59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 59:1–4

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا، تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے مگر اللہ نے ان کو وہاں سے آلیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے تو اے اہل بصیرت عبرت حاصل کرو

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر اللہ نے ان کے بارے میں جلا وطن ہونا نہ لکھا ہوتا تو ان کو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیے آگ کا عذاب تیار ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرے تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

” بنی نضیر “ کا عبرت ناک انجام تشریح : سب سے پہلے مالک کل جہاں کی حکمت اور اس کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس طرح کہ کائنات کی ہر چیز چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے یہ تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں اللہ کے غالب، زور آور اور قادر ہونے کا ثبوت یوں دیا جا رہا ہے کہ اس نے بنو نضیر کے قبیلے کو کتنی آسانی سے اکھیڑ باہر کیا جبکہ وہ لوگ مدتوں سے وہاں آباد تھے۔ ان کا ٹھکانہ مدینہ کے مشرق کی طرف مدینہ سے کئی میل کے فاصلے پر تھا وہ مالی، تجارتی، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے بڑے مضبوط تھے۔ وہ اسلحہ کے لحاظ سے بڑے مضبوط تھے اور انہوں نے بڑے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے اور ان کو اپنے محفوظ ٹھکانوں پر اپنی تعداد، مال اور دولت اور اسلحہ کی زیادتی پر بڑا ناز تھا وہ کبھی سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ان کو کوئی اپنی جگہ سے ذرا برابر بھی ہلا سکے گا مگر اللہ کی قدرت کے سامنے وہ بالکل بےبس ہوگئے اور مسلمانوں کے پہلے ہی حملہ میں جلا وطن ہونے پر تیار ہوگئے۔ ہوا یوں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ پہنچے تو وہاں یہودی ان کے سب سے بڑے دشمن تھے اللہ نے آپ ﷺ کو سیاسی اور عسکری حکمت عملی میں ماہر بنا رکھا تھا، لہٰذا آپ نے اپنے نظام میں ایسے قوانین نافذ کیے کہ جن کی رو سے تمام موجود قوموں کے حقوق کا تحفظ، مذہب، جان و مال اور عقیدے کا تحفظ لازمی ہوگیا اور پھر تمام قبائل سے باقاعدہ معاہدہ کرلیا گیا جس میں سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ امن و جنگ دونوں حالتوں میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ یہ معاہدہ اسلامی حکومت کی بنیاد بن گیا کیونکہ اس معاہدہ کے بانی ہونے کی وجہ سے مدینہ کی تمام قوت آپ کے قبضہ میں آگئی کیونکہ کسی بھی اختلاف کی صورت میں فیصلہ کرنے کا حق آپ ﷺ کے ہاتھ میں آگیا تھا بہرحال یہودیوں نے وعدہ خلافی کئی مرتبہ کی اور بہت سی غلط حرکات مثلاً آپ ﷺ پر قاتلانہ حملہ اور منافقین کے ساتھ مل کر دشمنوں کی مدد وغیرہ تو اسی سلسلہ میں اللہ کے حکم سے بنو نضیر کو حکم دے دیا گیا کہ یہاں سے گھر بار زمین جائیداد چھوڑ کر نکل جاؤ ورنہ تمہارا انجام اچھا نہ ہوگا۔ انہوں نے بےرخی سے جواب دیا، ہم نہیں جاتے کرلو جو کرنا ہے،۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے ان کے محاصرہ کا حکم دے دیا۔ صرف چھ دن کے محاصرہ پر یہود نے ہتھیار ڈال دئیے۔ اور پوچھا کہ ہم کہاں جائیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، محشر کی زمین کی طرف سیدناحسن ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کیا تو فرمایا یہ اول حشر ہے اور ہم بھی اس کے پیچھے ہی پیچھے ہیں۔ (ابن جریر از تفسیر ابن کثیر) ، اول المحشر، کی تفسیر میں بہت زیادہ اختلافات ہیں اور ہمیں اس میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہمیں صرف یہ پتہ ہونا چاہیے کہ بنو نضیر کا یوں جلا وطن ہوجانا کسی معجزہ سے کم نہ تھا کیونکہ دونوں فریق یعنی مسلمان اپنی فتح پر اور یہود اپنی شکست پر حیران تھے لیکن اللہ کی مرضی کے سامنے کسی کی نہیں چل سکتی تو یہود جنگ بدر کے 6 ماہ بعد اپنی جگہ ٹھکانا چھوڑ کر شام اور خیبر کی طرف چلے گئے۔ یہ واقعہ یوں عبرت دلاتا ہے کہ جب کوئی عزت دولت طاقت والا گروہ اللہ کے خلاف اٹھ کھڑا ہو تو اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی طاقت اور رسول ﷺ کی حکمت کے سامنے کسی کا بھی ٹھہر نا ناممکن ہے۔ جیسا کہ بنو نضیر کا حال ہوا۔ اگر اور اکڑتے تو پھر ان کو اللہ کی طرف سے اور بھی زیادہ سختی اور عذاب دیکھنا پڑتا اور آخرت کا عذاب تو ان کے لیے مقرر کیا ہی جا چکا تھا جو ان کو ہر حال میں ضرور ملے گا اللہ نے آپ ﷺ کو سیاسی سوجھ بوجھ بہت زیادہ دے رکھی تھی یہی وجہ ہے کہ مدینہ کو یہودیوں سے بالکل پاک صاف کردیا گیا۔ بنو قینقاع سب کو جلا وطن کردیا گیا۔ اور یہ سب صرف اللہ کے اس فرمان کی سچائی میں ہوا کہ، جو شخص اللہ کی مخالفت کرے گا تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے،۔ (آیت 4)
Ayahs 59:5–10

