Ayahs 65:1–3طلاق کی خاص حدود
تشریح : حدیث میں آتا ہے، اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا جو طلاق سے بڑھ کر اسے ناپسند ہو،۔ (ابو داؤ)
اللہ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں اسی طرح طلاق کی اجازت اور پھر اس کے لیے حدودو قوانین ایسے بہترین اور انسانی سوسائٹی کی اصلاح کے عین مطابق ہیں کہ انسان فورا سمجھ جاتا ہے کہ یہ اس باہمی نظام کی کڑیوں کو درست کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو میاں بیوی کی مضبوط زنجیر سے بندھا ہوا ہے۔ کیونکہ یہ زنجیر نظام کائنات کو درست رکھنے کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ پورے معاشرے کی اصلاح گھر سے ہی تو شروع ہوتی ہے۔ اس لیے گھر کا ماحول صحت مند، پر سکون اور منظم ہونا چاہیے۔ اگر اس کی ترتیب میں کوئی نقص پیدا ہوجائے تو اصلاح بےحد ضروری ہے تاکہ میاں بیوی کی یہ اہمیت مضبوط اور صحیح رہے اور یوں پورا معاشرہ صحت مند اور بہترین رہے۔ کتاب و سنت نے ہمارے ہر مسئلے کو بڑی حکمت سے حل کردیا ہے۔ لہٰذا اگر میاں بیوی میں اس حد تک اختلافات، بد مزگی اور بد اعتمادی پیدا ہوجائے کہ ان کا ایک ساتھ رہنا دو بھر ہوجائے تو ہمارے مذہب نے اس کے لیے طلاق کا راستہ بتایا ہے اور وہ ان شرائط کے ساتھ کہ جن میں آخر وقت تک صلح صفائی اور بہتری کی گنجائش ہو۔
مثلاً اول تو غصہ کا تدارک کیا ہے کیونکہ طلاق عام طور پر غصہ کی حالت میں دی جاتی ہے اور غصہ کے لیے امام مالک (رح) نے فرمایا ہے۔ ، انسان کا سب سے بڑا بوجھ غصہ ہے،۔ شریعت میں طلاق دینے کے لیے ایک خاص وقت مقرر کردیا گیا ہے وہ یوں کہ اس وقت طلاق دو جب بیوی پاک ہوچکے اپنی ماہواری سے اور تم نے اس سے تعلق نہ کیا ہو اور پھر بڑی احتیاط سے عدت کا شمار کرو۔ کیونکہ طلاق کے لیے تین ماہ کا وقفہ معین کردیا گیا ہے۔ پہلی طلاق رجعی دو ۔ یعنی اس ماہ کے دوران اگر کوئی صورت صلح کی نکل آئے تو دوسری ماہواری سے پہلے صلح کرلو۔ پھر دوسری ماہواری سے پاک ہونے سے دوسرا مہینہ شروع ہوگا۔ اب دوسری طلاق دیدو یہ مہینہ گزرنے تک اگر کوئی سلسلہ ایسا ہوجائے کہ دونوں مل کر رہنا پسند کریں تو صلح کرلو لیکن اگر کوئی بات نہیں بنتی تو پھر تیسری ماہواری سے پاک ہونے پر تیسری طلاق دیدو اور اب تین طلاقیں تین مہینوں میں پوری ہوگئیں۔ اس دوران میاں بیوی بغیر تعلقات قائم کیے ہوئے ایک گھر میں رہیں۔ یہ اس لئے کہ شاید اس دوران بہتری کی کوئی صورت نکل آئے مگر تین طلاقیں ہوجانے کے بعد مرد عورت ایک دوسرے کے لیے غیر ہوجاتے ہیں۔
