67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 67:1–5

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

وہ اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے ” بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے وہ زبردست اور بخشنے والا ہے۔

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے اے دیکھنے والے ! کیا تو اللہ رحمن کی تخلیقات میں کوئی فرق دیکھتا ہے ؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھے آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر دوبارہ سہ بارہ نظر کر تو نظر ہر بار تمہارے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے قریب کے آسمان کو ستاروں کے چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لیے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے تشریح : جیسا کہ سورت کے نام سے ظاہر ہے ” ملک “ مطلب ہے بادشاہی۔ دنیا کا نظام بناتے ہوئے جس حکمت کا اندازہ ہوتا ہے وہ کسی بندے بشر کے بس کی بات نہیں۔ جب ہم اس کی تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رحمت اور برکت کا بھی کوئی شمار نہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات سے نہ تو غافل ہے اور نہ ہی لاعلم ” اس کو ہر چیز کا علم ہے اور وہ مہربانیوں کا رحمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہے۔ موت اور زندگی کسی کے اختیار میں ہرگز کسی صورت بھی نہیں یہ مرحلہ بھی بڑا غور طلب ہے۔ موت ختم ہوجانے کا نام نہیں بلکہ یہ دوسری دنیا میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے جیسے زندگی اس دنیا میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس حقیقت کو ہم فرمانِ الٰہی کی روشنی میں یوں واضح کرسکتے ہیں۔ فرمایا : (قیامت کے دن) لوگ کہیں گے اے رب ہمارے ماراتو نے ہم کو، دوبارہ اور تو نے ہم کو دو بار زندہ کیا۔ (سورۃ مومن :11) دوسری جگہ فرمایا اور تھے تم مردہ پھر زندہ کیا تم کو پھر کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو ؟ پھر موت دے گا تم کو ” پھر زندہ کرے گا تم کو اور آخر اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے۔ (بقرہ 28) موت و زندگی کا سلسلہ بڑی وضاحت سے بیان کیا جاچکا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ سلسلہ کس لیے بنایا گیا ؟ جو وجہ قرآن پاک میں ہمیں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ زندگی اس دنیا کی زندگی کا مقصدانسانوں کو آزمانا ہے۔ ہمارے سامنے اللہ کی تمام نعمتیں موجود ہیں اور ہمیں اس نے ان تمام نعمتوں سے آگاہ بھی کردیا ہے کہ کیسے کس نعمت کو استعمال کرنا ہے۔ اور قرآن و سنت کی سب سے بڑی نعمت دی جو ہمیں ہر قدم پر نیکی و بدی کی تمیز کرواتا ہے۔ اس کے بعد کیونکہ ہم اشرف المخلوقات ہیں اس لیے ہمیں علم کے ساتھ ارادہ بھی دے دیا عقل بھی دے دی اب ہمیں خود یہ تعین کرنا ہے کہ شیطان سے دوستی کریں یا اللہ سے۔ پھر ہمیں یہ بھی خبر دے دی کہ تم بالکل آزاد اور بےلگام نہیں چھوڑ دئیے گئے بلکہ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے وہ تمہارے ہر عمل نیت اور ارادے سے پوری طرح واقف ہے۔ لہٰذا نیک راہ اختیار کرو کیونکہ آدم کی اولاد ہو غلطی کا امکان تمہیں وراثت میں ملا ہے تو اس کے لیے بتا دیا ہے۔ حالانکہ قرآن کتاب ہدایت ہے مگر اللہ کی کبریائی وحدانیت اور وجود کی دلیل میں بیشمار ایسی آیات قرآن میں ملتی ہیں جو طبیعیات فزکس بیالوجی فلکیات ریاضی وغیرہ وغیرہ غرض تمام علوم کی طرف واضح اشارات مہیا کرتی ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے کہ مظاہر قدرت پر غور وفکر کرو کیونکہ ایک تو اس طرح نئی نئی معلومات اور انکشافات ہوتے ہیں دوسرا اللہ کی قربت حاصل ہوتی ہے ایمان و یقین میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور روحانی بلندی حاصل ہوتی ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ سائنس کی اگلی جست روحانیت ہے۔ یہاں آیت 3 اور چار انسان کو کائنات کی وسعت کا شعور دلا رہی ہیں کیونکہ ان آیات میں بڑے ہی جامع اور مختصر انداز میں کائناتی و فلکیاتی نکات کا اظہار کیا گیا ہے۔ مثلاً سات آسمانوں کی موجودگی پہلے آسمان دنیا میں ستاروں کا جھلمل کرنا اور پوری کائنات کا یوں منظم بغیر کسی خرابی کے مسلسل چلتے چلے جانا کہ ماہر ترین حضرات بھی اگر اس پر پورا غوروفکر کریں تو اس نظام میں ہرگز کوئی کمی بیشی کوئی نقص کوئی خرابی بتا نہ سکیں۔ اور ساتھ ہی تحقیق و جستجو کی ترغیب بھی دی جارہی ہے۔ تاکہ آسمانی فضا کے راز ” فضائی درجہ حرارت ” زمین کی متوازن کشش ثقل ” فضاء کی اشعاعی توانائی اور کرہ باد کا فضائے بسیط میں استحکام ” اوزون کی تہہ وغیرہ وغیرہ ان سب پر انسان غور کرے اور اللہ کی حمد وثناء کرے اس کی عظمت کا یقین زیادہ اچھی طرح کرلے۔ یہ سب کچھ تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کے ایمان کمزور ہوتے ہیں ورنہ لا الہ الا اللہ تو سب سے پہلے ان لوگوں نے کہا جو اس وقت علم وعرفان سے بہت دور تھے اور کفروشرک کی دلدل میں دھنسے ہوئے تھے۔ اصل ایمان تو ان لوگوں کا ہی ہے جنہوں نے نبی کے کہنے پر اسلام قبول کرلیا اور ایمان کے ایسے پکے نکلے کہ جان دیدی مگر ایمان سے منکر نہ ہوئے۔ آسمانوں اور ستاروں کا ذکر تفصیلاً ہوچکا ہے۔ یہاں ایک بار پھر اعلان عام کیا جا رہا ہے کہ منکرین ” مشرکین اور شیطان کے دوست آخرت میں جہنم کی آگ میں ضرور ڈالے جائیں گے۔ یہ قرآن کی دی ہوئی خبر ہے اس قرآن کی جس میں ہرگز کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
Ayahs 67:6–11