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

مومنو ! کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑے رہنے دیا یہ سب اللہ کے حکم سے تھا، تاکہ وہ (اللہ) نافرمانوں کو رسوا کرے۔

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو مال اللہ نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (لڑائی کے بغیر) دلوایا ہے (اس میں تمہارا کچھ حق نہیں) کیونکہ اس کے لیے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال اللہ نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ اللہ کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابتداروں کے، یتیموں، حاجتمندوں، اور مسافروں کے لیے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولتمند ہیں انہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تمہیں پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

اور ان غریب وطن چھوڑنے والوں کے لیے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے بےدخل کر دئیے گئے ہیں۔ اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے ایماندار ہیں

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے لیے بھی جو مہاجرین سے پہلے ہجرت کے گھر مدینہ میں مقیم اور ایمان میں مستقل رہے اور جو لوگ ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں۔ اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش اور خلش نہیں پاتے اور ان کو اپنے آپ سے مقدم رکھتے ہیں خواہ وہ خود ضرورت مند ہوں اور جو شخص نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور ان کے لیے بھی جو ان مہاجرین کے بعد آئے اور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ و حسد پیدا نہ ہونے دے۔ اے ہمارے رب تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے

مال غنیمت اور مال فَیْ کی تقسیم انصار کی فراخدلی تشریح : سب سے پہلے تو یہودیوں کو اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ بیشک پھل دار درخت کاٹنے کی مسلمان کو ممانعت ہے مگر اب جو مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹ دئیے ہیں تو یہ اللہ کے حکم سے ہی کاٹے ہیں کچھ تو جنگی مصلحت کی بنا پر اور کچھ دشمنوں کو ان کے باغات کی تباہی و بربادی دکھا کر جلانے اور پریشان کرنے کیلئے۔ دوسرا بڑا اہم مسئلہ فی، اور مال غنیمت کی تقسیم کا تھا۔ مال غنیمت اور فَیْ ، دونوں ہی دشمن کے چھوڑے ہوئے منقولہ وغیر منقولہ مال کو کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فَیْوہ مال ہے جو بغیر جنگ و جدل بغیر خون خرابے کے حاصل ہو اور غنیمت وہ ہے جو جنگ و جدل کے بعد ہاتھ لگے۔ سورة الانفال میں بیان ہوچکا ہے کہ جو اثاثہ منقولہ، یعنی نقدی اور ہتھیار وغیرہ جو دشمن سے لڑ کر چھینا جائے اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا اور باقی لشکریوں کا ہے جنہوں نے اس لڑائی میں حصہ لیا۔ مزید تفصیلات گزر چکی ہیں۔ فَیْکے بارے میں یہاں اس طرح وضاحت کی گئی ہے کہ پہلا حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے۔ اس کی وضاحت حدیث کے ذریعے اس طرح کی گئی ہے۔ سیدنا عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ اس حصہ میں سے اپنا اور اہل و عیال کا نفقہ لے لیتے تھے اور باقی آمدنی جہاد کے لیے اسلحہ اور سواری کے جانور فراہم کرنے پر خرچ کرتے تھے۔ (بخاری ) دوسرا حصہ رشتہ داروں کا ہے۔ یعنی بنی ہاشم و بنی عبد المطلب کے جو ضرورت مند ہوں ان کو مدد دی جائے۔ پھر یتیموں، حاجتمندوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ پھر ان مہاجرین کے لیے ہے جو صرف اللہ اور رسول ﷺ اور دین کی محبت میں اپنے گھر بار مال متاع سب کچھ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کر آئے۔ پھر ان انصار کے لیے بھی حصہ ہے۔ جنہوں نے مہاجرین کی پوری پوری خلوص دل سے مدد کی، حالانکہ وہ خود بھی مالی لحاظ سے اتنے مضبوط نہ تھے۔ یہ تقسیم اس لیے کردی گئی تاکہ اسلامی معاشرے اور حکومت کی معاشی پالیسی کو مضبوط کردیا جائے وہ اس طرح کہ مال صرف امیروں کے پاس ہی جمع نہ ہوتا رہے بلکہ غریب لوگوں کو بھی مل جائے اور یوں روپیہ بجائے ایک جگہ جمع ہوجانے کے گردش میں رہے اور یوں معاشرے میں توازن پیدا ہوجائے۔ غریب زیادہ غریب اور امیر زیادہ امیر نہ ہوتے جائیں۔ اسی وجہ سے اسلام میں سود حرام کیا گیا ہے زکوٰۃ فرض کی گئی اور فَیْ میں غریبوں کا حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے جزیہ و خراج کا بڑا حصہ غریبوں کے لیے مخصوص ہے۔ پھر یہ حکم دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جو بھی تقسیم کریں بلاچوں و چرا سب اس کو خوش خوشی قبول کریں۔ یہ احکامات صرف اس وقت کے مسلمانوں کے لیے ہی نہیں تھے بلکہ یہ اصلاح معاشرہ کے لیے ہمیشہ کے قوانین میں شامل ہے۔ جس طرح مہاجرین نے فراخدلی، انسان دوستی، باہمی محبت، ایثار، قربانی اور خلوص کا ثبوت دیا یہ بھی عالم انسانیت کے لیے ایک راہ ہدایت پانے کی بہترین مثال ہے۔ ہم مسلمان بھائی بھائی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہر مصیبت، پریشانی، خوشی، غمی بلکہ اپنی دعاؤں میں تمام مسلمان بھائیوں کو بہنوں کو بھی ہمیشہ شامل رکھیں۔ اور اللہ سے سب کے لیے خیر و برکت اور جن و انس کی شرارت سے حفاظت اور شیطانی جذبات سے پناہ کی دعا کرتے رہیں کیونکہ واقعی، اللہ بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے،۔ (آیت 10) یوں تو پورا قرآن ہی رشد و ہدایت کا خزانہ اور انسان کی کامیابیوں کے لیے روشنی کا مینار ہے لیکن گزشتہ آیات کو پڑھ کر خاص طور پر اللہ کی عظمت اس کی مہربانی اور قدرت کی روشن دلیل مل جاتی ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا اور کتاب ہدایت دی اور ایسا رسول ﷺ دیا کہ جن کی زندگی کا ہر لمحہ ہر بات ہمارے لیے تربیتی طریقے، ہدایات اور تمدنی و سیاسی تعلیمات کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسی لیے تو شیطان اور اس کے ساتھی ہر وقت اسی فکر میں لگے رہتے ہیں کہ کون سا موقع ملے کہ انسان کو بھٹکانے کی کوشش کریں۔ اللہ ہمیں اس کی چالوں سے محفوظ ومامون رکھے۔ (آمین)
Ayahs 59:11–17

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا آپ نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کیے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے گر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر مدد کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو کہیں سے بھی مدد نہیں ملے گی۔