یہاں عورت مرد کے لیے سوچنے سمجھنے کی بڑی سہولت رکھی گئی ہے۔ مگر پھر بڑا سخت فیصلہ ہے۔ لہٰذا طلاق کا مسئلہ بڑا سنگین ہے کوئی کھیل تماشہ نہیں یا کوئی گالی کا درجہ نہیں رکھتی کہ طلاق بول دیا۔ اس تمام سلسلے میں بد نیتی، بےایمانی، بد کرداری، بد سلوکی اور احکاماتِ الٰہی سے دوری ہرگز جائز نہیں۔ بلکہ یہ تمام حدود اللہ و رسول کی دی گئی ہدایات کے مطابق پورے اعتماد اور نیک نیتی سے پوری کی جائیں۔ طلاق کی عدت میں خیال رکھا جائے کہ عورت گھر میں رہے ہاں اگر بد سلوکی، بد مزگی یا دنگے فساد کا ڈر ہو تو پھر بیشک گھر سے نکال دو یا وہ خود چلی جائے۔ اور پھر اس پورے معاملہ میں خاص طور سے حکم دیا گیا ہے کہ پر سکون طریقے سے دو معزز گواہوں کی موجودگی میں بغیر کسی بد کلامی، ظلم زیادتی یا غصہ کے مسئلہ حل کیا جائے۔ ساتھ رہنا ہو تو پورے خلوص سے صلح کرلو اور اگر طلاق دینی ہو تو بڑی عزت و احترام سے عدت پوری ہونے پر عورت کو رخصت کر دو ۔ پھر یقین رکھو اور ہرگز مت گھبراؤ کہ اب کیا ہوگا۔ جب تم نے اللہ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق سب کچھ نیک نیتی سے کیا ہے تو پھر اللہ پر بھروسہ رکھو وہ ایسے ایسے اسباب سے روزی اور رزق کا بندوبست کرتا ہے کہ جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ اسلام سے پہلے عورت سوسائٹی کی مظلوم ترین مخلوق تھی اول تو اس کو پیدا ہوتے ہی مار دیا جاتا اور نہ مارتے تو عورت کو ویسے ہی ذلیل و خوار کرتے رہتے۔ نکاح شادی اور باہمی تعلقات میں کسی بھی حرمت کا لحاظ نہ رکھا جاتا تھا۔ اللہ نے عورت کو عزت کا مقام دیا اور اسکو مرد کے ساتھ ایک عظیم پر وقار رشتہ کی صورت میں منسلک کردیا۔ اور جو لوگ اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ یقینا اللہ کی بتائی گئیـ تمام حدود کا خوش دلی سے احترام و اکرام کرتے ہیں اور ان کو پورے خلوص سے دھیان میں رکھتے ہیں اور کوئی کام اس سے باہر نکل کر ہرگز نہیں کرتے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جو کچھ بھی الہ العٰلمین نے ہمارے لیے مقرر کردیا ہے وہ ہر صورت بہتری، سہولت اور سکون کے لیے ہی کیا ہے۔ اس لیے کسی چیز کا بھی خوف دل میں لائے بغیر ان تمام حدود کے اندر رہ کر سب کام کرنے چاہییں۔ یہی نشانی ہے متقین کی۔ اور اللہ ایسے ہی لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔ ان آیات میں بڑے سبق بھی ملتے ہیں۔ مثلاً مظلوم پر رحم کرو تہمت لگانے اور غصہ سے بچو۔ پاؤں پھسل جائے تو پھسل جائے مگر زبان نہ پھسلنے دو ۔ عظمت اس وقت جنم لیتی ہے جب دوسروں کی خوشیوں کی خاطر اپنی امنگوں اور آرزؤں کا خون کرنا پڑے۔ بادل کی طرح رہو جو پھولوں پر ہی نہیں کانٹوں پر بھی برستا ہے۔ اور پھر یہ کہ غصہ بھڑکتی آگ ہے جو پی گیا اس نے آگ بجھائی اور جو ضبط نہ کرسکا وہ پہلے اس میں خود جلتا ہے۔ جلد بازی بیوقوفی اور کمزوری کی نشانی ہے۔ ثابت ہوگیا کہ قرآن انسان کے لیے رحمت ہے، روشنی ہے، برکت ہے اور بہترین نسخہ ہے ہر بیماری، پریشانی، دکھ اور درد کا۔
آں کتاب زندہ قرآن حکیم
حکمت اولا یزال است و قدیم
(علامہ اقبال (رح) )
Ayahs 65:4–5کچھ مزید حدود طلاق کے بارے میں
