58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 58:1–6

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث و مباحثہ کرتی اور اللہ سے رنج و ملال کا شکوہ کرتی اللہ نے اس کی التجا سن لی اور اللہ تم دونوں کی بات چیت سن رہا تھا کچھ شک نہیں اللہ دیکھنے والا اور سننے والا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو پیدا کیا ' بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو ان کو ہم بستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ضروری ہے۔ (مومنو ! ) اس حکم سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

جو غلام آزاد نہ کرسکے وہ دو مہینے متواتر روزے رکھے بیوی سے ملنے سے پہلے (کفارے کے طور پر) جو یہ بھی نہ کرسکے اسے ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلانا چاہیے یہ حکم اس لیے ہے کہ تم اللہ اور رسول ﷺ کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور یہ اللہ کی مقرر کی گئی حدود ہیں اور نہ ماننے والوں کے لیے درد دینے والا عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں اور کفار کو ذلت کا عذاب ہوگا

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے ان کو جتائے گا اللہ کو وہ سب کام یاد ہیں اور یہ ان کو بھول گئے ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے

” ظہار “ اور اس کے شرعی احکام تشریح : قرآن پاک میں بار بار نیکی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سورت تو خالصتاً انتہائی اہم احکامات بتا رہی ہے۔ یہ احکامات ظلم، زیادتی، کفروشرک، بےحیائی اور بد نظمی سے بچاتے ہیں۔ جیسا کہ سورت کے شروع میں ظہار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر اور بیشمار دوسری تفاسیر میں احادیث و روایات میں یہی بتایا گیا ہے کہ یہ آیات خاص طور سے خولہ بنت ثعلب ؓ کے مسئلہ ظہار کو حل کرنے کے لیے نازل کی گئی تھیں جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے حدود کا درجہ رکھتی ہیں۔ واقعہ تو آیات میں بتا دیا گیا ہے یہاں ایک تو اللہ کے سمیع وبصیر ہونے کی دلیل ملتی ہے ایک اس کے رحمن ورحیم ہونے کی دلیل ملتی ہے اور بہترین وکیل ہونے کی بھی کہ جونہی اس کے بندوں کو تکلیف پہنچتی ہے وہ فوراً اس کا بہترین حل بتا دیتا ہے۔ پھر سیدناخولہ بنت ثعلب کی بڑی عزت افزائی ہوگئی کہ مسئلہ ان کی وجہ سے قرآن میں حل کیا گیا جو کہ بعد میں تمام مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت مقرر ہوگیا، پھر اس حکم سے زمانہ جاہلیت کی وہ رسم بھی توڑ دی گئی کہ ظہار کرنے والے شوہر کا بیوی سے نکاح ٹوٹ جاتا تھا۔ بیوی کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں نہیں بن جاتی مگر جو بھی کوئی یہ بےہودہ بات کہے اس کو اس کی سزا ضرورملنی چاہیے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس انتہائی نازک معاملے کے لیے صاف صاف حکم لگا دیا ہے۔ کہ جو بھی کوئی ظہار کی حرکت کرے تو پھر بیوی سے نکاح تو نہیں ٹوٹے گا مگر کفارہ لازم ہوجائے گا اور جب تک کفارہ ادا نہ کردیا جائے گا بیوی کو چھونا سختی سے منع ہے۔ کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کردے یہ نہ ہوسکے تو مسلسل 2 ماہ کے روزے رکھے اگر کسی وجہ سے یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر ساٹھ مسکینوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے۔ تفاسیر میں لکھا گیا ہے کہ روایات کی روشنی میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اگر کوئی شخص مساکین کو کھانا کھلانے سے بھی عاجز ہو تو اس کی اس معاملہ میں پوری مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ مقررہ حدود اور اللہ کے فرمان کو پورا کر کے دنیاو آخرت میں نجات حاصل کرسکے۔ کیونکہ آیات چار اور پانچ میں بڑا سخت حکم دیا گیا ہے، نافرمان اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت کو پورا نہ کرنے والے عذاب کے مستحق ہوں گے جو ان کو دنیا وآخرت میں ضرور بھگتنا پڑے گا۔ فرمان اللہ ہے۔ ” جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔ “ (آیت 5) ۔ امام ابن قیم (رح) اعلام الموقعین میں لکھتے ہیں : اللہ کی شریعت جو انصاف پر مبنی ہے بندوں کی دنیا وآخرت کی مصلحت و بھلائی کے لیے بنائی گئی ہے شریعت اسلامیہ سرتاپا عدل، انصاف، رحمت، ' مصلحت اور حکمت ہے۔ ہر مسئلہ جو عدل سے ظلم، رحمت سے غیر رحمت، مصلحت سے فساد اور حکمت سے حماقت میں داخل ہوجائے وہ شریعت نہیں۔ خلاصہ یہ کہ اللہ کی شریعت جو ابدی ہے۔ اس میں مصلحت عامہ کی خاطر قوانین و احکام وضع کرنے کی گنجائش و وسعت موجود ہے بشرطیکہ ایسا کرنے میں کسی حکم الٰہی کی نافرمانی یا کسی اسلامی قاعدے سے تجاوز یا اسلامی طریق میں تبدل و تغیر واقع نہ ہوتا ہو۔ (از انسان کامل مصنف محمد بن علوی المالکی الحسینی استاد مسجد الحرام، مکہ المکرمہ) یہاں ” ظہار “ کے لیے جو کچھ بھی سزا مقرر کی گـئی ہے وہ جرم کے عین مطابق ہے۔ جسمانی سزا نہیں بلکہ ہر طرح اس میں اصلاح روح اور اصلاح معاشرہ کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ پھر بڑی ہی سختی سے بتا دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی صورت اللہ کی بتائی ہوئی حدود سے ہٹ کر زندگی گزارے گا تو اس کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس میں نہ صرف یہ کہ اس کا اپنا نقصان اس زندگی میں ہوگا بلکہ اس دن جب اعمال کا حساب کتاب کر کے اللہ تعالیٰ جنت یا دوزخ یا اعمال کے مطابق سزا و جزا دے گا یہ پیغام بھی بالکل سچا اور پکا ہے کہ نافرمان سزا سے ہرگز بچ نہ سکے گا کیونکہ اللہ نے فرما دیا ہے۔” جس دن اللہ ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے ان کو جتائے گا۔ اللہ کو وہ سب کام یاد ہیں اور یہ ان کو بھول گئے ہیں، اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے “۔ (آیت 6) ۔ آج کل سائنس اتنی ترقی کرچکی ہے کہ اعمال کے ریکارڈ ہونے اور دوبارہ زندہ کیے جانے میں کوئی شک و شبہ نہیں رہ گیا۔ سکاٹ لینڈ کے جان لوئی بیرڈ کی ایجاد ٹیلیویژن اس کا زندہ ثبوت ہے۔ اسی طرح فضائی شعائیں نیوٹرینو جو زمین پر ہونے والے ہر واقعہ کی فلم تیار کر رہی ہیں۔ یہ فضا سے برسنے والی انتہائی لطیف تابکار شعائیں ہیں۔ یہ اور اسی طرح کے بیشمار انتظام اللہ حکیم وخبیر نے کر رکھے ہیں جو ابھی تک انسان کے علم سے باہر ہیں۔ اللہ کا یہ دعویٰ کہ ” اللہ ہر چیز سے واقف ہے “۔ آج سائنس کے زمانے میں علم طبیعات اور علم قرآن کی مطابقت میں اتنا ہی سچا اور پکا ہے جتنا کہ ہمارے سامنے چڑھتے سورج کی پھیلتی ہوئی روشنی۔ جیسے جیسے سائنس ترقی کرتی جائے گی قرآن میں بیان کیے گئے تمام علوم انسان کے سامنے کھل کر آتے چلے جائیں گے اور اس طرح اللہ کا یہ بیان کہ ” ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، کائنات میں بھی اور ان کے اپنے اندر بھی ' یہاں تک کہ ان پر کھل جائے یہ واقعی برحق ہے “۔ ( سورة حم سجدہ آیت 53) دنیاوی علوم اور روحانی علوم مل کر انسان کو انسانیت کے اعلی درجے تک پہنچانے والے ہیں جو کہ دن بدن ترقی کررہے ہیں۔ اس راہ میں اللہ ہماری مدد کرے۔ آمین۔
Ayahs 58:7–10

