56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 56:1–6

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

کسی کو پست کرے کسی کو بلند۔

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں۔

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں۔

قیامت کی تباہیاں تشریح : ان آیات میں بڑے واضح الفاظ میں اس غیب کی خبر دی گئی ہے جو قیامت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ اطلاع حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ وحی کی صورت میں آنحضرت ﷺ تک پہنچی ہے اور ہم اس کو کتاب مقدس قرآن پاک میں پڑھ رہے ہیں اس لیے ہمارے لیے اس میں ہرگز شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں البتہ انسان جو آئے دن تجربات و تحقیقات میں لگا رہتا ہے اس نے بھی اس کی تصدیق اس طرح کی ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب یوں لکھتے ہیں۔ ' شدید زلزلوں کا سلسلہ، تھرتھراہٹ اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہوجانا، زمین کے اندرونی مغز سے دھماکہ خیز مادہ کا باہر آنا۔ پہاڑوں کا فضا میں اڑنا، ان سب واقعات کا ایک سبب زمین کا اپنے اندرونی دباؤ کی وجہ سے پھٹنا بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ زمین کا اندرونی حصہ سخت دباؤ کا شکار ہے۔ جب کبھی اس توازن میں کوئی ہل چل مچ جائے گی تو زمین ایک بم کی طرح پھٹ جائے گی۔ جس سے بےپناہ توانائیـ باہر کو پھوٹ نکلے گی اور ساتھ ہی حد درجہ کی تھرتھراہٹ ہوگی۔ سخت دباؤ والی لہریں ہوں گی۔ اس متزلزل اور کپکپاہٹ والی صورت حال کی وجہ سے زمین کا پرت اور پہاڑ زمین سے علیحدہ ہو کر اڑنے لگیں گے۔ ' (از قیامت اور حیات بعد الموت) اسی نوعیت کی کچھ اور بھی وجوہات کا امکان ہے جو قیامت برپا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ قیامت کی اطلاع بیشمار آیات میں دی گئی ہے اور یہ اطلاع بالکل پکی اور سچی ہے۔ اس دن کی سختی کو آنحضور ﷺ نے یوں بیان کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ' بد ترین خلقت وہ لوگ ہیں جو اس وقت زندہ ہوں گے جب قیامت آجائے گی۔ (بخاری) قیامت بڑی ہولناک ہوگی اور یہ واقعہ بالکل اچانک ہوگا۔ اللہ اس کی سختی اور ہولناکی سے محفوظ رکھے ( آمین ) حضرت عمر ؓ نے فرمایا، قیامت کا حساب ہونے سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرو اور اعمال کا وزن ہونے سے پہلے ان کو تولو اور بڑی پیشی کے لیے تیاری کرو۔ سورة الحاقہ میں ہے اس دن تم پیش کئے جاؤ گے تم سے کوئی چیز مخفی نہ رہے گی۔ ' ( آیت :18) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں اے مسلمانو ! قرآن پاک کے بعد پھر کوئی کتاب نازل نہیں ہوگی، تمہارے نبی کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا پس تمہیں چاہیے کہ دنیا کو بیچ کر آخرت خرید لو، دین و دنیا دونوں میں نفع پاؤ گے اور آخرت کو بیچ کر جو شخص دنیا خریدے گا اسے دنیا میں نقصان ہوگا اور آخرت میں بھی خسارہ۔ (از پیارے اولیائے کرام کی پیاری باتیں)