Ayahs 66:1–8رسول معظم ﷺ اور ازواج مطہرات کے لیے احکامات
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر معافی مانگ لے سچے دل سے تو رب العزت بڑا عفور رحیم ہے معاف کردیتا ہے۔ اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ، ایک دفعہ آپ ﷺ اپنی بیوی سیدنا زینب ؓ کے ہاں خلاف معمول زیادہ دیر ٹھہرنے لگے اور وہ آپ ﷺ کو شہد کا شربت پلایا کرتیں۔ انسانی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ ﷺ کی دوسری بیویوں ام ال مومنین دیے حفصہ ؓ اور ام ال مومنین سیدہعائشہ ؓ عنہانے یہ پلان بنایا کہ آپ ﷺ کو آنے پر کہیں گے کہ آپ ﷺ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ کیونکہ جانتی تھیں کہ آپ ﷺ کو ہر قسم کی بو سے نفرت ہے مقصد یہ تھا کہ آپ ﷺ شہد کی وجہ سے سیدہ زینب ؓ کے پاس زیادہ دیر قیام نہ کریں۔ تو آپ ﷺ نے بیویوں کی محبت میں کہہ دیا کہ، اللہ کی قسم میں اسے نہ پیوں گا۔ یہ واقعہ بھی سیدہ عائشہ ؓ سے مروی ہے جیسا کہ بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی میں موجود ہے۔ دوسرا واقعہ بھی احادیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ یوں کہ سیدہ ما یہ ؓ کے بارے میں ہے آپ بےحد خوبصورت تھیں اور کسی وجہ سے آپ ﷺ نے دوسری بیوی کی خوش نودی کے لیے سیدہ ماریہ ؓ عنہاکو اپنے اوپر حرام کرلیا۔ واللہ اعلم یہاں یہی بات خاص طور پر زور دے کر کہی گئی ہے کہ
1 بیشک نبی کا درجہ بہت بلند ہے مگر حلال حرام کا حکم نبی کے اختیار میں ہرگز نہیں یہ اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسی کو یہ حکمت اور اختیار حاصل ہے کوئی بندہ اس کا اندازہ نہیں کرسکتا۔ پھر آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ
2 بیویوں کی محبت میں اس قدر نہ کھو جاؤ کہ بےخیالی میں اللہ کے احکامات کو بھول جاؤ اور اگر
3 بھول جاؤ تو اللہ نیت کو جانتا ہے اس لیے اس سے معافی مانگ لو کفارہ دے دو وہ ضرور معاف کر دے گا یہ اس کی صفت ہے کہ وہ غفور رحیم ہے۔ کفارہ کی تفصیل گزر چکی ہے۔
4 نبی ﷺ کی بیویاں بیشک قابل احترام ہیں مگر ہیں تو انسان ہی بھول چوک ہوسکتی ہے۔
معافی مانگ لینا فرمانبرداری کی نشانی ہے اور معاف کردینا اللہ کی صفات میں سے ہے۔ قسم اٹھانا اچھی بات نہیں مگر اس کے لیے کفارہ ادا کردینا ضروری ہے۔
پھر اس راز کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ ﷺ نے اپنی بیوی سے بات کی تو وہ اس کی حفاظت نہ کرسکیں اور دوسری بیوی کو بتا دی۔ راز کیا تھا اس کے بارے میں مختلف اور بیشمار روایات ہیں۔ میرا خیال ہے اس تحقیق میں پڑنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ راز ایک امانت ہوتی ہے اس کی حفاظت کرنا بےحد ضروری ہے بلکہ حکم الٰہی ہے۔ یہاں بھی چند ہدایات ملتی ہیں۔
1 یہ کہ بیویوں میں اللہ نے اتنی صلاحیت رکھی ہے کہ وہ خاوند کو کسی بھی راہ پر لگا سکتی ہیں۔ ان کو چاہیے خاوندوں سے غلط مطالبات کر کے غلط کام ہرگز نہ کروائیں۔
2 خاوندوں کو چاہیے کہ بیوی کی ہر جائز ناجائز بات مان کر اپنا ایمان اور اپنی عاقبت ہرگز خراب نہ کریں۔ جائز حد تک ان کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔
3 ہر بات نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ ، وحی یا القاء کی صورت میں بتا دیتے تھے۔ جیسا کہ اللہ علیم وخبیر نے آپ ﷺ کی بیوی کے راز فاش کردینے کا بتا دیا تھا۔
4 رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ہونا بہت بڑی خوش نصیبی کی بات ہے۔ مگر ان کی ذمہ داری اور سزا بھی اتنی ہی سخت ہے۔ یعنی جتنا بڑا عہدہ ہوگا، اتنی ہی بڑی ذمہ داری ہوگی اور پھر اتنا ہی بڑا نقصان ہوگا۔