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے رب سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دہاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

گویا مارے جو ش کے پھٹ پڑے گی ” جب اس میں ان کی کوئیـ جماعت۔ (گروہ) ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیوں نہیں ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی تم تو بڑی غلطی میں پڑے ہوئے ہو

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اگر ہم سنتے سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے۔ سو دوزخیوں کے لیے رحمت خدا سے دوری ہے

کفار کے لیے دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ تشریح : یہ آیات خوف و دہشت دلانے والی ہیں اور دوزخ کا نقشہ اور اس میں ڈالے جانے والوں کی بےبسی بڑے ہی صاف الفاظ میں اور آسان زبان میں بیان کئے گئے ہیں استغفر اللہ۔ خدایا ! جب دوبارہ اٹھا کر میدان حشر میں جمع کئے جائیں گے تو ہماری حفاظت فرمانا اپنے عذاب اور غصہ سے بچانا ” جہنم سے اپنی پناہ میں رکھنا اور نیکوں کے ساتھ بہشت میں داخل فرما دینا۔ آمین
Ayahs 67:12–22

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

اور جو لوگ بِن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم لوگ بات چھپا کر کہو یا اعلانیہ کہو وہ دل کے بھید تک سے واقف ہے

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم کیا تم اس کی راہوں میں چلو پھر و اور اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور تم کو قبروں سے نکل کر اسی کے پاس جانا ہے

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو ؟ کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے ڈرتے نہیں ؟ کہ تم پر پتھروں کی (بارش) ہوا چلا دے ” سو تم عنقریب جان لوگے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے۔