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ کو سب معلوم ہے۔ کسی جگہ تین لوگوں کا مجمع اور کانوں میں صلاح ومشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم نہ زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ خواہ وہ کہیں ہوں پھر بھی جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ ایک ایک ان کو بتائے گا بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول ﷺ اللہ کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو جس کلمے سے اللہ نے آپ کو دعا نہیں دی اس سے آپ کو دعا دیتے ہیں اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا '؟ (اے پیغمبر ! ) ان کو دوزخ کی سزا ہی کافی ہے یہ اسی میں داخل ہوں گے اور وہ بری جگہ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکو کاروں اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا اور اللہ سے جس کے سامنے جمع کیے جاؤ گے ڈرتے رہنا

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

کافروں کی سرگوشیاں تو شیطان کی حرکات سے ہیں جو اس لیے کی جاتی ہیں کہ مومن ان سے رنجیدہ ہوں مگر اللہ کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا تو مومنوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں

سرگوشی اور نیت اللہ سب جانتا ہے تشریح : ان آیات میں یہودیوں اور منافقین کے بارے میں تفصیلاً بتا دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ اکثر اکٹھے ہو کر بیٹھ جاتے اور چپکے چپکے رسول اللہ ﷺ پر فقرے کستے اور مذاق اڑاتے یہ رویہ تو آج کے انسان میں بھی ہے کہ جب بھی کسی واعظ کی مجلس میں جاتے ہیں تو بدنیت، شیطان فطرت لوگ بجائے نصیحت حاصل کرنے کے الٹا غلط رویہ اختیار کرتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ دین کو مسلم معاشرے کو اور ہدایت کار کو نقصان پہنچائیں۔ تو اس وقت ان لوگوں کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ رب العزت علیم وخبیر ہے۔ سمیع وبصیر ہے اور قادر مطلق ہے۔ یعنی کوئی کو نہ ایسا نہیں کہ جن کے بارے میں اللہ کو علم نہ ہو مطلب یہ ہے کہ ہر چیز ہر شخص اور ہر لمحہ یعنی زمان و مکان اللہ کی قدرت اور علم میں ہے اس نے کائنات کا انتظام اس حکمت و دانائی سے کر رکھا ہے کہ بڑے سے بڑا مفکر، عالم دین، معمولی انسان، جن، شیطان، تمام اجرام فلکی تمام نباتات جمادات غرض کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے علم کے احاطہ سے ایک لمحہ کے لیے بھی نکل جائے یا اس کی اجازت کے بغیر حرکت کرسکے، اس لیے کافر منافق یا شیطان فطرت لوگ خبردار ہوجائیں کہ وہ خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں کیونکہ غلط کام غلط رویے اور غلط سوچ کا عذاب ان کو ہر صورت ضرور مل کر رہے گا اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اپنے لیے ہی کر رہے ہیں۔ ان کو اتنی اجازت کہاں کہ یہ اللہ کی مرضی کے خلاف کسی کو نقصان پہنچا سکیں یا کسی کو ذلیل کرسکیں یہ سب تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کہاں بڑے آگئے کسی کو نقصان پہنچانے والے۔ پھر مومنین کو نصیحت فرمائی کہ اول تو مجلس میں بیٹھ کر سرگوشی کرنا ویسے ہی معیوب بات ہے لیکن بوقت ضرورت کرنی پڑجائے تو نیکی کی بات میں اچھائی کے منصوبے میں اور بھلائی کے نظریے سے سرگوشی کرسکتے ہو۔ اور پھر ہرگز گبھرانے شرمانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” تو مومنوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں “۔ (10) توحید پر یقین ناقابل تسخیر قلعہ ہے اور اس میں رہنے والے بےپناہ طاقت کے امین ہوتے ہیں۔ ہم کو طوفاں سے ڈرائیں نہ زمانے والے کشتیاں ہم سر ساحل ہیں جلانے والے ـاز : خالد کفایت توحید باللہ ہی کی تو وہ طاقت ہے جو آج مخالفین کے لیے مسلمان کو سمجھنے میں ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ اگر مسلمان میں کہیں کمزوری دکھائی دیتی ہے تو وہ ایمان کی کمزوری کی ہی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ لوگوں کے لیے کسی نیک عمل کا چھوڑ دینا ریا کاری ہے اور نیک عمل کو لوگوں کے دکھاوے کے لیے کرنا شرک ہے۔ (سیدنافضیل بن عیاض (رح) ) جو بھی کام کیا جائے نیک نیتی سے صرف اللہ کے خوف سے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے کرنا چاہیے۔ یہودی مسلمانوں سے خار کھاتے تھے اور سیدنامحمد ﷺ کے تو ویسے ہی دشمن تھے تو اسی حسد بغض میں یہ کرتے کہ جب نبی اکرم ﷺ کو سلام کرتے تو بجائے اسلام علیکم کہنے کے یوں کہتے السام علیک یعنی تم پر موت آئے۔ اور پھر کہتے کہ ' آپ کو تو معلوم ہی نہیں ہوتا اور یہ کہ اس بات پر اللہ ہم پر عذاب نازل کیوں نہیں کرتا۔ ثابت ہوگیا کہ یہ رسول ﷺ نہیں ہیں حدیث میں آتا ہے کہ سیدناعبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے۔ کہ ' منافقین اور یہود ' دونوں نے سلام کا یہی طریقہ اختیار کر رکھا تھا۔ (ابن جریر) تو اس سے سوائے اس کے کہ وہ خود کو جلاتے تھے نبی ﷺ کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ لہٰذا ان کے اس خیال بد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جہنم کے عذاب کی خبر دی ہے جو بالکل سچ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے آداب مجلس کا یوں حکم دیا ہے۔ ” جب تین آدمی بیٹھے ہوں تو دو آدمی آپس میں کھسر پھسر نہ کریں۔ کیونکہ تیسرے آدمی کے لیے باعث رنج ہوگا “۔ (از بخاری، مسلم، مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد) غرض قرآن و حدیث میں ہر صورت انسان کی بھلائی ہی کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ اللہ ہمیں اس کو پڑھنے ' سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
Ayahs 58:11–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھا کرو اللہ تم کو کشادگی بخشے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطاء کیا گیا ہے اللہ ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مومنو ! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کرنے سے پہلے مساکین کو کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور پاکیزگی کی بات ہے اور اگر خیرات تم کو میسرنہ آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے ڈ ر گئے کہ پیغمبر کے کان میں بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ؟ پھر جب تم نے ایسا نہ کیا اور اللہ نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبر دار ہے۔