تشریح : اسلام کیونکہ عالمگیر مذہب ہے اس لیے اس کے احکامات بھی بڑی وسعت رکھتے ہیں۔ ان آیات میں بندے کی سہولت کے لیے ایسی عورتوں کی عدت کا تعین کیا گیا ہے جو یا تو اتنی بوڑھی ہوں کہ ماہواری کی عمر سے اوپر چلی گئی ہوں کیونکہ قدرت نے عورت کا جسمانی نظام ایسے بنایا ہے کہ ایک خاص عمر تک وہ ماہواری کے مراحل سے گزرتی ہے پھر عمر کا زیادہ ہوجانا ماہواری کے بند ہوجانے کا سبب بنتا ہے۔ تو ایسی عورتوں کے لیے بھی عدت کا وقت تین مہینے ہے اور کچھ ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو کسی بیماری کی وجہ سے یا پھر لڑکی اتنی کم عمر ہو کہ ماہواری شروع ہی نہ ہوئی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی عدت بڑی احتیاط سے تین مہینے گن لی جائے اور باقی احکامات ویسے ہی ہوں گے جو پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ اب مسئلہ آتا ہے ایسی عورت کا کہ جو حمل سے ہو تو اس کے لیے حکم ہے کہ بچہ پیدا ہونے تک اس کی عدت مقرر کی گئی ہے۔ یہ بھی اس لئے کہ ہوسکتا ہے بچہ کی پیدائش صلح کا سبب بن جائے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ پھر تاکید فرماتے ہیں کہ : جو بھی کام کرو اللہ کے بتائے ہوئے اصول و قوانین کے مطابق اللہ کا خوف دل میں رکھ کر کرو کیونکہ اس طرح ایک تو تمہاری نیت صاف رہے گی۔
دوسرا : تمہارے کام خوش اسلوبی سے ہوجائیں گے۔ تیسرا : اللہ کی فرمانبرداری کا بہت بڑا ثواب ملے گا۔
اللہ کے بنائے ہوئے اصول بڑے آسان فائدہ مند اور منظم ہیں اس لیے بےخوف و خطر نیک نیتی سے ان پر عمل کرو۔ پھر اگر لا علمی میں کچھ گناہ بھی ہوگیا تو یاد رکھو اللہ غفور رحیم ہے۔ معاف کر دے گا۔
Ayahs 65:6–7غصے میں بھی حسن سلوک کا خیال رکھو
تشریح : ان آیات میں اخلاق و کردار کی پاکیزگی، حسن سلوک عورت مرد اور بچے، یعنی خاندان کی بہتری اور سکون کے لیے بہترین حدود بتا دی گئی ہیں۔ جو بتا رہی ہیں کہ شریعت اسلامیہ انسان کی ہدایت و رہنمائی کا کیسا کامل ضابطہ حیات ہے۔ شریعت اسلامیہ۔ کتاب و سنت پر مبنی ہے جو ہر ہر لحاظ سے ہر بندے کے لیے تمام مشکلات کا بہترین اور آسان حل دیتا ہے۔ دنیا کے کسی مذہب میں عورت مرد بچے، یعنی خاندان کی حفاظت اور بہتری کے لیے اتنے آسان جامع اور خوبصورت اعتدال پر مبنی قانون وضع نہیں کیے جیسے قرآن پاک اور سنت رسول نے ہمیں دیے ہیں۔ عورت کو اس کا صحیح مقام دیا ہے تاکہ وہ پوری خوشی روا داری محبت اور محنت سے گھر خاندان اور معاشرے کی حفاظت کرسکے۔ پھر اللہ کے بنائے ہوئے قانون کے سامنے انسان کے بنائے ہوئے قانون کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ جیسا کہ دنیا میں ہر مذہب کا حساب کتاب ہمارے سامنے موجود ہے۔ ہر جگہ عورت کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے جو کہ دنیا کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ اسلام نے عورت کو تحفظ دیا عزت و احترام اور مرد کے برابر حقوق دیے ہیں۔ ایسے برابر نہیں جیسے ترقی یافتہ ممالک میں دیے گئے ہیں بلکہ اس کو گھر کی ملکہ اور مرد کی مشیر اعلیٰ کا درجہ دیا ہے۔ بیشک عورت مرد کے لیے بہترین مشیر اور مددگار و غمگسار کا درجہ رکھتی ہے۔