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسا ہوا

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلاتے ہیں کبھی سیکڑ بھی لیتے ہیں اللہ کے سوا ان کو کوئی تھام نہیں سکتا بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر اللہ کے سوا تمہاری مدد کرسکے کافر تو دھوکے میں ہیں۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے ؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا وہ شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو۔

اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس نظر سے دیکھتا ہے کہ گویا وہ ایک پہاڑی کے نیچے بیٹھا ہے اور برابر ڈر رہا ہے کہ کہیں یہ پہاڑی اس پر گر نہ جائے اس کے بر خلاف بد کار اپنے گناہوں کو ایسا محسوس کرتا ہے گویا اس کی ناک پر مکھی بیٹھ گئی اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔ سبحان اللہ کیسی پتے کی بات بتائی ہے رسول پاک ﷺ نے اللہ نہ کرے کہ کوئی غافل ہوجائے اپنے رب سے اپنے آپ سے اور اپنی موت سے اور اس رب کریم سے جس نے اس کو زمین دی آسمان دیا روزی رزق اور سب سے بڑی نعمت پانی کی دی۔ اگر ان تمام نعمتوں میں سے کوئی نعمت یا کوئی ایک نعمت بھی کم ہوجائے یا بند ہوجائے تو ہر کم عقل سے کم عقل بھی اس کا اندازہ کرسکتا ہے کہ بارش کی کمی ” خشک سالی اور کنوؤں ” ندی نالوں اور دریاؤں چشموں میں پانی کی کمی تمام مخلوق خدا کے لیے کس قدر پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ کوئی ہے جو اللہ کے سوا ہمیں ان تمام چیزوں کے متبادل کوئی چیز دے سکے یا ان کی کمی کو پورا کرسکے ؟ ہرگز نہیں یہ سب کچھ ہمیشہ سے اللہ کی قدرت میں ہے اسی کے قبضہ میں ہے اور رہے گا۔ اتنی چھوٹی سی بات بندے کو اگر سمجھ میں نہ آئے تو پھر سوائے افسوس کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ یہ تو ہوگئی عام سی بات اب ذرا اللہ کی اس وسیع و عریض کائنات کی بات ایک سائنسدان کی زبان میں ہوجائے جو آئے دن تحقیق و جستجو میں لگا رہتا ہے کہ آخر یہ نظام دنیا کل کائنات، صبح، شام، رات، دن گرمی، سردی، بہار، برسات یہ زمین آسمان اور اس میں پیدا کی گئی کروڑوں قسم کی مخلوقات سمندر پہاڑ اور نہ جانے کیا کچھ۔ یہ اتنی بڑی دنیا کیا ایک ہی پیدا کی گئی ہے یا کہ اس جیسی کوئی اور دنیائیں بھی موجود ہیں ؟ تحقیق کے بعد وہ اپنے تجربات سے قرآن پاک کے اس لفظ کی تفسیر سائنس کی زبان میں یوں کرتا ہے۔ یعنی عالمین بہت سے عالم۔ سلطان بشیر محمود صاحب اس کی تفصیلات یوں لکھتے ہیں : سائنسی مشاہدہ ہے کہ صرف ہماری ایک کہکشاں میں سورج کی طرح کے بلین (اربوں) شمسی نظام ہیں۔ کوئی بعید نہیں کہ ان میں سے کروڑوں نظاموں میں ہماری دنیا کی طرح زندگی کے آثار موجود ہوں۔ ان میں سے ہر ایک کو اپنی باری پر قیامت کا انتظار ہے۔ یوں کائنات میں ہر سو زندگی اور موت ” تخلیق در تخلیق کا شاندار منظر جاری وساری ہے۔ آج کے خلائی سائنس دان اپنی دوربینوں سے کائنات میں نت نئے مناظر کے شاہد ہیں ہر گھڑی ایک نئی شان نظر آتی ہے۔ یہ بانکپن ” سرعت ” وسعت اور ستاروں کی حیات و ممات کا سلسلہ اور تخلیق درتخلیق کا مسلسل عمل کائنات کا حسن ہے۔ اور اس کے ارتقاء کا مقدر ہے۔ سورة الرحمن کی آیت 29 انہی عظیم حقائق کی منظر کشی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ خالق کائنات ایک دفعہ دنیا بنا کر فارغ نہیں بیٹھ گیا بلکہ اس کا تخلیقی امر ہر آن پوری آب و تاب سے آسمانوں کی وسعتوں پر حکومت کرتا ہے۔ فرمایا۔ ہر روز وہ ایک نئی شان سے ظاہر ہوتا ہے۔ (رحمن :29) آج کا سائنسدان جدھر بھی نگاہ اٹھاتا ہے وہ قرآن حکم کی اس آیہ مبارکہ کی تفسیر پاتا ہے کہ کائنات میں ستارے ایسے ہی مرتے اور پیدا ہوتے رہتے ہیں جیسے زمین پر حیاتیاتی نظام چل رہا ہے۔ کہ کسی کی موت واقع ہو رہی ہے اور کوئی اس عالم رنگ وبو میں قدم رکھ رہا ہے۔ (قیامت از حیات بعد الموت) کیا یہ کافی نہیں اس بات پر یقین کرنے کے لیے کہ اللہ عظیم ہے خبیر ہے حفیظ ہے خالق اعلیٰ اور مالک الملک ہے ہمیں اس نے پیدا کیا ہے نعمتیں دی ہیں یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا ہم اس کو مالک واحد مانتے ہوئے اس کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں اور پھر یہ جان کر کہ ضرور ہی اس کے سامنے حاضر ہو کر اپنے کئے گئے اعمال کا بدلہ پانا ہے۔ جو کہ اگر اچھا ملا تو وہ اس دنیا کی تمام نعمتوں سے کئی گناہ زیادہ بہترین ہوگا اور اگر برا ہوا تو وہ بھی اس دنیا کی تمام سزاؤں سے کئی گنا زیادہ ہیبت ناک ہوگا۔ اور پھر یہ بھی بتا دیا گیا ہے اور عبرت کے لیے دکھا دیا گیا ہے کہ برے اعمال کی سزا اس دنیا میں تباہی و بربادی کی صورت میں مل جاتی ہے۔ اللہ کو غصہ آجائے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ پتھروں کی بارش ” زلزلے “ زور کی چنگھاڑ غرض کچھ بھی کرسکتا ہے نافرمانوں کو سزا دینے کے لیے جیسا کہ یہ سب کچھ نافرمان قوموں پر ہو بھی چکا ہے۔ اس لیے اب بھی وقت ہے توبہ کرنے کا اور اللہ کے فرمانبردار بن جانے کا۔ اس لیے ہوش کرو اور سیدھے چلو تاکہ سرخرو ہوسکو۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی مہربان اور حد سے زیادہ رحم کرنے والا ہے وہ اپنے بندوں کو سمجھانے کے لیے پھر ایک اور آسان سی نشانی بتاتا ہے جو اس کی قدرت خلاقی اور عظمت کا پتہ دیتی ہے۔ آیت 19 ۔ اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلاتے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔ لفظ امسک اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے کہ اللہ نے پرندوں کو اپنی کس حکمت عملی سے قبضہ میں کر رکھا ہے ” پکڑنا ” تھامنا یا روکنا۔ یہ چھوٹی سی آیت بہت بڑے مفہوم کو سمیٹے ہوئے ہے۔ موریس بوکائلے کی تحریر سے ہم اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ جدید ترین تحقیقات پر سائنس نے دریافت کیا ہے کہ تمام جانداروں کے ہر خلیہ میں ایک کیمیاوی مرکب ڈی این اے ہوتا ہے۔ یہ بہت معمولی قسم کا کیمیاوی مرکب ہے۔ اس کی شکل ایک گول زینہ کی طرح ہوتی ہے اور یہ خرد بینی کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے۔ جس میں احکام کے یاد کرائے ہوئے حافظہ کی لاتعداد نقلیں ہوتی ہیں جن کو کوڈ (رمز) کہتے ہیں جب یہ خلیہ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے تو ہر حصہ کو اپنے اپنے کام کے لحاظ سے یہ نقلیں بھی مل جاتی ہیں۔ احکام کا یہ ٹیپ ریکارڈ ہر خلیہ میں صحیح وقت اور موقعہ پر احکام جاری کرتا رہتا ہے کہ خلیہ کو اب کیا کام کرنا ہے۔ یہ کوڈ اسی حساب سے احکام جاری کرتے رہیں گے جو اس کو خلیہ کی تقسیم کے وقت اس نقل میں ملے تھے ان احکام کی تلاش میں ڈی این اے اور یہ کوڈ (رمز) دریافت ہوئے ان رموز کو کون واضح کرتا ہے اور کیوں ؟ ابھی تک سائنس اس کو سمجھنے سے قاصر ہے بنانا تو درکنار (ازبائبل قرآن اور سائنس) مگر سائنسدان اس شعبہ میں بھی بڑی محنت سے لگے ہوئے ہیں۔ مذکورہ کتاب میں ہی درج ذیل اشعار از ڈاکٹر قیوم پاشازبیری ملاحظہ ہوں۔ ڈی این اے کے یہ کوڈ خلیات میں تحریر ہے ایک نوشتہ جو ہے احکام کی تعمیر ڈی کوڈ یہ جب ہوتی ہے لکھی ہوئی تقدیر آتی ہے نظر فعل کی صورت میں یہ تفسیر یہ دیکھ کے سمجھو کہ ضرورت ہے خدا کی ماخوذ از بصیرت موریس مزید حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ پروفیسر ہمبرگ اپنی کتاب طاقت اور کمزوری میں مٹن برڈ کے جو بحر الکاہل کے علاقہ میں رہتی ہے ” مشہور واقعہ کی مثال پیش کرتے ہیں کہ وہ پندرہ ہزار پانچ سو میل کا سفر انگریزی کے ہندسہ 8 کی شکل میں ترتیب پا کر طے کرتی ہے۔ یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ اس قسم کے سفر کے لیے یہ انتہائی پیچیدہ ہدایات اس پرندے کے محض اعصابی خلیات میں ہی شامل ہوسکتی ہے۔ وہ بےانتہا واضح طور پر منضبط ہوتے ہیں لیکن اس انضباط کو وجود میں لانے والا کون ہے ؟ مزید لکھتے ہیں۔ یہ اس سفر کو چھ ماہ میں طے کرتی ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ کی تاخیر سے پھر اسی جگہ واپس آجاتی ہے جہاں سے روانہ ہوئی تھی۔ یہ معمولی مثال ہے مگر یہ اور اس طرح کی بیشمار نشانیاں ہمارے چاروں طرف بکھری پڑی ہیں ہم خود ” ہمارا جسمانی و روحانی نظام ہمیں اللہ کے وجود اور وحدانیت کا سبق دیتے ہیں۔ مگر اس سبق کو حاصل کرنے کے لیے ایمان قرآن اور سنت رسول ﷺ میں بصیرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ عقل اللہ نے اسی لیے دی ہے کہ اس ذات کی عبادت کرو۔ اس ذات پر بھروسہ کرو جس نے تمہیں بنایا تمہارے لیے کائنات کو بنایا اور پھر تم لوٹ کر اسی کی پناہ میں جاؤ گے تو ظاہر ہے وہ خالق ومالک اپنے پسندیدہ بندوں کو پسندیدہ پناہ دے گا اور ناپسندیدہ بندوں کو ناپسندیدہ جگہ میں پناہ دے گا۔ اب فیصلہ خود آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے رستہ پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو۔ (22) اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمیشہ سیدھے رستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین
Ayahs 67:23–30