5 اللہ کی طرف سے ازواج مطہرات کے لیے بڑا سخت حکم یا ڈراوا دیا گیا ہے۔ کہ اگر تم سب مل کر نبی ﷺ کو پریشان کرنا چاہو تو یاد رکھو تم ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتیں کیونکہ آپ ﷺ کا رتبہ بڑا عظیم ہے آپ ﷺ کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے جبرئیل امین اور تمام متقی، نیک کردار مسلمان ان کے مددگار ہیں۔ آیت 5 میں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ، اگر پیغمبر تم کو طلاق دے دیں تو عجب نہیں ان کا رب ان کو تم سے بہتر بیویاں دیدے ،۔ (آیت 5)
6 پھر نیک شریف النفس بیوی کی تعریف کی گئی ہے۔ فرمایا، مسلمان، ایماندار، فرمانبردار، توبہ کرنے والی، عبادت گزار، روزہ رکھنے والی، عصمت ور، (آیت 5)
7 ہر بیوی کو ان تمام صفات کا اپنے اندر پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔
8 مردوں اور عورتوں کو بڑا سخت حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم نے احکاماتِ الٰہی سے نافرمانی کی تو یہ بڑے پیمانے پر گناہ شمار کیا جائے گا۔ کیونکہ معاشرے کی تشکیل فرد، گھر، محلے شہر اور ملک کی زیادہ تر ذمہ داری میاں اور بیوی پر ہی ہوتی ہے۔ اگر انہوں نے اس کو پوری روا داری اور خلوص سے پورا نہ کیا تو جہنم کی سزا سے ان کو کوئی بچا نہ سکے گا۔ مومن مرد و عورت کے لیے اللہ نے یہ رعایت رکھی ہے کہ نیک نیتی سے اگر کسی گناہ کی معافی مانگ لی جائے تو یقینا اس کی نیک عملی، خلوص نیت اور پرہیزگاری کی وجہ سے اللہ اس کی توبہ ضرور قبول کرے گا اور اس کے چھوٹے موٹے گناہ معاف فرما دے گا اور اس کو ایمان وتقوی کے بدلے اس جنت میں جگہ دے گا جس کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے۔ اور ایسے لوگ خوش و خرم اپنے ایمان کی روشنی میں مست یہ کہتے ہوئے جنت کی طرف رواں دواں ہونگے۔ ، اے رب ہمارے ہمارا نور ہمارے لیے پورا کر اور ہمیں معاف فرما بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے،۔ (آیت 8)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم مردوں عورتوں کو اپنے ان تمام احکامات پر پوری طرح کار بند ہو کر جنت میں جانے کے قابل بنائے اور دوزخ کے درد ناک عذاب سے ہمیں بچائے۔ آمین ثم آمین۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا کوئی حکم انسانی معاشرے کی خرابی کی حمایت نہیں کرتا بلکہ ہر حکم انتہائی آسان ہے کیونکہ وہ ہماری فطرت کے عین مطابق ہے۔ اس لئے جو جو کام ہماری زندگی میں یا ہماری عادت میں شامل ہیں جو ان احکامات کے خلاف ہوں ان کو اللہ و رسول کی رضا کے لیے چھوڑ دینا چاہیے اور جب ہم اس کے بدلے میں جنت کی ہمیشہ کی زندگی کا انعام ملنے کا وعدہ پاتے ہیں اور دنیا میں بھی عزت و کامیابی ملنے کے امکانات صاف طور پر دیکھتے ہیں تو پھر ایسے میں شیطان کو خود سے دور کرنے اور اللہ کی قربت حاصل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔ جب انسان نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ رسول اور فرشتے اس کی ہر صورت مدد کرتے ہیں۔ ہمت مردان، مدد خدا۔
انبیاء کرام کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ سیدنامحمد ﷺ غار حرا میں بیٹھے رہتے اور نیکی کی جستجو میں دن رات گزار دیتے۔ تو اس جستجو کے بدلے میں کیا کچھ آپ ﷺ کو نہ مل گیا اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا۔ ، اور اللہ نے تم پر کتاب اتاری اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے،۔ (النساء :113)
لہٰذا آپ ﷺ پوری مخلوق خدا میں سب سے بڑے عالم اور عارفِ الٰہی اور مقبول خداوند کریم ہیں۔ علامہ اصیلی کی روایت میں ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والا ہوں اور اس کی معرفت والا ہوں،۔ سچ ہے نیک نیتی سے ڈھونڈنے سے خدا بھی مل جاتا ہے۔ لیکن جو شیطان کی راہ پر چلنا چاہے تو اللہ اس کی راہ میں بھی اس کی مطلوبہ راہیں آسان کردیتا ہے جیسے نمرود اور فرعون وغیرہ۔ انہوں نے اپنی غلط راہوں پر چل کر اپنا عبرتناک انجام دنیا میں پا لیا اور جو آخرت میں ہوگا ! وہ تو بس استغفار۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔ دعا ہے۔ ، اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان حالت اسلام پر نکالیئے۔ اور اے اللہ ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجئے،۔ آمین