جیسا کہ پہلی وحی کے آنے پر سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ عنہانے آپ ﷺ کو تسلی دی اور یہودی عالم کے پاس آپ ﷺ کو لے کر گئیں۔ شریعت اسلامیہ ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ جیسا کہ محمد بن علوی المالکی الحسینی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ، شریعت اسلامیہ کے افق کی وسعت کا اعتراف خود دشمنان اسلام بھی کرچکے ہیں، ملاحظہ ہو قانون کے موضوع پر 1937 ء میں منعقدہ ایک کانفرنس میں طے شدہ نکات۔ واضح رہے کہ اس کانفرنس میں مختلف مغربی ممالک کے مفکرین و محقیقن نے شرکت کی تھی۔ طے شدہ نکات۔
1 شریعت اسلامیہ، عوامی قوانین وضع کرنے کا منبع ہے۔
2 شریعت اسلامیہ ایک زندہ شریعت ہے۔
3 یہ شریعت اپنی ذات میں قائم ہے، کسی اور شریعت سے ماخوذ نہیں۔
یہ جو طلاق کا انتہائی نازک معاملہ اتنی خوش اسلوبی سے نمٹایا گیا ہے جو کہ ہر دو فریق کے لیے مزید کسی زحمت، پریشانی، دکھ، تکلیف اور انتشار کا باعث بنے بغیر حل کردیا گیا ہے جو ہمیں باہمی ہمدردی، رواداری، تکریم انسانیت اللہ کی وحدانیت اس پر بھروسہ، صبر و یقین اور تقوی کا سبق دیتا ہے۔ یہ صرف اللہ و رسول کا ہی کمال ہے جو انسان کو انسانیت کا سبق دیتا ہے اور اس کو واقعی اشرف المخلوقات کا درجہ دیتا ہے۔ پھر بھی لوگ اس پر عمل نہیں کرتے اور ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے فرمایا۔ ، اللہ کسی پر تکلیف نہیں رکھتا، مگر اسی قدر جو اسے دیا اب اللہ سختی کے پیچھے کچھ آسانی کر دے گا،۔ (آیت 7)
Ayahs 65:8–12نافرمانوں کا علاج اور مومنو کو انعام
تشریح : محمد یوسف اصلاحی صاحب نے بڑی پیاری بات لکھی ہے، ظاہر ہے اللہ کا یہ فرمان صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے رہتی دنیا تک آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ اسی پر ہے کہ رسول اللہ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی سنت کو قرآن کے حکم کو ہر معاملے میں سند مانتا ہے یا نہیں۔ اللہ کے نزدیک اپنے دعوئے ایمان میں صرف وہی لوگ سچے اور مخلص ہیں، جو دل و جان سے قرآن و سنت کے فیصلے کو تسلیم کریں اور دل کی پوری آمادگی سے اس کی اتباع کریں،۔ (شعور حیات)
اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو رب ذوالجلال کی طرف سے جنت کی خوشخبری ہے۔ ایسا رب جو رب العٰلمین ہے سورة فاتحہ میں ہم 40 مرتبہ دن میں پڑھتے ہیں۔ کیا اس، العٰلمین، پر کبھی غور کیا ہے آیت 12 میں آیا ہے، سات آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی زمینیں آخر تک،۔ یہ آـیت دوسری دنیاؤں میں زندگی کی موجودگی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ازتفہیم القرآن۔ مولانا لکھتے ہیں۔ ، امریکہ کے رانڈ کارپوریشن نے فلکی مشاہدات سے اندازہ لگایا ہے کہ زمین جس کہکشاں میں واقع ہے صرف اسی کے اندر تقریباً 60 کروڑ ایسے سیارے پائے جاتے ہیں جن کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت کچھ ملتے جلتے ہیں اور امکان ہے کہ ان کے اندر بھی جاندار مخلوق آباد ہے۔ (اکانومسٹ، لندن مورخہ 26 جولائی 1969)