آداب مجلس تشریح : بہت سی احادیث ان آیات کے بارے ملتی ہیں مثلاً سیدناابو مسعود ؓ فرماتے ہیں باوجود اس حکم کے تم اب بڑی ٹیڑھی صفیں کرتے ہو (مسلم، ابو داؤد، اور نسائی) تفسیر ابن کثیر میں ان آیات کا بڑا پیارا مفہوم ملتا ہے بدری صحابہ ؓ کے مسجد میں آنے پر آپ ﷺ نے چاہا کہ یہ بھی آرام سے بیٹھ کر میری حدیثیں سن لیں اور علم الٰہی حاصل کرلیں تو آپ نے لوگوں کو تھوڑا ہٹا کر بدری صحابہ ؓ کو بہتر جگہ دلوائی اس طرح امت کو اس بات کی تعلیم بھی دینی تھی کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو امام کے پاس ( بہترین جگہ) بیٹھنے دیں اور انہیں اپنے سے مقدم رکھیں۔ ان مختصر مگر انتہائی جامع آیات میں امت مسلمہ کو تمدن، اخلاق تنظیم، باہمی ہمدردی تہذیب اور شائستگی کا ایسا بہترین قانون دے دیا گیا ہے جو انسان کے بنائے ہوئے کسی بڑے سے بڑے قانون میں نہیں ملتا۔ مولانا وحید الدین خان صاحب بڑے ہی اچھے انداز میں اسکی وضاحت کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ” یہی وہ تضاد ہے جس نے آج پوری انسانیت کو تباہ کر رکھا ہے ' خوش پوش جسم حقیقی سکون سے محروم ہیں، عالی شان عمارتیں اجڑے ہوئے دلوں کا مسکن ہیں، جگمگاتے ہوئے شہر جرائم اور مصائب کا مرکز ہیں، شاندار حکومتیں اندرونی سازش اور بےاعتمادی کا شکار ہیں۔ بڑے بڑے منصوبے کردار کی خامی کی وجہ سے ناکام ہو رہے ہیں غرض مادی ترقیات کے باوجود زندگی بالکل اجڑگئی ہے، اور یہ سب نتیجہ ہے صرف ایک چیز کا انسان نے اپنے رب کو چھوڑ دیا ہے، اس نے اس سرچشمہ سے خود کو محروم کرلیا ہے جو اس کے خالق ومالک نے اس کے لیے مہیا کیا تھا “۔ یعنی قرآن سے دوری اسلام کے اصول و ضوابط سے لاپرواہی اور لاعلمی۔ مولانا موصوف مزید لکھتے ہیں۔ ” یہ الفاظ اگرچہ سمجھنے والے کے لیے بجائے خود بالکل واضح ہیں، تاہم اگر میں نیویارک اکیڈمی آف سائنس کے صدر اے کریسی ماریسن کے الفاظ نقل کردوں تو بات بالکل مکمل ہوجائے گی۔ “ ادب و احترام ' فیاضی، کردار کی بلندی، اخلاق، اعلیٰ خیالات اور وہ سب کچھ جسے خدائی صفات کہا جاسکتا ہے، وہ کبھی الحاد سے پیدا نہیں ہوسکتیں جو کہ در اصل خودبینی کی عجیب و غریب قسم ہے، جس میں آدمی خود اپنے آپ کو اللہ کے مقام پر بٹھا لیتا ہے۔ عقیدے اور یقین کے بغیر تہذیب تباہ ہوجائے گی، نظم، بےنظمی میں تبدیل ہوجائے گا، ضبط نفس اور خود پر کنٹرول کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور برائی ہر طرف پھیل جائے گی، ضرورت ہے کہ ہم خدا پر اپنے یقین کو دوبارہ مضبوط کریں “۔ Man does not stand alone. P, 123.(ازمذہب اور جدید چیلنج) ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا کوئی محکمہ، ملک، قانون، پولیس اور عدالت انسانی کردار کو درست نہیں کرسکتی سوائے قانون الٰہی کے۔ جو کہ وحی کے ذریعہ قرآن کی شکل میں بندے کو دیا گیا ہے۔ جب ایک انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ قرآن کی ان آیات سے کیونکر منہ موڑ سکتا ہے اور کیونکر لاپرواہی کرسکتا ہے۔ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ ” اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے “۔ (13) صرف خبردار ہی نہیں بلکہ اجر وثواب بھی ضرور ملے گا یہ زندگی امتحان کا وقفہ ہے جو بہت تھوڑا ہے، اصل زندگی اور ہمیشہ کی زندگی تو قیامت کے بعد شروع ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” اور کفار کو گروہ گروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ، کیا تمہارے پاس پیغمبر نہیں آئے تھے ؟ جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے، ؟ کہیں گے کیوں نہیں ! لیکن کفار کے حق میں عذاب کا حکم تحقیق ہوچکا ہے۔ ، ، ( سورة الزمر :71) اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام ہو تم بہت اچھے رہے اب اس میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔ (الزمر :73) یہ آداب جو ہمیں سکھائے جا رہے ہیں یہ بھی قانون الٰہی کا ایک حصہ ہیں۔ یعنی بزرگوں کی عزت کرو دوسرے کو بیٹھنے کے لیے جگہ فراہم کرو۔ کانا پھوسی مت کرو۔ کسی سے ملنے جاؤ تو اس کی مصروفیت، مرتبے اور وقت کا خیال رکھ کر اس کے پاس بیٹھو یہ نہیں کہ بیٹھے ہی رہو اور میزبان پریشان ہو یا اس کا قیمتی وقت ضائع ہو۔ خیرات کرو، نماز پڑھو، زکوٰۃ دو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ (آیت 13) ہمارے مذہب اسلام میں وہ تمام بنیادیں نہایت صحیح شکل میں مل جاتی ہیں۔ جو ایک معیاری قانون کے لیے ضروری ہیں۔ اور یہ قانون ہمیں قرآن پاک کی صورت میں مل چکا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اس میں انسان کی اپنی بھلائی کے لیے بہت آسان عام فہم اور انسانی ضروریات کے مطابق ہر قانون بتایا گیا ہے۔ اور اس میں اس قدر لچک اور معقولیت ہے کہ یہ دنیا کے ہر دور کے ہر انسان کے لیے ہمیشہ ایک ہی رہا اور فائدہ مند رہا نہ تو اس میں ردو بدل کی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ ناقابل عمل ہے بلکہ اس میں خیر ہی خیر ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم ترین نعمت سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق دے آمین۔ ہمارا مذہب میں معیشت، معاشرت، تمدن، حکومت، سیاست اعتقادات اور علم و عرفان کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ زندگی میں بےحد آسانیاں پیدا کرتا ہے اور آخرت میں جنت دلاتا ہے۔ کتنی مزے کی بات ہے یہاں بھی خوش وہاں بھی خوش دعا ہے :۔ ، اے رب ہمارے تو ہمیں دنیا میں نیکی عطا کر اور آخرت میں نیکی دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا،۔ آمین۔
Ayahs 58:14–21