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

مسلمانو ! تمہاری ہیبت ان لوگوں کے دلوں میں اللہ سے بھی بڑھ کر ہے یہ اس لیے کہ یہ سمجھ نہیں رکھتے

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے آمنے سامنے لڑ نہیں سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں پناہ لے کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر، ان کی آپس میں لڑائی سخت ہے۔ آپ شاید سمجھتے ہو کہ یہ اکھٹے اور ایک جان ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں، یہ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کا حال ان لوگوں جیسا ہے جو ان سے کچھ ہی عرصہ پہلے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں، اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

(منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا، کافر ہوجا،۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا، ، مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں مجھے تو اللہ الہ العٰلمین سے ڈر لگتا ہے

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں داخل ہوئے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور بےانصافوں کی یہی سزا ہے۔

منافقین کے احوال تشریح : ان آیات میں کفار و مشرکین کا ذکر ہے خاص طور سے منافقین کی فطرت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا زوال ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ منافقین ہی ہوتے ہیں۔ منافقین بڑے ہی بزدل ہوتے ہیں کیونکہ ان کا نہ کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ایمان بس وہ تو ہوا کے رخ پر چلتے ہیں یعنی تھالی کے بینگن ہوتے ہیں بجائے اللہ سے ڈرنے کے وہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ انتہائی بےوقوف، بد عہد، بےعقیدہ، بزدل، خود غرض جھوٹے، مکار اور بد دیانت لوگ ہوتے ہیں۔ جھوٹ سچ بول کر وقتی فائدہ اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اور خود اپنے لیے اور اپنے پیروکاروں کے لیے انتہائی نقصان دہ لوگ ہوتے ہیں۔ شیطان کے بھائی بند ہوتے ہیں۔ آج بھی بڑی طاقتیں اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے چھوٹی طاقت رکھنے والے ملکوں سے معاہدے کرتے ہیں مگر وقت پڑنے پر، تو کون اور میں کون،۔ ایسی ہی مثال بنو نضیر کی بھی ہمارے سامنے موجود ہے کہ جب ان کو دس دن کی مہلت دی گئی نبی اکرم ﷺ کی طرف سے کہ یہ جگہ چھوڑ کر چلے جاؤ تو اس وقت عبداللہ بن ابی، دوسرے کئی منافق لیڈر، بنی قریظہ اور بنی غطفان وغیرہ نے ان سے وعدہ کیا کہ، ہم تمہارے ساتھ ہیں ڈٹ جاؤ،۔ مگر جب وقت آیا تو سب بھول گئے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا محاصرہ کرلیا گیا اور کوئی ان کی مدد کو نہ آیا۔ اور پھر ان کا حال آپ پڑھ چکے ہیں کیا ہوا۔ ، عبداللہ بن اُبَیّ ،۔ بہت بڑا منافق تھا۔ کیونکہ یہ صرف اس لیے مسلمان ہوا تھا کہ ایک تو ذاتی مفاد اٹھائے اور دوسرے بظاہر مسلمان ہو کر تمام رازوں سے واقف ہو کر مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچائے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے جنگ بدر میں اس نے کیا تھا۔ منافق لوگ خود آپس میں بھی مل جل کر پیار محبت سے یکجا ہو کر نہیں رہ سکتے کیونکہ ان کے دلوں میں منافقت کی بیماری ہوتی ہے جو ان کو ہر وقت بےسکون اور شکوک و شبہات میں مبتلا رکھتی ہے۔ وہ ہر شخص کو اسی نگاہ سے دیکھتے اور خطرات جو ان کے خود اپنے بنائے ہوئے ہوتے ہیں ان میں گھرے رہتے ہیں اور عقل کے اتنے اندھے ہوتے ہیں کہ بجائے اللہ عظیم و کبیر سے ڈرنے کے وہ بےبس اور کمزور بندوں سے ڈرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ قوم وملت اور ملک کے لیے انتہائی خطر ناک ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ نفس اور شیطان کے فرمانبردار اور غلام ہوتے ہیں۔ منافق کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے : منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ 1 ۔ جب بات کہے تو جھوٹ بولے۔ 2 ۔ جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے۔ 3 ۔ جب اس کے پاس امانت رکھائی جائے تو خیانت کرے،۔ (بخاری و مسلم) پھر فرمایا : زیادہ خوفناک جس سے میں امت کے بارے میں ڈرتا ہوں ہر وہ منافق ہے جو زبانی عالم (بےعمل) ہے۔ (بخاری و مسلم) منافق اللہ کے نزدیک اسی سزا کا حقدار ہوگا جس سزا کا کافر، مشرک اور شیطان ہوگا۔ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ جہنم کی دردناک سزا۔ ہمیں اپنے اعمال پر ہر وقت کڑی نظر رکھنی چاہیے کیونکہ بعض اوقات انسان مومن ہو کر بھی منافقت کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ یہ شیطان کا حملہ ہوتا ہے جو بڑے چپکے سے بندے پر وقتاً فوقتاً کرتا رہتا ہے۔ تو اس سے بچنے کے لیے قرآن و حدیث کا مطالعہ ہمیشہ جاری رکھنا چاہیے تاکہ ایمان تازہ رہے۔ دعا ہے ! الٰہی ہمیں اس گروہ میں شامل کر جو کثرت سے توبہ کرتا ہے۔ اور پاکیزگی اختیار کرتا ہے۔ (آمین)
Ayahs 59:18–24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (آخرت) کے لیے کیا سامان بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں ایسا کردیا کہ خود اپنے آپ کو بھول گئے یہ بدکردار لوگ ہیں