سلطان بشیر محمود صاحب لکھتے ہیں، جہاں تک ان دنیاؤں کی شکل و صورت کا تعلق ہے تو سورة طلا ق کی آیت مبارکہ 12 سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں اور ہماری دنیا میں مشابہت ہے۔ پھر مِثْلُھُنَّ کے کلمہ سے یہ صاف ظاہر ہے کہ کائنات میں جہاں کئی آسمان ہیں تو اسی طرح کئی زمینیں بھی ہیں اللہ تعالیٰ کا امر ان سب میں اپنے اپنے حساب کے مطابق نازل ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ہر کام ایک پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ سبھی آباد ہیں، بلکہ اللہ کا امر ہر جگہ اس کی حکمت کے مطابق اترتا ہے۔ اور اترتا رہے گا۔ دسویں اور گیا رھویں صدی عیسوی کے اسلام کے عظیم فرزند امام غزالی (رح) کے مطابق، آسمانوں میں موجود دنیاؤں کے لوگ اس قدر ترقی یافتہ ہوسکتے ہیں کہ ان کا آپس میں میل جول ہو اور وہ ایک دنیا سے دوسری دنیا تک سفر کرتے ہوں اور آپس میں رابطہ کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہوں،۔ (رسائل امام غزالی ) ۔
موصوف لکھتے ہیں کہ، اس کی صداقت میں سورة فاتحہ نے انسان کی سوچ کو ایک ہی جست میں زمین سے آفاق تک پہنچا دیا۔ دراصل یہ سمجھنا کہ اتنی بڑی وسیع کائنات میں زندگی صرف اسی زمین پر ہے اللہ تعالیٰ کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے اس بات کو بار بار قرآن حکیم میں رد کیا گیا ہے۔ اس کی مطابقت میں سورة جاثیہ آیت 36 ۔ الشوری آیت 22 ۔ سورة رحمن 29 وضاحت کرتی ہیں،۔ (قیامت اور حیات بعد الموت)
جدید سائنس دان اس مسئلہ کی تحقیق میں دن رات تجربات اور تحقیقات میں لگے ہوئے ہیں۔ جبکہ قرآن نے تو اس حقیقت کو صاف الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ دیکھیں اس سورت کی آیت 12، جس میں دوسری دنیاؤں میں زندگی کی موجودگی کا ذکر ہے۔ بہت جلد سائنس دان اس حقیقت کو پالیں گے کیونکہ یہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے کہ قرآن سائنس کی مطابقت نہیں کرتا بلکہ سائنس قرآن کی مطابقت کرتی ہے۔ بیکن نے کہا تھا، فلسفہ کا تھوڑا سا علم انسان کو دہریہ بنا دیتا ہے لیکن اس کی گہرائیوں میں اتر کر انسان یکسر خدا پرست بن کر نکلتا ہے۔
خلاصہ سورة الطلاق
اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ اس نے عورتوں کے حقوق اور پرانی غلط رسموں کو توڑتے ہوئے مسلمانوں کو اس سورت میں طلاق کے ذریعے بہت سے مسائل سمجھا دیے ہیں تاکہ زندگی میں پیدا ہونے والی الجھنوں کو احسن طریقہ سے حل کرلیا جائے۔ اس سورت میں بہت بڑا مسئلہ طلاق کا حل کیا گیا ہے۔ اور حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت پر یقین رکھتے ہو تو ان تمام حدود پر خلوص نیت اور اللہ سے خوف کو دل میں رکھ کر سچائی اور انصاف کے ساتھ عمل کرو تو زندگی کی گاڑی اور اچھی چلے گی۔ اول تو طلاق بڑی بری چیز ہے مگر زیادہ برائی سے بچنے کے لیے اللہ نے اس کو حلال کیا ہے۔ اور اس بات پر زور دیا ہے کہ عورتوں کے ساتھ بہت نرمی کا سلوک کرو۔ طلاق دینے کے بعد بھی ان کو عدت ختم ہونے تک اپنے گھر میں پناہ دیں خرچہ پورا کریں اور ہرگز ان پر سخت کلامی تہمت یا ظلم و زیادتی نہ کریں۔ روا داری اور مہربانی سے پیش آئیں۔ حدود یہ مقرر کی گئی ہیں
