57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 57:1–6

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب و حکمت والا ہے۔

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، اور ہر چیز پر قادر ہے۔

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہ سب سے پہلے اور سب سے پچھلا اور اپنی قدرتوں سے سب پر ظاہر اور اپنی ذات سے پوشیدہ ہے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے، جو آسمان سے اترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے، اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور امور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔

ﷲ اور اس کی صفات تشریح :۔ جیسا کہ ان آیات کریمہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ تمام کائنات ایک ہی اللہ بزرگ و برتر کی کمان میں ہے جو حکیم وعلیم، رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہے۔ زمان و مکان اللہ کے وجود میں سمٹا ہوا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس حدیث پاک سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضررسول کریم ﷺ کی دعا ہے ' تو ہی پہلا تجھ سے پہلے کوئی نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، تو ہی باطن ہے کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔ (امام احمد، مسلم، ترمذی اور بیہقی) اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ' میرا رب فرماتا ہے کہ ابن آدم زمانے کو برا بھلا کہتے ہیں اور میں خود دہر ہوں۔ (صحیح بخاری) اسی طرح زمان و مکان کی حقیقت کو ایک سائنس دان یوں بیان کرتا ہے۔ ' اول و آخر زمان کی دو انتہاء ہیں، اور ظاہر و باطن مکان کی دو انتہاء ہیں اور ہر چیز کا پورا پورا علم ہونا شعور کی انتہاء ہے۔ اور یہ تینوں یعنی زمان و مکان اور شعور خالق کائنات کی صفات ہیں۔ مزید یوں لکھتے ہیں۔ ' آیت نمبر 3 حقیقت تک پہنچنے کے لیے انتہائی اہم ہے، معلوم ہونا چاہیے کہ اب اول و آخر کا تصور وقت سے ہے، ظاہر و باطن کا تصور مکان سے ہے۔ لہٰذا آیت مبارکہ تصور کو ادھر لے جاتی ہے کہ زمان و مکان کوئی علیحدہ حقائق نہیں بلکہ خالق کی عظیم ترین ہستی کے اندر کی دو صفات ہیں اور اس نے جب چاہا ان کا ظہور کردیا اور جب چاہے گا ان کو چھپالے گا۔ ماہرین طبیعات بھی آج کل ' اکائی ، ، کی بات کرتے ہیں جو ان کی تحقیق اور نظریہ کے مطابق کائنات کی ابتداء اور خاتمہ ہیں۔ لیکن وہ یہاں آکر رک جاتے ہیں جبکہ قرآن پاک انسان کو یہاں سے آگے اصل مالک اور خالق تک رسائی دیتا ہے جو یکتا ہے بےمثل اور غیر محدود ہے اور کائنات کی اکائی اس کا امر ہے جو پہلی تخلیق کا سبب تھا اور آخر کار موجودہ کائنات کو لپیٹ کر اللہ تعالیٰ اپنے امر سے نئی کائنات کی تخلیق فرمائے گا۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت) یہی تشریحات ہم پر یہ واضح کرتی ہیں کہ جو بھی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ کو پہچانتے ہیں اور اس کی تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تسبیح کا طریقہ یہی ہے کہ جس نظام کے تحت ان کو چلا دیا گیا ہے وہ اسی کے تحت حرکت کرتے ہیں ایک پل کے لیے بھی اس کی حکم عدولی نہیں کرسکتے جبکہ انسان کا طریقہ مختلف ہے۔ ' آسمانوں اور زمین کا چھ دن میں پیدا کرنا اس کی تفصیلات سورة الاعراف، یونس، الرعد اور حٰم سجدہ میں گزرچکی ہیں۔ اسی طرح دن اور رات کا مسئلہ بھی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی مکمل حاکمیت کا ذکر کیا جا چکا ہے تو اسی میں اس کی ایک حکمت یہ بھی موجود ہے کہ ' وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔ (آیت 6) اور حدیث میں ہے۔ ' افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے۔ (نعیم بن حماد از تفسیر ابن کثیر) بری نیت سے کیا گیا نیک عمل قابل قبول نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ اگلی آیات میں مومن کے فرائض بیان کیے گئے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
Ayahs 57:7–12

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

تو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس مال میں اس نے تم کو اپنا نائب بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور مال خرچ کرتے رہے ان کے لیے بڑا ثواب ہے

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تم کیسے لوگ ہو کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ اس کے پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو یقین ہو تو وہ تم سے اس کا عہد بھی لے چکا ہے

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف آیتیں اتارتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں میں سے نکال کر روشنی میں لائے بیشک اللہ تم پر بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت اللہ ہی کی ہے۔ جس شخص نے تم میں سے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی وہ اور جس نے یہ کام بعد میں کئے وہ برابر نہیں۔ ان کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنہوں نے بعد میں مال خرچ کئے اور کفار سے جہاد و قتال کیا، اللہ نے سب سے نیک ثواب کا وعدہ کیا ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان سے واقف ہے۔