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ اس کو دیکھتے کہ اللہ کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، بادشاہ ہے، پاک ذات سب عیبوں سے سالم امان دینے والا، نگہبان، غالب، زبردست بڑائی والا، اور اللہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی اللہ تمام مخلوقات کا خالق ایجاد و اختراع کرنے والا، صورتیں بنانے والا، اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتی ہیں۔ اور وہ غالب، حکمت والا ہے۔

مسلمانوں کا کردار اللہ اور قرآن کی صفات تشریح : قرآن پاک کا یہ اصول ہے کہ ڈر اور خوشخبری دونوں ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں برے لوگ اور ان کے برے انجام کا ذکر تھا تو یہاں اچھے لوکوں کی تعریف کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارے لیے جنت کے باغات اور تمام رحمتیں ہیں تم اور وہ لوگ جو جہنم کے وارث ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا خوش نصیب لوگوں کا کام ہے آیت 21 کی وضاحت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب یوں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ، اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح اللہ کی کبریائی، اس کے حضور بندے کی جواب دہی کو صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو ہوجاتا اور اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کو کس رب قدیر کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے تو وہ بھی خوف سے کانپ اٹھتا۔ لیکن حیرت کے لائق ہے اس انسان کی بےحسی اور بےفکری جو قرآن کو سمجھتا ہے اور اس کے ذریعہ سے حقیقت حال جان چکا ہے اور پھر بھی اس پر نہ کوئی خوف طاری ہوتا ہے، نہ کبھی اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ جو ذمہ داریاں اس پر ڈالی گئی ہیں ان کے بارے میں وہ اپنے خدا کو کیا جواب دے گا۔ بلکہ قرآن کو سن کر یا پڑھ کر وہ اس طرح غیر متاثر رہتا ہے کہ گویا وہ ایک بےجان و بےشعور پتھر ہے جس کا کام سننا اور دیکھنا اور سمجھنا ہے ہی نہیں،۔ (از تفہیم القرآن) ۔ دراصل یہاں پر قرآن کی اہمیت و عظمت اور پر اثر کتاب ہدایت ہونے پر زور دیا گیا ہے اور پھر ُ اس ذات باری تعالیٰ کی عظمت وقدرت کا ذکر ہے کہ جس نے یہ بہترین، جامع، معقول اور تمام علوم و فنون کی کتاب نازل فرمائی ایک ایسی کتاب کہ جس میں ماضی، حال و مستقبل عالم الغیب اور عالم الشہادت کی تمام خبریں پوری سچائی اور وضاحت کے ساتھ بیان کردی گئی ہیں اور یہ کہ اس کی ہر آیت حق و باطل کا فرق واضح کرتی ہے۔ معبود برحق کا یقین دلاتی ہے، طبیعی، روحانی بدنی غرض ہر قسم کا علم مہیا کرتی ہے اور اس دنیا و آخرت کی دنیا کے انجام کو بڑی اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ آں کتاب زندہ قرآن حکیم حکمت اولا یزال است و قدیم (علامہ اقبال (رح) ) تو یہ سب کچھ یونہی تو نہیں کردیا گیا بلکہ انسان کو بتایا گیا ہے کہ اس کو پیدا کرتے ساتھ ہی اس کی رہبری و ہدایت کے لیے کتاب اور رسول ﷺ کا بندوبست کردیا گیا جس طرح کسی بھی مصنوعات کے ساتھ بنانے والا ایک بک لٹ ضرور دیتا ہے۔ اب اگر اس کتاب سے ہدایت لیے بغیر زندگی گزارتا ہے تو پھر سوائے ادھر ادھر بھٹکنے کے اور کیا ہوگا۔ نتیجہ یہی ہوگا کہ بھٹکتے بھٹکتے کبھی گڑھے میں گرے گا تو کبھی دلدل میں پھنسے گا۔ کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ اللہ کی دی ہوئی کتاب ہدایت کو پڑھ کر اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر چل کر، آسان، پر سکون اور کامیاب زندگی گزارے اور آخرت کے لیے مال جمع کرے تاکہ نجات ملے اور سکون عیش و آرام کے خزانے مل جائیں۔ ملاحظہ ہو۔ ایماں کی حفاظت تجھے مطلوب اگر ہے قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان (علامہ اقبال (رح) ) حدیث میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔” تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے “۔ (بخاری) جو ہدایات ہم آپ کو دے رہے ہیں ان کو مضبوطی سے پکڑو اور (دھیان سے) سنو۔ (البقرہ :93) مطلب یہ ہے کہ اپنی تمام جسمانی صلاحیتوں کو جمع کرنے کے بعد قرآن کو پڑھو، یعنی، سماعت، بصارت، تلاوت، تدبر اور تذکر جب جمع ہوجائے گا تو مفہوم قرآن خود بخود دل و دماغ اور روح کے اندر اتر جائے گا۔ اور جب یہ مقام آئے گا تو پھر جسم کا کون سا حصہ ہے جو احکامات خداوندی پر عمل کرنے سے انکار کرے گا۔ اور جب ایک مومن قرآن کی تمام نعمتیں، برکتیں اور فضیلتیں سمیٹ لے گا تو پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اس کتاب کے بھیجنے والے کی عظمت کو پہچان نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر دو جگہ بڑا واضح کیا گیا ہے۔ ایک سورة بقرہ آیت الکرسی میں اور ایک یہاں سورة الحشر کی 22 سے 24 تک کی آیات میں۔ بڑے خوبصورت اور دلنشیں انداز میں اللہ تعالیٰ کے 99 صفاتی ناموں میں سے کچھ کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ مثلاً وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہر قسم کی رشتہ داریوں اور مددگاروں سے وہ پاک ہے۔ صرف وہی عبادت کے لائق ہے کیونکہ اس کا علم بڑا وسیع ہے ظاہر اور غیب وہ سب جانتا ہے۔ وہ بڑا مہربان اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اس لیے بندگی اور دعا صرف اسی سے ہوسکتی ہے اور کسی سے نہیں۔ وہ بادشاہ کل ہے۔ پاک ذات سب عیبوں سے سالم، امان دینے والا، نگہبان، ہر چیز پر غلبہ رکھنے والا زبر دست بڑائی والا اور اللہ مشرکوں کے شریک بنانے سے پاک ہے کیونکہ وہی تو ہے جو تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے۔ بہترین ایجادات کا خالق اور طرح طرح کی صورتیں بنانے والا کمال یہ ہے کہ نین نقش ایک ہی ہیں مگر پھر بھی ایک کی شکل دوسرے سے نہیں ملتی یہاں تک کہ انگلیوں کے نشانات اور آواز تک ہر بندے کی مختلف ہوتی ہے۔ ہے کوئی اس کے مقابلے کا خالق ؟ ہرگز نہیں ! اس لیے اللہ کے صفاتی نام بیشمار ہیں کیونکہ تمام حکمتیں اور ہر طرح کے غلبہ صرف اسی کے قبضہ میں ہے نہ کوئی اس کی حکمتوں سے انکار کرسکتا ہے اور نہ کوئی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ انسانی عقل کی پہنچ اس تک ہرگز نہیں ہوسکتی، وہ زبردست اور بڑا حکمت والا ہے۔ اسی لیے تمام مخلوقات، انسان، حیوانات، جنات، نباتات، جمادات غرض ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی ہی تسبیح و تقدیس کرتی رہتی ہے۔ کون ہے جو اس قدر عظیم و کبیر خالق العٰلمین کی بندگی نہ کرے گا ؟۔ ہاں انسان میں کچھ طبقات ایسے ہیں جو شیطان کی بندگی کرنے لگے ہیں۔ تو ایسے ہی لوگوں کے لیے بد نصیبی کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہ اللہ کا اور اس کی حکومت کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے مگر اپنا سب کچھ تباہ و برباد کرلیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے۔ شعلہ شمع خدائی بھی کبھی بجھتا ہے رہ گئے اپنا سامنہ لے کے بجھانے والے نقش اسلام نہ اعداء کے مٹانے سے مٹا مٹ گئے آپ ہی جتنے تھے مٹانے والے خلاصہ سورة الحشر یہ سورت اسوہ رسول ﷺ کی طرف متوجہ کرتی ہے کیونکہ غزوہ بنو نضیر میں جو کچھ آپ ﷺ نے کیا وہ سب مسلمانوں کے لیے جنگی، معاشی اور دینی حدود بن گئی ہیں۔ یعنی برائی کو ختم کرنے کے لیے اور دین کی سربلندی کیلئے۔ اللہ کی مدد کے ساتھ پورے جذبہ اور خلوص اور توکل علی اللہ کے ساتھ پوری شجاعت اور بےخوفی سے اصولوں کے تحت دشمن سے مقابلہ کرو۔ اس کی طاقت سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد فَیْکی تقسیم میں خاص طور سے ضرورت مندوں کا خیال رکھا گیا تاکہ غریب زیادہ غریب اور امیر زیادہ امیر نہ ہوجائیں اور پیسہ گردش میں رہے اور یوں مسلمان اچھے مسلمان بن سکیں۔ دراصل اسلام کے اصول بڑے ہی اچھے اور پُر معنی ہیں کیونکہ یہ انسان کو بڑا اچھا انسان بنا دیتے ہیں حدیث ملاحظہ ہو۔ سیدناابو ذر غفاری ؓ سے مروی ہے۔ ، میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا رسول ﷺ اللہ تنہا بیٹھے ہیں۔ میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا تو میں نے کہا اے رسول اللہ ﷺ مومنوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ، جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو،۔ پھر میں نے پوچھا کہ سب سے افضل مسلم کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ، جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ ہوں۔ پھر میں نے پوچھا کہ سب سے افضل ہجرت کون سی ہے ؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اس شخص کی ہجرت جو برائیوں کو چھوڑ دے۔ (از تفسیر ابن کثیر) اصل میں ہجرت کا مطلب ہے چھوڑ دینا۔ اللہ پر ایمان انسان کو کامل انسان بنا دیتا ہے۔ اور ایمان کی برکت سے وہ اندر سے باہر تک بالکل بدل جاتا ہے اسے ہر چیز کی بڑائی، قدرت اور عظمت دکھائی دینے لگتی ہے۔ حسن بصری (رح) تعالیٰ نے کہا کہ، ایک گھڑی کے لیے اللہ میں سوچنا (غور کرنا) ساری رات نماز پڑھنے سے بہتر ہے،۔ اسی طرح سفیان بن عینیہ نے کہا کہ، غور وفکر کرنا روشنی ہے جو تمہارے دل میں داخل ہوتی ہے،۔ وہ کہا کرتے تھے کہ، جب آدمی کے اندر سوچ کا مادہ ہو تو ہر چیز میں اس کے لیے عبرت و نصیحت ہوگی،۔ (از دین انسانیت) اللہ کی پہچان، رسول اللہ ﷺ کی پیروی اور قیامت پر یقین یہی وہ بنیادی عقائد ہیں جو انسان کی اس زندگی کو صاف اور اس زندگی کو پاک کر کے جنت کی راہ دکھائیں گے اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔ ( آمین) (الحمد للہ سورة الحشر ختم ہوگئی)