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

بھلا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں یقینا ان کے لیے برا ہے

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے اور لوگوں کو اللہ کے رستے سے روک دیا ہے سو ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

اللہ کے عذاب کے سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی کچھ فائدہ دے گی یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ جلتے رہیں گے

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو جلا اٹھائے گا۔ تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اسی طرح اللہ کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے کہ ایسا کرنے سے وہ کچھ بھلی راہ میں ہیں۔ سن لو یہی ہیں جھوٹے

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے اور اللہ کی یاد ان کو بھلا دی ہے۔ یہ جماعت شیطان کا لشکر ہے اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔ بیشک اللہ زبردست اور زورآور ہے

منافقین اور ان کا انجام تشریح : یہاں اس خبیث گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کے وجود میں آنے پر مخالفین کے طور پر ظاہر ہوا اور وہ ہے منافقین کا گروہ کہ جو اپنے خیال میں تو بڑے ہوشیار ہوتے ہیں کہ دیکھو سب کو الو بنا رہے ہیں لیکن خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ ایمان بلکہ یہ شیطان کے ساتھی گناہ و فریب، ظلم و زیادتی، شر و فساد اور کفروشرک پھیلانے کے علمبردار ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیغمبر رسول، متقی اور نیک بندوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور جھوٹ موٹ کی قسمیں کھا کر ان سے جھوٹی دوستی کرتے ہیں۔ اس طرح کے دشمن ملک و قوم اور ملت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا مسلمان کے فرائض میں شامل ہے۔ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے۔ جب وعدہ کرے پورا نہ کرے۔ جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری، مسلم) اور پھر ان کی بڑی نشانی یہ ہے کہ اپنی منافقت کو چھپانے کے لیے جھوٹی قسمیں کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ جب کہ حدیث میں آیا ہے کہ ” جس نے اللہ کی قسم کھائی اس کو چاہیے کہ وہ سچ کہے، ،۔ (ابن ماجہ) ظاہر ہے منافقین اور جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور پوری کوشش سے اچھائی کو برائی میں، نیکی کو بدی میں اور نور ایمان کو ظلمت کفر میں بدلنے والے کا حال کیا ہوسکتا ہے ؟ یہی کہ دنیا میں منافقت کے ظاہر ہونے پر ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ آخرت میں تو خیر ایسے لوگوں کو دہرا عذاب ملے گا۔ جھوٹ بولنے، جھوٹی قسمیں کھانے، شیطان کی دوستی میں لوگوں کو گمراہ کرنے کا ان کو دردناک عذاب ہی مل سکتا ہے۔ اور وہی ان کو ملے گا اور یوں وہ دنیا وآخرت میں ناکام اور ذلیل ہوں گے جب کہ سچ کی جیت تو ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ ، ، اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے، بیشک اللہ زبردست اور زور آور ہے (آیت 21) اللہ تو زورآور اور زبردست ہے ہی رسول اللہ ﷺ کی عزت و احترام اور کامیابیاں بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں۔ انجیل مقدس میں آپ ﷺ کے بارے میں یوں آیا ہے، اور وہ پیغمبر انہیں نیکی کا حکم دے گا۔ بدی اور خباثت کی ہر راہ روکے گا، اس کی شریعت جامع و کامل ہوگی وہ سیاسیات اجتماعیات، معاشرت و معیشت، اخلاق و تمدن سے ہر گندگی کو دور کرے گی وہ عبادات و معاملات میں انفرادی و اجتماعی، مادی وروحانی، ہر طرح پاکیزگی اور ہر شعبہ حیات کو نورانیت و لطافت سے بھر دے گی،۔ یہ سب کچھ سچ ثابت ہوا اور کفر و اسلام کے درمیان پہلی مادی ٹکر معرکہ بدر نے دنیا کی تاریخ میں ایک کامیاب انقلابی دعوت کی بنیاد رکھ دی جو بعد میں انتہائی قلیل عرصہ میں یعنی نبی اکرم کی وفات سے صرف بارہ سال کے اندر اندر مشرق و مغرب میں ایک ہزار میل تک کا علاقہ قرآن کریم کی حکمرانی میں آگیا جو بتدریج بڑھتا ہی چلا گیا۔ اور آج دین اسلام دنیا کے تمام ادیان میں سب سے اوپر ہے۔ یہ سب کیا ہے ؟ سورة المجادلہ کی آیت نمبر 21 کی ترجمانی اور صداقت ہے۔ کون ہے جو اس صداقت کو جھٹلا سکے ؟ کوئی طاقت اس حقیقت کو ہرگز جھٹلا نہیں سکتی۔ اگلی آیات میں مسلمانوں کی عظمت کا بیان ہے ملاحظہ ہو۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کو اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے۔ اور روح قدس کے ذریعے سے ان کی مدد کی ہے اور وہ ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش۔ یہی گروہ اللہ کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ اللہ ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے۔