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو خلوص نیت سے قرض دے تو وہ اس کو دگنا عطا کرے اور اس کے لیے عزت کا بدلہ۔ (یعنی جنت) دے۔

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کے ایمان کا نور ان کے آگے آگے اور دا ہنی طرف چل رہا ہے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم کو بشارت ہو کہ آج تمہارے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے

اللہ کا حکم اور اس کی رحمتیں تشریح : ان آیات میں چند خاص احکامات اور عمل کرنے والوں کے لیے انعامات کا ذکر بڑے آسان الفاظ میں کرد یا گیا ہے یہ سب کچھ بھی بیان کیا جا چکا ہے بس یاد دہانی کے لیے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ پہلا حکم :۔ اللہ و رسول پر خلوص اور نیک نیتی سے ایمان لے آؤ۔ دوسرا حکم : اللہ نے انسان کو اپنا نائب کہا ہے لہٰذا بےدریغ خوشی خوشی زکوٰۃ خیرات، ضرورت مندوں کے لئے اور جہاد کے لیے خرچ کرو۔ یہ مال اللہ کا ہی دیا ہوا ہے۔ تیسرا : رسول کے پکارنے پر اور تعلیمات پر دھیان دو کیونکہ یہ تعلیمات بیشک روشنی کا مقام رکھتی ہیں۔ چوتھا : بےمقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرو۔ اللہ بڑا مہربان اور شفقت کرنے والا ہے۔ یاد رکھو دکھاوے اور بری نیت سے خرچ کرنا بےکار ہے۔ ٹھیک وقت پر صرف اللہ کے لیے خرچ کرو تو یہ تمہاری طرف سے اللہ کو قرض دینے کے برابر ہوگا جو کئی گنا زیادہ کر کے لوٹا دیا جائے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ پانچواں : اور آخری حکم ماننے کا بہترین اور شاندار بدلہ ہے جو قیامت کے دن مومن مردوں اور مومن عورتوں کو جنت کی صورت میں دیا جائے گا جو بہترین کامیابی کی بشارت ہے جیسا کہ اس کی وضاحت آیت 12 میں کی گئی ہے۔ ایک شعر ملاحظہ ہو۔ خاکی و نوری نہاد بندہ مولاصفات ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بےنیاز (اقبال (رح) ) جس طرح دنیا میں احکامات خدا و رسول اپنی روشنی سے شیطان کے لگائے ہوئے پھندے صاف طور پر دکھا کر ہمیں ان سے بچنے کا وسیلہ بنتے ہیں اسی طرح ہمارے نیک اعمال آخرت میں روشنی پیدا کر کے ہمیں پل صراط سے گزرنے میں پوری مدد دیں گے۔ جس پر سے گزر کر ہم جنت میں داخل ہو سکیں گے۔ انشاء اللہ ۔ پل صراط بھی غیب کی بہت بڑی خبر ہے۔ یہ کس قدر ہلاکت خیز ہوگا اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ اس کے پہلو میں تشریف فرما ہوں گے اور لوگ گزر رہے ہوں گے، اس وقت رسول اللہ ﷺ سے دعا کرتے ہوں گے کہ اے اللہ ! سلامت رکھ۔ (مسلم)
Ayahs 57:13–17

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف مہربانی کی نظر کیجئے کہ ہم بھی آپ کے نور سے روشنی حاصل کرلیں تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور وہاں نورتلاش کرو، پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جس کے اندر کی طرف رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب۔

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ مگر تم نے خود کو بلا میں ڈالا اور راہ دیکھتے رہے اور دھوکے میں پڑے رہے اور اپنے خیالوں میں بہک گئے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور اللہ کے بارے میں تم کو شیطان دغا باز دغا دیتا رہا۔

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ ہی وہ کافروں سے قبول کیا جائے گا تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ابھی تک مومنوں کے لیے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد کرتے ہوئے اور برحق قرآن جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس کو سنتے ہوئے ان کے دل نرم ہوجائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں پھر ان پر طویل مدت گزر کئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