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے مگر تم کم احسان مانتے ہو۔

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

فرمادیں کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے سامنے تم جمع کئے جاؤ گے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب پوری ہوگی ؟

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

فرمادیں کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنادینے والا ہوں

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

سو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ وعدہ قریب آگیا تو کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جسے تم مانگ رہے تھے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر مہربانی کرے۔ تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے ؟

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

فرمادیں کہ جو رب رحمن ہے ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

فرمادیں کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور استعمال کرتے ہو) اگر خشک ہوجائے تو اللہ کے سوا کون ہے جو تمہارے لیے میٹھے پانی کا چشمہ بہا لائے ؟

اللہ کی مہربانیاں اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری تشریح : ان آیات میں صرف کان آنکھیں اور دل بنانے کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہاں انسان کے جسم کے مواصلاتی نظام کی وضاحت کی گئی ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں بھی اس نظام کا ذکر ہوچکا ہے دونوں جگہ دل کے ساتھ دوبنیادی اعضاء یعنی آنکھ اور کان کا تعلق خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات ہم ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی تحریر سے بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ جیسے اب حیاتیات کے علم الابدان نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے جسم میں مرکزی نروس سسٹم اور دماغ کے علاوہ ایک تیسرا نظام جو اہم پیمائشوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دل ہے جو ہمارے پورے مادی اور روحانی وجود کو ایک اکائی میں پرو کر برق مقناطیسی بندھنوں یعنی Electromagnetic Links کے ذریعے دماغ اور دوسرے ٹشوؤں سے جوڑتا ہے۔ دل اور دماغ انتہائی اہم اوزار ہیں۔ دماغ جہاں ریکارڈ رکھے جاتے ہیں۔ مگر دل کے ذریعے ہم علم کو پیدا بھی کرسکتے ہیں اور اس کا مشاہدہ بھی کرسکتے ہیں۔ اس عجوبے کا نام وجدان ہے۔ یہ اس خدائی راز کے ذریعے علم کا حصول ہوتا ہے جسے ہم شعور یا ادراک کہتے ہیں۔ ہمارے رسول پاک ﷺ کائنات کی عظیم ترین ہستی کا امی ہونے کا راز بھی یہی ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے دینوی احساس سے ماورا عظیم سچائیوں کو اپنے پاک دل کے شعور کے ذریعے ہی بیان کیا جو کہ وحی کے ذریعہ آپ ﷺ کو دیا گیا ایک بےحد اہم حقیقت ایک اور چیز کو کھلے طور پر ثابت کرتی ہے اور وہ ہے الہام یا پہلے سے آگاہی۔ یہ آرٹ دماغ کے کمپیوٹر کی سکرین پر ظاہر نہیں ہوتا۔ بےچینی یا مسرت کا احساس دل ہی کی حیران کن اور خوبصورت صلاحیتیں ہیں۔ دل ایک ایسا آلہ ہے یا مانیٹر ہے جو وقت کے محور میں کائنات کی تمام سچائیوں سے متعلق کسی واقعہ کے ہونے سے پہلے ہی اس کا ادراک حاصل کرلیتا ہے۔ ایسے الہام اس قدر زیادہ صراحت سے دل پر آتے ہیں کہ سائنس کے لیے یہ انتہائی حیرت ” تجسس اور مدح وثناء کے مقام ہیں۔ محبت اور نفرت کا اثر دل کی کارکردگی پر ضرور پڑتا ہے۔ کیونکہ محبت کے احساس سے نسیں زیادہ کشادہ اور پر سکون ہوتی ہیں اور خون کی ترسیل بہتر طریقے سے ہوتی ہے جب کہ نفرت بھرا دل نسوں کے تنگ یعنی سکڑ جانے کی وجہ سے بہتر ترسیل خون نہیں کرسکتا اور یوں صحت بھی خراب ہوسکتی ہے۔ اسی طرح فاسد دل پر مہر لگ جاتی ہے اور یوں نہ وہ دل اللہ کی محبت محسوس کرسکتا ہے نہ اس کے کان اللہ کی محبت کا پیغام سن سکتے ہیں نہ اس کی آنکھیں اللہ کی نشانیاں دیکھ سکتی ہیں۔ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) موجودہ دور کے روسی سائنس دان جو قرآن کو نہیں جانتے انہوں نے بھی ثمر بخش نروس سسٹم کے علاوہ اس تیسرے نروس سسٹم کی موجودگی کا خیال پیش کیا ہے۔ اور یہ قرآن کے بیان کے عین مطابق ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے مگر تم کم احسان مانتے ہو۔ (23) کیونکہ یہی لوگ ہیں جو نبی پاک ﷺ کی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے قیامت کے آنے کا پوچھتے ہیں۔ کیونکہ ان کو قیامت کا یقین ہی نہیں۔ تو فکر کی بات نہیں عنقریب وہ اس خوفناک دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے پھر ان کو معلوم ہوجائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ پھر اللہ رب العزت اپنے پیارے رسول ﷺ کو فرماتے ہیں کہ ذرا ان سے پوچھو بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی جو تم پیتے ہو اور استعمال کرتے ہو اگر خشک ہوجائے تو اللہ کے سوا کون ہے جو تمہارے لیے میٹھے پانی کا چشمہ بہا لائے۔ (آیت 30) اس آیت میں پانی کی فراہمی کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بندوبست ہر لحاظ سے صرف اللہ ہی کے کنٹرول میں ہے۔ جیسا کہ تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں اور یہ بڑی عام سی بات ہے جو ہم روزمرہ دیکھتے ہیں۔ حالانکہ بارش کا برسنا ایک معجزہ سے کم نہیں یہ قدرت کا کرشمہ ہے کہ کیسے سمندر سے پانی بادل بنتے ہیں ہوائیں ان کو دور دراز علاقوں میں لے جاتی ہیں۔ جہاں وہ بارش کی صورت میں پانی پہنچاتے ہیں کچھ سے نباتات اگتی ہیں، کچھ ندی نالوں اور دریاؤں میں بھر جاتا ہے اور کچھ زمین کے اندر جذب ہوجاتا ہے جو چشموں اور کنوؤں کی صورت میں صاف شفاف میٹھا پانی انسان کو ملتا رہتا ہے۔ پھر یہ پانی بہتے بہتے دوبارہ سمند میں جا ملتا ہے۔ سطح زمین کا 70 فیصد حصہ سمندروں سے ڈھکا ہوا ہے۔ اور یہ قدرت کا ساختہ پلانٹ دھوپ ہوا کی مدد سے دنیا کے لیے باقاعدہ چلتا رہتا ہے۔ اگر کبھی بارش کی کمی ہوجائے تو انسان بےبس ہو کر اللہ سے بارش کی دعائیں کرنے لگتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اتنا بڑاپلانٹ صرف اللہ کے حکم سے ہی چلتا ہے کسی بندے بشر میں نہ طاقت ہے نہ ہمت نہ قدرت اور نہ صلاحیت کہ وہ اس پانی کی باہم رسانی کے پلانٹ کو چلا سکے اور یوں انسان بےبس ہو کر اللہ کے سامنے گڑگڑانے لگتا ہے کہ اللہ پانی دے دے۔ ظاہر ہے پانی کی جو اہمیت اس زمین کی مخلوقات نباتات اور جمادات کے لیے ہے وہ کسی بھی اور چیز سے ہرگز پوری نہیں کی جاسکتی تو پھر ہر مذہب ہر عقیدے کا ہر بندہ اپنے طریقے سے اللہ ہی سے پانی کی درخواست کرتا ہے۔ اور اب ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سب سے بہترین عقیدہ ” طریقہ اور دعا مسلمان کی ہی ہے کہ وہ ڈائریکٹ اس کو مخاطب کر کے مانگتا ہے کہ جو اصل میں کا رمختار اور مالک الملک ہے۔ تجھے چھوڑ کر غیر کو جو پکارے وہ بندہ صحیح راستے پر نہیں ہے تیری یاد سے دل ہے آباد میرا کوئی دل میرے دل سے خوش تر نہیں ہے محمد منظور الحق ایک چھوٹی سی کہانی میری نظر سے گزری آپ بھی سنیے۔ پرانے زمانے کی بات ہے شاہ جہاں بادشاہ جنگل میں شکار کے دوران پیاس سے بےتاب ہوا تو چرواہے نے پانی پلایا اس پر شاہ جہان نے اسے دہلی میں لال قلعہ میں آنے کی دعوت دی تاکہ انعام و اکرام دے۔ چرواہا وہاں گیا تو سپاہی بڑے احترام سے اس کو جامع مسجد لے گئے وہاں چرواہے نے دیکھا کہ بادشاہ مسجد میں بیٹھا ہاتھ اٹھائے عاجزی سے دعا مانگ رہا ہے۔ چرواہا بڑا پریشان ہوا سپاہیوں سے پوچھنے لگا بادشاہ کیا مانگ رہے ہیں کس سے مانگ رہے ہیں ؟ یہ تو بادشاہ ہیں لال قلعہ والے بادشاہ۔ جواب ملا کہ ہاں یہ خدا سے مانگ رہے ہیں۔ خدا سے ہر ایک مانگتا ہے چاہے وہ بادشاہ ہو یا فقیرچرواہا خاموش ہوگیا اور واپس بھاگ گیا۔ بادشاہ فارغ ہوا تو چرواہے کا اسے بتایا گیا کہ وہ واپس چلا گیا ہے تو اس نے فوراً گھوڑ سوار بھیج کر اسے واپس بلوایا۔ خوب خاطر مدارت کی اور ملے بغیر واپس لوٹنے کی وجہ پوچھی تو چرواہ سادگی سے بولا۔ میں آپ سے انعام لینے آیا تھا مگر میں نے دیکھا کہ آپ تو خود ہاتھ پھیلا پھیلا کر مانگ رہے تھے۔ جب آپ خود مانگ رہے تھے تو بھلا مجھے کیا دیتے میں نے سوچا کہ میں بھی اسی سے مانگوں جس سے آپ مانگ رہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کیا ہم بےعلم چرواہے سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں۔ ہمارا بادشاہ او پر ہے مالک الملک اسی سے مانگنے کا حکم ہے۔ جو قرآن میں باربار دہرایا گیا ہے۔ خلاصہ سورة الملک آج ترقی کے اس دور میں جدید سائنس نے اسلام کے عقائد اور قوانین کو اس قدر واضح کردیا ہے کہ اب ایک عام انسان بھی توحید کی اصلیت اور برکت کو سمجھنے اور ماننے لگا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ ضد یا ہٹ دھرمی میں ادھر کا رخ نہ کرے۔ قرآن میں دی گئی پیش گوئیاں آئے دن پوری ہو رہی ہیں مثلاً سورة یونس کی آیت 92 میں جو کہا گیا سچ ثابت ہوا۔ اللہ نے فرمایا تو آج ہم تیرے بدن کو دریا سے نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لیے عبرت ہو اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔ حرف بحرف ثابت ہوگیا کہ مصر کے فرعون کی نعش قاہرہ کے عجائب گھر میں انتہائی عبرت ناک حالت میں محفوظ پڑی ہوئی ہے۔ وہ فرعون جو سیدناموسٰی (علیہ السلام) کے تعاقب میں غرق کردیا گیا تھا۔ اسی کا ذکر سورة یونس میں کیا گیا ہے۔ غرض قرآن و حدیث ہمیں یہی خبر دے رہے ہیں کہ صرف اسی کے سامنے جھکو جو سب سے بڑا ہے صرف اس سے مانگو جو اپنی ذات وصفات میں واحد ہے۔ بلکہ وحدہ لاشریک لہ ہے۔ یہ عقیدہ انسان میں خود اعتمادی تواضع و انکساری بلند نظری فراخدلی جسم و روح کی پاکیزگی ” مایوسی سے نجات عزم و حوصلہ صبر و توکل قناعت و بےنیازی اور بےمثال جرات و جوانمردی پیدا کردیتا ہے۔ یہ صرف کہنے سننے کی بات نہیں بلکہ یہ ثابت شدہ حقیقت ہے۔ جو سچے مسلمان میں پائی جاتی ہے۔ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی۔ (الحمد للہ سورة الملک مکمل ہوگئی۔ )