاہیے 9 ۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق احکامات الٰہی کی پوری پوری تعمیل کرے۔ اللہ ان پر کار بند رہنے کی توفیق دے آمین۔ الحمدللہ سورة تغابن مکمل ہوئی۔