68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 68:1–16

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن۔ ( حروف مقطعات میں سے ہے) قسم ہے قلم کی اور جو لکھتے ہیں اس کی قسم

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ ( اے نبی ﷺ ! ) تم اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور آپ کے لیے بےانتہا اجر ہے

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور آپ کے اخلاق بڑے بلند ہیں

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو عنقریب آپ بھی دیکھ لوگے اور یہ کافر بھی دیکھ لیں گے

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

تمہارا رب اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

تو آپ جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ نرمی اختیار کرو تو یہ بھی نرم ہوجائیں

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعنہ دینے اور چغلی کھانے والا

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھا ہوا بد کار

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت خو اور بد نام بھی

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس واسطے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے ’

رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین ہیں۔ آپ ﷺ کا دیوانہ ہونا ہرگز ممکن نہیں۔ کیونکہ کفار کا آپ ﷺ کے اوپر ہر طرح سے بہت زیادہ پریشر تھا اور خاص طور سے جس کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں تفاسیر میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ لکھا گیا ہے۔ اس کی بد خصلت کا ذکر آیت 10 تا 16 تک میں کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی جو ایسی بد خصلت کا مالک ہو یا بہت سے لوگ ہوں تو آپ ﷺ کو اور تمام مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ ایسے لوگوں کی باتوں میں آکر اپنے مقدس کام تبلیغ کو کبھی بھی روکنا نہیں چاہیے بلکہ ایسے لوگوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام میں زورشور سے لگے رہنا چاہیے۔ جبکہ فی زمانہ بھی یہی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کچھ چند مولانا صاحبان اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ بظاہر سیدنامحمد ﷺ کی بڑی تعریف و توصیف کرتے ہیں مگر جہاں تک اتباع رسول اللہ ﷺ کا معاملہ آتا ہے۔ وہاں کام تسلی بخش دکھائی نہیں دیتا اور یہ فرمان الٰہی سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ قرآن میں آیا ہے۔ اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا تو اسی لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ (النساء 67) ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا اور اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔ (التغابن :8)
Ayahs 68:17–35

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان لوگوں کی اس طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انشاء اللہ نہ کہا۔

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے راتوں رات اس پر ایک آفت پھر گئی۔

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

تو وہ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو۔

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور کوشش کرکے سویرے ہی جا پہنچے گویا کھیتی پر قدرت رکھتے ہیں۔

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

جب باغ کو دیکھا تو ویران کہنے لگے کہ ہم رستہ بھول گئے ہیں

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں ہماری تو قسمت پھوٹ گئی ہے

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ایک جو ان میں درمیانہ تھا بولا کیا میں نے تم سے نہیں بولا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

تب وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی قصور وار تھے۔

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے کی طرف الزام دھرنے لگے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید ہے کہ ہمارا رب اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے گا ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

دیکھو عذاب یوں ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

پرہیز گاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں۔

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرح نعمتوں سے محروم کردیں گے

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔ بیشک یہ دنیا بڑی شیریں شاداب اور دلکش ہے اللہ نے تمہیں اس میں جانشین مقرر کیا ہے تاکہ وہ تمہیں جانچے کہ تم کیا روش اختیار کرتے ہو ” پس دنیا سے بچ کر رہو۔ (مسلم) کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تو دنیا میں رہنے کے سامان میں لگا ہے اور دنیا تجھ کو اپنے سے نکالنے میں سرگرم ہے۔