منافقوں کا انجام اور پچھتاوا تشریح : ان آیات میں غیب کی بہت بڑی خبر دی گئی ہے جو کہ بالکل سچی ہے۔ پچھلی آیات میں جو مومنین کے اعمال نیک کی روشنی کا ذکر کیا گیا تھا تو اسی کے بارے میں دوبارہ بات ہو رہی ہے۔ جب پل صراط سے نیک لوگ اپنے ایمان کامل کی روشنی میں بلا روک ٹوک گزر جائیں گے تو ان کی دیکھا دیکھی کفارو منافقین بھی اس خیال سے کہ ان کی روشنی میں ہم بھی گزر جائیں گے گزرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ ناکام رہیں گے اور پھر افسوس کرتے ہوئے اپنے انجام بد کو پہنچ جائیں گے۔ یہ سب کچھ اس لیے بتایا جا رہا ہے کہ آخرت میں صرف اور صرف اپنے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ ملے گا۔ وہاں کوئی شخص کسی صورت سے بھی دوسرے کی مدد نہ کرسکے گا۔ جو لوگ دنیا میں خود کو شیطان کے دھوکہ سے نہ بچا سکے وہ ہر صورت دوزح کا عذاب بھگتیں گے۔ پھر اللہ رب العزت مومنین سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں کہ اتنی کھلی کھلی باتیں پڑھ کر بھی مومنین کو اللہ سے خوف نہیں آتا نیکی کی راہ اختیار کریں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یہاں تمام اہل کتاب کی طرف اشارہ ہے یہ انسانی فطرت ہے کہ شروع میں تو کچھ لوگ پیغمبر کی باتوں پر دھیان دیتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ سب کچھ بھول بھال جاتے ہیں اور اسی لیے مختلف اوقات میں ایک کے بعد دوسرا رسول آتا رہا تو اب کیونکہ رسول معظم ﷺ آخری نبی ہیں تو اس لیے لوگوں کو تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ احکامات الہٰی کو ہمیشہ یاد رکھنا پہلی قوموں کی طرح بھول مت جانا۔ مثلاً پولوس (سینٹ پال) نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تمام تعلیمات کو بدل کر یونانی شرک کی ایک شاخ بنا دیا پھر رومیوں نے اپنے مشرکانہ اثر رسوخ سے رہی سہی کسر پوری کردی نتیجہ یہ ہوا کہ اب موجودہ مسیحی قومیں عقائد اور رسم و رواج کے لحاظ سے پوری طرح مصری، یونانی اور رومی شرک کے زیر اثر آچکے ہیں۔ اور اسی طرح عزیر (علیہ السلام) جو کہ کاتب توریت کی حیثیت سے مشہور ہیں یہود ان کو ابن اللہ کہتے ہیں۔ اسی طرح تمام قوموں کا حال ہے۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو نیکی اور توحید ہی کی تعلیم دی تھی مگر وہ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ کے کچھ بنتے چلے گئے مگر رسول رحمت ﷺ آخری نبی ہیں اس لیے امت محمد کو اچھی طرح یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ ہی زمین کو مرجانے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ( آیت :17) یعنی توحید و رسالت پر پوری طرح جم کر اپنی زندگیوں کو استوار کریں اور یقین کامل رکھیں کہ مرنے کے بعد زندہ ہونا بالکل ضروری ہے اور اللہ سے ثواب یا سزاء ملنا بھی بالکل ضروری ہے یہ بات پکی ہے اور سچی ہے۔ اس میں ہرگز کسی قسم کا کوئیـ شک و شبہ نہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی امت کے ہر فرد پر یہ لازم ہے کہ وہ برائی کا خاتمہ ضرور کرے نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔
Ayahs 57:18–21

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی اور نیک نیت و خلوص سے اللہ کو قرض دیتے ہـیں ان کو دو گنا ادا کیا جائے گا اور ان کے لیے عزت کا بدلہ ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے ان کے اعمال کا صلہ ہوگا اور ان کے ایمان کی روشنی اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان رکھو کہ دنیا کی زندگی مخص کھیل تماشہ، زینت و زیبائش اور تمہارے آپس میں فخر و ستائش اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب و خواہش ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے بارش کہ اس سے کھیتی اگتی ہے کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر اے دیکھنے والے تو اسے دیکھتا ہے کہ پک کر زرد ہوجاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں کافروں کے لیے عذاب شدید اور مومنوں کے لیے اللہ کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو صرف متاع فریب ہے

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

بندو ! اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے اور جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں۔ جلدی کرویہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے

نیک لوگوں کے فرائض اور ان کے درجات تشریح : الحمد اللہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور ہمارا پکا یقین ہے اللہ کے خالق مطلق ہونے پر یعنی توحید پر یقین ہے۔ آخرت پر یقین ہے سزاء و جزاء پر پورا یقین ہے اسی لیے اللہ وحدہ لاشریک کی ہی عبادت کرتے ہیں اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے ڈرتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور اسی لیے اللہ کے مقبول بندوں میں شامل کیے جائیں گے انشاء اللہ ورنہ تو صرف دنیا کے عیش و آرام میں گم ہو کر زندگی گزارنے والے لوگ آخرت کے عیش و آرام سے بالکل دور رہیں گے اور ان کا ٹھکانا بہت برا ہوگا آخرت میں۔ اللہ کی کتاب اور رسول بندوں کے لیے فضل اور رحمت کی نشانی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جلدی کرویہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔ (آیت 21) اسی طرح حدیث میں آتا ہے۔ ' رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تم سے محبت کریں تو دنیا کے بارے میں زہد اختیار کرو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تم سے محبت کریں تو جو لوگوں کے پاس ہے اس سے بےفکر اور سخی ہوجاؤ۔ (ابن ماجہ) حضرت معین الدین چشتی کا (رح) قول ہے۔ ' جس میں یہ تین خصلتیں ہو نگی وہ اس حقیقت کو جان لے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دوست رکھتا ہے۔ اول : سخاوت دریا کی طرح۔ دوم : شفقت آفتاب کی طرح۔ سوم : تواضع زمین کی طرح۔
Ayahs 57:22–25