Ayahs 66:9–11چار عورتوں کا تذکرہ (دو کافرہ اور دو مومنہ)
تشریح : ان آیات میں بڑے ہی صاف الفاظ میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کو ہر طرح سے ختم کرتے جاؤ تاکہ دنیا شر و فساد اور بےسکونی سے پاک ہوجائے۔ دنیا میں انسان کو آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اس میں پیغمبر ان کی بیویاں اور عام انسان مرد ہوں یا عورتیں سب کو اللہ تعالیٰ آزمائش میں ڈالتا ہے۔ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنامحمدالرسول اللہ ﷺ تک سب آزمائش سے گزرے ہیں اسی لیے سب کو نصیحت کی گئی کہ اپنی اپنی ذمہ داریاں خلوص، نیک نیتی، صبر اور اللہ سے دعا کرتے ہوئے پوری کرو۔ آدمیوں کا فرض ہے مقررہ حدود میں رہ کر بیویوں کی دلجوئی اور سکون و آسائش کا خیال رکھیں مگر مضبوط اور پر وقار طریقہ سے رہیں یہ نہیں کہ بیویوں کو اس حد تک اہم کرلیں کہ حقوق اللہ یا حقوق العباد سے ہی غافل ہوجائیں جیسا کہ سیدنانوح اور سیدنالوط (علیہ السلام) کہ ان کی بیویاں باوجود اتنے بڑے پیغمبروں کے ساتھ رہنے کے اپنے آپ کو ان کے رنگ میں نہ رنگ سکیں اور نہ خود کو سچی اور پکی مسلمان بنا سکیں تو پیغمبروں کو ان کے اعمال کے بدلے جنت ملے گی جبکہ منافقت کی وجہ سے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) دونوں کی بیویاں جہنم میں جائیں گی ان کے نیک پاک بزرگ خاوند ان کو اس درد ناک عذاب سے بچا سکے اور نہ ہی آخرت میں بچا سکیں گے۔ اس طرح سیدہآسیہ (علیہا السلام) فرعون کی بیوی اور سیدہ مریم (علیہا السلام) بنت عمران دونوں بڑی زبردست آزمائش سے گزریں مگر ایمان میں ثابت قدم رہیں کوئیـ دکھ کوئی تکلیف ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکا۔ اللہ کی خوشنودی کو مدنظر رکھا اور انعام میں عظیم درجات حاصل کئے۔ تمام دنیا کی عورتوں کو ان سے سبق سیکھنا چاہیے کہ دنیا کی کوئی آسائش کوئی مال و دولت، سکھ چین آل اولاد اور خاوند کی سختی نرمی، ظلم و زیادتی ان کو اپنے فرض منصبی سے ایمان سے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے سے ہرگز غافل نہ کرسکے۔ ایمان اور توکل علی اللہ سے ان کو بال برابر بھی ہلا نہ سکے۔ کیونکہ مرد و عورت دونوں ہی نسل انسانی کو ہدایت کی راہ دکھانے کے امین ہیں۔ اور یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ انسان ہوتے ہوئے اگر کوئی غلطی ہوجائے جو کہ ازواج مطہرات سے بھی ہوسکتی ہے تو اس کے لیے بہترین راستہ ہے توبہ کا۔ علماء سلف فرماتے ہیں، خالص توبہ یہ ہے کہ گناہ کو اس وقت چھوڑ دے جو ہوچکا ہے، اس پر نادم ہو اور آئندہ نہ کرنے کا پکا عزم ہو، اور اگر گناہ میں کسی انسان کا حق ہے ( حق تلفی) تو چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ حق باقاعدہ ادا کر دے۔
رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ نادم ہونا بھی توبہ کرنا ہے۔ (از تفسیر ابن کثیر )
سیدناابن عباس ؓ فرماتے ہیں، اللہ کے فرمان بجا لاؤ اس کی نافرمانیاں مت کرو اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچائے۔ (تفسیر ابن کثیر)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو اپنے اپنے فرائض بہترین طریقہ سے ادا کرنے اور ہر صورت میں صبر و شکر ہمت و جرات سے اپنے تمام کام اللہ کی مدد کے ساتھ بہترین طریقہ سے مکمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور ہمیں بھی مثالی انسان ہونے کی عزت عطا کرے آمین ثم آمین۔
تری رہ میں ڈار کو موت آئے
کوئی آرزو اس سے بہتر نہیں ہے