1 عورت کو پاک ہونے کے بعد بغیر اس سے تعلقات قائم کیے پہلی طلاق دو ۔ اس وقت کے ختم ہونے سے پہلے مراجعت کرسکتے ہو۔
2 دوسرے ماہ ماہواری سے پاک ہونے کے بعد بغیر تعلقات قائم کیے ہوئے دوسری طلاق دو ۔ اس کی مدت پوری ہونے سے پہلے اگر صلح کرنی چاہو تو کرسکتے ہو۔
3 تیسرے ماہ ماہواری سے پاک ہونے کے بعد بغیر تعلقات قائم کیے ہوئے تیسری طلاق دو اس کی عدت پوری ہونے تک طلاق مکمل ہوگئی۔ عدت پوری ہونے تک گھر میں ہی رکھو اور عورت بھی رہے۔ اگر ناممکن ہو بدامنی کی وجہ سے تو پھر نکال دو ۔
4 عدت کا وقت بڑی احتیاط سے شمار کرو۔
5 ہر موقع پر دو گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔
6 اگر عورت بوڑھی ہے یا نابالغ ہے یا بیمار ہے تو پھر طلاق کی عدت شمار کرنے کے لیے تین مہینے اپنے حساب سے شمار کرلو۔
7 اگر عورت حاملہ ہے تو پھر بچہ کی پیدائش تک اس کی رہائش کھانا پینا خاوند کے ذمہ ہوگا۔ اس کی عدت بچہ پیدا ہوتے ہی ختم ہوجائے گی۔ پھر بچہ کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہے۔ اگر عورت بچہ کو دودھ پلانے پر راضی ہو تو اس کو اپنی حیثیت کے مطابق اجرت دی جائے اگر اس بات پر مصالحت مناسب طور پر نہ ہو سکے تو پھر مرد دودھ پلانے کے لیے کسی دوسری عورت کا بندوبست کرے تاکہ بچے کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ طلاق کے بارے میں تفصیلاً سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔
بہرحال ٹھہر ٹھہر کر تین دفعہ طلاق دینا یہ مسنون طریقہ ہے۔ اور اس میں بہتری کی صورت نکلنے کا بھی احتمال ہے۔ لیکن یہ بار بار تاکید کی گئی ہے کہ اس پورے معاملہ میں ہرگز کہیں بھی چالاکی، بد نیتی، ہوشیاری اور ظلم و زیادتی کو شامل نہ کیا جائے کیونکہ یہ پھر اللہ کے احکامات سے نافرمانی کے دائرے میں آجائے گا جو قابل سزا ہے اور یہ ہرگز مت سوچو کہ تمہاری نیت، عمل یا سوچ اللہ سے پوشیدہ ہے۔ ہر گز نہیں۔ جس اللہ نے اتنی بڑی کائنات بنائی۔ جس مـیں سات آسمان اور کئی زمین ہیں اور وہ ان سب کا بنانے والا چلانے والا علیم وخبیر اور عزیز و حکیم ہے بھلا تم اور تمہارے اعمال اس سے کیونکر چھپ سکتے ہیں۔ اگر کوئی کام بھی حدود سے نکل کر کرو گے تو سزا ضرور پاؤ گے ورنہ اللہ کے پیارے متقی پرہیز گار اور نیک لوگوں کے لیے آخرت میں بہترین ٹھکانے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے جو بالکل سچا اور پکا ہے۔ قرآن میں ہے، جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور ان کا ایمان گناہ سے آلودہ نہیں ہوا انہیں امن و سکون کی نعمت ملے گی۔ (انعام :83) (الحمد للہ سورة الطلاق مکمل ہوگئی)