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت تم پر اور ملک پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں لکھی ہوئیـ ہے اور یہ کام اللہ کے لیے آسان ہے

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ غم نہ کھایا کرو اس پر جو ہاتھ نہ آیا اور نہ شیخی کیا کرو اس پر جو اس نے تمہیں دیا، اور اللہ کسی اترانے والے شیخی خورے کو پسند نہـیں کرتا

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو اللہ بھی بےپرواہ ہے اور وہی حمد وثناء کے لائق ہے۔

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو۔ (یعنی شرعی قوانین) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں، لوہا پیدا کیا اس میں جنگ کے لحاظ سے خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کے لیے فائدے بھی ہیں اور اس لیے کہ جو لوگ بن دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں، اللہ ان کو معلوم کرے بیشک اللہ زبردست اور غالب ہے

ﷲ نے لوح محفوظ میں سب لکھ رکھا ہے۔ نہ گھبراؤ نہ اتراؤ تشریح : ان آیات میں رب کائنات کے بڑے زبردست کمالات اور بہترین اصول و ضوابط کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ ہمیں کائنات کے ذرے ذرے میں چاہے وہ انسان ہو، حیوان ہو، نباتات ہو، جمادات ہو یا فرشتے ہوں یا پھر اجرام فلکی ہوں یا ہوا پانی اور آگ ہوں غرض ہر چیز میں دکھائی دیتے ہیں سب چیزیں اللہ کے پہلے بنائے ہوئے ڈیزائن کے مطابق چل رہی ہیں اور وہ ڈیزائن اور ان کے اصول اللہ کے پاس لکھے ہوئے محفوظ پڑے ہیں اور جہاں محفوظ کئے گئے ہیں اس کو رب العزت لوح محفوظ کا نام دیتے ہیں۔ ہم اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے انسان ایک کمپیوٹر میں پورا پروگرام بنا کر رکھ دیتا ہے پھر اس پر متعدد بٹن لگا دیتا ہے اب بنانے والا تو خوب جانتا ہے کہ کس بٹن کو دبانے سے کیا کام ہوگا۔ اب چلانے والے دوسرے بندے کے سامنے جب وہ کمپیوٹر آتا ہے تو وہ اس میں سیٹ کر دے گئے پروگرام کے اندر ہی رہ کر کچھ کرسکتا ہے جو بھی وہ چاہے، اس کو کیونکہ چلانے کے لئے ہدایات دے دی گئی ہیں، آزادی اور ارادہ بھی دے دیا گیا ہے اس لئے وہ اپنی مرضی سے اس کے بٹن دباتا ہے۔ یہی حال تقدیر اور اعمال کا ہے۔ انسان کی زندگی یعنی تقدیر اس کی جین (Gene) پر لکھی ہوئی وہ کتاب ہے جو انسان کے اختیار سے تبدیل نہـیں ہوسکتی ہاں دعا، زبردست خواہش اور انتھک کوشش اللہ کی اس لکھی گئی کتاب میں اللہ کی مرضی سے تھوڑا سا فرق لاسکتی ہے۔ اور یہ لکھی گئی کتاب ہماری زندگی کے لیے امتحانی پرچہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے حل کرنے میں انسان کے عقیدے، تربیت، علم، کوشش، رجحان اور شخصیت کا کمال ہے کہ وہ اس کا کس درجہ کمال یا زوال سے حل کرتا ہے۔ یعنی شیطانی استاد کے زیر اثر یا پیغمبر کی تعلیمات کے زیر اثر کام کرتا ہے۔ یہ تو ہوگئی بندے کی صلاحیت اب ذرا اس قادر مطلق کی صلاحیت پر بھی نظر کریں۔ کہ باری تعالیٰ کا علم اس قدر وسیع اور کامل ہے کہ وہ ہر چیز کے اوپر پوری طرح چھایا ہوا ہے۔ اس لیے وہ خوب جانتا ہے کہ کون بندہ کیا کام کرے گا یا کس راستے پر چلے گا اور کائنات میں کب، کیسے، کیونکر اور کن اسباب سے کیا ہونے والا ہے، ہوچکا ہے یا ہورہا ہے۔ سب کچھ اللہ کے دائرہ قدرت و علم میں موجود ہے کیونکہ اس نے ہر چیز کی تقدیر، پلان اور انجام پہلے سے اپنے پاس مرتب کر کے رکھ چھوڑا ہے۔ یہ سمجھ لینا بہت آسان ہے ایک شخص بلڈنگ بنانے سے پہلے نقشہ ضرور بناتا ہے اور پھر خوب جانتا ہے کہ کہاں کیا خرابی ہے یا اچھائی ہے۔ تو بھلا یہ اتنی بڑی کائنات بغیر پری پلان کے کیسے بن سکتی ہے۔ لہٰذا کوئی واقعہ چاہے اس کا تعلق عالم افلاک سے ہو عالم حیوانات، نباتات یا جمادات سے ہو سب رب ذوالجلال کے قانون قدرت اور نظام فطرت کے ساتھ جکڑے ہوئے ہیں اور اسی کو قضاء و قدر کا نام دیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ کائنات کوئی حادثاتی عمل سے وجود میں نہیں آئی اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرما دیا ہے۔ ' اور اللہ کا حکم تو (پہلے سے) تجویز کیا ہوا ہے۔ (الاحزاب :38) تقدیر کا پابند نباتات و جمادات اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کا فائدہ کیا ہے ؟ فائدہ یہ ہے کہ دنیا کا نظام بغیر ایک عظیم و حکیم قادر مطلق کے کنٹرول کے چل ہی نہیں سکتا۔ یہاں کی ایک ایک کل اور ایک ایک پرزہ اس کے علم اور کنٹرول میں ہے اب رہا انسان تو اس کو اللہ نے اپنا نائب بنایا علم، آزادی اور ارادہ تو ضرور دے دیا، مگر ایک حد سے باہر انسان کا نکل جانا ناممکن ہے۔ قضاء و قدر کی پابندی خود انسان کی بہتری کے لئے لگائی گئی ہے کیونکہ جو لوگ قضاء وقدر پر ایمان رکھتے ہیں وہ حادثات زمانہ کو بہادری سے برادشت کرلیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں حوادث زمانہ کیونکہ اللہ کی طرف سے ہیں لہٰذا ان میں کوئی نہ کوئی بہتری ضرور ہوگی۔ اسی طرح انسانی زندگی کے تغیر و تبدل کو بھی بندہ بڑے حوصلہ، ہمت، خود داری، جرأت مندی اور دلیری سے برداشت کرلیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے جو ٹل گیا وہ ملنے والا نہیں اور جو مل گیا وہ جانے والا نہیں اور یوں انسان خواہ مخواہ کی پریشانی، اضطراب، کشمکش اور ذہنی پریشانی سے بالکل آزاد ہوجاتا ہے وہ جانتا ہے جو ہوا اللہ کی مرضی سے ہوا۔ ضرور اس میں کوئی نہ کوئی بہتری ہوگی۔ یا پھر یہ ہمارے اپنے اعمال کے صلے میں ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے فرمایا : جان لو کہ سب لوگ مل کر بھی اگر تمہیں معمولی سا نفع پہچانا چاہیں تو وہ نہ پہنچا سکیں گے مگر اسی قدر جتنا کہ رب العزت نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر وہ سب مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ یہ بھی نہ کرسکیں گے۔ مگر اتنا ہی جتنا اللہ تعالیٰ نے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھالیے گئے اور دفتر خشک ہوگئے۔ (ترمذی۔ احمد) راضی برضا ہوجانا انسان میں انسانیت کے بلند ترین اوصاف پیدا کردیتا ہے جیسا کہ تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ نے کس قدر زبردست کامیابیاں حاصل کیں کیونکہ ان میں دیگر اعتقادات کے علاوہ قضاء و قدر پر بھی پختہ یقین تھا جس کی وجہ سے ان میں سخاوت، شجاعت، صبر ویقین شرافت اور برد باری کی وجہ سے بہت کم مدت میں بہت دور دراز تک بہت زیادہ عرصہ تک دنیا میں کامیاب حکمرانی کی۔ لیکن جیسے جیسے قضا و قدر کے مفہوم کو سمجھنے میں فطور آتا گیا مسلمانوں میں کمزوری آنے لگی۔ کسی گروہ نے کہا کہ ہم اعمال کے ذمہ دار نہیں کیونکہ اللہ نے ہمارے لیے گمراہی لکھ دی ہے۔ کچھ نے کہا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں جو ملنا ہوگا نصیب میں لکھا مل جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ عقیدے کی کمزوری نے انسان میں بجائے ہمت، جرأت، بہادری اور سخاوت جیسے اوصاف پیدا کرنے کے اس کو بزدل کنجوس، بےکار، سست اور ناکارہ بنا کر رکھ دیا۔ جب کہ ہر طبقہ میں قضاء و قدر کو بہترین زینہ قرار دیا گیا ہے۔ ترقی کے لیے کامیابی، سکون اور دیگر انسانی خوبیوں کے حصول کے لیے۔ انگریزی کا یہ مقولہ "Trust in God and Do the best" اللہ جل شانہ، بھلائی کا حکم دیتا ہے ' اور جو نیک کام تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے ( سورة بقرہ :197) اللہ نے یہ نہیں کہا کہ برے کام کرو کیونکہ یہ تمہاری قسمت میں لکھدیے گئے ہیں بلکہ یہ مسئلہ تو یوں حل ہوجاتا ہے کہ اس نے دنیا ہمارے سامنے رکھ دی جس میں ہر قسم کی اچھائی اور برائی بھری ہوئی ہے۔ ہمیں ہدایات بھی بذریعہ نبی ﷺ پہنچا دیں پھر ہمیں آزادی دے دی کہ نیک راستہ اختیار کرو یا برا۔ مگر اس کا علم اتنا وسیع ہے وہ پہلے سے جانتا ہے کہ یہ بندہ نیکی اختیار کرے گا اور یہ بدی اختیار کرے گا۔ جیسا کہ ماں کو اپنے بچوں کا خوب اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ نیک فطرت ہے اور یہ بد فطرت ہے۔ قضاء قدر بھی اللہ تعالیٰ کے علیم وخبیر ہونے کی دلیل ہے اور ناظم اعلیٰ ہونے کی دلیل ہے نہ کہ بےانصاف اور ظالم ہونے کی دلیل ہے۔ اللہ تو سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے۔ اگر اس نے خود ہی کسی کو برائی کے لیے بنا دیا ہو تو پھر اس کو جہنم کا عذاب کیسے دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ' بلاشبہ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ ( سورة نسا :40 ) پھر ایک اور جگہ فرمایا ' اور تمہارا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ' (فصلت :46) بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' اور نیکی کرتے رہو تاکہ کامیاب رہو۔ (الحج :77) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ' (مسلمانو ! ) بیشک اللہ حکم دیتا ہے کہ انصاف کرو اور بھلائی کرو، اور قرابتداروں کے حقوق ادا کرو، بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ کاموں اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے اور تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔ (نحل : 90) یہ تو اب کسی کے اپنے اختیار میں ہے احکاماتِ الٰہی پر پابندی کر کے جنت حاصل کرے یا نافرمانی کر کے دوزخ حاصل کرلے۔ امید ہے قضاء و قدر کا یہ انتہائی نازک مگر ضروری نکتہ پوری طرح سمجھ میں آگیا ہوگا۔ اب کوئی شک و شبہ اس مسئلہ میں باقی نہیں رہ گیا۔ تو ایک سچے پکے عزم و حوصلہ رکھنے والے بندہ مسلم کی تعریف شاعر یوں کرتا ہے۔ خاکی و نوری نہاد بندہ مولا صفات ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بےنیاز (اقبال) آخر میں رب العٰلمین اپنے عدل و انصاف، پیغمبروں کتابوں کی رحمتوں کا ذکر فرماتا ہے اور ایک بڑی نعمت لوہے کا بھی ذکر کرتا ہے۔ لوہا جیسا کہ اپنے بیشمار فوائد کے ساتھ انسان کو عطاء کیا گیـا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کائنات کے اس کارخانے میں لوہے کی کس قدر اہمیت ہے۔ لیکن اگر کوئی اس بہترین دھات کو ظلم و بےانصافی کرنے کے لیے استعمال کرے تو بیشک یہ اسکا اپنا ذاتی کردار ہوگا۔ مگر اس کی نیت عمل اور سوچ اللہ سے ہرگز پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور جو نیکی اختیار کر کے اللہ کی راہ پر چلتے ہوئے رسولوں کی تعلیمات کو عام کرتے ہیں انکو ربِ دو جہاں خوب اچھی طرح جانتا ہے کیونکہ ' اللہ زبردست اور غالب ہے۔ (آیت 25)
Ayahs 57:26–28