محمد منظور الحق ڈار
Ayah 66:12خلاصہ سورة التحریم
بڑی ہی خوبصورت سورت ہے۔ انسانی فطرت کو بڑے اچھے انداز سے بیان کیا گیا ہے اور مرد وزن کو اپنے اپنے فرائض سے آگاہ کیا گیا ہے۔ جس میں سب سے اول اللہ کی اطاعت اور حدود اللہ کی حفاظت بتائی گئی ہے اور پھر بہترین مثالوں سے ان کو واضح کیا گیا ہے تاکہ انسان اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ نہ تو بےمقصد پیدا کیا گیا ہے اور نہ بےلگام چھوڑ دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کی پوری زندگی امتحان ہے اور اس کا نتیجہ آخرت میں ملے گا۔ کوئی بندہ بشر اس سے آزاد نہیں۔ صرف اپنا کیا دھرا ہی کام آئے گا۔ سچ ہے اس منزل کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا جو زندگی کے لیے بہتر اور آسانیاں پیدا کرے کسی جہاد سے کم حیثیت کی مالک نہیں۔ قوت ارادی مضبوط ہو تو کائنات انسان کے سامنے جھک جاتی ہے اور خوف خدا کامیابی کا بہترین ہتھیار ہے۔ القرآن، اے پیغمبر ! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ (التوبہ 83)
یاد رہے کہ پیغمبر ﷺ کے بعد یہ حکم ہر مرد عورت بوڑھے جوان مسلمان کے لیے ہے۔ زندگی کے ہر مرحلہ میں برائیـ کے خلاف جہاد کے لیے تیار رہو۔ دوسری بات جو غلط فہمی دور کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس ضمن میں محمد بن علوی المالکی الحسینی کی کتاب سے نقل کیا جا رہا ہے لکھتے ہیں، مومن کو یہ نہیں چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کے کسی قول میں، استغفار، توبہ، خوف خدا اور رجوع کے الفاظ دیکھ کر فورا سوچے سمجھے بغیر آپ ﷺ کی ذات سے گناہ کو منسوب کر دے کیونکہ ایسی سوچ بلاشبہ فساد عقیدہ اور خسران مبین ہے۔ اللہ ہمیں ایسی بد عقیدگی سے اپنی پناہ میں رکھے۔ اگر ان سے کسی امر میں سہو بھی ہوجائے یا مباح دینوی امور میں کچھ زیادتی ہوجائے تو بھی ان پر خوف خدا طاری رہتا ہے جن باتوں پر ان کا مواخذہ ہوتا ہے وہ اگرچہ گناہ نہیں تاہم انبیاء علیھم السلام کے منصب کے لحاظ سے گناہ ہوتے ہیں، اور ان کے کمال طاعت کی نسبت معاصی کہلاتے ہیں، جو ان کے گناہ ہوتے ہیں وہ دوسروں کے گناہوں کی طرح نہیں ہوتے کیونکہ ذنب یعنی گناہ گھٹیا اور ارذل شے کو کہتے ہیں اور اسی ذنب سے ذنب یعنی ہر شے کا آخری حصہ لیا گیا ہے الغرض لوگوں کے گناہ ان کے ارذل اور گھٹیا افعال ہیں۔ (انسان کامل ﷺ
یہ گناہ کا لفظ عام انسانوں کے لیے تو ٹھیک ہے مگر انبیاء کے لئے مناسب نہیں۔ سورة الطلاق اور التحریم میں جو کچھ بیان کیا گیا وہ سب اللہ کی حکمتوں کا اظہار ہے۔ اور پھر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ بیشک آپ ﷺ بشر ہی تھے مگر تھے رحمت للعٰلمین، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، اور ہم نے آپ ﷺ نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہانوں کے لیے،۔ (الانبیاء :107)
اور پھر آپ ﷺ کے بلند درجہ کے بارے میں فرمانِ الٰہی ہے کہ، اگر پیغمبر کی ایذاء پر دونوں چڑھائی کرو گی تو اللہ، جبرائیل اور نیک کردار مسلمان اور فرشتے ان کے حامی و مددگار ہیں،۔ (آیت 4 التحریم )
اسی طرح حدیث میں آیا ہے۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک پر ایک جن اور ایک فرشتہ مقرر ہے،۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا، آپ ﷺ پر بھی، ؟ فرمایا ہاں مجھ پر بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غلبہ عطاء فرمایا ہے اور مجھے اس کے شر سے بچا لیا۔ (الجامع الصحیح)
اس سب کچھ کے باوجود آپ ﷺ دن میں ستر مرتبہ استغفار کرتے تھے۔ ہمیں بھی استغفار کو اپنا وظیفہ بنانا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی حدود پر قائم رہنا ضروری ہے ایک حد سے بھی ہٹ گئے تو ایمان کی عمارت گر سکتی ہے۔ الحمد للہ سورة التحریم مکمل ہوئی