سچے مسلمان کی نشانی تشریح : اس آیت میں پھر پیشین گوئی مل رہی ہے کہ سچے مسلمان ہی اللہ کا لشکر کہلاتے ہیں تو بھلا اللہ کے لشکر کو کون شکست دے سکتا ہے۔ یعنی بالآخر اسلام کا جھنڈا ہی پوری دنیا پر لہرانے والا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان سیدناابوبکر صدیق ؓ سیدناعمر ؓ ، سیدناعثمان ؓ اور سیدناعلی ؓ جیسے سچے مسلمان ہوں۔ اس کو حدیث کی مدد سے واضح کرتے ہیں۔ سیدناابو حازم عروج (رح) نے زہری (رح) کو لکھا کہ، جاہ دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی، جن کی صفت اللہ کے رسول ﷺ نے بھی فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکوکار ہیں، اگر وہ آئیں نہ، تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آجائیں تو آؤ بھگت نہ ہو۔ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں یہ ہیں وہ اولیاء اللہ جنہیں اللہ نے اپنا لشکر کہا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے،۔ (ابن ابی حاتم) یا اللہ ہمیں بھی ایسے ہی اللہ کے لشکری بنا دینا۔ آمین۔ مسلمان تعداد میں کم نہیں اس وقت جو زوال مسلمانوں پر آچکا ہے وہ صرف منافقانہ سوچ کی وجہ سے آیا ہے جب یہ سوچ سچائی، یک جہتی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف چلی گئی تو پھر دنیا دیکھے گی اللہ کے لشکریوں کی کامیابیاں۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد 800 ملین سے زیادہ ہے یعنی پوری دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی ہے۔ دوتہائی حصہ آزاد ریاستوں میں رہتا ہے باقی ایک تہائی غیرمسلم ممالک میں آباد ہے۔ مگر یہ کمزور اور بڑی طاقتوں کے محتاج ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ باوجود سرحدی لحاظ سے انتہائی قریب ہونے کے ان کا آپس میں اتحاد نہیں۔ بلکہ الٹا کبھی کبھار بیرونی و اندرونی شرارتوں کا شکار ہو کر آپس میں لڑ پڑتے ہیں جو سوائے نقصان کے اور کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا۔ دیکھا جائے تو مسلمان اس وقت قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں مثلاً مسلم ممالک دنیا کے تیل کے 70 فیصد ذخائر کے مالک ہیں اور تیل کی تجارت 60 فیصدان کے پاس ہے۔ اسی طرح دنیا کی 80 فیصد پٹ سن، 75 فیصدناریل کا تیل 25 فیصد مونگ پھلی اور لونگ، 15 فیصد چاول، چائے اور کافی، 10 فیصد، چینی، 9 فیصد، گندم، 5 فیصد، قلعی اور 6 فیصد ربڑ مسلم ممالک پیدا کرتے ہیں۔ یہ اوسطاً ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ معدنی ذخائر بھی اللہ نے مسلم ممالک کو دل کھول کر وافر مقدار میں دے رکھے ہیں۔ اور سب سے بڑی نعمت کتاب مقدس قرآن پاک ملی ہوئی ہے۔ مگر افسوس کہ پھر بھی دنیا میں مار کھا رہے ہیں اور یہ صرف قرآن و سنت اور اللہ سے دوری کی وجہ سے ہورہا ہے جس دن ہم اللہ کے لشکری بن گئے تو اس دن دنیا دیکھے گی کہ اللہ کا وعدہ پورا ہوگیا۔ ” اور سن رکھو کہ اللہ ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے “۔ (آیت 22) اس وقت ضرورت ہے مشترکہ دفاعی معاہدے کی اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی۔ اللہ کے لشکر میں شامل ہو کر دنیا و آخرت میں فتح و کامرانی حاصل کرنا ہرگز مشکل کام نہیں بلکہ۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ حدیث میں آیا ہے۔” مشرکین سے اپنے مالوں، ہاتھوں اور زبانوں سے جہاد کرو “۔ (رواہ احمد) اور قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔” اے نبی ﷺ ! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو “۔ (الانفال :65) اور پھر غازی و شہداء کے لیے دنیا وآخرت میں بہترین انعامات کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے خود کیا ہے۔ اور ایسے مجاہدین کی غیبی مدد کا وعدہ بھی اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ سورة مجادلہ کی آیت نمبر 22 اسی وعدے کی امین ہے۔ اصل میں زندگی کا ہر لمحہ ہر صورت بدی اور کفر کے خلاف جہاد میں ہی گزرتا ہے مگر جان سے جہاد کرنا کہ زمین سے باغیوں کی بغاوت کو کچل دیا جائے بڑا درجہ رکھتا ہے مگر جذبہ یہ ہو کہ :۔ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا خلاصہ سورة المجادلہ جیسا کہ ہم نے بڑی تفصیل سے اس سورت کے متن کو پڑھنے اور ترجمہ کے بعد اس کی تشریح کی ہے تو معلوم ہوگیا کہ یہ سورت بھی رشد و ہدایت سے بھری ہوئی ہے اس میں ظہار کے مسئلہ کو اچھی طرح حل کردیا گیا اور مزید اخلاقی آداب سکھائے گئے ہیں اور سختی سے حکم دیا گیا ہے کہ مسلمان ہونے کی دلیل یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے ان تمام اصول و ضوابط کو مد نظر رکھا جائے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمارے لیے مقرر کر دئیے ہیں۔ کیونکہ اسی میں فائدہ ہے اور اسی میں نجات دارین ہے۔ سیدناامام محمد احمد بن جنبل (رح) نے فرمایا ہے۔ آدمی صرف اس وقت دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے جب وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرائے یا اللہ تعالیٰ کے فرض کیے ہوئے فرائض میں سے کسی ایک فریضہ کی بجا آوری کو ازروئے سرکشی بروئے عمل نہ لائے۔ (ازپیارے اولیاء کرام کی پیاری باتیں)