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب کے سلسلے کو وقتاً فوقتاً جاری رکھا، بعض تو ان میں ہدایت پر ہیں اور اکثر ان میں سے نافرمان ہیں۔

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی اور ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔ اور لذات سے کنارہ کشی کی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی، ہم نے ان کو اس بات کا حکم نہیں دیا تھا مگر انہوں نے اپنے خیال میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے آپ ہی ایسا کرلیا تھا پھر جیسا کہ اس کو بنارہنا چاہیے تھا نباہ بھی نہ سکے۔ پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

مومنو ! اللہ سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطاء فرمائے گا اور تمہارے لیے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔

پہلی قوموں کی غلطیاں تشریح : پچھلی آیات میں رسول، کتاب اور نیک لوگوں کے بارے میں بات ہو رہی تھی پھر اللہ تعالیٰ پچھلی قوموں کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ ان کے اعمال واطوار اور پھر ان کے زوال اور عذاب پر غور و فکر کریں تاکہ عبرت حاصل کر کے اپنے راستے درست رکھ سکیں اور نجات پائیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) پھر ان کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے بیشمار پیغمبر کتابیں دے کر بھیجے گئے یہاں خاص طور سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کا ذکر کیا گیا ہے۔ ویسے تو ہر بنی نے توحید کی ہی تعلیم دی مگر لوگوں نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اصل عقائد سے پھر کر غلط عقائد اختیار کرلیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور بڑے ہی مشفق انسان تھے اس لیے ان کے پیرو کار بھی رحم اور شفقت سے بھرے دل رکھتے تھے مگر انہوں نے بھی آہستہ آہستہ انجیل مقدس کے احکامات کو کچھ بدل دیا اور کچھ حذف (ختم) کردیے اور سب سے بڑا قدم جو انہوں نے اپنی طرف سے دین میں شامل کرلیا وہ تھیں بدعات اور شرک۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بڑے اعلیٰ درجہ کے نبی تھے آپ کو معجزے دیے گئے اور آپ اپنی قوم کو یہود کی شرارتوں سے بچانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے مگر عیسائیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے رہبانیت کو فرض کرلیا جو کہ بڑا مشکل اور خلاف فطرت انسانی عمل ہے۔ اسی لیے اسلام میں اس سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے حدیث میں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ' اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں '۔ (مسند احمد ) اصل میں رہبانیت کا رجحان عیسائیوں میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے پیدا ہوا جو بڑھتے بڑھتے تیسری صدی تک فتنہ کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کی کچھ وجوہات تھیں۔ مثلاً یہ کہ اس وقت کی مشرک اور گندی رسومات کا توڑ عیسائی علماء نے رہبانیت (ترک دینا) میں تلاش کرلیا یعنی دنیا کی تمام جائز خواہشات کو ختم کردیا جائے اس کے نتیجہ میں بیشمار نقلی اولیاء پیدا ہوگئے جو مذہب کی آڑ میں پیسہ کماتے تھے۔ پھر کیونکہ ان کے پاس کوئی مفصل شریعت موسوی نہ تھی ادھر ادھر سے جو ملا اپنے مذہب میں شامل کرتے چلے گئے نتیجہ یہ نکلا کہ تیسری صدی سے ساتویں صدی عیسوی تک تمام مسیحی بزرگ علماء، پیشوا اور امام سب خود بھی رہبانیت کے ماننے والے اور کلیسا میں رہبانیت کو رواج دینے والے بن گئے جو کہ آج تک جاری وساری ہے۔ اس وقت انتہاء یہ تھی کہ اللہ کو خوش کرنے کے لیے خود کو سخت ترین اذیتیں دی جائیں۔ جسم کی صفائی نہانا دھونا بالکل منع تھا۔ نکاح کو حرام قرار دے دیا گیا۔ ماں باپ، بہن بھائی، بیوی اولاد کی محبت اور رشتہ کو گناہ قرار دے دیا گیا۔ رشتہ داریوں کے ختم کرنے کی وجہ سے دلوں میں سختی، بےرحمی اور بےاعتنائی پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے آپس میں بھی مذہبی اختلافات پیدا ہوگئے جو بڑی خرابی کا باعث بنے رہتے۔ پھر سب سے بڑی خرابی یہ ہوئی کہ مذہب کی آڑ میں لوٹ مار عروج کو پہنچ گئی جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ پانچویں صدی کے شروع میں ہی روم کا بشب بادشاہوں کی طرح رہتا تھا اور یہی وجہ رہبانیت کے خلاف بنی۔ کیونکہ یہ حرکت انسانی فطرت کے بالکل خلاف ہے لہٰذا یہ بری طرح بدنما شکل اختیار کرگئی۔ اور یوں آٹھویں صدی سے گیا رھویں صدی عیسوی تک کا دورانیہ مذہبی تاریخ کا بد ترین نمونہ بن گیا اور اس غیر فطری، خود ساختہ عبادت کے نتائج بڑے ہی بھیانک نکلے۔ ان کے دلوں کے حال تو اللہ ہی جانتا ہے کچھ لوگ ان میں اچھے بھی ہیں تو ایسے ہی لوگوں کو رب العزت دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ' مومنو ! اللہ سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ اپنی رحمت سے تمہیں دگنا اجر عطاء فرمائے گا۔ اور تمہارے لیے روشنی کر دے گا، جس میں تم چل سکو گے اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (آیت 28) عیسائیوں کے عقائد کے انجام کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات بڑی پاک صاف اور شریعت محمدی بڑی بہترین ہے۔ اگر ان دونوں کو سچے دل سے مان کر ان پر عمل کرو گے تو تمہیں دہرا اجر ملے گا۔ یہاں تھوڑا اختلاف ہے مگر دوہرا اجر اس بات کی وضاحت یوں کرتا ہے کہ ایک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے پر اور دوسرا حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے پر۔ تو اس میں مسلمان اور نو مسلم سب ہی شامل کئے جاسکتے ہیں۔ بہر حال اسلامی تعلیمات اور شریعت محمدی بد عات اور رہبانیت سے بڑی سختی سے منع کرتی ہیں۔ جیسا کہ آپ ﷺ ہر خطبہ کی ابتداء میں فرمایا کرتے تھے ' سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین طریقہ حضرت محمد ﷺ کا ہے جب کہ سب سے بدترین کام، دین میں کوئی نیا کام ایجاد کرنا ہے، دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔ (متفق علیہ) ترک دنیا یا رہبانیت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ' خبردار، اللہ کی قسم میں تمہاری نسبت اللہ سے بہت ڈرتا ہوں اور تقویٰ کرتا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، سوتا بھی ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جس نے میرے طریقے سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔ (بخاری، مسلم) دین اسلام انسان کے لیے بہت بڑا فضل و کرم ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھی ایسا حکم نہیں دیا گیا جو انسانی زندگی کے لئے مشکلات پیدا کرے یا انسانی فطرت کے خلاف ہو تو کیا یہ انسان کے لئے بہترین تحفہ اور بہت بڑا فضل و کرم نہیں ہے ؟ ہمارا دین پیارا دین ہے مکمل اور آسان دین ہے اسی لیے تو اللہ نے فرمایا ہے ' آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا۔ ( سورة المائدہ :3) اس لیے اب دین میں شریعت میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی ہرگز ممکن نہیں اور اسی میں مسلمان کی دنیاوی، اخروی، روحانی اور جسمانی ہر طرح سے ترقی، خوشحالی، سکون اور کامیابی کا راز ہے۔ کتنا بڑا فضل ہے اللہ کی طرف سے۔ بس ضروری ہے کہ اس کی پہچان کرلی جائے اور دل و دماغ کا رخ اسی کی طرف پھیر دیا جائے۔ منزل مقصود قرآن ہی ہو۔ تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشا ہے رازی نہ صاحب کشاف (اقبال )
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

یہ باتیں اس لیے بیان کی گئی ہیں کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے

خلاصہ سورة الحدید یہ سورت بھی انسان اور بندے کے تعلق کو مضبوط کرنے اور اعتقادت کو سیدھا رکھنے کے بہترین طریقوں سے بھری پڑی ہے۔ سب سے پہلے الہ العٰلمین کی صفات کا ذکر ہے پھر اس کے احکامات اور اس کی طرف سے کی گئی عنایات کے ساتھ خود کو ڈھال کر بہترین زندگی گزرانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس عارضی زندگی کی خوشیوں میں گم ہو کر وہ روشنی نہ کھو دیں جو پل صراط پر سے گزرنے کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ ہم سے پہلے بھی بڑی زور دار قومیں گزر چکی ہیں جنہوں نے اصل دین کو بگاڑ کر بدعات کی وجہ سے خود کو ذلیل و خوار کرلیا۔ ان سے سبق سیکھو۔ اور یاد رکھو کفر و شرک، مصیبت میں گھبرانا اور راحت میں اترانا اللہ کو ہرگز پسند نہیں کیونکہ یہ دونوں باتیں خود انسان کی بہتری کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ' مصیبت میں گھبرانا کمال درجے کی مصیبت ہے۔ (حضرت علی ؓ شکر اور عاجزی اللہ تعالیٰ کو ہر صورت پسند ہے۔ اور اسی میں بندے کی بہتری ہے۔ عاجزی کا مطلب یہ نہیں کہ ظالم کے سامنے جھک کر کھڑے ہوجاؤ۔ بلکہ اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قوموں میں جنگ و جدل ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے۔ مسلمانوں کو کفار کے خلاف لڑنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ حدید (لوہے) کا ذکر اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہتھیار بناؤ اور اپنا، اپنے ملک کا اور اپنے مذہب کا دفاع ضرور کرو۔ آخر میں اللہ کے فضل و کرم، اس کی بخشش اور رحمت کا اعلان اس طرح کیا گیا ہے کہ اللہ و رسول اور اس کی کتاب پر سچے دل سے ایمان لے آؤ اور اس بات سے ہرگز نہ گھبراؤ کہ پہلے تم موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے والے تھے یا کسی بھی دوسرے عقیدے پر چلنے والے تھے۔ اللہ کا فضل بہت بڑا اور وسیع ہے اور وہ بہت بڑا معاف کرنے والا ہے۔ اس کا شکر ادا کرو کہ ہدایت کی راہ دکھائی دی اور دین محمدی دین اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ اسی میں نجات ہے اور اسی میں بہتری بھی ہے۔ بدعات سے خود کو بچاؤ۔ حدیث ملاحظہ ہو۔ فرمایا ' اگر کوئی شخص ایسا کام کرتا ہے، جو ہمارے فعل کے مطابق نہیں تو وہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد) الحمد للہ کہ سورة الحدید مکمل ہوئی۔